موبائل کا نسخہ
www.valiasr-aj .com
آراء کی فہرست

سے: تک: عبارت کو شامل: عبارت کی جگہ:

صفحہ نمبر سے 4  »
1
مندرجات کا کوڈ: 1644 - عنوان: معاویہ ابن ابی سفیان کی زندگی اور اسکے کردار پر ایک نظر
مکمل نام : جلیل الحسینی - تاریخ اشاعت: ١٥:٥٩ - ٠٢ آذر ٢٠٢١
آپ لوگوں نے بس شیعوں کو کافر کھنا ہی سیکھا ہے صد افسوس کہ آپ کے مدرسوں میں یہ بھی سکھایا جاتا کہ نعروں کے علاوہ علمی میدان بھی ہوتا ہے، مگر کیا کریں یہ پوسٹ جس شخص کی سرزنش میں ہے وہ بے چارہ بھی اسی طرح کھوکھلے نعرے مارتا تہا پر تھا باغی اور قرآن نے باغی گروہ کو جھنمی کھا ہےـ
جواب:
سلام علیکم ۔۔
محترم آپ کی باتیں واضح نہیں ہیں ۔
 
معاویہ اور اس کی جماعت کو باغی گروہ کہنا شیعوں سے مخصوص نظریہ نہیں ہے بلکہ یہ اصحاب ، تابعین اور اہل سنت کے مایہ ناز علما کا نظریہ ہے۔
اب بعض لوگ اپنے ہی سلف سے بغاوت کرتے ہیں لیکن حقیقت کو چھپانے کے لئے سب کچھ شیعوں کی گردن پر ڈالتے ہیں ۔۔
لہذا یہ کہنا غلط بیانی ہے کہ معاویہ اور اس کے گروہ کو باغی کہنا شیعوں کا ہی نظریہ ہے ۔یہ تو اہل سنت کے بزرگوں کا نظریہ ہے ۔
 
تفصیل کے لئے نیچے کی ایڈرس پر رجوع کریں ۔۔
 
https://www.valiasr-aj.com/urdu/shownews.php?idnews=2028

2
مندرجات کا کوڈ: 416 - عنوان: قیام عاشورا اور ہدف امام حسین(ع)
مکمل نام : صائمہ جعفری - تاریخ اشاعت: ١١:٥٥ - ٢٩ آبان ٢٠٢١
جزاک اللہ
بہت اعلی۔
اللہ تعالی عز وجل جز آئے خیر عطا کرے۔ آمین
جواب:
 سلام علیکم۔۔۔
بہت شکریہ ۔
 
اللہ ہم سب کو امام حسین علیہ السلام کے قیام کے اہداف کو سمجھنے اور عزاداری کو امام علیہ السلام کے اہداف کے مطابق منانے کی توفیق عنایت فرمائیں ۔۔
 آمین یا رب العالمین ۔۔

3
مندرجات کا کوڈ: 1915 - عنوان: ابن تیمیہ اور اس کے ہمفکروں کے عجیب اور مزاحیہ ڈرامہ بازی ؛
مکمل نام : عطاء اللّه علی حیدری - تاریخ اشاعت: ٢٢:١٥ - ٢٦ آبان ٢٠٢١
ماشاءالله قبلہ مولا سلامت رکھے آپکی کاوشیں مولا اپنی بارگاہ میں قبول فرماۓ
جواب:
 سلام علیکم۔۔
 
شکریہ محترم
 
ابن تیمیہ کو بہت سے لوگ شیخ السلام اور علیہ الرحمہ کہتے ہیں ۔۔۔ جبکہ اصحاب کی شان اور فضیلت بیان کرنے والوں اور اپنے آپ کو اصحاب کے جیالے کہنے والوں کے ادعا پر ایک سوالہ نشان ہے ۔
اگر اصحاب کے ساتھ مخلص ہیں اور سارے اصحاب سے دفاع کا نعرہ لگاتے ہیں تو انہیں ابن تیمیہ جیسے گستاخوں سے اظہار برائت کرنی چاہئے ۔
 
 اس کو اہل سنت کے بعض علما نے خاص کر امیر المومنین علیہ السلام پر تنقید اور زبان درازی کی وجہ سے ناصبی تک کہا ہے۔
 
جیساکہ ہم نے اسی مقالے میں ابن تیمیہ کی طرف سے امیر المومنین علیہ السلام اور جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کی شان میں گستاخی کے چند نمونے ذکر کیے ہیں ۔
 
اب شیعوں  پر اصحاب کی شان میں  گستاخی کرنے کا الزام اور اس پر فتوے لگانے والوں کو سوچنا ہوگا کہ وہ اصحاب کے ساتھ کس حد تک مخلص ہیں۔

4
مندرجات کا کوڈ: 2033 - عنوان: خلفاء کے بارے میں امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا موقف. +اسکن کے ساتھ۔۔
مکمل نام : Aftab Raza - تاریخ اشاعت: ١٤:٤١ - ٢٣ آبان ٢٠٢١
Slam. Mazeed behtry ke zaroorat hay, Masha Allah,asal kutub ka sun e print wa jaga b mention karain, keep it up , JazakAllah
جواب:
سلام علیکم :
 
بہت شکریہ ۔
جی انشا اللہ ۔۔
 
ہم نے اہل سنت کے مقدسات کی توہین کی نیت سے اس تحریر کو تیار نہیں کیا ہے ۔
 
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے۔ اہل سنت والے ہم سے کہتے ہیں کہ شیعہ اہل بیت علیہم السلام کی پیروی نہیں کرتے ،حضرت علی علیہ السلام نے خلفا کی پیروی اور بیعت کی ہے ۔لیکن شیعہ نعوذ با اللہ امیر المومنین علیہ السلام کی مخالفت کرتے ہیں اور خلفا کو نہیں ماننتے ۔
اسی طرح بعض کہتے ہیں کہ شیعہ خلفا کی شان میں توہین کرتے ہیں اور انہیں غاصب اور ۔۔۔۔۔۔  سمجھتے ہیں ۔۔۔
 
ہم ان سارے اعتراضات کے جواب میں کہتے ہیں کہ شیعہ وہی کہتے ہیں کہ جو آپ کی کتابوں میں ہیں اور ہم خاص کر حق حضرت زہرا سلام اللہ علیہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جانشینی کے مسئلے میں اہل بیت علیہم السلام کے ساتھ ہم عقیدہ ہیں۔۔
 
جیساکہ اہل سنت کی سب سے معتبر کتابوں میں موجود صحیح سند روایات اس بات پر شاہد ہیں کہ امیر المومنین علیہ السلام ان کی طرف سے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جانشین کہنے اور ہونے کے نظریے کو  سخت ترین الفاظ میں جھٹلاتے تھے ۔۔۔
 
 
 

5
مندرجات کا کوڈ: 1037 - عنوان: قتل امام حسین (ع) کے بارے میں تاریخی اسناد و دلائل:
مکمل نام : ڈاکٹرغلام مصطفے اظہر - تاریخ اشاعت: ١٢:٤٩ - ٢١ آبان ٢٠٢١
تاریخ حقائق کو تو نہی جھٹلا سکتی بہت خوبصورت تحریر
جواب:
سلام علیکم
 
۔۔   آج کل بعض لوگ شیعہ دشمنی اور بنی امیہ کے ظالموں حاکموں کی وکالت میں یہ ناکام کوشش کرتے ہیں ، تعصب کا شکار لوگ اپنے سلف اور بزرگوں کے علمی آثار کو نظر انداز کرتے ہیں اور یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ فرزند رسول اللہ ص کو قتل کرنے والے شیعہ ہی ہیں ۔۔
 
عجیب بات ہے ۔ ابن زیاد اور عمر سعد کے بنیادی کردار پر پردہ ڈالتے ہیں اور شیعوں کو ہی قاتل کہنے  کو اپنا شعار بنایا ہوا ہے ۔
 
جبکہ شیعوں کو قاتل کہنے کی جرات نہ یزید کا خصوصی گورنر ابن زیاد کرسکا اور نہ یزید ۔۔۔ 
اگر شیعوں کا اس قتل میں ہاتھ ہوتا تو یہی سب سے زیادہ اس وقت کے حالات سے آگاہ تھے اور ان کے لئے سب سے آسان کام یہی تھا کہ سب کچھ شیعوں کی گردن پر ڈال کر اس نگ و عار اور بدنامی سے اپنے کو برئ الذمہ قرار دیتے ۔۔  یہ دونوں ایسا نہیں کرسکے کیونکہ یہ ان کے لئے مزید رسوائی کا باعث بنتا کیونکہ سب کے سامنے اور واقعے کے عینی شاہدوں کے آگے جھوٹ بولنا آسان کام نہیں تھا ۔
اسی لئے یہ دونوں اس  قتل کو ایک دوسرے کی گردن پر ڈالتے رہے۔
 
لیکن ان کے وکیل اور یزیدی فکر رکھنے والے اس جرم کو شیعوں کی گردن پر ڈالتے ہیں  اور اپنے سلف ابن زیاد اور یزید سے بھی چند قدم آگے نکلتے ہیں ۔۔  سچ کہا ْْْْ۔۔۔۔ شرم مگر تم کو نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

6
مندرجات کا کوڈ: 795 - عنوان: فضائلِ امیر المؤمنین امام المتقین علی ابن ابی طالب علیہ السلام علماء و کتب اہل سنت کی نظر میں
مکمل نام : سید سعید رضا - تاریخ اشاعت: ١٤:١٩ - ٠٧ آبان ٢٠٢١
ماشاءاللہ تمام زبردست مولا سلامت رکھے آپکو آپکی توفیقات میں اِضافہ فرمائے
جواب:
 سلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۔
                     
بہت شکریہ محترم ۔۔۔
 
اللہ ہم سب کو مولا علی علیہ السلام کے فضائل بیان کرنے اور ان کی سیرت اور تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق دئے ۔  
                                                 
                                                       آمین یا رب العالمین 
 
 

7
مندرجات کا کوڈ: 1975 - عنوان: متعہ کی شرعی حیثیت {اھل سنت کی کتابوں سے }
مکمل نام : ایس ایم شاہ - تاریخ اشاعت: ١٩:٤٤ - ٣٠ مهر ٢٠٢١
بہترین اور مدلل مضمون اپلوڈ کرنے کا شکریہ
اس طرح کے اختلافی موضوعات مستند مواد سائٹوں پر اپلوڈ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ جزاکم اللہ خیرا
جواب:
 سلام علیکم ۔۔ بہت شکریہ 
 ہماری کوشش یہی ہے کہ مکتب اہل بیت پر ہونے والے اعتراضات کا ٹھوس اور علمی جواب دیا جائے ۔ جتنے بھی شیعہ اور اہل سنت کے درمیان اختلافی مسائل ہیں اور جن کو بنیاد بنا کر شیعوں پر اعتراض کرتے ہیں ، الحمد للہ شیعہ ان سب باتوں کا جواب خود مخالفین کی کتابوں سے دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں جیساکہ مذکورہ تحریر میں آپ نے ملاحظہ فرمایا ہوگا ۔ ہم نے متعہ کی حقیقت کو خود اہل سنت کی کتابوں سے ثابت کیا ہے ۔۔ 
 
عجیب بات ہے کہ جس متعہ کو بہانہ بنا کر شیعوں کے خلاف غیر اخلاقی باتوں کی نسبت دیتے ہیں ، خود مخالفین کی کتابوں میں ہے کہ اصحاب خلیفہ دوم کے دور تک متعہ کرتے تھے اور روکنے والے نہیں تھے لیکن خلیفہ نے طاقت کا استعمال کیا اور انہیں اس کام سے روکا ۔۔۔۔ اب اگر یہ خیبر کے دن حرام ہوا تھا تو خلیفہ دوم کے دور تک تقریبا ۷ سال تک کیسے اصحاب اس کو انجام دیتے رہے ؟؟

8
مندرجات کا کوڈ: 1371 - عنوان: جمع بین دو نماز ، شیعہ اور اہل سنت کی نگاہ میں
مکمل نام : محمد عرفان - تاریخ اشاعت: ٠٩:٤٢ - ٢٧ مرداد ٢٠٢١
دو نمازوں کو ملا کر پڑھنے سے مراد ایک نماز کاآخری وقت اور دوسری نماذ کا ابتدائ وقت
نیز سہولت دینے سے مساجد نہیں بھرتیں.محبت سے دین پر عمل کروانا سیکھیں.
جواب:
سلام علیکم ۔۔۔
 
نہیں جمع کر کے پڑھنے کا یہ مطلب نہیں ہے ۔۔۔ مثلا ظہر کے آذان کے بعد شیعہ {پہلے جماعت کے ساتھ یا جماعت کے بغیر } ظہر پڑھ لیتا ہے اور پھر عصر ۔۔۔۔۔ اب ممکن کوئی ظہر کے فورا بعد کسی وحہ سے نماز نہ پڑھے اور عصر کے وقت نماز پڑھے تو یہاں بھی پہلے ظہر پڑھے گا پھر عصر ۔۔۔۔۔۔۔ اور آخری وقت ہو اور آذان مغرب سے پہلے صرف چار رکعت پڑھنے کا وقت ہو تو یہاں پہلے عصر پڑھے گا پھر بعد میں ظہر کی قضاء پڑھے گا ۔۔۔
یہی ترتیب مغرب اور عشاء میں بھی ۔۔۔۔۔۔۔
 
 محترم بات اس کے بھی جائز ہونے یا نہ ہونے کی ہے ۔۔۔۔ بات اس میں نہیں ہے اس تائم پر پڑھنا افضل ہے ۔۔۔۔ شیعہ فقہ میں بھی افضل وہی دو ٹائم پڑھنا اور ہر نماز کو اس کی فضیلت کے وقت پر پڑھںا ہے ۔۔۔۔۔ لہذا بات جائز ہونے اور اس سہولت کے ہونے کی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ اب شیعوں کی عادت  ایک ساتھ پڑھنا ہے اور اھل سنت کے ہاں عادت الگ الگ پڑھنا ہے ۔۔۔۔۔ 

9
مندرجات کا کوڈ: 1792 - عنوان: معاویہ (لع) اور امیر المؤمنین علی (ع) پر سبّ و لعن:
مکمل نام : سیدہ - تاریخ اشاعت: ٠١:٠٤ - ٢٧ مرداد ٢٠٢١
احسنت۔ آپ سے گزارش ہے مزید اس سلسلے میں پوسٹ مارٹم کیجیے۔ تحقیقی مقالہ جات پبلیش کیجیے ہم منتظر ہیں۔یہ نام پاکستان نصاب کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔
جواب:
 سلام علیکم ۔۔
جی اھل سنت کے بعض لوگ اموی فکر سے متاثر ہو کر معاویہ کی فضیلت بیان  کرتے ہیں اس کے نام پر ریلیاں نکالتے ہیں ۔۔۔۔ اس کی سیاست زندہ باد کے نعرے لگاتے ہیں 
 
لیکن یہ حقیقت میں یہ ان لوگوں کا خود  اھل سنت کی تاریخ اور اہل سنت کے بزرگوں سے بغاوت کا اعلان ہے ۔۔۔۔  
 

10
مندرجات کا کوڈ: 1696 - عنوان: وہابیت کا تعارف اور اس کا اصلی چہرہ
مکمل نام : Monarchy kasbati - تاریخ اشاعت: ٠٨:٢٤ - ١٢ مرداد ٢٠٢١
اس میں ا٘دہ سچ اور ا٘دھ جھوٹ ہے تو جھوٹ کا گناہ ا٘پکو ہو گا
جواب:
 سلام علیکم۔۔۔
چلو جی ادھا سچ ہونے کو تو آپ مان گئے ۔۔۔۔ 
اب کیا اپ سچی باتوں میں سے بعض کی نشاندھی اور جھوٹی باتوں میں سے بعد کی نشاندھی فرمائیں گے ۔۔۔

11
مندرجات کا کوڈ: 598 - عنوان: کیا کتاب صحیح بخاری میں،حضرت زہرا (س)کو اذیت و تکلیف دینے کے بارے میں کوئی حدیث موجود ہے؟
مکمل نام : طاہر زمانی - تاریخ اشاعت: ٠٢:١٠ - ١٠ مرداد ٢٠٢١
کیا یقیناً ابوبکر اور عمر نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لخت جگر کو غضبناک کیا ہے
جواب:
 
 سلام علیکم

 جی بلکل جس طرح سے مندرجہ بالا مقالے میں جو حوالے اور سند پیش ہوئی ہے یہ اھل سنت کی سب سے معتبر کتاب میں موجود حدیث کی سند ہے ۔۔۔

جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا نے فدک وغیرہ کے بارے میں اپنے حقوق کا مطالبہ کیا اور جب مطالبہ منظور نہیں ہوا تو آپ ان سے غضبناک ہوئیں اور مکمل بائیکاٹ کا حالت میں دنیا سے چلی گئیں ۔۔۔۔

 

فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ عَلَی أَبِی بَكْر فِی ذَلِكَ - قَالَ - فَهَجَرَتْهُ فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّی تُوُفِّيَتْ .

پس فاطمہ ابوبکر پر غضبناک ہوئیں اور اس سے بات کرنا ختم کر دیا، یہاں تک کہ آپ وفات فرما گئیں، یعنی مرتے دم تک پھر رسول خدا کی بیٹی نے ابوبکر سے بات نہیں کی تھی۔

صحيح البخاری:ج5 ص 82، ( ح 4240) كتاب المغازی، ب 38 ـ باب غَزْوَةُ خَيْبَرَ.

 

12
مندرجات کا کوڈ: 1644 - عنوان: معاویہ ابن ابی سفیان کی زندگی اور اسکے کردار پر ایک نظر
مکمل نام : Kafir shea - تاریخ اشاعت: ٠٩:٢٧ - ٠٥ مرداد ٢٠٢١
میں تیرے ہاتھ کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پر تھوکتاہوں جنہونے تجھ جیسے غلیظ کو غلیظ عقیدہ دیا ۔۔
جواب:
 جناب تعجب کا مقام ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ سب باتیں اھل سنت کی کتابوں سے حوالے کے ساتھ پیش کی ہوئی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔اب اصولی طور پر الزام لگانا ہے تو شیعوں کے اماموں اور شیعہ علماء کے بجائے اھل سنت کے ہی علماء کے خلاف زبان درازی کرنی چاہئے ۔۔۔
 
اگر یہ باتیں شیعوں کی کتابوں سے لی گئی ہوتیں تو آپ کو اس طرح کہنے کا حق تھا ۔۔۔۔  الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے " والی بات ہر عمل نہ کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
تعصب سے عاری ہو کر مطالعہ اور تبصرہ کیا کریں ۔۔۔

13
مندرجات کا کوڈ: 179 - عنوان: حضرت علی [علیہ السلام] کی شہادت پر عائشہ کی خوشی
مکمل نام : شاکر - تاریخ اشاعت: ٠٤:٣١ - ٠٣ مرداد ٢٠٢١
استغفراللہ لعنت بہتان لگان والے پر۔۔
جواب:
 جناب  ؛  سند اھل سنت کی کتابوں سے پیش کی گئی ہے اب اگر بہتان ہے تو شیعوں کی طرف سے نہیں ہے بلکہ اھل سنت کی طرف سے ہی ہے ۔۔۔
 
یہاں یہ  بات بھی  قابل توجہ ہے کہ جناب عائشہ کا مولا علی سے  رویہ اچھا تو نہیں تھا ۔۔۔ جنگ جمل سے پہلے اور جنگ جمل کے بعد یہ بات ثابت ہے کہ جناب عائشہ ان کے بارے میں منفی رویہ رکھتی تھی ۔
جنگ کی نوبت آنے کا مطلب یہی تو ہے ، کبھی اس جنگ کی وجہ سے مولا علی سے معزرت خواہی نہیں کی ۔۔۔ 
اھل سنت کی کتابوں میں ہے کہ جناب عائشہ آپ کے ساتھ سوتن جیسا رفتار رکھتی تھی ۔۔
 
«واللّه‏ ما کان بینی و بین علیّ فی القدیم إلاّ ما یکون بین المرأة و أحمائها».

طبرى، تاریخ الأمم و الملوک: ج 3، ص 60 ـ 61، حوادث سال 36 هجرى قمرى، تجهیز علیّ رضى‏الله‏عنه عائشة من البصرة؛  

ابن‏ کثیر، البدایة و النهایة: ج 7، ص 257، حوادث سال 36 هجرى قمرى، مسیر علی بن أبیطالب من المدینة إلى البصرة بدلاً من الشام.  

 

 اھل سنت کی کتابوں میں یہاں تقل نقل ہے کہ جناب عائشہ معاویہ کے لئے دعا کرتی کہ اللہ ان کی عمر معاویہ کو بخش دئے ۔۔۔۔
 
اب یہ دعا حقیقت میں اپنے رقیت کے دشمن کی حمایت کا اعلان ہے۔۔۔۔ لہذا تاریخی حقائق کو بہتان کہنا صحیح نہیں ہے ۔۔۔۔۔ کوئی تاریخ میں دکھا نہیں سکتا کہ جناب عائشہ نے ان کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا ہو ۔۔۔۔

14
مندرجات کا کوڈ: 1644 - عنوان: معاویہ ابن ابی سفیان کی زندگی اور اسکے کردار پر ایک نظر
مکمل نام : عنایت اللہ - تاریخ اشاعت: ٠٨:٥١ - ١٢ خرداد ٢٠٢١
کافر کافر شیعہ کافر
مکمل مضمون جھوٹ اور کذب پر مشتمل ہے
اور لکھنے والے کا خبث باطن پر دال ہے
جواب:
 سلام علیکم :
محترم نعروں اور جذباتی باتوں سے مسئلہ حل نہیں ہوتا ۔۔ اگر آپ کو اعتراض ہے تو آپ علمی اندا میں رد کرئے ۔۔
مثال دے کر دکھا دئے کہ کہاں پر جھوٹ لکھا ہے ، یہ سب اھل سنت کی کتابوں سے نقل شدہ مطالب ہیں ، اگر سب جھوٹے مطالب ہیں تو پھر آپ کی کتابوں میں ہیں ہمارا قصور کیا ہے ؟ کیا ان کو نقل کرنے کی وجہ سے ہمیں مقصر اور ہم پر کفر کے فتوے لگاتے ہو ؟ جناب یہ فتوے ہم سے پہلے آپ کے ہی بزرگوں پر لگیں گے ۔ ہم نے تو ان کی باتیں نقل کی ہیں ۔۔۔۔۔

15
مندرجات کا کوڈ: 134 - عنوان: شوہر دار عورت بغیر نکاح کے کسی غیر مرد سے جنسی تعلقات قائم کرسکتی ہے !
مکمل نام : عبد اللہ - تاریخ اشاعت: ١٣:١٨ - ٠٣ خرداد ٢٠٢١
آپ کی رائے کا جواب 28
آپ نے اپنی تحریر میں لکھا کہ حضرت علی علیہ السلام اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے متعہ سے منع کردیا۔۔ لیکن اس کے بعد کہیں نہیں ہے کہ بعد میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے یا کسی اور صحابی رضی اللہ عنہ نے اسے دوبارہ جائز قرار دیا ہو۔۔
جواب:
سلام علیکم ۔۔۔
 
دیکھیں محترم ۔۔۔ بہت سے  اصحاب متعہ کو جائز سمجھتے تھے اور خلیفہ دوم کے دور تک اس کو انجام بھی دیتے تھے ۔۔الیکن خلیفہ نے طاقت کا استعمال کر کے اس سے روک دیا ۔
 
اب اگر خیبر میں یہ حرم ہوا تھا تو خیلفہ دوم کے دور تک ایسا کیوں کیا کرتے تھے ؟ یہ ایک بنیادی سوال ہے ،، جناب جابر کی صرف بات نہیں  آپ کہہ رہے ہیں ہم { خود جابر اور دوسرے اصحاب } 
آپ مندرجہ ذیل جناب جابر کی حدیث ملاحظہ کریں۔۔۔
 
بہت سی روایات میں بہت سے اصحاب نے واضح طور پر کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ابوبکر کے دور میں اور خود عمر کی خلافت کے شروع کے دور میں متعہ حلال تھا اور وہ لوگ اس کو جائز سمجھتے تھے  :
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُول كُنَّا نَسْتَمْتِعُ بِالْقَبْضَةِ مِنْ التَّمْرِ وَالدَّقِيقِ الْأَيَّامَ عَلَي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّي اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ حَتَّي نَهَي عَنْهُ عُمَرُ فِي شَأْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ
  جابر بن عبد الله الأنصاري کہتے تھے  : ہم رسول اللہ ص اور ابوبکر کے زمانے میں مٹھی بر کھجور یا آٹے دے کر متعہ کرتے تھے یہاں تک کہ عمر نے عمرو بن حريث کے واقعے کے بعد اس کو حرام قرار دیا  .
صحيح مسلم ج2 ص 1023 باب نكاح المتعة
 
 
اب اگلی بات یہ ہے کہ جناب جابر اور بعض دوسرے اصحاب باقاعدہ طور پر کہہ رہے ہیں کہ  کوئی ایسا حکم نہیں آیا ہے جو متعہ کو حرام قرار دئے ۔۔
حضرت علی علیہ السلام اور جناب ابن عباس سے بھی متعہ جائز ہونے والی روایت کتابوں میں نقل ہوئی ہے ۔۔۔..
 
آپ مندجہ ذیل چند اسناد کو ملاحظہ کریں ۔۔۔
 
 
اب ہم یہاں پر اصحاب میں سے بعض کے نام لیتے ہیں کہ جو متعہ کو حلال سمجھتے تھے ۔
 
 
جابر بن عبداللَّه انصاري :
صحيح مسلم ج2 ص1022 باب نكاح المتعه چاپ دار إحياء التراث العربي بيروت
مصنف عبد الرزاق ج7 ص499 باب المتعة چاپ المكتب الإسلامي بيروت
عمدة القاري ج17 ص 246 باب غزوة خيبر چاپ دار إحياء التراث العربي بيروت
شرح الزرقاني ج3 ص 199 چاپ دار الكتب العلمية بيروت كتاب النكاح باب نكاح المتعة
 
و...
 
عمران بن حصين خزاعي :
 
صحيح بخاري ج 4 ص 1642 چاپ دار ابن كثير بيروت 1407 كتاب التفسير باب "فمن تمتع بالعمرة إلي الحج" (بقره أيه 196)
مسند أحمد بن حنبل ج4 ص 436 چاپ موسسه قرطبه مصر
المحبر ص 289 باب من كان يري المتعة من أصحاب النبي
التفسير الكبير ج10 ص41 چاپ دار الكتب العلميه بيروت سوره نساء ذيل آيه "فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ فَئَاتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً"
تفسير قرطبي ج5 ص 133چاپ دار الشعب قاهره
ابو سعيد خدري :
المحلي ج9 ص 519چاپ دار الآفاق بيروت
شرح الزرقاني ج3 ص 199 چاپ دار الكتب العلمية بيروت كتاب النكاح باب نكاح المتعة
عمدة القاري ج17 ص 246 باب غزوة خيبر چاپ دار إحياء التراث العربي بيروت
 
عبداللَّه بن مسعود :
المحلي ج9 ص 519چاپ دار الآفاق بيروت
شرح الزرقاني ج3 ص 199 چاپ دار الكتب العلمية بيروت كتاب النكاح باب نكاح المتعة
 
سلمة بن اكوع :
المحبر ص 289 باب من كان يري المتعة من أصحاب النبي
شرح الزرقاني ج3 ص 199 چاپ دار الكتب العلمية بيروت كتاب النكاح باب نكاح المتعة
مصنف عبد الرزاق ج7 ص 498 ش 14023 باب المتعة چاپ المكتب الإسلامي بيروت
كنز العمال ج 16 ص 219 ح 45731 چاپ دار الكتب العلمية بيروت
 
 امير المومنين علي بن ابي طالب عليه السلام :
التفسير الكبير ج10 ص43چاپ دار الكتب العلمية بيروت ذيل آيه متعه سوره نساء
 
( امیر المومنین علیہ السلام نے عمر کی طرف سے اس کے منع والی روایت نقل کیا ہے ):
الدر المنثور ج2 ص486 دار الفكر بيروت - تفسير الطبري ج 5 ص13 چاپ دار الفكر بيروت - المصنف ج7 ص500 شماره 14029 - كنز العمال ج16 ص219ح 45728 چاپ دار الكتب العلمية بيروت
ابن حزم نے بھی نقل کیا ہے کہ امیر المومنین علیہ السلام سے متعہ کے بارے میں مختلف قسم کی روایتیں نقل ہوئی ہے  (بعض جائز ہونے کو بتاتی ہے اور بعض حرام ہونے کو ):
المحلي ج9 ص 520 چاپ دار الآفاق بيروت
[۱:۲۹ قبل‌ازظهر, ۱۳۹۹/۱۲/۵] mohdmlk24: سرخی نے اپنی دو کتابوں میں اس کو ان روایات میں سے قرار دیتا ہے جس عمر سے صحیح سند کے ساتھ نقل ہوئی ہے ۔
 
وقد صحّ أنّ عمر رضي اللّه عنه نهي الناس عن المتعة فقال: متعتان كانتا علي عهد رسول اللّه صلي اللّه عليهوسلم وأنا أنهي الناس عنهما ؛متعة النساء، ومتعة الحج .
 
صحیح سند کے ساتھ عمر سے نقل ہوا ہے کہ انہوں نے لوگوں کو متعہ سے منع کیا اور کہا    :  رسول خدا صلي الله عليه وآله وسلم کے زمانے میں دو متعے حلال تھے ،  عورتوں سے متعہ ، حج تمتع کا متعہ ۔
المبسوط للسرخسي ج4 ص27 - أصول السرخسي ج2 ص6
 
 
اب یہاں ملاحظہ کریں حتی خود خلیفہ دوم واضح طور پر یہ کہہ رہا ہے کہ متعہ اللہ کی کتاب میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت میں جائز ہے لیکن میں اس سے منع کررہا ہوں اور متعہ کرنے والے کو سزا دوں گا۔۔
 
 
 
 

16
مندرجات کا کوڈ: 795 - عنوان: فضائلِ امیر المؤمنین امام المتقین علی ابن ابی طالب علیہ السلام علماء و کتب اہل سنت کی نظر میں
مکمل نام : Hasnain Abbas Ameeni - تاریخ اشاعت: ٠٧:١٦ - ٠٥ ارديبهشت ٢٠٢١
ماشاءاللہ بہت خوب۔
سلامت رہیں
جواب:
 سلام علیکم ۔۔۔  بہت شکریہ ۔۔۔
 
اللہ ہم سب کو محمد و آلہ محمد کی سیرت اور تعلیمات پر چلنے کی توفیق دئے ،، آمین 
 
التماس دعا 

17
مندرجات کا کوڈ: 619 - عنوان: ایام فاطمیہ اور شہادت مظلومانہ صدیقۃ الکبری حضرت فاطمہ زہرا (س)
مکمل نام : سید علی عباس جعفری - تاریخ اشاعت: ٢٢:٣٧ - ١٩ فروردين ٢٠٢١
Bhot khub hai ye mash Allah
جواب:
سلام علیکم ۔۔۔ بہت شکریہ جناب اللہ آپ کو سلامت رکھے۔ آمین یا رب العالمین ۔۔
التماس دعا ۔

18
مندرجات کا کوڈ: 633 - عنوان: شہادت حضرت فاطمہ زہرا (س) ایک انكار ناپذیر حقیقت
مکمل نام : علی حسنین عباس - تاریخ اشاعت: ١٩:١١ - ١٦ فروردين ٢٠٢١
اللہ تعالٰی کی لعنت ہو اس گروہ پر جہنوں نے سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو شہید کیا.

کتنی بڑی مصبیت ہوگی سیدہ پر کہ کہنا پڑا کہ بابا اگر یہ مصبتیں دن پر پڑتیں تو وہ رات میں تبدیل ہوجاتیں...

ظالمین پر اللہ کی لعنت ہو
جواب:
سلام  علیکم ۔۔۔
اللہ ہم سب کو اہل بیت علیہم السلام  کی سیرت اور تعلیمات کو  حاصل کرنے ،سمجھنے ،ان پر عمل کرنے  اور ان تبلیغ کرنے کی توفیق عنایت فرما۔
اللہ ہمیں اہل بیت علیہم  السلام  کی مظلومیت پر پردہ ڈالنے والوں کو بے نقاب کرنے کی توفیق عنایت فرمائیں ۔۔
آمین یا رب العالمین ۔۔

19
مندرجات کا کوڈ: 836 - عنوان: شیعوں نے امیر المؤمنین علی (ع) پر وہابیوں کی طرف سے شراب پینے کی تہمت کا کیا جواب دیا ہے ؟
مکمل نام : صادق - تاریخ اشاعت: ٢٠:٣٨ - ١٤ فروردين ٢٠٢١
یہ پوسٹ کسی عیسائی نے لکھی ہے اور ایسی کتابوں کے نام سے حوالے بھی دئیے ہیں جنکا وجود بھی نہیں اہلتشیع چونکہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے خلاف ہیں اسلئے انہیں یہ پوسٹ پسند ہوگی مگر اس پوسٹ میں سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ پر جھوٹ باندھا گیا ہے
جواب:
 سلام علیکم : جناب بات سند کے ساتھ کریں ۔جیساکہ ہماری پوسٹ میں جو بھی مطلب بیان کیا ہے سب کی سند بھی ہے۔۔۔۔ 
بغیر سند کی بات کرنا آسان طریقہ ہے لیکن علمی انداز سے بحث کرنا چاہتے ہیں تو دلیل اور سند کے ساتھ دوسروں کی بات کو رد کریں۔۔۔

20
مندرجات کا کوڈ: 1644 - عنوان: معاویہ ابن ابی سفیان کی زندگی اور اسکے کردار پر ایک نظر
مکمل نام : Taqi - تاریخ اشاعت: ٢١:٥٥ - ٣٠ اسفند ٢٠٢٠
ہم پنجتن پاک کے حکم پر مر مٹنے والے ہیں اور اس بات پر یقین رکھتے ہیں کے جو شخص بھی اہلیبیت سے بعض رکھتاہے اللہ سبحانہ وتعالی اسے واصل جہنم کریں گے
جواب:
 جی محترم ایسا ہی ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صحیح سند حدیث کے مطابق امیرالمومنین اور  اہل بیت علیہ السلام  سے بغض کرنے والے منافق اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔۔۔۔

۔۔۔ ایک نمونہ

أن رسول الله (صلي الله عليه وآله وسلم) قال : والذي نفسي بيده لا يبغضنا أهل البيت رجل إلا أدخله الله النار .

صحيح ابن حبان ، ج15 ص435 .

رسول خدا ( صلي الله عليه وآله وسلم) نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کی قبضہ قدرت میں میری جان ہے ،کوئی بھی ہم اھل بیت سے دشمنی کرئے تو اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔   

حاكم نيشابوري نے اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے  :

هذا حديث صحيح علي شرط مسلم ولم يخرجاه .

المستدرك: ج3 ص162، تحقيق: مصطفي عبد القادر عطا، ط1 سنة 1990، دار الكتب العلمية - بيروت .

یہ روایت صحیح مسلم کی شرائط کے مطابق صحیح ہے لیکن بخاری اور مسلم نے اس کو نقل نہیں کیا ہے  .

 الباني جو عصر حاضر کے وھابی علماء میں سے ہے ،انہوں نے اس روایت کو اپنی کتاب "سلسله احاديث صحيحه" میں نقل کیا ہے .

السلسلة ، ج5 ص643، مكتبة الم   عارف - الرياض .