2019 April 20
معاویہ (لع) اور امیر المؤمنین علی (ع) پر سبّ و لعن:
مندرجات: ١٧٩٢ تاریخ اشاعت: ٢٤ January ٢٠١٩ - ١٧:٢٩ مشاہدات: 207
مضامین و مقالات » پبلک
معاویہ (لع) اور امیر المؤمنین علی (ع) پر سبّ و لعن:

 

1400 سال سے اہل سنت کی طرف سے شیعیان پر مسلسل اعتراض کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ رسول خدا (ص) کے بعض صحابہ پر لعنت کرتے ہیں اور اسی وجہ سے طول تاریخ میں شیعیان کی جان، مال اور ناموس پر مصائب کے بہت پہاڑ ڈھائے گئے ہیں اور معلوم نہیں ہے کہ ان مصائب کا سلسلہ کب تک جاری رہے گا !

اسی وجہ سے شیعوں کے کفر کو ثابت کر کے انکو واجب القتل بھی قرار دیا گیا ہے، اس کام میں اس قدر زیادہ روی سے کام لیا گیا ہے کہ حتی عبد الله ابن قدامہ مقدسی نے كتاب المغنی میں فاريابی سے نقل کیا ہے کہ:

من شتم أبا بكر فهو كافر لا أصلي عليه ، قيل له فكيف تصنع به وهو يقول لا إله إلا الله ؟ قال : لا تمسوه بأيديكم ارفعوه بالخشب حتى تواروه في حفرته .

جو ابو بکر پر سبّ و شتم کرے، وہ کافر ہے اور میں اس پر نماز جنازہ بھی نہیں پڑھوں گا، اس سے سوال کیا گیا: اسکی میت کے ساتھ پھر کیا کیا جائے گا حالانکہ وہ کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھنے والا مسلمان ہے ؟ اس نے جواب دیا: اسکی میت کو ہاتھ نہ لگانا، بلکہ اسکو لکڑی سے اٹھا کر گڑھے میں ڈال دو !

المغنى : ابن قدامه ، ج2 ، ص 419

و الشرح الكبير ، ج10 ، ص 64

و الصارم المسلول ، ابن تيميّة ، ص 575 .

خطيب بغدادی نے ابو زرعہ سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:

إذا رأيت الرجل ينتقص أحداً من أصحاب محمد (صلى اللّه عليه وآله) فاعلم أنه زنديق .

جب تم دیکھو کہ کوئی شخص رسول خدا کے کسی صحابی کی مذمت کر رہا ہے تو جان لو کہ وہ زندیق (ملحد، کافر) ہے۔

الكفاية في علم الرواية ، ج1 ، ص119 ، شماره 140 .

اور سرخسی نے کہا ہے کہ:

من طعن فيهم فهو ملحد ، منابذ للاسلام ، دواؤه السيف ، إن لم يتب .

جو بھی خلفاء پر کوئی اعتراض کرے تو وہ ملحد و بے دین ہے اور وہ اسلام کے دائرے سے خارج ہو گیا ہے اور ایسے شخص کا علاج اگر توبہ نہ کرے تو تلوار سے کیا جائے گا۔ (یعنی قتل کر دیا جائے گا)

أصول السرخي ، ج2 ،‌ ص134 .

اور اسی طرح خطيب بغدادی نے لکھا ہے کہ:

عن أبى هريرة قال : سمعت رسول اللّه ( ص ) يقول : إنّ للّه تعالى فى السماء سبعين ألف ملك يلعنون من شتم أبا بكر وعمر .

ابو ہریرہ کہتا ہے کہ میں نے رسول خدا کو فرماتے ہوا سنا کہ: جو بھی ابو بکر اور عمر پر سبّ و شتم کرے گا تو آسمان پر خدا کے 70 فرشتے اس شخص پر لعنت کرتے ہیں۔

تاريخ بغداد ، ج5 ، ص 280 .

لیکن صد افسوس کہ جب امیر المؤمنین علی (ع) پر معاویہ ابن ابو سفیان کی طرف سے سبّ وشتم کرنے کی بات آتی ہے تو تعصب و مکمل نا انصافی سے کام لیتے ہوئے مختلف غلط بہانوں سے معاویہ کا دفاع کرتے ہیں، حالانکہ معاویہ نے اس کام کو ایک سنت میں تبدیل کر دیا تھا لیکن اسکے باوجود یہاں پر لفظ سبّ و لعن کی توجیہ کرتے ہوئے معاویہ کے نجس دامن پر کوئی دھبہ نہیں لگنے دیتے !

یہ کیسی انسانیت اور کیسا انصاف ہے کہ منبر سے امیر المؤمنین علی (ع) پر معاویہ کی طرف سے سبّ و شتم کرنا تو کوئی بات نہیں، لیکن ابو بکر اور عمر پر سبّ و شتم کرنے سے مسلمان، کافر بن جاتا ہے اور اسکی جان مال اور ناموس سب حلال ہو جاتا ہے ؟ !

کیا علی ابن ابی طالب (ع) رسول خدا (ص) کے صحابی نہیں تھے ؟

کیا علی ابن ابی طالب (ع) رسول خدا (ص) کے خلیفہ اور جانشین نہیں تھے ؟

کیا علی ابن ابی طالب (ع) رسول خدا (ص) کے داماد اور انکی بیٹی کے شوہر نہیں تھے ؟

علی ابن ابی طالب (ع) یہ سب کچھ تھے تو پھر ان پر سبّ و لعن کو کیوں شرعی اور قانونی رنگ دیا جاتا ہے اور جو ان پر اس بدعت کا آغاز کرتا ہے اور پھر اس بدعت کو سنت میں تبدیل کر دیتا ہے، اسے کیوں خال المؤمنین کا لقب دیا جاتا ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

امیر المؤمنین علی پر معاویہ لعین کی طرف سے سبّ و لعن کرنے کے حکم صادر کرنے اور اہل سنت کے بعض علماء کی طرف سے اس سبّ و لعن کی توجیہ کے بارے میں ذیل میں چند اہم مطالب ذکر کیے جا رہے ہیں :

رسول خدا (ص) اور امیر المؤمنین علی (ع) پر سبّ و لعن کرنے کا مسئلہ:

اصلی موضوع کو شروع کرنے سے پہلے واضح ہونا چاہیے کہ جو امیر المؤمنین علی (ع) پر سبّ و لعن کرے اور ان حضرت سے دشمنی کرے تو رسول خدا کی اس شخص کے بارے میں کیا رائے ہے ؟

علی (ع) سے دشمنی کرنا منافقت کی علامت ہے:

مسلم نيشاپوری اور اہل سنت کے بہت سے بزرگ علماء نے لکھا ہے کہ:

عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ زِرٍّ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ : وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ إِنَّهُ لَعَهْدُ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ أَنْ لَا يُحِبَّنِي إِلَّا مُؤْمِنٌ وَلَا يُبْغِضَنِي إِلَّا مُنَافِقٌ .

علی (ع) نے فرمایا: خدا کی قسم یہ بات رسول خدا (ص) نے مجھ سے فرمائی تھی کہ مجھ سے محبت، صرف مؤمن کرے گا اور مجھ سے دشمنی، صرف منافق کرے گا۔

صحيح مسلم ، مسلم النيسابوري ، ج 1 ، ص 60 – 61

و فضائل الصحابة ، النسائي ، ص 17

و الديباج على مسلم ، جلال الدين السيوطي ، ج 1 ، ص 93

و المصنف ، ابن أبي شيبة الكوفي ، ج 7 ، ص 494

و كتاب السنة ، عمرو بن أبي عاصم ، ص 584

و السنن الكبرى ، النسائي ، ج 5 ، ص 47 و ج 5 ، ص 137

و صحيح ابن حبان ، ابن حبان ، ج 15 ، ص 367 – 368

و سير أعلام النبلاء ، الذهبي ، ج 12 ، ص 509 و

فتح الباري ، ابن حجر ، ج 7 ، ص 58 و

تحفة الأحوذي ، المباركفوري ، ج 10 ، ص 151و ...

قرطبی اور اہل سنت کے بہت سے بزرگان نے لکھا ہے کہ:

روي عن جماعة من الصحابة [أبي سعيد الخدري ، جابر بن عبد الله ، عبد الله بن مسعود و...] أنهم قالوا : ما كنا نعرف المنافقين على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا ببغضهم لعلي عليه السلام .

چند صحابہ جیسے ابو سعید خدری، جابر ابن عبد الله،‌ عبد الله ابن مسعود وغیرہ وغیرہ ... سے نقل ہوا ہے کہ رسول خدا (ص) کے زمانے میں ہم منافقین کو صرف علی (ع) سے دشمنی کرنے کی وجہ سے پہچانا کرتے تھے۔

تفسير القرطبي ، القرطبي ، ج 1 ، ص 267

و الدر المنثور ، جلال الدين السيوطي ، ج 6 ، ص 66 – 67

و نظم درر السمطين ، الزرندي الحنفي ، ص 102 و

تاريخ مدينة دمشق ، ابن عساكر ، ج 42 ، ص 284 – 285 و ج 42 ، ص 285 و ج 42 ، ص 286 و

مناقب علي بن أبي طالب (ع) وما نزل من القرآن في علي (ع) ، أبي بكر أحمد بن موسى ابن مردويه الأصفهاني ، ص 321 و ….

علی (ع) سے جنگ کرنا، رسول خدا (ص) سے جنگ کرنا ہے :

احمد ابن حنبل اور اہل سنت کے بہت سے علماء نے ابوہریرہ اور زید ابن ارقم سے نقل کیا ہے کہ رسول خدا (ص) نے علی (ع) سے جنگ کرنے کو اپنے ساتھ جنگ کرنا قرار دیا ہے:

عن أبي هريرة وزيد بن أرقم : نَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَلِيٍّ وَالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ وَفَاطِمَةَ فَقَالَ أَنَا حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبَكُمْ وَسِلْمٌ لِمَنْ سَالَمَكُمْ .

ابی ہريره اور زيد ابن ارقم نے کہا ہے کہ: رسول خدا نے امام علی ، امام حسن ،‌ امام حسين اور حضرت فاطمہ عليہم السلام کی طرف دیکھ کر فرمایا: میری جنگ اس سے ہے کہ جو تم لوگوں سے جنگ کرے اور میری صلح اس سے ہے کہ جو تم لوگوں سے صلح کرے۔

مسند احمد ، الإمام احمد بن حنبل ، ج 2 ، ص 442

و المستدرك ، الحاكم النيسابوري ، ج 3 ، ص 149

و مجمع الزوائد ، الهيثمي ، ج 9 ، ص 169

و المصنف ، ابن أبي شيبة الكوفي ، ج 7 ، ص 512

و صحيح ابن حبان ، ابن حبان ، ج 15 ، ص 434

و المعجم الصغير ، الطبراني ، ج 2 ، ص 3 و

المعجم الكبير ، الطبراني ، ج 3 ، ص 40

و موارد الظمآن ، الهيثمي ، ج 7 ، ص 201

و تاريخ بغداد ، الخطيب البغدادي ، ج 7 ، ص 144

و تاريخ مدينة دمشق ، ابن عساكر ، ج 13 ، ص 218 و ج 14 ، ص 157

و سير أعلام النبلاء ، الذهبي ، ج 2 ، ص 122 و ج 3 ، ص 257 – 258 و

تاريخ الإسلام ، الذهبي ، ج 3 ، ص 45 و ج 5 ، ص 99 و

البداية والنهاية ، ابن كثير ، ج 8 ، ص 223 و ....

علی (ع) پر سبّ (گالی دینا) کرنا، رسول خدا (ص) پر سبّ (گالی دینا) کرنا ہے:

عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ لِي أَيُسَبُّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيكُمْ قُلْتُ مَعَاذَ اللَّهِ أَوْ سُبْحَانَ اللَّهِ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ سَبَّ عَلِيًّا فَقَدْ سَبَّنِي .

عبد الله جدلی کہتا ہے کہ میں ام المؤمنین ام سلمہ کے پاس گیا تو اس نے مجھ سے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی ایسا ہے کہ جو رسول خدا (ص) کو گالیاں دیتا ہو ؟ اس نے کہا: نعوذ باللہ، اس پر ام سلمہ نے فرمایا:

 میں نے خود رسول خدا (ص) کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو بھی علی کو گالی دے گا تو بے شک اس نے مجھے گالی دی ہے۔

مسند احمد ، الإمام احمد بن حنبل ، ج 6 ، ص 323

و خصائص أمير المؤمنين (ع) ، النسائي ، ص 99 و

تاريخ مدينة دمشق ، ابن عساكر ، ج 42 ، ص 266

و تاريخ الإسلام ، الذهبي ، ج 3 ، ص 634

و البداية والنهاية ، ابن كثير ، ج 7 ، ص 391 و

المناقب ، الموفق الخوارزمي ، ص 149 و

جواهر المطالب في مناقب الإمام علي (ع) ، ابن الدمشقي ، ج 1 ، ص 66

حاكم نيشاپوری نے اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے:

هذا حديث صحيح الاسناد ولم يخرجاه .

اس حدیث کی سند صحیح (معتبر) ہے لیکن اسکے باوجود بخاری اور مسلم نے اس حدیث کو اپنی اپنی کتاب میں نقل نہیں کیا !

المستدرك ، الحاكم النيسابوري ، ج 3 ، ص 121.

اور ہيثمی نے بھی کہا ہے کہ:

رواه أحمد ورجاله رجال الصحيح غير أبى عبد الله الجدلي وهو ثقة .

احمد ابن حنبل نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور اسکے راوی، وہی کتاب صحیح بخاری کے راوی، غیر از ابی عبد اللہ جدلی کہ وہ بھی ثقہ و قابل اطمینان ہے۔

مجمع الزوائد ، الهيثمي ، ج 9 ، ص 130 .

امیر المؤمنین علی (ع) کو تکلیف دینا، رسول خدا (ص) کو تکلیف دینا ہے:

ہيثمی نے کتاب مجمع الزوائد میں سعد ابن ابی وقاص سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:

قال: كنت جالساً في المسجد ، أنا ورجلان معي ، فنلنا من علي ، فأقبل رسول اللّه صلى اللّه عليه وسلم غضبان يعرف في وجهه الغضب ، فتعوذت باللّه من غضبه ، فقال: «ما لكم وما لي ؟ من آذى عليّاً فقد آذاني». رواه أبو يعلى والبزاز باختصار ورجال أبي يعلى رجال الصحيح غير محمود بن خداش وقنان، وهما ثقتان.

سعد ابن ابی وقاص کہتا ہے کہ میں اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ مسجد میں بیٹھا ہوا تھا، ہم نے علی کو برا بھلا کہا، رسول خدا (ص) نے غصے کی حالت میں ہماری طرف دیکھا کہ غضب انکے چہرے سے واضح نظر آ رہا تھا، پس میں نے انکے غضب سے خدا کی پناہ مانگی، ان حضرت (ص) نے فرمایا:

 تمہیں مجھ سے کیا کام ہے ؟ (یعنی مجھے کیوں تکلیف پہنچاتے ہو) جس نے بھی علی کو تکلیف دی، اس نے مجھے تکلیف دی ہے۔

ابو یعلی اور بزار نے اس روایت کو مختصر طور پر نقل کیا ہے اور ابو یعلی کی نقل کردہ روایت کے راوی، کتاب صحیح بخاری کی اسناد والے ہی راوی ہیں، غیر از محمود ابن خداش اور قنان کے اور یہ دونوں بھی ثقہ و مورد اطمینان ہیں۔

مجمع الزوائد ، ج9 ، ص129

و تاريخ مدينة دمشق ، ابن عساكر ، ج42 ، ص204و

البداية والنهاية ، ج7 ، ص383 .

ابی بكر احمد ابن موسی ابن مردويہ اصفہانی اور علامہ شيخ بہا الدين ابو القاسم رافعی نے بھی لکھا ہے کہ:

عن جابر الأنصاري عن عمر بن الخطاب ، قال : كنت أجفو عليا ، فلقيني رسول الله ( صلى الله عليه وآله ) فقال : " إنك آذيتني يا عمر ! " . فقلت : أعوذ بالله ممن آذى رسوله ! قال : " إنك قد آذيت عليا ، ومن آذى عليا فقد آذاني " .

جابر ابن عبد الله انصاری نے عمر ابن خطاب سے روایت نقل کی ہے کہ میں علی کو برا بھلا کہا کرتا تھا کہ رسول خدا نے مجھے دیکھا اور فرمایا: اے عمر ! تم نے مجھے تکلیف پہنچائی ہے، عمر نے کہا: میں آپکو تکلیف پہنچانے سے خدا کی پناہ مانگتا ہوں،

حضرت نے فرمایا: تم نے علی کو تکلیف پہنچائی ہے اور جس نے بھی علی کو تکلیف دی، اس نے مجھے تکلیف دی ہے۔

مناقب علي بن أبي طالب (ع) وما نزل من القرآن في علي (ع) ، أبي بكر أحمد بن موسى ابن مردويه الأصفهاني ، ص 81

و التدوين في أخبار قزوين ، ج1 ،‌ ص460 ، باب العين في الآباء .

امیر المؤمنین علی (ع) کا اپنے پر سبّ و شتم ہونے کی پیش گوئی کرنا:

امام علی (ع) نے کتاب نہج البلاغہ کے ایک خطبے میں مستقبل قریب کے بارے میں خبر دی ہے کہ ایک شخص آئے گا اور وہ لوگوں کو حکم دے گا کہ ان حضرت پر سبّ و شتم کریں اور ان سے بیزاری کا اظہار بھی کریں اور حتی ان حضرت نے سبّ کرنے کا حکم دینے والے شخص کے ظاہری حلیے کا بھی ذکر کیا ہے:

نہج البلاغہ کے خطبہ 61 میں حضرت علی (ع) نے فرمایا ہے کہ:

أَمَّا إِنَّهُ سَيَظْهَرُ عَلَيْكُمْ بَعْدِي رَجُلٌ رَحْبُ الْبُلْعُومِ ، مُنْدَحِقُ الْبَطْنِ يَأْكُلُ مَا يَجِدُ وَ يَطْلُبُ مَا لَا يَجِدُ، فَاقْتُلُوهُ وَ لَنْ تَقْتُلُوهُ، أَلَا وَ إِنَّهُ سَيَأْمُرُكُمْ بِسَبِّي وَ الْبَرَاءَةِ مِنِّي، أمَّا السَّبُّ فَسُبُّونِي فَإِنَّهُ لِي زَكَاةٌ وَ لَكُمْ نَجَاةٌ، وَ أَمَّا الْبَرَاءَةُ فَلَا تَتَبَرَّءُوا مِنِّي، فَإِنِّي وُلِدْتُ عَلَى الْفِطْرَةِ وَ سَبَقْتُ إِلَى الْإِيمَانِ وَ الْهِجْرَة .

خطبة له عليه السلام (61) قبل أيام من استشهاده .

میرے بعد تم میں ایک کھلے گلے اور بڑے پیٹ والا شخص آئے گا، اسکو جو بھی ملے گا، کھا لے گا اور جو نہیں ملے گا، اسکے پیچھے جائے گا، اسکو قتل کر دینا لیکن تم ہرگز اسکو قتل نہیں کر پا‎ؤ گے۔

وہ تم کو مجھے سبّ و شتم کرنے اور مجھ سے بیزاری کا اظہار کرنے کا حکم دے گا (مجبوری کی حالت میں) مجھے سبّ و شتم کر لینا، کیونکہ اس حالت میں مجھ پر سبّ و شتم کرنا، میرے گناہوں کو پاک اور تم کو موت سے نجات دے گا، لیکن اگر مجھ سے بیزاری اور لا تعلقی کرنے کا کہے تو ہرگز مجھ سے بیزاری کا اظہار نہ کرنا، کیونکہ میں اسلام کی پاک فطرت پر پیدا ہوا ہوں اور سب سے پہلے ایمان لایا اور ہجرت کی ہے۔

حاكم نيشاپوری نے کتاب المستدرک میں سوره نحل کی تفسیر میں لکھا ہے کہ:

قال علي رضي الله عنه : « إنكم ستعرضون على سبي فسبوني ، فإن عرضت عليكم البراءة مني ، فلا تبرءوا مني ، فإني على الإسلام ، فليمدد أحدكم عنقه ، ثكلته أمه ، فإنه لا دنيا له ولا آخرة بعد الإسلام ، ثم تلا (إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَ قَلْبُهُ مُطْمَئنِ‏ بِالْايمَانِ) (النحل/ 106) » . صحيح الإسناد ولم يخرجاه .

امام علی (ع) نے فرمایا عنقریب تم لوگوں کو مجھ پر سبّ و شتم کرنے کا کہا جائے گا، (اگر مجبور ہوئے تو) مجھ پر سبّ و شتم کر لینا، لیکن اگر مجھ سے بیزاری کرنے کا کہیں تو قبول نہ کرنا، کیونکہ میں اسلام پر ہوں (یعنی میں مسلمان ہوں، مجھ سے بیزاری کرنا، اسلام سے بیزاری کرنا ہے) اس صورت میں اپنی گردن کو حاضر کر دینا، (جو مجھ سے بیزاری کا اظہار کرے گا) پس اسکی ماں کو اسکے غم میں بیٹھنا چاہیے، کیونکہ اسلام سے خارج ہو کر وہ نہ دنیا کے رہیں گے اور نہ ہی آخرت کے، پھر انھوں نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَ قَلْبُهُ مُطْمَئنِ‏ بِالْايمَانِ ، 

المستدرك علي الصحيحين ، الحاكم ، ج2 ،‌ ص358 ، باب قصة الحجر المدري حين اجبر علي لعنة علي رضي الله عنه ولعن آمره بحسن القول،

اور حاکم نیشاپوری نے اسی باب میں اس روایت کو بھی نقل کیا ہے:

عن عبد الله بن طاوس ، عن أبيه ، قال : كان حجر بن قيس المدري من المختصين بخدمة أمير المؤمنين علي بن أبي طالب رضي الله عنه ، فقال له علي يوما : يا حجر إنك « تقام بعدي فتؤمر بلعني فالعني ولا تبرأ مني » . قال طاوس : فرأيت حجر المدري وقد أقامه أحمد بن إبراهيم خليفة بني أمية في الجامع ووكل به ليلعن عليا أو يقتل فقال حجر أما إن الأمير أحمد بن إبراهيم أمرني أن ألعن عليا فالعنوه لعنه الله . فقال طاووس : فلقد أعمى الله قلوبهم حتى لم يقف أحد منهم على ما قال .

حجر ابن قيس مدرى امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب (ع) کی خدمت کرنے کے لیے خاص تھا، ایک دن علی (ع) نے اس سے فرمایا: اے حجر ! میرے بعد تم کو مجھ پر لعنت کرنے کا حکم دیا جائے گا، پس مجھ پر لعنت کر لینا لیکن مجھ سے بیزاری کا اظہار نہ کرنا ! 

طاؤوس کہتا ہے کہ میں نے حجر کو دیکھا کہ اموی خلیفہ احمد ابن ابراہیم نے حکم دیا کہ اسکو جامع مسجد لے جائیں اور ایک بندے کو اس پر نگران بنایا ہوا تھا کہ حجر، علی (ع) پر لعنت کرے ورنہ اسکو قتل کر دیا جائے گا، حجر نے کہا: لوگو ! امیر احمد ابن ابراہیم نے مجھ حکم دیا ہے کہ میں علی (ع) پر لعنت کروں، اب تم اس پر لعنت کرو کہ اس پر خدا کی بھی لعنت ہو ! حجر کی بات واضح نہیں تھی، اسی وجہ سے طاؤوس کہتا ہے کہ: خداوند نے مخالفین کے دلوں کو اندھا کیا ہوا تھا کہ کوئی بھی متوجہ نہ ہوا کہ حجر نے کس پر لعنت کی ہے ؟

المستدرك علي الصحيحين ، الحاكم ، ج2 ،‌ ص358 ، باب قصة الحجر المدري حين اجبر علي لعنة علي رضي الله عنه ولعن آمره بحسن القول .

امیر المؤمنین علی پر معاویہ کے سبّ و شتم کرنے کا حکم دینے والی کتاب صحیح مسلم کی روایت کے بارے میں تحقیق:

مسلم نیشاپوری نے اپنی کتاب صحیح مسلم میں نقل کیا ہے کہ:

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ قَالَا حَدَّثَنَا حَاتِمٌ وَهُوَ ابْنُ إِسْمَعِيلَ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَمَرَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ سَعْدًا فَقَالَ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسُبَّ أَبَا التُّرَابِ فَقَالَ أَمَّا مَا ذَكَرْتُ ثَلَاثًا قَالَهُنَّ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَنْ أَسُبَّهُ لَأَنْ تَكُونَ لِي وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ :

سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَهُ خَلَّفَهُ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ خَلَّفْتَنِي مَعَ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نُبُوَّةَ بَعْدِي وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ يَوْمَ خَيْبَرَ لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَالَ فَتَطَاوَلْنَا لَهَا فَقَالَ ادْعُوا لِي عَلِيًّا فَأُتِيَ بِهِ أَرْمَدَ فَبَصَقَ فِي عَيْنِهِ وَدَفَعَ الرَّايَةَ إِلَيْهِ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ :

فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ ،

دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ وَحَسَنًا وَحُسَيْنًا فَقَالَ اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي .

عامر ابن سعد ابن ابى وقّاص نے اپنے باپ سے روایت نقل کی ہے کہ ایک دن معاویہ ابن ابی سفیان نے سعد کو حکم دیا کہ حضرت علی (ع) کو سبّ و شتم کرے، لیکن سعد نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔

معاویہ (ملعون) نے سعد سے پوچھا: تم علی کو گالیاں کیوں نہیں دیتے ؟ سعد نے جواب دیا: تین صفات کی وجہ سے کہ جو میں نے علی (ع) کی شان میں رسول خدا (ص) سے سنی ہیں، اسی وجہ سے میں کبھی بھی ان حضرت کو گالیاں نہیں دوں گا اور اگر ان تین صفات میں سے کوئی ایک بھی مجھ میں پائی جاتی تو یہ بات میرے لیے سرخ بالوں والے اونٹوں سے بھی زیادہ قیمتی ہوتی !

1- رسول خدا (ص) نے ایک جنگ کے موقع پر علی (ع) کو اپنے جانشین کے طور پر مدینہ میں اپنا نائب بنایا تو حضرت علی نے ان حضرت سے عرض کیا: یا رسول اللہ ! آپ مجھے بچوں اور عوتوں میں چھوڑ کر جا رہے ہیں ؟ !رسول خدا نے فرمایا: کیا آپ اس بات پر راضی نہیں کہ آپ میرے لیے وہی مقام و منزلت رکھتے ہیں کہ جو ہارون کا مقام حضرت موسی کے لیے تھا، بس فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔

2- اور جنگ خیبر کے دن میں نے رسول خدا (ص) کو فرماتے ہوئے سنا تھا کہ میں پرچم اسلام اسکے ہاتھ میں دوں گا کہ جو خدا اور رسول سے محبت کرتا ہو گا اور خدا اور رسول بھی اس سے محبت کرتے ہیں ! اس بات کو سننے کے بعد ہم سب اس انتظار میں تھے کہ یہ فضیلت ہمیں نصیب ہو لیکن اسی وقت رسول خدا (ص) نے فرمایا علی کہاں ہے ؟ علی اس حالت میں رسول خدا کے پاس آئے کہ انکی آنکھ میں درد ہو رہا تھا، رسول خدا نے اپنا لعاب دہن حضرت علی کی آنکھ پر لگایا تو انکو درد سے شفا مل گئی اور پرچم اسلام کو انکے سپرد کر دیا اور حضرت علی کے وجود کی برکت سے اسلام کو فتح نصیب ہو‏ئی۔

3- جب آیت مباہلہ نازل ہوئی تو رسول خدا (ص) نے حضرت على ، حضرت فاطمہ ، امام حسن اور امام حسين عليہم السّلام کو اپنے پاس بلایا اور فرمایا: خدایا ! یہ میرے اہل بیت ہیں۔

صحيح مسلم ، ج7 ، ص120 ، كتاب فضائل الصحابة ، باب من فضائل علي بن أبي طالب رضي الله عنه .

اہل سنت کی نظر میں اس روایت کے صحیح ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے، کیونکہ کتاب صحیح مسلم اہل سنت کی نگاہ میں ایسی کتاب ہے کہ جسکی تمام روایات صحیح ، معتبر اور مورد قبول ہیں، اسی وجہ سے بہت سے علمائے اہل سنت نے اس روایت کو اپنی کتب میں نقل کیا ہے، جیسے

ترمذی نے اپنی کتاب سنن میں ، كتاب المناقب ، باب مناقب علي ابن أبي طالب و البانی نے کتاب صحيح سنن ترمذی میں ، حدیث نمبر 2932 میں اس روایت کی تصحيح کی ہے ، و ابن كثير نے کتاب البداية والنهاية سال 40 ہجری کے حوادث میں ، ج7 ، ص369 و ابن اثير نے کتاب اسد الغابۃ في معرفة الصحابة میں ترجمہ امام علی عليہ السلام میں ، ج4 ،‌ ص99 و ذہبی نے کتاب تاريخ الاسلام میں ، ترجمہ امام علی عليہ السلام میں ، ص627 سال 40 ہجری کے حوادث میں و ابن عساكر نے اپنی کتاب تاريخ مدينہ دمشق میں کئی جگہ پر اس روایت کو نقل کیا ہے۔

قابل توجہ اور قابل ذکر نکتہ اس روایت میں یہ ہے کہ اس روایت میں «مأمور به» کو حذف کر دیا گیا ہے، اس لیے کہ مسلم نیشاپوری نہیں چاہتا تھا کہ معاویہ کے ناصبی ہونے کو واضح طور پر بیان کرے، اسی لیے اس نے اس جملے « أَمَرَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ سَعْدًا » کو ناقص ذکر کیا ہے اور لفظ أَمَرَ کا «مأمور به» حذف کر دیا ہے، یعنی جس چیز کا معاویہ نے حکم دیا ہے، اس چیز کو ذکر ہی نہیں کیا تا کہ پتا نہ چل سکے کہ معاویہ نے کس کام کرنے کا حکم دیا تھا !

کتاب صحیح مسلم کی روایت کی توجیہ کرنے میں نووی کی کوشش:

اہل سنت کے بعض علماء نے اسی نکتے کی وجہ سے چاہا ہے کہ معاویہ کو علی (ع) پر سبّ و شتم کرنے کا حکم دینے سے بری کرتے ہوئے اسکا دفاع کریں، اس لیے کہ جب انھوں نے دیکھا کہ سند کے لحاظ سے تو روایت پر کوئی اعتراض نہیں کر سکتے تو انھوں نے خود روایت کی عجیب و غریب توجیہات کرنا شروع کر دیں، حتی بعض تاویلات کو تو پڑھ کر انسان ہنسنے پر مجبور ہو جاتا ہے، ان علماء میں سے ایک نووی ہے کہ جو اسی کتاب صحیح مسلم کا شارح ہے، اس نے اس روایت کے بارے میں لکھا ہے کہ:

قَوْله : ( إِنَّ مُعَاوِيَة قَالَ لِسَعْدِ بْن أَبِي وَقَّاص : مَا مَنَعَك أَنْ تَسُبَّ أَبَا تُرَاب ؟ )

قَالَ الْعُلَمَاء : الْأَحَادِيث الْوَارِدَة الَّتِي فِي ظَاهِرهَا دَخَل عَلَى صَحَابِيّ يَجِبُ تَأْوِيلُهَا . قَالُوا : وَلَا يَقَعُ فِي رِوَايَات الثِّقَات إِلَّا مَا يُمْكِنُ تَأْوِيلُهُ . فَقَوْل مُعَاوِيَة هَذَا لَيْسَ فِيهِ تَصْرِيح بِأَنَّهُ أَمَرَ سَعْدًا بِسَبِّهِ ، وَإِنَّمَا سَأَلَهُ عَنْ السَّبَب الْمَانِع لَهُ مِنْ السَّبّ ، كَأَنَّهُ يَقُول : هَلْ اِمْتَنَعْت تَوَرُّعًا ، أَوْ خَوْفًا ، أَوْ غَيْر ذَلِكَ . فَإِنْ كَانَ تَوَرُّعًا وَإِجْلَالًا لَهُ عَنْ السَّبَب فَأَنْتَ مُصِيب مُحْسِن ، وَإِنْ كَانَ غَيْر ذَلِكَ فَلَهُ جَوَاب آخَر ، لَعَلَّ سَعْدًا قَدْ كَانَ فِي طَائِفَة يَسُبُّونَ فَلَمْ يَسُبَّ مَعَهُمْ ، وَعَجَزَ عَنْ الْإِنْكَار ، وَأَنْكَرَ عَلَيْهِمْ ، فَسَأَلَهُ هَذَا السُّؤَال . قَالُوا : وَيَحْتَمِلُ تَأْوِيلًا آخَر أَنَّ مَعْنَاهُ مَا مَنَعَك أَنْ تُخَطِّئَهُ فِي رَأْيه وَاجْتِهَاده ، وَتُظْهِرَ لِلنَّاسِ حُسْن رَأْينَا وَاجْتِهَادنَا ، وَأَنَّهُ أَخْطَأَ ؟ .

علماء نے، معاویہ کے سعد ابن ابی وقاص کو یہ کہنے کی کہ تم کیوں علی کو گالی نہیں دیتے، سبب بیان کیے ہیں، جیسے:

وہ روایات کہ جو صحابہ کی مذمت کے بارے میں ہیں، لازم و ضروری ہے کہ انکی تاویل و توجیہ کی جائے،

لہذا معاویہ کی اس بات سے واضح طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ اس نے سعد ابن ابی وقاص کو حکم دیا تھا کہ علی کو گالیاں دے، بلکہ معاویہ نے سعد سے سبّ و شتم نہ کرنے کا سبب پوچھا ہے کہ کیا تم ڈر یا کسی دوسری وجہ سے ایسا کام نہیں کرتے ؟ کہ اگر ایسا کرنا احتیاط اور علی کے احترام کی وجہ سے ہو تو، اچھا کام ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو پھر کسی دوسرے جواب کی ضرورت ہے، کیونکہ سعد کا تعلق جس قبیلے سے تھا وہ سارے علی (ع) پر سبّ و شتم کیا کرتے تھے، لیکن وہ (سعد) ایسا نہیں کرتا تھا اور دوسروں کو اس کام سے منع نہیں کر سکتا تھا۔

شرح مسلم ، النووي ، ج15 ،‌ ص175 .

ایک دوسری توجیہ یہ ہے کہ: تم کیوں علی پر اسکے کاموں کی وجہ سے اعتراض نہیں کرتے تا کہ لوگوں کو بھی اس (علی) کے غلط کاموں کا پتا چلے اور ہمارے کاموں کو لوگوں میں اچھا کر کے بتاؤ۔

حالانکہ کتاب صحیح مسلم میں اصل روایت ایسے شروع ہوتی ہے:

« أَمَرَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ سَعْدًا فَقَالَ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسُبَّ أَبَا التُّرَابِ »

لیکن افسوس کے ساتھ نووی نے دشمنان علی کا دقاع کرنے اور انکے دامن کو صاف رکھنے کے لیے، لفظ « امر » کو حذف اور روایت کو ایسے تحریف و تبدیل کر دیا ہے:

إِنَّ مُعَاوِيَة قَالَ لِسَعْدِ بْن أَبِي وَقَّاص : مَا مَنَعَك أَنْ تَسُبَّ أَبَا تُرَاب ؟

کیا انکے پاس اہل بیت کے دشمنوں کے دفاع کے علاوہ کوئی دوسرا بہانہ ہے کہ نووی علمی خیانت کرتے ہوئے ایسے غلط در غلط معاویہ کے کلام کی توجیہات کرتا جا رہا ہے ؟ !

علمائے اہل سنت کا «مأمور به» کے حذف کیے جانے کا اعتراف:

یہاں پر نووی اور اس جیسوں کی علمی خیانت کو ثابت کرنے کے لیے، اہل سنت کے بعض علماء کے کلمات کو ذکر کرتے ہیں کہ جہنوں نے واضح طور پر اعتراف کیا ہے معاویہ نے سعد ابن ابی وقاص کو حکم دیا تھا کہ امیر المؤمنین علی (ع) کو گالیاں دے، لیکن اس نے خود بیان کردہ چند دلائل کی وجہ سے ایسا کرنے سے صاف انکار کر دیا۔

1- ابن تيميہ حرانی :

وأما حديث سعد لما أمره معاوية بالسب فأبى فقال ما منعك أن تسب علي بن أبي طالب ؟ فقال ثلاث قالهن رسول الله صلى الله عليه وسلم فلن أسبه لأن يكون لي واحدة منهن أحب إلي من حمر النعم الحديث ، فهذا حديث صحيح رواه مسلم في صحيحه ... .

اور روایت سعد: جب معاویہ نے سعد ابن ابی وقاص کو حکم دیا کہ علی کو گالی دے تو اس نے علی کو گالی دینے سے انکار کیا، معاویہ نے کہا: کونسی چیز تم کو علی کو گالی دینے سے منع کرتی ہے ؟ سعد نے کہا: تین فضائل کیوجہ سے کہ جو میں نے علی کے بارے میں رسول خدا سے سنے تھے، اسی وجہ سے میں کبھی بھی ایسا کام نہیں کروں گا کہ اگر ان تین صفات میں سے کوئی ایک بھی میرے لیے بیان کی گئی ہوتی تو یہ بات میرے لیے سرخ بالوں والے اونٹوں سے بھی زیادہ قیمتی ہوتی !

یہ وہ صحیح حدیث ہے کہ جسے مسلم نے اپنی کتاب صحیح مسلم میں نقل کی ہے۔

منهاج السنة ، ج3 ، ص15 ، ط دار الكتب العلمية ، بيروت ، 1420 هـ .

یہ ابن تیمیہ ہے کہ جسکا ناصبی اور رسول خدا (ص) کے اہل بیت کا ازلی دشمن ہونا زبان زد عام و خاص ہے، اسی نے اپنی اس کتاب میں بہت واضح انداز سے اعتراف کیا ہے کہ معاویہ نے سعد کو حکم دیا تھا کہ امیر المؤمنین علی (ع) کو گالیاں دے، لیکن اس نے قبول نہ کیا، اصل میں وہ جملہ ایسے تھا:

« أَمَرَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ سَعْدًا أن يسب عليا ، فأمتنع »

معاويہ نے سعد وقاص کو حکم دیا کہ علی کو گالی دے اور اس نے انکار کر دیا۔

شيخ عبد الله ابن غنيمان جو مدینہ اسلامی یونیورسٹی کا استاد اور ڈاکٹریٹ سیکشن کا چیئرمین ہے، اس نے کتاب مختصر منہاج السنۃ میں بھی اسی جملے کو ذکر کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ معاویہ نے امیر المؤمنین علی (ع) پر سبّ و شتم کرنے کا حکم دیا ہے۔

مختصر منهاج السنة ، ج3 ،‌ ص15 ، دار الكتب العلمية ، بيروت ، 1420 هـ .

2- مقبل ابن ہادی الوادعی :

یہ بھی وہابی عالم ہے کہ جس نے كتاب تحفۃ المجيب میں لکھا ہے کہ:

ودعا بعض الأمويين سعد ابن وقاص ليسبّ عليا ، فما فعل ، قالوا : ما منعك أن تسب علياً ؟ ... .

بعض امویوں نے سعد ابن ابی وقاص سے چاہا کہ علی پر سبّ و شتم کرے، لیکن اس نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا تو انھوں نے کہا: کیا وجہ ہے کہ تم علی پر سبّ و شتم نہیں کرتے ؟

تحفة المجيب علي اسئلة الحاضر والغائب ،‌ص9 ،‌ ط الرابعة دار الآثار ، يمن ، 1426 هـ .

علمائے اہل سنت جیسے مسلم ، ترمذی ،‌ ذہبی ،‌ ابن اثير ، ابن كثير وغیرہ کے واضح طور پر معاویہ کا نام ذکر کرنے کے باوجود بھی الوادعی معاویہ کا دفاع کرتے ہونے اور اموی خاندان کی نمک حلالی کو ثابت کرنے کی خاطر معاویہ کے نام کو تبدیل کر کے اسکی جگہ لفظ  « بعض الأمويين » ذکر کر دیا ہے !

3- ڈاکٹر شيخ موسی شاہين لاشين :

اس نے صحیح مسلم کی شرح میں ایسے لکھا ہے کہ:

أمر معاوية بن أبي سفيان سعدا» المأمور به محذوف ، لصيانة اللسان عنه ، و التقدير : أمره بسب علي رضي الله عنه ، و كان سعد قد اعتزل الفتنة (حرب علي مع خصومه) ولعله اشتهر عنه الدفاع عن علي . فقال : ( ما منعك أن تسب أبا التراب ) ؟ معطوف علي محذوف ، والتقدير : امر معاويه سعدا أن يسب عليا ، فأمتنع ، فقال له : «ما منعك ،

معاویہ کے سعد کو حکم دینے والے جملے میں «مأمور به» حذف اور جس چیز کا حکم دیا گیا ہے وہ بھی زبان کو معاویہ کی مذمت کرنے سے بچانے کے لیے، حذف کر دیا گیا ہے کہ اصل میں جملے کا معنی یہ ہے: معاویہ نے سعد ابن ابی وقاص کو حکم دیا کہ علی کو سبّ و شتم کرے، کیونکہ سعد نے اس زمانے میں ہونے والے خونی حوادث سے لا تعلق تھا اور وہ علی کا حامی و ساتھی مشہور تھا، لہذا معاویہ نے اس سے کہا: کیا وجہ ہے کہ تو علی سے دشمنی نہیں کرتا ؟

فتح المنعم شرح صحيح مسلم ، ج9 ، ص332 ،‌ ط الأولي ، دار الشروق ،‌مصر .

پھر اس نے نووی کے کلام پر اشکال کرتے ہوئے کہا ہے کہ:

ويحاول النووي تبرئة معاوية من هذا السوء ،‌ فيقول : قال العلماء ... .

نووی نے معاویہ کو اس برے حکم کے دینے سے بری و آزاد کرنے کی کوشش کی ہے، اسی وجہ سے اس نے معاویہ کی بات کی توجیہ کرنے کے لیے علماء کے اقوال سے مدد لی ہے۔

شیخ موسی نے مزید لکھا ہے کہ:

وهذا تأويل واضح التعسف والبعد ، والثابت أن معاوية كان يأمر بسب علي ، وهو غير معصوم فهو يخطئ ،‌ ولكننا يجب أن نمسك عن أي انتقاص من أصحاب رسول الله صلي الله عليه وسلم ، و سب علي في عهد معاوية صريح ... .

لیکن یہ توجیہ و تاویل قابل افسوس اور حقیقت سے بہت دور ہے، کیونکہ تاریخی دلائل ثابت کرتے ہیں کہ معاویہ نے علی پر سبّ و لعن کرنے کا حکم صادر کیا ہے، لہذا اسکے دامن کو اس کام سے بچانے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ وہ تو معصوم نہی‍ں ہے پس وہ خطا بھی انجام دے سکتا ہے، اسکے باوجود ہم پر واجب ہے کہ ہم رسول خدا کے اصحاب کے نقص کو بیان کرنے سے پرہیز کریں، حالانکہ معاویہ کے دور میں علی پر سبّ و لعن ہونا بہت ہی واضح چیز ہے۔

4- شيخ حسن ابن علی السقاف :

یہ اردن کا سنی عالم ہے، اس نے لکھا ہے کہ:

وقد أمر معاوية الناس حتي كبار الصحابة أن يسبوا سيدنا علياً عليه السلام والرضوان الذي قال فيه رسول الله صلي الله عليه وسلم كما في صحيح مسلم وغيره : «لا يحبك إلا مؤمن ولا يبغضك إلا منافق» و قوله صلي الله عليه وسلم كما في الحديث الصحيح في مسند احمد وغيره : «من سب عليا فقد سبي» و قد ثبت أن معاوية كان ينال من سيدنا علي عليه السلام ويأمر بذلك ، ففي صحيح مسلم عن عامر بن سعد بن أبي وقاص عن أبيه قال : أمر معاوية بن أبي سفيان سعداً فقال ما منعك أن تسب أبا التراب ؟! فقال : أما ذكرت ثلاثاً قالهن رسول الله صلي الله عليه وسلم فلن أسبه ، لأن تكون لي واحدة منهن أحب إلي من حمر النعم ... .

معاویہ نے بزرگ صحابہ کو حکم دیا کہ وہ علی کو گالیاں دیں، حالانکہ کتاب صحیح مسلم میں ذکر ہوا ہے کہ رسول خدا نے علی سے فرمایا کہ: اے علی مؤمن تم سے محبت کرے گا اور منافق تم سے دشمنی کرے گا،

اور کتاب مسند احمد میں رسول خدا کی یہ حدیث ذکر ہوئی ہے کہ: جس نے بھی علی کو گالی دی تو اس نے مجھے گالی دی ہے،

اور تاریخ میں ثابت ہے کہ معاویہ خود بھی علی پر سبّ و لعن کیا کرتا تھا اور دوسروں کو بھی ایسا کرنے کا حکم دیا کرتا تھا،

کتاب صحیح مسلم میں ذکر ہوا ہے کہ: معاویہ نے سعد ابن ابی وقاص کو حکم دیا کہ علی پر سبّ و لعن کرے اور کہا کہ: تم کیوں علی کو گالیاں نہیں دیتے، سعد نے جواب دیا: میں نے علی کی تین صفات کو رسول خدا سے خود سنا ہے، اسی وجہ میں کبھی بھی ایسا کام نہیں کروں گا اور ان تین صفات میں سے کوئی ایک بھی مجھ میں پائی جاتی تو یہ بات میرے لیے سرخ بالوں والے اونٹوں سے بھی بہتر ہوتی۔

زهر الريحان ، ص11 ، ط دار الإمام الرواس ،‌ بيروت .

اور بعد والے صفحے پر لکھا ہے کہ:

وقد أمر معاوية ولاته أن يشتموا ويسبوا سيدنا عليا ويأمر بذلك ... .

معاویہ نے اپنے وزیروں کو علی پر سبّ و شتم کرنے کا حکم دیا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ وہ لوگوں کو بھی ایسا کرنے کا حکم دیں۔

زهر الريحان ، ص12 ، ط دار الإمام الرواس ،‌ بيروت .

اس تمام تفصیل کے باوجود کیا صحیح و جائز ہے کہ ہم ایسے شخص کو خال المؤمنين اور امير المؤمنين وغیرہ وغیرہ کہیں ؟ !

5- ملا علی قاری:

نور الدين علی ابن سلطان محمد الہروی المعروف ملا علی القاری نے لکھا ہے کہ:

عن سعد قال أمر معاوية سعدا أن يسب أبا تراب فقال أما ما ذكرت ثلاثا قالهن رسول الله صلى الله عليه وسلم فلن أسبه لأن يكون في واحدة منهن أحب إلي من حمر النعم .

معاویہ نے سعد کو حکم دیا کہ علی کو گالیاں دے، سعد نے ایسا کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا: میں نے علی کی تین صفات کو رسول خدا سے خود سنا ہے، اسی وجہ میں کبھی بھی ایسا کام نہیں کروں گا اور ان تین صفات میں سے کوئی ایک بھی مجھ میں پائی جاتی تو یہ بات میرے لیے سرخ بالوں والے اونٹوں سے بھی بہتر ہوتی۔

مرقاة المفاتيح في شرح مشكاة المصابيح ، ج11 ، ص287 .

6- محب الدين طبری:

عن سعيد قال أمر معاوية سعدا أن يسب أبا تراب فقال أما ما ذكرت ثلاثا قالهن رسول الله صلى الله عليه وسلم فلن أسبه لأن يكون في واحدة منهن أحب إلي من حمر النعم .

معاویہ نے سعد کو حکم دیا کہ علی کو گالیاں دے، سعد نے ایسا کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الرياض النضرة ج 2 ص 188 طبع مصر و طبق برنامه مكتبة الشاملة ، الإصدار الثاني ، ج1 ، ص262 ، باب ذكر أن بيوته أوسط بيوت رسول الله صلي الله عليه وسلم .

7- علامہ قندوزی:

وعن سهل بن سعد عن أبيه قال : أمر معاوية بن أبي سفيان سعدا أن يسب أبا تراب ، قال : أما ما ذكرت ثلاثا قالهن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فلن أسبه ، لئن تكون لي واحدة منهن أحب إلي من حمر النعم .

معاویہ نے سعد کو حکم دیا کہ علی کو گالیاں دے، سعد نے ایسا کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ينابيع المودة لذوي القربى ، القندوزي ، ج 2 ، ص 119 .

معاویہ کے علی حضرت (ع) پر سبّ و شتم کو ثابت کرنے والی روایات:

ابن كثير سلفی دمشقی نے كتاب معتبر البدايۃ و النهايۃ میں فضائل امير المؤمنين علی ابن ابی طالب (ع) کی فصل میں لکھا ہے کہ:

عن عبد الله بن أبي نجيح عن أبيه قال : " لما حج معاوية وأخذ بيد سعد بن أبي وقاص فقال يا أبا إسحاق إنا قوم قد أجفانا هذا الغزو عن الحج حتى كدنا أن ننسى بعض سننه فطف نطف بطوافك ، قال : فما فرغ أدخله دار الندوة فأجلسه معه على سريره ثم ذكر علي بن أبي طالب فوقع فيه فقال : أدخلتني دارك وأجلستني على سريرك ثم وقعت في علي تشتمه ؟ والله لان يكون في إحدى خلاله الثلاث أحب إلي من أن يكون لي ما طلعت عليه الشمس ، ولإن يكون لي ما قال له حين غز تبوكا " ألا ترضي أن تكون مني بمنزلة هارون من موسى إلا أنه لا نبي بعدي " ؟ أحب إلي مما طلعت عليه الشمس ، ولإن يكون لي ما قال له يوم خيبر : " لأعطين الراية رجلا يحب الله ورسوله ويحبه الله ورسوله يفتح الله على يديه ليس بفرار " أحب إلي مما طلعت عليه الشمس ولإن أكون صهره على ابنته ولي منها من الولد أحب إلي من أن يكون لي ما طلعت عليه الشمس ، لا أدخل عليك دارا بعد هذا اليوم ، ثم نفض رداءه ثم خرج.

عبد الله ابن ابی نجيح نے اپنے باپ سے نقل کیا ہے کہ اس نے کہا: معاویہ نے سفر حج کے موقع پر سعد ابن ابی وقاص سے کہا:

جنگیں خداوند کے گھر کی زیارت میں رکاوٹ بن گئی ہیں، نزدیک ہے کہ بعض سنتیں مجھے بھول جائیں، تم طواف کرو تو ہم بھی تمہارے پیچھے پیچھے طواف کرتے ہیں، طواف مکمل کرنے کے بعد معاویہ دار الندوۃ میں جا کر بیٹھ گیا اور اس نے سعد کو اپنے ساتھ بٹھا لیا پھر علی ابن ابی طالب کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا،

سعد نے کہا: تم نے مجھے اپنے پاس اس لیے بلایا اور بٹھایا ہے تا کہ علی کو برا بھلا کہو ؟ خدا کی قسم جو تین فضائل علی کی ذات میں پائے جاتے ہیں، اگر وہ میرے پاس بھی ہوتے تو یہ میرے لیے ان تمام چیزوں سے بہتر ہوتا کہ جن پر سورج طلوع کرتا ہے، ایک یہ کہ رسول خدا نے جنگ تبوک کے موقع پر فرمایا: کیا آپ اس پر راضی نہیں ہیں کہ آپ میرے لیے وہی مقام و منزلت رکھتے ہیں کہ جو ہارون کا مقام حضرت موسی کے لیے تھا، بس فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ دوسرا یہ کہ جنگ خیبر کے دن میں نے رسول خدا کو فرماتے ہوئے سنا تھا کہ میں پرچم اسلام اسکے ہاتھ میں دوں گا کہ جو خدا اور رسول سے محبت کرتا ہو گا اور خدا اور رسول بھی اس سے محبت کرتے ہیں، اسی کے ہاتھوں سے فتح نصیب ہو گی اور وہ فرار بھی نہیں کرتا، تیسرا یہ کہ میں اسکی بیٹی کا شوہر اور اسکا داماد ہوں تا کہ اس سے میری اولاد بھی ہو۔

اے معاویہ آج کے بعد کسی بھی جگہ پر میں تمہارے ساتھ نہیں بیٹھوں گا، یہ کہہ کر سعد وہاں سے اٹھ کر چلا گیا۔

البداية والنهاية ، ابن كثير ، ج7 ،‌ ص376 .

اور ابن ابی شيبہ نے كتاب المصنف میں لکھا ہے کہ:

قال : قدم معاوية في بعض حجاته فأتاه سعد فذكروا عليا فنال منه معاوية فغضب سعد فقال : [ تقول هذا الرجل ] ، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : " له ثلاث خصال لان تكون لي خصلة منها أحب إلي من الدنيا وما فيها .

معاویہ اپنے کسی حج کے سفر سے واپس آ رہا تھا تو سعد اسکے پاس آیا، باتوں باتوں میں جب علی کا ذکر آیا تو معاویہ نے علی کو برے الفاظ سے یاد کرنا شروع کر دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

المصنف ، ابن أبي شيبه ،‌ ج7 ، ص496 .

اور ابن ماجہ قزوينی نے اپنی کتاب سنن میں لکھا ہے کہ:

حدثنا علي بن محمد . ثنا أبو معاوية . ثنا موسى بن مسلم ، عن ابن سابط ، وهو عبد الرحمن ، عن سعد بن أبي وقاص ، قال : قدم معاوية في بعض حجاته ، فدخل عليه سعد ، فذكروا عليا . فنال منه . فغضب سعد ، وقال : تقول هذا لرجل سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من كنت مولاه فعلى مولاه " . وسمعته يقول أنت منى بمنزلة هارون من موسى إلا أنه لا نبي بعدي " . وسمعته يقول " لأعطين الراية اليوم رجلا يحب الله ورسوله " ؟

سنن ابن ماجه ،‌ ج1 ، ص45 .

ممکن ہے یہ تین روایات ایک ہی روایت ہو کہ جو الفاظ کے ساتھ نقل ہوئی ہو، شاید ایسا نہ بھی ہو اور متعدد مقامات پر یہ واقعہ پیش آیا ہو۔

بہرحال یہ تینوں روایات اس مطلب کو ثابت کرتی ہیں کہ امیر المؤمنین علی (ع) پر سبّ و لعن کرنا یہ معاویہ لعین کا ہمیشہ کا کام تھا، نہ صرف یہ بلکہ وہ دوسروں کو بھی اس کام کے جاری رکھنے کا حکم دیتا تھا !

ابن عبد ربہ نے کتاب العقد الفريد میں لکھا ہے کہ:

ولما مات الحسنُ بن عليّ حَجّ معاوية، فدخل المدينة وأراد أن يَلْعن عليَّا على مِنبر رسول الله صلى عليه وسلم. فقيل له: إن هاهنا سعدَ بن أبي وقاص، ولا نراه يرضى بهذا، فابعث إليه وخُذ رأيه. فأرسل إليه وذكر له ذلك. فقال: إن فعلت لأخرُجن من المسجد، ثم لا أعود إليه. فأمسك معاوية عن لعنه حتى مات سعد. فلما مات لَعنه عَلَى المنبر، وكتب إلى عماله أن يَلعنوه على المنابر، ففعلوا. فكتبتْ أم سَلمة زوج النبيّ صلى عليه وسلم إلى معاوية: إنكم تلعن اللّه ورسولَه على منابركم، وذلك أنكم تلعنون عليّ بن أبي طالب ومن أحبّه، وأنا أشهد أن اللّه أحبَّه ورسولَه، فلم يلتفت إلى كلامها .

جب حسن ابن علی فوت ہوئے تو معاویہ حج پر گیا پھر وہاں سے وہ مدینہ گیا اور اس نے اعلان کروایا کہ وہ لوگوں سے عمومی خطاب کرنا چاہتا ہے اور ساتھ ہی اسکا ارادہ تھا کہ وہ منبر پر علی پر لعنت بھی کرے، اسے بتایا گیا کہ سعد ابن ابی وقاص بھی اس وقت مدینے میں ہے اور وہ یہ کام (سبّ و شتم بر علی) کرنے پر بالکل راضی نہیں ہے، معاویہ نے کسی کو سعد کے پاس بھیجا تا کہ اس بارے میں اسکی رائے معلوم کرے، وہ شخص سعد کے پاس گیا اور معاویہ کا پیغام اس تک پہنچا دیا، سعد نے کہا: اگر معاویہ یہ کام کرے گا تو میں مسجد سے باہر چلا جاؤں گا اور دوبارہ کبھی مسجد میں لوٹ کر نہیں آؤں گا۔ معاویہ نے لوگوں سے خطاب نہ کیا تا کہ وہ علی پر سبّ و شتم نہ کر سکے اور جب تک سعد زندہ رہا معاویہ میں علی پر سبّ و شتم کرنے کی جرات نہیں تھی، سعد کے مرنے کے بعد معاویہ نے منبر پر علی پر لعنت کی اور اپنے وزیروں کو بھی ان حضرت پر لعنت کرنے کا حکم دیا۔

العقد الفريد ، ج4 ، ص335 ، ط الأولي ، دار الكتاب العربي ، بيروت ، 1411 هـ .

ام المؤمنین ام سلمہ نے ایک خط میں معاویہ کو لکھا کہ تم منبروں پر خدا اور اسکے رسول پر لعنت کرتے ہو، کیونکہ علی کو گالی دینا، خدا اور رسول کو گالی دینا ہے، میں گواہی دیتی ہوں کہ خدا اور رسول حضرت علی سے محبت کرتے ہیں، لیکن معاویہ نے اس خط کی طرف کوئی توجہ نہ دی۔

كمال الدين عمر ابن احمد ابن العديم نے كتاب بغية الطلب في تاريخ حلب میں جلیل القدر صحابی ابو ايوب انصاری کی سیرت کے بارے میں لکھا ہے کہ:

أبو أيوب خالد بن زيد بدري، وهو الذي نزل عليه النبي صلى الله عليه وسلم مقدمة المدينة، وهو كان على مقدمة علي يوم صفين، وهو الذي خاصم الخوارج يوم النهروان، وهو الذي قال لمعاوية حين سب علياً: كف يا معاوية عن سب علي في الناس، فقال معاوية: ما أقدر على ذلك منهم، فقال أبو أيوب: والله لا أسكن أرضاً أسمع فيها سب علي، فخرج إلى ساحل البحر حتى مات رحمه الله.

ابو ایوب خالد ابن زید جنگ بدر میں شرکت کرنے والوں میں سے ہے اور یہ وہ بندہ ہے کہ جب رسول خدا (ص) مدینہ تشریف لائے تو اس صحابی کے گھر بھی گئے تھے اور جنگ صفین میں بھی لشکر علی میں تھا اور جنگ نہروان میں بھی اس نے خوارج کے ساتھ جنگ کی تھی۔ جب اس نے دیکھا کہ معاویہ، علی پر سبّ و لعنت کر رہا ہے تو اس نے کہا: اے معاویہ ! لوگوں کے سامنے علی پر سبّ و شتم نہ کیا کرو۔ معاویہ نے جواب دیا: میں تمہاری بات نہیں مانوں گا، ابو ایوب نے کہا: خدا کی قسم جس سرزمین پر علی کو برا بھلا کہا جاتا ہو میں وہاں ہرگز نہیں رہوں گا، لہذا وہ ساحل سمندر کی طرف ہجرت کر کے چلا گیا اور وہاں پر ہی دنیا سے چلا گیا۔

بغية الطلب ، في تاريخ حلب ، ج7 ، ص3032 ،‌ ط دار الفكر ، بيروت .

بلاذری نے کتاب انساب الأشراف میں لکھا ہے کہ:

كتب معاوية إلي المغيرة بن شعبة : أظهر شتم علي وتنقصه ... .

معاویہ نے مغیرہ ابن شعبہ کو خط لکھا اور اسے حکم دیا کہ سر عام علی کو گالیاں دے اور اسکے عیوب کو بیان کرے۔

انساب الأشراف ، ج5 ،‌ ص30 ،‌ ط الأولي ، دار الفكر ، بيروت .

اہل سنت کے مشہور و معروف مؤرخ طبری نے بھی لکھا ہے کہ:

أن معاوية بن أبي سفيان لما ولى المغيرة بن شعبة الكوفة في جمادى سنة 41 دعاه فحمد الله وأثنى عليه ثم قال : ... ولست تاركا إيصاءك بخصلة لا تتحم عن شتم على وذمه والترحم على عثمان والاستغفار له والعيب على أصحاب على والاقصاء لهم وترك الاستماع منهم ... .

معاویہ نے جب سن 41 ہجری میں مغیرہ ابن شعبہ کو کوفہ کا والی و حاکم بنایا تو اسے حکم دیتے ہوئے کہا:

ایک کام کو بالکل بھولنا نہیں ہے اور اسے زیادہ تاکید کے ساتھ انجام دینا ہے، اور وہ کام، علی پر لعنت کرنا اور اسے گالیاں دینا ہے اور اسکے مقابلے پر عثمان کا ذکر احترام سے کرنا اور ہمیشہ اسکے لیے مغفرت کی دعا کرنا اور علی کے اصحاب کی برائیوں کو بیان کرو اور انکو جلا وطن کرنا اور انکی کوئی بھی بات نہ سننا۔

تاريخ طبري‌ ،‌ ج4 ، ص188 .

بلاذری نے لکھا ہے:

قال : خطب معاوية بالمدينة فحمد الله وأثني عليه ،‌ وذكر علياً فنال منه ، و نسبه الي قتل عثمان و ايواء قتلته والحسن بن علي تحت المنبر .

معاویہ نے مدینہ میں خطاب کرتے ہوئے خداوند کی حمد و ثنا کرنے کے بعد علی کو برا بھلا کہا اور پھر اس نے قتل عثمان اور اسکے قاتلوں کو پناہ دینے کی ساری ذمہ داری علی پر ڈال دی، حالانکہ حسن ابن علی بھی وہاں پر حاضر تھے۔

أنساب الأشراف ، ج5 ،‌ ص105 .

اہل سنت کے مشہور مؤرخ خوارزمی نے کتاب مقتل الحسين میں لکھا ہے:

وحضرتْ الجمعة فصعد معاوية علي المنبر فحمد الله وأثني عليه وصلي علي نبيه ، و ذكر علي بن أبي طالب فتنقصه ... فوثب الحسن بن علي و أخذ بعضادتي المنبر ، فحمد الله و صلي علي نبيه ثم قال : أيها الناس من عرفني فقد عرفني ومن لم يعرفني فأنا الحسن بن علي بن أبي طالب ، أنا ابن نبي الله ، أنا ابن من جعلت له الأرض مسجداً و طهوراً ... فقال معاوية : أما إنك تحدث نفسك بالخلافة ولست هناك . فقال الحسن : أما الخلافة فلمن عمل بكتاب الله و سنة نبية ليست الخلافة لمن خالف كتاب الله و عطل السنة ، إنما مثل ذلك مثل رجل أصاب ملكاً فتمتع به و كأنه انقطع عنه و بقيت تبعاته عليه .

جمعہ کے دن نماز جمعہ برپا کرنے کا وقت تھا، معاویہ منبر پر گیا اور خداوند کی حمد و ثنا کے بعد علی (ع) کا ذکر کرتے ہوئے برے الفاظ سے انکو یاد کیا، حسن ابن علی بھی وہاں پر حاضر تھے، وہ اپنی جگہ سے اٹھے اور خداوند کی حمد و تعریف کے بعد فرمایا: اے لوگو ! جو مجھے جانتا ہے، وہ تو جانتا ہی ہے اور جو مجھے نہیں جانتا، میں اسکو اپنا تعارف کرواتا ہوں۔ میں حسن ابن علی اور ابن رسول خدا ہوں، وہی کہ جسکے لیے زمین کو پاک اور سجدے کی جگہ قرار دیا گیا ہے۔۔۔۔۔

معاویہ نے جواب میں کہا: تمہارے دل میں خلافت کی آرزو ہے، امام حسن نے فرمایا:

خلافت اسکی ہے کہ جو کتاب خدا اور سنت رسول خدا پر عمل کرنے والا ہو، نہ اسکی کہ جو قرآن و سنت کے بر خلاف عمل کرنے والا ہو اور نہ ہی اسکی جو سنت رسول خدا کو ختم کرنے والا ہو، ایسا شخص اس انسان کی طرح ہے کہ جو مالدار و ثروت مند تو ہو لیکن اپنے مال سے سوائے زحمت اور تکلیف کے اسے کچھ بھی حاصل نہ ہو۔

مقتل الحسين ، ج1 ،‌ص183 ، ط الثالثة ،‌ انتشارات أنوار الهدي ، ايران 1425هـ .

معاویہ (لع) کا امام علی، امام حسن اور امام حسین عليہم السلام پر سبّ و لعن کرنا:

ثم انصرف عمرو وأهل الشأم إلى معاوية وسلموا عليه بالخلافة ورجع ابن عباس وشريح بن هانئ إلى علي وكان إذا صلى الغداة يقنت فيقول اللهم العن معاوية وعمرا وأبا الأعور السلمي وحبيبا وعبد الرحمن بن خالد والضحاك بن قيس والوليد فبلغ ذلك معاوية فكان إذا قنت لعن عليا وابن عباس والأشتر وحسنا وحسينا .

حکمیت کے واقعے کے بعد عمرو ابن عاص اور اہل شام معاویہ کے پاس گئے اور اسے خلافت کے ملنے پر مبارکباد دی اور ابن عباس و شریح ابن ہانی امیر المؤمنین علی (ع) کے پاس واپس چلے گئے۔

علی (ع) جب نماز صبح پڑھتے تھے تو دعا کیا کرتے تھے: خدایا معاويہ ، عمرو عاص ، ابو اعور سلمی ، حبيب ، عبد الرحمن ابن خالد ، ضحاك ابن قيس اور وليد پر لعنت فرما۔ یہ خبر جب معاویہ کو ملی تو وہ بھی ہر روز کی اپنی دعا میں امام علی ، امام حسن ، امام حسين عليہم السلام ، ابن عباس اور مالک اشتر پر بھی لعنت کیا کرتا تھا۔

تاريخ طبري ، ج4 ،‌ ص52 ،‌ باب اجتماع الحكمين بدومة الجندل و الكامل في التاريخ ، ج3 ،‌ ص333 ، باب ذكر اجتماع الحكمين .

خداوند کی خاص خاص لعنت ہو خبیث معاویہ پر۔

معاویہ (لع) کی طرف سے امیر المؤمنین علی (ع) پر سبّ و شتم ہونے کے بارے میں علمائے اہل سنت کے اقوال:

1- ابن تيميہ حرانی:

وكذلك تفضيل على عليه لم يكن مشهوراً فيها بخلاف سبّ على فإنه كان شائعا فى اتباع معاوية ولهذا كان على واصحابه أولى بالحق وأقرب الى الحق من معاوية واصحابه كما فى الصحيحن عن أبى سعيد عن النبى قال تمرق مارقة على حين فرقة من المسلمين فتقتلهم أولى الطائفتين بالحق وروى فى الصحيح أيضا أدنى الطائفتين الى الحق وكان سب على ولعنه من البغى الذى استحقت به الطائفة أن يقال لها الطائفة الباغية كما رواه البخارى فى صحيحه .

علی کو معاویہ پر برتری دینا، یہ شیعیان علی کے درمیان مشہور نہ تھا، لیکن علی پر سبّ و شتم کرنا یہ معاویہ کے ساتھیوں کے درمیان رواج کے طور پر عام ہو چکا تھا، اس لحاظ سے علی اور اسکے اصحاب، معاویہ اور اسکے اصحاب کی نسبت حق پر ہیں، جیسا کہ صحیحین (بخاری و مسلم) میں ابو سعید خدری سے نقل ہوا ہے: وہ آئے گا کہ جو لوگوں کو دین سے خارج کر دے گا، (یعنی معاویہ) اور حق کے نزدیک ترین فرد (یعنی علی) اس سے جنگ کرے گا اور کیونکہ معاویہ نے علی پر سبّ و لعن کی ہے، لہذا مناسب ہے کہ اسے ظالم و ستمگر کہا جائے اور اسکے اصحاب کو جیسا کہ بخاری نے نقل کیا ہے، بہتر ہے کہ ستمگر گروہ کہا جائے۔

مجموعة الفتاوي ، ج4 ، ص266 ، ط دار الوفاء في مصر ، 1421 هـ .

2- حافظ شمس الدين ذہبی:

وخلف معاوية خلق كثير يحبونه ويتغالون فيه ويفضلونه ، إما قد ملكهم بالكرم والحلم والعطاء ، وإما قد ولدوا في الشام على حبه ، وتربى أولادهم على ذلك . وفيهم جماعة يسيرة من الصحابة ، وعدد كثير من التابعين والفضلاء ، وحاربوا معه أهل العراق ، ونشأوا على النصب ، نعوذ بالله من الهوى .

بہت سے لوگ تھے کہ جو معاویہ سے محبت اور اسکے بارے میں غلو سے کام لیتے تھے اور اسے دوسروں پر برتر و بہتر سمجھتے تھے۔ یہ اس وجہ سے تھا کہ وہ لوگ یا تو شام میں پیدا ہوئے تھے یا معاویہ سے درہم و دینار لیا کرتے تھے اور انھوں نے اپنی اولاد کی بھی اسی روش پر تربیت کی تھی۔ ان افراد میں سے بہت کم اصحاب رسول خدا تھے اور بہت سے تابعین اور بزرگان میں سے تھے کہ جو معاویہ کے لشکر میں اہل عراق سے جنگ کر چکے تھے کہ جہنوں نے علی سے بغض و کینے پر پرورش پائی تھی، ہوائے نفس کی پیروی کرنے سے ہم خداوند کی پناہ مانگتے ہیں۔

سير اعلام النبلاء ، الذهبي ، ج3 ،‌ ص128 .

3- عماد الدين ابی الفداء :

اس نے اپنی تاریخ کی کتاب میں امام حسن (ع) اور معاویہ کی صلح کی شرائط ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ امام حسن نے شرط رکھی تھی کہ:

وأن لا يسب علياً ، فلم يجبه إلي الكف عن سب علي ، فطلب الحسن أن لا يشتم علياً وهو يسمع ، فأجابه إلي ذلك ثم لم يف له به .

اس (امام حسن) نے معاویہ سے شرط رکھی تھی کہ وہ علی (ع) پر سبّ و لعن نہیں کرے گا، لیکن اس نے اس شرط پر عمل نہیں کیا، امام مجتبی نے اس سے چاہا کہ کم از کم برا بھلا نہ کہے تو اس نے قبول کر لیا، لیکن اس نے اس وعدے پر بھی عمل نہ کیا۔

تاريخ أبي الفداء ، فصل في ذكر تسليم الحسن الأمر إلي معاوية ، ج1 ، ص254 ، ط دار الكتب العلمية ، بيروت ، 1417 هـ .

عماد الدین نے ایک فصل بعنوان « استلحاق معاوية زيادا » میں لکھا ہے کہ:

وكان معاوية وعماله يدعون لعثمان في الخطبة يوم الجمعة ويسبون علياً و يقعون فيه .

معاویہ اور اسکا عملہ نماز جمعہ کے خطبے میں عثمان کے لیے دعا کیا کرتے تھے اور علی کو گالیاں دیا کرتے تھے۔

تاريخ أبي الفداء ، فصل في ذكر تسليم الحسن الأمر إلي معاوية ، ج1 ، ص258 ، ط دار الكتب العلمية ، بيروت ، 1417 هـ .

4- قاضی شيخ محمد الخضرمی المصری:

اسکے باوجود کہ اس نے اپنے خطابات میں امیر المؤمنین علی (ع) اور انکے فرزند امام حسین (ع) پر طعنے زنی کی ہے لیکن پھر بھی اس نے معاویہ کی طرف سے امیر المؤمنین علی پر ہونے والی سبّ و لعن کا انکار نہیں کیا اور بعض مقامات پر تو اس نے بہت واضح طور پر اس بات کو ذکر کیا ہے:

اس نے كتاب الدولة الأموية میں لکھا ہے کہ:

ومما ننقده علي هذا العهد (أي عهد معاويه) اهتمام معاوية بتشهير بعلي علي المنابر مع أن الرجل قد لحق بربه وأنتهي بأمره ، وكان يعلم يقيناً أن هذه الأقوال مما يهيج صدور شيعته وتجعلهم يتأففون ويتذمرون ، ولا ندري ما الذي حمله أن جعل ذلك فرضاً حتماً في كل خطبة كأنه ركن من أركانها لا تتم إلا به .

جو انتقاد معاویہ کے دور کے بارے میں کیا جا سکتا ہے وہ یہ ہے کہ: معاویہ نے لعن علی کو منابر پر ایک عادت و رواج میں جاری رکھا ہوا تھا، حالانکہ وہ (علی دنیا سے جا چکے تھے اور معاویہ جانتا تھا کہ اسکے اس کام سے شیعیان علی ناراض ہوں گے اور ان میں علی کے دشمنوں سے نفرت میں اضافہ ہو گا، لیکن اسکے باوجود معلوم نہیں کہ معاویہ نے اس کام کو کیوں اپنے آپ پر واجب و لازم کیا ہوا تھا کہ اپنے ہر خطبے میں ایک واجب کام کی طرح اسکو انجام دیا کرتا تھا، ایسے تھا کہ گویا علی پر سبّ و لعن کرنا خطبے کا ایک رکن و حصہ تھا کہ جسکے بغیر خطبہ ناقص اور نا مکمل رہتا تھا۔

الدولة الأموية ، ص314 ، ط المكتبة العصرية ، بيروت ، 1423 هـ .

5- الإمام الحافظ احمد ابن محمد ابن الصديق الغماری :

اس نے كتاب الجواب المفيد للمسائل المستفيد میں لکھا ہے کہ:

وفي الصحيح ، صحيح مسلم عن علي عليه السلام قال : «ولذي فلق الحبة وبرأ النسمة إنه لعهد عهده إلي رسول الله صلي الله عليه وسلم : أن لا يحبني إلا مؤمن ولا يبغضني إلا منافق ».

وفي الصحيح الحاكم و غيره : «من سبّ عليا فقد سبّني ومن سبّني فقد سب الله» و من سبّ الله فقد كفر ، وفي الصحيح و غيره مما تواتر تواتراً مقطوعاً به : «من كنت مولاه فعلي مولاه اللهم وال من والاه وعاد من عاداه» ... والمقصود من هذه الأحاديث الصحيحة المتفق عليها مع ما تواتر من لعن معاوية لعلي علي المنبر طول حياته وحياة دولته إلي عمر بن عبد العزيز وقتاله وبغضه ، يطلع من أنه منافق كافر فهي مؤيدة لتلك الأحاديث الأخري۔

ويزعم النواصب أن ذلك (أعني لعن معاوية لعلي) كان اجتهاداً ، مع أن النبي صلي الله عليه وسلم يقول في مطلق الناس : «لعن المؤمن كقتله» فإذا كان الإجتهاد يدخل اللعن وإرتكاب الكبائر فكل سارق وزان وشارب وقاتل يجوز أن يكون مجتهداً ، فلا حد في الدنيا ولا عقاب في الآخرة .

کتاب صحیح مسلم میں یہ حدیث علی (ع) سے نقل ہوئی ہے کہ: اس خدا کی قسم کہ جس نے دانے کو شگاف کیا ہے اور انسان کو خلق کیا ہے، میں نے رسول خدا کو فرماتے ہوئے سنا تھا کہ: اے علی تم سے محبت نہیں کرے گا، مگر مؤمن اور تم سے دشمنی نہیں کرے گا، مگر منافق،

اور کتاب صحیح حاکم وغیرہ میں آیا ہے کہ رسول خدا نے فرمایا: جو بھی علی کو گالی دے گا تو اس نے مجھے گالی دی ہے اور جو مجھے گالی دے گا تو اس نے خدا کو گالی دی ہے اور جو خدا کو گالی دے گا، وہ کافر ہے۔

اور متواتر و صحیح احادیث سے یقین حاصل ہو جاتا ہے کہ یہ رسول خدا کی حدیث ہے کہ ان حضرت نے فرمایا: جس جس کا میں مولا ہوں، پس میرے بعد علی بھی اس اس کا مولا ہے، خدایا اس سے محبت فرما جو علی سے محبت کرے اور اس سے دشمنی فرما جو علی سے دشمنی کرے۔

ان صحیح احادیث سے اور اسی طرح علی پر سبّ و لعن اور معاویہ کا ان حضرت سے جنگ کرنا کہ جو عمر ابن عبد العزیز کے زمانے تک جاری رہی، یہ نتیجہ حاصل ہوتا ہے کہ معاویہ، منافق اور کافر ہے، البتہ ان روایات کے علاوہ کوئی دوسری روایات ہیں کہ جو اسی نتیجے کی تائید و تصدیق کرتی ہیں۔

ناصبی کہ جو گمان کرتے ہیں کہ معاویہ یہ سارے کام اجتہاد کی وجہ سے انجام دیتا تھا، یہ اصل میں ان غلط بہانوں سے معاویہ کے دامن کو پاک کرنا اور پاک رکھنا چاہتے ہیں، ایسے کہ گویا ان ناصبیوں نے رسول خدا کے اس فرمان کو نہیں سنا کہ:

مؤمن پر لعنت و نفرین کرنا، اسکو قتل کرنے کے مترادف ہے،

لہذا اگر ہر جرم جیسے لعنت و نفرین یا گناہان کبیرہ کی اجتہاد کے ذریعے سے توجیہ کرنا صحیح ہو تو پھر ہر چور، زنا کرنے والا، شراب خوار اور قاتل اپنے جرم کو اجتہاد کے ذریعے سے توجیہ کر کے حدّ شرعی (سزا) سے فرار کر سکتا ہے تو اس سے دنیا میں شرعی سزا ملنا اور آخرت میں عذاب ہونا بالکل ختم ہو جائے گا۔

الجواب المفيد ، للسائل المستفيد ، احمد الغماري ، ص59 ، ط الأولي ، دار الكتب العلمية ،‌ بيروت ، 1423 هـ .

6- شيخ محمد ابن احمد ابو زہرة :

اس معروف مصری عالم نے كتاب الإمام زيد میں لکھا ہے کہ:

ولقد زاد القلوب بغضاً لحكام الأمويين ما كانوا يحاولون به من الغض من مقام علي رضي الله عنه ، فقد كان ذلك ديدنهم واستوي في ذلك السفيانيون والمروانيون .

فقد سنّ معاوية سنة سيئة في الإسلام وهي لعن إمام الهدي علي بن أبي طالب كرم الله وجهه علي المنابر ، بعد خطبة الجمعة ، وقد تضافرت علي ذلك أخبار المورخين ، فذكره ابن جرير في تاريخه وإبن الأثير وغيرهما .

ولقد نهاه علي تلك السنة السيئة بل تلك الجريمة الكبري الأتقيا من بقية الصحابة رضي الله عنهم ،‌و من هؤلاء السيدة أم سلمة زوج رسول الله صلي الله عليه وسلم وأم المؤمنين ، فقد أرسلت إليه كتاباً هذا نصه :

«إنكم تلعنون الله ورسوله علي منابركم وذلك أنكم تلعنون علي بن أبي طالب ومن أحبه ، وأشهد أن الله أحبه ورسوله » .

ولكن معاوية لم يلتفت إلي كلامها ، واستمر في غيه و قد استمر ذلك طول حكم الأمويين ولم يلغ إلا فترة حكم الحاكم العادل عمر بن عبد العزيز .

دل حکام اموی کے لیے کینے و دشمنی سے بھرے ہوئے ہیں، کیونکہ انھوں نے علی کے بلند مقام و منصب کا بالکل خیال نہیں رکھا اور انھوں نے ایسی سنت کی بنیاد رکھی تھی کہ جسے آل سفیان اور آل مروان نے انکے بعد بھی جاری رکھا تھا۔

معاویہ نے ایک بری سنت (بدعت) کہ منابر پر سبّ و لعن علی تھی کی بنیاد رکھی تھی، اس بارے میں مؤرخین جیسے ابن جریر اور ابن اثیر وغیرہ نے متعدد اسناد و دلائل کو ذکر کیا ہے۔

اس بری سنت اور گناہ کبیرہ کے بارے میں بعض دیندار اور پرہیزگار صحابہ نے معاویہ کو آگاہ کیا،

اس بارے میں زوجہ رسول خدا ام المؤمنین ام سلمہ کے خط کا ذکر کیا جا سکتا ہے کہ معاویہ کو لکھا کہ: تم منبروں پر خدا اور اسکے رسول پر لعن و نفریر کرتے ہو، کیونکہ علی پر لعن و نفرین کرنا، یہ خدا اور اسکے رسول پر لعن و نفرین کرنے کے مساوی ہے۔ میں گواہی دیتی ہوں کہ خدا اور رسول، علی سے محبت کرتے تھے، لیکن معاویہ نے دلسوز مشوروں پر کوئی توجہ نہ دی اور اپنے اس ناپاک کام کو عمر ابن عبد العزیز کے زمانے تک جاری رکھا۔

الإمام زيد ، أبو زهرة ، ص102 ، ط دار الفكر العربي ، مصر .

اور شیخ محمد نے اپنی كتاب الإمام الصادق (ع) میں بھی لکھا ہے کہ:

وذلك أن بني امية بعد أن استولوا علي الحكم كانوا حريصين علي إخفاء كل المعالم الدالة علي الإمام علي كرم الله وجهه ، وكان أنصاره وأشياعه حريصين علي أن يخفوا قبره ، حتي لا يبعث بجثمانه الطاهر الفسقة من الأمويين كما كانوا يعبثون بسبه علي المنابر ...

أن الإمام جعفر الصادق بعد أن أعلم أتباعه بمكان القبر الذي كان معلوماً عندهم ، سُأل من بعض أصحابه : «ما منع الأبرار من أهل البيت من إظهار مشهده» فقال الصادق : «خذراً من بني مروان والخوارج أن تحتال في أذاه» .

بنی امیہ نے قدرت و حکومت حاصل کرنے کے بعد فضائل علی پر دلالت کرنے والے آثار کو مخفی کرنے کی کوشش کی اور ان فضائل کے منتشر ہونے کی راہ میں رکاوٹیں ڈالیں، یہاں تک کہ علی کے دوستوں اور اصحاب نے انکی قبر تک کو ظاہر نہ کیا، صرف اس ڈر سے کہ اموی فاسق و فاجر انکے بدن مبارک کی بے حرمتی نہ کریں، جیسے کہ ان حضرت پر منبروں سے لعن و نفرین کو جاری رکھا ہوا تھا، لہذا ان حضرت کی امام صادق کے ذریعے قبر ظاہر ہونے کے بعد بعض نے ان امام سے سوال کیا کہ: اہل بیت کے افراد کیوں علی کے دفن کی جگہ کو ظاہر نہیں کرتے تھے ؟  امام صادق نے فرمایا: اس ڈر سے کہ آل مروان اور خوارج انکے بدن مبارک کی بے حرمتی نہ کریں۔

الإمام الصادق ، أ بو زهرة ، ص48 ، ط دار الفكر العربي ،‌ مصر ، 1993 م .

اور یہ بھی کہا ہے کہ:

وهناك مثل آخر لتأثير الوقائع علي الآراء ، ما سنه معاوية من سُنة سيئة وهي لعن علي سيف الإسلام علي المنابر ،‌ فإن ذلك كان له تأثير شديد في نفوس المؤمنين ، لأن ما ثبت لعلي من سابقات مكرمات لا يمكن أن يذهب إذا وقت منافق يلعنه ،‌بل إن ذلك يزيد منزلة في النفوس تمكيناً ، اذ يحس النسا بغضاضة الظلم وفحش العمل ، فيلعنون في نفوسهم وفي مناجاتهم من يلعن سيف الله الذي سلّه علي الشرك ، ولذلك سادت النقمة وإن لم تتكلم الألسنة ،‌ ولم تعلن الحروب علي من يأمرون بلعن الإمام العالم التقي رضي الله عنه وعن آله الأطهار ، وإذا كان قد روي عن النبي صلي الله عليه وسلم أنه قال لعلي كرم الله وجهه : «لا يحبك إلا مؤمن ولا يبغضك إلا منافق» فقد علم الذين شاع بينهم خبر وصف النبوة لهؤلاء الذين سنوا سنة السوء ، وبذلك ثارت روح البغض والكراهية لملوك بني امية .

ایک دوسری مثال کہ واقعات کیسے آراء و افکار پر اثر انداز ہوتے ہیں، وہ معاویہ کی طرف سے علی پر سبّ و لعن کرنا ہے کہ جس نے مؤمنین کے افکار پر بہت زیادہ اثر کیا تھا، کیونکہ ممکن نہیں تھا کہ علی کے درخشان فضائل اور انکا شاندار ماضی، معاویہ جیسے منافق کی لعن و نفرین سے انسانوں کے ذہن سے محو ہو جائے، بلکہ یہ کام سبب بنا کہ علی سے لوگوں کی محبت اور احترام زیادہ ہو گیا اور دل میں وہ لوگ اس پر لعنت کرتے تھے کہ جس نے ان لوگوں کو اس کام کرنے کا حکم دیا تھا۔ خاص طور پر رسول خدا کے علی کے بارے میں اس فرمان کے بعد کہ فرمایا:

اے علی تم سے محبت نہیں کرے گا، مگر مؤمن اور تم سے دشمنی نہیں کرے گا، مگر منافق،

نتیجہ یہ نکلا کہ لوگوں کے دلوں میں بنی امیہ کے حکام اور سلاطین کے بارے میں نفرت اور کینہ زیادہ ہوتا گیا۔

الإمام الصادق ، ص92 .

اور یہ کہ کیوں امام علی ابن ابی طالب  (ع) سے کم روایات نقل کی گئی ہیں، اس بارے میں بھی کہا ہے کہ:

وإذا كان لنا أن نتعرف السبب الذي من أجله اختفي عن جمهور المسلمين بعض مرويات علي وفقهه ، فإنا نقول إنه لابد أن يكون للحكم الأموي أثر في اختفاء كثير من آثار علي في القضاء والإفتاء ، لأنه ليس من المعقول أن يلعنوا عليا فوق المنابر وأن يتركوا العلماء يتحدثون بعلمه وينقلون فتاويه وأقواله للناس وخصوصاً ما كان يتصل منها بأسس الحكم الإسلامي .

جب ہم پر ضروری ہے کہ علی کی احادیث اور علوم فقہی کے مخفی ہونے کے بارے میں تحقیق کریں تو مناسب ہے ہم کہیں کہ:

علی کے آثار فقہی اور حکومت و قضاوت کے بارے میں مسائل و احکام کے مخفی کرنے کا اصلی سبب و علت، بنی امیہ کی حکومت ہے، کیونکہ یہ معقول نہیں ہے کہ ایک طرف سے تو پوری سلطنت میں منبروں سے علی پر سبّ و لعن کریں اور دوسری طرف سے لوگوں میں انکے افکار، فتووں اور علوم کے منتشر ہونے کی اجازت بھی دیں۔

الإمام الصادق ، ص127 .

7- استاد شيخ ابو علی المؤدودی:

اس نے كتاب الخلافة والملك میں کہا ہے کہ:

فلما بدأ في عصر معاوية لعن سيدنا علي فوق المنابر وسبه وشتمه جهاراً نهاراً ، تألم المسلمون لذلك في كل بقعة غير أن الناس سكتوا عن ذلك عن مضض .

جب معاویہ کے زمانے میں ہمارے آقا علی پر منبروں سے لعن شروع ہوئی اور خلوت و جلوت میں انکی بے حرمتی کی گئی تو اس سے ہر جگہ پر رہنے والے تمام مسلمان ناراض تھے، لیکن حکومت کے ڈر سے چپ رہے اور کچھ نہ کہا۔

الخلافة والملك ، المودودي ، ص105 ، ط الأولي ، دار القلم ، الكويت ، 1398 هـ .

8- استاد كاتب عبد الرحمن الشرقاوی:

اس نے كتاب خامس الخلفاء عمر ابن عبد العزيز میں لکھا ہے کہ: جب عمر ابن عبد العزیز خلیفہ بنا:

أمر الناس أن يجتمعوا في المسجد ، فلما احتشدوا أعلن أنه يمنع خطباء المساجد في كل أنحاء الدولة من سب علي وفاطمة في نهاية خطبة الجمعة ، وأمرهم أن يضعوا آخر الخطبة مكان السب ، الآية الكريمة «إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْإِحْسانِ وَ إيتاءِ ذِي الْقُرْبى‏ وَ يَنْهى‏ عَنِ الْفَحْشاءِ وَ الْمُنْكَرِ وَ الْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُون‏»

ذلك أن معاوية بن أبي سفيان كان هو وولاته علي البلاد يسبون علي بن أبي طالب علي المنابر آخر الخطبة كل يوم جمعة ، وعتب علي معاوية في ذلك وأنكر عليه جماعة ، فأمتنع من تركه وقال : «والله لا تركته حتي يكبر عليه الصغير ويشيب علي الكبير ، فإذا ترك السنة قيل تُركت السنة» .

فاستمر الحال علي ذلك مدة أيام معاوية ويزيد ابنه ، وأيام مروان بن الحكم وإبنه عبد الملك وأيام ابنيه الوليد وسليمان إبني عبد الملك .

فلما رفع السب وأبدله بقوله تعالي « إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْإِحْسانِ ... » الآية ، همهم أهل دمشق من المسجد وهم يقولون : «تُركت السنة ، تركت السنة» .

عمر ابن عبد العزيز نے فرمان دیا کہ سب لوگ مسجد میں جمع ہو جائیں، پھر اس نے اپنے خطاب میں اعلان کیا کہ تمام ممالک اسلامی مساجد کے خطباء کو کوئی حق حاصل نہیں کہ وہ علی و فاطمہ کو نماز کے خطبے کے آخر میں سبّ و لعن کریں اور حکم دیا کہ اسکی جگہ اس آیت :

« إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْإِحْسانِ وَ إيتاءِ ذِي الْقُرْبى ... » کی تلاوت کی جائے،

اس حکم کا یہ سبب تھا کہ معاویہ نے اپنے تمام وزیروں کو حکم دیا تھا کہ نماز جمعہ کے خطبوں کے آخر میں علی پر سبّ و لعن کریں، حالانکہ بعض افراد یہ کام کرنے کی مخالفت کرتے تھے، لیکن معاویہ انکی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اور کہتا تھا کہ:

خدا کی قسم میں اس سنت کو ہرگز ترک نہیں کروں گا، یہاں تک کہ اسی طریقے پر بچے جوان اور جوان بوڑھے ہو جائیں اور یہ کام ایک سنت میں تبدیل ہو جائے کہ اگر کسی دور میں یہ کام ترک ہو جائے تو لوگ کہیں کہ سنتوں میں سے ایک سنت ترک ہو گئی ہے۔

لہذا یہ بری سنت (بدعت) معاویہ اور اسکے بیٹے کے زمانے سے شروع ہوئی اور مروان ابن حکم، عبد الملک ابن مروان اور اسکے بیٹوں ولید اور سلیمان کے زمانے تک جاری رہی۔

جب عمر ابن عبد العزیز نے اس عادت کو بدلا اور سبّ و لعن کی جگہ قرآن کی آیت پڑھنے کا حکم دیا تو اہل شام مسجد سے نکلتے وقت کہہ رہے تھے کہ سنت کو ترک کر دیا گیا ہے، سنت کو ترک کر دیا گیا ہے۔

خامس الخلفاء عمر بن عبد العزيز ، الشرقاوي ، ص134 ، ط الأولي ،‌ دار الكتاب العربي ، بيروت ، 1407 هـ .

9- دانشمند مغربی ، شيخ عبد الله ابن عبد القادر التليدی :

كان معاوية وعماله في الأقاليم والأمصار يسبون الإمام علياً رضي الله تعالي عنه ويلعنونه علي المنابر في الجمع والأعياد والمجامع والمناسبات ، ويأمرون الناس بذلك ، وينكرون علي من لم يلعنه وينل منه ، مضافاً ذلك منهم إلي محاربة وقتاله السالف قبل ذلك ، وقد صحت الأخبار بما قلناه في دواوين السنة وكتب التاريخ .

معاویہ ، اسکا کام کرنے والا عملہ تمام ممالک اسلامی اور تمام شہروں میں امام علی کو گالیاں دیتے تھے اور تمام اجتماعات ، ایام عید اور ہر مناسبت کے موقع پر ان پر سبّ و لعن کرتے تھے اور لوگوں کو بھی یہ کام کرنے کا حکم دیتے تھے اور جو بھی یہ کام نہیں کرتا تھا، اسکی مذمت کی جاتی تھی۔ یہ تمام ظلم ان جنگوں کے علاوہ تھے کہ جو اس سے پہلے ان حضرت سے لڑی جا چکی تھیں۔ ان حوادث کے بارے میں دلائل اور اسناد کتب تاریخی اور روایات کی کتب میں موجود ہیں۔

الأنوار الباهرة بفضائل أهل بيت النبوي والذرية الطاهرة ، ص42 ، ط الأولي ، دار ابن حزم ، بيروت ، 1417 هـ .

10- شيخ حسن ابن فرحان المالكی:

اس نے كتاب مع سليمان العلوان في معاوية بن أبي سفيان میں اس روایت: « لا تسبوا أصحابي» کی شرح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:

هذا الحديث فيه أبلغ ردّ علي معاوية الذي سنّ لعن علي ... .

یہ حدیث واضح ترین جواب ہے معاویہ کے لیے کہ جس نے علی پر لعنت کرنے کی سنت کی بنیاد رکھی تھی۔

مع سليمان العلوان في معاوية ، حسن المالكي ، ص37 ، ط الأولي ، مركز الدراسات التاريخية ، 1425 هـ .

اور کہتا ہے کہ:

هل هناك أبلغ من بسط السيف في قتل البدريين وقتل بعض الصحابة من غيرهم ، ولعنهم بعض أهل البدر علي المنابر وهذا ما فعله معاوية ! وولاته .

کیا یہ کام جنگ بدر میں قتل ہونے والوں اور بعض صحابہ کے قتل ہونے اور جنگ بدر میں شرکت کرنے والوں پر لعنت کرنے سے واضح تر نہیں ہے کہ اس کام کو معاویہ اور اسکا عملہ انجام دیا کرتا تھا۔

مع سليمان العلوان في معاوية ، ص121 .

بنی امیہ کی طرف سے امیر المؤمنین علی (ع) پر سبّ و لعن کرنے کے بارے میں روایات:

معاویہ ابن ہندہ کے امیر المؤمنین علی (ع) پر سبّ و لعن کرنے کے بارے میں علمائے اہل سنت کے اقوال کو تفصیل سے ذکر کیا گیا، اسکے علاوہ کتب اہل سنت میں دوسری روایات پائی جاتی ہیں کہ جو بیان کرتی ہیں کہ علی پر سبّ و لعن کرنا، معاویہ کے ساتھ مختص نہیں تھا، بلکہ اس برے عمل کو معاویہ کے علاوہ بنی امیہ خاندان کے باقی افراد اور اموی حکمران بھی انجام دیا کرتے تھے۔

واضح ہے کہ اہل سنت کے بعض علماء معاویہ کا نام ذکر نہیں کرنا چاہتے تھے، لہذا لفظ معاویہ کی جگہ اسم بنی امیہ کو ذکر کرتے تھے کہ اگرچہ بنی امیہ کا لفظ معاویہ کو بھی شامل ہوتا ہے۔

بنی امیہ کا ہر فرد امير المؤمنين علی (ع) پر لعنت کیا کرتا تھا:

حافظ ابن عساكر نے کتاب تاريخ مدينہ دمشق میں لکھا ہے کہ:

حدثنا خالد بن يزيد عن معاوية قال كان لا يقوم أحد من بني أمية إلا سب عليا فلم يسبه عمر فقال كثير عزة :

وليت فلم تشتم عليا ولم تخف بريا ولم تقنع سجية مجرم

وقلت فصدقت الذي قلت بالذي فعلت فأضحى راضيا كل مسلم .

خالد ابن زيد نے معاويہ سے نقل کیا ہے کہ: جب بھی بنی امیہ کا کوئی فرد بھی اپنی جگہ سے اوپر اٹھتا تو علی پر لعنت کرتا تھا، عمر ابن عبد العزیز نے علی پر لعنت نہیں کی، لہذا کثیر العزۃ شاعر نے ایسے اسکی تعریف کی ہے:

تم حاکم بن گئے لیکن تم نے علی پر سبّ و شتم نہ کی اور تم ڈرے بھی نہیں، تم نیک انسان ہو اور تم نے مجرموں کی راہ کی پیروی نہیں کی اور تم نے جو کہا سچ کہا اور اس پر عمل کیا، پس ہر مسلمان اس کام سے راضی تھا۔

تاريخ مدينه دمشق ، ج50 ، ص96 .

ابو نعيم اصفہانی نے کتاب حلية الأولياء میں لکھا ہے کہ:

ثنا خالد بن يزيد عن جعونة قال كان لا يقوم أحد من بني أمية إلا سب عليا فلم يسبه عمر بن عبد العزيز فقال كثير عزة :

وليت فلم تشتم عليا ولم تخف بريا ولم تتبع سجية مجرم

حلية الأولياء ، ابو نعيم ، ج5 ، ص356 ، ط الثانيه ، دار الكتب العلمية ، بيروت ، 1423 هـ .

علی (ع) پر سبّ و شتم عمر ابن عبد العزیز کے زمانے تک جاری رہی:

محمد ابن سعد نے کتاب الطبقات الكبری اور ذہبی نے کتاب سير اعلام النبلاء میں لکھا ہے:

أخبرنا علي بن محمد عن لوط بن يحيى الغامدي قال كان الولاة من بني أمية قبل عمر بن عبد العزيز يشتمون عليا رحمه الله فلما ولي عمر أمسك عن ذلك .

عمر ابن عبد العزیز کے زمانے سے پہلے بنی امیہ کے حکمران علی پر سبّ و شتم کرتے تھے، جب عمر حاکم بنا تو اس نے یہ کام انجام نہیں دیا۔

الطبقات الكبري ، محمد بن سعد ، ج5 ، ص393 و سير اعلام النبلاء ، ج5 ، ص147 .

اور ذہبی نے بھی بنی مروان کے حکمرانوں کے بارے میں لکھا ہے:

في آل مروان نصب ظاهر سوى عمر بن عبد العزيز ... .

عمر ابن عبد العزیز کے علاوہ آل مروان علی کے دشمن تھے۔

سير اعلام النبلاء ، ج 5 ، ص113 .

كان خلفاء بني أمية يسبون علياً رضي الله عنه من سنة إِحدى وأربعين وهي السنة التي خلع الحسن فيها نفسه من الخلافة إلى أول سنة تسع وتسعين آخر أيام سليمان بن عبد الملك فلما ولي عمر أبطل ذلك وكتب إِلى نوابه بإبطاله ... .

خلفائے بنی امیہ سن 41 ہجری سے، کہ اس سال حسن ابن علی (ع) خلافت سے عزل ہوئے تھے، سن 99 ہجری تک، کہ سلیمان ابن عبد الملک کی حکومت کے آخری ایام اور عمر ابن عبد العزیز کی حکومت کے آغاز تک، علی پر سبّ و لعن کیا کرتے تھے۔

تاريخ أبي الفداء ، فصل في ذكر إبطال عمر بن عبد العزيز سب علي بن أبي طالب علي المنابر ، ج1 ،‌ ص287 .

آلوسی مفسر مشہور اہل سنت نے آيت «إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ ... » سورہ نحل آیت 90، کی تفسیر میں لکھا ہے:

أقامها عمر بن عبد العزيز حين آلت الخلافة إليه مقام ما كانو بنو أمية غضب الله تعالى عليهم يجعلونه في أواخر خطبهم من سب علي كرم الله تعالى وجهه ولعن كل من بغضه وسبه وكان ذلك من أعظم مآثره رضي الله تعالى عنه .

عمر ابن عبد العزیز جب خلیفہ بنا تو اس نے احسان و نیکی کو علی پر سبّ و لعن کی جگہ قرار دیا اور زندہ کیا، بنی امیہ کہ خداوند کا غضب ان پر نازل ہو، عمر ابن عبد العزیز کے زمانے تک نماز جمعہ کے خطبوں کے آخر میں علی پر سبّ و لعن کیا کرتے تھے کہ یہ کام عمر ابن عبد العزیز کے لیے ایک افتخار شمار ہوتا ہے۔

روح المعاني في تفسير القرآن العظيم والسبع المثاني ، آلوسي ، ج7 ، ص456 ، ط الأولي ، دار الكتب العلمية ، بيروت ، 1422 هـ .

ابن خلدون نے اپنی تاريخ کی کتاب میں واضح کہا ہے کہ:

وكان بنو أمية يسبون عليا فكتب عمر إلى الآفاق بترك ذلك .

بنی امیہ علی کو گالیاں دیا کرتے تھے، یہاں تک کہ عمر ابن عبد العزیز نے تمام ممالک کو خط لکھا اور اس کام کے ترک کرنے کا حکم دیا۔

تاريخ ابن خلدون ، ج3 ، ص75 .

شيخ محمد ابن علی المعروف ابن العمرانی نے کتاب الإنباء في تاريخ الخلفاء میں لکھا ہے:

وكان بني امية كلهم يلعنون عليا ـ صلوات الله عليه وسلامه ـ علي المنبر ، فمذ ولي عمر بن عبد العزيز قطع تلك اللعنة .

تمام کے تمام بنی امیہ منبروں پر سر عام علی پر لعنت کیا کرتے تھے، جب عمر ابن عبد العزیز کو حکومت ملی تو اس نے اس کام کے ترک کرنے کا حکم دیا۔

الإنباء في تاريخ الخلفاء ، ابن العمراني ، ص51 ، ط الأولي ، دار الآفاق العربية ، مصر ، 1419 هـ .

شہاب الدين احمد ابن عبد الوہاب نويری نے کتاب نهاية الأرب في فنون الأدب میں بيعت عمر ابن عبد العزيز کی فصل میں لکھا ہے کہ:

وكان من أول ما ابتدأ به عمر بن عبد العزيز أن ترك سب علي بن أبي طالب رضي الله عنه على المنابر، وكان يسب في أيام بني أمية إلى أن ولي عمر فترك ذلك .

پہلا کام کہ جو عمر ابن عبد العزیز نے انجام دیا، یہ تھا کہ اس نے منبروں پر علی ابن ابی طالب پر ہونے والی سبّ و شتم کو ختم کروایا، بنی امیہ کے زمانے میں علی کو گالیاں دی جاتی تھیں، مگر جب عمر ابن عبد العزیز خلیفہ بنا تو اس نے اس کام کو ختم کروا دیا۔

نهاية الأرب في فنون الأدب ، النويري ، ج21 ، ص216 ، ط الأولي ، دار الكتب العلمية ، بيروت ، 1424 هـ .

حافظ جلال الدين سيوطی نے کتاب تاريخ الخلفاء کہا ہے:

كان بنو أمية يسبون علي بن أبي طالب في الخطبة فلما ولي عمر ابن عبد العزيز أبطله وكتب إلى نوابه بإبطاله .

بنی امیہ نماز کے خطبات میں علی ابن ابی طالب کو گالیاں دیا کرتے تھے، لیکن جب عمر ابن عبد العزیز کو خلافت ملی تو اس نے اس کام کے ترک کرنے کا حکم صادر کیا۔

تاريخ الخلفاء ، السيوطي ، ص194 ، ط الأولي ، مصر ، دار الفجر للتراث ، 1420 هـ .

ابن اثير نے تاريخ کی کتاب میں لکھا ہے:

كان بنو أمية يسبون أمير المؤمنين علي بن أبي طالب عليه السلام إلى أن ولي عمر بن عبد العزيز فترك ذلك وكتب إلى العمال في الآفاق بتركه .

بنی امیہ نماز کے خطبات میں علی ابن ابی طالب کو گالیاں دیا کرتے تھے، لیکن جب عمر ابن عبد العزیز کو خلافت ملی تو اس نے سرکاری سطح پر اس کام کے ترک کرنے کا حکم صادر کیا۔

الكامل في التاريخ ، حوادث سال 99 هـ ، ج5 ، ص42 .

خير الدين زركلی نے كتاب الأعلام میں عمر ابن عبد العزیز کے حالات میں لکھا ہے:

وولي الخلافة بعهد من سليمان سنة 99 ه‍ ، فبويع في مسجد دمشق . وسكن الناس في أيامه ، فمنع سب علي بن أبي طالب ( وكان من تقدمه من الأمويين يسبونه على المنابر ) .

عمر ابن عبد العزیز کو سلیمان کے بعد سن 99 ہجری میں خلافت ملی، لوگوں نے مسجد دمشق میں اسکی بیعت کی، لوگ اسکے دور خلافت میں آرام و سکون میں رہے، اس نے علی پر بنی امیہ کے حکمرانوں کی طرف سے ہونے والی سبّ و شتم کو منع کروایا۔

الأعلام ، خير الدين الزركلي ، ج 5 ، ص50 .

مغيرة ابن شعبۃ اور سبّ بر امير المؤمنين علی (ع)  :

خوارزمی مورخ اہل سنت نے کتاب مقتل الحسين (ع) میں لکھا ہے:

امام حسن (ع) اور معاویہ ایک محفل میں موجود تھے، بنی امیہ کے چاہنے والے بھی وہاں موجود تھے، وہ ایک ایک کر کے اٹھتے گئے اور علی کے بارے میں جو کچھ انکے منہ میں آیا کہتے چلے گئے، یہاں تک کہ مغیرۃ ابن شعبہ (لع) نے آخر میں کھڑے ہو کر ایسے کہا:

إن علياً ناصب رسول الله صلي الله عليه وسلم في حياته ، وأجلب عليه قبل موته وأراد قتله ، فعلم ذلك من أمره رسول الله ، ثم كره أن يبايع أبا بكر حتي أتي به قوداً ، ثم نازع عمر حتي همّ أن يضرب عنقه ، ثم طعن علي عثمان حتي قتله ، و قد جعل الله سلطاناً لولي المقتول في كتابه المنزل ، فمعاوية ولي المقتول بغير حق ، فلو قتلناك وأخاك كان من الحق ، فو الله ما دم ولد علي عندنا بخير من دم عثمان ، و ما كان الله ليجمع فيكم الملك مع النبوة .

علی (ع) نے رسول خدا (ص) سے انکی حیات میں دشمنی کی، اور اپنی موت سے پہلے رسول خدا کے قتل کرنے کا ارادہ بھی کیا تھا کہ رسول خدا بھی اس بات سے آکاہ ہو گئے تھے، رسول خدا کی وفات کے بعد اس (علی) نے ابوبکر کی بیعت نہ کی حتی اسکو زبردستی بیعت کرنے کے لیے لے کر آئے، اس نے عمر سے بھی دشمنی کی تھی اور نزدیک تھا کہ عمر اسکی گردن اڑا دے، اس نے عثمان کی غیبت کی یہاں تک کہ اسکو قتل کروا دیا، لیکن خدا نے قرآن میں ہر قتل ہونے والے کے لیے ولی (وارث) اور خون کا بدلہ لینے والا قرار دیا ہے اور معاویہ عثمان کا وارث تھا، پس اگر تم (امام حسن) اور تمہارے بھائی (امام حسین) کو قتل کر دیں تو یہ مناسب ہو گا، خدا کی قسم ہمارے نزدیک علی کے بیٹوں کا خون عثمان کے خون سے بہتر نہیں ہے، خداوند نے حکومت اور نبوت کو تم میں جمع نہیں کیا۔

مقتل الحسين ، ج1 ،‌ ص170 .

اور ابن خلدون نے اپنی تاريخ میں لکھا ہے:

كان المغيرة بن شعبة أيام امارته على الكوفة كثيرا ما يتعرض لعلى في مجالسه وخطبه ويترحم على عثمان ويدعو له .

مغیرۃ ابن شعبہ کوفہ پر اپنی حکومت کے دور میں اپنے خطبات اور محافل میں علی کو برا بھلا کہتا تھا اور عثمان کے لیے دعائے مغفرت کیا کرتا تھا۔

تاريخ ابن خلدون ، ص603 .

ذہبی نے کتاب سير اعلام النبلاء میں لکھا ہے:

كان المغيرة ينال في خطبته من علي ، وأقام خطباء ينالون منه .

مغیرۃ ابن شعبہ اپنے خطبات میں علی کو برا بھلا کہتا تھا اور اس نے اس کام لیے خطباء کو بھی مقرر کیا ہوا تھا۔

سر اعلام النبلاء ، ج3 ، ص31 .

آل مروان اور سبّ بر امير المؤمنين علی (ع) :

ابن عساكر نے کتاب تاريخ مدينہ دمشق اور احمد ابن حنبل نے کتاب العلل میں لکھا ہے:

عن ابن عون عن عمير بن إسحاق قال كان مروان بن الحكم أميرا علينا ست سنين فكان يسب عليا كل جمعة على المنبر ثم عزل فاستعمل سعيد بن العاص سنتين فكان لا يسبه ثم عزل وأعيد مروان فكان يسبه فقيل يا حسن ألا تسمع ما يقول هذا فجعل لا يرد شيئا قال وكان حسن يجئ يوم الجمعة فيدخل في حجرة النبي ( صلى الله عليه وسلم ) فيقعد فيها فإذا قضيت الخطبة خرج فصلى ثم رجع إلى أهله .

عمير ابن اسحاق کہتا ہے: مروان حکم نے 6 سال ہم پر حکومت کی اور ہر جمعے کو اپنے منبر پر علی کو گالیاں دیتا تھا، پھر اسکو عزل کر دیا گیا اور 2 سال کے لیے سعید ابن عاص کو حاکم بنایا گیا، لیکن یہ علی پر سبّ نہیں کرتا تھا، اسی وجہ سے اسکو عزل کر دیا گیا اور دوبارہ مروان ہم پر حاکم بن گیا اور علی پر سبّ کرنا دوبارہ شروع کر دیا، امام مجتبی سے کہا گیا کہ کیا آپ نہیں سنتے کہ وہ (مروان) کیا کیا کہتا ہے ؟ لیکن امام اس بات پر کوئی توجہ نہیں دیتے تھے، امام حسن جمعہ کو مسجد آتے تھے اور رسول خدا کے حجرے میں جا کر بیٹھ جاتے تھے، خطبہ جمعہ کے بعد باہر آ کر نماز پڑھتے اور گھر واپس چلے جاتے۔

تاريخ مدينه دمشق ، ج57 ، ص243

و العلل ، احمد بن حنبل ، ج3 ، ص176 .

سيوطی نے کتاب تاريخ الخلفاء میں لکھا ہے کہ:

عن عمير بن إسحاق قال: كان مروان أميراً علينا فكان يسب علياً كل جمعة على المنبر وحسن يسمع فلا يرد شيئاً ثم أرسل إليه رجلا يقول له بعلي وبعلي وبعلي وبك وبك وما وجدت مثلك إلا مثل البغلة يقال لها من أبوك؟ فتقول أمي الفرس فقال له الحسن: أرجع إليه فقل له إني والله لا أمحو عنك شيئاً مما قلت بأن أسبك ولكن موعدي وموعدك الله .

عمیر ابن اسحاق سے نقل ہوا ہے کہ اس نے کہا: مروان ہم پر امیر و حاکم تھا کہ جو ہر جمعے منبر پر علی کو گالیاں دیتا تھا، انکے بیٹے امام حسن سب سنتے تھے، لیکن کچھ بھی نہیں کہتے تھے، مروان نے کسی کو بھیجا تا کہ امام حسن کے سامنے خود امام اور انکے والد (علی) پر سبّ و شتم کرے، اس شخص نے کہا: مجھے تم گھوڑے اور خچر کی طرح لگتے ہو، اس سے پوچھا گیا تمہارا باپ کون ہے ؟ اس نے کہا: گھوڑا، امام مجتبی نے فرمایا: جاؤ اور جا کر مروان سے کہو میں تم کو کوئی جواب نہیں دوں گا اور تمہاری طرح گالی بھی نہیں دوں گا تا کہ اس سے تمہارا گناہ کم ہو، بلکہ میری اور تمہاری ملاقات خداوند کے حضور میں ہو گی۔

تاريخ الخلفاء ، ترجمه (حالات زندگی) امام حسن (ع) .

امير المؤمنين علی (ع) پر سبّ و شتم اور لکنت زبان:

ابن اثير اور بلاذری نے عبد الله ابن عبيد الله سے نقل کیا ہے:

وكان أبي إذا خطب فنال من علي رضي الله عنه تلجلج فقلت يا أبت إنك تمضي في خطبتك فإذا أتيت على ذكر علي عرفت منك تقصيرا ؟ قال : أو فطنت لذلك ؟ قلت : نعم . فقال يا بني إن الذين حولنا لو يعلمون من علي ما نعلم تفرقوا عنا إلى أولاده .

میرا باپ جب بھی خطبہ دیتا تھا اور چاہتا تھا کہ خطبے میں علی کو برا بھلا کہے تو اسکی زبان میں لکنت آ جاتی تھی، میں نے باپ سے پوچھا: جب تم خطبے میں علی کے بارے میں کوئی بات کرنا چاہتے ہو تو تمہاری آواز کی کیوں سمجھ نہیں آتی ؟ باپ نے جواب دیا: کیا تمہیں کچھ سجھ آئی ہے ؟ میں نے کہا: ہاں، باپ نے کہا:

بیٹا علی کے جو فضائل ہم جانتے ہیں، اگر انکا علم ان لوگوں کو ہو جائے تو یہ لوگ ہم سے دور ہو کر فرزندان علی کے نزدیک ہو جائیں گے۔

الكامل في التاريخ ، حوادث سال 100 هـ ، ج5 ، ص42 و انساب الأشراف ، ج8 ، ص195 .

علی (ع) پر مشرق اور مغرب کے منبروں سے لعنت کرتے تھے:

اہل سنت کے مشہور مؤرخ ياقوت حموی نے لکھا ہے کہ:

لعن علي بن أبي طالب ، رضي الله عنه ، على منابر الشرق والغرب ... منابر الحرمين مكة والمدينة .

علی پر مشرق و مغرب کے منبروں اور مکہ و مدینہ کے منبروں سے لعنت کی جاتی تھی۔

معجم البلدان ، ج3 ، ص191 .

علی پر ستّر (70) ہزار منبروں سے سبّ و شتم کی جاتی تھی:

اہل سنت کے معروف مفسر اور ادیب زمخشری نے لکھا ہے:

إنّه كان فى أيّام بنى اميّة أكثر من سبعين ألف منبر يلعن عليها علىّ بن أبى طالب بما سنّه لهم معاوية من ذلك.

بنی امیہ کے زمانے میں 70 ہزار سے زیادہ منبروں سے معاویہ کی قائم کردہ سنت کے مطابق علی پر لعنت کی جاتی تھی۔

ربيع الأبرار ، ج 2 ، ص186 و النصايح الكافية ، محمد بن عقيل ، ص79 به نقل از سيوطي .

بنی امیہ کی سبّ و شتم کرنے والی روایات کا متواتر ہونا:

شيخ محمود سعيد ابن ممدوح نے علی (ع) پر سبّ و شتم ہونے والے واقعات کے بارے میں روایات کو نقل کرنے کے بعد کہا ہے کہ:

الآثار في هذه الجريمة البشعة وأخبارها الشنيعة متواترة ، وهذه عظيمة تصغر عندها العظائم ، وجريمة تصغر عندها الجرائم وشنيعة تتلاشي أمام بشاعتها الشنائع .

اس گناہ و جرم پر دلالت کرنے والے شواہد اور دلائل بے شمار اور متواتر ہیں اور یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ ظلم و جرم اتنا عظیم و سنگین ہے کہ دوسرے مظالم اسکے سامنے جھوٹے اور نا چیز ہیں۔

غاية التبجيل ، محمود سعيد ، ص283 ، ط الأولي ، مكتبة الفقيه ، الإمارات ، 1425 هـ .

اہل بیت (ع) کی بد گوئی انکے دشمنان کا تقرب حاصل کرنے کے لیے کی جاتی تھی:

قال أخبرنا مالك بن إسماعيل قال حدثنا سهل بن شعيب النهمي وكان نازلا فيهم يؤمهم عن أبيه عن المنهال يعني بن عمرو قال دخلت على علي بن حسين فقلت كيف أصبحت أصلحك الله فقال ما كنت أرى شيخا من أهل المصر مثلك لا يدري كيف أصبحنا فأما إذ لم تدر أو تعلم فسأخبرك أصبحنا في قومنا بمنزلة بني إسرائيل في آل فرعون إذ كانوا يذبحون أبناءهم ويستحيون نساءهم وأصبح شيخنا وسيدنا يُتقرب إلى عدونا بشتمه أو سبه على المنابر .

منہال ابن عمرو کہتا ہے میں علی ابن الحسین (امام سجاد) کے پاس گیا اور ان سے عرض کیا: آپ کا کیا حال ہے، خداوند آپکے کاموں کو ٹھیک کرے، امام نے فرمایا: میرا خیال نہیں تھا کہ آپ جیسے اہل مصر کے بزرگ کو پتا نہ ہو کہ میرا کیا حال ہے، اب تم نے پوچھا ہے تو بتاتا ہوں:

ہماری حالت اپنی قوم کے درمیان ایسے ہی ہے کہ جیسے بنی اسرائیل کی حالت آل فرعون کے درمیان تھی، کہ انکے بیٹوں کو قتل کر دیتے اور انکی عورتوں کو زندہ رکھتے، اور ہمارے دشمنوں سے نزدیک ہونے کے لیے منبروں پر ہمارے بزرگ و سردار (علی ابن ابی طالب) پر سبّ و شتم کرتے ہیں۔

الطبقات الكبري ، محمد بن سعد ، ج 5 ، ص220

و تهذيب الكمال ، مزي ، ج 20 ، ص400 ترجمه امام علي بن الحسين

و المنتخب من ذيل المذيل ، محمد بن جرير طبري ، ص120 .

امیر المؤمنین علی (ع) کے فضائل کو نقل کرنا اور ان پر سبّ و شتم کرنا، یہ ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے:

امام محمد ابن ابراہيم الوزير اليمانی بعض راویوں اور محدثین کے فضائل نقل کرتے وقت لکھتا ہے:

روايتهم لفضائل علي عليه السلام وفضائل أهل البيت في أيام بني امية وهو عليه السلام ـ حاشا مع ذلك ـ يُلعنُ علي المنابر ولا يروي فضائله إلا من خاطر بروحه .

بنی امیہ کی حکومت میں علی اور اہل بیت کے فضائل کو نقل کرنا، ایک غیر ممکن اور متضاد کام تھا، کیونکہ بنی امیہ ان پر منبروں سے لعنت کرتے تھے اور فضائل کا نقل کرنا اور سبّ و لعن آپس میں ایک جگہ اکٹھے نہیں ہو سکتے۔

العواصم والقواسم في الذب عن سنة أبي القاسم ، ابن الوزير ، ج2 ،‌ ص400 ، ط الثالثة ، مؤسسه الرسالة ، بيروت ، 1415 هـ .

بني اميہ لعنت و نفرین کے زیادہ مستحق ہیں:

ڈاکٹر فرحان المالكی نے کہا ہے:

فبنو أمية اذن يستحقون الذم لأنهم لم يغسموا ألسنتهم في البحث فقط ، وإنما تجاوزوا ذلك إلي اللعن علي المنابر وسفك الدماء ، و فرضوا هذا الظلم علي الأمة حتي جاءت الأجيال تعتقد أنهم مأجورون علي هذا !

پس اسی وجہ سے بنی امیہ مذمت کے مستحق ہیں، کیونکہ انھوں نے علی کو برا بھلا کہنے پر اکتفاء نہیں کیا، بلکہ منبروں سے علی پر لعنت کی اور اہل بیت کا خون بہایا اور انھوں نے اہل بیت پر اس ظلم کے کرنے کو تمام امت پر لازم قرار دے دیا تھا، یہاں تک کہ آنے والی نسلیں سمجھتی تھیں کہ انکو اس کام کرنے کا اجر و ثواب ملتا ہے۔

مع سليمان العلوان في معاوية ، ص35 .

بنی امیہ کی حکومت کا امیر المؤمنین علی (ع) پر سبّ و شتم کرنے پر استوار و قائم ہونا:

ابن عساكر نے امام سجاد (ع) سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے:

قال مروان بن الحكم ما كان في القوم أحد أدفع عن صاحبنا من صاحبكم يعني عليا عن عثمان قال قلت فما لكم تسبونه على المنبر قال لا يستقيم الأمر إلا بذلك.

مروان ابن حکم نے مجھ سے کہا کہ لوگوں میں کوئی ایسا نہ تھا کہ جو عثمان کا بھی علی کی طرح دفاع و حمایت کرتا، میں نے کہا: تم کیوں اسکو منبروں سے گالیاں دیتے ہو ؟ اس نے کہا:

 اس کام کے بغیر ہماری حکومت محکم و باقی نہیں رہ سکتی۔

تاريخ مدينة دمشق ، ج42 ، ص 438

و الصواعق المحرقة ، ابن حجر هيثمي ، ص 33

و النصائح الكافية ، محمد بن عقيل ، ص 114 از دار قطني

و شرح نهج البلاغة ، ج13 ، ص220 .

بلاذری نے لکھا ہے:

قال مروان لعلي بن الحسين : ما كان أحد أكف عن صاحبنا من صاحبكم . قال : فلم تشتمونه على المنابر ؟ ! ! قال : لا يستقيم لنا هذا إلا بهذا ! ! .

مروان نے علی ابن الحسین سے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کام کے بغیر ہماری حکومت محکم و باقی نہیں رہ سکتی۔

أنساب الأشراف ، ص 184.

تحريف روايت منزلت :

خطيب بغدادی نے کتاب تاريخ بغداد میں لکھا ہے:

قال إسماعيل بن عياش: رافقت حريزا من مصر الى مكة فجعل يسب عليا ويلعنه، وقال لي: هذا الذي يرويه الناس ان النبي (ص) قال لعلي: «انت مني بمنزلة هارون من موسى» حق، ولكن اخطا السامع.

قلت: فما هو ؟ قال: إنّما هو: «أنت مني‏بمكان قارون من موسى»، قلت: عمّن ترويه؟ قال: سمعت الوليد بن عبد الملك يقوله على المنبر.

اسماعيل ابن عياش نے کہا: میں مصر سے مکہ تک حریز کا ہمسفر تھا، وہ راستے میں علی کو گالیاں دیتا اور ان پر لعنت کرتا رہا اور اس نے مجھے کہا: یہ روایت کہ جو تم لوگوں کے لیے نقل کرتے ہو کہ رسول خدا نے علی سے فرمایا: تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسی سے تھی، اسکی سند صحیح ہے لیکن راوی نے سننے میں غلطی کی ہے !!!

اسماعیل کہتا ہے میں نے کہا پھر صحیح کیا ہے ؟ حریز نے کہا: پیغمبر نے فرمایا تھا: تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہے جو قارون کو موسی سے تھی !!! اسماعیل نے کہا: تم اسکو کس سے نقل کر رہے ہو ؟ حریز نے کہا: میں نے اسکو ولید ابن عبد الملک سے سنا ہے کہ وہ اسے منبر سے بیان کر رہا تھا !!!

تاريخ بغداد ، ج8 ، ص262

و تاريخ مدينة دمشق ، ج12 ،‌ص349

و تهذيب الكمال ، مزي ، ج5 ، ص577

و تهذيب التهذيب ، ابن حجر ، ج2 ، ص209

و تاريخ الإسلام ، ذهبي ، ج10 ، ص 122

و ميزان الاعتدال ، ذهبي ، ج3 ، ص389 شماره : 6894.

امير المؤمنين علی (ع) پر خیانت کی تہمت:

سمہودی نے کتاب وفاء الوفاء میں لکھا ہے کہ:

حدثنا هارون ابن عبد الملك بن الماجشون أن خالد بن الوليد بن الحارث بن الحكم بن العاص وهو ابن مطيرة قام على منبر رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يوم الجمعة فقال : لقد استعمل رسول الله على ابن ابى طالب رضى الله تعالى عنه وهو يعلم أنه خائن ، ولكن شفعت له ابنته فاطمة رضى الله عنها .

وداود بن قيس في الروضة فقال : أس أي يسكته .

قال : فمزّق الناس قميصا كان عليه شقائق حتى وتروه وأجلسوه وحذراً عليه منه، وقال رأيت كفاً خرجت من القبر قبر رسول اللّه صلّى اللّه عليه وآله وهو يقول: كذبت يا عدوّ اللّه كذبت يا كافر، مراراً.

حارث ابن حكم ابن عاص ( فرزند مطیرة) نے روز جمعہ رسول خدا کے منبر پر کھڑے ہو کر کہا: رسول خدا نے علی ابن ابی طالب کو کام کرنے کا عہدہ دیا حالانکہ وہ جانتے تھے کہ وہ خیانت کرنے والا ہے، (نعوذ باللہ) لیکن انکی بیٹی فاطمہ نے اسکی سفارش کی تھی۔

داود ابن قیس بھی مسجد نبوی میں تھا، اس نے اشارہ کیا کہ چپ ہو جاؤ،

لوگوں نے اس (خالد ابن ولید) کے کپڑے پھاڑ کر اسے عریان کر کے بٹھا دیا، اتنے میں رسول خدا کی قبر سے ایک ہاتھ باہر آیا اور اس نے کئی مرتبہ کہا:

 اے دشمن خدا تم جھوٹ بول رہے ہو، اے کافر تم جھوٹ بول رہے ہو۔

وفاء الوفاء بأخبار دار المصطفى ، ج4 ، ص 356

و ينابيع المودة ،‌ ج2 ،‌ ص372 ، به نقل از أبي الحسن يحيى در كتاب أخبار المدينة .

امير المؤمنين علی (ع) پر مرتد ہونے کی تہمت:

ابن ابی الحديد شافعی نے کتاب شرح نہج البلاغه ، ج4 ، ص  63 میں اپنے استاد ابو جعفر اسکافی سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے:

أن معاوية وضع قوما من الصحابة وقوما من التابعين على رواية أخبار قبيحة في علي عليه السلام ، تقتضي الطعن فيه والبراءة منه ، وجعل لهم على ذلك جعلا يرغب في مثله ، فاختلقوا ما أرضاه ، منهم أبو هريرة وعمرو بن العاص والمغيرة بن شعبة ، ومن التابعين عروة بن الزبير .

معاویہ نے بعض صحابہ اور تابعین کو مقرر کیا ہوا تھا کہ علی سے بیزاری کا اظہار کرنے اور انکے عیوب کے بارے میں روایات اور احادیث کو جعل کریں اور وہ انکو اس کام کے لیے تنخواہ بھی دیتا تھا، ان اصحاب میں سے ابو ہريره ، عمرو عاص ،‌ مغيرة ابن شعبہ تھے اور تابعین میں سے عروة بن زبير تھا۔

پھر اس نے لکھا ہے کہ:

روى الزهري أن عروة بن الزبير حدثه ، قال : حدثتني عائشة قالت : كنت عند رسول الله إذ أقبل العباس وعلى ، فقال : يا عائشة ، إن هذين يموتان على غير ملتي أو قال ديني .

زہری نے روایت کی ہے کہ عروہ ابن زبیر نے اسکے لیے نقل کیا ہے کہ عائشہ نے مجھ سے کہا: میں رسول خدا کے پاس تھی کہ اسی وقت عباس اور علی بھی وہاں آ گئے، رسول خدا نے فرمایا: اے عائشہ ! یہ دونوں اس حالت میں دنیا سے جائیں گے کہ یہ میرے دین پر نہیں ہوں گے، (یعنی مسلمان دنیا سے نہیں جائیں گے)۔

عباس اور علی (ع) اہل جہنم ہیں:

ابن ابی الحديد شافعی نے لکھا ہے:

وروى عبد الرزاق عن معمر ، قال : كان عند الزهري حديثان عن عروة عن عائشة في علي عليه السلام ، فسألته عنهما يوما ، فقال : ما تصنع بهما وبحديثهما ! الله أعلم بهما ، إني لأتهمهما في بني هاشم . قال : فأما الحديث الأول ، فقد ذكرناه ، وأما الحديث الثاني فهو أن عروة زعم أن عائشة حدثته ، قالت : كنت عند النبي صلى الله عليه وسلم إذ أقبل العباس وعلى ، فقال : ( يا عائشة ، إن سرك أن تنظري إلى رجلين من أهل النار فانظري إلى هذين قد طلعا ) ، فنظرت ، فإذا العباس وعلي بن أبي طالب .

عبد الرزاق نے معمر سے نقل کیا ہے: زہری کے پاس علی کے بارے میں عروہ اور عائشہ کی نقل کردہ دو حدیث تھیں، لہذا میں نے اس سے ان دو حدیث کے بارے میں سوال کیا تو اس نے کہا: میں نے ان دو حدیث اور اسکے راویوں کے ساتھ کیا کروں، خداوند ان دونوں کو بہتر جاننے والا ہے، میں ان دونوں کے رابطے کو بنی ہاشم کے ساتھ اچھی طرح نہیں جانتا۔

حدیث اول کہ جو پہلے گزر چکی ہے، حدیث دوم یہ ہے کہ: عروہ کہتا ہے: میں نے عائشہ کو کہتے ہوئے سنا کہ: میں رسول خدا کے پاس تھی تو انھوں نے مجھ سے فرمایا: اے عائشہ ! اگر تم چاہتی ہو کہ دو اہل جہنم کو دیکھو تو ان دونوں کو دیکھو، عائشہ کہتی ہے میں نے دیکھا تو وہاں پر عباس اور علی تھے۔

علی (ع) مدینہ میں حوادث و مشکلات کا باعث ہے:

ابن ابی الحديد نے اپنے استاد ابو جعفر اسكافی سے نقل کیا ہے:

لما قدم أبو هريرة العراق مع معاوية عام الجماعة ، جاء إلى مسجد الكوفة ، فلما رأى كثرة من استقبله من الناس جثا على ركبتيه ، ثم ضرب صلعته مرارا ، وقال : يا أهل العراق ، أتزعمون أنى أكذب على الله وعلى رسوله ، وأحرق نفسي بالنار ! والله لقد سمعت رسول الله صلى الله عليه وآله يقول : ( إن لكل نبي حرما ، وإن حرمي بالمدينة ، ما بين عير إلى ثور ، فمن أحدث فيها حدثا فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين ) ، وأشهد بالله أن عليا أحدث فيها : فلما بلغ معاوية قوله أجازه وأكرمه وولاه إمارة المدينة .

ابوہریرہ جب قحطی والے سال معاویہ کے ساتھ عراق آیا تو وہ مسجد کوفہ میں گیا اور جب اس نے دیکھا کہ بہت سے لوگوں نے اسکا مسجد میں استقبال کیا ہے تو وہ دو زانو ہو کر بیٹھ گیا اور کہا: اے اہل عراق کیا تم گمان کرتے ہو کہ میں خدا اور رسول کی طرف جھوٹ کی نسبت دیتا ہوں اور اپنے آپکو جہنم کی آگ میں جلاتا ہوں تو خدا کی قسم میں نے رسول خدا کو فرماتے ہوئے سنا تھا کہ: ہر پیغمبر کا حرم ہوتا ہے اور میرا حرم مدینہ ہے، عیر سے لے کر ثور تک کا علاقہ، پس جو بھی وہاں پر کسی بھی حادثے کا سبب بنے تو اس پر خداوند، ملائکہ اور تمام انسانوں کی لعنت ہو گی اور میں خدا کو گواہ بناتا ہوں کہ علی مدینے میں حادثے کا سبب بنا ہے !!!

جب یہ خبر معاویہ کو ملی تو اس نے اسے (ابوہریرہ) بہت انعام و اکرام عطا کیا اور اسے مدینہ کا حاکم بنا دیا۔

شرح نهج البلاغه ، ج4 ، ص67 .

امیر المؤمنین علی (ع) کی مذمت میں حدیث گھڑنے کا چار لاکھ درہم انعام:

ابن ابی الحديد نے اپنے استاد ابو جعفر اسكافی سے نقل کیا ہے:

أن معاوية بذل لسمرة بن جندب مائة ألف درهم حتى يروي أن هذه الآية نزلت في علي ( ع ) ( ومن الناس من يعجبك قوله في الحياة الدنيا ويشهد الله عليما في قلبه وهو ألد الخصام . وإذا تولى سعى في الارض ليفسد فيها ويهلك الحرث والنسل والله لا يحب الفساد ) . وأن الآية الثانية نزلت في ابن ملجم وهي قوله تعالى : ( ومن الناس من يشري نفسه ابتغاء مرضاة الله ) فلم يقبل ، فبذل له مائتي ألف درهم ، فلم يقبل ، فبذل له أربعمائة ألف درهم فقبل .

إستجاب لمعاوية جمع من الصحابة والتابعين ، فأصابوا من دنيا معاوية العريضة . وخالفه آخرون ، فأصابهم التشريد والتقتيل ، ووقعت بين الطرفين معارك ضارية كانت نتائجها آلاف الاحاديث الموضوعة التي ورثناها اليوم من جانب ، ومن جانب آخر آلاف الضحايا البريئة من خيار المسلمين . وكان سمرة هذا ممن امتثل أوامر معاوية ، فأصاب الامرة في البصرة فأسرف في قتل من خالفه ،

معاویہ نے سمرۃ ابن جندب کو ایک لاکھ درہم دئیے تا کہ وہ حدیث جعل کرے کہ یہ آیت « ومن الناس من یعجبک قوله ...» علی کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور یہ آیت « ومن الناس من یشری نفسه ...» ابن ملجم کے بارے میں نازل ہوئی ہے، لیکن سمرۃ نے معاویہ کی بات قبول نہ کی، پس معاویہ نے اسے مزید چار لاکھ درہم دئیے تو وہ راضی ہو گیا۔

بعض مہاجرین اور انصار نے معاویہ کی درخواست کا مثبت جواب دیا اور معاویہ کی دنیا سے بہت سے فوائد حاصل کیے، لیکن بعض نے اسکے ساتھ مخالفت کی کہ جسکی وجہ سے وہ جلا وطن اور قتل کر دئیے گئے، اور دو گروہوں کے درمیان سخت مقابلہ ہوا کہ جسکے نتیجے میں ایک طرف سے ہزاروں جعلی احادیث بنائی گئیں کہ جو ہمیں وراثت میں ملی ہیں تو دوسری طرف سے ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کا خون بہایا گیا، یہ سمرہ ان میں سے تھا کہ جس نے معاویہ کی اطاعت کی اور بصرہ کا حاکم بن گیا اور اس نے بھی اپنے مخالفین کا بہت خون بہایا تھا۔

شرح نهج البلاغه ،‌ ج4 ، ص 73 .

آيت «تولي كبره» کا علی (ع) کی مذمت میں نازل ہونا:

عن الزهري قال كنت عند الوليد بن عبدالملك فتلا هذه الآية والذي تولى كبره منهم له عذاب عظيم قال نزلت في علي بن أبي طالب كرم الله وجهه قال الزهري أصلح الله الأمير ليس كذا أخبرني عروة عن عائشة رضي الله تعالى عنها قال وكيف أخبرك قال أخبرني عروة عن عائشة رضي الله تعالى عنها أنها نزلت في عبدالله بن أبي سلول المنافق .

زہری سے روایت ہوئی ہے کہ: میں ولید ابن عبد الملک کے پاس تھا، اس نے یہ آیت پڑھی  « والذی تولی کبره منهم له عذاب عظیم » اور کہا: یہ آیت علی کے بارے میں نازل ہوئی ہے، زہری نے کہا: خداوند امیر کی مشکل کو حل فرمائے، نہیں اہیسا نہیں ہے۔ عروہ نے اس بارے میں میرے لیے روایت نقل کی ہے۔

حلية الأولياء ، ابونعيم اصفهاني ، ترجمه زهري ، ج3 ، ص369 .

علی نام والے ہر بچے کو قتل کر دیا جاتا تھا:

امیر المؤمنین علی سے کینہ اور دشمنی اے حد تک پہنچ گئی تھی کہ معاشرے میں کسی کام بھی علی نام رکھنا ممنوع ہو چکا تھا اور جسکا بھی نام علی ہوتا تھا، اسے قتل کر دیا جاتا تھا۔

وقال سلمة بن شبيب سمعت أبا عبد الرحمن المقرئ يقول كانت بنو أمية إذا سمعوا بمولود اسمه علي قتلوه فبلغ ذلك رباحا فقال هو علي وكان يغضب من علي ويجرح على من سماه به .

بنی امیہ جب بھی سنتے تھے کہ کسی بچے کا نام علی ہے تو اسے قتل کر دیتے تھے، یہ خبر رباح کو ملی کہ اسکا نام علی تھا، لیکن اسکو یہ نام اچھا نہیں لگتا تھا اور جو بھی اسکو اسکے نام علی سے پکارتا تھا، وہ اسے زخمی کر دیتا تھا۔

تهذيب الكمال ، ج20 ،‌ص 429 ، ترجمة علي بن رباح و سير أعلام النبلاء ، ج5 ، ص102 و ج7 ، ص412 .

حالت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ جسکا نام بھی علی ہوتا تھا، اسے اپنے اس نام سے شرم محسوس ہوتی تھی، ابن حجر عسقلانی نے کتاب لسان الميزان میں لکھا ہے:

علي بن الجهم السلمي: ... مشهوراً بالنصب كثيراً الحط على علي وأهل البيت وقيل أنه كان يلعن أباه لم سماه علياً .

علی ابن جہم سلمی: ۔۔۔۔۔ یہ اہل بیت کے ساتھ دشمنی کرنے میں مشہور تھا، یہ علی اور اہل بیت پر بہت اعتراض کیا کرتا تھا، اور وہ اپنا علی رکھنے کی وجہ سے اپنے باپ پر لعنت کیا کرتا تھا۔

لسان الميزان ، ج4 ، ص 210 .

تمام شہروں میں شیعیان کو قتل اور قید کرنا:

ابن ابی الحديد شافعی نے کتاب شرح نہج البلاغہ میں لکھا ہے:

أنّ أبا جعفر محمد بن على الباقر عليه السلام قال لبعض أصحابه: يا فلان! ما لقينا من ظلم قريش إيّانا وتظاهرهم علينا، وما لقي شيعتنا ومحبّونا من الناس ... فقتلت شيعتنا بكلّ بلدة، وقطعت الأيدى والأرجل على الظنّة، وكان من يذكر بحبّنا والانقطاع إلينا، سُجن، أو نُهب ماله، أو هُدمت داره.

ابو جعفر محمد ابن علی باقر (ع) نے اپنے ایک صحابی سے فرمایا: اے فلاں ! ہم نے اپنے پر قریش کے مظالم اور دشمنی سے کیا کیا نہیں دیکھا ! ہمارے شیعوں اور ہمارے چاہنے والوں نے بھی کیا کیا مصائب دیکھے ہیں ! ہمارے شیعوں کو انھوں نے ہر شہر میں قتل کیا اور انکے ہاتھ پاؤں کو شیعہ ہونے کی وجہ سے کاٹ دیا اور جو بھی ہم سے محبت کرنے اور ہم سے رابطہ رکھنے میں مشہور تھا، اسکو انھوں نے زندان میں ڈال دیا اور یا انکے مال کو لوٹ لیا جاتا اور یا انکے گھر کو گرا دیا جاتا۔

نهج شرح البلاغه ، ج11 ، ص43 .

ابن ابی الحدید نے مزید لکھا ہے:

كتب معاوية نسخة واحدة الى عماله بعد عام المجاعة أن برئت الذمة ممن روى شيئا من فضل ابى تراب واهل بيته فقامت الخطباء في كل كورة وعلى كل منبر يلعنون عليا ويبرءون منه ويقعون فيه وفي أهل بيته وكان أشدّ الناس بلاء حينئذ أهل الكوفة؛ لكثرة من بها من شيعة على عليه السلام، فاستعمل عليهم زياد بن سميّة وضمّ إليه البصرة فكان يتتبّع الشيعة وهو بهم عارف لأنّه كان منهم أيّام على عليه السلام، فقتلهم تحت كلّ حجر ومدر، وأخافهم، وقطع الأيدى والأرجل، وسمل العيون، وصلبهم على جذوع النخل وطرفهم وشرّدهم عن العراق، فلم يبق بها معروف منهم.

معاویہ نے قحط والے سال کے بعد اپنے ایک والی کو خط لکھا کہ جو بھی ابو تراب اور اسکے خاندان کے فضائل میں سے کوئی فضیلت نقل کرے تو اسکے مال و جان کی کوئی ذمہ داری تم پر نہیں ہے، خطباء ہر علاقے میں اور ہر منبر پر علی پر لعنت کیا کرتے تھے اور اس سے بیزاری کا اعلان کرتے تھے اور اسکو اور اسکے اہل بیت کو گالیاں دیتے تھے، سب سے بری حالت شہر کوفہ کے شیعوں کی تھی، کیونکہ اس شہر میں شیعیان علی بہت زیادہ تھے، پس معاویہ نے زیاد ابن سمیہ کو بصرہ کے ساتھ ساتھ شہر کوفہ کا بھی حاکم بنا دیا، وہ شیعوں کے پیچھے پڑ گیا، وہ شیعوں کو جانتا تھا کیونکہ وہ علی کی خلافت کے زمانے میں، ان حضرت کا چاہنے والا تھا، اس نے شیعوں کو چن چن کر قتل کرنا شروع کر دیا اور انکے ہاتھ پاؤں کو کاٹ کر انکی آنکھیں نکال دیتا، وہ شیعوں کو کھجور کے تنوں پر پھانسی چڑھا دیتا، یا انکو عراق سے باہر نکال دیتا، یہاں تک کہ کوئی بھی مشہور و معروف شیعہ عراق میں باقی نہیں بچا تھا۔

شرح نهج البلاغة ، ج11 ، ص 44

النصايح الكافية ، محمد بن عقيل ، ص 72 .

امیر المؤمنین علی (ع) کو سبّ و شتم نہ کرنے والوں کی سزا:

بنی امیہ کے دور میں نہ صرف وہ خود امیر المؤمنین علی پر منبروں پر اور نماز جمعہ کے خطبات میں لعنت کرتے، بلکہ اگر کوئی اس بارے میں انکی بات نہ مانتا اور علی پر سبّ و شتم نہ کرتا تو وہ لوگ اسے اذیت و آزار دیتے تھے، یہاں تک کہ بہت سے افراد کو انھوں نے قتل کر دیا تھا۔

 امیر المؤمنین علی (ع) کے فضائل نقل کرنے کی وجہ سے نسائی کو قتل کرنا:

نسائی اہل سنت کا بہت ہی مشہور عالم اور محدث ہے، اسکی کتاب سنن نسائی صحاح ستہ میں سے ایک کتاب ہے، مزی نے اسکے حالات کے بارے میں لکھا ہے کہ:

أحد الأئمّة المبرزين والحفّاظ المتقنين والأعلام المشهورين.

تهذيب الكمال ، ج1 ، ص329 .

ابن كثير نے اسکے بارے میں کہا ہے:

الإمام في عصره ، والمقدم على أضرابه وأشكاله وفضلاء دهره ، رحل إلى الآفاق.

البداية والنهاية ، ج11 ، ص123 .

اس نسائی کی ایک کتاب ہے، خصائص امير المؤمنين علی ابن ابی طالب (ع) کہ جس کتاب میں اس نے فضائل علی کو نقل کیا ہے، اس نے اس کتاب کے لکھنے کا سبب بیان کیا ہے کہ جب میں دمشق گیا تو میں نے دیکھا کہ وہاں کے لوگ علی سے شدید نفرت کرتے ہیں اور ان حضرت کو برا بھلا بھی کہتے ہیں تو میں نے اس کتاب کو لکھنا شروع کر دیا، جیسے ابن کثیر سلفی نے لکھا ہے:

وأنه إنما صنف الخصائص في فضل علي وأهل البيت ، لأنه رأى أهل دمشق حين قدمها في سنة ثنتين وثلاثمائة عندهم نفرة من علي .

اس نے کتاب خصائص کو علی اور اہل بیت کی فضیلت میں لکھا ہے، کیونکہ اس نے سن 302 ہجری میں دیکھا تھا کہ اہل دمشق علی سے نفرت کرتے ہی‍‍‍‍‍ں۔

البداية‌ والنهاية ، ج11 ، ص141 .

دمشق کے لوگ معاویہ کی شروع کردہ سنت (بدعت) کے مطابق امیر المؤمنین علی پر سبّ و شتم کرنے کے عادی ہو چکے اور انھوں نے اسی نفرت و کینے کی حالت میں پرورش پائی تھی، اسی وجہ سے انکے لیے برادشت کرنا بہت سخت تھا کہ کوئی اسی علی کے فضائل کے بارے میں کتاب لکھے کہ اس کتاب میں معاویہ کی کوئی فضیلت ذکر نہ ہوئی ہو۔ اسی لیے انھوں نے نسائی سے چاہا کہ معاویہ کے فضائل کے بارے میں بھی ایک کتاب لکھے، لیکن جب انھوں نے دیکھا کہ نسائی کسی بھی طریقے سے اس کام پر راضی نہیں ہو رہا تو انھوں نے اسکو اتنا مارا کہ وہ جان سے مر گیا۔

علامہ ابن جوزی اور اہل سنت کے بہت سے بزرگان نے نسائی کے قتل ہونے کے سبب کے بارے میں کہا ہے:

إنّ النسائي خرج من مصر في آخر عمره إلى دمشق ، فسئل بها عن معاوية وما جاء في فضائله ! فقال : لا يرضى رأسا برأس حتى يفضل ! فما زالوا يدفعون في خصيتيه حتى أخرج من المسجد وحمل إلى الرملة أو مكة فتوفي بها .

نسائی اپنی زندگی کے آخری ایام میں مصر سے دمشق گیا، وہاں اس سے معاویہ اور اسکے فضائل کے بارے میں سوال کیا گیا تو اس نے کہا: کیا تم لوگ اس پر راضی نہیں ہو کہ تم نے اس (معاویہ) کو علی کے برابر لا کھڑا کیا ہے، اب تم لوگ اسکو علی پر برتری اور فضیلت بھی دینا چاہتے ہو ؟ ! یہ سن کر ان لوگوں نے اسے اتنا مارا کہ مارتے مارتے اسے مسجد سے باہر لے آئے اور اسے رملہ یا مکہ لے گئے اور وہ وہاں پر دنیا سے رخصت ہو گیا۔

المنتظم ، ج6 ، ص131

و تذكرة الحفاظ ، ذهبي ، ج2 ، ص700 و

سير أعلام النبلاء ، ذهبي ، ج14 ، ص132

و تهذيب الكمال ، مزي ، ج 1 ، ص132 و ... .

ابن كثير نے بھی کہا ہے:

ودخل دمشق فسأله أهلها أن يحدّثهم بشئ من فضائل معاوية ، فقال : أما يكفي معاوية أن يذهب رأسا برأس حتى يروى له فضائل ! فقاموا إليه فجعلوا يطعنون في خصيتيه حتى أخرج من المسجد .

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

البداية والنهاية ، ابن كثير ، ج11 ، ص 140 .

صحابہ کی مدح کے واجب ہونے کے نہ ماننے پر ظہیر الدین اردبیلی کی گردن کا کاٹا جانا:

ابن عماد حنبلی نے کتاب شذرات الذهب میں لکھا ہے:

ظهير الدين الأردبيلي الحنفي الشهير بالقاضي زاده ... كان عالماً كاملاً صاحب محاورة ووقار وهيبة وفصاحت و كانت له معرفة بالعلوم خصوصاً الأنشاء والشعر و كان يكتب الخط الحسن ... قال أن مدح الصحابة علي المنبر ليس بفرض ولا يخل بالخطبة فقبض عليه مع أحمد باشا الوزير يوم الخميس عشري ربيع الثاني و قطع (قطعت) رأس صاحب الترجمة [ظهير الدين ] وعلق (علقت) علي باب زويلة بالقاهرة .

ظہیر الدین اردبیلی حنفی المعروف قاضی زاده کہ وہ عالم کامل، صاحب کلام، با ہیبت و وقار اور فصیح و بلیغ انسان تھا۔۔۔۔۔۔

اس نے کہا جمعہ کے دن منبر پر صحابہ کی مدح و تعریف کرنا واجب نہیں ہے اور انکی مدح نہ کرنے سے خطبے کو بھی کوئی نقصان نہیں ہوتا، (یعنی خطبہ پھر بھی مکمل ہوتا ہے)، پس انھوں نے اسے جمعرات کے دن 10 ربیع الثانی احمد پاشا کے ساتھ پکڑ لیا اور اسکے سر کو تن سے جدا کر کے شہر قاہرہ میں باب زویلہ پر لٹکا دیا۔

شذرات الذهب في اخبار من ذهب ، أبي الفلاح عبد الحي بن العماد الحنبلي ، المجلد الرابع ، جزء 8 ، ص173 ، دار الكتب العلمية ، بيروت .

ابن ابی لیلی کو تازیانے مارنا:

ذہبی کتاب سير اعلام النبلاء میں لکھا ہے:

روي عن أبي حصين ، أن الحجاج استعمل عبد الرحمن بن أبي ليلى على القضاء ثم عزله ، ثم ضربه ليسب أبا تراب رضي الله عنه ، وكان قد شهد النهروان مع علي .

ابو حصین سے نقل ہوا ہے کہ: حجاج نے عبد الرحمن ابن ابی لیلی کو، کہ جو علی کے ساتھ جنگ نہروان میں شرکت کرنے والوں میں سے تھا، بعنوان قاضی معیّن کیا اور پھر اسے اس مقام سے عزل کر دیا اور اسے تازیانے مارتا تھا تا کہ وہ علی کو گالیاں دے۔

سير اعلام النبلاء ، ج4 ، ص267 .

محفل کا ابو تراب پر لعنت کرنے کے ساتھ خاتمہ کرے:

حدثني جنادة بن عمرو بن الجنيد بن عبد الرحمن المري عن أبيه عن جده الجنيد بن عبد الرحمن قال دخلت من حوران آخذ عطائي فصليت الجمعة ثم خرجت إلى باب الدرج فإذا عليه شيخ يقال له أبو شيبة القاص يقص على الناس فرغب فرغبنا وخوف فبكينا فلما انقضى حديثه قال اختموا مجلسنا بلعن أبي تراب فلعنوا أبا تراب عليه السلام .

فالتفت عن يميني فقلت له فمن أبو تراب قال علي بن أبي طالب ابن عم رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) وزوج ابنته وأول الناس إسلاما وأبو الحسن والحسين،

جنید ابن عبد الرحمن کہتا ہے: میں بیت المال سے اپنا حصہ لینے کے لیے حوران سے شہر آیا، میں نے نماز جمعہ پڑھا، پھر میں باب درج کی طرف گیا، وہاں ابو شیبہ نامی ایک بوڑھا شخص لوگوں کو قصے سنا رہا تھا، اس نے لوگوں کو آخرت پر توجہ دینے کا کہا تو ہم نے بھی آخرت پر توجہ دی اور اس نے ہمیں عذاب سے ڈرایا تو ہم نے گریہ کیا۔ جب اس نے اپنی بات کو ختم کیا تو کہا: اپنی اس مجلس کو ابو تراب پر لعنت کرنے کے ساتھ ختم کرو، پس سب نے ابو تراب پر لعنت کی !!!

پھر میں نے اپنی دائیں طرف بیٹھے شخص سے پوچھا ابو تراب کون ہے ؟ اس نے جواب دیا: وہ علی ابن ابی طالب، رسول خدا کا چچا زاد بھائی اور اسکی بیٹی کا شوہر ہے اور اس نے سب سے پہلے اسلام لایا تھا اور وہ حسن و حسین کا والد ہے۔

فقلت ما أصاب هذا القاص فقمت إليه وكان ذا وفرة فأخذت وفرته بيدي وجعلت ألطم وجهه وأنطح برأسه الحائط وصاح واجتمع أعوان المسجد فوضعوا ردائي في رقبتي وساقوني حتى أدخلوني على هشام بن عبد الملك وأبو شيبة يقدمني فصاح يا أمير المؤمنين قاصك وقاص آبائك وأجدادك أتى إليه اليوم أمر عظيم .

یہ سن کر میں نے اس شخص سے کہا: قصہ سنانے والے بوڑھے نے غلط بات کی ہے، پھر میں نے اٹھ کر اس بوڑھے کو داڑھی سے پکڑ کر اسے تھپڑ مارتے ہوئے اسکے سر کو دیوار پر دے مارا، اس نے فریاد کرنا شروع کر دیا، اسکے ساتھی مسجد سے باہر آ کر ہمارے گرد جمع ہو گئے اور انھوں نے میری چادر کو میری گردن میں ڈال کر مجھے کھینچتے ہوئے ہشام ابن عبد الملک کے پاس لے گئے، اس حالت میں کہ وہ بوڑھا ابو شیبہ میرے آگے چيختا ہوا کہہ رہا تھا: اے امیر المؤمنین آپکے اور آپکے آباء و اجداد کو قصے سنانے والا عظیم مصیبت سے دچار ہو گیا ہے !!!

قال من فعل بك هذا فالتفت إلى هشام وعنده أشراف الناس فقال أبو يحيى متى قدمت فقلت أمس وكنت على المصير إلى أمير المؤمنين فأدركتني الجمعة فصليت وخرجت إلى باب الدرج فإذا هذا الشيخ قائم يقص فجلست إليه فقرأ فسمعنا فرغب من رغب وخوف من خوف ودعا فأمنا وقال في آخر كلامه اختموا مجلسنا بلعن أبي تراب فسألت من أبو تراب فقيل علي بن أبي طالب أول الناس إسلاما وابن عم رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) وأبو الحسن والحسين وزوج ابنة رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) فوالله يا أمير المؤمنين لو ذكر هذا قرابة لك بمثل هذا الذكر ولعنه بمثل هذا اللعن لأحللت به الذي أحللت به فكيف لا أغضب لصهر رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) وزوج ابنته ،

ہشام نے کہا: کس نے تمہارے ساتھ ایسا کیا ہے ؟ میں نے ہشام کے اطراف میں بیٹھے ہوئے بزرگان کی طرف دیکھا، وہاں پر بیٹھے ابو یحیی نے مجھ سے کہا: کب آئے ہو ؟ میں نے کہا: گذشتہ کل اور میں چاہتا تھا کہ امیر المؤمنین (ہشام) کے پاس آؤں، پھر میں نماز جمعہ پڑھنے کے لیے گیا، نماز جمعہ سے فارغ ہو کر میں باب درج کی طرف گیا تو وہاں میں نے ایک بوڑھے کو دیکھا کہ جو کھڑا ہو کر لوگوں کو قصے سنا رہا تھا، یہ دیکھ کر میں بھی وہاں بیٹھ گیا اور اسکی باتیں سننے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ باتوں کے آخر میں اس نے کہا: ہم اپنی اس محفل کو ابو تراب پر لعنت کرنے کے ساتھ خاتمہ دیتے ہیں، میں نے سوال کیا ابو تراب کون ہے ؟ اس نے جواب دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پس خدا کی قسم اے امیر المؤمنین اگر کوئی آپکے کسی رشتے دار پر لعنت کرے تو آپ اسکے ساتھ بھی بالکل میرے والا کام کرتے، پس کیسے رسول خدا کے داماد اور انکی بیٹی کے شوہر کے لیے میں غصہ نہ کروں ؟ !

قال فقال هشام بئس ما صنع ... .

ہشام نے کہا: اس نے کتنا برا کام کیا ہے !

تاريخ مدينه دمشق ، ج11 ، ص291 .

حدیث طیر کے نقل کرنے والے عالم کے بیٹھنے کی جگہ کو پانی سے دھونا:

ذہبی نے کتاب تذكرة الحفاظ میں لکھا ہے:

ابن السقاء الحافظ الامام محدث واسط أبو محمد عبد الله بن محمد بن عثمان الواسطي ... قال السلفي سألت الحافظ خميسا الحوزي عن ابن السقاء فقال : هو من مزينة مضر ولم يكن سقاء بل لقب له ، موجوه الواسطيين وذوي الثروة والحفظ ، رحل به أبوه فأسمعه من أبى خليفة وأبى يعلى وابن زيدان البجلي والمفضل ابن الجندي وبارك الله في سنه وعلمه ، واتفق انه أملى حديث الطير فلم تحتمله نفوسهم فوثبوا به وأقاموه وغسلوا موضعه .

ابن سقاء سلفی نے کہا ہے: میں نے حافظ خمیس حوزی سے ابن سقاء کے بارے میں سوال کیا تو اس نے کہا: اس کا مزینہ، قبیلہ مضر سے تعلق ہے اور وہ سقاء نہیں تھا بلکہ وہ اس لقب سے مشہور ہو گیا تھا، وہ واسط کا بہت معروف، مالدار اور اچھے حافظے کا مالک تھا، اسکا باپ اسے اپنے ساتھ سفر پر لے گیا۔ اس نے ابی خلیفہ، ابی یعلی، ابن زیدان بجلی اور مفضل ابن جندی سے روایات کو سنا تھا، خداوند نے بھی اسکے علم اور عمر میں برکت عطا فرمائی تھی۔

ایک دن وہ حدیث طیر (فضیلت امیر المؤمنین علی ع) کو اپنے شاگردوں کو لکھوا رہا تھا، لیکن وہ لوگ اس روایت کو تحمل نہ کر سکے، پس انھوں نے اس پر حملہ کر کے اسے اپنی جگہ سے اٹھا دیا اور اسکے بیٹھنے کی جگہ کو پانی سے دھو دیا۔

تذكرة الحفاظ ، ذهبي ، ج3 ، ص966 ، ترجمه ابن السقاء .

امام حسن (ع) اور امام حسین (ع) کے فضائل نقل کی جزا ہزار تازیانے:

ابن حجر عسقلانی نے کتاب تہذيب و التہذيب اور اہل سنت کے بہت سے بزرگ علماء نے لکھا ہے کہ:

وقال ابن أبي حاتم سألت أبي عن نصر بن علي وأبي حفص الصيرفي فقال نصر أحب إلي وأوثق وأحفظ من أبي حفص قلت فما تقول في نصر قال ثقة وقال النسائي وابن خراش ثقة وقال عبيد الله ابن محمد الفرهياني نصر عندي من نبلاء الناس وقال أبو علي بن الصواف عن عبد الله ابن أحمد لما حدث نصر بن علي بهذا الحديث يعني حديث علي بن أبي طالب أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أخذ بيد حسن وحسين فقال من أحبني وأحب هذين وأباهما وأمهما كان في درجتي يوم القيامة . أمر المتوكل بضربه ألف سوط فكلمه فيه جعفر بن عبد الواحد وجعل يقول له هذا من فعل أهل السنة فلم يزل به حتى تركه .

ابن ابی حاتم نے کہا ہے: میں نے اپنے باپ سے نصر ابن علی اور ابی حفص صیرفی کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا: میں نصر کو زیادہ پسند کرتا ہوں، وہ قابل اطمینان اور اسکا حافظہ ابی حفص سے بہتر ہے، پھر میں نے اسے کہا: تم نصر کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ اس نے کہا: وہ مورد اطمینان ہے، عبید اللہ بون محمد فرہیانی نے بھی کہا ہے: میری نظر میں نصر اہل علم بندہ ہے، ابو علی ابن صواف نے عبد اللہ ابن احمد سے نقل کیا ہے کہ جب نصر ابن علی نے اس روایت کو نقل کیا کہ:

رسول خدا نے امام حسن اور امام حسین کے ہاتھوں کو پکڑ کر فرمایا: جو مجھ سے، ان دونوں سے، انکے والد اور انکی والدہ سے بھی محبت کرے تو وہ قیامت کے دن میرے مرتبے پر میرے ساتھ ہو گا۔

متوکل نے حکم دیا کہ اسے ایک ہزار تازیانے مارے جائیں، پھر جعفر ابن عبد الواحد نے اس بارے میں متوکل سے بات کی اور کہا: یہ روایت اہل سنت کے عقائد میں سے ہے (یعنی اس روایت کا شیعوں سے تعلق نہیں ہے)، یہ سن کر متوکل نے اس شخص کو چھوڑ دیا، (یعنی اسکو تازیانے نہیں مارے گئے) !!!

تهذيب التهذيب ، ابن حجر ، ج 10 ، ص 384

و تهذيب الكمال ، المزي ، ج 29 ، ص 360

و تاريخ بغداد ، الخطيب البغدادي ، ج 13 ، ص 289 و... .

معاویہ کے فضائل نقل نہ کرنے پر حاکم نیشاپوری کا منبر توڑنا:

سمعت أبا عبد الرحمن السلمي يقول : دخلت على أبي عبد الله الحاكم وهو في داره لا يمكنه الخروج إلى المسجد من أصحاب أبي عبد الله بن كرام ، وذلك أنهم كسروا منبره ومنعوه من الخروج ، فقلت له : لو خرجت وأمليت في فضائل هذا الرجل شيئا لاسترحت من هذه المنحة . فقال : لا يجيء من قلبي ، ) لا يجيء من قلبي ، يعني معاوية .

میں نے ابو عبد الرحمن سلمی سے سنا کہ اس نے کہا کہ: میں ابو عبد اللہ نیشاپوری کے پاس گیا، وہ اپنے گھر میں ہی تھا اور وہ ابو عبد اللہ ابن کرام کے ساتھیوں کے ڈر سے مسجد نہیں جا سکتا تھا کیونکہ انھوں نے اسکے منبر کو توڑ کر اسکا گھر سے باہر نکلنا منع کر دیا تھا، اس پر میں نے اس سے کہا اے کاش گھر سے باہر آتے اور اس شخص (معاویہ) کے فضائل کو بیان کرتے کہ اس سے تمہاری یہ مشکل حل ہو جاتی، اس نے جواب دیا: میرا دل مجھے اس کام کی اجازت نہیں دیتا، (یعنی میرا دل معاویہ کے فضائل بیان کرنے پر راضی نہیں ہوتا)۔

تاريخ الاسلام ذهبي ، ج28 ، ص132

و سير أعلام النبلاء ، ج17 ، ص175و ... .

امیر المؤمنین علی (ع) پر لعنت نہ کرنے کی جزا چار سو تازیانے:

عطيہ ابن سعد كتاب صحيح بخاری ، ابی داود ، ترمذی ، ابن ماجہ وغیرہ کے راویوں میں سے ایک راوی ہے، محمد ابن سعد نے کتاب الطبقات الكبری میں اسکے حالات میں لکھا ہے:

فكتب الحجاج إلى محمد بن القاسم الثقفي أن ادع عطية فإن لعن علي بن أبي طالب وإلا فاضربه أربعمائة سوط واحلق رأسه ولحيته فدعاه فأقرأه كتاب الحجاج فأبى عطية أن يفعل فضربه أربعمائة وحلق رأسه ولحيته .

حجاج نے محمد ابن قاسم ثقفی کو خط لکھا کہ عطیہ کو اپنے پاس بلاؤ، پس اگر علی ابن ابی طالب پر لعنت کرے تو ٹھیک، ورنہ اسکو چار سو تازیانے مارو اور اسکے سر اور داڑھی کو مونڈ دو۔ محمد ابن قاسم نے اسے اپنے حاضر کیا اور اسکے لیے حجاج کے خط کو پڑھا، لیکن عطیہ نے قبول نہ کیا، پس اسکو چار سو کوڑے مارے گئے اور اسکا سر اور داڑھی بھی مونڈ دی گئی۔

الطبقات الكبري ، ج6 ، ص304

و تهذيب التهذيب ، ابن حجر ، ج7 ، ص201 .

سیستان کے لوگوں کا امیر المؤمنین علی (ع) پر لعنت کرنے سے انکار کرنا:

ياقوت حموی نے کتاب معجم البلدان میں لکھا ہے:

قال الرهني : وأجل من هذا كله أنه لعن علي بن أبي طالب ، رضي الله عنه ، على منابر الشرق والغرب ولم يلعن على منبرها إلا مرة ، وامتنعوا على بنى أمية حتى زادوا في عهدهم أن لا يلعن على منبرهم أحد ... وأي شرف أعظم من امتناعهم من لعن أخي رسول الله ، صلى الله عليه وسلم ، على منبرهم وهو يلعن على منابر الحرمين مكة والمدينة ؟

رہنی نے کہا ہے: مذکورہ اوصاف سے بڑھ کر یہ ہے کہ بنی امیہ علی ابن ابی طالب پر مشرق و مغرب کے منبروں سے لعنت کیا کرتے تھے، لیکن سیستان کے علاقے میں وہ ایک مرتبہ سے زیادہ یہ کام نہ کر سکے، انھوں نے اس بارے میں بنی امیہ کے حکم کو ماننے سے انکار کر دیا، حتی انھوں نے اپنے وعدے ناموں میں اس بات کا اضافہ کیا کہ وہ اپنے منبروں سے کسی پر لعنت نہیں کریں گے، اس سے بڑھ کر اور کیا افتخار ہو گا کہ سیستان کے لوگوں نے رسول خدا کے بھائی پر لعنت کرنے کے حکم کو ماننے سے انکار کر دیا، حالانکہ مکہ اور مدنیہ میں ان حضرت پر لعنت کی جاتی تھی۔

معجم البلدان ، ياقوت الحموي ، ج3 ، ص191 ، باب سجستان .

زكريا ابن محمد ابن محمود قزوينی نے کتاب آثار البلاد و اخبار العباد میں لکھا ہے:

قال محمد بن بحر الذهبي[رهني] : لم تزل سجستان مفردة بمحاسن لم تعرف لغيرها من البلدان، ... وأجل من هذا كله أنهم امتنعوا على بني أمية أن يلعنوا علي بن أبي طالب على منبرهم.

سجستان کے علاقے میں وہ خوبیاں ہیں کہ جو دوسرے شہروں میں نظر نہیں آتیں، سب سے بڑھ کر یہ کہ بنی امیہ کے دور میں یہاں کے لوگ منبروں سے علی ابن ابی طالب پر لعنت کرنے سے انکار کیا کرتے تھے۔

آثار البلاد و اخبار العباد ، ج1 ،‌ ص79 ، باب سيستان .

قزوین کے لوگوں کا امیر المؤمنین علی (ع) پر لعنت کرنے سے انکار کرنا:

امام رافعی نے کتاب التدوين في اخبار قزوين میں لکھا ہے:

وكان عمال خالد بن عبد الله القسري وسائر عمال بني أمية يلعنون في هذا المسجد (مسجد قزوين) علياً رضي الله عنه حتى وثب رجل من موالي بني الجند وقتل الخطيب وانقطع اللعن من يومئذ .

خالد ابن عبد اللہ قسری کا کام کرنے والا عملہ اور بنی امیہ کے دوسرے کام کرنے مسجد قزوین میں علی پر لعنت کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ بنی الجند کے ایک شخص نے مسجد کے خطیب پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیا، اسکے بعد وہاں پر علی پر لعنت کرنا ختم ہو گیا تھا۔

التدوين في اخبار قزوين ، ج1 ، ص20 .

التماس دعا۔۔۔۔۔

 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی