2022 July 2
امام مہدی علیہ السلام کے غائب ہونے کی دلیل اور وجہ کیا ہے ؟
مندرجات: ٢٢٤٠ تاریخ اشاعت: ١٠ March ٢٠٢٢ - ١٦:٢٥ مشاہدات: 616
سوال و جواب » امام حسین (ع)
امام مہدی علیہ السلام کے غائب ہونے کی دلیل اور وجہ کیا ہے ؟

امام مہدی علیہ السلام کے غائب ہونے کی دلیل اور وجہ کیا ہے ؟

 امام جواب دیتے ہیں :

امام زمان صلوات الله علیه کا غائب ہونا اسرار الهی میں سے ایک ہے۔ لوگوں کو اس کی اصلی علت اور حکمت کا علم نہیں ہے ،جیساکہ اس سلسلے میں متعدد روایات نقل ہوئی ہیں۔  ؛

شیخ صدوق نے  علل الشرایع  میں نقل کیا ہے :

عن عبد الله بن الفضل الهاشمي قال سمعت الصادق جعفر بن محمد عليه السلام يقول إن لصاحب هذا الامر غيبة لابد منها يرتاب فيها كل مبطل فقلت له ولم جعلت فداك قال لأمر لم يؤذن لنا في كشفه لكم قلت فما وجه الحكمة في غيبته قال وجه الحكمة في غيبته وجه الحكمة في غيبات من تقدمه من حجج الله تعالى ذكره ان وجه الحكمة في ذلك لا ينكشف إلا بعد ظهوره كما لا ينكشف وجه الحكمة لما أتاه الخضر عليه السلام من خرق السفينة وقتل الغلام وإقامة الجدار لموسى عليه السلام إلا وقت افتراقهما يا بن الفضل ان هذا الامر أمر من أمر الله وسر من سر الله وغيب من غيب الله ومتى علمنا أنه عز وجل حكيم صدقنا بان أفعاله كلها حكمة وإن كان وجهها غير منكشف لنا

عبدالله بن فضل هاشمى  نقل کرتا ہے : میں نے  امام صادق عليه السلام سے سنا ، آپ فرمارہے تھے : جان لیں کہ صاحب الامر کی غیبت حتمی ہے ،یہاں تک کہ اہل باطل اس میں شک کرئے گا ، میں نے کہا :  يابن رسول الله(ص) آپ غائب ہوں گے ؟ فرمایا :  اس کی خاص علت ہے ہمیں اس علت کو بیان کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔ میں نے کہا : ان کی غیبت میں کیا حکمت پوشیدہ ہے ؟ فرمایا : جو حکمت آپ سے پہلے کے اللہ کی حجتوں کی غیبت میں تھی؟ قائم کی غیبت کی حكمت آپ کے ظہور کے بعد ظاہر ہوگی۔ جس طرح سے جناب خضر (ع)کی طرف سے کشتی کو سوراخ کرنے ، بچے کو قتل کرنے اور دیوار کی تعمیر کی حکمت حضرت موسى عليه السلام کو اس وقت معلوم ہوا جب یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا ہونے لگے ۔

علل الشرائع - الشيخ الصدوق - ج 1 ص 246

لہذا اس روایت کے مطابق امام مہدی علیہ السلام کی غیبت کی دلیل الٰہی اسرار میں سے ہے ، اور اہل بیت علیہم السلام کو بھی اس کو آشکار کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ لیکن غیبت کی حکمت اسرار الٰہی میں سے نہیں ہے اہل بیت علیہم السلام اس کو چاہئے تو آشکار کرسکتے ہیں ،اگرچہ اس روایت میں حکمت بیان نہیں ہوئی لیکن دوسری روایتوں میں یہ حکمتیں بیان ہوئی ہیں ،اب ہم ان حکمتوں کو بیان کرتے ہیں ۔

انبیاﺀ کی سنتوں کو امام مہدی علیہ السلام کے لئے زندہ کرنا:

جیساکہ شیخ صدوق نے امام صادق علیہ السلام کی یہ روایت نقل کی ہے :

عن أبي عبد الله عليه السلام قال إن للقائم منا غيبة يطول أمدها فقلت له يا ابن رسول الله ولم ذلك قال لان الله عز وجل أبى إلا أن تجري فيه سنن الأنبياء عليهم السلام في غيباتهم وإنه لا بد له يا سدير من استيفاء مدد غيباتهم قال الله تعالى لتركبن طبقا عن طبق أي سنن من كان قبلكم

حنان بن سدیر نے اپنے والد سے انہوں نے  امام صادق علیه السلام سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا : ہمارے  قائم کے لئے ایک طولانی غیبت ہے۔ راوی نے کہا : اے فرزند رسول اللہ(ص) ! اس کی علت کیا ہے ؟ فرمایا : اللہ ان کے بارے میں انبیاﺀ کی سنتوں کو جاری کرنا چاہتا ہے ، اے سدید ! یہ غیبت حتمی ہے اور غیبت کی مدت ختم ہوگی، اللہ کا ارشاد ہے:  یقیناً سابقہ لوگوں کی سنتیں تم لوگوں میں بھی جاری ہوںگیں۔

كمال الدين وتمام النعمة - الشيخ الصدوق - ص 480 و 481

علل الشرائع - الشيخ الصدوق - ج 1 ص 245

کسی ظالم اور ستم گر کی بیعت ان کی گردن پر نہ ہونا :

غیبت کی حکمتوں میں سے ایک کسی ظالم جابر اور فاسق حاکم کی بیعت آپ کی گردن پر نہ ہونا ہے ،

شیخ صدوق نے اس طرح نقل کیا ہے :

عن أبي الحسن علي ابن موسى الرضا عليه السلام أنه قال كأني بالشيعة عند فقدهم الثالث من ولدي يطلبون المرعى فلا يجدونه قلت له ولم ذلك يا بن رسول الله قال لان إمامهم يغيب عنهم فقلت ولم قال لئلا يكون في عنقه لاحد حجة إذا قام بالسيف

حسن بن علىّ بن فضّال نے  امام رضا عليه السّلام سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا:  گویا میں شیعوں کو دیکھ رہا ہوں کہ میری نسل سے میرے تیسرے فرزند کو نہیں پائیں گے اور شیعہ اس چیز کے پیچھے ہوں گے کہ کوئی ان کے امور کو سنبھالے لیکن اس کو نہیں پائیں گے ۔ میں نے کہا : اے رسول اللہ (ص) کے فرزند ایسا کیوں ہے ؟ فرمایا : کیونکہ ان کے امام غائب ہوں گے ، عرض کیا : کیوں ؟ فرمایا : تاکہ قیام کے وقت کسی کی بیعت ان کی گردن پر نہ ہو۔  

علل الشرائع - الشيخ الصدوق - ج 1 ص 245

کمال الدین کی روایت میں ہے :

عن إسحاق بن يعقوب قال سألت محمد بن عثمان العمري رضي الله عنه أن يوصل لي كتابا قد سألت فيه عن مسائل أشكلت علي فورد التوقيع بخط مولانا صاحب الزمان عليه السلام... وأما علة ما وقع من الغيبة فإن الله عز وجل يقول يا أيها الذين آمنوا لا تسئلوا عن أشياء إن تبد لكم تسؤكم، إنه لم يكن لأحد من آبائي عليهم السلام إلا وقد وقعت في عنقه بيعة لطاغية زمانه وإني أخرج حين أخرج ولا بيعة لأحد من الطواغيت في عنقي

  اسحاق بن یعقوب نے اس مطلب کو امام عصر صلوات الله علیه سے  علی بن محمد بن عثمان کے واسطے سے نقل کیا ہے : غیبت کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے :  

مومنو! ایسی چیزوں کے بارے میں مت سوال کرو کہ اگر ان کی حقیقتیں تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں بری لگیں۔ ۔ میرے  اجداد کی گردن پر کسی نہ کسی طاغوت کی بیعت تھی لیکن جب میں قیام کروں گا تو کسی طاغوت کی بیعت میری گردن پر نہیں ہوگی ۔

كمال الدين وتمام النعمة - الشيخ الصدوق - ص 485

مرحوم نعمانی نے کتاب الغیبه میں نقل کیا ہے :

إن القائم منا إذا قام لم يكن لأحد في عنقه بيعة فلذلك تخفى ولادته و يغيب شخصه

جب ہمارا قائم قیام کریں گے تو کسی کی بیعت ان کی گردن پر نہیں ہوگی ،اسی لئے ان کی ولادت مخفی رہی اور آپ غائب ہیں۔

كمال الدين وتمام النعمة - الشيخ الصدوق - ص 303

کافر کے صلب سے اہل ایمان کا خالی ہونا :

شیخ صدوق نے  کتاب علل الشرایع میں نقل کیا ہے:

عن أبي عبد الله عليه السلام قال قلت له ما بال أمير المؤمنين عليه السلام لم يقاتل فلانا وفلانا وفلانا قال لآية في كتاب الله عز وجل لَوۡ تَزَيَّلُواْ لَعَذَّبۡنَا ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنۡهُمۡ عَذَابًا أَلِيمًا قال قلت وما يعني بتزايلهم قال ودائع مؤمنين في أصلاب قوم كافرين وكذلك القائم صلوات الله عليه لن يظهر ابدا حتى تخرج ودائع الله تعالى فإذا خرجت ظهر على من ظهر من أعداء الله فقتلهم

ابن ابی عمیر، نے امام صادق علیه السلام سے نقل کیا ہے کہ میں نے امام سے پوچھا: امیرالمؤمنین علیه السلام نے شروع والے اپنے مخالفین سے جنگ کیوں نہیں کی؟ فرمایا : اس آیت کی وجہ سے جو قرآں مجید میں موجود ہے:  اور اگر یہ الگ الگ ہوتے تو ان میں جو کافر تھے ہم ان کو درد ناک سزا دیتے۔

میں نے کہا : جدا ہونے سے آپ کیا مراد لیتے ہیں؟   فرمایا : اس سے مراد مومنوں کے نطفے ہیں جو کافروں کے صلب میں امانتا قرار دئے گئے ہیں، قائم اس وقت تک ظہور نہیں کریں گے جب تک اللہ کی یہ امانتیں ظاہر نہ ہو اور جب اہل ایمان کافروں کے صلب سے باہر آئیں گے اس وقت آپ ظاہر ہوں گے  اور جو بھی اللہ کے دشمنوں کو پائے اس پر غالب آئیں گے اور  اسے قتل کریں گے ۔

علل الشرائع - الشيخ الصدوق - ج 1 ص 147

لوگوں کا امتحان :

  امام زمان صلوات الله علیه کے غائب ہونے کی علتوں میں سے ایک لوگوں کا امتحان ہے

شیخ صدوق نے  ’’ کمال الدین ’’ میں نقل کیا ہے :

عن زرارة بن أعين قال سمعت الصادق جعفر بن محمد عليهما السلام يقول إن للغلام غيبة قبل أن يقوم قلت ولم ذاك جعلت فداك فقال يخاف وأشار بيده إلى بطنه وعنقه ثم قال عليه السلام وهو المنتظر الذي يشك الناس في ولادته فمنهم من يقول إذا مات أبوه مات ولا عقب له ومنهم من يقول قد ولد قبل وفاة أبيه بسنتين لان الله عز وجل يحب أن يمتحن خلقه فعند ذلك يرتاب المبطلون

زرارة بن اعین کہتے ہیں : امام صادق(ؑع) سے سنا ہوں ، آپ نے فرمایا : قائم کے لئے غیبت ہے ،آپ ایسا منتظر ہے کہ جس کی ولادت کے بارے میں لوگ شک کریں گے ، بعض کہیں گے کہ جس وقت ان کے والد کا انتقال ہوا اس وقت ان کا کوئی فرزند نہیں تھا ، بعض کہیں گے اپنے والد کی رحلت سے دو سال پہلے دنیا میں آیا ، کیونکہ اللہ اس کام کے ذریعے بندوں کا امتحان لے گا اور جو اہل باطل ہو گا وہ اس امتحان میں کامیاب نہیں ہوگا ۔

كمال الدين وتمام النعمة - الشيخ الصدوق - ص 346

شیخ صدوق نے دوسری روایت یوں نقل کی ہے :

عن موسى بن جعفر عليه السلام قال إذا فقد الخامس من ولد السابع فالله الله في أديانكم لا يزيلكم أحد عنها يا بنى انه لابد لصاحب هذا الامر من غيبته حتى يرجع عن هذا الامر من كان يقول به إنما هي محنة من الله عز وجل امتحن بها خلقه

جب ساتویں امام کی نسل سے پانچویں غائب ہوگا  تو اس وقت اپنے دین کے بارے میں ہوشیار رہنا تاکہ کوئی دین کو تم سے نہ چھینے ۔ میرے بیٹے ! اس صاحب الامر ( امام زمان علیہ السلام ) کے لئے غیبت حتمی ہے ،یہاں تک کہ ان کو ماننے والے بعض لوگ ان سے منہ پھیریں گے ۔ یقینا یہ اللہ کے بندوں کا امتحان ہے ،اللہ ان کے ذریعے سے اپنے بندوں کا امتحان لے گا۔

 

علل الشرائع - الشيخ الصدوق - ج 1 ص 244

گمراہ لوگوں کا آشکار ہونا :

امام زمان علیہ السلام کے غائب ہونے کی علتوں میں سے ایک گمراہ لوگوں کا آشکار ہونا ہے ۔ مرحوم نعمانی نے کتاب الغیبۀ میں نقل کیا ہے :

عن أبي عبد الله جعفر بن محمد عن آبائه عليهم السلام قال زاد الفرات على عهد أمير المؤمنين عليه السلام فركب هو وابناه الحسن والحسين عليهما السلام فمر بثقيف فقالوا قد جاء علي يرد الماء فقال علي عليه السلام أما والله لأقتلن أنا وابناي هذان وليبعثن الله رجلا من ولدي في آخر الزمان يطالب بدمائنا وليغيبن عنهم تمييزا لأهل الضلالة حتى يقول الجاهل ما لله في آل محمد من حاجة

امام صادق علیه السلام نے اپنے والد سے نقل کیا ہے ، امير المؤمنين عليه السّلام کی خلافت کے دور میں فرات کا پانی اوپر آیا ، امام اپنے دوفرزند ،امام حسن اور امام حسین علیہم السلام کے ساتھ سواری پر سوار ہوکر نکلے جب یہ خبر ثقیف والوں تک پہنچی تو ان لوگوں نے کہا : علی علیہ السلام فرات کے پانی کو نیچے لانے کے لئے تشریف لائے ہیں، اس وقت امام علی علیہ السلام نے فرمایا : اللہ کی قسم ،میں اور میرے یہ دو فرزند قتل ہو جائیں گے ، یقینا اللہ آخری زمانے میں  میرے فرزندوں میں سے ایک فرزند کو بھیجے گا وہ ہمارے خون کا انتقام لیں گے ، وہ یقینا غائب ہوں گے تاکہ غیبت کے زمانے میں گمراہ لوگ آشکار ہوجائے ۔ یہاں تک کہ جاہل لوگ کہیں گے : اللہ کو آل محمد سےکوئی سرو کار نہیں ۔

الغيبة - ابن أبي زينب النعماني - ص 143

لوگوں کا اپنے اوپر ظلم :

جیساکہ کتاب ’’الغیبۀ نعمانی’’ میں نقل ہوا ہے :

عن المفضل بن عمر قال قال أبو عبد الله عليه السلام خبر تدريه خير من عشر ترويه إن لكل حق حقيقة ولكل صواب نورا ثم قال إنا والله لا نعد الرجل من شيعتنا فقيها حتى يلحن له فيعرف اللحن إن أمير المؤمنين عليه السلام قال على منبر الكوفة إن من ورائكم فتنا مظلمة عمياء منكسفة لا ينجو منها إلا النومة قيل يا أمير المؤمنين وما النومة قال الذي يعرف الناس ولا يعرفونه واعلموا أن الأرض لا تخلو من حجة لله عز وجل ولكن الله سيعمي خلقه عنها بظلمهم وجورهم وإسرافهم على أنفسهم ولو خلت الأرض ساعة واحدة من حجة لله لساخت بأهلها ولكن الحجة يعرف الناس ولا يعرفونه كما كان يوسف يعرف الناس وهم له منكرون ثم تلا يا حسرة على العباد ما يأتيهم من رسول إلا كانوا به يستهزؤون

مفضّل بن عمر نے امام صادق عليه السّلام سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا :ایک خبر اور روایت کو سمجھنا دس روایات کو نقل کرنے سے بہتر ہے ،یقینا ہر حق کی ایک حقیقت ہے اور ہر صحیح کام کے لئے ایک نور ہے ،پھر فرمایا : اللہ کی قسم میں کسی شیعہ کو اس وقت تک فقیہ نہیں سمجھتا یہاں تک کہ اسے ایک رمزی بات بتائے اور وہ اس کے راز کو جان لے ۔ امير المؤمنين عليه السّلام نے كوفه کے ممبر پر فرمایا : یقینا تاریک فتنے آنے والے ہیں ان فتنوں سے  نومہ کے علاوہ کوئی اور نجات حاصل نہیں کر سکے گا ۔عرض کیا : نومہ سے کیا چیز مراد ہے ؟ فرمایا : وہ شخص ہے کہ جو لوگوں کو پہچانتا ہے لیکن لوگ اسے نہیں پہچانتے ،جان لے زمین اللہ کی حجت سے خالی نہیں ہوگی ، اللہ عنقریب اپنے خلق کی آنکھوں سے حجت کو پنھان کرئے گا اور اس کی وجہ لوگوں کا خود اپنے اوپر ظلم و ستم ہے ۔ اگر زمین ایک لحظہ کے لئے اللہ کی حجت سے خالی ہو جائے تو زمین اپنے اہل کو دھنس لے گی۔ وہ حجت لوگوں کو پہچانتی ہے اور لوگ انہیں نہیں پہچانتے ،جیساکہ جناب یوسف لوگوں (اپنے بھائیوں) کو پہچانتے تھے لیکن ان کے بھائی انہیں نہیں پچانتے تھے ۔

اس کے بعد آپ نے اس آیت کی تلاوت کی: يا حَسْرَةً عَلَى الْعِبادِ ما يَأْتِيهِمْ... (ایسے) بندوں پر افسوس  ! کبھی بھی کوئی رسول ان کے پاس نہیں آیا جس کی ہنسی انہوں نے نہ اڑائی ہو ۔

  الغيبة - ابن أبي زينب النعماني - ص 144

اللہ کا لوگوں پر غضبناک ہونا :

امام کے غائب ہونے کی ایک حکمت یہ بتائی ہے کہ لوگوں نے کیونکہ گناہ کیا ہے اور اللہ کی حجت کی پیروی نہیں کی ہے لہذا اللہ نے اس وجہ سے اپنی نعمت (حجت خدا ) کو لوگوں کے درمیان سے اٹھا لیا ہے :

مرحوم کلینی نے امام جواد علیه السلام سے نقل کیا ہے :

عن محمد بن الفرج قال كتب إلي أبو جعفر عليه السلام إذا غضب الله تبارك وتعالى على خلقه نحانا عن جوارهم

محمد بن فرج کہتا ہے : امام جواد علیه السلام نے مجھے لکھا : جب اللہ اپنے خلقسے ناراض اور غضبناک ہو تو ہمیں لوگوں سے دور کرئے گا ۔

الكافي - الشيخ الكليني - ج 1 ص 343

شیخ صدوق نے ایک اور روایت نقل کیا ہے :

عن مروان الأنباري قال خرج من أبى جعفر عليه السلام ان الله إذا كره لنا جوار قوم نزعنا من بين أظهرهم

مروان انباری کہتا ہے : امام باقر علیه السلام کی طرف سے ایک خط ملا اس میں لکھا ہوا تھا : بتحقیق اگر اللہ ہمیں ایک قوم کے درمیان نہیں رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں ان سے دور کرئے گا ۔

علل الشرائع - الشيخ الصدوق - ج 1 ص 244

قتل کا خوف :

امام کے غائب ہونے کی حکمتوں میں سے ایک قتل ہونے کے خوف کو قرار دیا ہے.

تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ اہل بیت علیہم السلام کے دشمنوں نے ہمیشہ ائمہ اہل بیت علیہم السلام کو شہید کرنے کی کوشش کی اور اسی سلسلے میں ائمہ اہل بیت علیہم السلام میں سے 11 کو شہید کیا ۔

اور جیساکہ امام زمان علیہ السلام کے ذمے بہت عظیم ذمہ داریاں تھیں مثلا :دنیا میں عدل و انصاف پر مبنی اسلامی حکومت کا قیام اور دنیا سے ظلم و ستم کا خاتمہ کرنا ہے۔

 لہذا آگر آپ اس حکومت کے مقدمات اور زمینہ فراہم ہونے سے پہلے لوگوں کے درمیان رہتے تو ممکن تھا آپ کو دشمن نقصان پہنچاتا ، آپ پر حملہ کرتا اور آپ کو شہید کرتا  اور نتیجے میں آپ اپنے فرائض کو انجام نہیں دے پاتے ۔لہذا اللہ نے اپنے وعدے کو عملی جامعہ پہنانے کے لئے اور زمین پر عدل و انصاف پر مبنی حکومت قائم کرنے کے لئے اپنی حجت کو غائب کیا تاکہ دشمن کے شر سے آپ محفوظ رہ سکے اور ظہور کے لئے حالات ساز گار ہو اور آپ عالمی اسلامی عادل حکومت کو اچھے اور احسن انداز میں تشکیل دئے سکے ۔

روایات میں بھی قتل ہونے کے خوف کو آپ کے غائب ہونے کی حکمتوں میں سے ایک حکمت کہا ہے ؛

شیخ صدوق نے ’’ علل الشرایع ’’ میں نقل کیا ہے :

عن أبي عبد الله عليه السلام قال قال رسول الله صلى الله عليه وآله لابد للغلام من غيبة فقيل له ولم يا رسول الله قال يخاف القتل

  امام صادق علیه السلام سے نقل ہوا ہے کہ رسول خدا صلی الله علیه و آله نے فرمایا : اس جوان(امام زمان علیه السلام کی طرف اشارہ) کا غائب ہونا  حتمی ہے ۔عرض کیا : یا رسول الله(ص) کیوں غائب ہوں گے ؟ فرمایا : قتل کرنے کے خوف سے .

علل الشرائع - الشيخ الصدوق - ج 1 ص 243

اس کتاب میں ایک اور جگہ نقل ہوا ہے :

عن زرارة قال سمعت أبا جعفر عليه السلام يقول إن للقايم غيبة قبل ظهوره قلت ولم قال يخاف وأومى بيده إلى بطنه قال زرارة يعنى القتل

زراره کہتے ہیں: امام باقر علیه السلام سے سنا کہ آپ نے فرمایا : یقینا ہمارے قائم کے ظہور سے پہلے غیبت ہے ۔میں نے کہا : ایسا کیوں ہے ؟ فرمایا : خون کی وجہ سے ( امام نے اپنے ہاتھ سے پیٹ کی طرف اشارہ کیا (زرارہ نے کہا  یعنی قتل کے خوف سے )  

علل الشرائع - الشيخ الصدوق - ج 1 ص 246

 

شبهات کے جواب دینے والی ٹیم ، تحقیقاتی ادارہ حضرت ولی عصر

(عجل الله تعالی فرجه الشریف)

 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی