2018 November 18
کیا حدیث « علي كنفسي » معتبر سند کے ساتھ اہل سنت کی کتب میں نقل ہوئی ہے ؟
مندرجات: ١٣٤٨ تاریخ اشاعت: ٠٥ March ٢٠١٨ - ١٦:٥٧ مشاہدات: 537
سوال و جواب » امام علی (ع)
جدید
کیا حدیث « علي كنفسي » معتبر سند کے ساتھ اہل سنت کی کتب میں نقل ہوئی ہے ؟

 

سوال:

کیا  حدیث « علي كنفسي » معتبر سند کے ساتھ اہل سنت کی کتب میں نقل ہوئی ہے ؟

جواب:

رسول خدا (ص) کے اہل بیت کے بے نظیر و لازوال فضائل اور خاص طور پر امیر المؤمنین علی (ع) کے بارے میں قرآن کی بہت سی آیات میں سے ایک آیت، آیت مباہلہ ہے۔ اس عظیم الشان آیت کے مطابق امیر المؤمنین علی (ع) ، نفس رسول خدا (ص) شمار ہوتے ہیں، ارشاد خداوند ہے کہ:

فَمَنْ حَاجَّكَ فيهِ مِنْ بَعْدِ ما جاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعالَوْا نَدْعُ أَبْناءَنا وَ أَبْناءَكُمْ وَ نِساءَنا وَ نِساءَكُمْ وَ أَنْفُسَنا وَ أَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَي الْكاذِبين .

پھر جو کوئی تجھ سے اس واقعہ (حضرت عیسی کے بارے) میں جھگڑے بعد اس کے کہ تیرے پاس صحیح علم آ چکا ہے تو کہہ دے کہ آؤ ہم اپنے بیٹے اور تمہارے بیٹے اور اپنی عورتیں اور تمہاری عورتیں اور اپنی جانیں اور تمہاری جانیں بلائیں، پھر سب مباہلہ (التجا) کریں اور اللہ کی لعنت ڈالیں ان پر کہ جو جھوٹے ہوں۔

سورہ آل عمران آیت 61

شیعہ اور اہل سنت کے اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ اس آیت میں « انفسنا » سے مراد، امیر المؤمنین علی (ع) ہیں۔ اس بارے میں فریقین کی کتب تفاسیر میں بہت سی روایات موجود ہیں۔

اس آیت کا بیان ہے کہ رسول خدا (ص) اور امیر المؤمنین علی (ع) کے درمیان کوئی فرق موجود نہیں ہے، جو جو فضیلت اور کمال رسول خدا (ص) کی ذات میں پایا جاتا ہے، وہ فضیلت اور کمال مکمل طور پر امیر المؤمنین علی (ع) کی ذات میں بھی پایا جاتا ہے۔ اگر رسول خدا معصوم ہیں تو ان کا نفس (امیر المؤمنین علی) بھی ایسا ہی ہے، اگر رسول خدا علم غیب جانتے ہیں تو ان کا نفس (امیر المؤمنین علی) بھی ایسے ہی ہے، دوسرے فضائل اور کمالات بھی بالکل اسی طرح ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امیر المؤمنین علی (ع) کے فضائل اور کمالات میں سے رسول خدا (ص) کا نفس ہونا، یہ سب سے بہترین اور بالا ترین فضیلت اور کمال ہے۔

كتاب مناقب ديلمی میں ذکر ہوا ہے کہ:

ایک دن مامون لعنتی نے مولا امام رضا (ع) سے کہا:

امیر المؤمنین علی کی سب سے بڑی فضیلت جو قرآن میں ذکر ہوئی ہے، اسکو میرے لیے بیان کرو۔

امام رضا (ع) نے فرمایا:

فضيلته في المباهلة وأنّ الرسول (صلي الله عليه و آله وسلم) باهل بعلي وفاطمة زوجته والحسن والحسين وجعله منها كنفسه وجعل لعنة الله علي الكاذبين وقد ثبت أنّه ليس أحد من خلق الله يشبه رسول الله صلي الله عليه و آله وسلم فوجب له من الفضل ما وجب له إلاّ النبوة، فأيّ فضل وشرف وفضيلة أعلي من هذا.

ان حضرت کی بہترین فضیلت واقعہ مباہلہ میں ذکر ہوئی ہے۔ بے شک رسول خدا نے علی اور انکی زوجہ فاطمہ اور امام حسن اور امام حسین عليہم السلام سے مل کر (نصارای نجران) سے مباہلہ کیا اور رسول خدا نے علی کو اپنی جان (نفس) قرار دیا اور سب نے مل کر جھوٹوں پر خداوند کی لعنت بھیجی۔

البتہ قرآنی آیات اور صحیح و متواتر روایات کی روشنی میں رسول خدا تمام مخلوقات سے افضل و برتر ہیں، لہذا وہ تمام فضائل کہ جو رسول خدا کی مقدس ذات میں پائے جاتے ہیں، وہ حتمی و عقلی طور پر انکی جان (امیر المؤمنین علی) میں بھی پائے جائیں گے، غیر از نبوت و رسالت کے کہ رسول خدا خداوند کے نبی اور رسول ہیں، لیکن امیر المؤمنین علی ، امام اور ولی خداوند ہیں، اللہ کے نبی اور رسول نہیں ہیں، پس امیر المؤمنین علی کے لیے اس فضل و فضیلت و کمال سے بڑھ کر کونسی فضیلت ہو سکتی ہے۔

مأمون نے کہا:

شاید رسول خدا نے لفظ ، النفس ، سے اپنی جان کی طرف اشارہ کیا تھا !

امام رضا (ع) نے جواب فرمایا:

اسطرح کا اشارہ جائز نہیں ہے، کیونکہ رسول خدا ان (اہل بیت) سب کے ساتھ مل کر نصارای نجران کے پاس گئے تھے اور ان سے مباہلہ کیا تھا۔ اگر رسول خدا لفظ انفسنا سے اپنی جان کا ارادہ کرتے تو لازمی طور پر انکو علی کو مباہلے سے باہر کرنا چاہیے تھا یعنی اپنے ساتھ لے کر نہیں جانا چاہیے تھا، حالانکہ تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ علی مباہلے کے وقت رسول خدا کے ساتھ ساتھ موجود تھے، (کیونکہ اس طرح سے رسول خدا کی طرف سے خداوند کے حکم کی خلاف ورزی لازم آتی تھی، یعنی آیت مباہلہ میں خداوند نے کہا ہے کہ تم خود اپنے آپکو لے کر آؤ لیکن رسول خدا جان بوجھ کر علی کو بھی ساتھ لے گئے)

مأمون نے کہا مجھے میرا جواب مل گیا ہے۔

اسی طرح کی ایک روایت کو سيد مرتضی نے كتاب الفصول المختارة کے صفحہ 38 پر نقل کیا ہے۔

قطره از دريائے فضائل اهل بيت، آيت الله علامه سید احمد مستنبط، ج2، ص244،

امیر المؤمنین علی (ع) پر لفظ « نفس رسول الله » کا بولا جانا صرف اسی ایک آیت مباہلہ تک محدود و منحصر نہیں ہے، بلکہ خود رسول خدا (ص) نے متعدد مقامات پر امیر المؤمنین علی (ع) کو اپنا نفس کہا ہے۔

اہل سنت کی معتبر و صحیح روایات بھی اسی مطلب کو ثابت کرنے پر موجود ہیں:

روايت اول: زيد ابن يثيع از ابوذر:

أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَحْوَصُ بْنُ جَوَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ص):

«لَيَنْتَهِيَنَّ بَنُو وَلِيعَةَ، أَوْ لأَبْعَثَنَّ إِلَيْهِمْ رَجُلا كَنَفْسِي، يُنْفِذُ فِيهِمْ أَمْرِي، فَيَقْتُلَ الْمُقَاتِلَةُ، وَيَسْبِيَ الذُّرِّيَّةَ».

فَمَا رَاعَنِي إِلا وَكَفُّ عُمَرَ فِي حُجْزَتِي مِنْ خَلْفِي: مَنْ يَعْنِي؟ فَقُلْتُ: مَا إِيَّاكَ يَعْنِي، وَلا صَاحِبَكَ، قَالَ: فَمَنْ يَعْنِي؟ قَالَ: خَاصِفُ النَّعْلِ، قَالَ: وَعَلِيٌّ يَخْصِفُ نَعْلاً.

زيد ابن يثيع نے ابوذر سے نقل کیا ہے کہ رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: بنو ولیعۃ (حکماء سرزمین حضرموت) کو اپنی ان حرکتوں سے باز آنا چاہیے، ورنہ میں انکی طرف ایک ایسے شخص کو بھیجوں گا کہ جو بالکل میری مانند ہے۔ وہ ان لوگوں کے درمیان میرے حکم کو جاری کرے گا، پس وہ انکو جنگجو افراد سے کرے گا اور انکی اولاد کو اسیر کرے گا۔

ابوذر کہتا ہے کہ میں رسول خدا کے اس کلام سے حیران و پریشان کھڑا تھا کہ عمر نے پیچھے سے میری کمر کو پکڑ کر کہا: رسول خدا کی نظر میں کونسا شخص ہے ؟ میں نے کہا: حضرت کی مراد تم اور تمہارا دوست (ابوبکر) نہیں ہے۔ عمر نے کہا: پھر وہ کون ہے ؟ ابوذر نے کہا: مراد وہ شخص ہے کہ جو جوتے کو پیوند لگاتا ہے اور وہاں پر موجود علی جوتے کو پیوند لگانے میں مصروف تھے۔

النسائي، ابوعبد الرحمن أحمد بن شعيب بن علي (متوفي303 هـ)، السنن الكبري، ج 5 ص 127، ح8457، تحقيق: د.عبد الغفار سليمان البنداري، سيد كسروي حسن، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولي، 1411 - 1991؛

النسائي، ابوعبد الرحمن أحمد بن شعيب بن علي (متوفي303 هـ)، خصائص اميرمؤمنان علي بن أبي طالب، ج 1 ص 89، ح72، تحقيق: أحمد ميرين البلوشي، ناشر: مكتبة المعلا - الكويت الطبعة: الأولي، 1406 هـ..

بحث سندی:

العباس ابن محمد:

ذہبی نے اسکے بارے میں کہا ہے کہ:

 

عباس بن محمد الدوري أبو الفضل مولي بني هاشم عن حسين الجعفي وأبي داود وعنه الأربعة والأصم وابن البختري ثقة حافظ توفي 271 4

عباس ابن محمد ثقہ اور حافظ تھا۔

الكاشف ج1 ص536، رقم: 2609

ابن حجر نے کہا ہے کہ:

عباس بن محمد بن حاتم الدوري أبو الفضل البغدادي خوارزمي الأصل ثقة حافظ من الحادية عشرة مات سنة إحدي وسبعين وقد بلغ ثمانيا وثمانين سنة 4

عباس ابن محمد ثقہ اور حافظ تھا۔

تقريب التهذيب ج1 ص294، رقم:3189

الأحوص ابن جَوّاب:

یہ کتاب صحيح مسلم، ابو داود، ترمذی اور نسائی کے راویوں میں سے ہے اور ذہبی نے اسکے بارے میں لکھا ہے کہ:

الأحوص بن جواب م س عن يونس بن أبي إسحاق وغيره صدوق.

احوص ابن جواب كہ جس نے يونس ابن ابی اسحاق اور دوسرے راویوں سے روايت کو نقل کیا ہے، وہ ایک سچا انسان ہے۔

ذكر من تكلم فيه وهو موثق ج1 ص40، رقم: 24

اور ابن حجر نے کہا ہے کہ:

الأحوص بن جواب بفتح الجيم وتشديد الواو الضبي يكني أبا الجواب كوفي صدوق ربما وهم من التاسعة مات سنة إحدي عشرة م د ت س.

احوص ابن جواب كوفی اور سچا تھا، کبھی کبھی وہ وہم میں مبتلا ہو جایا کرتا تھا۔

تقريب التهذيب ج1 ص96، رقم: 289

يونس ابو اسحاق السبيعی:

یہ کتاب صحيح مسلم اور دوسری صحاح ستہ کے راویوں میں سے ہے۔

اہل سنت کے بعض علماء نے اسکو ضعیف راوی قرار دیا ہے، لیکن شمس الدين ذہبی ان تضعيفات پر توجہ دیئے بغیر اسکے نام کو اپنی كتاب « ذكر من تكلم فيه وهو موثق » میں ذکر کیا ہے۔

يونس بن أبي إسحاق السبيعي م علي ثقة قال أبو حاتم لا يحتج به وضعفه أحمد

يونس ابن ابی اسحاق، کتاب صحیح مسلم کے راویوں میں سے اور ثقہ ہے، ابو حاتم نے کہا ہے کہ: اسکی نقل کردہ روایات سے استدلال نہیں کیا جا سکتا، احمد نے بھی اسکو ضعیف قرار دیا ہے۔

ذكر من تكلم فيه وهو موثق ج1 ص204، رقم: 389

اور ذہبی نے كتاب الكاشف میں لکھا ہے کہ:

يونس بن أبي إسحاق السبيعي عن ناجية بن كعب ومجاهد وعنه ابناه إسرائيل وعيسي والفريابي صدوق وثقه بن معين وقال أحمد حديثه مضطرب وقال أبو حاتم لا يحتج به مات 159 م 4.

يونس ابن ابی اسحاق سچا راوی ہے، يحيی ابن معين نے اسکو ثقہ کہا ہے، احمد نے کہا ہے کہ حدیث مضطرب ہے، ابوحاتم نے کہا ہے کہ: اسکی نقل کردہ روایات کو استدلال کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

الكاشف ج2 ص402، رقم: 6463

حدیث مضطرب:

اس حدیث کو کہتے ہیں کہ جسکی سند یا الفاظ یا ہر دو مختلف طریقے سے نقل ہوئے ہوں، سند میں اضطراب یعنی کبھی حدیث کو باپ اور دادا دونوں سے نقل کرتا ہے اور کبھی بغیر واسطے کے صرف دادا سے نقل کرتا ہے۔ متن میں اضطراب یعنی کبھی ایک ہی حدیث کو تفصیل سے اور کبھی مختصر طور پر نقل کرتا ہے۔

حدیث مضطرب کا حکم:

اگر حدیث میں اضطراب کی وجہ سے حدیث کے مضمون اور سند میں کوئی علمی مشکل پیش نہ آتی ہو تو، وہ حدیث حجت ہوتی ہے اور اس پر عمل کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔

الدرایة (شهید ثانى) ص 53

مقباس الهدایة ج 1 ص 387

ابن حجر عسقلانی نے کتاب تقريب التہذيب میں لکھا ہے کہ:

يونس بن أبي إسحاق السبيعي أبو إسرائيل الكوفي صدوق يهم قليلا من الخامسة مات سنة اثنتين وخمسين علي الصحيح ر م 4

يونس ابن ابی اسحاق سچا تھا، کبھی کبھی وہ وہم میں مبتلا ہو جایا کرتا تھا۔

تقريب التهذيب ج1 ص613، رقم: 7899

بہرحال وہ کتاب صحیح مسلم کے راویوں میں سے ہے اور اسی وجہ سے اسکے ثقہ ہونے کے لیے بس یہی کافی ہے۔ جیسا کہ احمد ابن علی اصفہانی نے اسکے نام کو كتاب صحیح مسلم کے راویوں میں ذکر کیا ہے:

يونس بن أبي إسحاق السبيعي الهمداني الكوفي كنيته أبو إسرائيل السبيعي روي عن عبدالله بن أبي السفر في الجهاد روي عنه أبو المنذر إسماعيل.

الإصبهاني، أبو بكر أحمد بن علي بن منجويه، رجال صحيح مسلم ج2 ص368، رقم: 1895، تحقيق: عبد الله الليثي، ناشر: دار المعرفة - بيروت، الطبعة: الأولي، 1407هـ

حتی البانی وہابی نے بھی يونس ابن ابی اسحاق کی روایات کو صحیح قرار دیا ہے، جیسے کتاب ارواء الغليل میں ایک روایت، کہ جسکی سند میں يونس ابن ابی اسحاق ذکر ہوا ہے، کو نقل کرنے کے بعد کہتا ہے کہ:

أخرجه أحمد (6/185-1 86 ) من طريق يونس بن أبي اسحاق عنه. وهذا إسناد صحبح علي شرط مسلم.

اس روایت کو احمد نے يونس ابن ابی اسحاق کے واسطے سے نقل کیا ہے اور اسکی سند، مسلم کی شرائط کے مطابق ، صحیح ہے۔

ألباني، محمد ناصر (متوفي1420هـ)، إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل، ج1، ص 237، تحقيق: إشراف: زهير الشاويش، ناشر: المكتب الإسلامي - بيروت - لبنان، الطبعة: الثانية، 1405 - 1985 م.

اور البانی وہابی نے كتاب صحيح ابو داود میں اس روايت کو بخاری اور مسلم کی شرائط کے مطابق ، صحیح قرار دیا ہے:

والحديث أخرجه أحمد (4/255) قال: ثنا وكيع: ئنا يونس بن أبي إسحاق:سمعته من الشعبي... وهذا إسناد صحيح علي شرط الشيخين.

اس حديث کو احمد نے وكيع سے اور اس نے يونس ابن ابی اسحاق سے اور اس نے شعبی سے نقل کیا ہے اور اس روایت کی سند بخاری اور مسلم کی شرائط کے مطابق ، صحیح ہے۔

ألباني، محمد ناصر (متوفي1420هـ)، صحيح أبي داود، ج1، ص 259، ناشر: مؤسسة غراس للنشر والتوزيع ـ الكويت، الطبعة: الأولي، 1423 هـ ـ 2002 م

اور البانی وہابی نے كتاب ظلال الجنۃ میں اس روایت کو کہ جسکی سند میں يونس ابن ابی اسحاق ذکر ہوا ہے، صحیح قرار دیا ہے۔

1063 صحيح ،

حدثنا أبو بكر ثنا وكيع عن يونس بن أبي اسحاق عن العيزار ابن حريث العبدي عن أم الحصين الأحمسية قالت سمعت رسول الله صلي الله عليه وسلم وعليه بردة متلفعا بها وهو يقول:

إن أمر عليكم عبد حبشي مجدع فاسمعوا له ما أقام بكم كتاب الله عز وجل ،

ألباني، محمد ناصر (متوفي1420هـ)، ظلال الجنة، ج2، ص 250، ح1063، ناشر: المكتب الإسلامي - بيروت، الطبعة: الثالثة - 1413هـ ـ 1993م.

لہذا يونس ابن ابی اسحاق ثقہ اور مورد اعتماد راوی ہے۔

ابو اسحاق السبيعی:

یہ کتاب صحیح بخاری، مسلم اور باقی کتب صحاح ستہ کے راویوں میں سے ہے۔

 ذہبی نے اسکے بارے میں کہا ہے کہ:

عمرو بن عبد الله أبو إسحاق الهمداني السبيعي أحد الأعلام عن جرير وعدي بن حاتم وزيد بن أرقم وابن عباس وأمم وعنه ابنه يونس وحفيده إسرائيل وشعبة والسفيانان وأبو بكر بن عياش هو كالزهري في الكثرة غزا مرات وكان صواما قواما عاش خمسا وتسعين سنة مات 127 ع.

عمرو ابن عبد الله ابو اسحاق سبيعی بزرگان میں سے تھا، اس نے جرير ابن حازم ، عدی ابن حاتم، زيد ابن ارقم، ابن عباس اور بہت سے افراد سے روایات کو سنا ہے اور اس سے اسکے بیٹے یونس اور اسکے پوتے اسرائيل، اور اسی طرح اس سے شعبۃ ابن الحجاج، سفيان ثوری ، سفيان ابن وكيع ، ابوبكر ابن عياش نے روايت کو نقل کیا ہے۔ وہ کثرت سے روایات کو نقل کرنے میں زہری کی طرح تھا۔ اس نے کئی مرتبہ جنگوں میں بھی شرکت کی تھی، وہ بہت زیادہ روزے رکھتا اور خداوند کی عبادت کیا کرتا تھا۔

الكاشف ج2 ص82، رقم: 4185

اور ابن حجر نے لکھا ہے کہ:

عمرو بن عبد الله بن عبيد ويقال علي ويقال بن أبي شعيرة الهمداني أبو إسحاق السبيعي بفتح المهملة وكسر الموحدة ثقة مكثر عابد من الثالثة اختلط بأخرة مات سنة تسع وعشرين ومائة وقيل قبل ذلك ع.

عمرو ابن عبد الله ثقہ تھا، اس نے بہت سی روایات کو نقل کیا تھا اور وہ اہل عبادت تھا، زندگی کے آخری ایام میں وہ اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھا تھا۔

تقريب التهذيب ج1 ص423، رقم: 5065

زيد ابن يثيع:

ذہبی نے کتاب الكاشف میں کہا ہے کہ:

زيد بن يثيع عن أبي بكر وأبي ذر وعنه أبو إسحاق فقط وثق حب ت.

زيد ابن يثيع كہ جس نے ابوبكر اور ابو ذر سے روايت کو سنا تھا اور جس سے فقط ابو اسحاق نے روايت کو نقل کیا ہے، وہ ایک ثقہ راوی ہے۔

الكاشف ج1 ص419، رقم: 1759

اور ابن حجر نے کتاب تقريب التہذيب میں لکھا ہے کہ:

زيد بن يثيع بضم التحتانية... الهمداني الكوفي ثقة مخضرم من الثانية ت س.

زيد ابن يثيع ہمدانی ثقہ اور مخضرم تھا۔

تقريب التهذيب ج1 ص225، رقم: 2160

مخضرم:

اس شخص کو کہا جاتا ہے کہ جس نے زمانہ جاہلیت اور زمانہ اسلام دونوں کو دیکھا ہو۔

ابو ذر غفاری:

صحابی ،

احمد ابن حنبل نے اسی روایت کو اسطرح سے نقل کیا ہے:

حدثنا عبد الله قال حدثني أبي قثنا يحيي بن آدم نا يونس عن أبي إسحاق عن زيد بن يثيع قال قال رسول الله صلي الله عليه وسلم لينتهين بنو وليعة أو لأبعثن إليهم رجلا كنفسي يمضي فيهم أمري يقتل المقاتلة ويسبي الذرية قال فقال أبو ذر فما راعني إلا برد كف عمر في حجزتي من خلفي فقال من تراه يعني قلت مايعنيك ولكن يعني خاصف النعل.

زيد ابن يثيع نے ابوذر سے نقل کیا ہے کہ رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: بنو ولیعۃ (حکماء سرزمین حضرموت) کو اپنی ان حرکتوں سے باز آنا چاہیے، ورنہ میں انکی طرف ایک ایسے شخص کو بھیجوں گا کہ جو بالکل میری طرح کا ہے۔ وہ ان لوگوں کے درمیان میرے حکم کو جاری کرے گا، پس وہ انکو جنگجو افراد سے کرے گا اور انکی اولاد کو اسیر کرے گا۔

ابوذر کہتا ہے کہ میں رسول خدا کے اس کلام سے حیران و پریشان کھڑا تھا کہ عمر نے پیچھے سے میری کمر کو پکڑ کر کہا: رسول خدا کی نظر میں کونسا شخص ہے ؟ میں نے کہا: حضرت کی مراد تم نہیں ہو۔ بلکہ وہ مراد ہے کہ جو جوتے کو پیوند لگاتا ہے۔

الشيباني، ابوعبد الله أحمد بن حنبل (متوفي241هـ)، فضائل الصحابة، ج 2 ص 571، ح966، تحقيق د. وصي الله محمد عباس، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: الأولي، 1403هـ - 1983م.

اس روایت اور نسائی کی نقل کردہ روایت میں دو بنیادی فرق ہیں:

1- یہ کہ رسول خدا کی مراد ابوبکر نہیں ہے، یہ عبارت حذف ہوئی ہے۔

2- جوتوں کو پیوند لگانے والے شخص کو بھی واضح نہیں کیا گیا ہے۔

اور ابن ابی شيبہ نے ہر دو خلفاء (ابوبکر، عمر) کی آبرو بچانے کے لیے، روایت کے آخری حصے کو بالکل حذف کر دیا ہے اور روایت میں زیادہ تحریف کو انجام دیا ہے:

حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَابِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ص): «لَيَنْتَهِيَنَّ أَوْ لَأَبْعَثَنَّ إلَيْهِمْ رَجُلًا كَنَفْسِي فَيُمْضِي فِيهِمْ أَمْرِي، فَيَقْتُلُ الْمُقَاتِلَةَ وَيَسْبِي الذُّرِّيَّةَ».

إبن أبي شيبة الكوفي، ابوبكر عبد الله بن محمد (متوفي235 هـ)، الكتاب المصنف في الأحاديث والآثار، ج 6 ص 374، ح32137، تحقيق: كمال يوسف الحوت، ناشر: مكتبة الرشد - الرياض، الطبعة: الأولي، 1409هـ.

پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بہرحال اہل سنت کے بعض علماء کی ہمیشہ خیانت، تحریف اور امیر المؤمنین علی (ع) سے بغض و کینے کے باوجود، اس روایت کی سند صحیح اور معتبر ہے کہ جو واضح طور پر ثابت کرتی ہے کہ رسول خدا (ص) اور حضرت علی (ع) کے درمیان کوئی فرق موجود نہیں ہے اور وہ در حقیقت ایک روح ہیں کہ جو دو بدنوں میں موجود ہے۔

اسکے علاوہ یہی روایت یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ عمر ابن خطاب اور اسکا جگری دوست ابوبکر بالکل رسول خدا (ص) اور امیر المؤمنین علی (ع) کی طرح نہیں ہیں کہ جو رسول خدا کی طرف سے اسلام کے مخالفین سے جا کر بہادری اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنگ کر سکیں۔

روايت دوم: عبد الله ابن شداد:

ابن ابی شيبہ كوفی نے اپنی كتاب المصنف میں لکھا ہے کہ:

حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَيَّاشٍ الْعَامِرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، قَالَ: قَدِمَ عَلَي رَسُولِ اللَّهِ (ص) وَفْدُ آلِ سَرْحٍ مِنَ الْيَمَنِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ (ص): «لَتُقِيمُنَّ الصَّلَاةَ وَلَتُؤْتُنَّ الزَّكَاةَ وَلَتَسْمَعُنَّ وَلَتُطِيعُنَّ أَوْ لَأَبْعَثَنَّ إلَيْكُمْ رَجُلًا كَنَفْسِي، يُقَاتِلُ مُقَاتِلَتَكُمْ وَيَسْبِي ذَرَارِيَّكُمْ، اللَّهُمَّ أَنَا أَوْ كَنَفْسِي»، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ.

قبیلہ آل سرح کا ایک گروہ رسول خدا کے پاس آیا تو رسول خدا نے ان سے فرمایا: تم لوگ نماز پڑھو گے، زکات دو گے، میرے اوامر سن کر انکی اطاعت کرو گے یا تم لوگوں کے لیے کسی ایسے بندے کو بھیجوں کہ جو بالکل میری طرح ہے، جو تمہارے بہادر لوگوں سے جنگ کرے گا اور تمہارے خاندانوں کو اسیر کرے گا۔ اے خداوند یا خود جاؤں یا کسی کو بھیجوں کو جو میری مثل ہے، یہ کہہ کر رسول خدا نے علی کے ہاتھ کو پکڑ کر اوپر بلند کر دیا۔

إبن أبي شيبة الكوفي، ابوبكر عبد الله بن محمد (متوفي235 هـ)، الكتاب المصنف في الأحاديث والآثار، ج 6 ص 369، رقم: 32093، تحقيق: كمال يوسف الحوت، ناشر: مكتبة الرشد - الرياض، الطبعة: الأولي، 1409هـ.

بحث سندی:

شريک ابن عبد الله القاضی:

یہ کتاب صحیح بخاری، مسلم اور باقی کتب صحاح ستہ کے راویوں میں سے ہے۔

شريك بن عبد الله أبو عبد الله النخعي القاضي أحد الأعلام عن زياد بن علاقة وسلمة بن كهيل وعلي بن الأقمر وعنه أبو بكر بن أبي شيبة وعلي بن حجر وثقه بن معين وقال غيره سيء الحفظ وقال النسائي ليس به بأس هو أعلم بحديث الكوفيين من الثوري قاله بن المبارك توفي 177 عاش اثنتين وثمانين سنة خت 4 م متابعة

شريک ابن عبد الله نخعی قاضی بزرگ علماء میں سے تھا۔ یحیی ابن معین نے اسکو ثقہ قرار دیا ہے، دوسرے علماء نے کہا ہے کہ اسکا حافظہ قوی نہیں تھا، نسائی نے کہا ہے کہ: وہ معتبر راوی تھا، اس میں کسی قسم کا اشکال نہیں تھا، وہ کوفیوں کی حدیث سے ثوری کی نسبت عالم تر تھا، اس بات کو ابن مبارک نے کہا ہے۔

الكاشف ج1 ص485، رقم:2276

عياش ابن عمرو العامری:

یہ کتاب صحیح مسلم اور باقی کتب صحاح ستہ کے راویوں میں سے ہے۔

ذہبی نے اسکے بارے میں لکھا ہے کہ:

عياش بن عمرو العامري الكوفي عن بن أبي أوفي وإبراهيم التيمي وعنه سفيان وشعبة وثق م س.

عياش ابن عمرو کی توثيق کی گئی ہے، یعنی اسکو علماء نے ثقہ قرار دیا ہے۔

الكاشف ج2 ص107، رقم: 4355

عياش ابن عمرو الكوفي ثقة.

عياش ابن عمر ثقہ ہے۔

تقريب التهذيب ج1 ص437، رقم:5271

عبد الله ابن شداد:

یہ کتاب صحیح بخاری، مسلم اور باقی کتب صحاح ستہ کے راویوں میں سے ہے۔

ابن حجر عسقلانی نے اسکے نام کو اصحاب میں سے شمار کیا ہے:

عبد الله بن شداد بن الهاد الليثي تقدم في ترجمة أبيه في القسم الأول سياق نسبه وولد هو في عهد النبي صلي الله عليه وسلم وأمه سلمي بنت عميس....

عبد الله ابن شداد کہ اسکے والد کے حالات زندگی کو اصحاب کی پہلی قسم میں اسکے نسب کے بارے میں بیان کیا ہے، وہ رسول خدا کے زمانے میں دنیا میں آیا تھا اور اسکی ماں سلمی بنت عميس تھی۔

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابوالفضل (متوفي852هـ)، الإصابة في تمييز الصحابة، ج5 ص13، رقم: 6181، تحقيق: علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولي، 1412هـ - 1992م.

ابن عبد البر قرطبی نے بھی اسکے نام کو اصحاب میں سے شمار کیا ہے:

عبد الله بن شداد بن الهاد الليثي العتواري ولد علي عهد رسول الله صلي الله عليه وسلم كان من أهل العلم.

عبد اللہ ابن شداد رسول خدا کے زمانے میں پیدا ہوا تھا، وہ اہل علم میں سے تھا۔

ابن عبد البر النمري القرطبي المالكي، ابوعمر يوسف بن عبد الله بن عبد البر (متوفي 463هـ)، الاستيعاب في معرفة الأصحاب، ج3 ص926، رقم: 1573، تحقيق: علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولي، 1412هـ.

لہذا اس روایت کی سند میں کوئی اشکال نہیں ہے اور اسکے تمام راوی کتاب صحیح بخاری ، صحیح مسلم اور باقی کتب صحاح ستہ کے راویوں میں سے ہیں۔

روايت سوم: عبد الرحمن ابن عوف:

حاكم نيشاپوری نے اپنی كتاب المستدرک علی الصحیحین میں لکھا ہے کہ:

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ الأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ بْنِ خَالِدٍ الأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَي، ثنا طَلْحَةُ بْنُ خَيْرٍ الأَنْصَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَي الطَّائِفِ فَحَاصَرَهُمْ ثَمَانِيَةً أَوْ سَبْعَةً، ثُمَّ أَوْغَلَ غُدْوَةً أَوْ رَوْحَةً، ثُمَّ نَزَلَ ثُمَّ هَجَرَ، ثُمَّ قَالَ:

أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي لَكُمْ فَرَطٌ، وَإِنِّي أُوصِيكُمْ بِعِتْرَتِي خَيْرًا مَوْعِدُكُمُ الْحَوْضُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَتُقِيمُنَّ الصَّلاةَ، وَلَتُؤْتُونَ الزَّكَاةَ، أَوْ لأَبْعَثَنَّ عَلَيْكُمْ رَجُلا مِنِّي، أَوْ كَنَفْسِي فَلَيَضْرِبُنَّ أَعْنَاقَ مُقَاتِلِيهِمْ، وَلَيَسْبِيُنُّ ذَرَارِيَّهُمْ»، قَالَ: فَرَأَي النَّاسُ أَنَّهُ يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ أَوْ عُمَرَ، فَأَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ، فَقَالَ: هَذَا.

هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ.

رسول خدا شہر مکہ کو فتح کرنے کے بعد شہر طائف کی طرف گئے اور اس شہر کو آٹھ یا سات دن رات اپنے گھیرے میں لیے رکھا۔ اس شہر کا محاصرہ ختم ہونے اور طائف کو فتح کرنے کے بعد رسول خدا نے وہاں کے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

میں تم لوگوں سے محبت کرتا ہوں اور تم لوگوں کو اپنے اہل بیت کے ساتھ نیکی کرنے کی وصیت کرتا ہوں۔ قیامت کے دن ہمارے آپس میں ملنے کی جگہ، حوض کوثر کے کنارے ہے۔ اس خداوند کی قسم کہ جسکے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، تم لوگ نماز قائم کرو اور زکات ادا کرو، ورنہ میں تم لوگوں پر ایک ایسے شخص کو مامور کروں گا کہ وہ مجھ سے ہے یا میری مانند ہے، تا کہ وہ تمہارے مردوں کی گردنوں کو قطع کرے اور تمہارے بیوی بچوں کو اسیر کرے۔

لوگوں نے گمان کیا کہ وہ مرد ابوبکر یا عمر ہے۔ لیکن رسول خدا نے علی کے ہاتھ کو پکڑ کر کہا: وہ مرد یہ ہے۔

اس روایت کی سند صحیح ہے لیکن بخاری اور مسلم نے اس روایت کو اپنی اپنی صحیح میں ذکر نہیں کیا۔

الحاكم النيسابوري، ابو عبد الله محمد بن عبد الله (متوفي 405 هـ)، المستدرك علي الصحيحين، ج 2 ص 131، ح2559، تحقيق: مصطفي عبد القادر عطا، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت الطبعة: الأولي، 1411هـ - 1990م.

ابن ابی شيبہ نے کتاب المصنف، فسوی نے کتاب المعرفۃ والتاريخ، ابو يعلی نے اپنی کتاب مسند، ابن عساكر نے کتاب تاريخ مدينہ دمشق اور ابن حجر عسقلانی نے کتاب المطالب العاليۃ میں سب نے اس روايت کو اسی طرح ذکر کیا ہے:

إبن أبي شيبة الكوفي، ابوبكر عبد الله بن محمد (متوفي235 هـ)، الكتاب المصنف في الأحاديث والآثار، ج 7 ص 411، ح36953، تحقيق: كمال يوسف الحوت، ناشر: مكتبة الرشد - الرياض، الطبعة: الأولي، 1409هـ.

الفسوي، أبو يوسف يعقوب بن سفيان (متوفي277هـ)، المعرفة والتاريخ، ج 1 ص 121، تحقيق: خليل المنصور، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت - 1419هـ- 1999م.

أبو يعلي الموصلي التميمي، أحمد بن علي بن المثني (متوفي307 هـ)، مسند أبي يعلي، ج 2 ص 165، ح859، تحقيق: حسين سليم أسد، ناشر: دار المأمون للتراث - دمشق، الطبعة: الأولي، 1404 هـ - 1984م.

ابن عساكر الدمشقي الشافعي، أبي القاسم علي بن الحسن إبن هبة الله بن عبد الله (متوفي571هـ)، تاريخ مدينة دمشق وذكر فضلها وتسمية من حلها من الأماثل، ج 42 ص 342، تحقيق: محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمري، ناشر: دار الفكر - بيروت - 1995.

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابوالفضل (متوفي852هـ)، المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية، ج 16 ص 68، تحقيق: د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشتري، ناشر: دار العاصمة/ دار الغيث، الطبعة: الأولي، السعودية - 1419هـ.

لیکن ابوبکر بزار نے اپنی مسند میں اور اسی طرح شجری جرجانی نے كتاب الأمالی میں اس روايت کو اس طرح سے نقل کیا ہے کہ ابوبکر اور عمر کا نام ذکر نہ ہو، تا کہ امیر المؤمنین علی (ع) کی برتری اور افضلیت ان دونوں پر ثابت نہ ہو سکے۔

حدثنا يوسف بن موسي وأحمد بن عثمان بن حكيم قالا نا عبيد الله بن موسي قال نا طلحة بن جبر عن المطلب بن عبد الله بن حنطب عن مصعب بن عبد الرحمن بن عوف عن أبيه قال لما فتح رسول الله صلي الله عليه وسلم مكة انصرف إلي الطائف فحاصرها سبع عشرة أو تسع عشرة ثم قام خطيبا فحمد الله وأثني عليه ثم قال أوصيكم بعترتي خيرا وإن موعدكم الحوض والذي نفسي بيده لتقيمن الصلاة ولتؤتن الزكاة أو لأبعثن إليكم رجلا مني أو كنفسي يضرب أعناقكم ثم أخذ بيد علي

البزار، ابوبكر أحمد بن عمرو بن عبد الخالق (متوفي292 هـ)، البحر الزخار (مسند البزار)، ج 3 ص 259، ح1050، تحقيق: د. محفوظ الرحمن زين الله، ناشر: مؤسسة علوم القرآن، مكتبة العلوم والحكم - بيروت، المدينة الطبعة: الأولي، 1409 هـ

الشجري الجرجاني، المرشد بالله يحيي بن الحسين بن إسماعيل الحسني (متوفي499 هـ)، كتاب الأمالي وهي المعروفة بالأمالي الخميسية، ج 1 ص 185، تحقيق: محمد حسن اسماعيل، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت / لبنان، الطبعة: الأولي، 1422 هـ - 2001م.

روايت چہارم: جابر ابن عبد الله انصاری:

طبرانی نے کتاب المعجم الأوسط میں لکھا ہے کہ:

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، قَالَ: نا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَي بْنِ مَيْسَرَةَ الرَّازِيُّ، قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْقُدُّوسِ، قَالَ: نا الأَعْمَشُ، عَنْ مُوسَي بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ (ص) الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ إِلَي بَنِي وَلِيعَةَ، وَكَانَتْ بَيْنَهُمْ شَحْنَاءُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا بَلَغَ بَنِي وَلِيعَةَ اسْتَقْبَلُوهُ لِيَنْظُرُوا مَا فِي نَفْسِهِ، فَخَشِيَ الْقَوْمَ فَرَجَعَ إِلَي رَسُولِ (ص) فَقَالَ: إِنَّ بَنِي وَلِيعَةَ أَرَادُوا قَتْلِي، وَمَنَعُونِي الصَّدَقَةَ. فَلَمَّا بَلَغَ بَنِي وَلِيعَةَ الَّذِي قَالَ الْوَلِيدُ: عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ (ص) أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ (ص) فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ كَذَبَ الْوَلِيدُ، وَلَكِنْ كَانَتْ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ شَحْنَاءُ، فَخَشِينَا أَنْ يُعَاقِبَنَا بِالَّذِي كَانَ بَيْنَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ص): " لَيَنْتَهِيَنَّ بَنُو وَلِيعَةَ أَوْ لأَبْعَثَنَّ إِلَيْهِمْ رَجُلا عِنْدِي كَنَفْسِي، يَقْتُلُ مُقَاتِلَتَهُمْ، وَيَسْبِي ذَرَارِيَّهُمْ، وَهُوَ هَذَا " ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَي كَتِفِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: وَأَنْزَلَ اللَّهُ فِي الْوَلِيدِ:«يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ» الآيَةَ.

رسول خدا (ص) نے وليد ابن عقبہ کو بنی وليعۃ کے پاس بھیجا، کیونکہ زمانہ جاہلیت سے ولید اور بنی ولیعۃ کے لوگوں کے آپس میں اچھے تعلقات نہیں تھے، اس لیے جب انھوں نے سنا کہ رسول خدا نے ولید کو بھیجا ہے تو، سارے اسکے استقبال کے لیے گھروں سے باہر آ گئے۔ ولید نے خیال کیا کہ وہ لوگ اسے قتل کرنے کے لیے آ رہے ہیں، اسی وجہ سے رسول خدا کے پاس واپس آیا اور کہا: بنی ولیعۃ مجھے قتل کرنا چاہتے تھے اور انھوں نے مجھے زکات بھی نہیں دی۔ جب یہ خبر بنی ولیعۃ کو ملی تو وہ رسول خدا کے پاس آئے اور کہا کہ: ولید جھوٹ بول رہا ہے، ہاں ہمارے اور اسکے درمیان خونی دشمنی تھی، اسی لیے ہم ڈر گئے کہ کہیں وہ ہم سے اس دشمنی کا بدلہ نہ لے (یعنی وہ غلط سمجھا ہے، ہم اسے قتل نہیں کرنا چاہتے تھے) رسول خدا نے فرمایا: بنی ولیعۃ اپنی ان حرکتوں سے باز آ جائیں ورنہ میں تم لوگوں پر ایک ایسے شخص کو مامور کروں گا کہ وہ مجھ سے ہے یا میری طرح کا ہے، تا کہ وہ تمہارے مردوں کی گردنوں کو قطع کرے اور تمہارے بیوی بچوں کو اسیر کرے۔

لوگوں نے گمان کیا کہ وہ مرد ابوبکر یا عمر ہے۔ لیکن رسول خدا نے علی کے ہاتھ کو پکڑ کر کہا: وہ مرد یہ ہے، پھر اپنے ہاتھ کو علی ابن ابی طالب کے بازو پر مارا۔

جابر نے کہا: ولید کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے: اے ایمان والوں جب بھی کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اس خبر کے بارے میں تحقیق کر لو۔

الطبراني، ابوالقاسم سليمان بن أحمد بن أيوب (متوفي360هـ)، المعجم الأوسط، ج 4 ص 133، ح3797، تحقيق: طارق بن عوض الله بن محمد، عبد المحسن بن إبراهيم الحسيني، ناشر: دار الحرمين - القاهرة - 1415هـ.

علامہ زمخشری نے اپنی تفسير الكشاف میں اس روايت کو ایسے نقل كیا ہے:

بعث رسول الله صلي الله عليه وسلم الوليد بن عقبة أخا عثمان لأمّه وهو الذي ولاه عثمان الكوفة بعد سعد بن أبي وقاص، فصلي بالناس وهو سكران صلاة الفجر أربعاً، ثم قال: هل أزيدكم، فعزله عثمان عنهم مصدّقاً إلي بني المصطلق، وكانت بينه وبينهم إحنة، فلما شارف ديارهم ركبوا مستقبلين له، فحسبهم مقاتليه، فرجع وقال لرسول الله صلي الله عليه وسلم: قد ارتدوا ومنعوا الزكاة، فغضب رسول الله صلي الله عليه وسلم وهمّ أن يغزوهم. فبلغ القوم فوردوا وقالوا: نعوذ بالله من غضبه وغضب رسوله، فاتهمهم فقال: ( لتنتهنّ أو لأبعثنّ إليكم رجلاً هو عندي كنفسي يقاتل مقاتلتكم ويسبي ذراريكم، ثم ضرب بيده علي كتف علي رضي الله عنه ،

رسول خدا (ص) نے وليد ابن عقبہ( کہ جو ماں کی طرف سے عثمان کا بھائی تھا، یہ ولید وہی ہے کہ جسکو عثمان نے سعد ابن ابی وقاص کے بعد کوفے کا حاکم بنایا تھا، اسی ولید نے جب  مسجد میں شراب کے نشے میں لوگوں کو صبح کی نماز چار رکعت پڑھا کر کہا کہ آج میری طبیعت ٹھیک ہے، اگر تم لوگ چاہتے ہو تو صبح کی نماز چار رکعت سے زیادہ بھی پڑھا سکتا ہوں،) کو بنی مصطلق کے پاس بھیجا، کیونکہ زمانہ جاہلیت سے ولید اور اس قبیلے کے آپس میں اچھے تعلقات نہیں تھے، اس لیے جب انھوں نے سنا تو سارے اسکے استقبال کے لیے گھروں سے باہر آ گئے۔ ولید نے خیال کیا کہ وہ لوگ اسے قتل کرنے کے لیے آ رہے ہیں، اسی وجہ سے رسول خدا کے پاس واپس آیا اور کہا: وہ مرتد ہو گئے ہیں اور انھوں نے مجھے زکات دینے سے بھی انکار کر دیا ہے۔

رسول خدا (ص) نے جب یہ سنا تو بہت غضبناک ہوئے اور ان سے جنگ کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ جب ولید کی جھوٹی خبر اس قبیلے کو پتا چلی تو وہ رسول خدا کے پاس آئے اور کہا کہ: ہم خدا اور اسکے رسول کے غضب سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں، رسول خدا نے اس قبیلے سے کہا کہ: اپنی ان حرکتوں سے باز آ جاؤ ورنہ میں تم لوگوں پر ایک ایسے شخص کو مامور کروں گا کہ وہ مجھ سے ہے یا میری طرح کا ہے، تا کہ وہ تمہارے مردوں کی گردنوں کو قطع کرے اور تمہارے بیوی بچوں کو اسیر کرے، پھر اپنے ہاتھ کو علی ابن ابی طالب کے بازو پر مارا۔

الزمخشري الخوارزمي، ابوالقاسم محمود بن عمرو بن أحمد جار الله (متوفي538هـ)، الكشاف عن حقائق التنزيل وعيون الأقاويل في وجوه التأويل، ج 4 ص 362، تحقيق: عبد الرزاق المهدي، بيروت، ناشر: دار إحياء التراث العربي.

یہی روایت اہل سنت کی دوسری کتب میں بھی ذکر ہوئی ہے:

الزيلعي، عبدالله بن يوسف ابومحمد الحنفي (متوفي762هـ)، تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في تفسير الكشاف للزمخشري، ج 3 ص 332، تحقيق: عبد الله بن عبد الرحمن السعد، ناشر: دار ابن خزيمة - الرياض، الطبعة: الأولي، 1414هـ.

النيسابوري، نظام الدين الحسن بن محمد بن حسين المعروف بالنظام الأعرج (متوفي 728 هـ)، تفسير غرائب القرآن ورغائب الفرقان، ج 6 ص 342، تحقيق: الشيخ زكريا عميران، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت / لبنان، الطبعة: الأولي، 1416هـ - 1996م.

روايت پنجم: مطلب ابن عبد الله:

اہل سنت کے بعض علماء نے اسی روایت کو  عبد المطلب ابن عبد الله ابن حنطب سے اس طرح سے نقل کیا ہے:

عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ص) لِوَفْدِ ثَقِيفٍ حِينَ جَاءُوا: «لَتُسْلِمُنَّ أَوْ لَنَبْعَثَنَّ رَجُلا مِنِّي، أَوْ قَالَ: مِثْلَ نَفْسِي، فَلَيَضْرِبَنَّ أَعْنَاقَكُمْ، وَلَيَسْبِيَنَّ ذَرَارِيَّكُمْ، وَلَيَأْخُذَنَّ أَمْوَالَكُمْ»، فَقَالَ عُمَرُ: فَوَاللَّهِ مَا تَمَنَّيْتُ الإِمَارَةَ إِلا يَوْمَئِذٍ، جَعَلْتُ أَنْصِبُ صَدْرِي رَجَاءَ أَنْ يَقُولَ هُوَ هَذَا، قَالَ: فَالْتَفَتَ إِلَي عَلِيٍّ فَأَخَذَ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَالَ: «هُوَ هَذَا هُوَ هَذَا»

رسول خدا نے ثقیف کے ایک آنے والے وفد سے فرمایا کہ: میرے فرامین کے سامنے تسلیم ہوتے ہو یا میں ایک ایسے مرد کو بھیجوں گا کہ جو مجھ سے ہے یا میری مانند ہے، تا کہ وہ تمہاری گردنوں کو کاٹ دے، تمارے خاندانوں کو اسیر کرے اور تمہارے اموال کو تم سے لے لے۔ یہ سن کر عمر نے کہا: خدا کی قسم میں نے اس دن تک کبھی بھی حکومت کی اتنی آرزو نہیں کی تھی، عمر کہتا ہے کہ میں نے اپنے سینے کو اس امید سے چوڑا کیا کہ اب رسول خدا پکار کر کہیں گے کہ وہ مرد، عمر ہے۔

راوی کہتا ہے کہ: یہ کہہ کر رسول خدا نے علی کی طرف نگاہ کی، اسکے ہاتھ کو پکڑا اور فرمایا: یہ ہے وہ مرد، یہ ہے وہ مرد۔

الأزدي، معمر بن راشد (متوفي151هـ)، الجامع، ج 11 ص 226، ح20389، تحقيق: حبيب الأعظمي، ناشر: المكتب الإسلامي - بيروت ، الطبعة: الثانية، 1403هـ

إبن أبي شيبة الكوفي، ابوبكر عبد الله بن محمد (متوفي235 هـ)، الكتاب المصنف في الأحاديث والآثار، ج 11 ص 226، تحقيق: كمال يوسف الحوت، ناشر: مكتبة الرشد - الرياض، الطبعة: الأولي، 1409هـ.

الشيباني، ابوعبد الله أحمد بن حنبل (متوفي241هـ)، فضائل الصحابة، ج 2 ص 593، تحقيق د. وصي الله محمد عباس، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: الأولي، 1403هـ - 1983م.

البلاذري، أحمد بن يحيي بن جابر (متوفي279هـ)، أنساب الأشراف، ج 1 ص 283، طبق برنامه الجامع الكبير.

ابن عبد البر النمري القرطبي المالكي، ابوعمر يوسف بن عبد الله بن عبد البر (متوفي 463هـ)، الاستيعاب في معرفة الأصحاب، ج 3 ص 1110، تحقيق: علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولي، 1412هـ.

الانصاري التلمساني، محمد بن أبي بكر المعروف بالبري (متوفي644هـ) الجوهرة في نسب النبي وأصحابه العشرة، ج 1 ص 295، طبق برنامه الجامع الكبير.

الطبري، ابو جعفر محب الدين أحمد بن عبد الله بن محمد (متوفي694هـ)، ذخائر العقبي في مناقب ذوي القربي، ج 1 ص 64، ناشر: دار الكتب المصرية - مصر.

الحلبي، علي بن برهان الدين (متوفي1044هـ)، السيرة الحلبية في سيرة الأمين المأمون، ج 2 ص 734، ناشر: دار المعرفة - بيروت - 1400.

العاصمي المكي، عبد الملك بن حسين بن عبد الملك الشافعي (متوفي1111هـ)، سمط النجوم العوالي في أنباء الأوائل والتوالي، ج 3 ص 30، تحقيق: عادل أحمد عبد الموجود- علي محمد معوض، ناشر: دار الكتب العلمية.

نتيجہ:

یہ روایت کہ جو کم از کم دو صحیح سند کے ساتھ نقل ہوئی ہے، ثابت کرتی ہے کہ حضرت امیر المؤمنین علی (ع)، نفس رسول خدا (ص) ہیں اور ان دونوں کا آپس میں کوئی فرق نہیں ہے۔ یعنی وہ تمام فضائل اور کمالات کہ جو رسول خدا کی ذات میں پائے جاتے ہیں، وہ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ امیر المؤمنین علی کی ذات میں بھی پائے جاتے ہیں، سوائے نبوت اور رسالت کے، اور یہ امیر المؤمنین علی (ع) کی فضیلت اور عظمت کے لیے کافی ہے۔

اب اگر مسلمانوں کو امیر المؤمنین علی (ع) کا رسول خدا (ص) کا نفس ہونا سمجھ میں آ جائے تو ، انکو رسول خدا (ص) کی امیر المؤمنین علی (ع) کے بارے میں بہت سی احادیث بھی سمجھ میں آ جائیں گی۔

جیسے: رسول خدا (ص) نے فرمایا ہے کہ:

جس نے علی کو سبّ و شتم کی تو اس نے مجھے سبّ و شتم کی۔

یا جس نے علی سے جنگ کی تو اس نے مجھ سے جنگ کی۔

یا جس نے علی سے صلح کی تو اس نے مجھ سے صلح کی۔

یا علی کا دشمن میرا دشمن ہے اور علی کا دوست میرا دوست ہے،

یا علی کا خون اور گوشت میرا خون اور گوشت ہے،

یا علی اور میں ایک ہی شجر (درخت) سے پیدا ہوئے ہیں،

یا علی کا نور اور میرا نور، ایک ہی ہے،

یا علی کا علم اور میرا علم ایک ہی ہے،

وغیرہ وغیرہ،،،،،،،،،،، فقط مجھ میں اور علی میں ایک ہی فرق ہے اور وہ یہ ہے کہ میں اللہ کا نبی اور رسول ہوں، لیکن علی اللہ کا نبی اور رسول نہیں ہے، بلکہ علی، ولی اللہ ہے، علی خلیفۃ اللہ ہے ، علی امام المسلمین ہے، علی امیر المؤمنین ہے۔

یہ تمام روایات شیعہ اور اہل سنت کی معتبر کتب میں ذکر ہوئی ہیں اور ان تمام روایات کے صحیح اور معتبر ہونے پر بھی، فریقین کے علماء اور محققین کا اتفاق موجود ہے۔

التماس دعا۔۔۔۔۔





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی