2018 September 23
جھنگ: جے یو آئی (ف) کی تکفیرپرستی کے سبب ایم ایم اے کی جماعتوں میں شدید اختلاف
مندرجات: ١٦١٦ تاریخ اشاعت: ٢١ June ٢٠١٨ - ١١:٣٧ مشاہدات: 59
خبریں » پبلک
جھنگ: جے یو آئی (ف) کی تکفیرپرستی کے سبب ایم ایم اے کی جماعتوں میں شدید اختلاف

 ملک کے دیگر حصوں کی طرح جھنگ میں بھی ایم ایم اے (متحدہ مجلس عمل) میں شدید اختلاف سامنے آگیا ہے جو میڈیا کی بھی زینت بنا ہوا ہے۔

اطلاعات کے مطابق جے یو آئی ف (فضل الرحمن گروپ) جھنگ میں کالعدم لشکر جھنگوی کے سرغنہ مسرور جھنگوی کو ٹکٹ دینے کا ارادہ کررہی ہے جبکہ ایم ایم اے میں شامل دیگر جماعتوں نے معمالے پر شدید اختلاف کیا ہے۔

دھیاں رہے کہ مسرور جھنگوی جھنگ سے ضمنی الیکشن میں صوبائی اسمبلی کی سیٹ جیت کر جے یو آئی (ف) میں شامل ہوگیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں :ایم ایم اے اختلا ف کا شکار جے یو آئی اور جماعت اسلامی خیبر پختونخوا میں لڑے پڑے، امریکا سے ڈیل کا انکشاف

خبریں ہیں کہ مسرور جھنگوی کے حق میں کالعدم اہلسنت و الجماعت کے ہلاک سرغنہ دہشتگرد اعظم طارق کے بیٹ معاویہ اعظم نے اپنے کاغذات نامزدگی کو واپس لے لیا ہے، ذارئع کے مطابق جے یو آئی ف، کالعدم لشکر جھنگوی اور اہلسنت والجماعت میں اس حلقہ کے حوالے سے مسرور جھنگوی کے نام پر اتفاق ہوگیا ہے۔

دوسری جانب ایم ایم اے میں شامل اسلامی تحریک، جے یو آئی نوارانی اور جماعت اسلامی کا اس حلقہ کے حوالے سے اختلاف پایا جارہا ہے۔

ذرائع کے مطابق اسلامی تحریک کے سربراہ علامہ ساجد نقوی کا زور ہے کہ این اے ۱۱۵ قومی اسمبلی کی سیٹ پر کاغذاتِ نامزدگی جمع کروانے والے شیخ وقار اکرم، یا عابدہ حسین کو سپورٹ کیا جاہم، تاہم علامہ ساجد نقوی کے اس پروپوزل کو جے یو آئی (فضل الرحمن) نے مسترد کیا ہے۔




Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی