2018 October 21
وفاق نے داعش کے سہولت کار عبدالعزیز کو لال مسجد میں نماز جمعہ پڑھانے سے روک دیا
مندرجات: ١٥٤٨ تاریخ اشاعت: ١٣ May ٢٠١٨ - ١٧:٠٧ مشاہدات: 91
خبریں » پبلک
وفاق نے داعش کے سہولت کار عبدالعزیز کو لال مسجد میں نماز جمعہ پڑھانے سے روک دیا

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی انتظامیہ نے لال مسجد کے سابق امام عبدالعزیز کی جانب سے لال مسجد کا منبر و محراب سنبھالنے کی کوشش ایک مرتبہ پھر ناکام بنا دی، واضح رہے کہ انتظامیہ اور مولانا عبدالعزیز کے مابین 5 مذاکراتی دور ہوئے، جس کے بعد فیصلہ سامنے آیا کہ وہ گذشتہ روز جمعہ کی امامت اور خطاب نہیں کریں گے۔ آخری مذاکراتی دور گذشتہ روز صبح شروع ہوا جو جمعہ کی نماز سے محض آدھے گھنٹے پہلے تک جاری رہا۔ اس دوران برقعے میں ملوث متعدد خواتین ہاتھوں میں لاٹھیاں تھامے نظر آئیں جن میں سے بعض نیو جامعہ حفصہ کی نئی بلڈنگ کی چھت اور کھڑکیوں پر دیکھی جا سکتی تھیں۔ دوسری جانب انتظامیہ کی رِٹ کو برقرار رکھنے کے لئے کالے لباس میں ملبوس خواتین کمانڈوز پر مشتمل دستے بھی اس موقع پر موجود تھے۔ جی سیون میں مدرسے اور لال مسجد کے اطراف متعدد طالبعلم موجود تھے جبکہ پولیس کے علاوہ رینجرز بھی تعینات کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ لال مسجد کی شہداء فاؤنڈیشن نے 8 مئی کو اعلان کیا تھا کہ مولانا عبدالعزیز 11 مئی کو نماز جمعہ میں امامت کے فرائض انجام دیں گے اور خطاب بھی کریں۔ جس کے بعد اسلام آباد کی انتظامیہ نے نیو جامعہ حفصہ میں علماء سے مذاکرات شروع کر دیئے۔ حکام نے میڈیا کو بتایا کہ مولانا عبدالعزیز نے مسجد نہ جانے پر آمادگی کا اظہار کیا۔ دوسری جانب آئی سی ٹی کے ایک ذمہ دار نے بتایا کہ مولانا عبدالعزیز کا اصرار تھا کہ لال مسجد میں خطاب کرنا ان کا بنیادی حق ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مولانا عبدالعزیز کا پلان تھا کہ وہ جلوس کی صورت میں مسجد میں آئیں گے اور ان کے ہمراہ طلبہ سے بھری گاڑیاں بھی ساتھ ہوں گی، جس پر ہم نے ان پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا۔ ذرائع نے مزید انکشاف کیا ہے کہ ہم نے صرف مولانا سے اتنا کہا کہ نیو جامعہ حفصہ غیر قانونی طور پر تعمیر ہوا ہے تو پہلے اچھے شہری کی طرح اس مسئلے پر بات کر لی جائے۔

حکام نے میڈیا کو بتایا کہ لال مسجد میں کانفرنس کی اجازت اس لئے نہیں دی جا سکتی کیونکہ مولانا عبدالعزیز پر پابندی عائد کی جا چکی ہے ،جبکہ لال مسجد حکومت کی ملکیت ہے جہاں پر کسی بھی قسم کی سرگرمی کے انعقاد کا اختیار صرف حکومت ہی کو حاصل ہے۔ یاد رہے کہ 16 دسمبر 2014ء کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں طالبان کی دہشت گردی اور معصوم جانوں کی ہلاکتوں کے حوالے سے مولانا عبدالعزیز نے اپنے ایک متنازعہ بیان میں کہا تھا کہ وہ نہ تو اس واقعے کی مذمت کریں گے اور نہ انہیں شہید کہیں گے۔ مولانا کے اس بیان کے بعد سول سوسائٹی کے اراکین نے ان کے خلاف احتجاج کا آغاز کیا اور دو دن تک مظاہرین لال مسجد کے باہر جمع رہے، جس کے دوران مولانا عبدالعزیز کی جانب سے انہیں مبینہ طور پر دھمکیاں بھی دی گئیں۔ خیال رہے کہ اس سے قبل 24 مارچ 2017ء کو وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ نے اپنی رِٹ قائم کرتے ہوئے مولانا عبدالعزیز کو لال مسجد میں اجتماع منعقد کرنے سے روک دیا تھا۔ مولانا عبدالعزیز نے سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی اشاعت کے خلاف لال مسجد میں اس روز ایک کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کیا تھا۔




Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی