2018 November 20
سعودی عرب: سلمان العودہ کے بعد القرنی اور المعری بھی واجب القتل
مندرجات: ١٧٣٧ تاریخ اشاعت: ١٦ September ٢٠١٨ - ١٢:٣٠ مشاہدات: 53
خبریں » پبلک
سعودی عرب: سلمان العودہ کے بعد القرنی اور المعری بھی واجب القتل

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب میں حکومتی پالیسیوں پر تنقید کی پاداش میں حال ہی میں ایک عدالت نے سرکردہ عالم دین سلیمان العودہ کا سر قلم کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔ تازہ ترین اطلاعات سے معلوم ہوا ہے کہ سعودی عرب کی ایک فوج داری عدالت نے خفیہ ٹرائل کے دوران دو دیگر علماء ڈاکٹرعوض القرنی اور ڈاکٹر الشیخ علی العمری کا سر قلم کرنے کی سفارش کی ہے۔ اس سے قبل علامہ سلیمان العودہ پر دہشت گردی سمیت 37 الزامات عاید کیے گئے تھے۔ العودہ پر قطر کی حمایت کا الزام بھی عاید کیا جاتا ہے۔

سعودی پراسیکیوٹر جنرل نے ڈاکٹر علی العمری پر 30 الزامات عاید کیے ہیں۔ ان میں ایک الزام سعودیع عرب میں زیرزمین تنظیم کے قیام اور دہشت گردی کے مقاصد کے لیے نوجوانوں کو منظم کرنے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اپریل 2016ء سے زیرحراست عالم دین الشیخ عبدالعزیز الطریفی کی صحت خراب ہونے کے بعد انہیں اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ دوران حراست انہیں غیرانسانی ماحول میں رکھا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سعودی عرب کی خصوصی فوج داری عدالت نے گذشتہ ہفتے الشیخ عبدالمحسن الاحمد ، نایف الصحفی، محمد عبدالعزیز الخضیر، ڈاکٹر ابراہیم الحارثی، محمد موسیٰ الشریف، ممتاز مبلغ غرام البیشی کے مقدمات کی سماعت کی۔ انہیں جیل میں رکھنے اور بیرون ملک سفر سے روکنے کی سزاؤں کی سفارش کی گئی۔

خیال رہے کہ سعودی عرب میں 100 شخصیات کو پراسرار طور پر خفیہ طور پر حراست میں رکھا گیا ہے۔ ان میں سے بیشتر علماء اور جامعات کے اساتذہ ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق دوران حراست علماء پرعاید کردہ الزامات کے اعترافات کرانے کے لیے انہیں انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ تشدد کے مختلف حربوں کے لیے ان پر مقامی جلادوں کے ساتھ غیر ملکی جلادوں کی بھی خدمات لی جاتی ہیں۔






Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی