2021 October 18
شوہر دار عورت بغیر نکاح کے کسی غیر مرد سے جنسی تعلقات قائم کرسکتی ہے !
مندرجات: ١٣٤ تاریخ اشاعت: ٢٠ August ٢٠١٦ - ١٨:٤٥ مشاہدات: 5184
وھابی فتنہ » پبلک
ویابیوں کا ایک اور نیا کارنامہ
شوہر دار عورت بغیر نکاح کے کسی غیر مرد سے جنسی تعلقات قائم کرسکتی ہے !

واٹس ایپ پر ایسے فتوے کی کاپی گردش کر رہی ہے جس میں جامعہ بنوریہ عالمیہ نے ایک عجیب و غریب فتوی صادر کیا ہے۔

واٹس ایپ پر ایسے فتوے کی کاپی گردش کر رہی ہے جس میں جامعہ بنوریہ عالمیہ نے ایک عجیب و غریب فتوی صادر کیا ہے۔
اس فتوے کے مطابق اگر کسی عورت کا شوہر جہاد یا تبلیغی جماعت کے لئے گیا ہے تو چار مہینہ غیر حاضری کے سبب اس کی بیوی کو اجازت ہے کہ کسی بھی غیر سے جنسی تعلقات قائم کرلے۔
زناکاری پر ابھارنے والے اس فتوے میں کہا گیا ہے کہ اس کام کے لئے نکاح کی بھی ضرورت نہیں ہے!
واضح رہے کہ وہابی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ واآلہ وسلم کے زمانے میں رائج نکاح متعہ کو بدعت قرار دیتے ہیں۔ جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کے بعد عمر نے حرام قرار دیا جبکہ صحابی رسول جناب زبیر کے بیٹے عبد اللہ ابن زبیر، نکاح متعہ کی اولاد تھے۔




Share
1 | Jalilbalouch | | ١٦:٢٥ - ٢٢ February ٢٠١٨ |
ھم تو صرف یہ کھنا چاھتے جن لوگون نے بغض شیعہ کی وجہ جس متعہ کو حرام قرار دیا ھے اب انکی اپنی عورتین کس حد تک چلی گئی ھین

جواب:
 سلام علیکم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جی محترم یہ حقیقت ہے کہ متعہ ایک جائز چیز ہے ۔۔۔سب کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اصحاب کے دور میں یہ جائز تھا اور اختلاف اس میں ہے کہ یہ بعد میں بھی جائز باقی رہا یا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ سب نے اس کی وجہ اصحاب کی شہوت پرکنٹرول کرنے اور اصحاب کو گناہ سے بچنے کے لئے اس کو جائز قرار دیا ہے ۔۔۔۔۔ اب اگر اصحاب اس تقدس اور عظمت کے باجود اس چیز کی طرف محتاج ہو تو بعد والوں کے لئے تو اس کی زیادہ ضرورت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی لئے امام علی علیہ سلام اور ابن عباس سے نقل ہوا ہے کہ اگر عمر متعہ سے منع نہ کرتے تو سوای شقی افراد کے کوئی زنا نہیں کرتے۔۔۔
۔۔۔۔
عجیب بات یہ ہے کہ جو شیعوں کے خلاف تبلیغ کرتے ہیں اور شیعوں کو متعہ کی اولاد کہتے ہیں اور شیعہ ناموس کی بے احترامی کرتے ہیں یہی لوگ خود ہی نام بدل کر متعہ پر عمل کرتے ہیں ۔جیساکہ نکاح مسیار اور نکاح جہاد شہوت کی پیاس مٹانے کے لئے اہل سنت میں رائج ہے متعہ اور ان میں کوئی فرق نہیں ۔۔۔۔
1 |عبد اللہ||١٣:١٨ - ٠٣ March ٢٠٢١ |
1
 
0
آپ نے اپنی تحریر میں لکھا کہ حضرت علی علیہ السلام اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے متعہ سے منع کردیا۔۔ لیکن اس کے بعد کہیں نہیں ہے کہ بعد میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے یا کسی اور صحابی رضی اللہ عنہ نے اسے دوبارہ جائز قرار دیا ہو۔۔
جواب:
سلام علیکم ۔۔۔
 
دیکھیں محترم ۔۔۔ بہت سے  اصحاب متعہ کو جائز سمجھتے تھے اور خلیفہ دوم کے دور تک اس کو انجام بھی دیتے تھے ۔۔الیکن خلیفہ نے طاقت کا استعمال کر کے اس سے روک دیا ۔
 
اب اگر خیبر میں یہ حرم ہوا تھا تو خیلفہ دوم کے دور تک ایسا کیوں کیا کرتے تھے ؟ یہ ایک بنیادی سوال ہے ،، جناب جابر کی صرف بات نہیں  آپ کہہ رہے ہیں ہم { خود جابر اور دوسرے اصحاب } 
آپ مندرجہ ذیل جناب جابر کی حدیث ملاحظہ کریں۔۔۔
 
بہت سی روایات میں بہت سے اصحاب نے واضح طور پر کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ابوبکر کے دور میں اور خود عمر کی خلافت کے شروع کے دور میں متعہ حلال تھا اور وہ لوگ اس کو جائز سمجھتے تھے  :
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُول كُنَّا نَسْتَمْتِعُ بِالْقَبْضَةِ مِنْ التَّمْرِ وَالدَّقِيقِ الْأَيَّامَ عَلَي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّي اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ حَتَّي نَهَي عَنْهُ عُمَرُ فِي شَأْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ
  جابر بن عبد الله الأنصاري کہتے تھے  : ہم رسول اللہ ص اور ابوبکر کے زمانے میں مٹھی بر کھجور یا آٹے دے کر متعہ کرتے تھے یہاں تک کہ عمر نے عمرو بن حريث کے واقعے کے بعد اس کو حرام قرار دیا  .
صحيح مسلم ج2 ص 1023 باب نكاح المتعة
 
 
اب اگلی بات یہ ہے کہ جناب جابر اور بعض دوسرے اصحاب باقاعدہ طور پر کہہ رہے ہیں کہ  کوئی ایسا حکم نہیں آیا ہے جو متعہ کو حرام قرار دئے ۔۔
حضرت علی علیہ السلام اور جناب ابن عباس سے بھی متعہ جائز ہونے والی روایت کتابوں میں نقل ہوئی ہے ۔۔۔..
 
آپ مندجہ ذیل چند اسناد کو ملاحظہ کریں ۔۔۔
 
 
اب ہم یہاں پر اصحاب میں سے بعض کے نام لیتے ہیں کہ جو متعہ کو حلال سمجھتے تھے ۔
 
 
جابر بن عبداللَّه انصاري :
صحيح مسلم ج2 ص1022 باب نكاح المتعه چاپ دار إحياء التراث العربي بيروت
مصنف عبد الرزاق ج7 ص499 باب المتعة چاپ المكتب الإسلامي بيروت
عمدة القاري ج17 ص 246 باب غزوة خيبر چاپ دار إحياء التراث العربي بيروت
شرح الزرقاني ج3 ص 199 چاپ دار الكتب العلمية بيروت كتاب النكاح باب نكاح المتعة
 
و...
 
عمران بن حصين خزاعي :
 
صحيح بخاري ج 4 ص 1642 چاپ دار ابن كثير بيروت 1407 كتاب التفسير باب "فمن تمتع بالعمرة إلي الحج" (بقره أيه 196)
مسند أحمد بن حنبل ج4 ص 436 چاپ موسسه قرطبه مصر
المحبر ص 289 باب من كان يري المتعة من أصحاب النبي
التفسير الكبير ج10 ص41 چاپ دار الكتب العلميه بيروت سوره نساء ذيل آيه "فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ فَئَاتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً"
تفسير قرطبي ج5 ص 133چاپ دار الشعب قاهره
ابو سعيد خدري :
المحلي ج9 ص 519چاپ دار الآفاق بيروت
شرح الزرقاني ج3 ص 199 چاپ دار الكتب العلمية بيروت كتاب النكاح باب نكاح المتعة
عمدة القاري ج17 ص 246 باب غزوة خيبر چاپ دار إحياء التراث العربي بيروت
 
عبداللَّه بن مسعود :
المحلي ج9 ص 519چاپ دار الآفاق بيروت
شرح الزرقاني ج3 ص 199 چاپ دار الكتب العلمية بيروت كتاب النكاح باب نكاح المتعة
 
سلمة بن اكوع :
المحبر ص 289 باب من كان يري المتعة من أصحاب النبي
شرح الزرقاني ج3 ص 199 چاپ دار الكتب العلمية بيروت كتاب النكاح باب نكاح المتعة
مصنف عبد الرزاق ج7 ص 498 ش 14023 باب المتعة چاپ المكتب الإسلامي بيروت
كنز العمال ج 16 ص 219 ح 45731 چاپ دار الكتب العلمية بيروت
 
 امير المومنين علي بن ابي طالب عليه السلام :
التفسير الكبير ج10 ص43چاپ دار الكتب العلمية بيروت ذيل آيه متعه سوره نساء
 
( امیر المومنین علیہ السلام نے عمر کی طرف سے اس کے منع والی روایت نقل کیا ہے ):
الدر المنثور ج2 ص486 دار الفكر بيروت - تفسير الطبري ج 5 ص13 چاپ دار الفكر بيروت - المصنف ج7 ص500 شماره 14029 - كنز العمال ج16 ص219ح 45728 چاپ دار الكتب العلمية بيروت
ابن حزم نے بھی نقل کیا ہے کہ امیر المومنین علیہ السلام سے متعہ کے بارے میں مختلف قسم کی روایتیں نقل ہوئی ہے  (بعض جائز ہونے کو بتاتی ہے اور بعض حرام ہونے کو ):
المحلي ج9 ص 520 چاپ دار الآفاق بيروت
[۱:۲۹ قبل‌ازظهر, ۱۳۹۹/۱۲/۵] mohdmlk24: سرخی نے اپنی دو کتابوں میں اس کو ان روایات میں سے قرار دیتا ہے جس عمر سے صحیح سند کے ساتھ نقل ہوئی ہے ۔
 
وقد صحّ أنّ عمر رضي اللّه عنه نهي الناس عن المتعة فقال: متعتان كانتا علي عهد رسول اللّه صلي اللّه عليهوسلم وأنا أنهي الناس عنهما ؛متعة النساء، ومتعة الحج .
 
صحیح سند کے ساتھ عمر سے نقل ہوا ہے کہ انہوں نے لوگوں کو متعہ سے منع کیا اور کہا    :  رسول خدا صلي الله عليه وآله وسلم کے زمانے میں دو متعے حلال تھے ،  عورتوں سے متعہ ، حج تمتع کا متعہ ۔
المبسوط للسرخسي ج4 ص27 - أصول السرخسي ج2 ص6
 
 
اب یہاں ملاحظہ کریں حتی خود خلیفہ دوم واضح طور پر یہ کہہ رہا ہے کہ متعہ اللہ کی کتاب میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت میں جائز ہے لیکن میں اس سے منع کررہا ہوں اور متعہ کرنے والے کو سزا دوں گا۔۔
 
 
 
 
   
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی