2018 December 17
سانحہ مستونگ خودکش حملہ آور کی شناخت ہوگئی تعلق جامعہ فاروقیعہ کراچی کا طالبعلم
مندرجات: ١٦٨٥ تاریخ اشاعت: ٠٥ August ٢٠١٨ - ١٣:٤٣ مشاہدات: 62
خبریں » پبلک
سانحہ مستونگ خودکش حملہ آور کی شناخت ہوگئی تعلق جامعہ فاروقیعہ کراچی کا طالبعلم

شیعت نیوز:بلوچستان کے ضلع مستونگ میں 13 جولائی کو خودکش حملے میں بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما سراج رئیسانی سمیت 150 سے زائد افراد ہلاک اور 200 کے قریب زخمی ہو گئے تھے۔اس حملے کی ذمہ داری عالمی تکفیری گروہ دولت اسلامیہ المعروف داعش نے قبول کی تھی۔ حملہ کرنے والے دہشت گرد کی شناخت حفیظ نواز کے نام سے ہوئی ۔ حفیظ اس جلسے میں چوتھی قطار میں بیٹھا ہوا تھا اور جس وقت سراج رئیسانی خطاب کے لیے آئے تو اس نے سٹیج کے پاس آ کر اپنے آپ کو اڑا دیا تھا۔

کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ کے ایس ایس پی پرویز چانڈیو کا کہنا ہے کہ حفیظ کے بڑے بھائی عزیز کی ٹی ٹی پی میں شمولیت کے بعد پورا خاندان افغانستان منتقل ہوگیا جس میں حفیظ کے علاوہ عزیز ایک اور بھائی شکور، تین بہنیں اور والدہ شامل تھیں جو اس وقت سپن بولدک میں موجود ہیں۔کاؤنٹر ٹیررازم پولیس کا خیال ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملا فضل اللہ اور کمانڈر حاجی داؤد محسود میں اختلافات اور ایک دوسرے پر حملوں کے بعد حاجی داؤد نے داعش کے ساتھ رجوع کیا۔

واضح رہے کہ حاجی داؤد کراچی پولیس میں ہیڈ کانسٹیبل تھا لیکن بعد میں افغانستان منتقل ہو گیا۔

ایس ایس پی پرویز کے مطابق حفیظ کے بڑے بھائی عزیز نواز نے بھی حاجی داؤد کے ساتھ داعش میں شمولیت اختیار کرلی اور پورے خاندان کو یہ کہہ کر افغانستان طلب کرلیا کہ داعش خلافت کے قیام کے لیے لڑ رہی ہے اور دوسری زمین ان کے لیے دارلحرب ہے۔ خاندان کے منتقل ہونے کے بعد عزیز اپنے والد پر بھی دباؤ ڈالتے رہے کہ وہ بھی افغانستان آ جائیں تاہم وہ نہیں گئے۔

کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ کی تفیش کے دوران کراچی کے علاقے شاہ فیصل کالونی میں واقع جامعہ فاروقیہ کا مشکوک کردار بھی سامنے آیا ہے۔حفیظ نواز اسی مدرسے میں زیر تعلیم رہا تھا اور دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ اس سے پہلے اس کا بڑا بھائی عزیز نواز بھی اسی مدرسے میں زیر تعلیم رہا جو بعد میں افغانستان جہاد کے لیے چلا گیا اور پھر اس نے تحریک طالبان میں شمولیت اختیار کرلی۔ایس ایس پی پرویز چانڈیو کے مطابق اس مدرسے کا ریکارڈ تحویل میں لیا گیا اور جو طالب علم حفیظ کے ساتھ پڑھتے تھے ان سے تفتیش کی گئی جس کی مدد سے حفیظ کا ٹیلیفون نمبر مل گیا۔اس نمبر کی مدد سے حفیظ کے ہینڈلر تک رسائی ہوئی اور کوئٹہ سی ٹی ڈی سے مقابلے میں ہینڈلر مفتی ہدیت اللہ قلعہ سیف اللہ میں مارا گیا۔

واضح رہ کہ جامعہ فاروقیہ گزشتہ 35 سال سےاسلام مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہے جبکہ عالمی دہشت گرد تنظیم جنداللہ کے عظیم مجاہدین اور انکا سربراہ اسی مدرسے کے لائق شگرد تھے اور ہیں انکے شناختی کارڈ پر اسی مدرسے کا پتہ برآمد ہواتھا۔






Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی