2018 July 20
عید الاضحی پر لکھنؤ میں شیعہ سنی اتحاد
مندرجات: ٢٦٣ تاریخ اشاعت: ١٣ September ٢٠١٦ - ١٢:٤٠ مشاہدات: 385
خبریں » پبلک
عید الاضحی پر لکھنؤ میں شیعہ سنی اتحاد

انڈیا میں تہذیب کا گہوراہ کہلانے والے شہر لکھنؤ سے کبھی شیعہ سنی فسادات کی خبریں آتی تھیں لیکن حالیہ برسوں کے دوران وہاں سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں۔

منگل کو لکھنؤ کے قلب میں واقع تاریخی امام بارگاہ شاہ نجف میں شیعہ سنی نے ایک ساتھ عید الاضحی کی نماز ادا کرکے دنیا بھر میں مسلکی کشیدگی کے درمیان اتحاد کا ایک پیغام دیا ہے۔

سنی عالم مولانا قمر عالم کی امامت میں شیعہ مسلک کے سرکردہ عالم دین مولانا کلب جواد کی قیادت میں بڑی تعداد میں شیعہ مسلک کے لوگوں نے نماز ادا کی اور اس موقعے پر بین مذاہب عید ملن کا پروگرام بھی رکھا گیا۔

 
عیدالاضحی کی نماز کے لیے سنی امام مولانا قمر عالم نے امامت کی

بین مذاہب اتحاد کے لیے کوشاں تنظیم ’شولڈر ٹو شولڈر‘ کے سیکریٹری عاطف حنیف نے بی بی سی کو بتایا کہ ’موسم کی اٹھکیلیوں کے باوجود لوگ بڑی تعداد میں امام بارگاہ میں جمع ہوئے اور یہ دنیا کو یہ پیغام دیا کہ شیعہ سنی صلح و آشتی سے رہ سکتے ہیں۔‘

جبکہ شیعہ رہنما اور تنظیم کے ایک عہدیدار سبطین باقری نے ہمیں بتایا کہ ’گذشتہ سال کے مقابلے ہمیں اس بار دوگنی حمایت ملی اور ایسا لگتا ہے کہ لکھنؤ شہر وہ دھبہ دھونا چاہتا کیونکہ یہ شہر شیہ سنی فسادات کے لیے جانا جاتا تھا۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ’اس سے یہ دنیا کے سامنے یہ پیغام گیا ہے کہ شیعہ سنی شانہ سے شانہ ملا کر ایک ساتھ نماز ادا کر سکتے ہیں، ایک ساتھ رہ سکتے ہیں اور کوئی ضرورت نہیں ہے ایک دوسرے کا خون بہنانے کی۔‘

I
شیعہ اور سنی کے درمیان اتحاد پیدا کرنے کی غرض سے بقرعید کی نماز تاریخی امام باڑے شاہ نجف میں ادا کی گئي

عاطف حنیف نے بتایا کہ ’چونکہ لکھنو ادب اور ثقافت کا مرکز رہا ہے اس لیے ہمارا یہ خیال تھا کہ یہاں سے جو بات نکلتی ہے وہ دنیا بھر میں جاتی ہے اور یہ صرف آج کی ہی بات نہیں بلکہ یہ گذشتہ پانچ سو سال سے ہوتا رہا ہے اور اس کے اثرات ہندوستان میں دیکھے جاتے رہے ہیں۔‘

شولڈر ٹو شولڈر کے فیس بک پر ایک پوسٹ میں بتایا گیا ہے کہ دہلی کے زور باغ میں شاہ مرداں درگاہ میں شیعہ امام کے پیچھے بہت سے سنی بھائیوں نے نماز ادا کی ہے۔





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی