2018 September 24
ایران میں اہل سنت کی مسجد کو مسمار کرنے کا ماجرا کیا ہے؟
مندرجات: ٢٨١ تاریخ اشاعت: ١٧ September ٢٠١٦ - ١٥:١٤ مشاہدات: 767
خبریں » پبلک
تحقیقی رپورٹ
ایران میں اہل سنت کی مسجد کو مسمار کرنے کا ماجرا کیا ہے؟

یہ ماجرا یہاں سے شروع ہوا کہ وہابی ویب سائٹ کلمہ نیوز نے ایک تصویر جو ۱۹۹۱ میں صیہونی ریاست کے ہاتھوں فلسطینیوں کے ایک تجارتی مرکز کو ویران کئے جانے سے مربوط تھی کو شائع کر کے دعویٰ کیا کہ تہران کی میونسپلٹی نے اہل سنت کی ایک مسجد کو مسمار کر دیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایران مخالف صیہونی اور وہابی میڈیا نے مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت کی آگ بھڑکانے کے لیے ایک بار پھر تہران میں اہل سنت کی مسجد کو مسمار کئے جانے کا بہانہ تراشا تاکہ اس کے ذریعے اپنے ناجائز مقاصد تک رسائی حاصل کر سکیں۔
صیہونی میڈیا جیسے وائس آف اسرائیل، یورو نیوز، وائس آف امریکہ، العربیہ، بی بی سی، الجزیرہ، کلمہ نیوز، دویچہ ولہ، ٹومارو ریڈیو، اسکای نیوز وغیرہ نے پوری منصوبہ بندی کے ساتھ اس بات کا دعویٰ کیا کہ ایران میں شیعوں نے اہل سنت کی ایک مسجد کو مسمار کر دیا (!)۔
یہ ماجرا شروع کہاں سے ہوا؟
یہ ماجرا یہاں سے شروع ہوا کہ وہابی ویب سائٹ کلمہ نیوز نے ایک تصویر جو ۱۹۹۱ میں صیہونی ریاست کے ہاتھوں فلسطینیوں کے ایک تجارتی مرکز کو ویران کئے جانے سے مربوط تھی کو شائع کر کے دعویٰ کیا کہ تہران کی میونسپلٹی نے اہل سنت کی ایک مسجد کو مسمار کر دیا ہے۔

۱۹۹۱ میں صیہونیوں کے ہاتھوں تخریب کئے جانے والے فلسطینیوں کے تجارتی مرکز کی تصویر

کلمہ نیوز ایجنسی میں یوں فراڈ کیا گیا:’’ ایران کے فوج اور انٹیلی جنسی کے ایک گروہ نے تہران کے علاقے ’’پونک‘‘ میں واقع اہل سنت کے نماز خانہ’’نبی رحمت‘‘ کو مسمار کر دیا۔ اس گروہ میں ایران کی سپاہ اور انٹیلی جنسی کے افراد نیز تہران کی میونسپلٹی شامل تھی‘‘۔
اس کے بعد ایران میں بعض اہل سنت کی بڑی شخصیات نے بغیر اس واقع کی جانچ پڑتال کئے فتنہ انگیز بیانات دینا شروع کر دئے جو دشمنوں کے لیے سونے پر سہاگہ ہو گئے۔
حقیقت ماجرا کیا ہے؟
اہل سنت و الجماعت جو تہران کے علاقے پونک میں رہتے ہیں انہوں نے گزشتہ سال ایک رہائشی مکان کو نماز خانہ کا نام دے کر اسے وسعت دینے کے لیے گرونڈ فلور پر غیر قانونی ٹیرس نکالا۔ اور اس کے زیر زمین میں( انڈر گراونڈ) موجود دیواروں کو گرا کر ایک ہال بنا دیا اور اس کے ساتھ ساتھ وافر مقدار میں ٹائلٹ زیر زمین میں تیار کر لئے گئے۔
اس کے بعد تہران کی میونسپلٹی کو یہ رپورٹ موصول ہوئی کہ دو عمارتوں کی چھتوں کو بغیر بغیر اجازت کے آپس میں جوڑ دیا گیا ہے جبکہ کئی مقدار میں ڈائلٹ اور وضوخانے بھی زیر زمین میں بنا لیے گئے۔
کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ ایک رہائشی مکان جامع مسجد میں تبدیل ہو جائے!
تہران کی میونسپلٹی نے گزشتہ سال یعنی ایرانی سال کے مطابق ۱۳۹۳ کے دسویں مہینے(دی ماہ) میں مذکورہ غیر قانونی تعمیرات کی وجہ سے اس رہائشی مکان کو وقتی طور پر بند کروا دیا جبکہ مالک نے کچھ عرصہ بعد معافی مانگ کر اور تعہد نامہ دے کر اسے کھلوا لیا۔
لیکن اپنے تعہد پر عمل نہ کرتے ہوئے اس رہائشی مکان جو نماز خانہ کی شکل اختیار کر گیا تھا کی کمیٹی نے اس میں غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ جاری رکھا جس کے بعد تہران کی میونسپلٹی نے دوبارہ انہیں نوٹیفکیشن کے ذریعے خبردار کیا اور اصلاح کے لیے ایک ماہ کی فرصت دی۔
یہ نوٹیفکیشن، کمیشن کے مادہ ۱۰۰ کے حکم کے مطابق تعمیرات میں خلاف ورزیوں کی بنا پر جاری کیا گیا۔
آخر کار مالک اور کمیٹی کی عدم توجہی کی وجہ سے تہران کی میونسپلٹی موقع پر حاضر ہوئی اور غیر قانونی تعمیرات کو تخریب کر دیا۔

عارضی چھت جو تہران میونسپلٹی نے توڑی

غیر قانونی بنائے گئے ٹائلٹ جو حکومت نے خراب کئے

حسینی قزوینی کی مزید تفصیلات
ابنا کی رپورٹ کے مطابق، ولایت ٹی وی چینل کے ڈائریکٹر حجۃ الاسلام و المسلمین سید محمد حسینی قزوینی نے اس خبر کے متعلق تہران کی میونسپلٹی سے ٹیلیفون پر گفتگو کر کے پونک میں اہل سنت کے مسجد کے بارے میں پوچھا تو تہران میونسپلٹی نے جواب میں واضح طور پر اس خبر کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی خبروں کا شائع کرنا مسلمانوں کے درمیان اختلاف پھیلانے کے لیے دشمن کی ایک چال ہے۔
حجۃ الاسلام و المسلمین حسینی قزوینی نے مزید کہا: افسوس سے جو جعلی تصاویر استعماری میڈیا نے اہل سنت کے نماز خانے کو مسمار کئے جانے کے عنوان سے شائع کی ہیں وہ در حقیقت ایک فلسطینی تجارتی مرکز کی ہیں جو کئی سال پہلے صیہونی ریاست کے ہاتھوں مسمار کیا گیا دشمن نے ایک سازش کے تحت اس چیز کو بہانہ بنا کر اسلامی حکومت کے خلاف سازش کرنے کی کوشش کی ہے۔
انہوں نے کہا: کسی نماز خانہ کو مسمار نہیں کیا گیا ہے بلکہ میونسپلٹی نے غیر قانونی تعمیرات کو ملک کے قانون کے مطابق منہدم کیا ہے اور یہ کام بالکل اس چیز کے برخلاف ہے جس کا میڈیا نے دعویٰ کیا ہے۔
ولایت ٹی وی چینل کے سربراہ نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ کسی بھی طرح کی تعمیرات میں ہر شہری کو اپنے ملک کے قوانین کی مکمل رعایت کرنا ضروری ہوتا ہے کہا: ہم مسلمان ہونے کے عنوان سے ہر گز اس بات کی جازت نہیں رکھتے کہ کافر ملک کے قوانین کی خلاف ورزی کریں چہ رسد کہ ہم اسلامی ملک کے قوانین کو نظر انداز کر دیں۔
حسینی قزوینی نے اس بات کو بیان کرتے ہوئے کہ استعماری میڈیا نے اہل سنت کو بھی غلط اطلاع رسانی کی کہا: عمارت کو بالکل مسمار ہرگز نہیں کیا گیا اور صرف اس عمارت میں غیر قانونی تعمیرات کو ختم کیا گیا ہے بلکہ یوں کہا جائے کہ اصلی عمارت کی ایک اینٹ کو بھی ادھر سے اودھر نہیں کیا گیا۔

اہل سنت کا نماز خانہ جو صحیح و سالم اپنی جگہ پر ہے

انہوں نے بعض اہل سنت کے علماء جنہوں نے بغیر تحقیق کے اختلافی باتیں بیان کرنا شروع کر دیں اور دشمن کو موقع فراہم کر دیا پر بھی گلہ و شکوہ کرتے ہوئے کہا: اتنی مسجدیں عراق و شام میں وہابیوں بلکہ خود سعودی عرب میں آل سعود کے ہاتھوں مسمار کی گئیں لیکن کسی عالم دین نے ایک بار بھی اس کام کی مذمت نہیں کی، سعودی عرب میں چودہ سو سال پرانے تاریخی آثار پر بلڈوزر چلا دیا گیا کسی کی زبان نہیں کھلی لیکن آج اس معمولی سے بات پر جذبات ابھر آئے اور اس کی مذمت کرنے کے لیے سینہ تان لیا۔
حجۃ الاسلام و المسلمین حسینی قزوینی نے کہا: کہ اسلامی جمہوریہ ایران میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ۱۵ ہزار سے زیادہ اہل سنت کی مساجد ہیں جو اہل تشیع کے تناسب سے کہیں زیادہ ہے۔
انہوں نے آخر میں خبردار کیا: دشمن اس طرح کی بہانہ تراشیوں سے مسلمانوں مخصوصا شیعوں اور سنیوں کے درمیان اختلاف بھڑکانے کے در پہ ہے۔ تکفیری وہابی، انقلاب کے مخالفین اور منافقین کے ٹولے اس قسم کے واقعات کو پھیلانے میں ہم دست ہو جاتے ہیں لہذا ہم سب کو آگاہ رہنا چاہیے کہ دشمن کے ہاتھوں کا کھلونا نہ بنیں۔





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی