2018 May 25
شیخ الازہر ڈاکٹر احمد طیب اور مسلک تشیع
مندرجات: ٣١٣ تاریخ اشاعت: ١٥ August ٢٠١٦ - ١٤:٣٥ مشاہدات: 647
خبریں » پبلک
شیخ الازہر ڈاکٹر احمد طیب اور مسلک تشیع

مصر کی عظیم تاریخی یونیورسٹی الجامعة الازہر عالم اسلام کی واحد جامعہ ہے جسے پوری دنیائے اسلام میں بہت عزت و تکریم کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ پوری امت کے ہونہار اس عظیم تاریخی درسگاہ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اسکی نسبت ”الازہری“ اپنے نام کے ساتھ بڑے فخر سے لاحق کرتے ہیں۔ اس درسگاہ کا ہمیشہ امتیاز رہا ہے کہ اس نے مسلک اعتدال کے فروغ کے لیے امت اسلامیہ میں اہم کردار ادا کیا ہے مختلف مذاہب کو باہم جوڑنے میں اس جامعہ کی کاوشیں قابل تعریف ہیں۔ اس نے شدت پسندی، تکفیریت اور دہشت گردی کی ہمیشہ حوصلہ شکنی کی ہے۔ حال ہی میں اس جامعہ کے شیخ جناب ڈاکٹر احمد طیب نے مصر کے ایک مشہور ٹی وی چینل النیل المصریہ کو بہت ہی اہم انٹر ویو دیا ہے جس میں چینل نے ان سے شیعہ مذہب کے بارے میں کچھ اہم سوالا ت کیے ہیں۔ جن کے جوابات شیخ الازہر نے بہت مدبرانہ انداز میں دیے ہیں۔ جو ہم قارئین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔

تحریر : مفتی گلزار احمد نعیمی

مصر کی عظیم تاریخی یونیورسٹی الجامعة الازہر عالم اسلام کی واحد جامعہ ہے جسے پوری دنیائے اسلام میں بہت عزت و تکریم کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ پوری امت کے ہونہار اس عظیم تاریخی درسگاہ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اسکی نسبت ”الازہری“ اپنے نام کے ساتھ بڑے فخر سے لاحق کرتے ہیں۔ اس درسگاہ کا ہمیشہ امتیاز رہا ہے کہ اس نے مسلک اعتدال کے فروغ کے لیے امت اسلامیہ میں اہم کردار ادا کیا ہے مختلف مذاہب کو باہم جوڑنے میں اس جامعہ کی کاوشیں قابل تعریف ہیں۔ اس نے شدت پسندی، تکفیریت اور دہشت گردی کی ہمیشہ حوصلہ شکنی کی ہے۔ حال ہی میں اس جامعہ کے شیخ جناب ڈاکٹر احمد طیب نے مصر کے ایک مشہور ٹی وی چینل النیل المصریہ کو بہت ہی اہم انٹر ویو دیا ہے جس میں چینل نے ان سے شیعہ مذہب کے بارے میں کچھ اہم سوالا ت کیے ہیں۔ جن کے جوابات شیخ الازہر نے بہت مدبرانہ انداز میں دیے ہیں۔ جو ہم قارئین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔

 سوال :     کیا آپ کی نظر میں شیعہ عقائد میں کوئی مسئلہ ہے؟

جواب:     نہیں کوئی مسئلہ نہیں ، پچاس سال قبل شیخ شلتوت نے فتوی دیا تھا کہ دیگر اسلامی مسالک کی طرح شیعہ پانچواں اسلامی مسلک ہے۔

سوال:      ہمارے بہت سے جوان شیعہ ہو رہے ہیں، ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

جواب:     ہوتے رہیں، اگر کوئی شخص حنفی مسلک اختیار کر لیتا ہے تو کیا ہم اس پر اعتراض کرتے ہیں تو پھر یہ افراد بھی چوتھے مسلک سے پانچویں مسلک میں چلے گئے ہیں تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔

سوال :     شیعہ ہمارے رشتہ دار بنتے جا رہے ہیں اور ہمارے بچے بچیوں سے شادیاں کر رہے ہیں؟۔

جواب:     اس میں کیا حرج ہے، مختلف اسلامی مسالک کے مابین شادیاں کرنے کی آزادی ہے۔

سوال:      کہا جاتا ہے کہ شیعوں کا قرآن مختلف ہے؟

جواب:     ایسی باتیں بوڑھی خواتین کی خرافات ہیں، شیعوں کے قرآن کا ہمارے قرآن سے کوئی فرق نہیں۔ یہاں تک کہ ان کے قرآن کا رسم الخط بھی ہمارے قرآن جیسا ہے۔

سوال :     ایک ملک کے 23مولویوں نے فتوی دیا ہے کہ شیعہ کافر اور رافضی ہیں؟

جواب:     عالم اسلام کے مسلمانوں کے لیے فقط الا زہر فتوی دے سکتا ہے، ان مولویوں کے فتوے کی کوئی حیثیت نہیں۔

سوال :     پھر جو شیعہ و سنی کے مابین اختلافات بیان کیے جاتے ہیں وہ کیا ہیں؟

جواب:     یہ غیروں کی سیاست کے پیدا کردہ اختلافات ہیں، وہ شیعہ سنی میں افتراق ڈالنا چاہتے ہیں۔

سوال :     میں ایک اہم سوال کرنا چاہتا ہوں اور یہ کہ شیعہ جو کہ حضرت ابو بکر ؓ اور حضرت عمر ؓ کو قبول نہیں کرتے، آپ کیسے انہیں مسلمان کہہ سکتے ہیں؟

جواب:جی ہاں وہ قبول نہیں کرتے لیکن کیا حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمر ؓ پر اعتقاد رکھنا دین اسلام کے اصولوں میں سے ہے۔

حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمر ؓ کا مسئلہ ایک تاریخی مسئلہ ہے اور تاریخ کا عقائد کے اصولوں سے کوئی تعلق نہیں۔

سوال:      شیعوں پر ایک اعتراض یہ ہے کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ ان کے امام زمانہ ایک ہزار سال سے ابھی تک زندہ ہیں۔

جواب:     ایسا ہونا ممکن ہے اور کیوں ممکن نہ ہو البتہ یہ ضروری نہیں کہ ہم بھی یہ عقیدہ رکھیں۔

سوال :     کیا ممکن ہے کہ 8سال کا بچہ امام ہو؟ شیعوں کا عقیدہ یہ ہے کہ آٹھ سال کا بچہ امام ہو گیا تھا؟

جواب:     جب ایک بچہ گہوارے میں نبی ہو سکتا ہے تو ایک 8سالہ بچہ امام بھی ہو سکتا ہے، اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں اگرچہ ممکن ہے کہ ہم اہل سنت کی حیثیت سے یہ عقیدہ نہ رکھیںلیکن یہ بات شیعوں کے مسلمان ہونے کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتی اور وہ مسلمان ہیں۔

یہ وہ سوالات ہیں جو مسلک شیعہ پر ہر ملک میں اٹھتے ہیں ۔ سعودی عرب ہو یا عرب کا کوئی دوسرا ملک سب ممالک میں ان سوالوں کی وجہ سے شیعہ کو کافرکہا جاتا ہے۔ ہمارے ملک پاکستان میں بھی یہی صورت حال ہے۔ یہاں پر بھی شیعہ کو کافر کہنے والوں کی کمی نہیں ہے۔ میرے خیال میں شیعہ مسلک پر کفر کا فتوی لگانے والے انکی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی ساکھ سے خائف ہیں اور ان کے عقائد کو آڑھ بنا کر شیعہ مسلک کو کافرقرار دینے میں مصروف ہیں۔دوسری اہم بات میرے نزدیک شیعہ اکابرین نے اپنے مسلک کے عقائد پر خرافات کی جمی گردو غبار کو جھاڑنے کی کوشش نہیں کی، اگر کی ہے تو وہ موثر نہیں تھی۔ شیعہ مسلک کے فقہاءفقہ جعفریہ کو پانچویں فقہ کے طور پر امت میں متعارف کرنے میں کامیاب نہیں رہے۔ امت میں جس طرح فقہائے اربع امام ابو حنیفہؒ،امام مالکؒ، امام احمدبن حنبلؒ اور امام شافعی کے نظریات کو قبول کرنے کا رجحان پایا جاتا ہے بدقسمتی سے وہ فقہ جعفریہ کے حوالے سے نہیں ہے۔ عقائد کے حوالے سے جو اہل تشیع کے موجودہ مراجع نے موقف اختیار کیا ہے اگر قدیم فقہاءو مجتہدین اختیار کر لیتے تو شاید آج شیعہ کمیونٹی کو اپنا اسلام ثابت کرنے میں یوں مشکلات پیش نہ آتیں۔

انقلاب ایران کے بعد شیعہ علماءنے بہت سی حقیقتوں کا ادارک کر لیاہے اور کمزوریوں پر حقیقت پسندانہ نظر ڈالی ہے۔یہ بہت ہی خوش آئندہ بات ہے کہ شیعہ مراجع نے کچھ ایسے فتاوی صادر کیے ہیں جن کی وجہ سے ان کے دیگر مسالک کے ساتھ قرب کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں ۔ 2010ءمیں اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبر اور روحانی پیشوا جناب آیتہ اللہ سید علی خامنہ ای نے مقدسات اہلسنت اور خصوصا ازواج مطہرات اور صحابہ کی توہین کی حرمت کا فتوی صادر کر کے امت کے درمیان شیعہ سنی خلیج کو کم از کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ میں اسے بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔میں نے اپنے خطبہ (9مئی2014) میںبھی ایرانی رہبر کے اس فتوی پر انہیں خراج تحسین پیش کیا ہے اور عوام نے بھی اسے سراہا ہے۔ یہ فتوی اس حوالے سے بھی بہت اہم ہے کہ یہ فتوی اس شخصیت نے دیا ہے جو عالم اسلام میں رہنے والے تمام اہل تشیع کی عظیم مقتدیٰ و پیشویٰ ہے۔ یہ فتوی اتحاد امت کی پیش رفت کی طرف ایک اہم ڈاکیومنٹ ثابت ہو سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اسکی عالمی سطح پر تشہیر کی جائے اور اہل تشیع اس فتوی کو صدق دل سے قبول کریں اور اہلسنت بھی صدق دل سے اس نئی پیش رفت کو خوش آمدید کہیں ۔

علمائے اہل سنت نے علی الاطلاق ہر شیعہ پر کفر کا فتوی نہیں لگایا اور نہ ہی عوام اہلسنت نے ”کافر کافر شیعہ کافر“کا نعرہ اپنی جلسوں میں لگایا ہے۔ ہم اس شخص کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو ایک کلمہ گو مسلمان کو کافر کہے۔ ہمارے علماءنے ان شیعہ کو کافر کہا ہے اور ان کے بارے میں فتوی صادر کیا ہے جو خلفائے ثلاثہ ، صحابہ اور ازواج مطہرات کو سب و شتم کرتے ہیں۔ جو تحریف قرآن کے قائل ہیں۔ ہمارے نزدیک خلفائے ثلاثہ اور ازواج مطہرات کی توہین علی الاطلاق حرام ہے اور یہ حرمت تمام حرمتوں سے بڑھ کر ہے۔ جو شخص تحریف قرآن کا قائل ہو اس کا مصطفے کی امت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جو شیعہ خلفائے و صحابہ اور امھات المومنین پر سب و شتم نہ کرے اور تحریف قرآن کا قائل نہ ہو وہ شیعہ مسلمان ہے اور ہمارا بھائی ہے۔

آج دنیائے شیعیت میں چار مشہور مراجع ہیں جو اہل تشیع کی راہنمائی کر رہے ہیں ، دنیامیں زیادہ تران ہی کی تقلید کی جاتی ہے۔(۱) آیت اللہ سید علی سیستانی(نجف)(۲)آیت اللہ سید علی خامنہ ای(ایران) یہ ولایت فقہی ایران کے رہبر ہیں(۳) آیت اللہ سید سعید الحکیم(نجف)(۴) آیت اللہ شیخ مکارم شیرازی(قم) ۔یہ سب مراجع اس پر متفق ہیں کہ خلفائ، ازواج مطہرات اور مقدسات اہلسنت کی توہین علی الاطلاق حرام ہے۔ شیعہ مجتھدین کی طرف سے یہ بہت اہم پیش رفت ہے۔ اس پیش رفت کو سنی اور شیعہ دونوں قدر کی نگاہ سے دیکھیں۔

اگر شیعہ اس فتوی پر من وعن عمل کرتے ہیں تو اہلسنت کا فرض ہے کہ وہ ان مسلمان بھائیوں کو گلے سے لگائیں اور انہیں امت کا حصہ سمجھیں اور انکی تکفیر کرنے سے باز رہیں۔ ہاں اگر کوئی شیعہ ان مراجع کے فتوی کو نہیں مانتا اور حسب معمول ان شنیع افعال کا ارتکاب کرتا ہے تو اس سے تعلق رکھنا دین کی توہین ہے۔

ہم اپنے شیعہ بھائیوں سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ بلا وجہ تاریخی جھگڑوں میں نہ پڑیں اور نہ ہی ان تنازعات کو دوبارہ زندہ کریں۔ اگر حضرت علی کرم اللہ وجہ کو حضرت ابو بکر صدیق ؓ کی خلافت سے اختلاف تھا بھی تو کچھ عرصہ بعد آپؓ نے خود یہ اختلاف ختم کر دیا اور باقاعدہ خلیفہ اول ؓ کی بیعت فرما لی تھی۔ حضرت عمر فاروق ؓ کی خلافت میں خلیفہ کے مشیر اعظم خود حضرت علی کرم اللہ وجہ تھے۔ خلیفہ ثالث کے ساتھ تو قربت کا یہ عالم تھا کہ جب خلیفہ ثالث حضرت عثمان ؓ کے گھر کو بلوائیوں نے گھیرا ہوا تھا تو جناب امیر المﺅمنین حضرت علی کرم اللہ وجہ نے حضرات حسنین کریمین کو خلیفہ کی حفاظت کے لیے بھیجا تھا، یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جب حضرت عثمان غنی ؓ کو شہید کر دیا گیا اور حضرت علی ؓ قصر خلافت میں تشریف لائے تو آپؓ نے حضرت امام حسن مجتبی ؓ کی سرزنش فرمائی اور ایک تاریخی جملہ ارشاد فرمایا ”کیف قتل الامیرو انتم علی الباب“یعنی ”خلیفہ کیسے شہید کر دیے گئے حالنکہ تم دونوں دروازے پر کھڑے تھے“ اس جملے کی گہرائی میں جانے کی اپنے قارئین سے گزارش کروں گا۔ اس شہادت کے بعد امت مسلمہ میں جو فسادات ہوئے اور کشت و خون کا سلسلہ جاری رہا اس میں امت کا اکثر یتی موقف یہی ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہ حق پر تھے۔

یہ خوش آئندہ بات ہے کہ عالم اسلام کے شیعہ راہنما بطور خواص مراجع اتحاد امت کی بات کر رہے جبکہ عرب ممالک میں تکفیری تحریک زوروں پر ہے۔ عرب و عجم کے شدت پسندوں کو متشددرویہ رکھنے والے عرب علماءکے فتاوی کی شیلڈ حاصل ہے۔ حالنکہ اتحاد امت کی آواز حجاز مقدس سے آنی چاہیے تھی۔ متولیان حرمین شریفین ایک فرقے کے انتہاءپسند نظریات کو امت پر مسلط کرنا چاہتے ہیں جبکہ عجم کے اہل و فکر و دانش امت کو امت وسط دیکھنا چاہتے ہیں





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی