2017 December 15
کیا اہل سنت کی کتب صحاح ستہ کے بعض راوی شراب خوار تھے ؟
مندرجات: ٨٥٢ تاریخ اشاعت: ٠٩ July ٢٠١٧ - ١٢:٥٦ مشاہدات: 510
سوال و جواب » سنی
جدید
کیا اہل سنت کی کتب صحاح ستہ کے بعض راوی شراب خوار تھے ؟

توضيح سؤال:

ایک شیعہ عالم نے کہا ہے کہ وکیع ابن جراح کہ جو صحاح ستہ کے راویوں میں سے ہے، وہ شراب پیا کرتا تھا، لیکن علمائے اہل سنت اور وہابیوں نے دعوی کیا ہے کہ کتاب صحیح بخاری کے راویوں کی شراب پینے والی روایات معتبر نہیں ہیں، اور اگر وہ راوی شراب خوار ہوں بھی تو، وہ روایات کو نقل کرنے کے زمانے سے پہلے شراب پیا کرتے تھے ، کیا اہل سنت اور وہابیوں کا یہ دعوی صحیح ہے ؟

جواب:

صحاح ستہ کا ایک مشہور ترین راوی وکیع ابن جراح ہے، مزّی نے اپنی کتاب تہذیب الکمال میں اسکے بارے میں کہا ہے کہ:

روي له الجماعة.

صحاح ستہ کے تمام مصنفین نے اس سے روایت کو نقل کیا ہے۔

المزي، ابوالحجاج يوسف بن الزكي عبدالرحمن (متوفي742هـ)، تهذيب الكمال، ج30 ص484 ، تحقيق: د. بشار عواد معروف، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: الأولي، 1400هـ - 1980م.

لیکن اہل سنت کی معتبر روایات کے مطابق وکیع ابن جراح شراب خوار تھا اور حتی ان میں سے بعض روایات واضح طور پر بیان کرتی ہیں کہ وہ روایات کو نقل کرنے کے زمانے میں بھی شراب پیا کرتا تھا۔

روايت اول: يعقوب بن سفيان فسوی:

يعقوب بن سفيان (متوفی 277 ہجری) کہ جو بغیر کسی واسطے کے احمد ابن حنبل کا شاگرد تھا۔ احمد ابن حنبل بھی وکیع کا شاگرد ہے، یعقوب نے احمد سے نقل کیا ہے کہ:

وقد سئل أحمد بن حنبل: إذا اختلف وكيع وعبد الرحمن بن مهدي بقول من تأخذ؟ فقال: عبد الرحمن يوافق أكثر وخاصة سفيان كان معنيا بحديث سفيان وعبد الرحمن يسلم عليه السلف ويجتنب شرب المسكر.

احمد ابن حنبل سے سوال ہوا کہ اگر وکیع اور عبد الرحمن ابن مھدی کے درمیان روایت کے نقل کرنے میں اختلاف ہو جائے تو ہم ان میں سے کس کی بات کو قبول کریں ؟

احمد نے جواب دیا: اکثر موارد میں عبد الرحمن کی بات صحیح ہے اور خاص طور پر سفیان سے نقل کرنے میں، کیونکہ عبد الرحمن، سفیان کی حدیث پر زیادہ توجہ دیا کرتا تھا، اسی طرح عبد الرحمن سلف یعنی زمانہ ماضی کے بزرگان کا احترام کیا کرتا تھا (یعنی انکو برا بھلا نہیں کہتا تھا) اور اسی طرح عبد الرحمن نشے میں مست کرنے والی چیزوں کو بھی نہیں پیتا تھا !

الفسوي، أبو يوسف يعقوب بن سفيان (متوفي277هـ)، المعرفة والتاريخ، ج 1، ص413،، تحقيق: خليل المنصور، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت - 1419هـ- 1999م.

احمد ابن حنبل کی بات کا مفہوم یہ ہے کہ وکیع ابن جراح نشہ آور چیزیں پیا کرتا تھا، کیونکہ اگر یہ عادت وکیع میں نہ ہوتی تو اس بات کا کوئی معنی نہیں تھا کہ احمد ابن حنبل، عبد الرحمن کو وکیع پر برتری دینے کے لیے، اس صفت (نشہ آور چیزوں کا عدم استعمال)  کی طرف اشارہ کرتا !

اسی طرح اگر اس شراب خواری کا تعلق اسکے روایات کو نقل کرنے کے زمانے سے پہلے سے ہوتا تو اس شراب خواری کی تاثیر اسکی روایات کے صحیح یا ضعیف ہونے پر نہیں ہونی چاہیے تھی !

پس نتیجے کے طور پر یہ روایت وکیع کی شراب خواری کو ثابت کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ وہ روایات کو نقل کرنے کے زمانے میں بھی شراب پیا کرتا تھا ! اس روایت کی نسبت احمد کی طرف صحیح ہے، کیونکہ فسوی نے بغیر کسی واسطے کے اس روایت کو احمد ابن حنبل سے نقل کیا ہے اور وہ ہر دو اہل سنت کی تاریخ کے بہترین محدثین اور راویوں میں سے ہیں۔

روايت دوم: خطيب بغدادی:

اس نے اپنی تاریخ کی کتاب میں نقل کیا ہے کہ:

قرأت علي التنوخي عن أبي الحسن أحمد بن يوسف بن يعقوب بن إسحاق بن البهلول الأنباري قال حدثني أبي قال حدثني جدي إسحاق بن البهلول قال قدم علينا وكيع بن الجراح فنزل في المسجد علي الفرات فكنت أصير إليه لاستماع الحديث منه فطلب مني نبيذا فجئته بمخيسة ليلا فأقبلت أقرأ عليه الحديث وهو يشرب فلما نفذ ما كنت جئته به أطفأ السراج فقلت له: ما هذا؟ فقال: لو زدتنا لزدناك.

میں نے اس روایت کو ابو الحسن احمد بن يوسف بن يعقوب سے اور اس نے اپنے والد سے اور اس نے اپنے دادا اسحاق بن بہلول سے نقل کرتے ہوئے، تنوخی کے لیے پڑھا، کہ اسحاق ابن بہلول نے کہا کہ:

وكيع بن جراح ہمارے پاس آیا اور فرات کے کنارے ایک مسجد میں قیام پذیر ہوا۔ میں اسکے پاس روایات کو سننے کے لیے جایا کرتا تھا۔ ایک دن اس نے مجھ سے نبیذ ( کشمش کی شراب) مانگی، میں نے رات کو اسکے لیے ایک خالص قسم کی شراب لے کر گیا، میں نے اسکے لکھے ہوئے کاغذوں پر سے روایات کو پڑھنا شروع کیا اور وہ ساتھ ساتھ شراب پیتا رہا، جب شراب ختم ہو گئی تو اس نے چراغ کو بجھا دیا تا کہ مزید روایات کو نہ پڑھ سکوں، میں نے اس سے کہا: تم نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ اس نے جواب دیا: اگر زیادہ شراب لے کر آتے تو میں بھی تم کو زیادہ روایات دیتا !!!

البغدادي، ابوبكر أحمد بن علي بن ثابت الخطيب (متوفي463هـ)، تاريخ بغداد، ج 13، ص502، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت.

روايت کی سند کے بارے میں بحث:

تنوخی استاد خطيب بغدادی:

ذہبی نے اسکے بارے میں کہا ہے کہ:

علي بن المحسن أبو القاسم التنوخي سماعاته صحيحة... قلت محله الصدق والستر.

علی بن محسن تنوخی..... اس نے روایات کو صحیح سنا ہے، وہ سچا اور پرہیزگار انسان ہے۔

الذهبي الشافعي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفي 748 هـ)، ميزان الاعتدال في نقد الرجال، ج 5، ص184، تحقيق: الشيخ علي محمد معوض والشيخ عادل أحمد عبدالموجود، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولي، 1995م.

احمد بن يوسف بن يعقوب:

ابن اثير نے اسکے بارے میں کہا ہے کہ:

وفيها توفي أحمد بن يوسف بن يعقوب بن البهلول... وكان عابدا محدثا ثقة.

اس سال میں احمد بن يوسف بن يعقوب فوت ہوا..... وہ عابد، محدث اور ثقہ راوی تھا۔

ابن أثير الجزري، عز الدين بن الأثير أبي الحسن علي بن محمد (متوفي630هـ) الكامل في التاريخ، ج 7، ص429 ، تحقيق عبد الله القاضي، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة الثانية، 1415هـ.

يوسف بن يعقوب بن اسحاق بن بہلول:

خطيب بغدادی نے اسکے بارے میں کہا ہے کہ:

يوسف بن يعقوب بن إسحاق بن البهلول... وكان ثقة

يوسف بن يعقوب..... وہ ثقہ تھا۔

البغدادي، ابوبكر أحمد بن علي بن ثابت الخطيب (متوفي463هـ)، تاريخ بغداد، ج 14، ص321 ش 7644، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت.

اسحاق بن بہلول:

خطيب بغدادی نے بھی اسکے بارے میں کہا ہے کہ:

إسحاق بن البهلول... وكان ثقة... وقال عبد الرحمن بن أبي حاتم سألت أبي عن إسحاق بن بهلول الأنباري فقال صدوق.

اسحاق بن بہلول..... وہ ثقہ تھا، عبد الرحمن ابن ابی حاتم نے کہا ہے کہ میں نے اپنے والد سے اسکے بارے سوال کیا تو انھوں نے کہا کہ وہ سچا انسان ہے۔

البغدادي، ابوبكر أحمد بن علي بن ثابت الخطيب (متوفي463هـ)، تاريخ بغداد، ج6 ص366 ش 3390 ، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت.

لہذا اس روایت کی سند صحیح ہے اور یہ روایت ثابت کرتی ہے کہ صحاح ستہ کا مشہور راوی وکیع ابن جراح روایات کو نقل کرنے کے ساتھ ساتھ شراب بھی پیا کرتا تھا۔

روايت سوم: خطيب بغدادی:

خطيب بغدادی نے ایسے روایت کی ہے کہ:

أخبرنا هلال بن محمد الحفار أخبرنا إسماعيل بن محمد الصفار حدثنا جعفر بن محمد يعني الطيالسي قال: سمعت يحيي بن معين يقول: سمعت رجلا سأل وكيعا فقال:يا أبا سفيان شربت البارحة نبيذا فرأيت فيما يري النائم كأن رجلا يقول إنك شربت خمرا، فقال وكيع: ذاك الشيطان.

يحيی بن معين نے کہا ہے کہ: میں نے سنا کہ ایک شخص وکیع سے باتیں کر رہا تھا اور اس نے وکیع سے کہا کہ اے ابا سفیان میں نے کل رات کو نبیذ ( کشمش کی شراب) پی اور میں نے خواب میں دیکھا کہ مجھے کہا گیا کہ: تم نے نشہ آور چیز پی ہے ! وکیع نے کہا کہ تم نے خواب میں شیطان کی آواز سنی ہے ! یعنی نبیذ حرام نہیں ہے !!!

البغدادي، ابوبكر أحمد بن علي بن ثابت الخطيب (متوفي463هـ)، تاريخ بغداد، ج 13، ص502، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت.

روايت کی سند کے بارے میں بحث:

ہلال بن محمد حفار:

ذہبی نے اسکے بارے میں کہا ہے کہ:

الحفار الشيخ الصدوق مسند بغداد أبو الفتح هلال بن محمد.

حفار ابو فتح ہلال ابن محمد، استاد، سچا اور مسند بغداد تھا، یعنی ایسا عالم تھا کہ شہر بغداد میں تمام لوگ اسکی روایت کو سند کے طور پر نقل کیا کرتے تھے۔

الذهبي الشافعي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفي 748 هـ)، سير أعلام النبلاء، ج 17، ص293، تحقيق: شعيب الأرناؤوط , محمد نعيم العرقسوسي، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: التاسعة، 1413هـ.

اسماعيل بن محمد بن اسماعيل بن صالح بن عبد الرحمن:

ابن حجر عسقلانی نے اسکے بارے میں کہا ہے کہ:

إسماعيل بن محمد بن إسماعيل بن صالح بن عبد الرحمن الصفار الثقة الإمام النحوي المشهور حدث عن الحسن بن عرفة وأحمد بن منصور الزيادي والكبار وانتهي إليه علو الإسناد روي عنه الدارقطني وابن مندة والحاكم ووثقوه.

اسماعيل بن محمد، مورد اعتماد، امام، علم نحو میں معروف عالم، روایات کی تمام اہم اسناد کی نسبت اسکی طرف دی جاتی تھی، دار قطنی، إبن منده اور حاكم نے اس سے روایت نقل کی ہے اور اسکو ثقہ قرار دیا ہے۔

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابوالفضل (متوفي852 هـ)، لسان الميزان، ج1 ص432، تحقيق: دائرة المعرف النظامية - الهند، ناشر: مؤسسة الأعلمي للمطبوعات - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1406هـ - 1986م.

جعفر بن محمد بن عثمان الطيالسی:

ذہبی نے اسکے بارے میں لکھا ہے کہ:

جعفر بن محمد بن أبي عثمان الحافظ المجود أبو الفضل الطيالسي البغدادي.. قال أحمد بن المنادي كان مشهورا بالاتقان والحفظ والصدق قال الخطيب كان ثقة ثبتا حسن الخط صعب الأخذ مات في رمضان سنة اثنتين وثمانين ومائتين.

جعفر بن محمد ایسا حافظ تھا کہ جسکا حافظہ بہت اچھا تھا۔

احمد ابن منادی نے کہا ہے کہ: وہ سچائی اور حفظ میں مشہور تھا۔

خطیب نے کہا ہے کہ: وہ موثق، قابل اعتماد تھا، اسکی لکھائی بہت اچھی تھی۔

الذهبي الشافعي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفي 748 هـ)، تذكرة الحفاظ، ج2 ص626، رقم:653، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولي.

يحيی بن معين:

يحيي بن معين. هو الامام الحافظ الجهبذ شيخ المحدثين أبو زكريا يحيي بن معين... قال عبد الرحمن بن أبي حاتم سئل أبي عن يحيي فقال امام. قال النسائي أبو زكريا أحد الائمة في الحديث ثقة مأمون.

يحيی بن معين، پيشوا، حافظ، عارف و عالم انسان تھا کہ جسکو اچھے اور برے کی تمیز تھی، وہ محدثین کا بھی استاد تھا۔

عبد الرحمن بن ابی حاتم نے کہا ہے کہ میں نے اسکے بارے میں اپنے والد سے سوال کیا تو انھوں نے کہا کہ وہ امام ہے۔

نسائی نے کہا ہے کہ: وہ علم حدیث میں پیشوا و امام، مورد اعتماد و قابل اطمینان تھا۔

الذهبي الشافعي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفاي 748 هـ)، سير أعلام النبلاء، ج11 ص71، تحقيق: شعيب الأرناؤوط , محمد نعيم العرقسوسي، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: التاسعة، 1413هـ.

روايت چہارم: خطيب بغدادی:

أخبرنا بن الفضل أخبرنا دعلج أخبرنا أحمد بن علي الأبار حدثنا محمد بن يحيي قال: قال: نعيم بن حماد: تعشينا عند وكيع أو قال: تغدينا فقال أي شيء تريدون أجيئكم به نبيذ الشيوخ أو نبيذ الفتيان؟ قال: قلت: تتكلم بهذا قال هو عندي أحل من ماء الفرات قلت له: ماء الفرات لم يختلف فيه وقد اختلف في هذا.

نعیم ابن حماد سے روایت ہوئی ہے کہ ہم نے شام یا دوپہر کا کھانا وکیع کے ساتھ کھایا، اس نے کہا کہ تمہارے لیے کیا لے کر آؤں ؟ بھوڑھوں کے پینے والی شراب لاؤں یا جوانوں کے پینے والی شراب لاؤں ؟ میں نے کہا کہ شراب کے بارے میں بات کر رہے ہو ؟ اس نے جواب دیا کہ میرے نزدیک شراب آب فرات سے بھی پسندیدہ تر ہے۔ میں نے کہا: آب فرات کے حلال ہونے میں کسی قسم کا کوئی اختلاف نہیں ہے، لیکن شراب کے حلال ہونے کے بارے میں بہت سا اختلاف پایا جاتا ہے۔

البغدادي، ابوبكر أحمد بن علي بن ثابت الخطيب (متوفي463هـ)، تاريخ بغداد، ج 13، ص502، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت.

روايت کی سند کے بارے میں بحث:

محمد بن الحسين بن الفضل:

القطان. الشيخ العالم الثقة المسند أبو الحسين محمد بن الحسين ابن محمد بن الفضل البغدادي القطان الأزرق. وحدث عنه البيهقي والخطيب ومحمد بن هبة الله اللالكائي وأبو عبد الله الثقفي وجماعة سواهم. وهو مجمع علي ثقته.

القطان، استاد ، دانشمند مورد اعتماد عالم تھا، بیہقی، خطیب وغیرہ نے اس سے روایت کو نقل کیا ہے۔ علم رجال کے تمام علماء کا اسکے ثقہ ہونے پر اجماع موجود ہے۔

الذهبي الشافعي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفي 748 هـ)، سير أعلام النبلاء، ج 17، ص331 ـ 332، تحقيق: شعيب الأرناؤوط , محمد نعيم العرقسوسي، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: التاسعة، 1413هـ.

دعلج بن احمد:

دعلج. دعلج بن أحمد بن دعلج بن عبد الرحمن المحدث الحجة الفقيه الإمام أبو محمد السجستاني ثم البغدادي التاجر ذو الأموال العظيمة... قال أبو سعيد بن يونس حدث بمصر وكان ثقة... وقال الحاكم دعلج الفقيه شيخ أهل الحديث في عصره...

دعلج، محدث، حجت ( کہ جسکو تین لاکھ احادیث حفظ ہوں) فقیہ اور امام تھا،

ابو سعيد بن يونس نے کہا ہے کہ: وہ مصر میں روایت نقل کیا کرتا تھا اور وہ مورد اعتماد تھا۔

حاكم نے کہا ہے کہ: دعلج فقیہ اور اپنے زمانے میں محدثین کا استاد تھا۔

الذهبي الشافعي، شمس الدين ابو عبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفي 748 هـ)، سير أعلام النبلاء، ج16 ص31، تحقيق: شعيب الأرناؤوط , محمد نعيم العرقسوسي، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: التاسعة، 1413هـ.

احمد بن علی الابار:

الأبار. الحافظ المتقن الإمام الرباني أبو العباس أحمد بن علي بن مسلم الأبار من علماء الأثر ببغداد... قال الخطيب كان ثقة حافظا متقنا حسن المذهب. وقال جعفر الخلدي كان الأبار من أزهد الناس.

احمد بن علی بہترین حافظ، عالم ربانی اور بغداد میں علم حدیث کے علماء میں سے تھا۔

خطيب نے کہا ہے کہ: وہ قابل اعتماد اور زبردست حافظ تھا۔

جعفر خلدی نے کہا ہے کہ: وہ زاہد ترین انسان تھا۔

سير أعلام النبلاء ج 13، ص443

محمد بن يحيی:

یہ کتاب صحیح بخاری و صحیح مسلم اور دوسری صحاح ستہ کے راویوں میں سے ہے:

الذهلي. محمد بن يحيي بن عبدالله بن خالد بن فارس بن ذؤيب الإمام العلامة الحافظ البارع شيخ الإسلام وعالم أهل المشرق وإمام أهل الحديث بخراسان أبو عبدالله الذهلي مولاهم النيسابوري... وقال الخطيب كان أحد الأئمة العارفين والحفاظ المتقنين صنف حديث الزهري وجوده وكان أحمد بن حنبل يثني عليه وينشر فضله... قال زنجويه بن محمد كنت أسمع مشايخنا يقولون الحديث الذي لا يعرفه محمد بن يحيي لا يعبأ به... قال ابن أبي حاتم كتب أبي عن محمد بن يحيي بالري وهو ثقة صدوق إمام من أئمة المسلمين وثقه أبي وسمعته يقول هو إمام أهل زمانه... وقال النسائي ثقة مأمون. وقال ابن أبي داود حدثنا محمد بن يحيي وكان أمير المؤمنين في الحديث.

محمد بن يحيی ذہلی، پيشوا، علامہ، حافظ، با تقوا، شيخ الإسلام و دانشمند مشرق شمار ہوتا تھا، وہ شہر خراسان میں اہل حدیث کا امام تھا۔

خطيب نے کہا ہے کہ: عرفا کے آئمہ میں سے ایک امام اور بہترین حافظ تھا۔

احمد بن حنبل اسکی تعریف کرتا تھا اور اسکے فضائل کو لوگوں میں پھیلاتا تھا۔

زنجويہ نے کہا ہے کہ: میں نے اپنے استاد سے سنا ہے کہ وہ کہا کرتے تھے کہ: جس حدیث کو محمد ابن یحیی نہ جانتا ہو تو، ایسی حدیث توجہ کرنے کے قابل نہیں ہوتی۔

ابن ابی حاتم نے کہا ہے کہ: میرے والد شہر رے میں اس سے روایت کو نقل کرتے تھے، وہ مورد اعتماد، سچا اور مسلمانوں سے پیشواؤں میں سے ایک پیشوا تھا۔ میرے والد اسے ثقہ قرار دیتے تھے اور میں نے انکو کہتے ہوئے سنا تھا کہ: وہ اپنے زمانے کے لوگوں کا امام و پیشوا تھا۔

نسائی نے کہا ہے کہ: وہ قابل اعتماد اور امانت دار تھا۔

ابن ابی داود نے کہا ہے کہ: محمد بن يحيی علم حدیث میں امير المومنين شمار کیا جاتا تھا۔

الذهبي الشافعي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفي 748 هـ)، سير أعلام النبلاء، ج 12، ص273، تحقيق: شعيب الأرناؤوط , محمد نعيم العرقسوسي، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: التاسعة، 1413هـ.

نعيم بن حماد:

 یہ کتاب صحیح بخاری کے راویوں میں سے ہے:

وہ ایسا راوی ہے کہ اسکے بارے میں دو مختلف رائے پائی جاتی ہیں: بعض نے اسکو ثقہ اور علماء کا امام قرار دیا ہے اور بعض نے اسے ضعیف قرار دیا ہے

لیکن شمس الدين ذہبی نے اسکے نام کو اپنی كتاب، ذكر من تكلم فيہ و هو موثق، میں ذکر کیا ہے:

نعيم بن حماد خ مقرونا د ت ق حافظ وثقه أحمد وجماعة واحتج به البخاري...

نعيم بن حماد، حافظ تھا، احمد ابن حنبل اور ایک علماء کی جماعت نے اسکو ثقہ قرار دیا ہے۔

بخاری نے اسکی روایت کے ساتھ استدلال کیا ہے، یعنی اپنی کتاب صحیح بخاری میں اسکی نقل کردہ روایت کو مثال کے طور پر لے کر آیا ہے۔

الذهبي الشافعي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفي 748 هـ)، ذكر أسماء من تكلم فيه وهو موثق، ج1، ص184، تحقيق: محمد شكور أمرير المياديني، ناشر: مكتبة المنار - الزرقاء، الطبعة: الأولي، 1406هـ.

اور پھر بعض تضعيفات کو اسکے بارے میں ذکر کیا ہے۔

اور سير اعلام النبلاء ميں لکھا ہے کہ:

نعيم بن حماد بن معاوية. ابن الحارث بن همام بن سلمة بن مالك الإمام العلامة الحافظ أبو عبد الله الخزاعي المروزي الفرضي الأعور صاحب التصانيف...

قال أبو بكر الخطيب يقال إن أول من جمع المسند وصنفه نعيم. يوسف بن عبد الله الخوارزمي سألت أحمد بن حنبل عن نعيم بن حماد فقال لقدكان من الثقات... إبراهيم بن عبد الله بن الجنيد سمعت يحيي بن معين وسئل عن نعيم فقال ثقة... قال أبو زكريا نعيم ثقة صدوق رجل صدق أنا أعرف الناس به كان رفيقي بالبصرة كتب عن روح خمسين ألف حديث... قال أحمد العجلي نعيم بن حماد ثقة مروزي... وقال أبو حاتم محله الصدق.

نعيم بن حماد، امام، علامہ اور حافظ تھا۔

خطيب بغدادی نے کہا ہے کہ: جس نے سب سے پہلے مسند روایات کو جمع کیا، وہ نعيم بن حماد تھا۔

يوسف بن عبد الله خوارزمی نے کہا ہے کہ: میں نے احمد ابن حنبل سے نعیم ابن حماد کے بارے میں سوال کیا تو اس نے جواب دیا کہ: بے شک وہ موثق راویوں میں سے تھا۔

ابراہيم بن عبد الله نے کہا ہے کہ: میں نے يحيی ابن معين سے نعیم ابن حماد کے بارے میں سنا کہ اس نے کہا کہ: وہ ثقہ ہے۔

ابو زكريا نے کہا ہے کہ: نعیم ثقہ اور سچا انسان تھا، میں دوسروں کی نسبت اسکو زیادہ جانتا ہوں، وہ شہر بصرہ میں میرا دوست تھا، اس نے روح کے بارے میں 50 ہزار احادیث لکھی ہو‏ئی تھیں۔

احمد عجلی نے کہا ہے کہ: نعيم بن حماد ثقہ تھا۔

ابو حاتم نے کہا ہے کہ: وہ سچا انسان تھا۔

الذهبي الشافعي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفي 748 هـ)، سير أعلام النبلاء، ج10، ص595، تحقيق: شعيب الأرناؤوط , محمد نعيم العرقسوسي، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: التاسعة، 1413هـ.

دوسری روايات:

ذہبی نے اپنی مختلف کتب میں وکیع کی شراب خواری کو ذکر کیا ہے اور اس نے اس مطلب کو اہل سنت کے علماء سے نقل کر کے ذکر کیا ہے:

وقد روي غير واحد أن وكيعاً كان يترخص في شرب النبيذ.

بہت سے علماء نے نقل کیا ہے کہ وکیع نبیذ (کشمش کی شراب) کے پینے کو جائز جانتا تھا !

الذهبي الشافعي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفي 748 هـ)، تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام، ج 13، ص441، تحقيق د. عمر عبد السلام تدمري، ناشر: دار الكتاب العربي - لبنان/ بيروت، الطبعة: الأولي، 1407هـ - 1987م.

اور ذہبی نے ایک دوسری جگہ پر لکھا ہے کہ: اس نے ابوسعید اشج سے نقل کیا ہے کہ، اس نے کہا کہ:

وقال أبو سعيد الأشج كنت عند وكيع فجاءه رجل يدعوه إلي عرس فقال أثم نبيذ قال لا قال لا نحضر عرسا ليس فيه نبيذ قال فإني آتيكم به فقام.

ابو سعيد اشج نے کہا کہ: میں وکیع کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک شخص نے اسکو شادی پر آنے کی دعوت دی، وکیع نے اس سے سوال کیا کہ کیا وہاں نبیذ بھی ہو گی ؟ اس نے کہا: نہیں، وکیع نے جواب دیا: جس شادی میں نبیذ نہ ہو، میں اس شادی میں شرکت نہیں کروں گا، اس شخص نے کہا: لیکن میں تمہارے لیے لے آؤں گا، یہ سن کر وکیع شادی پر جانے کے لیے کھڑا ہو گیا۔

الذهبي الشافعي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفي 748 هـ)، سير أعلام النبلاء، ج 9، ص155، تحقيق: شعيب الأرناؤوط , محمد نعيم العرقسوسي، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: التاسعة، 1413هـ.

الذهبي الشافعي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفي 748 هـ)، تاريخ الإسلام و وفيات المشاهير والأعلام، ج 13، ص442، تحقيق د. عمر عبد السلام تدمري، ناشر: دار الكتاب العربي - لبنان/ بيروت، الطبعة: الأولي، 1407هـ - 1987م.

خطيب بغدادی نے ایک دوسری روایت کو ایسے نقل کیا ہے:

حدثت عن أبي الحسن الدارقطني قال حدثني القاضي أبو الحسن محمد بن صالح بن علي بن أم شيبان الهاشمي قال حدثني أبي قال حدثنا أبو عبد الرحمن سفيان بن وكيع بن الجراح قال حدثني أبي قال كان أبي وكيع يصوم الدهر... ثم يدخل إلي منزله فيقدم إليه إفطاره وكان يفطر علي نحو عشرة أرطال من الطعام ثم يقدم له قربة فيها نحو من عشرة أرطال نبيذ فيشرب منها ما طاب له علي طعامه ثم يجعلها بين يديه ويقوم فيصلي ورده من الليل وكلما صلي ركعتين أو أكثر من شفع أو وتر شرب منها حتي ينفذها ثم ينام.

وکیع کے بیٹے سے روایت ہوئی ہے کہ: میرا باپ دن کو روزہ رکھتا تھا..... افطار کے وقت دس رطل (ہر رطل تقریبا اڑھائی کلو کا ہوتا ہے) کھانا اس کے لیے حاضر کیا جاتا، اور وہ اس کھانے سے روزہ افطار کرتا تھا، پھر ایک مشک کہ جس میں تقریبا دس رطل نبیذ (شراب کشمش) ہوتی، اس کے لیے لائی جاتی۔ جتنا اسکا دل ہوتا، اتنی پیتا تھا اور باقی کو اپنے قریب رکھ کر نماز پڑھنا شروع کر دیتا تھا، جب دو رکعت یا دو سے زیادہ رکعت پڑھ لیتا، دوبارہ مشک سے شراب پیتا تھا، یہاں تک کہ مشک خالی ہو جاتی تھی اور پھر وہ سو جاتا تھا !!!

البغدادي، ابوبكر أحمد بن علي بن ثابت الخطيب (متوفاي463هـ)، تاريخ بغداد، ج 13، ص501، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت.

البتہ اسکی شراب خواری کے بارے میں دوسری بھی بہت سی روایات ہیں، لیکن ہم اسی پر ہی اکتفاء کرتے ہیں۔

نتیجہ یہ کہ: وکیع ابن جراح کہ جو اہل سنت کی صحاح ستہ کا راوی ہے، جو شراب خوار تھا اور نشہ آور چیزوں کے استعمال کرنے کو بھی جائز جانتا تھا۔ اس جیسے شراب خوار سے اہل سنت کے علماء روایات کو نقل کیا کرتے تھے اور خود اسکو ثقہ اور اسکی روایات کو بھی صحیح قرار دیا کرتے تھے۔

 اسی موضوع کے بارے  میں چند اہم مطالب:

 کتاب صحیح بخاری میں جعلی روایات گھڑنے والے راوی:

اہل سنت کا بہت واضح عقیدہ ہے کہ کتاب صحیح بخاری قرآن کریم کے بعد روئے زمین پر صحیح ترین کتاب ہے، اصح الکتب بعد القرآن، البتہ وہ کہتے ایسے ہیں لیکن عملی طور پر اکثر اوقات اس کتاب کو قرآن سے بھی بالا تر لے جاتے ہیں اور جہاں پر قرآن اور صحیح بخاری کا آپس میں تضاد و تعارض ہو جائے، وہاں پر بڑے آرام سے صحیح بخاری کا مقدم کر کے اس پر عمل کرتے ہیں!!!

علم حدیث کے مطابق وہ راوی کہ جو جعلی روایات ایجاد کرتا ہو، اسکی روایات کو مردود شمار کیا جاتا ہے۔ صحیح بخاری میں چند ایسے راوی ہیں کہ خود انکے اعتراف کے مطابق، وہ اپنی طرف سے جعلی روایات کو ایجاد کیا کرتے تھے۔

اسماعیل بن ابی اویس:

دولابی نے کتاب الضعفاء میں کہا ہے کہ:

سمعت النصر بن سلمة المروزی یقول: ابن أبی أویس کذّاب کان یحدّث عن مالک بمسائل ابن وهب.

میں نے نصر سے سنا کہ اس نے کہا کہ: ابن ابی اویس بہت جھوٹا ہے کہ جو ابن وہب کے مسائل کو ابن مالک کی زبان سے بیان کیا کرتا تھا۔

میزان الاعتدال ج 1 ص 223

عقیلی نے کتاب الضعفاء کے شماره 100 میں یحیی بن مَعین سے نقل کرتے ہوئے کہا ہے کہ:

ابن ابی اویس لا یسوی فلسا ( فلسین )

ابن ابی اویس کی قیمت دو ٹکے بھی نہیں ہے !

ابن عدی نے کتاب الکامل فی الرجال میں کہا ہے کہ:

قال احمد بن ابی یحیی سمعت ابن معین یقول : هو و ابوه یسرقان الحدیث

احمد بن ابی یحیی نے یحیی بن معین سے نقل کیا ہے کہ: ابن ابی اویس اور اسکا باپ احادیث چوری کیا کرتے تھے۔

میزان الاعتدال ج 1 ص 223

ابن حزم نے کتاب المحلی میں کہا ہے کہ:

قال أبو الفتح الأزدی: حدّثنی سیف بن محمد، أنّ ابن أبی أویس کان یضع الحدیث.

ابو الفتح ازدى نے کہا ہے کہ: سیف ابن محمد نے مجھے بتایا ہے کہ ابن ابی اویس احادیث جعل کیا کرتا تھا۔

تهذیب التهذیب ج 1 ص 272

ذہبی نے کتاب تاریخ اسلام میں نسائی سے نقل کرتے ہوئے کہا ہے کہ:

قال لی سَلَمَةُ: سَمِعْتُ إسماعیل بن أبی أُوَیْس یقول: ربّما کنت أضع الحدیث لأهل المدینة إذا اختلفوا فی شیء فیما بینهم

سلمہ نے مجھے کہا کہ: میں نے اسماعیل ابن ابو اویس سے سنا تھا کہ اس نے کہا کہ:

جب بھی مدینہ کے لوگوں کا ایک چیز کے بارے میں آپس میں اختلاف ہو جاتا تو میں انکو اس اس اختلاف سے نجات دینے کے لیے جعلی حدیث گھڑا کرتا تھا۔

تاریخ الاسلام  ج 5 ص 534 شماره 67

بدر الدین عینی نے کتاب عمده القاری میں ایسے کہا ہے کہ:

وأما إسماعیل بن أبی أویس فإنه أقر على نفسه بالوضع کما حکاه النسائی عن سلمة بن شعیب عنه.

اسماعیل بن ابی اویس نے خود اقرار کیا ہے کہ وہ جعلی روایات کو گھڑتا ہے، جسطرح کہ نسائی نے سلمہ ابن شیعب سے اس ( اسماعیل ) کے قول کو نقل کیا ہے۔

عمده القاری ج 1 ص 8

سبط ابن العجمی نے کتاب الکشف الحثیث میں اپنے استاد ابن ملقن سے ابن ابی اویس کے بارے میں نقل کیا ہے کہ:

إنه أقر على نفسه بالوضع کما حکاه س عن سلمة بن شعیب عنه.

اس نے خود اقرار کیا ہے کہ وہ روایات کو جعل کرتا ہے جسطرح کہ نسائی نے سلمہ ابن شیعب سے اس ( اسماعیل ) کے قول کو نقل کیا ہے۔

الکشف الحثیث ص 68 شماره 136

بہت ہی قابل توجہ نکتہ ہے کہ خود اس راوی نے روایات کو جعل کرنے کے بارے میں اقرار کیا ہے اور اسکے علاوہ دوسرے علماء نے بھی اسی کے بارے میں ایسا کرنے کے بارے واضح طور پر کہا ہے، لیکن اسکے باوجود بھی شیخین (بخاری و مسلم) نے اپنی اپنی کتاب میں راوی کے طور پر اسکی روایات کو ذکر کیا ہے۔

ذہبی نے اپنی کتاب سیر اعلام النبلاء میں اسکی حدیث کو ، حسن کہا ہے !!!

کیا ایک جھوٹی روایات کے جعل کرنے والے کی روایت صحیح اور حسن کی حد تک ہو سکتی ہے ؟؟؟

سیر اعلام النبلاء ج 10 ص 392 شماره 108

علاء الدین مغلطای نے خلیلی کی کتاب الارشاد سے نقل کرتے ہوئے، کتاب اکمال تهذیب الکمال میں کہا ہے کہ:

و جماعه من الحفاظ قالوا کان ضعیف العقل.

حافظان حدیث کے ایک گروہ نے کہا ہے کہ: وہ (ابن ابی اویس) ضعیف عقل کا مالک ہے۔

اکمال تهذیب الکمال ج 2 ص 184

محمد بن سعید المصلوب:

ابتداء میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایسا راوی کتاب صحیح بخاری کے راویوں میں سے نہیں ہے اور علم رجال کے علماء نے بیان کیا ہے کہ ترمذی اور ابن ماجہ نے اس سے روایت کو نقل و ذکر کیا ہے۔

عقیلی نے کتاب الضعفاء میں محمد ابن سعید کے بارے میں کہا ہے کہ:

کان صلب فی الزندقه متروک الحدیث.

یہ راوی زندیق تھا اور متروک الحدیث ہے، یعنی علماء اسکی نقل کردہ روایت کو نقل اور اس پر عمل نہیں کرتے تھے۔

الضعفاء ج 4 ص 70 شماره 1625

عقیلی نے اسی کتاب میں محمد ابن سعید سے منسوب چند ناموں کو بیان کرنے کے بعد کہا ہے کہ:

عن بعض اصحاب الحدیث انه قال یقلب اسمه علی نحو مائه اسم و ما ابعد ان یکون کما قال و هذا کله محمد بن سعید المصلوب.

بعض علمائے علم حدیث سے نقل ہوا ہے کہ اس راوی نے اپنے سو نام رکھے ہوئے تھے، اور بالکل بعید نہیں ہے کہ یہ بات صحیح ہو اور وہ تمام سو راوی، محمد ابن سعید المصلوب ہی ہوں۔

ابن حجر نے کتاب تہذیب التہذیب میں اسکی جرح یعنی ضعیف ہونے کو علماء کے ایک گروہ سے اور متعدد الفاظ کے ساتھ بیان کیا ہے:

قال ابن نمیر : و ذکرت له روایة الکوفیین عنه ، فقال : لم یعرفوه ، و إنما العیب على الشامیین الذین عرفوه ثم ووا عن هذا العدو لله ، کذاب یضع الحدیث .

و قال ابن عقدة : سمعت أبا طالب بن سوادة یقول : قلب أهل الشام اسمه على مئة و کذا و کذا اسما ، قد جمعتها فى کتاب .

و قال ابن القطان : من جملة ما قلبوه محمد بن أبى سهل . و نقل ذلک عن أبى حاتم .

و قال أبو مسهر : هو من کذابى الأردن .

و قال عمرو بن على : حدث بأحادیث موضوعة .

و قال ابن رشدین : سألت أحمد بن صالح المصرى عنه ، فقال : زندیق ، ضربت عنقه ، وضع أربعة آلاف حدیث عند هؤلاء الحمقى فاحذورها .

و قال النسائى أیضا ، و الدارقطنى : متروک الحدیث .

و قال ابن حبان : کان یضع الحدیث ; لا یحل ذکره إلا على وجه القدح فیه .

و قال أبو أحمد الحاکم : کان یضع الحدیث ، صلب على الزندقة .

و قال الجوزجانى : هو مکشوف الأمر ، هالک .

و قال الحاکم : هو ساقط ، لا خلاف بین أهل النقل فیه .

تهذیب التهذیب " ج 9 ص 163 – 164 شمازه 279

قابل غور یہ نکتہ ہے کہ اس راوی نے خود بھی جعلی روایات کے گھڑنے پر  واضح اعتراف کیا ہے، جسطرح کہ ذہبی نے کتاب تاریخ الاسلام میں کہا ہے کہ:

و قَالَ أبو زرعة الدمشقی: حدثنا محمد بن خالد عن أبیه، قال: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سَعِیدٍ یَقُولُ: لا بَأْسَ إِذَا کَانَ کَلامًا حَسَنًا أَنْ یَضَعَ لَهُ إِسْنَادًا.

محمد بن سعید کہتا تھا کہ میں جب بھی ایک اچھی بات سنتا تھا تو اس بات کے لیے اپنی طرف سے سلسلہ سند کو جعل کرنے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتا تھا۔

لا الہ الا اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس ملعون نے کتنی دوسروں کی باتوں کو رسول خدا کی حدیث بنا کر لوگوں کو بتایا ہو گا !!!

تاریخ الاسلام " ج 3 ص 961 شماره 380

 اس کے باوجود ذہبی نے اپنی کتاب میزان الاعتدال میں اسی راوی کے بارے میں لکھا ہے کہ:

و قد أخرجه البخاری فی مواضع و ظنّه جماعة.

بخاری نے متعدد جگہ پر اس سے روایت کو نقل کیا ہے اور بخاری نے گمان کیا ہے کہ وہ راویوں کا ایک گروہ ہے۔

میزان الاعتدال  ج 6 ص 166 و ج 3 ص 563 شماره 7592  

اہل سنت کے علم رجال کے عالم ذہبی کا یہ قول بتاتا ہے کہ بخاری نے محمد ابن سعید الصلوب سے روایات کو نقل کر کے اپنی کتاب صحیح بخاری میں ذکر کیا ہے !!!

مرحوم مظفر نے اپنی اہم کتاب دلائل الصدق میں ایسے کہا ہے کہ:

أقول: یبعد خفاء الأمر على (خ)، و الأقرب أنّه دلّسه اتّباعا لسلفه کما دلّس عبد اللّه بن صالح.

و لو سلّم، فهو جهل کبیر من (خ)، و عیب عظیم فی صحیحه!

فإذا کان مثل هذا الکذّاب الشهیر قد دلّسه عظماؤهم، و اشتملت على‏ روایاته صحاحهم، فکیف تعتبر أخبارهم، و تلحظ بعین الصحّة و الثقة بها؟!

میں کہتا ہوں کہ: بہت بعید ہے کہ بخاری حقیقت سے بے خبر ہو ، بلکہ حقیقت کے نزدیک یہ بات ہے کہ بخاری نے بھی اپنے گذشتہ بزرگوں کی پیروی کرتے ہوئے، جسطرح عبد اللہ ابن صالح کے بارے میں تدلیس کی ہے، ویسے ہی محمد ابن سعید کے بارے میں بھی تدلیس کی ہے۔

اور اگر فرض بھی کریں کہ حقیقت میں بھی یہ بات بخاری سے مخفی رہی ہے تو اب یہ کہنا صحیح و حق ہو گا کہ بخاری اپنی کتاب صحیح بخاری میں ایک عظیم جرم اور جہل کا مرتکب ہوا ہے۔ اگر محمد ابن سعید جیسے کذّاب و جاعل حدیث کے بارے میں انکے بزرگان نے تدلیس سے کام لیا ہو اور صحاح ستہ میں اس سے نقل کردہ بہت سی روایات موجود ہوں تو پھر کیسے اہل سنت کی صحاح ستہ کی روایات کو معتبر کہا جا سکتا ہے اور کیسے ان روایات کو صحیح یا حسن سمجھ کے ان سے استدلال کیا جا سکتا ہے !!!

دلائل الصدق ج 1 ص 240

نعیم بن حماد:

یہ راوی بخاری کے استادوں میں سے ہے اور بخاری نے مستقیم بغیر کسی واسطے کے اس سے روایت نقل کی ہے۔

ذہبی نے کتاب سیر اعلام النبلاء میں ایسے کہا ہے:

وَقَالَ ابْنُ حَمَّادٍ - یَعْنِی: الدُّوْلاَبِیَّ-: نُعَیْمٌ ضَعِیْفٌ. قَالَهُ: أَحْمَدُ بنُ شُعَیْبٍ.

احمد بن شعیب نے ابن حماد دولابی سے نقل کرتے ہوئے کہا ہے کہ: نعیم روایات میں ضعیف ہے۔

سیر اعلام النبلاء ج 10 ص 608 شماره 209

پھر مزید بھی کہا ہے کہ:

وَقَالَ غَیْرُهُ: کَانَ یَضَعُ الحَدِیْثَ فِی تَقْوِیَةِ السُّنَّةِ وَحِکَایَاتٍ عَنِ العُلَمَاءِ فِی ثَلْبِ أَبِی فُلاَنٍ ( ابی حنیفه ) کَذَبَ.

اسکے علاوہ دوسروں نے کہا ہے کہ: نعیم سنت کو محکم کرنے کے لیے جعلی احادیث بناتا تھا اور اسکی ابوحنیفہ کے بارے میں نقل کردہ داستانیں جھوٹی ہیں۔

ذہبی نے کتاب میزان الاعتدال میں ابو الفتح ازدی سے نقل کرتے ہوئے کہا ہے کہ:

کان نعیم ممن یضع الحدیث فی تقویه السنه و حکایات مزوره فی ثلب نعمان کلها کذب .

نعیم سنت کو محکم کرنے کے لیے جعلی احادیث بناتا تھا اور نعمان (ابوحنیفہ) کی مذمت کے بارے جھوٹی حکایات گھڑا کرتا تھا۔

میزان الاعتدال ج 4 ص 269

ابن حجر نے اپنی کتاب تہذیب التہذیب میں کتاب صحیح بخاری کے اس راوی کی آبرو کو حفظ کرنے کے لیے ابن عدی اور ازدی کے کلام کی توجیہ کی ہے اور کہا ہے کہ:

و حاشى الدولابى أن یتهم ، و إنما الشأن فى شیخه الذى نقل ذلک عنه ، فإنه مجهول متهم .

و کذلک من نقل عنه الأزدى بقوله : قالوا ، فلا حجة فى شىء من ذلک لعدم معرفة قائله .

دولابی کو متہم کرنے والی بات صحیح نہیں ہے کیونکہ یہ اسکے استاد کا قصور ہے کہ جس سے دولابی نے قول کو نقل کیا ہے، اس لیے کہ وہ مجہول ہے۔

تهذیب التهذیب " ج 10 ص 412   

ایک دوسری دلیل کہ جو ثابت کرتی ہے کہ نعیم ابن حماد روایات کو جعل کیا کرتا تھا، وہ سبط ابن العجمی کا قول ہے کہ:

سبط ابن العجمی نے کتاب الکشف الحثیث میں نعیم کے جاعل احادیث ہونے کے بارے میں کلام کو نقل کرنے کے بعد کہتا ہے کہ:

وقد ذکر الحاکم لنعیم بن حماد فی المستدرک فی الفتن والملاحم فیه ذکر السفیانی قال الحاکم صحیح قال الذهبی فی تلخیصه قلت هذا من أوابد نعیم انتهى فهذا یقتضی أنه من وضعه .

حاکم نیشابوری نے اپنی کتاب مستدرک کے باب فتن و ملاحم میں ایک روایت کو نعیم سے نقل کیا ہے کہ جس میں سفیانی کا نام ذکر ہوا ہے۔ حاکم نے اس روایت کے بارے میں کہا ہے کہ:

صحیح ہے لیکن ذہبی نے اپنی کتاب تلخیص میں کہا ہے کہ: یہ روایت نعیم کی طرف سے ایک یادگار ہے، یعنی اس بات کا معنی یہ ہے کہ یہ روایت نعیم ابن حماد کی جعل کردہ ہے۔

الکشف الحثیث  ص 268 شماره 808

یہ اقوال واضح کرتے ہیں کہ نعیم ابن حماد جاعل حدیث تھا، اور اہل سنت کے بزرگ علماء نے بھی اس بات کو اسکے بارے میں قبول کیا ہے اور اسی بات کو اپنی اپنی کتب میں بھی ذکر کیا ہے۔

راویان ناصبی بخاری:

بخارى نے اپنی کتاب صحیح بخاری کی اسناد میں رسول خدا (ص)کے خاندان سے منسوب بزرگ علماء سے روایات کو نقل کرنے سے اجتناب کیا ہے اور اسکی بجائے اہل بیت سے دشمنی و بغض رکھنے میں مشہور و معروف خوارج اور امیر المؤمنین علی و آل علی (ع) کے دشمنوں سے روایات کو نقل کیا ہے۔

مثال کے طور پر بخاری کے نزدیک ایک مورد اعتماد و ثقہ راوی، عمران بن حطان السدوسى بصرى ہے کہ جو خوارج کا سردار تھا۔ یہ وہ عمران ہے کہ جس نے امیر المؤمنین علی کی دشمنی میں انکے قاتل ابن ملجم کی مدح میں اشعار کہے ہیں، حالانکہ اسکا یہ کام صد در صد رسول خدا کے کلام کی خلاف ورزی ہے کہ انھوں نے فرمایا کہ:

یا على ھل تدرى من اشقى الاولین فقال (ع) الله و رسوله اعلم فقال عاقر الناقه قال یا على ھل تدرى من اشقى الاخرین قال على (ع) الله و رسوله اعلم قال (ص) : قاتلک یا على.

...... اے علی تیرا قاتل شقی ترین انسان ہو گا۔

جب ایک انسان رسول خدا کی مخالفت میں اس حد تک آگے چلا جائے کہ شقی ترین انسان کو متقی و پرہیزگار کہے، ایسا انسان کس حد تک قابل ثقہ ہو گا کہ جسکی وجہ سے بخاری نے اس پر اعتماد کرتے ہوئے اس سے روایات کو نقل کرتے ہوئے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے ، لیکن رسول خدا کے اہل بیت حتی امام باقر و امام صادق اس علمی عظمت کے باوجود، انکی روایات کو اپنی کتاب میں ذکر نہیں کیا۔

اسی وجہ رسول خدا کے اہل بیت اور خاص طور پر مولا علی کے فضائل کے بارے میں ہزاروں روایات کہ جنکو اہل سنت کے علماء مکمل طور ذکر کیا ہے لیکن بخاری نے ان ہزاروں روایات میں سے فقط تین یا چار روایت کو ذکر کیا ہے !!!

صحیح بخاری میں ضعیف راویوں کا موجود ہونا:

الاسم : أبى بن العباس بن سهل بن سعد الأنصارى الساعدى المدنى ( أخو عبد المهیمن بن العباس )

الطبقة : 7 : من كبار أتباع التابعین

روى له : خ ت ق ( البخاری - الترمذی - ابن ماجه )

رتبته عند ابن حجر : فیه ضعف

رتبته عند الذهبی : ضعفوه ، قال أحمد : منكر الحدیث ، قال یحیى بن معین : ضعیف ، و قد احتج البخارى به۔

قال الحافظ فی تهذیب التهذیب ج 1 ص 186

قال البخارى : لیس بالقوى .

الاسم : حسان بن حسان البصرى ، أبو على بن أبى عباد

الطبقة : 10 : كبار الآخذین عن تبع الأتباع

الوفاة : 213 هـ

روى له : خ ( البخاری )

رتبته عند ابن حجر : صدوق یخطىء

رتبته عند الذهبی : قال أبو حاتم : منكر الحدیث ، و قال البخارى : كان المقرىء یثنى علیه

قال أبو حاتم : منكر الحدیث .

و قال الدارقطنى فى " الجرح و التعدیل " : لیس بقوى .

الاسم : فلیح بن سلیمان بن أبى المغیرة ، الخزاعى و یقال الأسلمى ، أبو یحیى المدنى ، و یقال اسمه عبد الملك

الطبقة : 7 : من كبار أتباع التابعین

الوفاة : 168 هـ

روى له : خ م د ت س ق ( البخاری - مسلم - أبو داود - الترمذی - النسائی - ابن ماجه )

رتبته عند ابن حجر : صدوق كثیر الخطأ

رتبته عند الذهبی : قال ابن معین ، و أبو حاتم ، و النسائى : لیس بالقوى

یحیى بن معین : ضعیف

یحیى بن معین : لیس بقوى ، و لا یحتج بحدیثه

أبو حاتم : لیس بالقوى

النسائى : ضعیف

الاسم : مقسم بن بجرة و یقال ابن نجدة أبو القاسم و یقال أبو العباس مولى عبد الله بن الحارث

الطبقة : 4 : طبقة تلى الوسطى من التابعین

الوفاة : 101 هـ

روى له : خ د ت س ق ( البخاری - أبو داود - الترمذی - النسائی - ابن ماجه )

رتبته عند ابن حجر : صدوق و كان یرسل

رتبته عند الذهبی : لم یذكرها

و ذكره البخارى فى " الضعفاء"

و قال البخارى فى " التاریخ الصغیر " : لا یعرف لمقسم سماع من أم سلمة و لا میمونة

بخاری کے علم رجال کے بارے میں علماء کے اقوال:

خطیب بغدادی :

فإن البخاری قد احتج بجماعة سبق من غیره الطعن فیهم والجرح لهم،

بخاری نے ان راویوں کی روایات سے استدلال کیا ہے کہ جن کو دوسرے محدثین نے ضعیف اور خدشہ قرار دیا ہے۔

الكفایة فی علم الروایة للخطیب البغدادی  ج 1 ص 312

شارح صحیح بخاری :

فی الصحیح جماعة جرحهم بعض المتقدمین،

صحیح بخاری میں ایسے راوی ہیں کہ جنکو بعض قدیم علماء نے ضعیف قرار دیا ہے۔

عمدة القاری شرح صحیح البخاری ج 1 ص 18

ابن القطان فاسی عالم بزرگ اہل سنت نے کہا ہے کہ:

ابْن الْقطَّان إِن فِی رجال الصَّحِیحَیْنِ من لَا یعلم إِسْلَامه فضلا عَن عَدَالَته،

صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ایسے راوی بھی ہیں کہ انکا عادل ہونا تو دور کی بات، انکا مسلمان ہونا بھی واضح نہیں ہے۔

ثمرات النظر فی علم الاثر،ص  145و 146  طبع دار ابن حزم

صحیح بخاری و صحیح مسلم کے ضعیف ہونے کی دو اہم دلیلیں:

دلیل اول:

کتاب صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ان جیسے راویوں سے روایات کا نقل ہونا۔

عمران بن حطان السدوسى بصرى:

یہ خوارج کا سردار تھا۔ یہ وہ عمران ہے کہ جس نے امیر المؤمنین علی کی دشمنی میں انکے قاتل ابن ملجم کی مدح میں اشعار کہے ہیں۔ یہ دشمن امام علی (ع)  اور ناصبی تھا۔

ابوہریره:

اس سے اہل سنت کی کتب میں 5374 احادیث نقل ہوئی ہیں اور بخاری نے اپنی کتاب صحیح بخاری 446 احادیث اس سے نقل کی ہیں۔

ابوہریرہ معاویہ کا دوست تھا کہ جو معاویہ کے حکم سے احادیث کو جعل کیا کرتا تھا اور حضرت علی پر غلط غلط تہمتیں لگاتا تھا اور خود معاویہ و تین خلفاء کی فضیلت کے بارے میں بھی احادیث گھڑتا تھا۔  ابو ہریرہ جب ایک حدیث کو رسول خدا سے نقل کرتا تھا، جب سننے والے اس حدیث سے تعجب کرتے تھے اور پوچھتے تھے کہ:

قالوا . . . یا ابا هریره سمعت هذا من رسول الله ؟ قال لا هذا من کیس ابی هریره .

کیا تم نے اس حدیث کو رسول خدا سے سنا ہے ؟ تو وہ بڑی جرات و فخر سے کہتا تھا کہ: نہ، بلکہ میں نے اس حدیث کو اپنے تھیلے سے نکال کر نقل کیا ہے۔

یہ ابوہریرہ وہ ہے جو حتی اپنے زمانے میں عام لوگوں اور صحابہ کے درمیان جھوٹا اور جعلی روایات گھڑنے والا مشہور تھا۔

ابو موسی اشعری:

بخاری نے اس سے 57 احادیث کو نقل کیا ہے۔ اسکے بارے میں بھی مشہور تھا کہ یہ بھی احادیث کو جعل کیا کرتا تھا۔ یہ حضرت علی (ع) کا بہت سخت دشمن و مخالف تھا، یہاں تک کہ وہ حضرت اسکو اپنی نماز میں لعنت کیا کرتے تھے۔

اسی طرح اس نے جنگ صفین کے موقع پر حکمیت کے دوران حضرت علی کو خلافت سے عزل کر دیا اور وہ عبد اللہ ابن عمر کو حضرت علی کی نسبت زیادہ مناسب و حقدار جانتا تھا۔

عمرو عاص:

اسکی رسول خدا اور حضرت علی سے دشمنی تاریخ میں اتنی واضحات میں سے ہے کہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ حضرت علی (ع) نے نہج البلاغہ میں اسکو جھوٹا اور تہمتیں لگانے والا کہا ہے اور وہ حضرت اس پر بھی اپنی نماز میں لعنت کیا کرتے تھے۔

عبد الله بن زبیر:

بخاری نے اس سے 10 روایات کو اپنی کتاب صحیح بخاری میں نقل کیا ہے، یہ بھی امیر المؤمنین علی کا بہت ہی سخت دشمن تھا اور اسکا تعلق خوارج و نواصب سے  تھا۔

عائشہ بنت ابی بکر:

ابوہریرہ کے بعد سب سے زیادہ روایات اس سے نقل ہوئی ہیں۔ عائشہ سے 2210 احادیث رسول  روایت ہوئی ہیں۔

اگر صحاح ستہ میں مکرر روایات حذف نہ کی جائیں تو روایات عائشہ کی تعداد یوں ہے:

بخاری: 960 احادیث

صحیح مسلم: 761 احادیث

بخاری نے ان سے اور ان جیسوں سے فقط خداوند جانتا ہے کہ کیسی کیسی روایات اپنی کتاب میں نقل و ذکر کیں ہیں، لیکن رسول خدا کے اہل بیت سے جیسے حضرت علی (ع) کہ جو رسول خدا کے ساتھ  23 سال رہے، بلکہ انکے دامن میں پرورش پائی۔ اہل سنت کی تمام کتب میں علی (ع) سے  کل 536 روایات نقل ہوئی ہیں۔

علي بن أبي طالب: خمسمائة حديث [وستة وثلاثون حديثاً].» جوامع السیرة و خمس رسائل اخری لابن حزم (الرسالة الثانیة: اسماء الصحابة الرواة و ما لکل واحد من العدد)، ابن حزم، مصر: دارالمعارف، ص276.

ان 536 روایات میں سے اہل سنت کے علماء فقط 50 روایات کو صحیح قرار دیتے ہیں اور بخاری نے اپنی کتاب صحیح بخاری میں فقط 29 روایات کو ذکر کرنے کی زحمت کی ہے۔

علي بن أبي طالب بن عبد المطلب الهاشمي تسعة وعشرون حديثا.» هدی الساری، مقدمه فتح الباری، ابن حجر عسقلانی، بیروت: دارالفکر، 1415ق، ص660.

بخاری نے حضرت زہرا (س) سے فقط ایک حدیث نقل کی ہے۔ !!!

اور عائشہ سے 242 روایات نقل کیں ہیں !!!

هدی الساری، مقدمه فتح الباری، ابن حجر عسقلانی، بیروت: دارالفکر، 1415ق، ص661.

446  أبو هريرة الدوسي صحابي له في صحيح البخاري

أربعمائة وستة وأربعون حديثا ،

بخاری نے 446 روایات ابوہریرہ سے اپنی کتاب میں ذکر کیں ہیں !

270  عبد الله بن عمر بن الخطاب العدوي صحابي له في صحيح البخاري، مائتان وسبعون حديثا،

بخاری نے 270 روایات عبد الله بن عمر سے اپنی کتاب میں ذکر کیں ہیں !

268  أنس بن مالك الأنصاري صحابي له في صحيح البخاري

بخاری نے 268 روایات انس بن مالك الأنصاری سے اپنی کتاب میں ذکر کیں ہیں !
242 
 عائشة بنت أبي بكر الصديق أم المؤمنين صحابية لها في صحيح البخاري، مائتان وثمانية وستون حديثا 

بخاری نے 242 روایات  عائشۃ                     بنت ابی بكر سے اپنی کتاب میں ذکر کیں ہیں !

29  علي بن أبي طالب بن عبد المطلب الهاشمي صحابي له في صحيح البخاري : تسعة وعشرون حديثا

بخاری نے 29 روایات  علی بن ابی طالب سے اپنی کتاب میں ذکر کیں ہیں !

کیا مناسب نہیں ہے کہ اہل سنت کے علماء سے سوال کیا جائے کہ آپکی قرآن کے بعد صحیح ترین کتاب صحیح بخاری میں کیوں امیر المؤمنین علی (ع) سے فقط 29 روایات ذکر ہوئی ہیں ؟؟؟

کیا رسول خدا (ص) نے علی (ع) کو اپنے شہر علم کا دروازہ نہیں کہا، انا مدینۃ العلم وعلیّ بابھا،

پس نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ بخاری رسول خدا کے علم کے دروازے میں داخل ہی نہیں ہوا ، اسی وجہ سے اسکی اپنے خیال میں صحیح ترین روایات میں تضاد و تعارض پایا جاتا ہے !!!

ہم بھی اہل بیت کی پیروی کرتے ہیں، انکو مانتے ہیں، ان سے بھی ہم محبت کرتے ہیں کہ اہل سنت کے علماء اور عوام کے دعوے کہ وہ 1400 سال سے کرتے آ رہے ہیں۔ کیا آپکو وہ سارے دعوے سچ نظر آ رہے ہیں !!!!!!!!!!!

اب وہ جو خود کو ظاہری طور پر اہل سنت کہتے ہیں، افسوس کریں کہ خود انکے ہی علماء باعث بنے ہیں کہ رسول خدا (ص) کی صحیح بہت سی روایات ان تک نہیں پہنچیں اور اس طرح وہ رسول خدا کے علم و سنت سے کتنے دور ہو گئے ہیں۔

دلیل دوم:

وہ دلیل کتاب صحیح بخاری و صحیح مسلم کی احادیث میں شدید اور غلط تعصّب کا ہونا ہے، البتہ یہ تعصّب صحیح مسلم کی نسبت صحیح بخاری میں زیادہ ہے، اسی وجہ سے اس کا احترام بھی صحیح مسلم سے زیادہ ہے !!!

مثلا ان دو کتابوں میں بخاری  و مسلم نے حضرت علی کے مشہور ، مہم اور متواتر فضائل کو نقل نہیں کیا، کہ البتہ اہل سنت کی دوسری معتبر کتب اور باقی صحاح ستہ میں ان فضائل کو ذکر کیا گیا ہے، وہ ایسے فضائل ہیں کہ تاریخ اسلام کے مسلمات میں سے ہیں اور انہی فضائل سے تاریخ اسلام وجود میں آئی ہے۔ وہ فضائل جیسے حدیث غدیر و نزول آیت تطہیر و حدیث سد الابواب و حدیث طائر مشوی و حدیث انا مدینۃ العلم وغیرہ وغیرہ ہیں کہ جنکو بخاری و مسلم نے اپنی اپنی کتاب میں ذکر کرنے کی زحمت برداشت نہیں کی، لیکن شراب خوار، زنا کار، غیر مسلم، دشمنان رسول خدا و اہل بیت، خوارج ، نواصب وغیرہ سے روایات کو ذکر کیا ہے۔

ھل ھذا عدل یا بن الطلقاء ......،

کیا یہ عدل و عدالت ہے  اے اہل بیت کے آزاد کردہ غلامو !!!

لیکن اسی بخاری نے اپنی کتاب میں معاویہ کے فضائل کا باب ذکر کیا ہے اور اس باب میں تین روایات کو بھی ذکر کیا ہے۔

کتاب صحیح بخاری (ج5 ص666 و667 کتاب فضائل باب 30 ذکر معاویه)

اور وہ بھی کیا کیا عجیب و غریب روایات معاویہ کے بارے میں ذکر کی ہیں !!!

اگر بخاری و مسلم کے حضرت علی کے ان مشہور فضائل کو ذکر نہ کرنے تک بات ہوتی تو بھی قابل برداشت تھا، لیکن بدبختی یہ ہے کہ ان کا ان فضائل کو ذکر نہ کرنا، بعض علماء و محدثین کے لیے بہانہ بن گیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ اے شیعو تم حضرت علی کی شان میں فلانی صحیح و متواتر حدیث و روایت کو ذکر کرتے ہو، لیکن ہم اس حدیث کو قبول نہیں کرتے اور ہماری نظر میں یہ اور اس جیسی دوسری روایات صحیح نہیں ہیں، اس لیے یہ حدیث کتاب صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ذکر نہیں ہوئی، اس لیے کہ اگر یہ روایت صحیح ہوتی تو ہماری ان دو کتابوں میں ضرور ذکر ہوتی !!!

اب سوال یہ ہے کہ بخاری  و مسلم جیسے افراد کہ جو اسلام کے زمانے سے نزدیک تھے، جب وہ تاریخ اسلام کے حقائق اور واقعیات سے ایسا سلوک و خیانت کرتے ہیں تو اب اس زمانے میں اہل سنت و وہابیت کے علماء تاریخ اسلام کے حقائق اور واقعیات سے کیسا سلوک کرتے ہوں گے ؟ !!!

مثلا ابن تیمیہ ناصبی کتاب منہاج السنہ میں حدیث غدیر کو ردّ کرنے کے بارے میں کہتا ہے کہ:

حدیث من کنت مولا ، کو مؤرخین نے صحاح میں نقل نہیں کیا اور اس حدیث کے صحیح ہونے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ( پس یہ حدیث صحیح نہیں ہے اور ضعیف ہے، یعنی رسول خدا سے نقل نہیں ہوئی، پس علی (ع) رسول خدا کے جانشین و خلیفہ نہیں ہیں و و و و و و و ۔۔۔۔۔۔۔۔۔)

منہاج السنه، ج4 ص12

اور اسی طرح اگر صحیح بخاری و صحیح مسلم پر ایک نگاہ کریں تو معلوم ہو گا کہ یہ دونوں رسول خدا کے اہل بیت کے ساتھ کتنا بغض و کینہ رکھتے تھے کہ حتی ایک حدیث بھی ان سے نقل کرنے کی زحمت کو برداشت نہیں کیا۔ مثلا امام صادق و امام حسن و امام موسی بن جعفر و امام رضا و امام جواد و امام ہادی و امام حسن عسکری علیہم السلام کہ بخاری و مسلم کہ ان آئمہ میں بعض کے ساتھ ہمعصر تھے اور انکے مبارک نام اور علم کی شہرت کے چرچے ہر جگہ تھے، لیکن اسکے باوجود ان سے حتی ایک بھی روایت کو نقل نہیں کیا۔ فقط امام سجاد سے چند جعلی و جھوٹی روایت کو نقل کیا ہے، جیسے: امیر المؤمنین علی و حضرت زہرا نماز کے لیے بیدار نہیں ہوتے تھے اور رسول خدا آ کر انکو بیدار کرتے تھے ....... یا نقل کیا ہے کہ حضرت حمزہ شراب پی کر مست ہوا کرتے تھے۔

آپ صاحبان عقل و معرفت بخاری و مسلم کو رسول خدا کے اہل بیت سے روایات کو نقل نہ کرنے کو اہل بیت سے بغض، دشمنی اور کینے کے علاوہ کوئی اور نام دے سکتے ہیں ؟؟؟

یہاں پر رسول خدا (ص) کی حدیث کا معنی کتنا واضح ہو جاتا ہے  کہ:

روى الإمام أحمد في الفضائل بسنده عن مساور الحميري عن أمه عن أم سلمة قالت : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لعلي : لا يحبك إلا مؤمن ، ولا يبغضك إلا منافق ،

امام احمد ابن حنبل نے اپنی کتاب میں نقل کیا ہے کہ: ام المؤمنین ام سلمہ نے کہا ہے کہ: میں نے خود رسول خدا سے سنا ہے کہ وہ حضرت علی سے کہہ رہے تھے کہ: اے علی تم سے محبت نہیں کرے گا مگر مؤمن اور تم سے بغض نہیں رکھے گا مگر منافق۔

فضائل الصحابة ج 2 ص 648

فلعن الله المنافقين والكفره والقاسطين والناكثيين والمارقين الذين حاربوا الامام علي عليه السلام

ہاں اے صاحبان عقل و معرفت و علم و تحقیق، یہ اہل سنت مسلمانوں کی قرآن کریم کے بعد صحیح ترین کتاب کے راویوں کی حالت ہے ۔ اہل بیت (ع) کے در سے دور ہونا انسان کو کہاں لے جاتا ہے۔ یہ تو اس دنیا میں حالت ہے، ابھی آخرت میں انکے ساتھ کیا ہوتا ہے ، وہ خداوند ہی جانتا ہے۔

فارسی کا ایک شعر یہاں پر بہت ہی مناسب ذہن میں آ رہا ہے کہ:

چندین چراغ دارد و بی راہہ می رود

بگذار تا بیافتد و بیند سزای خویش

یعنی ایک انسان  بہت سے چراغ اور روشنی ہونے کے باوجود جب  غلط راستے پر چلتا ہے  تو  پھر اسے اسی راستے پر چلنے دو تا کہ جب وہ گرے گا تو اسے اسکے اندھے پن کی سزا مل جائے گی۔

اسی لیے دعاؤں اور زیارات میں ہمارے آئمہ معصومین (ع) کو ظلمت و تاریکی میں روشن چراغ کہا گیا ہے، اسکی یہی حکمت ہے کہ جو بیان کی گئی ہے۔ (مصابیح الدجی)

السَّلامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ بَيْتِ النُّبُوَّةِ وَ مَوْضِعَ الرِّسَالَةِ وَ مُخْتَلَفَ الْمَلائِكَةِ وَ مَهْبِطَ الْوَحْيِ وَ مَعْدِنَ الرَّحْمَةِ وَ خُزَّانَ الْعِلْمِ وَ مُنْتَهَى الْحِلْمِ وَ أُصُولَ الْكَرَمِ وَ قَادَةَ الْأُمَمِ وَ أَوْلِيَاءَ النِّعَمِ وَ عَنَاصِرَ الْأَبْرَارِ وَ دَعَائِمَ الْأَخْيَارِ وَ سَاسَةَ الْعِبَادِ وَ أَرْكَانَ الْبِلادِ وَ أَبْوَابَ الْإِيمَانِ وَ أُمَنَاءَ الرَّحْمَنِ وَ سُلالَةَ النَّبِيِّينَ وَ صَفْوَةَ الْمُرْسَلِينَ وَ عِتْرَةَ خِيَرَةِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَ رَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَكَاتُهُ السَّلامُ عَلَى أَئِمَّةِ الْهُدَى وَ مَصَابِيحِ الدُّجَى وَ أَعْلامِ التُّقَى وَ ذَوِي النُّهَى  وَ أُولِي الْحِجَى وَ كَهْفِ الْوَرَى وَ وَرَثَةِ الْأَنْبِيَاءِ وَ الْمَثَلِ الْأَعْلَى وَ الدَّعْوَةِ الْحُسْنَى وَ حُجَجِ اللَّهِ عَلَى أَهْلِ الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ وَ الْأُولَى وَ رَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَكَاتُهُ السَّلامُ عَلَى مَحَالِّ مَعْرِفَةِ اللَّهِ وَ مَسَاكِنِ بَرَكَةِ اللَّهِ وَ مَعَادِنِ حِكْمَةِ اللَّهِ وَ حَفَظَةِ سِرِّ اللَّهِ وَ حَمَلَةِ كِتَابِ اللَّهِ وَ أَوْصِيَاءِ نَبِيِّ اللَّهِ وَ ذُرِّيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ وَ رَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَكَاتُهُ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

التماس دعا.....





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی