2018 October 18
شیعہ مسنگ پرسنز: یوم علی ع پر متاثرہ روزے دار خاندان احتجاج کریں گے
مندرجات: ١٥٩٤ تاریخ اشاعت: ٠٢ June ٢٠١٨ - ١١:٤٤ مشاہدات: 92
خبریں » پبلک
شیعہ مسنگ پرسنز: یوم علی ع پر متاثرہ روزے دار خاندان احتجاج کریں گے

لاپتہ شیعہ افراد کی بازیابی کیلۓ متاثرہ روزے دار خانوادوں کی جانب سے یوم علی علیہ السلام (٢١ رمضان) کے جلوس میں پرامن احتجاج کیا جاۓ گا، کراچی کے جلوس میں احتجاج امام بارگاہ علی رضا علیہ السلام کے سامنے نماز ظہرین کے فورا بعد کیا جاۓ گا۔

احتجاج کے دوران جلوس کا مکمل تقدس برقرار رکھا جاۓ گا، جلوس میں شیر خدا کی مجلس بھی ہوگی، ماتم بھی ہوگا، باجماعت نماز بھی ہوگی اور اسیران ملت جعفریہ کی رہائی کیلۓ پرامن احتجاج بھی ہوگا اور جلوس لبیک یا علی علیہ السلام اور لبیک یا حسین علیہ السلام کی صداٶں کے ساتھ اپنی منزل تک اپنے وقت مقررہ پر اختتام پذیر ہوگا۔

ملک بھر سے اسوقت 140 جبکہ کراچی سے 28 شیعہ عزادار گزشتہ کئی سالوں سے جبری گمشدگی کا شکار ہیں۔

 ملت جعفریہ کی 70 سالہ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان بنانے اور پاکستان بچانے کےلۓ ہمیشہ شیعہ قوم نے پاک فوج کے ساتھ ملکر ہزاروں جانوں کی قربانیاں دی ہیں، قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں یہ ملک بنا تھا جو خود شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے تھے اور آج بھی یہ قوم محب وطن ہے لیکن بدلے میں ان کی ہی کلنگ اور مسنگ کی جارہی ہے یعنی مقتول بھی شیعہ اسیر بھی شیعہ، کوٸٹہ سے پارہ چنار اور پارہ چنار سے ڈیرہ اسمعیل خان اور ڈی آئی خان سے کراچی تک کافر کہہ کر شیعوں کا ہی خون بہایا جارہا ہے جبکہ ان کے تکفیری قاتل آج بھی "رسمی پابندیوں" کے باوجود آزاد اور الیکشن لڑ کر اسمبلیوں میں بھیجے جارہے ہیں تاکہ پاکستان میں ملت جعفریہ کی حیات کو مزید تنگ کیا جاسکے۔

اہل تشیع کا موقف یہ ہے کہ  اگر کسی شیعہ عزادار نے کوئی جرم کیا ہے تو آرٹیکل 10 کے مطابق عدالتوں میں پیش کرکے سزا کیوں نہیں دیتے؟ جبری گمشدگی ناصرف ریاستی دہشتگردی ہے بلکہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور ملک کے آٸین و دستور سے غداری ہے۔

واضح رہے کہ متاثرہ خاندان چیف جسٹس آف پاکستان کو بھی خطوط لکھ کر تھک گئے ہیں لیکن لگتا ہے شائد انہیں بھی غاٸب ہوجانے کا ڈر ہے اسلئے اس سنگین اہم مسئلے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

یہ ایسی حالت میں ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان ملک کے مختلف چھوٹے بڑے مسائل پر از خود نوٹس لے چکے ہیں لیکن اہل تشیع کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔




Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی