2018 September 23
رپورٹ | داعش کیلئے سعودی و اماراتی امداد اور افغانستان میں قیام امن کیلئے جدہ میں کانفرنس کا انعقاد
مندرجات: ١٦٥١ تاریخ اشاعت: ١١ July ٢٠١٨ - ١٢:٢٠ مشاہدات: 52
خبریں » پبلک
رپورٹ | داعش کیلئے سعودی و اماراتی امداد اور افغانستان میں قیام امن کیلئے جدہ میں کانفرنس کا انعقاد

افغانستان میں قیام امن کیلئے ایسے موقع پر جدہ میں کانفرنس کا انعقاد کیا جارہا ہے کہ افغان پارلیمنٹ میں سعودی عرب کی جانب سے داعش کی امداد سے متعلق ٹھوس شواہد پیش کرنے کے علاوہ افغان میڈیا نے امارات کی جانب سے عربی بولنے والے 90 اسرائیلی فوجیوں کو افغانستان منتقل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

افغانستان میں امن واستحکام کے قیام کیلئے مسلمان دانشوروں کی دوروزہ بین الاقوامی کانفرنس آج جدہ میں شروع ہورہی ہے۔

کانفرنس کا اہتمام سعودی عرب اور اسلامی تعاون تنظیم نے کیاہے۔

مکہ مکرمہ میں کانفرنس کی اختتامی نشست میں افغانستان میں امن واستحکام کو مضبوط بنانے سے متعلق ایک اعلامیے کی منظوری دی جائے گی۔

یہ ایسے موقع پر ہے کہ افغانستان کی پارلیمنٹ کے نمائندے جعفر مہدوی نےعرصہ قبل ٹھوس شواہد پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی عرب افغانستان کے شمال میں وہابی دہشت گرد تنظیم داعش کو مالی امداد فراہم کررہے ہیں۔

افغان نمائندے کے مطابق عراق اور شام میں داعش دہشت گردوں کی شکست کے بعد اب سعودی عرب ان کی شمالی افغانستان کی جانب منتقلی میں مدد فراہم کررہے ہیں۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات عربی زبان بولنے والے درجنوں اسرائیل فوجیوں کو افغانستان متنقل کرنے میں ملوث ہے۔

متحدہ عرب امارات نے افغانستان میں موجود غیر ملکی افواج میں شامل ہونے کی خواہش کا اظہار کیا تھا جس کے بعد افغان صدر نے اماراتی افواج کابل بھیجنے کا معاہدہ کرنے کا حکم دیا تھا اور اب افغانستان کا متحدہ عرب امارات کے ساتھ 200 کمانڈوز کو کابل بھیجنے کا معاہدہ ہوا ہے۔

روزنامہ ویسا ' 'کابل ' ' کا دعویٰ ہے کہ امارات نے عربی بولنے والے 90 اسرائیلی فوجیوں کو افغانستان منتقل کردیا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ افغانستان ٹائمز نے انکشاف کیا تھا کہ بہت جلد اسرائیل فوجیوں کے کئی دستے شمال مغربی افغانستان پہنچ جائیں گے اور طالبان کے خلاف جنگ میں شریک ہونگے۔

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان تعاون اور خفیہ طور پر صہیونی اہلکاروں کو افغانستان بھیجنے پر خطے کے ممالک میں سخت تشویش پائی جاتی ہے۔

خبر رساں ادارہ ' 'ویٹر انز ٹوڈے ' ' کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں کو افغانستان منتقل کرنے کا اصل مقصد اسلامی جمہوریہ ایران اور خطے کے دیگر ممالک پر نظر رکھنا ہے۔

متعدد بار اسرائیلی فوجی اہلکاروں کی افغانستان میں موجودگی کی خبروں کے باجود کابل حکام نے کسی قسم کا رد عمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔




Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی