2021 April 19
کییا شیعہ مذہب کے وجود میں آنے کا سبب ایک یہودی تھا ؟
مندرجات: ١٨٤٩ تاریخ اشاعت: ٠٢ February ٢٠٢١ - ١٧:٤٨ مشاہدات: 358
یاداشتیں » پبلک
شیعہ مذہب کا وجود اور پیدائش
کییا شیعہ مذہب کے وجود میں آنے کا سبب ایک یہودی تھا ؟

  اعتراض : شیعہ مکتب کی کوئی تاریخی حقیقت نہیں ہے  بلکہ اس کے وجود میں آنے کا سبب  عبد اللہ بن سبا نامی ایک یہودی ہے  ۔ ([1]) یا یہ کہ یہ مکتب و مذہب سقیفہ میں رونما ہونے والے اختلاف کے نتیجہ میں وجود میں آیا ہے  ۔ ([2])

اور ایک گروہ یہ بھی کہتا ہے : شیعہ مکتب کے وجودمیں آنے کا سبب ایرانی تھے ۔([3]) کہ جنہوں نے اسلامی معاشرہ میں رخنہ  ڈالنے کے لئے اس مذہب کو ایجاد کیا  تھا۔

تحلیل و جائزہ :

اس اعتراض کا جواب دینے سے پہلے  لائق توجہ  امر یہ ہے کہ پہلے یہ سمجھ لینا چاہیئے  کہ شیعہ ان لوگوں کو کہا جاتا ہے  کہ  جن کا عقیدہ یہ ہو کہ پیغمبر اکرم ﷺ نے اپنے بعد امیر المؤمنین علی علیہ السلام کو اپنا جانشین اور امت کا امام قرار دیا  اور امیرالمؤمنین  علیہ السلام کے بعد یہ سلسلہ امامت و ولایت بارہویں امام(عج ) تک آج بھی جاری و ساری ہے ۔

مذکورہ بالا اعتراض کے جواب کے سلسلہ میں چند نکات کی طرف توجہ ضروری ہے :

پہلا نکتہ :  اگر کوئی شخص کسی سابق مفروضہ کے بغیر  اور غیر جانبدار رہتے ہوئے۔ علمی اصول کی رعایت کے پیش نظر ۔آیات الہی اور روایات پیغمبر اکرمﷺ نیز تاریخ  اسلام کی طرف رجوع کرے  تو وہ واضح طور پر سمجھ جائے گا کہ تشیع   حقیقی و اصلی محمدی(ص) اسلام کے علاوہ،الگ سے کوئی نئی چیز نہیں ہے ۔

قیادت و امامت  دین اسلام کا ایسا رکن رکین ہے  جو اس کی بقا اور اس کے زندہ جاوید ہونے کا سبب ہے ۔ اور یہ ایک ایسا دینی اصول و عقیدہ ہے جس پر دسیوں قرآنی آیات  اور سینکڑوں پیغمبر اکرمﷺ کی صحیح احادیث دلالت کرتی ہیں ۔

ہم تاریخ میں یہ بات پڑھتے ہیں  کہ پیغمبر اکرم ﷺ  نے تبلیغ کے ابتدائی دن سے ہی یوم انذار کے واقعہ میں  اپنی رسالت کے اعلان کے ساتھ ساتھ امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی وصایت و وزارت کا اعلان بھی کردیا تھا ۔([4]) اور آنحضرت ﷺ نے اپنی رسالت کے ۲۳ سال کے طویل عرصہ میں مختلف مناسبتوں اور مواقع  پر امام علی علیہ السلام کی امامت و وصایت کا بارہا تذکرہ فرمایا ہے ۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ نے  اپنی عمر مبارک کے آخری ایام میں بھی   غدیر خم میں علی علیہ السلام کا اپنے بعد جانشین کے طور پر رسمی اعلان  کرنے کے ساتھ، اسلام سے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی  اورخوشنودی کے افتخار کا اعلان  بھی فرمایا تھا ۔

اس طرح ، قرآنی آیات  اور روایات پیغمبر اکرم ﷺ  کی بنیاد پر ، تبلیغ دین کے ابتدائی ایام میں ہی تشیع کا بیج   بو دیا گیا تھا ۔

قرآن مجید  میں بہت سی ایسی آیات موجود ہیں جو ۔ روایتی اور تاریخی دلائل کی روشنی میں ۔ امام علی علیہ السلام کی امامت و قیادت کو بیان کرتی ہیں  جن میں سے  آیہ اکمال ۔([5]) ؛ آیہ ولایت  ۔([6]) ؛ آیہ تبلیغ ۔ ([7]) اور آیہ انذار ۔ ([8])  قابل ذکر ہیں ۔نیز اصحاب  اور تابعین سے اہل سنت علماء و دانشوروں  کی   نقل کردہ   دسیوں روایات  میں ان آیات کے شأن نزول کو امیرا لمؤمنین علیہ السلام سے مخصوص مانا گیا ہے ۔

مذکورہ بالا آیات کے علاوہ  بھی  دیگر کچھ آیات جیسا کہ آیہ اطعام ۔([9]) ؛ آیہ مباہلہ  ۔([10]) ؛ آیہ مودت ۔ ([11]) ؛ آیہ تطہیر ۔ ([12]) ؛ آیہ اولی الامر ۔([13])  وغیرہ اہل بیت علیہم السلام کی فضیلت و برتری  میں نازل ہوئی ہیں  اور  امیرالمؤمنین علی علیہ السلام   اس بلند و بالا پہاڑ  کی بلند چوٹی پر سب سے  اوپر جلوہ افروز ہیں ۔

ظاہر سی بات ہے کہ ان آیات کے نزول کے ابتدائی ایام میں ہی ، حقیقی مؤمنین کے دلوں میں امیرالمؤمنین  علیہ السلام کی محبت و ولایت کا بیج  بو دیا گیا تھا  اور یہی چیز  شیعوں کے وجود میں آنے کی  تمہید  اور نوید قرار پائی ۔

دوسرا نکتہ : اہل سنت علماء نے رسول اکرم ﷺ سے ایسی بہت سی روایات  نقل کی ہیں  جن میں آنحضرت ﷺ نے صاف و واضح طور پر امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی امامت و قیادت کا تذکرہ فرمایا ہے ۔ جن میں حدیث غدیر: ’’ من كنت مولاه فعلی مولاه ‘‘  ۔ میں جس کا مولا و سرپرست ہوں علی بھی اس کے سرپرست اور مولا ہیں ۔([14])  ؛ بارہ خلفاء والی حدیث : ’’ يكون بعدی  اثنا عشر أميراً كلهم من قريش ‘‘ ۔ میرے بعد  بارہ افراد امیر ہونگے اوروہ  سب کے سب قریش سے ہونگے ۔([15]) ؛  حدیث منزلت : ’’ أَنْتَ مِنِّي بمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِن مُوسَى ‘‘ ۔ یا علی ! تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ سے تھی ۔ ([16]) ؛ حدیث وصایت  : ’ إنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ وَصِيّاً ووارِثاً ، وإنَّ عَلِيّاً وَصِيّي ووارِثي ‘‘ ۔ ہر پیغمبر کا ایک وصی و وارث ہوتا ہے  اور میرا وصی و وارث علی ہے ۔([17])؛ اور اسی طرح حدیث خلافت : ’’ إِنَّ أَخِی وَ وَصِیی وَ خَلِیفَتِی فِیكُمْ فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِیعُوا ‘‘ ۔  بے شک علی تمہارے درمیان  میرا بھائی ، وصی  اور خلیفہ ہے پس تم اس کی بات کو هَذَا سنو اور اس کی اطاعت کرو ۔([18])   وغیرہ وغیرہ کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے  اور اسی طرح  حدیث ثقلین ۔ ([19]) حدیث انا مدینۃ العلم ۔([20]) ؛ حدیث سفینہ  ۔(


[21]) ؛  اور حدیث امان ۔([22])  بھی ان احادیث میں سےہیں  جو اس  سلسلہ میں توجہ کے قابل  ہیں ۔

رسول اللہ ﷺ کی یہ  مسلسل  تأکیدات سبب بنیں  کہ خود زمانہ سرکار رسالتمآبﷺ میں ایک گروہ  امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کا گرویدہ بن جائے اور آپ کی پیروی ، دوستی اور ولایت کے سبب مشہور ہوجائے ۔ اور اس گروہ میں  سلمان فارسی، مقداد بن اسود کندی ، ابوذر غفاری ، عمار یاسر ، حذیفہ بن یمان ، اور ابو ایوب انصاری جیسے بڑے بڑے مشہور اور نامور صحابہ سر فہرست نظر آتے ہیں ۔([23]) اور یہ نکتہ بھی قابل ملاحظہ ہے   ۔  اگر ہم  دیگر چیزوں سے صرف نظر کردیں ۔  کہ  ان افراد کوخود سرکار ختمی مرتبت ﷺ کی زبانی  ’’شیعہ‘‘   کہنے کا آغاز ہوا تھا  اور بہت سی  ایسی روایات بھی  ہمارے پاس  موجود ہیں جو اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے علی علیہ السلام کے پیروکاروں کو  اس لقب ( شیعہ ) سے ملقب فرمایا  تھا ۔

طبری اور دیگر راویوں  نے نقل کیا ہے کہ جب رسول اکرم ﷺ پر یہ آیت کریمہ : ’ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَـٰئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ ‘‘ ۔([24]) اور بے شک جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک اعمال کئے ہیں وہ بہترین خلائق ہیں ۔؛ نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے امیرالمؤمنین علیہ السلام کی طرف  رخ کرکے فرمایا : ’’  هو انت و شیعتک یوم القیامه راضین مرضین ‘‘ ۔([25]یا علی ! اس آیت سے مراد ، تم  اور تمہارے شیعہ ہیں کہ جو قیامت کے دن  اس حال میں  محشر میں وارد ہونگے  کہ وہ اللہ کے فیصلہ سے راضی ہونگے اور اللہ ان کے عمل سے خوش ہوگا ۔

ایک دوسری حدیث میں مذکورہ بالا آیت سے مراد کون  لوگوں  ہیں ؟ اس سلسلہ میں  رسول اللہ ﷺ سے نقل ہوا ہے کہ آپ نے امیرالمؤمنین  علی علیہ السلام سے فرمایا : ’’ انت و شیعتک، و موعدی و موعدکم الحوض، إذا اجتمعت الأمم للحساب تدعون غراء محجّلین‘ ‘ ۔([26]) یا علی اس آیت میں ’’ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ ‘‘ سے مراد آپ اور آپ کے شیعہ ہیں ، میری اور آپ کی  وعدہ گاہ  ،قیامت کے دن حوض کوثر ہے  کہ جب تمام امتیں  حساب و کتاب کے لئے وہاں آئیں گی اور آپ کو وہاں بلایا جائے گا اس حال میں  کہ آپ کے چہرے اور پیشانی سے نور ساطع ہورہا ہوگا ۔

وہ احادیث جن میں لفظ  ’’ شیعہ ‘‘ استعمال ہوا ہے  خود اہل سنت کی موثق کتابوں  میں  بڑی کثرت کے ساتھ پائی جاتی ہیں  لیکن ہم یہاں  ان میں سے صرف تین کے ذکر پر اکتفاء کررہے ہیں :

۱ ۔  خطیب بغدادی اپنی تاریخ میں رسول اللہ ﷺ کے امیرالمؤمنین علی علیہ السلام سے  خطاب کو  اس طرح نقل کرتے ہیں : ’’ انت و شیعتک فی الجنة ‘‘۔([27]) علی تم اور تمہارے شیعہ بہشتی ہیں ۔

۲ ۔  حاکم نیشاپوری اپنی کتاب المستدرک  میں پیغمبر اکرم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ فرمایا : ’’ أنا شجرة ، وفاطمة فرعها ، وعليٌّ لقاحها، والحسن والحسين ثمرتها ، وشيعتنا ورقها ‘‘ ۔([28]) میں ایک درخت  کی مانند ہوں ،  فاطمہ  اس کی فرع، اور علی   اصل و فرع  کے درمیان پیوند( ایک دوسرے سے منسلک کرنے والے) نیز حسن و حسین اس کے پھل  اور ہمارے شیعہ اس کے پتے ہیں.

اور صرف یہی نہیں کہ لفظ ’’ شیعہ ‘‘ کا ورود رسول اللہ ﷺ کی احادیث سے ثابت ہو بلکہ  ’’ شیعہ اثنا عشری‘‘ کی تعبیر   کو بھی خود سرکار ختمی مرتبت ﷺ کی طرف نسبت دی جاسکتی ہے  چونکہ فریقین کی نقل کردہ روایات اور خاص طور پر اہل سنت کی کتب صحاح میں  ایسی  روایات  نقل ہوئی ہیں جن میں آپ ﷺ نے اشارۃ ً اس تعبیر کا تذکرہ فرمایا ہے : ’ لا یزال الدین قائما حتی تقوم الساعة ویکون علیکم إثنا عشر خلیفة کلھم من قریش ‘‘ ۔([29]) ہمیشہ یہ دین قائم و پائدار رہے گا یہاں تک کہ قیامت کا دن آجائے گا  اور امت  کے بارہ خلیفہ ہونگے جو سب کے سب قریش سے ہونگے ۔

 تاریخ  کی طرف تھوڑی توجہ  سے بھی یہ امر روشن و واضح ہوجاتا ہے کہ یہ تعداد  شیعہ اثنا عشری   کے عقیدہ کے علاوہ کہیں اور نہیں مل سکتی ۔  چونکہ خلفائے راشدین  کی تعداد ۔ بشمول امام حسنؑ ۔ ۵  ہوتی ہے  ، بنی امیہ کے خلفاء ۱۴ جبکہ بنی عباس کے خلفاء ۲۳ افراد تھے ۔ اس بنا پر  شیعہ اثنا عشری ہی اس مذہب حقہ کے پیرو ہیں  کہ جن کے اماموں کی تعداد بھی بارہ  اور جن کا نام بھی رسول اللہ ﷺ کے کلام کی روشنی میں صحیح طور  منطبق ہوتا ہے ۔

بہر کیف  اس بحث سے صرف نظر کرتے ہوئے ایک بار پھر ہم   اپنے اصل بات کی طرف لوٹتے ہیں ۔

۳۔ ابن  خلدون  نے اپنی تاریخ میں نقل کیا ہے  کہ : ’’ اصحاب میں سے ایک  گروہ ، علی علیہ السلام کا شیعہ تھا  اور آپؑ کو دوسروں کی نسبت خلافت کا زیادہ حقدار مانتا تھا ‘‘ ۔ ([30])

نیز ڈاکٹر صبحی صالح رقمطراز ہیں : ’’ اصحاب کے درمیان ۔ خود  پیغمبر اکرم ﷺ کے زمانے میں بھی ۔کچھ لوگ علی علیہ السلام کے پیرو اور آپ کے شیعہ تھے  کہ جن میں ، ابوذر غفاری، مقداد بن اسود ،جابر بن عبداللہ ، ابی بن کعب ، ابو الطفیل عامر بن وائلہ ، عباس بن عبد المطلب  اور ان کی تمام اولاد ، عمار یاسر  اور ابو ایوب انصاری ، کا نام خصوصیت کے ساتھ لیا جاسکتا ہے ‘‘ ۔([31])

 اسی طرح  ہم ’’ تأسیس الشیعۃ ‘‘ نامی کتاب میں پڑھتےہیں : ’’ لفط ’’ شیعہ‘‘  پیغمبر اکرم ﷺ کے زمانے میں رائج ہوچکا تھا  جیسا کہ ابو حاتم اپنی کتاب ’’ الزینہ ‘‘ میں تحریر کرتے ہیں  : ’’  سب سے پہلا نام جو خود سرکار رسالتمآب ﷺ کی زندگی میں رائج ہوا ، ’’ شیعہ ‘‘ تھا ۔ یہ لقب صحابہ میں سے چار افراد ؛ یعنی ابوذر غفاری ، سلمان فارسی ، مقدد بن اسود  کندی اور عمار یاسر کا تھا ،  یہاں تک کہ جنگ صفین کے موقع پر یہ اصطلاح علی علیہ السلام کے چاہنے والوں کے درمیان مکمل طور پر رائج ہوچکی تھی ‘‘۔([32])

تیسرا نکتہ : جو کچھ اب تک بیان ہوا اس کی روشنی میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ تشیع کی پیدائش کی تاریخ ، سرزمین حجاز  اور خود عہد رسالت کی طرف پلٹی ہے ۔ اور خود پیغمبر اکرم ﷺ نے اس حقیقی مکتب کی بنیاد رکھی ہے  لہذا   اس سلسلہ میں اغیار کی طرف سے پیش کئے گئے  بے  بنیاد  مفروضے   کسی بھی تاریخی و روائی دستاویز  پر کھرے  نہیں اترتے ہیں ۔ بہر حال ! ذیل میں ہر ایک مفروضہ  کی حقیقت کو پرکھنے کے لئے مختصر طور پر تنقید و تحلیل پیش کی جارہی ہے :

1’’ تشیع عبداللہ بن سبا کے افکار کا نتیجہ ‘‘ اس اعتراض کا جائزہ و  تحلیل :

کچھ لوگ  تشیع کے حقیقی و اصلی مکتب کو عبد اللہ بن سبا نامی یہودی کی سازش کا نتیجہ جانتے ہیں ۔

یہ  لوگ ایک ضعیف روایت کےسہارے کہ جسے طبری نےاپنی کتاب میں نقل کیا ہے  اس  گمان میں مبتلاء ہوگئے  ہیں  کہ شیعہ مذہب یمن کے ایک یہودی النسل عبد اللہ بن سبا  کے ذریعہ عثمان کے دور حکومت میں ایجاد ہوا تھا ۔

طبری نے اپنی تاریخ میں   ۳۰  سے ۳۶ ہجری ( یعنی عثمان کی خلافت کا زمانہ ) کے حالات میں لکھا ہے کہ  اس یہودی النسل ( عبد اللہ بن سبا )  نے    اپنے مسلمان ہونے کا ڈھونگ رچا کر شام سے لیکر بصرہ   اور کوفہ  وغیرہ وغیرہ اسلامی صوبوں کا دورہ کیا  اور لوگوں کو علی علیہ السلام کی  خلافت کو قبول کرنے کی دعوت دے کر انہیں خلیفہ عثمان کے خلاف ورغلایا ۔ اس کے پروپیگنڈوں کے سبب صحابہ و تابعین کا ایک گروہ بھی اس کے ساتھ مل گیا  اور انہوں نے عثمان کو گھر میں نظر بند کردیا اور آخرکار انہیں قتل کردیا گیا اور اس کے بعد امام علی علیہ السلام خلافہ بن گئے ۔([33])

 طبری کی  بیان کردہ    اس  داستان  کے مطابق خلیفہ سوم کے خلاف  مسلمانوں  کی بغاوت  ایک یہودی  کی قیادت میں عمل میں آئی  تھی !؟ ۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے محققین جیسا کہ ڈاکٹر طہ حسین وغیرہ   اسے  ایک تاریخی افسانہ سے تعبیر کرتے ہیں ۔([34]) چنانچہ یہ افسانہ کئی لحاظ  سے فاقد حقیقت  اور بے بنیاد ہے  لہذا ہم ذیل میں ان میں سے کچھ کی طرف اشارہ کررہے ہیں :

طبری نے اس  کہانی کو سرّی سے  اس نے شعیب سے  اس نے یوسف بن عمر سے اس نے عطیہ سے اوراس نے یزید فقعسی سے نقل کیا ہے ۔([35])   اہل سنت کے رجالی منابع میں  ’’ سرّی‘‘ نام کے دو لوگ ملتے ہیں :

الف ) : سرّی بن اسماعیل کوفی ،  اہل سنت کے رجالی علماء نے اسے کذاب شمار کیا ہے ۔([36])

ب ) : سرّی بن عاصم بن سہل ہمدانی  ( متوفی  ۲۵۸ ہجری )  بھی اہل سنت رجالی علماء کے نزدیک  جھوٹا  اور حدیث کا چور  تھا ۔ ([37])

ج ) :  اب رہی بات شعیب کی؛  اس کا اصلی نام  شعیب بن ابراہیم کوفی ہے  اور اہل رجال کی تصریح کے مطابق  وہ ایک مجہول الحال فرد اور سیف بن عمر کی کتابوں کا راوی تھا ۔([38])

د ) :  سیف بن عمر ۔ اس روایت کا ایک  اور راوی ۔  ایسا شخص ہے جسے اہل سنت کے رجالی علماء نے  حدیث گھڑنے والا  اور یہاں تک کہ اس پر بے دینی  اور فاسد العقیدہ ہونے کا الزام بھی لگاتے ہیں  چنانچہ ابن عدی اس کے متعلق کہتے ہیں  :’’  اس کی نقل کردہ تمام روایات مجہول اور ناقابل اعتبار ہیں  ‘‘ ۔([39]) اسی طرح  یحیٰ بن معین نے اس کی نقل کردہ روایات کو ضعیف  شمار کیا ہے ، ابوداؤد نے اسے   حد درجہ  جھوٹ بولنے والا  کہا ہے جبکہ ابن جبان   اسے زندیق بتا کر یہ تبصرہ کرتے ہیں کہ وہ حدیث گھڑا کرتا تھا ۔([40])  ۱۷۰ ہجری میں سیف بن عمر   فوت ہوا   ، اس کے اور عبد اللہ بن سبا کے درمیان ۱۲۰ برس کا طویل فاصلہ تھا  نیز اس ( سیف بن عمر ) سے پہلے کسی نے بھی اس طرح کی کوئی کہانی اور داستان نقل نہیں کی  ہے۔

اسلامی مؤرخین  جیسا کہ ابن شہاب زہری ، ابوبکر بن حزم ، واقدی اور اسی طرح وہ دیگر مؤرخین کہ جو بنی امیہ کے دور حکومت میں زندہ تھے انہوں نے عثمان کے خلاف  عوام کی بغاوت میں کہیں بھی عبد اللہ بن سبا کے نام کا ذکر تک نہیں کیا ۔ اور اسی طرح قرن دوم کی پہلی نصف صدی تک کسی بھی  معتبر کتاب کی  کسی بھی روایت یا تاریخی دستاویز میں ،عثمان کے خلاف عوام  کی اس تحریک میں اس کا نام نہیں لیا گیا ہے ۔ صرف پہلی بار ،  تاریخ میں یہ شوشہ  سیف بن عمر نے چھوڑا ہے ۔

اور مزے کی بات یہ ہے کہ  بہت سی تاریخی کتب میں ، خود عثمان کی طرف سے  اس تحریک و بغاوت کو  علی علیہ السلام ، ابوذر و عمار وغیرہ کی طرف  منسوب کرکے بیان کیا گیا ہے یا یہ کہ معاویہ  اور بنی امیہ  نے حضرت علی علیہ السلام کو قتل عثمان کا ذمہ دار ٹہرایا  ہے لیکن کہیں بھی اس یہودی  کے متعلق یہ نہیں ملتا کہ اس نے پورے اسلامی دنیا کے لوگوں کو خلیفہ کے مقابلہ یکجا کردیا تھا !  کیا یہ معقول بات ہے کہ ایک  ایسا شخص کہ جس نے  عثمان کی خلافت کی بساط ہی الٹ دی ہو وہ خود خلیفہ ، اس کے کارندوں اور بنی امیہ کی  اتنی وسیع  مشنری  کی ذرہ بین نگاہوں سے مخفی رہ جائے ؟!

ب :۔ متنی اعتراض

متنی اعتراضات  اکو بیان کرنے سے پہلے  ہم یہ یاد دلانا   ضروری سمجھتے ہیں کہ اگر عبد اللہ بن سبا    کے افسانہ کو صحیح مان بھی لیا جائے  کہ اس نے مسلمانوں کو خود ان کے خلیفہ کے خلاف ورغلا کر انہیں قتل کروا دیا تھا  تو اس  واقعہ کا شیعہ مذہب کی ایجاد و پیدائش سے کیا  تعلق  ہوسکتا ہے ؟  اور جیسا کہ ہم نے بیان کیا کہ شیعہ مکتب کی پیدائش کا  آغاز خود  رسول اللہ ﷺ کے زمانے سے  ہوچکا تھا  اور اس کا کسی طرح سے  کوئی تعلق ، عثمان کے خلاف  مسلمانوں کو ورغلا کر جنگ سے نہیں ہے۔

فی الحال اس اعتراض کو نظر انداز کرتے ہوئے ، خود  عبد اللہ بن سبا کا یہ من گھڑت افسانہ چند لحاظ سے قابل تنقید ہے لہذا ہم ذیل میں اس کی وضاحت  کررہے ہیں :

پہلا ۔ تاریخی حقائق اور یہ افسانہ

جو شخص بھی صدر اسلام کی تاریخ سے آشنا ہے  وہ بخوبی جانتا ہے کہ یہ واقعہ محض ایک طفلانہ افسانے سے زیادہ کوئی حیثیت  و حقیقت نہیں رکھتا ۔ چونکہ  اس بات پر کیسے یقین کیا جائے کہ یمن سے ایک تن تنہا یہودی اٹھے اور تمام اسلامی صوبہ جات کا دورہ کرے اور اصحاب پیغمبر ﷺ کو اپنے ساتھ ملا لے اور خلیفہ اور اس کی فوج کی آنکھوں میں دھول جھونک کر شہر مدینہ میں داخل ہوجائے اور سب لوگوں کو خلیفۃ المسلمین کے خلاف اتنا ورغلائے  کہ وہ لوگ اپنے ہاتھ سے اپنے  خلیفہ کو قتل کردیں اور پھر اس کی جگہ کسی دوسرے کو مسند خلافت پر بٹھا دے ۔ اور اتنا سب کچھ ہوجانے کے باوجود کسی معتبر تاریخ میں اس شخص کا نام تک بھی نہ لیا جائے ! ! اور یہ کہانی اور افسانہ  اس حال میں گھڑا گیا  ہے کہ  جب زمانہ عثمان  میں پیدا ہونے والی عوامی تحریک و انقلاب کے تمام مقدمات اور اسباب و عوامل کو تاریخ  نے اپنے دامن میں، من و عن ،  محفوظ کر رکھا ہے   کہ جو ان توہمات اور بے جا خیالات سے بالکل میل نہیں کھاتے ہیں ۔

دوسرا۔عثمان کی  سیاسی سوجھ بوجھ اور یہ افسانہ

عثمان بن عفان کا  اپنے  مخالفین سے پیش آنے کا طریقہ بھی  اس امر پر دوسرا گواہ ہے کہ عبد اللہ بن سبا کا افسانہ کوئی حقیقت نہیں رکھتا ۔ چونکہ عثمان تو  اصحاب پیغمبر ﷺ تک  کو اپنی مخالفت کرنے کی اجازت نہیں دیتا تھا  تو بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ یمن سے ایک گمنام یہودی اٹھے اور تمام اسلامی بلاد میں گھوم کر لوگوں کو اس کے خلاف بغاوت کرنے پر آمادہ کردے  ۔ چنانچہ  اپنے مخالفین کی سرکوبی  کے عمل کو عثمان کے اس  سخت  برتاؤ  میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے جو اس نے  ابوذر غفاری کے ساتھ روا رکھا ۔چنانچہ عثمان نے ابوذر کو اپنی مخالفت کے جرم میں پہلے  شام  اور پھر انہیں  ربذہ  جلا وطن کر دیا کہ جہاں غربت  و افلاس کے عالم میں ان کی موت واقع ہوگئی ۔([41])

عبد اللہ بن مسعود کو ابوذر کی حمایت کرنے کے جرم میں عثمان نے کوفہ سے مدینہ بلایا  اور اس درجہ  خلیفہ کے نوکروں نے ان کے ساتھ زد و کوب کیا کہ تقریباً  وہ  ۴ برس تک گھر سے باہر نہ نکل سکے  اور اسی عالم میں اس دنیا سے وفات پاگئے ۔([42])

پیغمبر اکرمﷺ کے ایک اور صحابی کہ جو عثمان کے معتوب مغضوب قرار پائے عمار یاسر تھے ،  عثمان نے اپنے غلاموں کو انہیں مارنے کا حکم دیا چنانچہ   عثمان کے نمک خواروں نے انہیں اتنا مارا کہ وہ ایک سخت بیماری میں مبتلا ہوگئے ۔([43])

ان سب شواہد و دلائل کے باوجود  کیسے یقین کیا جاسکتا ہے کہ ایک یہودی پوری اسلامی مملکت کے نظام درہم برہم کردے  اور پورے طول و عرض میں پھیلے بنی امیہ کے جاسوسی سسٹم  اس کی  بھنک بھی  نہ  لگے  یہاں تک  کہ وہ مسلمانوں کو متحد کر خلیفہ وقت کے خلاف ورغلانے میں کامیاب ہوجائے ؟ !

تیسرا ۔ اس  افسانے اور خود  وہابی عقائد کے درمیان تضاد

اگر عبد اللہ بن سبا کے متعلق  طبری کی اس بات کو درست اور صحیح مان لیا جائے تو  وہابیوں کا ایک بنیادی ترین عقیدہ منہدم ہوکر مٹی میں مل جائے گا  چونکہ ان کے عقیدہ کے مطابق رسول اللہ ﷺ کا ہر ایک صحابی عادل ہے کہ اس کے حق میں کسی طرح کی جرح و تعدیل  کرنا مناسب نہیں ہے  ۔ پس اگر ایسا ہے  تو یہ کیسے ممکن ہوا کہ  بہت سے صحابہ ایک فریب اور دھوکا باز یہودی کے بہکاوے میں آکر بغاوت برپا کرکے خلیفہ کو قتل کردیں  اور اس کی جگہ دوسرے شخص کو  خلیفہ بنا کر  بٹھا دیں ؟

 صبحی صالح کے بقول :  یہ کوئی بعید نہیں ہے کہ ایک یہودی فتنہ انگیزی کرے لیکن جو چیز قابل قبول نہیں ہے وہ یہ ہے کہ ایک یہودی کے پاس اتنی عظیم تأثیر ہو کہ وہ مسلمانوں کے افکار و عقائد میں عمل دخل کرکے انہیں دو گروہ اور جماعت ، سنی اور شیعہ میں تقسیم کردے ۔([44])

چوتھا ۔ اس افسانے  اور دیگر حقائق کے درمیان تضاد

اگر شیعہ مذہب کی بنیاد عبد اللہ بن سبا نے رکھی تھی  تو کیوں شیعہ کتب میں اس کے بارے میں تعریفی کلمات و بیانات نہیں پائے جاتے  بلکہ اس کے برعکس،  فرقہ سبیہ کے بانی کے طور پر اس کے متعلق بے پناہ  مذمتی و ملامتی بیانات ملتے ہیں اور اسی وجہ سے ہمیشہ آئمہ علیہم السلام کی طرف سے اس پر  لعنت و ملامت کی جاتی رہی   یہاں تک کہ عبد القاہر بغدادی ( متوفی ۴۲۹ ہجری ) کے بقول ، امیرالمؤمنین علی علیہ السلام  ہمیشہ اس کوشش میں تھے کہ اس کے مرتد ہونے کے وجہ سے اس قتل کرڈالیں  لیکن  مصلحت کے تقاضوں کے پیش نظر چونکہ اس وقت آپ شامیوں سے جنگ کرنے کی تیاریاں کررہے تھے آپ نے اسے مدائن جلاوطن کردیا ۔([45])

 محمد ابوزہرہ ۔ اہل سنت کے ماضی قریب میں بہت بڑے دانشور ۔ عبد القاہر بغدادی کے بیان کی تأئید کرنے  کے بعد رقمطراز ہیں :  شیعہ ، عبد اللہ بن سبا کو اپنے میں سےنہیں مانتے  اور بلکہ اسے مسلمان بھی نہیں سمجھتے ، اور ہم بھی اس مسئلہ میں ان کے ہم آواز ہیں اور وہی بات دہراتے ہیں جو وہ کہتے ہیں ‘‘ ۔ ([46])

 دوسری اہم بات یہ کہ ، اگر وہابی ، شیعہ مذہب ۔کہ جس کی جڑیں عصر پیغمبر اکرمﷺ سے ملتی ہیں  ۔  کے مؤسس و بانی کو ایک یہودی جانتے ہیں تو پھر  ان مذاہب کے بارے میں ان کا کیا خیال ہے کہ جو رسول اللہ ﷺ کی وفات کے دسیوں برس کے بعد عرصہ وجود میں آئے  ؟  اور خود اپنے وہابی  نجدی فرقہ کے متعلق کیا رائے قائم کریں گے  کہ جو رحلت رسول اللہ ﷺ کے کئی قرن کے بعد پیدا ہوا ؟

2’’شیعہ ایرانیوں کی ایجاد ہے‘‘  اس اعتراض کا جائزہ  و تحلیل :

کچھ لوگ  تاریخ کی طرف توجہ کئے بغیر ، تشیع کو ایرانیوں کی ایجاد  کہہ دیتے ہیں ۔ ان لوگوں کا دعویٰ یہ ہے کہ  چونکہ ایرانی قوم اسلام اور عرب کی حکمرانی کی مخالف تھی  لہذا انہوں نے مسلمانوں کی صفوں میں گھس کر  اور امام علی علیہ السلام اور ان کے فرزندوں کی امامت کو بہانا بنا کر ایک جدید مذہب کی بنیاد ڈال دی تاکہ اس طرح وہ عربوں سے اپنی شکست کا انتقام لے سکیں ۔ ([47])

 اس اعتراض کے جواب میں چند نکات قابل ملاحظہ ہیں :

۱ ۔  یہ فرض کو اس وقت تو قبول کیا جاسکتا ہے  کہ جب شیعہ مذہب کے  حقیقی  و اصلی رہبر و  قائدین ایرانی ہوں ۔  جبکہ شیعوں کے تمام  آئمہ عرب تھے  اور دسویں صدی ہجری تک اکثر شیعہ علماء ، مفکرین اور دانشور بھی غیر ایرانی تھے  کہ جو اکثر عراق و لبنان میں  میں سکونت پذیر تھے  ۔

۲۔ یہ نظریہ اس وقت تو صحیح ہوسکتا ہے کہ  جب روئے زمین پر  سب سے پہلے شیعہ،  ایرانی ہوں ،   جبکہ حقیقت یہ ہے کہ نہ ایسا  کبھی تھا اور نہ ہے ۔ بلکہ اکثر ایرانی  دسویں صدی تک اہل سنت تھے   یہی وجہ ہے کہ اہل سنت و الجماعت کے اصلی منابع اور صحاح  ستہ کے تمام مؤلفین  ایرانی تھے۔

۳۔ جیسا کہ بیان کیا گیا ،  شیعہ مکتب ، اسلام سے الگ کوئی نئی  چیز نہیں ہے بلکہ تشیع ہی  حقیقی اسلام کا  چہرہ ہے  کہ جس کا بیج  آیات الہی کی روشنی میں  خود پیغمبر اکرم ﷺ کے دست مبارک سے مدینہ میں بویا گیا تھا  کہ جو امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی ظاہری خلافت کے زمانے میں عراق کے اندر پھولا اور پھلا  ۔ اور یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب  ایران میں شیعہ مذہب کا کوئی  ایسا تصور بھی نہیں تھا ۔

۴ ۔  ایرانیوں کے شیعہ  ہونے کے متعدد وجوہات ہیں  کہ جو دس صدیوں کے دوران بتدریج نشو و نما کرتے ہوئے  موجودہ صورت  میں ثمر بخش ہوئے ہیں لہذا  ایران میں شیعت کسی  اچانک حادثے  اور بغیر مقدمات کے   داخل  نہیں ہوئی ہے جیسا کہ آنے والی فصلوں یہ بات روشن ہوجائے گی:

پہلا  ۔  حکمرانوں کی  ظلم و زیادتی

ایرانیوں کی امیرالمؤمنین علی علیہ السلام  اور آپ خاندان کی طرف  راغب ہونے اور رجحان کے اسباب میں سے ایک سبب عربوں  اور خاص طور پر بنی امیہ کی طرف سے  ان کی تحقیر و توہین کیا جانا تھا ۔ تاریخ گواہی دیتی ہے کہ ایرانی اسلام  لانے کے بعد عرب سرزمینوں پر موالیوں ( یعنی دوسرے درجہ کے شہری) کے طور پر پہچانے جاتے تھے   لہذا سماج کے سب سے  پست و معیوب اور کم در آمد والے کام   ایرانیوں سے کروائے جاتے تھے ۔([48])  بلکہ وہ عربوں کے ذریعہ اپنی مادری زبان (فارسی ) بولنے کے سبب بھی تحقیر آمیز نگاہوں سے دیکھے جاتے تھے  جیسا کہ نقل ہوا کہ خلیفہ دوم عمر بن خطاب نے طواف خانہ کعبہ کے دوران دو آدمیوں کوآپس میں فارسی زبان میں بات کرتے ہوئے سنا تو انہوں نے کہا : عربی زبان میں بات کرو چونکہ فارسی زبان میں بات کرنے کے سے مروت ختم ہوجاتی ہے ۔([49])

جنگ قادسیہ میں ، ایرانی لشکرکے تقریباً ۴ ہزار سپاہی اسلامی فوج سے ملحق ہوئے  اور انہیں یہ توقع تھی کہ جنگ فتح ہونے کے بعد دیگر مسلمانوں کی طرح انہیں بھی مال غنیمت میں سے حصہ ملے گا  لیکن جنگ تمام ہونے کے بعد، لشکر اسلام  نے اصول کے خلاف عمل کرتے ہوئے  نہ یہ کہ انہیں صرف مال غنیمت  سے محروم رکھا بلکہ ان کی توہین و تذلیل بھی کی ۔

غرض ! ہر جگہ ایرانیوں کی اسی طرح تحقیر و توہین ہوتی رہی یہاں تک کہ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام تک خلافت پہونچی ۔ انہوں نے سب سے پہلے محبت کی حلاوت کو امیرالمؤمنین علیہ السلا م کے وجود سے درک کیا  چونکہ حضرت نے سارے مسلمانوں کو ایک نظر سے دیکھا اور آپ کی حکومت میں عرب و عجم کے درمیان کوئی فرق نہیں تھا  اور جب آپ کی اس روش پر عربوں کی طرف سے تنقید کی گئی تو آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہم کتاب خدا کے اندر، اسماعیل  اور غیرہ اسماعیل کی اولاد میں کوئی فرق   نہیں پاتے ہیں ‘‘ ۔ ([50])

امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی اس انسانیت سے لبریز برتاؤ نے ایرانیوں کے دلوں کو اہل بیت علیہم السلام کے خاندان کی طرف متوجہ کرلیا  اور تشیع کی طرف آنے کے لئے میدان ہموار ہوگیا ۔

دوسرا  ۔ یمن کے اشعری خاندان کی ایران  آمد

عربوں کے ذریعہ ایران فتح ہونے کے بعد جب  ایرانی  قوم  مسلمان ہوئے تو وہ سب کے سب اہل سنت مسلمان  تھے اور انہیں تشیع کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں تھی  یہاں تک کہ یمن کے شیعوں کا سب سے پہلا خاندان قم کی سرزمین پر ہجرت کرکے قیام پذیر ہوا ۔ وہ لوگ سعد بن مالک کی اولاد میں سے تھے کہ جنہوں نے  سن ۱۲۱ ہجری میں امویوں کے خلاف قیام میں زید بن علی بن حسین علیہم السلام   کے ساتھ  شرکت کی تھی ۔سعد کے ایک بیٹے ’’ احوص ‘‘ زید کے لشکر کے ایک سپہ سالار تھے  وہ اس جنگ میں گرفتار اور قید ہوگئے ۔ قید سے رہائی کے بعد  انہوں نے  اپنے بھائی عبداللہ اور اشعری خاندان کے دیگر لوگوں کے ساتھ قم کی طرف ہجرت کی  ان کے بعد بتدریج پورا اشعری قبیلہ قم  پہونچ گیا اور انہوں نے وہاں ایک شیعہ حدیثی علمی مرکز کی بنیاد ڈالی ۔ ([51])

اشعری قبیلہ کے علاوہ  ۔جو عرب کا ایران آکر آباد ہونے والا پہلا شیعہ عرب قبیلہ تھا ۔ کئی دیگر عرب سے شیعہ قبائل جیسا کہ قبیلہ عبد القیس اور خزاعہ وغیرہ ایران آئے اور خراسان کے علاقہ میں آکر سکونت پذیر ہوگئے اور انہوں  نے  ایران میں تشیع کا بیج بو دیا  ۔([52])

یاقوت حموی شہر قم اور وہاں آباد لوگوں کے بارے میں رقمطراز ہیں : ’’ قم ایران کا  ایک ایسا شہر ہے کہ جو مسلمانوں کے ہاتھوں آباد ہوا  اور جس کے آباد کرنے اور بسانے میں عجم کے لوگوں کا کوئی ہاتھ نہیں ہے ۔ سب سے پہلا وہ شخص جو سب سے پہلے اس جگہ آکر آباد ہوا طلحہ بن احوص اشعری تھا ۔ اس شہر کے تمام باشندے شیعہ امامیہ ہیں  کہ جو حجاج بن یوسف کے دور حکومت  (سن ۸۳ ہجری ) میں یہاں آئے ۔ قم کو آباد کرنے والے لوگ، سعد بن مالک بن عامر اشعری کی اولاد تھے ، عبد اللہ بن سعد  کے ایک بیٹے شیعہ تھے کہ جو کوفہ سے ہجرت کرکے  پہلی بار قم تشریف لائے تھے  اور انہوں نے  اس شہر کو  تشیع کا ایسا مرکز  بنا دیا   کہ  یہاں آج بھی کوئی سنی مذہب مسلمان نہیں بستا ہے ‘‘ ۔([53])

نیز وہ اسی طرح تحریر کرتے ہیں : ’’ معتمد عباسی ( تقریباً سن ۲۷۵ ہجری) کے زمانے تک  ری کے علاقہ میں تشیع داخل نہیں ہوئی تھی ‘‘ ۔([54])

بعض محققین کے  بقول  :’’ تشیع سب سے پہلے عربی قبائل میں پہونچی اور اس کے بعد غیر عربوں میں داخل ہوئی ‘‘ ۔([55])

تیسرا  ۔ امام رضا (ع) اور سادات کرام کی ایران ہجرت

ایران میں تشیع کی نشو و نما اور وسعت کے عوامل میں ایک اہم سبب ، امام  علی رضا علیہ السلام کی طوس میں ہجرت و آمد ہے ۔ آپ کے ملکوتی و مقدس وجود  اور آپ کے اعلیٰ انسانی خصلتوں  نے ایران کے لوگوں کے دلوں میں اہل بیت علیہم السلام کی   ،اس عنوان سے کہ یہ لوگ پیغمبر اکرمﷺ کی اولاد اور وارث ہیں ، عظمت  کو زندہ کردیا ۔

امام رضا علیہ السلام کے دیگر مذاہب و ادیان کے علماء اور دانشوروں سے علمی مناظرے و مباحثے  سبب بنے کے سب کے سامنے آپ کی علمی عظمت آشکار ہوگئی  یہاں تک کہ خود مامون کو یہ خوف لاحق ہونے لگا کہ کہیں یہ سب لوگ مجھے ٹھکرا کر امام علیہ السلام کو  میری مسند پر نہ بٹھا دیں  لہذا اس نے آپ  کو شہید کردیا ۔([56])

 امام علی رضا علیہ السلام کی ایران آمد کے نتیجے میں حجاز  و عراق  کے بہت سے شیعہ قبائل نے ایران کا رخ کیا چونکہ وہ لوگ  عباسی خلیفہ منصور دوانقی کے ظلم سے تنگ آکر ایران آئے تھے لہذا انہوں نے   اپنی جان بچانے کی خاطر ایران کے دور دراز علاقوں میں علیحدہ علیحدہ رہنے  کو ترجیح دی ۔ ان افراد کی کرامتوں اور بزرگواری کو  دیکھ کر آہستہ آہستہ ایران کے لوگ ان کے گرویدہ  ہوتے چلے گئے ۔ ان کی  دور دراز علاقوں میں  سکونت ایران میں شیعہ مذہب کے پھلنے اور پھولنے کا سبب بنی۔

یحیٰ بن عبد اللہ بن حسن بن حسن ، زید بن علی کے قیام کے بعد کوفہ کے ایک گروہ کے ساتھ دیلم آگئے  اور تشیع نے اس خطہ میں اتنی وسعت پائی کہ دیکھتے ہی دیکھتے دیلم ، طبرستان اور مازندران  میں ان کی حکومت قائم ہوگئی ۔([57])

چوتھی صدی ہجری میں آل بویہ نے اپنی حکومت کی سرحدوں کو شیراز تک بڑھا لیا تھا  اور پھر وہاں سے ان کی حکومت اتنی وسیع ہوئی کہ بغداد پر بھی ان کا پرچم لہرانے لگا  اور انہوں نے ایک صدی سے زیادہ عرصہ تک  تشیع کو تبلیغ و ترویج میں  مطلق چھوٹ دیدی تھی لیکن اس کے باوجود بھی ایران کے اکثر لوگ اہل سنت ہی  رہے ۔

ساتویں صدی ہجری میں چنگیز خان کی نسل میں سے ایک  حکمراں  سلطان محمد خدا بندہ نے مذہب تشیع اختیار کیا ۔ باوجود اس کے کہ ابھی ایران کی اکثر آبادی  مسلکی اعتبار سے اہل سنت ہی تھی ، شیعہ مذہب کو ان کے ساتھ ایران میں پہلی بار ایک رسمی مذہب کے طور پر  و شناخت  حاصل ہوئی  ۔([58])

 المختصر ! یہ وہ سب اسباب تھے جن کے سبب ایران کے اکثر خطوں میں مشرق سے لیکر مغرب تک، اور شمال سے لیکر جنوب تک تشیع کا بیج بویا گیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ ایک تناور درخت میں تبدیل ہوگیا ۔

آخرکار  دسویں صدی ہجری  کے آغاز میں صفویوں کی حکومت آتے ہی  ایران میں شیعہ مذہب نے رسمیت پائی  اور دیگر مذاہب کی طرف عوام کی توجہ کم ہونے لگی  لہذا ان ناقابل انکار حقائق  کی روشنی میں  مخالفین و معاندین کا یہ دعویٰ کہ شیعہ مکتب ایرانیوں کی ایجاد ہے ، بالکل باطل اور حقیقت کے خلاف ہے ۔

یہ نکتہ بھی قابل ملاحظہ ہے کہ مذکورہ بالا  اسباب  کے علاوہ بھی ۔ بے پناہ تاریخی شواہد کی روشنی میں۔ بہت سے دیگر    اسباب  و عوامل  بھی  ایران میں تشیع کے  پھولنے پھلنے ذریعہ بنے  ان میں سے ایک  یہ کہ جب، عباسی ، بنی امیہ کے خلاف قیام  کے لئے تیاری کررہے تھے تو انہوں نے اپنی تحریک کو مشہور کرنے اور اپنے مقاصد تک پہونچنے کے لئے  مرموز اور عام طور پر فضائل اہل بیت  علیہم السلام کے  تبلیغ کرتے تھے  اگرچہ ان کے اپنے خاص مقاصد تھے  لیکن  نا چاہتے ہوئے بھی اس چیز نے ایران میں تشیع کی نشر و اشاعت  میں مدد کی ۔

کچھ محققین  کی تحقیق کے مطابق ،تشیع چار مرحلوں میں عراق سے ایران میں داخل ہوئی ،سب سے پہلے اشعری قبلہ کے ذریعہ ، دوسری مرتبہ شیخ مفید و شیخ طوسی ،تیسری مرتبہ  علامہ حلی کے  اور چوتھی مرتبہ  جبل عامل کے ان بزرگ علماء کے ذریعہ جو عراق اور شام میں مقیم تھے ۔([59])

3’’تشیع قبیلہ خزرجیان کی ایجاد ہے ‘‘ اس اعتراض کا جائزہ و تحلیل :

 کچھ لوگوں کے زعم میں ، سقیفہ کے واقعہ اور اوس و خزرج  کے درمیان آپسی نزاع   اختلاف  نے شیعہ مکتب  کی پیدائش کے لئے میدان ہموار کیا ۔  ان کے گمان کے مطابق اس دن ( سقیفہ ) اس  غرض سے  کہ حکومت کی  باگ ڈور کہیں قبیلہ خزرج کے ہاتھ میں نہ پہونچ جائے قبلیہ اوس نے ابوبکر کے ہاتھ پر بیعت کرلی  اور ان کے مقابلے ، قبیلہ خزرج والوں نے امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کا ساتھ دیا  اور اس طرح تشیع کی بنیاد پڑ گئی ۔لیکن واضح ہے کہ یہ نظریہ بھی تاریخی حقائق کے مطابق نہیں ہے  جیسا کہ ہم نے بیان کیا ، اسلام و قرآن  کی تعلیمات کے سائے میں رسول اللہ ﷺ کی تأکیدات کے بموجب خود آپ  ہی کے دور حیات میں تشیع  بنیاد پڑگئی تھی  ۔ مزید بر آں ۔ اگر کوئی شخص اہل سنت کے تاریخی منابع سے آشنائی رکھتا ہو تو وہ بخوبی یہ بات جانتا ہے کہ حادثہ سقیفہ کے بعد  خزرجی امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے پیرو نہیں تھے ۔ بلکہ صحابہ و مہاجرین کا ایک گروہ تھا کہ جس نے سقیفہ کے  حادثے کی اطلاع پاکر اس کے خلاف اعتراض کیا  اور یہ وہ لوگ تھے کہ نہ جن کا تعلق قبیلہ خزرج سے تھا اور نہ ہی  وہ سقیفہ بنی ساعدہ میں حاضر  و شریک تھے  ، من جملہ سلمان فارسی  ۔([60])   ابوذر  ، ابی بن کعب  اور  حذیفہ بن یمان وغیرہ  وغیرہ  ۔

یعقوبی کی نقل کردہ روایت کے مطابق ، جب ابوذر مدینہ  پہونچے اور انہیں سقیفہ کے متعلق اطلاع ملی  تو انہوں نے صحابہ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا : ’’ اصبتم ذا السن منكم و اخطاتم اهل بيت نبيكم، لو جعلتموها فيهم ما اختلف عليكم اثنان، و لاكلتموها رغداً ‘‘ ۔([61]) تم لوگ ایک بوڑھے آدمی کی پیروی پر رضامند ہوگئے  اور تم نے اپنے نبی کے اہل بیت (ع) کے رشتہ و تعلق کو نظر انداز کردیا  اگر تم اہل بیت رسول ﷺ کی پیروی کرلیتے تو  دو آدمی بھی تمہارے مخالف نہ ہوتے  اور تم سب  اپنی آرزوؤں تک پہونچ جاتے ۔

نتیجہ :

جو کچھ بیان ہوا اس سے واضح ہوگیا کہ وہابیوں کے  ذریعہ چھوڑے گئے شگوفوں کی کوئی حقیقت نہیں ہے   ۔  مکتب تشیع کی پیدائش  کی جڑیں  اس سے بہت گہری ہیں کہ  انہیں سقیفہ ، عبد اللہ بن سبا اور ایرانیوں کی طرف نسبت دے کر کمزور بنایا جاسکے  بلکہ  اس کی بنیادیں وحی الہی اور احادیث نبوی  کی طرف پلٹتی ہیں اور اس مکتب کے وجود  کی تاریخ بعد عصر رسولﷺ نہیں، بلکہ خود سرکار کے زمانے میں اس مکتب  داغ بیل ڈال دی گئی تھی ۔

مطالعہ کے لئے مزید  کتب :

 عبداللہ بن سبا ؛ علامہ  مرتضی ٰ عسکری۔

تاریخ تشیع در ایران ؛ رسول جعفریان ۔

 تاریخ پیدایش تشیع ؛ مختار اصلانی۔

  صفویہ در عرصہ دین ، فرہنگ  و سیاست ؛ رسول جعفریان ۔

راہنمای حقیقت ؛ آیت اللہ جعفر سبحانی ۔

  تصوف و تشیع ؛ ہاشم معروف حسینی ۔

نشأۃ التشیع و الشیعۃ ؛ سید محمد باقر  الصدر ۔

   صد و پنجاہ صحابہ ساختگی ؛ علامہ مرتضیٰ عسکری ۔

شبہات غدیر ، جلد ۳ ؛ سید مجتبیٰ عصیری ۔

  [62]



[1] ۔تاریخ المذاہب الاسلامیۃ ، ج۱ ، ص ۶۴ ۔

[2] ۔ تاریخ ابن خلدون ، ج۱ ، ص ۱۹۷ ۔

[3] ۔ تاریخ المذاہب الاسلامیۃ ، ج ۱ ، ص ۴۱ ۔ فجر الاسلام ، ص ۱۱۱ ۔

[4] ۔ پیغمبر اکرم  اس دن علی علیہ السلام کی طرف اشارہ کرکے فرمایا تھا : ’’   إِنَّ هَذَا أَخِی وَ وَصِیی وَ خَلِیفَتِی فِیكُمْ فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِیعُوا ‘‘ ۔ تاریخ الامم و الملوک ، ج ۲ ، ص ۶۲ ۔ ۶۳ ؛ الکامل فی التاریخ ، ج۲ ، ص ۶۳ ۔

[5] ۔ سورہ مائدہ : آیت ۳ ۔’’ حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّـهِ بِهِ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوذَةُ وَالْمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيحَةُ وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ وَمَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَأَن تَسْتَقْسِمُوا بِالْأَزْلَامِ ۚ ذَٰلِكُمْ فِسْقٌ ۗ الْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن دِينِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ ۚ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ فِي مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِّإِثْمٍ ۙ فَإِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ‘‘۔

[6] ۔ سورہ مائدہ : آیت ۵۵ ۔ ’’ إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللَّـهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ‘ ‘۔

[7] ۔ سورہ مائدہ : آیت ۶۶ ۔ ’’ وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقَامُوا التَّوْرَاةَ وَالْإِنجِيلَ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْهِم مِّن رَّبِّهِمْ لَأَكَلُوا مِن فَوْقِهِمْ وَمِن تَحْتِ أَرْجُلِهِم ۚ مِّنْهُمْ أُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ ۖ وَكَثِيرٌ مِّنْهُمْ سَاءَ مَا يَعْمَلُونَ‘‘ ۔

[8] ۔ سورہ رعد : آیت ۷ ۔’’ وَيَقُولُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْهِ آيَةٌ مِّن رَّبِّهِ ۗ إِنَّمَا أَنتَ مُنذِرٌ ۖ وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ ‘‘ ۔

[9] ۔ سورہ دہر : آیت ۷ ۔ ۸ ۔’’ يُوفُونَ بِالنَّذْرِ وَيَخَافُونَ يَوْمًا كَانَ شَرُّهُ مُسْتَطِيرًا ﴿٧﴾ وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا‘‘ ۔

[10] ۔ سورہ آل عمران : آیت ۶۱ ۔ ’’ فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِن بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنفُسَنَا وَأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَتَ اللَّـهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ ‘‘ ۔

[11] ۔ سورہ شوری : آیت ۲۳ ۔ ’’ ذَٰلِكَ الَّذِي يُبَشِّرُ اللَّـهُ عِبَادَهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ۗ قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَىٰ ۗ وَمَن يَقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهُ فِيهَا حُسْنًا ۚ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ شَكُورٌ‘‘ ۔

[12] ۔ سورہ احزاب : آیت ۳۳ ۔ ’’ وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ ۖ وَأَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَآتِينَ الزَّكَاةَ وَأَطِعْنَ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ ۚ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّـهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ‘۔

[13] ۔ سورہ نساء : آیت ۵۹ ۔ ’’ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّـهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا ‘‘ ۔

[14] ۔ مسند احمد ، ج۱ ، ص ۸۴ ؛ سنن ابن ماجہ ، ج۱ ، ص ۴۵ ۔

[15] ۔ صحیح البخاری ، ج۸ ، ص ۱۲۷ ۔

[16] ۔ صحیح البخاری ، ج۴ ، ص ۲۰۸ ؛ صحیح مسلم ، ج۷ ، ص ۱۲۰ ۔

[17] ۔ تاریخ مدینۃ دمشق ، ج۴۲ ، ص ۳۹۲ ۔

[18] ۔ تاریخ الامم و الملوک ، ج۲ ، ص ۶۳ ۔

[19] ۔ صحیح مسلم ، ج۷ ، ص ۱۲۳ ۔ ’’ وأنا تَارِكٌ فِيكُمْ ثَقَلَيْنِ أَوَّلُهُمَا كِتَابُ اللَّهِ  ۔ ۔ ۔ ثم قال : و اھل بیتی اذکرکم اللہ فی اھل بیتی ، اذکرکم اللہ فی اھل بیتی ، اذکرکم اللہ فی اھل بیتی‘‘ ۔

[20] ۔ المستدرک علی الصحیحیں ، ج۳ ، ص ۱۲۶ ۔ ’’ أنا مدینة العلم و علی بابها فمن اراد العلم فلیأت الباب‘‘ ۔

[21][21] ۔ المعجم الاوسط ، ج۵ ، ص ۳۰۶ ۔ ’’ أَهْلِ بَیتِی فِیکُمْ کَسَفِینَةِ نُوحٍ فی قومہ، مَنْ دَخَلَهَا نَجَی، وَ مَنْ تَخَلَّفَ عَنْهَا ھلک‘‘ ۔

[22] ۔ المستدرک علی الصحیحیں ، ج۳ ، ص ۱۴۹ ۔ ’’ النجوم أمان لأهل الأرض من الغرق ، وأهل بيتي أمان لأمتي من الإختلاف فإذا خالفتها قبيلة من العرب إختلفوا فصاروا حزب إبليس‘‘۔

[23] ۔ النظم الاسلامی ، ص ۹۶ ۔

[24] ۔ سورہ بینہ : آیت ۷ ۔

[25] ۔ المستدرک علی الصحیحیں ، ج۲ ، ص ۴۴۸ ۔

[26] ۔ الدر المنثور ، ج۶ ، ص ۳۷۹ ۔

[27]  ۔ تاریخ بغداد ، ج۱۲ ، ص ۲۸۴ ۔

[28]  ۔ المستدرک علی الصحیحیں ، ج۳ ، ص ۱۶۰ ۔

[29] ۔ صحیح مسلم ، ج۶ ، ص ۳ ۔

[30] ۔ تاریخ ابن خلدون ، ج۳ ، ص ۱۷۱ ۔ ’’ ان جماعۃ من الصحابۃ کانوا یتشیعون لعلی و یرون استحقاقہ علی غیرہ‘‘ ۔

[31] ۔ النظم الاسلامیۃ ، ص ۹۶ ۔

[32] ۔ دائرۃ المعارف تشیع ، ص ۳ ۔ ۵ ۔

[33] ۔ تاریخ الامم و الملوک ، ج۳، ص ۳۷۸ ۔

[34] ۔الفتنۃ الکبریٰ ، ص ۱۳۴ ؛ علی و فرزندانش ، ص ۲۰۹ ۔

[35] ۔ تاریخ الامم و الملوک ، ۳ ، ص ۳۷۸ ۔

[36] ۔ میزان الاعتدال ، ج۲ ، ص ۱۱۷ ۔

[37] ۔ سابق حوالہ ، ج۲ ، ص ۱۱۶ ۔

[38] ۔ سابق حوالہ ، ج۲ ، ص ۲۷۵ ۔

[39] ۔ سابق حوالہ ، ج۲ ، ص ۲۱۸ ۔

[40] ۔ عبد اللہ بن سبا، ج۱ ، ص ۷۰ ۔

[41] ۔ المستدرک علی الصحیحین ، ج۳ ، ص ۳۴۴ ۔

[42] ۔ اعیان الشیعۃ ، ج۴ ، ص ۲۴ ۔

[43] ۔ الاستیعاب ، ج۳ ،ص ۱۱۳۶  ؛ شرح نہج البلاغہ ، ج۳ ، ص ۵۰ ۔

[44] ۔ نظریۃ الامامۃ ، ص ۳۷ ۔

[45] ۔ الفرق بین الفرق، ص ۲۸ ، ۲۹  اور ۲۱۳ ۔ ۲۱۴ ۔

[46] ۔ تاریخ المذاہب الاسلامیۃ ، ص ۳۵ ۔

[47] ۔ تاریخ المذاہب الاسلامیۃ ، ج ۱ ، ص ۴۱ ؛ فجر الاسلام ، ص ۱۱۱ ۔

[48] ۔العقد الفرید ، ج۳ ، ص ۴۳۱ ؛ تاریخ ابن خلدون ، ج۳ ، ص ۷۵ ۔

[49] ۔ تاریخ جرجان ، ص ۴۲۶ ۔

[50] ۔ الغارات ، ص ۴۶ ۔

[51] ۔ تاریخ قم ، ص ۲۴۷ ۔

[52] ۔ مقاتل الطالبین ، ص ۱۱۵ ۔

[53] ۔ معجم البلدان، ج۴ ، ص ۳۹۶ ۔ ’’ و کان متقدم ھولاء الاخوۃ عبد اللہ بن سعد ، و کان لہ ولد قدریّ فی الکوفۃ فانتقل منھا الی قم و کان امامیاً و ھو الذی نقل التشیع الی اھلھا فلا یوجد بھا سنیّ فقط ‘‘ ۔

[54] سابق حوالہ ، ج۳ ، ص ۱۲۱ ۔

[55] الخوارج و الشیعۃ، ص ۱۴۵ ۔

[56] ۔عیون اخبار الرضا، ج۲ ، ص ۱۳۹ ۔

[57] ۔ تاریخ الامم و الملوک ، ج۶ ، ص ۴۴۹ ۔؛ تاریخ الاسلام ، ج۱۲ ، ص ۴۵۵ ؛ سیر اعلام النبلاء ، ج۹ ، ص ۲۹۱ ۔

[58] ۔ الحلی ، حیاۃ العلامۃ الحلی، ص ۲۵ ۔

[59] ۔ تاریخ تشیع در ایران ، ص ۲۱۰ ۔

[60] ۔ شرح نہج البلاغہ ، ج۶ ، ص ۴۳ ۔

[61] ۔ تاریخ الیعقوبی ، ج۲ ، ص ۱۷۱ ۔





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی