2018 November 21
مسلمان ممالک "صدی کی ڈیل" کے جُرم کا حصہ نہ بنیں؛ امام مسجد اقصیٰ
مندرجات: ١٦٣٩ تاریخ اشاعت: ٠٢ July ٢٠١٨ - ١١:١٦ مشاہدات: 73
خبریں » پبلک
مسلمان ممالک "صدی کی ڈیل" کے جُرم کا حصہ نہ بنیں؛ امام مسجد اقصیٰ

مسجد اقصیٰ کے امام وخطیب اور ممتاز عالم دین الشیخ عکرمہ صبری نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کا نام نہاد امن امنصوبہ’صدی کی ڈیل‘ قضیہ فلسطین کے تصفیے اور قابض اسرائیل کی عمر کو طول دینے کی گہری سازش ہے۔

مسجد اقصیٰ کے امام وخطیب اور ممتاز عالم دین الشیخ عکرمہ صبری نے خبردار کیا ہے کہ صدی کی ڈیل کی امریکی سازش کی عرب اور مسلمان ممالک کی طرف سے حمایت کرنا ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے عرب ممالک اور مسلم دنیا پر زور دیا کہ وہ امریکا اور صہیونیوں کے سازشی منصوبے کے جرم میں شریک نہ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی رہ نماؤں کی جانب سے مجوزہ امریکی امن منصوبے ’صدی کی ڈیل‘ کے بارے میں جس طرح کے بیانات سنے گئے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکا مستقبل میں فلسطینی ریاست کے حوالےسے ہونے والےمذاکرات میں بیت المقدس کو شامل نہیں کرنا چاہتا۔ القدس کے حوالے سے اسرائیل اور صہیونیوں کی منشاء کے مطابق فیصلے کئے گئے ہیں۔ امریکا صرف صہیونیوں کی خوش نودی چاہتا ہے۔

الشیخ عکرمہ صبری نے کہا کہ بیت المقدس مسریٰ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور صلاح الدین ایوبی کی فتوحات کی نشانی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ صدی کی ڈیل کا ایک اور تاریک پہلو فلسطینی پناہ گزینوں کے حق واپسی کو ختم کرنا ہے۔

الشیخ عکرمہ صبری نے کہا کہ فلسطینی پناہ گزینوں کا حق واپسی ان کا آئینی اور مسلمہ ہے اور فلسطینی قوم ہرحال میں اپنے اس حق پر قائم رہیں گے۔ فلسطینیوں کو کسی دوسرے ملک میں آباد کرنے کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی۔

فلسطینی عالم دین کا کہنا تھا کہ صدی کی ڈیل کے ذریعے فلسطین میں قائم کی گئی غیرقانونی یہودی بستیوں کو مستقل اور آئینی درجہ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ مگر ہم صہیونیوں کی غاصبانہ کارروائیوں کے بعد قائم کی گئی یہودی بستیوں کو تسلیم نہیں کریں گے۔

الشیخ عکرمہ صبری نے کہا کہ امریکا ابو دیس کو مستقبل کی فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتا ہے مگر ہم واضح کردیں کہ فلسطین کا دارالحکومت صرف اور صرف القدس ہوگا۔ القدس کی زمین، اس کی فضاء، پانی اور آسمان سب فلسطینیوں کے ہیں جن پر صہیونیوں کا کوئی حق نہیں۔




Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی