2018 October 19
کیا روایت «حسين مني و انا من حسين» كتب اہل سنت میں صحیح سند کے ساتھ نقل ہوئی ہے ؟
مندرجات: ١٧٤٧ تاریخ اشاعت: ١٨ September ٢٠١٨ - ١٨:٥٤ مشاہدات: 81
سوال و جواب » امام حسین (ع)
جدید
کیا روایت «حسين مني و انا من حسين» كتب اہل سنت میں صحیح سند کے ساتھ نقل ہوئی ہے ؟

سوال:

کیا روایت «حسين مني و انا من حسين» كتب اہل سنت میں صحیح سند کے ساتھ نقل ہوئی ہے ؟

جواب:

یہ حدیث رسول خدا (ص) کی مشہور ترین احادیث میں سے ہے کہ جو انھوں نے اپنے نواسے امام حسین (ع) کے بارے میں ذکر کی ہے۔ اس صحیح و مشہور حدیث کو فریقین شیعہ و سنی علماء نے اپنی اپنی معتبر کتب میں نقل کیا ہے۔

یہ روایت یعلی ابن مرہ عامری کے ذریعے سے صحیح و معتبر سند کے ساتھ اہل سنت کی معتبر کتب میں ذکر ہوئی ہے۔

اس روایت کی عبارت اور متن، معتبر سند کے ساتھ اسماعیل بخاری کے استاد ابن ابی شیبہ کی کتاب المصنف میں اس طرح ذکر ہوئی ہے:

حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ، عَنْ يَعْلَي الْعَامِرِيِّ، أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ إلَي طَعَامٍ دَعُوا لَهُ، فَإِذَا حُسَيْنٌ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ فِي الطَّرِيقِ، فَاسْتقبَلَ أَمَامَ الْقَوْمِ ثُمَّ بَسَطَ يَدَهُ وَطَفِقَ الصَّبِيُّ يَفرُّ هَاهُنَا مَرَّةً وَهَاهُنَا، وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ يُضَاحِكُهُ حَتَّي أَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ فَجَعَلَ إحْدَي يَدَيْهِ تَحْتَ ذَقَنِهِ وَالْأُخْرَي تَحْتَ قَفَاهُ، ثُمَّ أَقْنَعَ رَأْسَهُ رَسُولُ اللَّهِ فَوَضَعَ فَاهُ عَلَي فِيهِ، فَقَبَّلَهُ، فَقَالَ: حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ، أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا، وَ اَبْغَضَ اللهُ مَن اَبغَضَ حُسَینا ، حُسَینٌ سِبطٌ مِنَ الا سباطِ ، لَعَنَ اللهُ قاتِلَهُ ،

يعلی ابن مره عامری کہتا ہے کہ میں رسول خدا کے ساتھ ایک دعوت پر مہمان بن کر گیا، حسین (ع) بچوں کے ساتھ راستے میں کھیل رہے تھے، رسول خدا نے انکے سامنے آ کر اپنے دونوں بازوؤں کو کھول دیا، لیکن وہ بچہ (امام حسین) دوڑتا ہوا ادھر سے ادھر چلا جاتا اور رسول خدا اسکو ہنساتے رہے یہاں تک کہ ان حضرت نے اسکو پکڑ لیا، پھر اپنے ایک ہاتھ کو اسکی ٹھوڑی کے نیچے اور دوسرے ہاتھ کو اسکی گردن کے پیچھے رکھا اور پھر اسکے سر کو اوپر کر کے اپنے منہ کو اسکے منہ میں ڈال کر اسے بوسے دینا شروع کر دیا اور پھر فرمایا:

حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں، خداوند اس سے محبت کرتا ہے جو بھی حسین سے محبت کرتا ہو، اور خداوند اس سے نفرت کرتا ہے جو حسین سے نفرت کرتا ہے، حسین نواسوں میں سے ایک نواسہ ہے، اسکے قاتل پر اللہ تعالی کی لعنت ہو۔

مصنف ابن أبي شيبة، ج 6، ص 380

احقاق الحق ، قاضی نور الله تستری ، ج 11 ص 265

بحار الانوار ، ج 43 ص 261

تاریخ الاسلام ، ذهبی ، ج 5 ، ص 97

صحيح الأدب المفرد للإمام البخاري محمد ناصر الدين الألباني ج 1 ص 153 باب معانقة الصبي

جمع الجوامع أو الجامع الكبير للسيوطي ج 1 ص 11731

الطبرانى المعجم الاوسط  ج 22 ص 274

المستدرك على الصحيحين الحاكم النيسابوري مع الكتاب : تعليقات الذهبي في التلخيص ج 3 ص 194

هذا حديث صحيح الإسناد و لم يخرجاه

تعليق الذهبي قي التلخيص : صحيح

موارد الظمآن إلى زوائد ابن حبان نور الدين علي بن أبي بكر بن سليمان الهيثمي  ج 1 ص 554

اس روایت کی سند اہل سنت کے علم رجال کی معتبر سی ڈی جوامع الکلم کے مطابق حسن (معتبر) ہے:

الحكم علي المتن: حسن

اسباط یعنی حضرت یعقوب کے بیٹوں کی اولاد، اس صورت میں اس حدیث کا معنی ایسے ہو گا:

امام حسین، حضرت یعقوب کے لیے انکے اسباط کی طرح میرے لیے بھی میرا سبط ہے۔

حضرت رسول (ص) نے اپنی اس حدیث سے اپنے اور امام حسین (ع) کے درمیان اتحاد روحی اور پیوند قلبی کے انتہائی درجے کو بیان فرمایا ہے۔

یہ حدیث شیعہ علماء کے ذریعے سے اربلی نے کتاب کشف الغمہ میں اور اسی سے نقل کرتے ہوئے علامہ مجلسی نے کتاب بحار الانوار میں ذکر کیا ہے، لیکن اس حدیث کا اصل منبع وہی روایت ترمذی ہے کہ جسکی سند یعلی ابن مرہ پر ختم ہوتی ہے کہ اس نے اس حدیث کو رسول خدا (ص) سے نقل کیا ہے۔

جناب بہبودی نے لکھا ہے کہ:

اکثر علمائے اہل سنت نے اس طرح کی احادیث کی شرح و تفصیل کو جان بوجھ بیان نہیں کیا، فقط قاضی عیاض نے حدیث حسین منی و انا من حسین کی شرح کرتے ہوئے اس حدیث کے صحیح معنی کو بیان کیا ہے۔

حسین منی و انا من حسین» ، بهبودی، در یاد نامه علامه امینی، ص 305،

بحار الانوار، ج 43 ص 261

فضائل الخمسة من الصحاح الستة، فیروز آبادی، ج 3 ص 262

خاندان وحی در احادیث اهل سنت، عبد المعطی امین قلمجی، ترجمه آئینه وند،، ص 74

قاضی عیاض اور شرح حدیث حسین منّی و انا من حسین:

یہ روایت رسول خدا (ص) کے نزدیک امام حسین سید الشہداء (ع) کے بلند معنوی مقام و مرتبے کو بہت واضح کر کے بیان کر رہی ہے۔ مناوی نے رسول خدا کی اسی حدیث کی شرح و تفسیر کو ابوبکر محمد ابن خلف وکیع سے ایسے نقل کیا ہے:

قال القاضي كأنه بنور الوحي علم ما سيحدث بين الحسين وبين القوم فخصه بالذكر وبين أنهما كشيء واحد في وجوه المحبة وحرمة التعرض والمحاربة وأكد ذلك بقوله أحب الله من أحب حسينا فإن محبته محبة الرسول ومحبة الرسول محبة الله.

قاضی وکیع نے کہا ہے کہ: گویا رسول خدا نور وحی کے ذریعے سے دیکھ رہے تھے کہ (امام) حسین اور امت کے درمیان کیا واقعہ رونما ہونے والا ہے، اسی وجہ سے خاص طور پر حسین کو اس روایت میں ذکر کرتے ہوئے بیان کیا ہے کہ رسول خدا اور (امام) حسین محبت کرنے، انکی بے حرمتی کرنے اور ان سے جنگ کرنے کے لحاظ سے دونوں ایک ہی شخص کی طرح ہیں، اور رسول خدا نے اسی بات کی اپنے کلام أحب الله من أحب حسينا سے تاکید کی ہے، کیونکہ (امام ) حسین سے محبت کرنا، رسول خدا سے محبت کرنا ہے اور رسول خدا سے محبت کرنا، خود خداوند سے محبت کرنا ہے۔

فيض القدير، ج 3، ص 387

اہل سنت کی مندرجہ ذیل کتب میں بھی اس حدیث کی بالکل یہی تفسیر بیان کی گئی ہے:

تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذي

محمد عبد الرحمن بن عبد الرحيم المباركفوري أبو العلا

ج 10 ص 190

 و ذكره الملا علي القاري في مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح

ج 18 ص 37 كما ذكر في مصادر أخرى كلها نقلاً عن القاضي

حاشية السندي على ابن ماجه أبو الحسن الحنفي الشهير بالسندي - ج 1 كتاب المقدمة

اہل سنت کے علماء کا اس روایت کی سند کو صحیح قرار دینا:

1- ترمذی:

ترمذی نے اس روایت کو سند کی ابتداء میں تھوڑی تبدیلی کے ساتھ یعلی ابن مرہ سے نقل کیا ہے اور آخر میں اس روایت کی سند کو حسن (معتبر) قرار دیا ہے:

حدثنا الْحَسَنُ بن عَرَفَةَ حدثنا إسماعيل بن عَيَّاشٍ عن عبد اللَّهِ بن عُثْمَانَ بن خيثم عن سَعِيدِ بن رَاشِدٍ عن يَعْلَي بن مُرَّةَ قال قال رسول اللَّهِ صلي الله عليه وسلم حُسَيْنٌ مِنِّي وأنا من حُسَيْنٍ أَحَبَّ الله من أَحَبَّ حُسَيْنًا حُسَيْنٌ سِبْطٌ من الْأَسْبَاطِ ،

قال أبو عِيسَي هذا حَدِيثٌ حَسَنٌ .

سنن الترمذي ج 5 ، ص 658

2- حاكم نيشاپوری:

عالم بزرگ اہل سنت حاكم نے بھی اس روایت کی سند کو ابن ابی شیبہ سے نقل کیا ہے اور اسی سند کو صحیح کہا ہے:

حدثني محمد بن صالح بن هانئ ثنا الحسين بن الفضل البجلي ثنا عفان ثنا وهيب ثنا عبد الله بن عثمان بن خثيم عن سعيد بن أبي راشد عن يعلي العامري أنه خرج مع رسول الله صلي الله عليه وسلم إلي طعام دعوا له ... فقال حسين مني وأنا من حسين أحب الله من أحب حسينا حسين سبط من الأسباط.

هذا حديث صحيح الإسناد ولم يخرجاه.

المستدرك علي الصحيحين، ج 3، ص 194

3- احمد كنانی:

احمد ابن ابو بكر كنانی نے بھی اسی روايت کو نقل کیا ہے اور آخر میں واضح طور پر اس سند کے راویوں کو ثقہ قرار دیتے ہوئے، سند حسن کہا ہے:

حدثنا يعقوب بن حميد بن كاسب حدثنا يحيي بن سليم عن عبد الله بن عثمان بن خيثم عن سعيد بن أبي راشد أن يعلي بن مرة حدثهم أنهم خرجوا مع النبي صلي الله عليه وسلم إلي طعام دعوا له ... وقال حسين مني وأنا من حسين أحب الله من أحب حسينا حسين سبط من الأسباط.

هذا إسناد حسن رجاله ثقات.

مصباح الزجاجة، ج1، ص22

4- ابن ابی الدنيا:

أبو بكر عبد الله ابن محمد، المعروف ابن ابی الدنيا نے بھی اس روایت کی سند کو حسن قرار دیا ہے:

حدثنا يوسف بن موسي حدثنا عبيد الله بن موسي عن مسلم بن خالد المكي عن عبد الله بن عثمان بن خثيم أخبرني سعيد بن أبي راشد عن يعلي العامري أن النبي صلي الله عليه وسلم فغر فاه الحسين فقبله ثم قال ( أحب الله من أحب حسينا وحسنا سبطان من الأسباط )

إسناد: حسن.

البغدادي، أبو بكر عبد الله بن محمد بن عبيد ابن أبي الدنيا، العيال، ج 1، ص 51

5- ہيثمی:

علی ابن ابو بكر ہيثمی نے بھی اسی روایت کی سند کو معتبر کہا ہے:

وعن يعلي بن مرة قال كنا مع النبي صلي الله عليه وسلم ثم قال رسول الله صلي الله عليه وسلم حسين مني وأنا منه أحب الله من أحبه الحسن والحسين سبطان من الا بساط. قلت رواه الترمذي باختصار ذكر الحسن رواه الطبراني ،

و اسناده حسن .

مجمع الزوائد، الهيثمي، ج 9 ص 181

6- ابن حبان:

یہ روایت کتاب صحیح ابن حبان میں بھی ذکر ہوئی ہے اور یہ اس بات کی علامت ہے کہ یہ روایت ابن حبان کی نظر میں صحیح ہے:

ذكر إثبات محبة الله جل وعلا لمحبي الحسين بن علي:

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ عَنْ يَعْلَي الْعَامِرِيِّ أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلي الله عليه وسلم اِلَي طَعَامٍ دُعُوا ... وَقَالَ حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا حُسَيْنٌ سِبْطٌ مِنَ الأَسْبَاطِ ،

صحيح ابن حبان ج 15، ص 427

7- البانی:

بخاری زمان وہابی عالم البانی نے بھی اس روایت کی سند کہ جو ترمذی سے نقل ہوئی ہے، کو حسن (معتبر) جانا ہے:

حدثنا الحسن بن عرفة حدثنا إسمعيل بن عياش عن عبد الله بن عثمان بن خثيم عن سعيد بن راشد عن يعلي بن مرة قال قال رسول الله صلي الله عليه وسلم حسين مني وأنا من حسين أحب الله من أحب حسينا حسين سبط من الأسباط قال أبو عيسي هذا حديث حسن وإنما نعرفه من حديث عبد الله بن عثمان بن خثيم وقد رواه غير واحد عن عبد الله بن عثمان بن خثيم .

تحقيق الألباني :صحیح ،

صحيح وضعيف سنن الترمذي ج 8 ص 275

اور البانی نے اپنی ایک دوسری کتاب میں اسی سند کو صحیح کہا ہے:

[ حسين مني وأنا من حسين أحب الله من أحب حسينا حسين سبط من الأسباط ] . ( صحيح )

السلسلة الصحيحة - مختصرة ج 3 ص 229

ان علماء کے علاوہ احمد ابن حنبل نے کتاب مسند احمد، بخاری نے کتاب ادب المفرد، ابن ماجہ نے کتاب سنن ابن ماجہ اور طبرانی نے کتاب المعجم الكبير میں اسی حدیث کو نقل کیا ہے۔

مسند أحمد بن حنبل، ج4، ص172

الأدب المفرد، ج1، ص133

سنن ابن ماجه، ج1، ص51

المعجم الكبير، ج3، ص33

معنى حدیث « حسین منّی و أنا من حسین » کیا ہے ؟

بے شک امام حسین (ع) رسول خدا (ص) کے فرزند اور انکی نسل سے ہیں اور امام حسین (ع) درخت نبوت کی ایک شاخ شمار ہوتے ہیں۔

لیکن اسکے باوجود رسول خدا کی مراد، میں حسین سے ہوں، کیا ہے ؟

بعض نے کہا ہے کہ رسول خدا منصب رسالت پر فائز ہونے کے بعد ان حضرت کی زندگی، انکی رسالت کی بقاء پر اور رسالت کی زندگی، خود رسول خدا کی زندگی کی بقاء پر موقوف تھی اور کیونکہ امام حسین نے رسالت محمدی کو زندہ و باقی رکھنے کے لیے اپنے گھر کے عزیز ترین افراد کو قربان کر دیا، اس سے رسالت کو ایک نئی زندگی اور بقاء مل گئی، اسی وجہ سے واقعہ کربلا کے بعد ثابت ہو گیا کہ

الاسلام محمدیُ الحدوث حسینیُ البقاء،

اسلام رسول خدا کی وجہ سے وجود میں آیا، لیکن امام حسین کے وجود کی وجہ سے باقی رہا۔

سید محمد رضا جلالى، الامام الحسین (ع) سماته و سیرته، نشر دار المعروف، قم.

شیخ باقر قریشى، حیاة الامام الحسین (ع)، ص 94، نشر الادب، نجف الشرف، 1394 (ه ق).

علامہ سید جعفر مرتضى عاملى نے کتاب الصحیح من السیرة میں کہا ہے کہ:

رسول خدا کا حقیقی وجود، وہی ان کا دین و شریعت ہے، اور رسول خدا کے اسی دین و شریعت کو امیر المؤمنین علی (ع) نے اپنی جانثاری کے ذریعے سے پھیلایا اور باقی رکھا تھا اور کیونکہ امام حسین (ع) امیر المؤمنین علی (ع) کے ایسے بیٹے ہیں کہ جنکے خون کی وجہ سے دین و شریعت کو زندگی و بقاء ملی، پس یہی معنی ہے رسول خدا کی حدیث کا کہ:

۔۔۔۔۔۔۔ میں حسین سے ہوں،

سید جعفر مرتضى عاملى، الصحیح من السیرة، ج 6، ص 176، نشر دار الهادى، بیروت، 1415 (ه ق).

دین محمدی کو زندہ کرنے والا، یہی انقلاب کربلا تھا، خود امام حسین (ع) نے اپنے اس مقدس قیام کے فلسفے کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ:

میں نے سیرت محمدی و علوی کو زندہ کرنے کے لیے اس قیام کا آغاز کیا ہے کہ میں اس قیام کے ذریعے سے تمام انسانوں کو امر بہ معروف اور برائی و منکر سے منع کر سکوں۔

امام حسین (ع) نے روز عاشورا جنگ کے دوران فرمایا:

اِن کان دینُ مُحَمدٍ لَم یستَقِم

إلّا بِقَتلی یا سُیوفُ خُذینی

اگر دین محمد صلی الله علیہ و آلہ میرے قتل کے بغیر محکم و استوار نہیں ہوتا تو آؤ شمشیرو میرا جسم حاضر ہے۔

حسین منی و انا من حسین و علیّ منی و انا من علی،

یہ ایک اصطلاح ہے کہ جب عرب یہ بیان کرنا چاہتے ہیں کہ میرے اور اس میں بہت ہی زیادہ روحی و قلبی و جسمی اتحاد و یگانگت ہے تو وہ اس طرح کی تعبیر و الفاظ کو استعمال کرتے ہیں۔ لہذا رسول خدا کی اس حدیث کے پہلے حصے کا تعلق امام حسین کے انکا نواسہ ہونے سے بالکل نہیں ہے۔

اس بات پر دلیل یہ ہے کہ علی (ع) نے فرمایا ہے کہ:

أَنَا مُحَمَّدٌ وَ مُحَمَّدٌ أَنَا وَ أَنَا مِن مُحَمَّدٍ وَ مُحَمَّدٌ مِنّی‏.

ان دونوں احادیث کی تفسیر یہ ہے کہ:

قال (ص) : خلقنی اللَّهُ.. و أَهل بیتی من نور واحد. و خُلِقْتُ أَنا و علی من نور واحد.  و … فعیسى من مریم و مریمُ من عیسى و مریم و عیسى شی‏ءٌ واحدٌ و أَنَا من ابی و أَبی منِّی و أَنَا و أَبی شی‏ءٌ واحدٌ.

یعنی ان روایات میں دو یا دو سے زیادہ افراد کے درمیان انتہائی درجے کا روحی و قلبی اتحاد ذکر کیا گیا ہے کہ جسکو عرب اپنے الفاظ کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔

التماس دعا۔۔۔۔۔





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی