2018 September 24
سپاہ صحابہ کا امام حسینء کی یاد میں 10 محرم کو جلوس، میلاد و عاشورا کو بدعت کہنے والے کیا ہوئے؟
مندرجات: ٣٣٩ تاریخ اشاعت: ١٣ October ٢٠١٦ - ١١:١٣ مشاہدات: 577
خبریں » پبلک
سپاہ صحابہ کا امام حسینء کی یاد میں 10 محرم کو جلوس، میلاد و عاشورا کو بدعت کہنے والے کیا ہوئے؟

 بسم اللہ الرحمن الرحیم، والصلوات و السلام علی سید المرسلین و علی اہل بیتہ الطیبین والطاہرین و علی الاصحابہ اجمعین ،قال اللہ تعالی فی القرآن المجید والفرقان الحمید

أُوْلَـئِكَ الَّذِينَ اشْتَرُوُاْ الضَّلاَلَةَ بِالْهُدَى فَمَا رَبِحَت تِّجَارَتُهُمْ وَمَا كَانُواْ مُهْتَدِينَ 
وَلاَ تَلْبِسُواْ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُواْ الْحَقَّ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ

فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ يَكْتُبُونَ الْكِتَابَ بِأَيْدِيهِمْ ثُمَّ يَقُولُونَ هَـذَا مِنْ عِندِ اللّهِ لِيَشْتَرُواْ بِهِ ثَمَناً قَلِيلاً فَوَيْلٌ لَّهُم مِّمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا يَكْسِبُونَ

صدق اللہ العظیم و نحن علی زلک من الشاہدین

امابعد

میرے سنّی بھائیوں میں بعد از حمد و ثنا و درود و سلام محبوب کائنات میں نے سورہ بقرہ کی تین آیات آپ کے سامنے پیش کی ہیں اور یہ آیات پیش کرنے کا مقصد آج کے زمانے کے خارجی، تکفیری، منافق ٹولے کے بارے میں آپ کو آگاہی دینا ہے، جو سنّی مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے بار بار روپ اور بھیس بدلتا ہے اور چاہتا ہے کہ کسی طرح سے سنّی مسلمانوں کو دھوکہ دہی کے ساتھ اپنا ہمنوا بنا لیا جائے۔ آج جب ميں آپ خواتین و حضرات کو درس دینے کے لئے گھر سے آ رہا تھا تو مجھے برادرم اور میرے عزیز خالد نورانی بھائی کی ایک ای میل موصول ہوئی، جس میں نے انھوں نے مجھے کچھ فیس بک جو کہ سماجی رابطے کی ایک بڑی معروف ویب سائٹ ہے پر ظاہر ہونے والی کچھ تصاویر اور کئی ایک دیوبندی حضرات کے ایک اور سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر کئے جانے والے کچھ تھریڈز کے اسکرین شاٹس ارسال کئے اور میں رب العزت کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ان کو دیکھ کر فوری طور پر میرے دل پر سورہ بقرہ کی ان تین آیات کا ورد جاری ہوگیا۔

جیسا کہ آپ سب حضرات کو معلوم ہے کہ محرم الحرام کی جہاں اپنی اہمیت اسلام اور اسلام سے قبل مسلم حثیت رکھتی ہے اور میں نے اس کی اہمیت کے حوالے سے آپ سے ایک تفصیلی گفتگو قرآن و حدیث کی روشنی میں کی تھی اور پھر آپ کو یہ بھی بتایا تھا کہ اسلام ميں واقعہ کربلا کے حوالے سے اس دن کی اہمیت کس قدر بڑھ گئی ہے اور شہدائے کربلا کی یاد منانا، ان کے غم میں آنسو بہانا، ان کی یاد کو لیکر جلوس نکالنا، نذر و نیاز کرنا، شہدائے کربلا کی یاد میں سلام پڑھنا، منقبت لکھنا، مرثیہ کہنا اور پڑھنا یہ سب کام بدعات حسنہ میں شمار ہوتے ہیں اور ان کی اصل شریعت محمدی میں موجود ہے اور یہ بدعت سئیہ نہیں ہیں اور جو ان کی محالفت کرتا ہے اصل میں وہ بغض اہلبیت اطہار کی بیماری میں مبتلا ہے اور جو واقعہ کربلا کے حوالے سے شکوک شہبات پھیلاتا ہے، اسے دو شہزادوں کی لڑائی قرار دیتا ہے، امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے قیام اور خروج کو بغاوت کہتا ہے، یزید کی فضیلت یا اس کو بچانے کی کوشش کرتا ہے اور ایام محرم میں توجہ شہدائے کربلا سے ہٹا کر کسی اور طرف کرنے کے بہانے تلاش کرتا ہے، یا قیام حسین کی اصل وجوہات پر شکوک شبہات کے بادل چھائے دکھانے کی سعی کرتا ہے، اس کا تعلق حسینی قافلے سے نہیں بلکہ یزیدی قافلے سے ہے۔

میں نے بہت تفصیل سے آپ کو بتایا تھا کہ وہابیہ اور عصر حاضر کے دیوبندی وہابیہ نے کیسے اسلامی دنیا میں سب سے پہلے معرکہ کربلا کی اہمیت کو گٹھانے اور اس پر شکوک و شبہات ڈالنے کی کوشش کی، ںذر و نیاز، سبیل اور عاشورہ محرم میں جلوس نکالنے کو ویسے ہی بدعت، شرک اور گمراہی قرار دے ڈالا، جیسے یہ حضور علیہ الصلوات و التسلیم کی ولادت باسعارت پر ربیع الاول کو جلوس نکالنے کو بدعت قرار دے چکے تھے اور انھوں نے اصحاب رسول و اولیائے امت کے ایام وفات پر منعقدہ ہونے والے اعراس کو بھی بدعت قرار دیا تھا اور ایسا کرتے ہوئے اصل میں انھوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی اور ان کی یہ تجارت زرا بھی فائدہ بخش ثابت نہ ہوئی اور سورہ بقرہ کی پہلی آیت مبارکہ میں اللہ پاک نے اس طرح کے گروہ کی کیفیت اور حالت بیان کی ہے اور ہم اس گمراہ دیوبندی وہابی ٹولے کو یہی کہتے رہے کہ حق میں باطل کی ملامت مت کرو، اور تم حق کو چھپاتے ہو، حالانکہ تم جانتے ہو۔

اللہ پاک یہود کے ايک گمراہ اور بھٹکے ہوئے مولوی ٹولے کا ذکر کرتے ہوئے ہمیں بتلاتا ہے کہ وہ اپنی طرف سے احکام الٰہی گھڑ لیتے اور پھر اس کو اللہ کا حکم قرار دیتے اور چند سکوّں کے عوض اسے فروخت کر دیتے تو اللہ نے ایسے گروہ کے لئے ویل یعنی دردناک ہلاکت کا مژدہ سنایا ہے اور ہمارے علمائے اہلسنت نے ہمیشہ یہ واضح کیا کہ ایسا دھوکہ آج کے وہابیہ دیانبہ یعنی دیوبندی وہابی خوب کرتے ہیں۔ فتاوی رشیدیہ میں دیوبندیوں کا مفتی اعظم رشید احمد گنگوہی امام حسین کی سبیل سے شربت، دودھ، پانی پینا اور نیاز حسین کے چاول تناول کرنے کو حرام قرار دیتا ہے لیکن ہندوؤں کی دیوالی اور سکھوں کی بیساکھی پر آنے والی شرینی کو لینا اور کھانا جائز بتلاتا ہے اور یہی گنگوہی میلاد النبی اور عاشورہ کے جلوس کو بدعت سییہ قرار دیتا ہے اور ان کو منافی توحید بھی بتلاتا ہے جبکہ اس مرتبہ دس محرم کو پنجاب کی جعلی اہل سنت و الجماعت تںظیم جو کہ سپاہ صحابہ پاکستان کا دوسرا نام ہے کی راولپنڈی شاخ نے اعلان کیا کہ یہ 10 محرم کو راولپنڈی کی جامعہ تعلمیات قرآن سے پریس کلب تک شہادت امام حسین رضی اللہ عنہ کے موقع کی مناسبت سے جلوس نکالے گی۔

ادھر اسی تنظیم کی کراچی شاخ سے تعلق رکھنے والے دیوبندی مولویوں نے ٹوئٹر پر اعلان کیا کہ یوم عاشور کو ان کی تںظیم ”مدح صحابہ جلوس” نکالے گی جبکہ اس تنظیم کی بلوچستان شاخ نے اس روز کوئٹہ پریس کلب کے سامنے ایک مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا اور اس طرح کئی ایک دیوبندی وہابیوں نے اس روز شیعہ کے خلاف بھی پروپیگنڈا کیا تاکہ ملک میں شیعہ سنّی فساد ہو، لڑائی ہو اور فرقہ واریت کی آگ سے پاکستان جل کر بھسم ہو جائے اور یہ کہہ سکیں کہ ان کے اکابرین نے تو پہلے دن سے ہی پاکستان کے قیام اور اس کی ہندوستان سے علیحدگی کی مخالفت کی تھی اور آپ کو میں یہ بھی بتاتا چلا ہوں کہ پاکستان کی ریاست کو جب کبھی سلامتی کا خطرہ لاحق ہوا یا اس کے ہاں کوئی بڑا سانحہ رونما ہوگیا تو دیوبندی مولویوں نے فوری طور پر کہا کہ خدا کا شکر ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہ تھے۔ یہ فقرہ مولوی فصل الرحمان کے باپ جے یو آئی کے سربراہ مفتی محمود نے مشرقی پاکستان کی مغربی پاکستان سے علیحدگی کے موقع پر کہا تھا اور انھی دیوبندیوں کی تںظیم تحریک طالبان پاکستان، لشکر جھنگوی، جماعت الاحرار پاکستان کی فوج کو مرتد قرار دیکر قتل کرنا جائز خیال کرتی ہے جیسے یہ پاکستان کے اندر غیر دیوبندی عوام کو ذبح کرتے ہیں مرتد قرار دیکر دیوبندی گرگٹ کی طرح اپن مؤقف بدلتے ہیں۔
 
کل تک غم حسین بدعت و شرک تھا اور جلوس نکالنا بھی ان کے ںزدیک یہود و نصاری کی سنت تھی جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں تھا اور آج جب یہ خود جلوس نکالنے کا اعلان کرچکے تو سب ٹھیک ہوگیا۔ اہل سنت کو ان بہروپیوں، ٹھگوں اور دشمنان ناموس محبوب کائنات و اہل بیت اطہار سے بہت ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ صحابہ کے پاک نام پر اصل میں یہ سپاہ یزید ہے اور اس کا مقصد یزیدیت کو ہر صورت میں محفوظ راستہ فراہم کرنا ہے اور اس جلوس پر جامعہ بنوریہ کراچی، دارالعلوم کراچی، جامعہ فاروقیہ کراچی، اکوڑہ خٹک، خیر المدارس، جامعہ اشرفیہ اور تعلمیات قرآن راولپنڈی سے بھی کوئی مذمتی فتوی نہیں آیا، ان کے دارالافتاء اس معاملے پر شہر خموشاں بنے بیٹھے ہیں، جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ دین مبین کی بجئے اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں۔ اللہ پاک ہم سب کو محبت رسول و اہل بیت و اصحاب رسول سے سرشار رکھے اور مذہب اہلسنت پر عمل پیرا رہنے اور دیوبندی وہابیوں کی دھوکہ دہی سے محفوظ رکھے۔ آمین

نوٹ: مضمون میں قرآنی آیات کا بغور مطالعہ کیا گیا ہے، تاہم اس کے باوجود اگر کہیں کوئی غلطی نظر آئے تو وہ سہواً ہوگی اور اسکی نشاندہی پر ادارہ آپ کا خاطر خواہ شکرگزار ہوگا۔

بشکریہ تحریک تعمیر پاکستان





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی