2019 May 27
فضیلت حضرت خدیجہ (س) در کلام بزرگان
مندرجات: ١٨٠١ تاریخ اشاعت: ١٥ May ٢٠١٩ - ١٤:١٤ مشاہدات: 34
یاداشتیں » پبلک
جدید
فضیلت حضرت خدیجہ (س) در کلام بزرگان

 

فضیلت حضرت خدیجہ (س) در کلام بزرگان

شیعہ اور اہل سنت کے ذریعے سے نقل ہونے والی روایات کے علاوہ بزرگان اور علماء کے کلام میں بھی ام المؤمنین حضرت خديجہ كبری (س) کی شان و منزلت کو بیان کیا گیا ہے۔

صاحب کتاب مستدرک سفینۃ البحار نے کہا ہے: مختلف روایات میں نقل ہونے والے حضرت خديجہ (س) کے فضائل بہت زیادہ ہیں۔ ان روایات پر غور کرنے سے انکی عظمت اور معرفت سے آگاہی حاصل ہوتی ہے۔ (1)

رسول خدا (ص) سے نقل ہوا ہے کہ:               

خير نسائها خديجة و خير نسائها مريم ابنة عمران،

دنیا کی بہترین عورتیں خديجہ (س) اور مريم بنت عمران ہیں۔

(2)

خير نساء العالمين مريم بنت عمران، و آسيه بنت مزاحم، و خديجة بنت خويلد و فاطمة بنت محمد (ص)،

تمام عالمین کی بہترین عورتیں مريم دختر عمران، آسيہ بنت مزاحم، خديجہ بنت خويلد اور فاطم (س) بنت حضرت محمد (ص) ہیں۔ (3)

ابن عباس کہتا ہے: ایک دن نے رسول خدا (ص) نے چار لکیریں کھینچیں، پھر پوچھا جانتے ہو یہ لکیریں کیا ہیں ؟ ہم نے کہا: خدا اور اسکے رسول ہم سے دانا تر ہیں، پھر فرمایا:

خير نساء الجنة مريم بنت عمران، و خديجة بنت خويلد و فاطمة بنت محمد، و آسية بنت مزاحم امراة فرعون،

جنت کی بہترین عورتیں مريم بنت عمران، خديجہ بنت خويلد، فاطمہ بنت محمد (ص) اور آسيہ بنت مزاحم زوجہ فرعون ہیں۔

(4)

رسول خدا (ص) نے عائشہ، کہ جو فاطمہ سے برتری طلبی کی فکر میں رہتی تھی، سے فرمایا:

او ما فاعلمت ان الله اصطفي آدم و نوحا و آل ابراهيم و آل عمران و عليا و الحسن و الحسين و حمزه و جعفرا و فاطمة و خديجة علي العالمين.

کیا تم نہیں جانتی کہ خداوند آدم، نوح، آل ابراہيم، آل عمران، علی (ع)، حسن (ع)، حسين (ع)، حمزه، جعفر، فاطمہ (ع) اور خديجہ (ع) کو تمام عالمین میں سے انتخاب کیا ہے۔

(5)

رسول خدا (ص) نے فرمایا: جبرائیل میرے پاس آیا اور کہا: اے رسول خدا ! یہ خدیجہ ہے، جب بھی وہ آپکے پاس آئیں تو انکو خداوند اور میری طرف سے سلام دینا:

و بشرها ببيت في الجنة من قصب لا صخب و لا نصب،

اور اسکو جنت میں زبرجد سے بنے ایسے گھر کی بشارت دیں کہ جس میں کسی قسم کی سختی اور پریشانی نہیں ہو گی۔

 (6)

اربع نسوة سيدات سادات عالمهن مريم بنت عمران، و آسية بنت مزاحم، و خديجة بنت خويلد، و فاطمة بنت محمد، و افضلهن عالما فاطمة،

تمام عورتوں کی سردار چار عورتیں ہیں کہ جو مريم بنت عمران، آسيہ بنت مزاحم، خديجہ بنت خويلد اور فاطمہ بنت محمد (ص) ہیں اور ان چار میں سب سے بہترین فاطمہ (س) ہیں۔

(7)

حسبك من نساء العالمين مريم بنت عمران، و خديجة بنت خويلد، و فاطمة بنت محمد (ص) و آسية بنت مزاحم۔

فضیلت و کمال کے لحاظ سے تمام عالمین میں یہ عورتیں کافی ہیں:

مريم، خديجہ، فاطمہ اور آسيہ (عليهن السلام) (8)

پيامبر اكرم (ص) نے سورہ مطففين آیت 22 «عينا يشرب بها المقربون، کی تفسیر میں فرمایا:

المقربون السابقون سے مراد رسول خدا ، علی ابن ابيطالب ، الائمة، فاطمہ اور خديجہ ہیں۔

 (9)

ایک دن رسول خدا (ص) نے علی (ع) سے فرمایا: تمہاری فاطمہ جیسی بیوی ہے کہ میری ایسی بیوی نہیں ہے، تمہاری خدیجہ جیسی ساس ہے کہ میری ایسی ساس نہیں ہے۔

(10)

روایت میں ہے کہ: ایک دن چبرائیل رسول خدا (ص) کے پاس آیا اور حضرت خدیجہ کے بارے میں معلوم کیا۔ رسول خدا کو معلوم نہیں تھا کہ بی بی کہاں ہیں۔ جبرائیل نے کہا: جب وہ آئیں تو انکو کہنا کہ خداوند نے انکو سلام کہا ہے۔

(11)

پيامبر اكرم (ص) نے حضرت خدیجہ سے چالیس دن کی جدائی اور دوری کے ایام میں عمار یاسر کے ذریعے سے ان تک یہ پیغام پہنچایا:

ان الله عز وجل ليباهي بك كرام ملائكته كل يوم مرارا،

بیشک خداوند ہر روز آپکی وجہ سے اپنے بزرگ ملائکہ کے سامنے بار بار فخر فرماتا ہے۔

(12)

ایک دن رسول خدا (ص) نے اصحاب کے سامنے امام حسن (ع) و امام حسین (ع) کی شان میں مطالب بیان فرماتے ہوئے کہا:

ايها الناس الا اخبركم بخير الناس جدا و جده،

اے لوگو ! کیا میں تم کو نانا اور نانی کے لحاظ سے بہترین لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ سب نے کہا: ہاں بتائیں، تو فرمایا:

الحسن و الحسين، جدهما رسول الله و جدتهما خديجة بنت خويلد،

وہ حسن اور حسین ہیں کہ جنکے نانا رسول خدا محمد (ص) اور نانی خدیجہ بنت خویلد ہیں۔ (13)

جب رسول خدا (ص) بستر بیماری پر قرار پائے تو حضرت زہرا (س) بہت پریشان ہوئیں اور گریہ کیا تو حضرت نے اپنی بیٹی کو مولا علی (ع) کے پر برکت وجود کے ساتھ تسلی دی اور حضرت خدیجہ (س) کو یاد کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ مطمئن رہیں کیونکہ:

ان عليا اول من آمن بالله عزوجل و رسوله من هذه الامة، هو و خديجة امك،

بیشک علی (ع) اس امت کے پہلے وہ شخص ہیں کہ جو ذات خدا اور اسکے رسول پر ایمان لائے، وہ اور آپکی والدہ (ساس) پہلے افراد ہیں کہ جو مسلمان ہوئے۔

 (14)

رسول خدا (ص) حضرت خدیجہ (س) کی وفات کے بعد ہمیشہ انکی وفا داری اور فدا کاری کے شیرین واقعات کو یاد کرتے تھے تو انکی یاد میں اشک انکے چہرے مبارک پر جاری ہو جاتے تھے، جیسے ایک دن رسول خدا اپنے چند ہمسایوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک حضرت خدیجہ کا ذکر ہوا۔ رسول خدا اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور انکے چہرے پر اشکوں کے قطرے بہنا شروع ہو گئے۔

عائشہ نے ان حضرت سے کہا: آپ کیوں اشک بہا رہے ہیں ؟ کیا آپکو قبیلہ اسد سے تعلق رکھنے والی ایک گندمی رنگ کی بوڑھی عورت کے لیے اشک بہانے چاہیں ؟ رسول خدا (ص) نے اسکے جواب میں فرمایا:

صدقتني اذ كذبتم، و آمنت بي اذكفرتم، و ولدت لي اذ عقمتم،

اس نے اس وقت میری تصدیق کی جب تم لوگوں نے میری تکذیب کی اور جب تم لوگ کافر تھے تو اس نے مجھ پر ایمان لایا اور اس نے میری اولاد کو دنیا میں لایا جبکہ تم بانجھ ہو۔

 (15)

روایت نقل ہوئی ہے کہ:

ایک دن ایک بوڑھی عورت رسول خدا (ص) کے پاس آئی، حضرت اس سے بہت خندہ پیشانی سے پیش آئے، جب وہ چلی گئی تو عائشہ نے اس خندہ پیشانی اور شفقت کا سبب رسول خدا سے پوچھا تو حضرت نے جواب میں فرمایا:

انهاكانت تاتينا في زمن خديجة، و ان حسن العهد من الايمان،

یہ بوڑھی عورت خدیجہ کی زندگی میں ہمارے گھر آتی تھی اور خدیجہ بھی اس سے اسی طرح پیش آتی تھی، بیشک وہ ایمان کے لحاظ سے بھی اچھی تھی۔

(16)

ایک دوسری روایت کے مطابق عائشہ نے یہ سن کر کہا: جب رسول خدا بھیڑ کو ذبح کرتے تھے تو مجھے فرماتے تھے: اسکے گوشت سے خدیجہ کی سہیلیوں کے لیے بھی بھیجو۔ ایک دن میں نے اس بارے میں کچھ کہا تو حضرت نے مجھ سے فرمایا:

اني لاحب حبيبها،

میں خدیجہ کی سہیلیوں سے بھی محبت کرتا ہوں۔

 (17)

رسول خدا (ص) نے حضرت خدیجہ (س) کو حضرت علی (ع) کے حضرت زہرا (س) کا رشتہ مانگنے کے مراسم میں بھی یاد کرتے ہوئے فرمایا: اے کاش آج میری بیٹی کی والدہ بھی اس مراسم میں حاضر ہوتی۔

جونہی حضرت خدیجہ کا نام تو رسول خدا نے گریہ کرنا شروع کر دیا اور فرمایا:

خديجة و اين مثل خديجة صدقتاني حين كذبني الناس، و وازرتني علي دين الله و اعانتني عليه بمالها، ان الله عزوجل امر في ان ابشر خديجة ببيت فيالجنة من قصب لا صخب فيه و لانصب؛ خديجه! كجاست همانند خديجه ؟

جب لوگوں نے مجھے جھٹلایا تو اس نے میری تصدیق کی اور اس نے دین خدا کی خاطر میری مدد کی اور اپنے مال کے ذریعے سے دین کی تبلیغ و ترقی میں میری مدد کی، خداوند نے مجھے حکم دیا ہے کہ خدیجہ کو جنت میں ایسے گھر کی خوشخبری دوں کہ جس میں کسی قسم کی کوئی سختی اور نا آرامی نہیں ہو گی۔

حضرت خديجہ اور احاديث معراج نبی اکرم (ص):

ابو سعيد خدری کہتا ہے رسول خدا (ص) نے فرمایا: شب معراج جب جبرائیل مجھے آسمانوں کی طرف اوپر لے کر گیا اور سیر کروائی تو واپسی پر میں نے جبرائیل سے کہا: کیا تمہاری کوئی حاجت ہے ؟ جبرائیل نے کہا: میری یہ حاجت ہے کہ خداوند کا اور میرا سلام خدیجہ تک پہنچا دیں۔ رسول خدا جب زمین پر پہنچے تو خداوند اور جبرائیل کا سلام حضرت خدیجہ تک پہنچا دیا تو حضرت خدیجہ نے کہا:

ان الله هو السلام، و منه السلام، و اليه السلام، و علي جبرئيل السلام،

بیشک خدا کی ذات سلام ہے اور سلام اسی کی طرف سے ہے اور سلام اسی کی طرف ہی پلٹ کر جاتا ہے اور جبرائیل پر بھی سلام ہو۔

(18)

حضرت خدیجہ (س) کے بارے میں کلام انبیاء ، آئمہ اور اصحاب صدر اسلام:

ابن سعد مؤرخ نے حضرت آدم (ع) سے نقل کیا ہے:

حضرت آدم نے جنت میں جناب حوا سے کہا: ایک اچھی چیز کہ جو خداوند نے رسول خدا محمد (ص) کو عطا کی تھی، وہ حضرت خدیجہ جیسی بیوی تھی کہ جو ہمیشہ دین خدا کی سر بلندی کے لیے انکی مدد کرتی تھی، جبکہ میرے لیے حوا سبب بنی کہ میں جنت میں خداوند کی مرضی کے خلاف عمل کروں۔

 (19)

امام حسين (ع) نے روز عاشورا اپنے ایک خطبے میں فرمایا: تم لوگوں کو خدا کی قسم ہے، کیا تم جانتے ہو کہ میری جدہ (نانی) خدیجہ بنت خویلد ہے ؟

 (20)

اور پھر دشمن کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ میں تمہارے پیغمبر کی زوجہ خدیجہ کا بیٹا ہوں ؟

 (21)

امام سجاد (ع) نے شہر دمشق میں دربار یزید میں اپنے معروف خطبے میں اپنا ایسے تعارف کروایا:

انا بن خديجة الكبري،

میں خدیجۃ کبری کا فرزند ہوں۔

 (22)

حضرت زينب (س) سن 61 ہجری كربلا میں 11 محرم کو جب شہداء کے اجساد مطہر کے پاس آئیں تو وہاں پر رسول خدا (ص)، امیر المؤمنین علی (ع) کا ذکر کرنے کے بعد حضرت خدیجہ (س) کو یاد کرتے ہوئے فرمایا:

بابي خديجة الكبري،

میرے بابا کی جان حضرت خدیجہ پر قربان ہو۔

 (23)

زيد ابن علی کہ جہنوں نے ہشام ابن عبد الملک کی ظالم و غاصب حکومت کے خلاف قیام کیا اور شہید بھی ہوئے تو انھوں نے اپنے دشمن کے سامنے ایسے خطاب کیا:

و نحن احق بالمودة، ابونا رسول الله وجدتنا خديجة...،

اور ہم محبت و مودت کیے جانے کے زیادہ مستحق ہیں کیونکہ ہمارے والد رسول خدا اور ہماری جدہ خدیجہ ہیں۔

 (24)

عبد الله ابن زبير ناصبی اور دشمن اہل بیت ہونے کے باوجود ابن عباس کے ساتھ گفتگو میں حضرت خدیجہ (س) کے اپنی پھوپھی ہونے پر فخر کرتے ہوئے کہتا ہے:

الست تعلم ان عمتي خديجة سيدة نساء العالمين،

کیا تم نہیں جانتے کہ میری پھوپھی خدیجہ دنیا کی عورتوں کی سردار ہیں ؟

(25)

امام حسن (ع) کی امامت کے دوران جب معاویہ لعین جھوٹ، فراڈ، قتل و غارت اور حرام کا مال حرام کاموں میں خرچ کر کے حاکم بر گیا تو وہ اہل کوفہ سے اپنے لیے بیعت لینے کے لیے چند دن کے لیے کوفہ آیا۔ بیعت لینے کے بعد اس نے منبر پر ایک خطبہ دیا اور اس خطبے میں امیر المؤمنین علی (ع) کی جتنی توہین وہ کر سکتا تھا، اس نے کی، حالانکہ امام حسن (ع) و امام حسين (ع) وہاں موجود تھے۔ امام حسین اسکو جواب دینے کے لیے کھڑے ہوئے لیکن امام حسن نے بھائی کا ہاتھ پکڑ کر بیٹھا دیا اور خود کھڑے ہوئے اور فرمایا:

اے وہ کہ جو علی کو ایسے برا بھلا کہہ رہے ہو، میں حسن اور میرے والد گرامی علی ہیں اور تم معاویہ اور تیرا باپ صخر ہے، میری والدہ فاطمہ ہیں جبکہ تمہاری ماں ہند جگر خوار ہے، میرے جد رسول خدا جبکہ تیرا نانا حرب ہے اور فرمایا:

و جدتي خديجة و جدتك فتيله...،

میری جدہ حضرت خدیجہ جبکہ تمہاری نانی فتیلہ (زنا کار) ہے۔

خداوند ہم سے اس پر لعنت کرے کہ جسکا نام و حسب نسب پلید و نجس ہو اور جنکا ماضی حرام کاموں اور کفر و نفاق میں گزرا ہو !!!

 (26)

حدیث موثق میں حضرت زہرا (س) کے بارے میں نقل ہوا ہے کہ جب حضرت خدیجہ دنیا سے گئیں تو حضرت فاطمہ اپنے والد گرامی کے گرد گھومتے ہوئے چکر لگا کر کہتی:

بابا میری والدہ کہاں ہیں ؟ اس وقت جبرائیل نازل ہوئے اور کہا: آپکے پروردگار آپکو حکم دے رہے ہیں کہ فاطمہ کو میرا سلام دیں اور کہیں کہ تمہاری والدہ سونے اور سرخ یاقوت سے بنے گھر میں ہیں اور اسکا گھر آسیہ اور مریم بنت عمران کے گھر کے درمیان ہے۔ جب رسول خدا نے خداوند کا پیغام فاطمہ کو دیا تو جناب فاطمہ نے کہا: خداوند عیب و نقص سے سالم ہے اور سلام اسی کی طرف سے ہے اور سلام اسی کی ہی طرف پلٹ کر جاتا ہے۔

 (27)

حضرت خدیجہ (س) کا ذکر دعاؤں، زیارت ناموں اور کتاب مقدس تورات میں:

حضرت خديجہ (س) کو نہر کے ایسے پانی سے تشبیہ دی گئی ہے کہ جو آب حیات ہے اور اس پانی کے دونوں طرف، درخت حیات موجود ہے، اس درخت پر 12 قسم کے میوے ہیں اور اس درخت کے پتے امتوں کو شفاء دیتے ہیں۔

 (28)

رسول خدا (ص) کے ایک زیارت نامے میں ذکر ہوا ہے:

السلام علي ازواجك الطاهرات الخيرات، امهات المومنين، خصوصا الصديقة الطاهرة، الزكية الراضيه المرضية، خديجة الكبري ام المومنين،

سلام ہو آپکی پاک اور نیک زوجات پر، کہ جو مؤمنین کی مائیں ہیں، خاص طور پر ام المؤمنین خدیجہ کبری کہ جو سچی، پاک و پاکیزہ، راضیہ اور مرضیہ خاتون ہیں۔

 (29)

ایک دوسری زیارت میں حضرت خدیجہ (س) کا ایسے ذکر ہوا ہے:

السلام علي خديجة سيدة نساء العالمين،

سلام ہو خديجہ پر کہ جو عالمین کی عورتوں کی سردار ہیں۔

(30)

حضرت خديجہ (س) کا خداوند کی ذات سے بہت مستحکم رابطہ برقرار ہونے کی وجہ سے انکا قلب بہت محکم اور قوی تھا۔ دین اسلام کی اس عظیم خاتون کے پاس چند کلمات (حرز) تھے کہ جنکے ذریعے سے وہ ہمیشہ اپنے پرورگار سے رابطہ کرتی تھیں۔

سيد ابن طاووس نے كتاب مہج الدعوات میں دو حرز نقل کیے ہیں:

1- بسم الله الرحمن الرحيم، يا حي يا قيوم، برحمتك استغيث فاغثني ، ولا تهلكن الي نفسي طرفة عين ابدا، و اصلح ليشائب كله،

بسم اللہ الرحمن الرحیم، اے خدائے زندہ و دائمی تیری رحمت کی پناہ چاہتا ہوں، مجھے پناہ عطا فرما، اور مجھے ایک لمحے کے لیے بھی میرے حال پر نہ چھوڑ اور میری زندگی کی اصلاح فرما۔  

2ـ بسم الله الرحمن الرحيم، يا الله يا حافظ يا حفيظ يا رقيب،

بسم اللہ الرحمن الرحیم اے خدا، اے حفاظت کرنے والے، اے وہ ذات کہ جو خیال رکھنے والی ہے۔

حضرت خديجہ (س) معاصر عرب علماء کے کلام میں :

تاریخ ام المؤمنین خدیجہ کی عظمت کے سامنے سر جھکاتی ہوئی اور خاضعانہ طور پر دست بستہ نظر آتی ہے اور تاریخ حیران ہے کہ اس عظیم ہستی کا نام گرامی کیسے اور کہاں پر ثبت و ضبط کرے۔

 (31)

عرب مصنف سليمان كتانی کہتا ہے: خدیجہ نے اپنے تمام مال کو محمد (ص) کو بخش دیا لیکن بالکل یہ محسوس نہیں کیا کہ بخش رہی ہے بلکہ وہ مال دے کر اس ہدایت کو حاصل کر رہی تھی کہ جو ہدایت دنیا کے تمام خزانوں سے برتر ہے، وہ محسوس کر رہی تھی کہ اپنی محبت اور دوستی کو حضرت محمد (ص) کو ہدیہ کر رہی ہے اور اسکے مقابل دنیا و آخرت کی سعادت ان حضرت سے کسب کر رہی ہے۔

 (32)

عالم بزرگ شيخ حر عاملی متوفی سن 1140 ہجری صاحب كتاب وسائل الشيعہ نے حضرت خدیجہ کی شان میں اشعار کہے ہیں:

زوجتة خديجه و فضلها ابان عند قولها و فعلها بنت خويلد الفتي المكرم الماجد المويد المعظم لها من الجنة بيت من قصب لاصخب فيه ولالها نصب و هذه مورة لفظ الخبر عن النبي المصطفي المطهر،

رسول خدا کی ہمسر خدیجہ کہ اسکی فضیلت و برتری اسکے قول و عمل سے ظاہر ہے، بنت خویلد وہ بزرگوار و تائید شدہ ہے اور خدیجہ کے لیے بلند مقام اور جنت میں اسکے لیے قیمتی جواہر سے بنے ہوئے گھر ہیں کہ جہاں پر آرام و سکون ہے، یہ رسول خدا کا بھی فرمان ہے کہ خدیجہ کے لیے جنت میں ایسے گھر موجود ہوں گے۔

عرب مصنفہ بنت الشاملی نے لکھا ہے: کیا کوئی خدیجہ کے علاوہ کسی کو جانتا ہے کہ جس نے مستحکم عشق اور ایمان راسخ کے ساتھ دین کی دعوت کو غار حرا سے قبول کر لیا ہو۔  

(33)
------------------------------------------

حوالہ جات:
1
ـ خديجه، اسطوره مقاومت و ايثار، صفحه 186، اشتهاردي، محمدمهدي 2ـ صحيح بخاري، ج 4، ص 164.

3
ـ الاستيعاب، ج 2، ص 720.

4
ـ بحار الانوار، ج 13، ص 162، ج 16، ص 2.

5
ـ خديجه؛ اسطوره مقاومت و ايثار، ص 187، نقل از بحار ج 37، ص 63.

6
ـ اسد الغابه، ج 5، ص 438.

7
ـ ذخائر العقبي، ص 44.

8
ـ كشف الغمه، ج 2، ص 71.

9
ـ مجمع البيان، ج 10، ص 320.

10
ـ بحار، ج 40، ص 68 به نقل از خديجه؛ اسطوره مقاومت و ايثار ص 190.

11
ـ همان، ج 16، ص 8.

12
ـ كشف الغمه، ج 2، ص 72.

13
ـ بحار، ج 43، ص 302، به نقل از خديجه، اسطوره مقاومت و ايثار، ص 198.

14
ـ بحار الانوار، ج 22، ص 502.

15
ـ وہی، ج 16، ص 8.

16
ـ خديجه اسطوره ايثار و مقاومت، ص 207.

17
ـ رياحين الشريعه، ج 2، ص 206.

18
ـ كشف الغمه، ج 2، ص 133.

19
ـ محمد پيغمبري كه از او بايد شناخت، كنستان ويرژيل گئورگيو، ترجمه ذبيح الله منصوري، ص 50.

20
ـ بحار الانوار، ج 44، ص 318.

21
ـ وہی، ج 45، ص 6.

22
ـ وہی، ج 44، ص 174.

23
ـ وہی، ج 45، ص 59.

24
ـ خديجه، اسطوره ايثار و مقاومت، ص 200.

25
ـ شرح نهج البلاغه، ابن ابي الحديد، ج 9، ص 325.

26
ـ خديجه (ع) اسطوره مقاومت و ايثار، ص 201.

27
ـ حيوۃ القلوب، علامه محمد باقر مجلسي، ج 3، ص 218.

28
ـ كتاب مقدس، عهد جديد، مكاشفه يوحنا، باب 22.

29
ـ بحار ج 100، ص 189.

30
ـ وہی، ج 102، ص 272.

31
ـ نساء محمد (ص ص 38.

32
ـ خديجه (ع علي محمد دخيل، ص 32.

33
ـ حياة الائمه، هاشم معروف الحسني، ص 67.

حضرت خديجہ (س) عاليترين نمونہ وفا داری و فدا كاری:

حضرت محمد (ص) 25 سال کے تھے کہ جب آپ نے 40 سالہ حضرت خدیجہ (س) سے شادی کی۔ حضرت خدیجہ کا مال و ثروت تمام قریش سے زیادہ تھا۔ انکی شادی سے پہلے اہل مکہ انکے مال سے تجارت کیا کرتے تھے اور جناب خدیجہ نے رسول خدا (ص) سے شادی کے بعد اپنی تمام کی تمام ثروت ان حضرت کو بخش دی۔ یہی مال و ثروت باعث ہوا کہ دین اسلام سرزمین عرب کا بزرگ ترین دین بن کر سامنے آیا۔

حضرت خديجہ پہلی خاتون تھیں کہ جہنوں نے اسلام قبول کیا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ جب رسول خدا (ص) قریش عرب کے بد ترین مظالم برداشت کر رہے تھے۔ اس غم کی حالت وہ ہستی کہ جو رسول خدا کو ہمت اور آرام و سکون دیتی، وہ جناب خدیجہ ہی کی ذات گرامی تھی، وہی شریک غم کہ جو رسول خدا کی تک و تنہا حامی و ناصر تھی۔

 حضرت خدیجہ رسالت کی سچی و مخلص حامی تھیں، انکا مال در حقیقت رسول خدا (ص) اور انکے اصحاب کا شعب ابی طالب میں تین سالہ اقتصادی محاصرہ ختم کرنے کے مدد گار ثابت ہوا۔ بی بی خدیجہ کھانے پینے کی ضروری اشیاء کئی گنا مہنگے داموں خریدتی تا کہ یہ محاصرہ خریت سے گزر جائے اور رسول خدا اور اسلام کے خلاف قریش کے تمام حیلے ناکام ہو جائیں۔

حضرت خديجہ (س) کی زمانہ جاہلیت میں بھی ایسی سیرت تھی کہ جس نے انکو تمام زنان عرب میں ممتاز شخصیت دی ہوئی تھی، اسی وجہ سے اسی دور میں ہی وہ طاہرہ کے نام سے معروف تھیں اور یہی لقب انکی شرافت و عظمت کے لیے کافی ہے۔

سال دہم بعثت رسول خدا (ص) اور امت اسلامی نے ایک ایسے حامی و مدد گار کو ہاتھ سے دیا کہ جسکی وفا، ایثار، اخلاص اور عشق کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ حضرت خدیجہ ایسی خاتون تھیں کہ جہنوں نے اپنی تمام زندگی اور اپنا تمام مال عقیدے اور اسلام کے لیے وقف کر رکھا تھا۔

رسول خدا (ص) نے اسلام کی اس عظیم ہستی کو حجون نامی قبرستان میں دفن فرمایا اور انکی وفات کے سال کو عام الحزن (غم کا سال) قرار دیا۔ جناب خدیجہ کی عمر مبارک وفات کے وقت 65 سال تھی۔  

التماس دعا۔۔۔۔۔

 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی