2021 February 26
رسول خدا (ص) کا ابوبكر اور عمرکو اپنی بیٹی فاطمه زهرا (س) کا رشتہ دینے سے انکار۔
مندرجات: ١٨٥٧ تاریخ اشاعت: ٠٤ February ٢٠٢١ - ١٧:٣٦ مشاہدات: 131
مضامین و مقالات » پبلک
رسول خدا (ص) کا ابوبكر اور عمرکو اپنی بیٹی فاطمه زهرا (س) کا رشتہ دینے سے انکار۔

 رسول خدا (ص) کا  ابوبكر اور عمرکو اپنی بیٹی فاطمه زهرا (س) کا رشتہ دینے سے انکار۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خلیفہ اول اور دوم کو اپنی پیٹی جناب زہرا سلام اللہ علیہا کا رشتہ نہیں دیا۔

جناب زہرا (ع) کے ساتھ شادی جس قدر جناب امیرالمومنین علی (ع) کے لئے باعث مسرت تھی اسی حساب سے یہ شادی جناب خلیفہ اول اور دوم کے لئے شرمندگی اور تکلیف کا باعث تھی کیونکہ دونوں خلیفہ نے حضورکی خدمت میں آکر  جنت کی  عورتوں کی سردار جناب فاطمہ(س) کا رشتہ طلب کیا ۔ لیکن رسول اللہ (ص) نے ان دونوں سے منہ پھیرا اور ان کی اس درخواست کو مسترد کردیا۔

در حقیقت آپ نے اس انکار کے ذریعے ان دونوں کو یہ پیغام دیا کہ تم دونوں جناب زہراء سلام اللہ علیہا سے رشتہ داری قائم کرنے کے لائق نہیں ہیں۔

 کیونکہ ان  دونوں کا حضرت زہرا(ع) سے نہ  عمر کے اعتبار سے کوئی سنخیت تھی او نہ ہی ایمان ، اخلاق اور نسب کے اعتبار سے  کوئی برابری۔

اس سلسلے میں اہل سنت کی کتابوں میں متعدد روایات موجود ہیں لیکن ہم ان میں سے صرف بعض کے ذکرپر اکتفا کرتے ہیں:

۱۔ابن حجر هيثمي  نے اپنی کتاب صواعق محرقه کا گیارہواں باب مکمل طور پرشیعوں کے خلاف مختص کردیاہے، ابن حجراسی کتاب میں رقم طراز ہے :

وأخرج أبو داود السجستاني أن أبا بكر خطبها فأعرض عنه صلي الله عليه وسلم ثم عمر فأعرض عنه فأتيا عليا فنبهاه إلي خطبتها فجاء فخطبها فقال له صلي الله عليه وسلم ( ما معك ) فقال فرسي وبدني .

الصواعق المحرقة علي أهل الرفض والضلال والزندقة ، أبو العباس أحمد بن محمد بن علي ابن حجر الهيثمي (متوفاي 973هـ) ج 2 ص 471 ، ناشر : مؤسسة الرسالة - لبنان - 1417هـ - 1997م ، الطبعة : الأولي ، تحقيق : عبد الرحمن بن عبد الله التركي - كامل محمد الخراط .

ابو داود سجستاني نقل کرتے ہیں : ابوبكر نے رسول اللہ سے حضرت زهرا (س) کا رشتہ مانگا لیکن رسول اللہ (ص) نے ان سے منہ پھیر لیا اور پھر عمر نے بھی رسول اللہ سے  حضرت زھراء کا رشتہ مانگا لیکن حضور نے ان سے  بھی منہ پھیر لیا۔

اس کے بعد حضرت علی (ع) آئے تو آپ انہیں رشتہ دینے پر رضامند ہوئے اور ان سے جناب فاطمہ(س)  کا عقد کر دیا۔ اس کے بعد رسول اللہ (ص) نے حضرت علی(ع)  سے سوال فرمایا: آپ کے پاس کیا کچھ ہے؟ تو آپ نے جواب میں فرمایا: میرے پاس اپنا بدن اور ایک گھوڑاہے۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ ھیثمی نے اس حدیث کو اپنی کتاب میں نقل تو کیا ہے لیکن سنن ابن ابی داود میں یہ روایت نظر نہیں آتی ہے ۔

لگتا ہے  مکتب خلفاء کے پیروکاروں نے  اس روایت کو اس کتاب سے ہٹادیا ہے یاہھر ہوسکتا ہے ھیثمی نے اس روایت کو ان کے دوسرے منابع میں مشاہدہ کیا ہو۔ بہرحال ہمیں اس چیز کا قطعی علم نہیں ہے۔  

۲۔ابن حبان نے اپنی صحیح میں اور  نسائي نے اپنی سنن میں لکھا ہے :

عن عبد الله بن بريدة عن أبيه قال خطب أبو بكر وعمر رضي الله عنهما فاطمة فقال رسول الله صلي الله عليه وسلم إنها صغيرة فخطبها علي فزوجها منه.

سنن النسائي ، ج 6 ، ص62 و خصائص أمير المؤمنين (ع) ، النسائي ، ص 114 و صحيح ابن حبان ، ابن حبان ، ج 15 ، ص 399 و...

عبد الله بن بريده اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ جب ابوبکر اور عمر نے جناب فاطمہ (ع) کا رشتہ مانگاتو رسول اللہ (ص) نے جواب میں یوں فرمایا: فاطمہ ابھی چھوٹی ہیں۔پھر حضرت علی (ع) نے رشتہ مانگا توقبول فرمایا۔

۳۔حاكم نيشابوري نے اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد یوں تصریح کی ہے:

هذا حديث صحيح علي شرط الشيخين ولم يخرجاه .

المستدرك ، ج 2 ، ص167.

یہ حدیث مسلم اور بخاری کی شرط کے مطابق صحیح ہے۔لیکن ان دونوں نے اس حدیث کو اپنی صحاح میں نقل نہیں کیا ہے۔

  متقي هندي لکھتے ہیں :

۴۔خطب أبو بكر وعمر فاطمة إلي رسول الله صلي الله عليه وسلم فأبي رسول الله صلي الله عليه وسلم عليهما .

كنز العمال ، المتقي الهندي، ج 13 ، ص 114 .

ابوبكر و عمر نے رسول خدا (ص) سے جناب فاطمه(ع) کا رشتہ مانگا لیکن رسول اللہ (ص) نے انہیں رشتہ دینے سے انکار کیا۔

اسی طرح  هيثمي لکھتے ہیں :

عن حجر بن عنبس ، فقال : خطب أبو بكر وعمر رضي الله عنهما فاطمة رضي الله عنها فقال النبي صلي الله عليه وسلم هي لك يا علي . رواه الطبراني ورجاله ثقات .

مجمع الزوائد ، ج 9 ، ص204 و أسد الغابة ، ابن الأثير ، ج 1 ، ص 386 و ج 5 ، ص 520 و المعجم الكبير ، الطبراني ، ج 4 ، ص 34 و مجمع الزوائد ، الهيثمي ، ج 9 ، ص 204 و ... .

۵۔حجر بن عنبس کہتے ہیں : ابوبكر و عمر نے رسول اللہ (ص) سے جناب فاطمه (ع ) کا رشتہ مانگا  لیکن پیغمبر اکرم (ص)  نے حضرت علی (ع) سے فرمایا: فاطمہ آپ کے ساتھ مخصوص ہیں۔

ھیثمی لکھتے ہیں کہ اس روایت کو طبراني نے نقل کیا ہے اور اس روایت کو نقل کرنے والے سب کے سب قابل اعتماد بھی ہیں ۔

شاید یہی چیز باعث بنی کہ خلیفہ اول اور دوم کے دل میں ان کی نسبت سے کینہ ٹھہر گیا اور کئی سالوں بعد ان کے گھر پر حملہ کیا اور ان کے گھر کو آگ لگادی، جناب  فاطمہ (ع) کو مارا اورنتیجے میں ان کا بچہ حضرت محسن شہید ہوگیا۔

 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی