2018 November 19
اہل بيت (ع) كے ساتھ بغض رکھنے کے اثرات
مندرجات: ١٧٧١ تاریخ اشاعت: ١٥ October ٢٠١٨ - ١٨:١٦ مشاہدات: 90
یاداشتیں » پبلک
جدید
اہل بيت (ع) كے ساتھ بغض رکھنے کے اثرات

اہل بيت (ع) كے ساتھ بغض رکھنے کے اثرات

قرآن کی متعدد آیات اور روایات کی روشنی میں رسول خدا (ص) کے اہل بیت (ع) سے محبت و مودت واجب ہے، بلکہ اہل بیت کی محبت کو دین کا جزو قرار دیا گیا ہے۔ اسکے برعکس روایات میں اہل بیت (ع) کے بغض، کینے، حسد اور دشمنی کرنے کے بد اثرات بھی بیان کیے گئے ہیں کہ جنکو یہاں پر ذکر کرنے کے سعادت حاصل کی جا رہی ہے:

پروردگار كى ناراضگی:

رسول اكرم (ص) نے فرمایا کہ جب میں شب معراج آسمان پر گیا تو ميں نے ديكھا كہ باب جنت پر لكھا ہے:

لا الہ الا اللہ  محمد رسول اللہ ، على حبيب اللہ الحسن و الحسين (ع) صفوة اللہ ، فاطمة خيرة اللہ و علی اعدائھم لعنة اللہ ،

اللہ كے علاوہ خدا نہيں، محمد (ص) اس كے رسول ہيں ، على (ع) اس كے ولى ہيں، فاطمہ (ع) اس كى كنيز ہيں، حسن (ع) و حسين (ع) اس كے منتخب کردہ ہيں اور ان كے دشمنوں پہ خدا وندكى لعنت ہے۔

تاريخ بغداد 1 ص 259

تہذيب دمشق 4 ص 322

مناقب خوارزمى ص 302 حدیث 297

فرائد السمطين ج 2 ص 74 ح  396

امالى طوسى ص 355 ح 737

كشف الغمہ 1 ص 94

كشف اليقين ص 445 ح 551

فضائل ابن شاذان ص 71

مقتل خوارزمى 1 ص 108

خصال شیخ صدوق ص 324 ح 10

مائۃ منقبۃ ص 109 ح 54 روايت اسماعيل بن موسی

رسول اكرم (ص) نے فرمایا ہے کہ:

ہر خاندان اپنے باپ كى طرف منسوب ہوتا ہے، سوائے نسل فاطمہ (س) كے كہ ميں ان كا ولى اور وارث ہوں اور يہ سب ميرى عترت ہيں ، ميرى بچى ہوئی مٹى سے خلق كیے گئے ہيں، ان كی فضیلت كے منكروں كے لیے جہنم ہے، ان كا دوست خدا كا دوست ہے اور ان كا دشمن خدا كا دشمن ہے۔

كنز العمال ج 12 ص 98 ح 34168 روايت ابن عساكر

بشارة المصطفى ص 20 روايت جابر

رسول اكرم (ص) نے فرمایا ہے کہ:

آگاہ ہو جاؤ كہ جو آل محمد (ص) سے نفرت كرے گا وہ روز قيامت اس طرح محشور ہو گا كہ اس كى پيشانى پر لكھا ہو گا کہ یہ بندہ رحمت خدا سے مايوس ہے۔

مناقب خوارزمى ص 73

مقتل خوارزمى 1 ص 40

مائتہ منقبہ 150 / 95 ، روايت ابن عمر

كشاف 3 ص 403

فرائد السمطين 2 ص 256 ح 524

بشارة المصطفى ص 197

العمدة ص 54 ح 52 ، روايت جرير بن عبد اللہ،

احقاق الحق ج 9 ص 487

منافقين سے ملحق ہو جانا:

رسول اكرم (ص) کا ارشاد گرامی ہے کہ: جو ہم اہلبيت (ع) سے نفرت كرے گا، وہ منافق ہو گا۔

فضائل الصحابہ ابن حنبل ج 2 ص661 ، ح 1166

در المنثور ج 7 ص 349 نقل از ابن عدى

مناقب ابن شہر آشوب ج 3 ص 205

كشف الغمہ ج 1 ص 47 روايت ابو سعيد

رسول اكرم (ص) نے فرمایا ہے کہ:

ہم اہلبيت (ع) كا دوست مؤمن متقى ہو گا اور ہمارا دشمن منافق و شقى ہو گا۔

ذخائر العقبی 18 روايت جابر ابن عبد اللہ

كفاية الاثر ص 110 واثلہ ابن الاسقع

رسول اكرم (ص) سے نقل ہوا ہے کہ:

قسم ہے اس ذات كى کہ جسكے قبضہ قدرت ميں ميرى جان ہے،  انسان كى روح اس وقت تک جسم سے جدا نہيں ہوتى، جب تک جنّت كے درخت يا جہنم كے زقوم كا مزہ نہ چكھ لے اور ملک الموت كے ساتھ مجھے على (ع) ، فاطمہ (ص) ، حسن (ع) اور حسين (ع) كو نہ ديكھ لے، اس كے بعد اگر ہمارا محب ہے تو ہم ملک الموت سے كہتے ہيں، ذرا نرمى سے كام لو كہ يہ مجھ سے اور ہمارے اہلبيت (ع) سے محبت كرتا تھا اور اگر ہمارا اور ہمارے اہلبيت (ع) كا دشمن ہے تو ہم كہتے ہيں ملک الموت ذرا سختى كرو كہ يہ ہمارا اور ہمارے اہلبيت (ع) كا دشمن تھا اور ياد ركھو ہمارا دوست مؤمن كے علاوہ اور ہمارا دشمن منافق بدبخت كے علاوہ كوئی نہيں ہو سكتا ہے۔

مقتل الحسين (ع) خوارزمى ج 1 ص 109 روايت زيد ابن علی،

رسول اكرم (ص) نے فرمایا ہے کہ ميرے بعد بارہ امام ہوں گے جن ميں سے نو حسين (ع) كے صلب سے ہوں گے اور نواں ان كا قائم ہو گا اور ہمارا دشمن منافق كے علاوہ كوئی نہيں ہو سكتا ہے۔

كفاية الاثر ص 31 روايت ابو سعيد خدری

رسول اكرم (ص) کا ارشاد ہے جو ہمارى عترت سے بغض ركھے وہ ملعون، منافق اور خسارہ والا ہے۔

جامع الاخبار ص 214 / 527

رسول اكرم (ص) کا فرمان ہے: ہوشيار رہو كہ اگر ميرى امت كا كوئی شخص تمام عمر دنيا تک عبادت كرتا رہے اور پھر ميرے اہلبيت (ع) اور ميرے شيعوں كى عداوت لے كر خداوند كے سامنے جائے تو پروردگار اس كے سينے كے نفاق كو بالكل كھول دے گا۔

اصول كافى ج 2 ص 46

بشارة المصطفى ص 157 روايت عبد العظيم الحسنی،

ابو سعيد خدرى ہم گروہ انصار منافقين كو صرف على ابن ابى طالب (ع) كى عداوت سے پہچانا كرتے تھے۔

سنن ترمذى ج 5 ص 635 حدیث 3717

تاريخ دمشق حالات امام على (ع) 2 ص 220 ح 718

تاريخ الخلفاء ص 202

المعجم الاوسط ج 4 ص 264 ح 4151

مناقب خوارزمى 1 ص 332 ح 313 عن الباقر (ع)

فضائل الصحابہ ابن حنبل ج 2 ص 239 ح 1086

مناقب امير المومنين (ع) كوفى  ج2 ص 470 ح 965 روايت جابر ابن عبد اللہ ،

تذكرة الخواص ص 28 از ابو درداء ،

عيون اخبار الرضا (ع) ج 2 ص 67 ح 305 روايت امام حسين (ع)

كفاية الاثر ص 102 روايت زيد ابن ارقم

العمدہ ص 216 ح 334 روايت جابر ابن عبد اللہ

مناقب ابن شہر آشوب ج 3 ص 207

مجمع البيان ج 9 ص 160 روايت ابو سعيد خدرى ،

قرب الاسناد ج 26 ص 86 روايت عبد اللہ ابن عمر

كفار سے الحاق ہونا:

رسول اكرم (ص) نے فرمایا ہے کہ:

آگاہ  ہو كہ جاؤ کہ جو بغض آل محمد (ص) پر مر جائے گا وہ كافر مرے گا، جو بغض آل محمد (ص) پر مرے گا وہ جنت کی خوشبو نہ سونگھ سكے گا۔

الكشاف ج 3 ص 403

مائۃ منقبۃ ص 90 حدیث 37 روايت ابن عمر

بشارة المصطفى ص 197

فرائد السمطين ج 2 ص 256 / 254 روايت جرير ابن عبد اللہ  

جامع الاخبار ص 474 ح 1335

احقاق الحق ج 9 ص 487

رسول اكرم (ص) جس شخص ميں تين چيزيں ہوں گى وہ نہ مجھ سے ہے اور نہ ميں اس سے ہوں، بغض على ابن ابى طالب (ع)، عداوت اہلبيت (ع) اور ايمان كو صرف (زبانی) كلمہ تصور كرنا۔

تاريخ دمشق حالات امام على (ع) ج 2 ص 218 ح 712

الفردوس ج 2 ص 85 ح 2459

مقتل خوارزمى ج 2 ص 97

مناقب كوفى ج 2 ص 473 ح 969 روايت جابر

يہود و نصارا سے ملحق ہونا:

جابر ابن عبد اللہ نے رسول اكرم (ص) سے نقل كیا ہے كہ آپ نے فرمايا: لوگو جو ہم اہلبيت (ع) سے بغض ركھے گا اللہ اسے روز قيامت يہودى محشور كرے گا۔

ميں نے عرض كى حضور چاہے نماز روزہ كيوں نہ كرتا ہو ؟ فرمايا: چاہے نماز روزے كا پابند ہو اور اپنے آپكو مسلمان تصور كرتا ہو۔

المعجم الاوسط ج 4 ص 212 حدیث 4002  

امالى صدوق ج 2 ص 273 روايت سديف ملكی،

روضة الواعظين ص 297

امام باقر (ع) نے جابر ابن عبد اللہ انصارى سے نقل كرتے ہيں كہ رسول اكرم (ص) منبر پر تشريف لے گئے جبكہ تمام انصار و مہاجرين نماز كے لیے جمع ہو چكے تھے اور فرمايا:

ايھا الناس جو ہم اہلبيت (ع) سے بغض ركھے گا ، پروردگار اس كو يہودى محشور كرے گا۔

ميں نے عرض كى حضور چاہے توحيد و رسالت كا كلمہ پڑھتا ہو ؟ فرمايا بيشک يہ كلمہ صرف اس قدر كار آمد ہے كہ خون محفوظ ہو جائے اور ذلت كے ساتھ جزيہ نہ دينا پڑے۔

اس كے بعد فرمايا:

ايھا الناس جو ہم اہلبيت (ع) سے دشمنى ركھے گا، پروردگار اسے روز قيامت يہودى محشور كرے گا اور اگر يہ شخص دجال كى آمد تک زندہ رہ گيا تو اس پر ايمان ضرور لے آئے گا اور اگر زندہ نہ رہا تو قبر سے اٹھايا جائے گا تو وہ دجال پر ايمان لا کر اپنى حقيقت كو بے نقاب كر دے گا۔

پروردگار نے ميرى تمام امت كو روز اول ميرے سامنے پيش كر ديا اور سب كے نام بھى بتا دیئے، جس طرح آدم كو اسماء كى تعليم دى تھی۔ ميرے سامنے سے تمام پرچمدار گزرے تو ميں نے على (ع) اور ان كے شيعوں كے حق ميں استغفار كيا۔

اس روايت كے راوى سنان ابن سدير كا بيان ہے كہ مجھ سے ميرے والد نے كہا كہ اس حديث كو لكھ لو، ميں نے لكھ ليا اور دوسرے دن مدينہ كا سفر كيا ، وہاں امام صادق (ع) كى خدمت ميں حاضر ہو كر عرض كى كہ ميرى جان آپ پر قربان، مكہ كے سديف نامى ايک شخص نے آپ كے والد كى ايک حديث بيان كى ہے، فرمايا تمہيں ياد ہے ؟ ميں نے عرض كى ميں نے اسے لكھ ليا ہے۔

فرمايا ذرا دكھلاؤ، ميں نے پيش كر ديا، جب آخرى فقرے كو ديكھا تو فرمايا سدير يہ روايت كب بيان كى گئی ہے ؟

ميں نے عرض كى كہ آج ساتواں دن ہے۔

فرمايا ميرا خيال تھا كہ يہ حديث ميرے والد بزرگوار سے كسى انسان تک نہ پہنچے گی۔

امالى طوسى ص 649 حدیث 1347  

امالى مفيد ص 126 حدیث 4 روايت حنان ابن سدير از سديف مكی،

محاسن برقی ج 1 ص 173 حدیث 266

ثواب الاعمال صدوق ص 243  حدیث 1

دعائم الاسلام ج 1 ص 75

امام باقر (ع) سے نقل ہوا ہے کہ ايک شخص رسول اكرم (ص) كى خدمت ميں آيا اور كہنے لگا يا رسول اللہ كيا ہر لا الہ الا اللہ كہنے والا شخص مؤمن ہوتا ہے ؟

فرمايا ہمارى عداوت اسے يہود و نصارا سے ملحق كر ديتى ہے، تم لوگ اس وقت تک داخل جنت نہيں ہو سكتے ہو جب تک مجھ سے محبت نہ كرو، وہ شخص جھوٹا ہے کہ جس كا خيال ہے كہ مجھ سے محبت كرتا ہے اور وہ على (ع) كا دشمن ہو۔

امالى صدوق ص 221 حدیث 17 روايت جابر ابن يزيد الجعفى ، بشارة المصطفى ص 120

من مات و هو يبغضك فلا يبالي مات يهوديا أو نصرانيا،

رسول خدا نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص اہل بیت کا بغض دل میں لے کر مر جائے تو خداوند کو اسکی کوئی پروا نہیں ہے کہ وہ یہودی مرے یا نصرانی،

(یعنی وہ شخص بے دین و بے ایمان دنیا سے جاتا ہے،)

اصول کافی (ط - الإسلامیة)، ج 2، ص: 84

روز قيامت ديدار پيغمبر (ص) سے محرومی:

عبد السلام ابن صالح الہروى نے روایت کی ہے کہ امام رضا (ع) کی خدمت ميں نے عرض كى كہ فرزند رسول (ص) پھر اس روايت كے معنى كيا ہيں كہ لا الہ الا اللہ كا ثواب يہ ہے كہ انسان پروردگار كے چہرے كو ديكھ لے ؟

فرمايا كہ اگر كسى شخص كا خيال ظاہرى چہرے كا ہے تو وہ كافر ہے، ياد ركھو كہ خداوند كے چہرے سے مراد انبياء مرسلين اور اس كى حجتيں ہيں کہ جنكے وسيلے سے اس كى طرف رخ كيا جاتا ہے اور اسكے دين كى معرفت حاصل كى جاتى ہے جيسا كہ اس نے خود فرمايا ہے كہ:

اس كے چہرے كے علاوہ ہر شے ہلاک ہونے والى ہے، انبياء و مرسلين اور حجج الہيہ كى طرف نظر كرنے ميں ثواب عظيم ہے اور رسول اكرم (ص) نے يہ بھى فرمايا ہے كہ جو ميرے اہلبيت (ع) اور ميرى عترت سے بغض ركھے گا وہ روز قيامت مجھے نہ ديكھ سكے گا اور ميں بھى اس كى طرف  بالکل نہیں دیکھوں گا۔

عيون اخبار الرضا (ع) ج 1 ص 115 حدیث 3

امالى صدوق ص 372 حدیث 7

التوحيد شیخ صدوق ص 117 حدیث 21

احتجاج طبرسی ج 2 ص 380 حدیث 286

روز قيامت مجذوم ہونا:

رسول اكرم (ص) نے فرمایا ہے کہ جو بھى ہم اہلبيت (ع) سے بغض ركھے گا، خداوند اسے روز قيامت كوڑھ کے مرض میں مبتلا کر کے محشور كرے گا۔

ثواب الاعمال ص 243 حدیث 2

محاسن برقی ج 1ص 174 ح 269 روايت اسماعيل الجعفى

اصول كافى ج 2 ص 337 ح 2

شفاعت سے محرومی:

انس ابن مالک سے نقل ہوا ہے کہ ميں نے رسول خدا (ص) كو على ابن ابى طالب (ع) كى طرف رخ كر كے اس آيت كى تلاوت كرتے ديكھا:

رات كے ايک حصے ميں بيدار ہو كر يہ خدائی عطيہ ہے وہ اس طرح تمہيں مقام محمود تک پہنچانا چاہتا ہے۔

 سورہ اسراء آیت 79

اور پھر فرمايا يا على (ع) پروردگار نے مجھے اہل توحيد كى شفاعت كا اختيار ديا ہے ليكن تم سے اور تمہارى اولاد سے دشمنى ركھنے والوں کی شفاعت کرنے كے بارے ميں مجھے منع كر ديا گیا ہے۔

امالى طوسى ص 455 ح 1017

كشف الغمہ ج 2 ص 27

تاويل الآيات الظاھرہ ص 279

امام صادق (ع) نے فرمایا:

بيشک مؤمن اپنے ساتھى كى شفاعت كر سكتا ہے ليكن ناصبى كى نہيں اور ناصبى كے بارے ميں اگر تمام انبياء و مرسلين مل كر بھى سفارش كريں تو يہ شفاعت كار آمد نہ ہو گى۔

ثواب الاعمال ص 251 ح 21

محاسن برقی ج 1 ص 296 ح 595 روايت على الصائغ

جہنم میں داخل ہونے کا سبب:

رسول اكرم (ص) نے فرمایا: قسم ہے اس ذات كى کہ جسكے قبضہ قدرت ميں ميرى جان ہے، ہم اہلبيت (ع) سے جو شخص بھى دشمنى كرے گا، اللہ اسے جہنم ميں جھونک دے گا۔

مستدرک حاكم ج 3 ص 162 ح 4717

موارد الظمان ص 555 ح 2246

مناقب كوفى ج 4 ص 120 ح 607

در المنثور ص 349 نقل از احمد ابو حبان

رسول اكرم (ص) نے قسم کھا کر کہا ہے کہ اس خدا کی قسم کہ جسكے قبضہ قدرت ميں ميرى جان ہے كہ جو بھى ہم اہلبيت (ع) سے بغض ركھے گا، پروردگار اسے جہنم ميں منہ كے بل ڈال دے گا۔

مستدرک حاکم ج 4 ص 392 ح 8036

مجمع الزوائد ج 7 ص 580 ح 12300

شرح الاخبار ج 1 ص 161 ح 110

امالى مفيد ص 217 ح 3 روايت ابو سعيد خدری

رسول اكرم (ص) کا ارشاد گرامی ہے کہ:

اے اولاد عبد المطلب ميں نے تمہارے لیے پروردگار سے تين چيزوں كا سوال كيا ہے:

تمہيں ثبات قدم عنايت كرے،

تمہارے گمراہوں كو ہدايت دے

اور تمہارے جاہلوں كو علم عطا فرمائے،

اور يہ بھى دعا كى ہے كہ وہ تمہيں سخی، كريم اور رحم دل قرار ديدے كہ اگر كوئی شخص ركن و مقام كے درميان كھڑا ہو کر نماز روزہ ادا كرتا رہے اور ہم اہلبيت (ع) كى عداوت كے ساتھ روز قيامت حاضر ہو تو يقيناً داخل جہنم ہو گا۔

مستدرک حاکم ج 3 ص 161 ح 4712

المعجم الكبير ج 11 ص 142 ح 11412

امالى طوسى ص 21 ح 117 و 184 و 247 و 435

بشارة المصطفى ص 260 روايات ابن عباس

معاويہ ابن خديج نے کہا ہے کہ: معاويہ ابن ابى سفيان نے مجھے حضرت حسن ابن على (ع) كے پاس بھيجا كہ انكی كسى بيٹی يا بہن كے لیے يزيد كا پيغام دوں تو ميں نے جا كر مدعا پيش كيا ، انھوں نے فرمايا كہ ہم اہلبيت (ع) بچيوں كى رائے كے بغير ان كا عقد نہيں كرتے لہذا ميں پہلے اس كى رائے دريافت كر لوں۔

ميں نے جا كر پيغام كا ذكر كيا تو بچى نے كہا كہ يہ اس وقت تک ممكن نہيں ہے جب تک ظالم ہمارے ساتھ فرعون جيسا برتاؤ کرنا ختم نہ كر دے كہ تمام لڑكوں كو ذبح كرے اور صرف لڑكيوں كو زندہ ركھے۔

ميں نے پلٹ كر حسن (ع) سے كہا كہ آپ نے تو اس قيامت كى بچى كے پاس بھيج ديا جو امير المومنين (معاويہ) كو فرعون كہتى ہے تو آپ نے فرمايا:

معاويہ ابن خدیج ديكھو ہم اہلبيت (ع) كى عداوت سے پرہيز كرنا كہ رسول اكرم (ص) نے فرمايا ہے كہ جو شخص بھى ہم اہل بيت (ع) سے بغض و حسد ركھے گا وہ روز قيامت جہنم كے كوڑوں سے ہنكايا جائے گا۔

المعجم الكبير ج 3 ص 81 ح 2726

المعجم الاوسط ج 3 ص 39 ح 2405

امام باقر (ع) نے فرمایا ہے کہ اگر پروردگار كا پيدا كيا ہوا ہر ملک و فرشتہ اور اس كا بھيجا ہوا ہر نبى اور ہر صديق و شہيد ہم اہلبيت (ع) كے دشمن كى سفارش كرے كہ خداوند اسے جہنم سے نكال دے تو ناممكن ہے، اس لیے کہ خداوند نے صاف فرما ديا ہے کہ:

يہ جہنم ميں ہميشہ رہنے والے ہيں۔

سورہ كہف آيت 3

ثواب الاعمال ص 247 ح 5 از حمران بن الحسين

امام صادق (ع) کا فرمان ہے کہ: جو شخص يہ چاہتا ہے كہ اسے يہ معلوم ہو جائے كہ خداوند اس سے محبت كرتا ہے تو اسے چاہیے كہ اس كى اطاعت كرے اور ہماری اتباع كرے، كيا اس نے خداوند كا يہ ارشاد نہيں سنا ہے كہ:

پيغمبر كہہ ديجئے کہ اگر تم لوگوں كا دعوى ہے كہ خدا كے چاہنے والے ہو تو ميری اتباع كرو، اس سے اللہ تم سے بھی محبت كرے گا اور تمہارے گناہوں كو معاف كر دے گا۔

سورہ آل عمران آيت 31

خدا كى قسم كوئی بندہ خدا كى اطاعت نہيں كرے گا مگر يہ كہ پروردگار اپنى اطاعت ميں ہماری اتباع بھی شامل كر دے اور كوئی شخص ہماری اتباع نہيں كرے گا مگر يہ كہ پروردگار اسے محبوب بنا لے اور جو شخص ہماری اتباع ترک كر دے گا، وہ ہمارا دشمن ہو گا اور جو ہمارا دشمن ہو گا، وہ اللہ كا گناہگار ہو گا اور جو گنہگار مرجائے گا تو اسے خداوند رسوا كرے گا اور منہ كے بل جہنم ميں ڈال دے گا، و الحمد للہ رب العالمين،

اصول كافى ج 8 ص 14 ح 1 روايت اسماعيل ابن مخلد و اسماعيل ابن جابر ،

امام كاظم (ع) نے فرمایا ہے کہ:

جو ہم سے بغض ركھے، وہ حضرت محمد (ص) كا دشمن ہو گا اور جو ان كا دشمن ہو گا، وہ خداوند كا بھی دشمن ہو گا اور جو خداوند كا دشمن ہو گا، اس كے بارے ميں خداوند كا فرض ہے كہ وہ اسے جہنم ميں ڈال دے اور اس كا كوئی مدد گار نہ ہو گا۔

كامل الزيارات ص 336 روايت عبد الرحمان ابن مسلم

التماس دعا۔۔۔۔۔

 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی