2018 October 18
تکفیری سوچ کی حمایت کرکے مولانا فضل الرحمان نے ملت جعفریہ کا اعتماد کھو دیا ہے، علامہ مقصود ڈومکی
مندرجات: ١٥٨٠ تاریخ اشاعت: ٢٨ May ٢٠١٨ - ١٢:٤٢ مشاہدات: 75
خبریں » پبلک
تکفیری سوچ کی حمایت کرکے مولانا فضل الرحمان نے ملت جعفریہ کا اعتماد کھو دیا ہے، علامہ مقصود ڈومکی

 مجلس وحدت مسلمین صوبہ سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ تکفیری سوچ کی حمایت کرکے مولانا فضل الرحمان نے ملت جعفریہ کا اعتماد کھو دیا ہے، پاکستان میں بسنے والے چھ کروڑ شیعہ حکمت و تدبر سے منتشر ووٹ کو تشیع کی اجتماعی طاقت میں تبدیل کریں۔ اپنے ایک بیان میں علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ ملت جعفریہ کیلئے آئندہ عام انتخابات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، وطن عزیز پاکستان کا استحکام، ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ، شیعہ نسل کشی کا سدباب، اسلام دشمن تکفیری سوچ اور کرپشن کا خاتمہ، ملک سے امریکی مداخلت کا خاتمہ اور اپنے آئینی حقوق کا تحفظ ہمارے مشترکہ قومی اہداف ہیں، ملت جعفریہ اپنے ووٹ کی طاقت کو ان مقدس اہداف کے حصول کیلئے استعمال کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بسنے والے چھ کروڑ شیعہ حکمت و تدبر سے منتشر ووٹ کو تشیع کی اجتماعی طاقت میں تبدیل کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پاکستان میں جن مسائل و مشکلات کا سامنا ہے، ان سے نکلنے کیلئے ووٹ کی طاقت کا درست استعمال ضروری ہے، ہمیں ووٹ کی طاقت کو ضائع کرنے کی بجائے اس کا درست استعمال کرنا چاہیے۔

علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کا کردار ناقابل ستائش ہے، تکفیری سوچ کی حمایت کرکے مولانا نے ملت جعفریہ کے اعتماد کو کھو دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں تشیع کے قتل عام کے بعد بدنام زمانہ رئیسانی حکومت کی بے جا حمایت کرکے مولانا فضل الرحمان نے اپنی تکفیری سوچ کا ثبوت دیا، سانحہ جیکب آباد میں ملوث دہشتگردی کے اڈوں کو کھلوانے کیلئے حکومت پر دباؤ ڈالا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ملت تشیع اور اہل تسنن تکفیری سوچ سے عظیم نقصان اٹھا چکے ہیں، وہ متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کے نام پر تکفیری سوچ کی بالادستی قبول نہیں کریں گے۔




Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی