2018 December 17
جھنگ : کالعدم اہلسنت و الجماعت میں دراڑ:دہشتگرد احمد لدھیانوی اور مسرور جھنگوی آمنے سامنے
مندرجات: ١٦٠٧ تاریخ اشاعت: ١٢ June ٢٠١٨ - ١١:٥٢ مشاہدات: 74
خبریں » پبلک
جھنگ : کالعدم اہلسنت و الجماعت میں دراڑ:دہشتگرد احمد لدھیانوی اور مسرور جھنگوی آمنے سامنے

جھنگ کے شہری حلقوں میں کالعدم سپاہِ صحابہ (موجودہ اہلسنت و الجماعت) کے ووٹرز کو ناقابل تقسیم سمجھا جاتا تھا اور گزشتہ 30 برسوں کے دوران تلخ حالات کے باوجود اس جماعت کے ووٹ بینک پر کوئی خاص فرق نہیں پڑا بلکہ گزشتہ عام انتخابات کے دوران ان کے ووٹ بینک میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔لیکن آئندہ عام انتخابات کے قریب آتے ہی جھنگ کے شہری حلقے این اے 115 اور پی پی 126 کی سیاست میں بھونچال آگیا جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ 30 سال سے دہشتگرد حق نواز جھنگوی کے نام پر سیاست کرنے والی جماعت میں امیدواروں کی نامزدگی کے معاملے پر پھوٹ پڑ گئی ہے۔جماعت کے موجودہ سرغنہ احمد لدھیانوی نے کالعدم جماعت کے بانی جماعت حق نواز جھنگوی کے بیٹے سابق ایم پی اے مسرور نواز جھنگوی کو منظر عام سے ہٹانے کی کوشش کی تو مولانا مسرور نے اُن کے اس فیصلے سے بغاوت کرتے ہوئے قومی و صوبائی اسمبلی کے دونوں حلقوں سے انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کر دیا ہے۔گزشتہ 30 سال کے انتخابات کا جائزہ لیا جائے تو جھنگ سے کالعدم سپاہ صحابہ نے حق نواز جھنگوی کے نام پر ووٹ حاصل کیے لیکن اُن کے قتل کے بعد 2016ء کے ضمنی انتخابات میں پہلی بار اُن کے خاندان سے امیدوار کو انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نامزد کیا گیا۔اس ضمنی انتخاب میں مولانا مسرور نے حکمران جماعت مسلم لیگ نون کے ٹکٹ ہولڈر حاجی آزاد ناصر شیخ کو شکست دی۔لیکن اب انتخابات قریب آتے ہی چند روز قبل مولانا احمد لدھیانوی نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں خود کو این اے 115 جبکہ سابق ایم این اے اور معروف دہشتگرد اعظم طارق کے صاحبزادے دہشتگرد معاویہ اعظم جو حال میں جیل سے رہا ہوا ہے کو پی پی 126 سے امیدوار نامزد کر دیا ہے۔

دہشتگرداحمد لدھیانوی کا پیغام منظرِ عام پر آتے ہی جماعت دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئی ہے۔کارکن دہشتگردوں کے کچھ حلقوں نے اس فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا اور مٹھائیاں بانٹیں جبکہ بعض حلقوں نے اس فیصلے پر ناگواری کا اظہار کیا ہے۔مولوی مسرور کے حمایتی دھڑے کا مؤقف ہے کہ چونکہ مسرور ایک بار الیکشن جیت چکے ہیں اس لیے جیتے ہوئے امیدوار کو انتخابات سے آؤٹ کرنا مناسب نہیں۔جبکہ دوسرے دھڑے کا کہنا ہے کہ جماعت کی طرف سے مسرور کو منتخب کیا گیا لیکن وہ جھنگ کے لیے کوئی خاطر خواہ کارنامہ سر انجام نہیں دے سکے اور نہ ہی اپنے دور میں حلقے کے لیے ترقیاتی فنڈز لا سکے اس لیے اب معاویہ اعظم کو موقع دینا چاہیے۔اس معاملے کو لے کر دھڑے بندی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ سربراہ جماعت کے ہر فیصلے کو حرف آخر ماننے والے کارکنان کے بعض حلقوں نے بھی احمد لدھیانوی کو تنقید کا نشانہ بنا ڈالا۔ان کارکنان کے مطابق مولانا لدھیانوی کو خود الیکشن نہیں لڑنا چاہیے بلکہ مسرور کو صوبائی اسمبلی جبکہ معاویہ اعظم کو قومی اسمبلی کی نشست پر الیکشن لڑواتے ہوئے ان کی سرپرستی کرنی چاہیے۔اپنے فیصلے پر شدید ردِ عمل کو دیکھتے ہوئے احمد لدھیانوی نے اب ایک نیا ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاویہ اعظم کو الیکشن لڑوانے کے معاملے پر مزید سوچ بچار کی جا رہی ہے۔اُدھر مولانا مسرور نے گزشتہ روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ معاویہ اعظم کو انتخاب لڑوانے کا فیصلہ جماعت کا نہیں بلکہ ان چند لوگوں کا ہے جو جماعت میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ان کے بقول یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے ضمنی انتخابات میں بھی ان کی حمایت نہیں کی تھی۔"میرے والد حق نواز جھنگوی نے اس جماعت کی بنیاد رکھی تھی اور میں ہی جماعت کا حقیقی وارث ہوں لہذا میں کبھی بھی اپنے کارکنان کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا۔"مولانا مسرور نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ مسلم کمرشل بنک سے گزشتہ دنوں پانچ کروڑ روپے کی خطیر رقم نکلوا کر کچھ لوگوں میں بندر بانٹ کی گئی ہے جس کا رزلٹ یہ نکلا ہے کہ ان کو الیکشن کی دوڑ سے باہر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اہلِ سنت و الجماعت کی اس دھڑے بندی سے این اے 115 اور پی پی 126 کی سیاست میں نیا موڑ آگیا ہے۔اگر آئندہ چند روز میں احمد لدھیانوی اور مسرور جھنگوی کے درمیان اختلافات دور نہیں ہوتے تو جھنگ میں جماعت کا ناقابل تقسیم سمجھا جانے والا ووٹ بینک تقسیم ہونے سے آئندہ انتخابات کے دوران انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

خیال رہے کہ این اے 115 سے متوقع طور شیخ وقاص اکرم نون لیگ اور غلام بی بی بھروآنہ پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑیں گے جبکہ عابدہ حُسین بطور آزاد اُمیدوار میدان میں اُتریں گی۔دوسری جانب پی پی 126 سے شیخ وقاض کے بھائی شیخ نواز اکرم (موجودہ چئیرمین میونسپل کمیٹی) اہلِ سنت و الجماعت کے اُمیدوار کے خلاف الیکشن لڑ سکتے ہیں۔ اس حلقے میں پی ٹی آئی اور پی پی پی کے پاس تاحال مضبوط اُمیدوار موجود نہیں ہیں۔




Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی