2019 October 15
حضرت مہدی (عج) اور كتب اہل سنت
مندرجات: ١٨١٢ تاریخ اشاعت: ٠٣ July ٢٠١٩ - ١٨:٠٥ مشاہدات: 139
سوال و جواب » Mahdism
حضرت مہدی (عج) اور كتب اہل سنت

حضرت مہدی (عج) اور كتب اہل سنت:

1- حضرت مہدی (عج) اور کتب صحاح ستہ:

2- حضرت مہدی (عج) اور بعض كتب اہل سنت:

1- حضرت مہدی (عج) اور کتب صحاح ستہ:

حضرت مہدی (ع) کا خروج (ظہور) کرنا یہ شیعہ اور سنی کا متفقہ نکتہ نظر ہے اور حتی غیر مسلم اہل علم حضرات نے اپنی کتب میں آخر الزمان میں ایک منجی (نجات دہندہ) کے آنے کی خوشخبری دی ہے۔

جیسے کتاب تورات میں اشعیای نبی فصل 11 میں ذکر ہوا ہے کہ:

۔۔۔۔۔ وہ مسکینوں میں عدالت سے فیصلے کرے گا اور مظلومین کے حق میں حکم کرے گا ۔۔۔ بھیڑیا اور بھیڑ اکٹھے زندگی بسر کریں گے اور چیتا، بچھڑے کے ساتھ سوئے گا اور چھوٹے بچے شیر سے کھیلا کریں گے، وہ مقدس پہاڑ میں ضرر و فساد نہیں کرے گا کیونکہ دنیا معرفت خداوند سے بھر جائے گی۔

کتاب عہد عتيق ، كتاب مزامير ، مزمور 37 میں ایسا ذکر ہوا ہے کہ:

۔۔۔۔۔ کیونکہ شیطان صفت انسان ختم ہو جائیں گے اور خداوند کے منتظر، زمین کے وارث ہو جائیں گے، بے شک تھوڑی مدت کے بعد ظالم باقی نہیں رہیں گے، انکی جگہ و مکان کے بارے غور کرو گے تو وہ وہاں نہیں ہوں گے، بہرحال حلیم و نیک لوگ زمین کے وارث ہوں گے اور وہ قیامت تک وارث رہیں گے۔

سوره انبياء آيت 105

وَ لَقَدْ كَتَبْنا فِي الزَّبورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ أنَّ الارضَ يَرِثُها عِبادِيَ الصَّالِحُونَ،

ہم نے قرآن کے بعد زبور (کتاب داود) میں بھی لکھ دیا ہے کہ میرے نیک و صالح بندے زمین کے وارث ہوں گے۔

کتاب زبور کی عبارت کو قرآن کی اس آیت سے موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ خداوند نے کتاب زبور کے اس حصے کو کیسے محفوظ رکھا ہے تا کہ قیامت تک کے آنے والے جانیں کہ آخر کار زمین کی حاکمیت صالح و نیک بندوں کے ہاتھ میں ہو گی اور ظالمین و مفسدین کی قسمت میں نابود ہونا لکھا جا چکا ہے۔

کتاب انجيل لوقا ، فصل 12 میں ذکر ہوا ہے:

اپنی کمر کس کر چراغوں کو جلائے رکھنا اور تم ان لوگوں کی طرح رہو کہ جو اپنے آقا و سردار کا انتظار کرتے ہیں کہ وہ شادی سے کس وقت واپس آئیں گے، تا کہ وہ جب بھی آ کر دروازے پر دستک دیں تو تم فورا انکے لیے دروازے کو کھول دو، خوش قسمت ہیں وہ خادم و غلام کہ جب انکے آقا و سرادر آئیں تو وہ انکو بیدار و تیار پائیں، پس تم بھی تیار رہو کیونکہ تمہارے گمان میں بھی نہیں ہو گا کہ انسان کا بیٹا کب آئے گا۔

محترم پڑھنے والوں پر مخفی نہیں ہے کہ انجیل لوقا کی عبارت کا معنی وہی حضرت مہدی (ع) کے ظہور کا انتظار کرنا ہے کہ شیعہ کی نگاہ میں ظہور امام زمان کا منتظر واقعی اس شخص کی مانند ہے کہ جو اپنے ایک عزیز مہمان کے آنے کا انتظار کر رہا ہے کہ جسکے لیے اس نے گھر کی صفائی کی اور غذا کو تیار کیا ہے۔ اس نے بھی اپنے دل کو مادی نجاست سے صاف کیا ہے اور گناہوں سے پرہیز کرتا ہے۔ معروف سے محبت کرتا ہے اور اسکا حکم دیتا ہے اور منکر سے نفرت کرتا ہے اور اس سے منع کرتا ہے اور کیونکہ وہ ظلم کی نابودی کا انتظار کر رہا ہے، اس لیے اپنی ہمت کے مطابق اس سے مقابلہ کرتا ہے۔ وہ عدل و حق کا دوست اور باطل و جور کا دشمن ہے۔ یہی انتظار فرج کا معنی ہے کہ جسکو اہل بیت کی روایات میں افضل عبادت شمار کیا گیا ہے۔

ترمذی نے اصل روایت کو رسول خدا (ص) سے نقل کیا ہے کہ:

افضل العبادة انتظار الفرج،

سنن ترمذی ج 5 ، ص 528 - كتاب الدعوات ، باب 116 - في انتظار الفرج و غير ذلك ، ح 3571 .

لیکن قطعی طور پر اہل سنت اس روایت کا ویسے معنی نہیں کرتے جیسے شیعہ کرتے ہیں۔

کتب صحاح ستہ میں بھی حضرت مہدی کے خروج (ظہور) کے حتمی ہونے کے بارے میں روایات ذکر کی گئی ہیں:

1- اگر دنیا کے ختم ہونے میں صرف ایک دن باقی رہ گیا ہو تو خداوند اس دن کو اتنا طولانی کریں گے تا کہ میرے اہل بیت میں سے ایک میرا ہمنام شخص مبعوث ہو گا کہ جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسے کہ وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہو گی۔

سنن ترمذي ، ج4 ص 438 - كتاب الفتن ، باب 52 ما جاء في المهدي ، ح 2231 .

سنن ابي داود ، ج4 ص106 - كتاب المهدي ، ح 4282 (مختصراً) و 4283 .

2- دنیا ختم نہیں ہو گی جب تک میرے اہل بیت میں سے ایک شخص عرب پر حکومت کرے گا کہ وہ شخص میرا ہمنام ہو گا۔

سنن ترمذي ، ج4 ص 438 - كتاب الفتن ، باب 52 ما جاء في المهدي ، ح 2230 .

3- اگر دنیا کے ختم ہونے میں صرف ایک دن باقی رہ گیا ہو تو خداوند اس دن کو اتنا طولانی کریں گے تا کہ میرے اہل بیت میں سے ایک میرا ہمنام شخص مبعوث ہو گا کہ جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسے کہ وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہو گی۔

سنن ابي داود ، ج4 ص106 - كتاب المهدي ، ح 4282 (مختصراً) و 4283 .

2- حضرت مہدی (ع) اہل بیت میں سے ہیں:

اس فصل کی روایات واضح بیان کرتی ہیں کہ حضرت مہدی (ع) رسول خدا (ص) کے اہل بیت میں سے ہیں:

1- المهديّ منّا أهل البيت،

رسول خدا (ص) نے فرمایا ہے: مہدی ہم اہل بیت میں سے ہے۔

سنن ابن ماجه ، ج2 ص1367 - كتاب الفتن ، باب خروج المهدي (34) ح 4085 .

2- رسول خدا (ص) نے فرمایا ہے:

ہم ایسے اہل بیت ہیں کہ خداوند نے ہمارے لیے آخرت کو دنیا پر ترجیح دی ہے اور بے شک میرے اہل بیت میرے بعد مشکلات کا شکار اور جلا وطن کیے جائیں گے۔ یہاں تک کہ مشرق سے ایک قوم ظاہر ہو گی کہ انکے پاس کالے پرچم اور وہ خیر (حق) کے طلب کرنے والے ہوں گے لیکن انکو حق نہیں دیا جائے گا۔ وہ جنگ کریں گے اور جو کچھ وہ چاہتے ہیں انکو دیا جائے گا لیکن وہ قبول نہیں کریں گے یہاں تک کہ وہ حکومت کو میرے اہل بیت کے ایک مرد (یعنی حضرت مہدی ع) کو دیں گے اور وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسے کہ دوسروں نے اسے ظلم و جور سے بھر دیا تھا۔ پس جو بھی اس زمانے کو پا لے تو وہ انکی طرف جائے اگرچہ اسے ہاتھوں کے بل برف پر ہی چل کر کیوں نہ جانا پڑے۔

سنن ابن ماجه ، ج2 ص1366 - كتاب الفتن ، باب خروج المهدي (34) ح 4082 .

قابل توجہ ہے کہ ظہور کے وقت کو کوئی نہیں جانتا اور جو کچھ کہا گیا اور نقل کیا گیا ہے، وہ اہل بیت کی روایات سے سمجھا گیا ہے۔ امید اور دعا ہے کہ جتنا جلدی ممکن ہو سکے یہ ظہور واقع ہو تا کہ ظالمین نابود ہوں اور اسلامی ممالک قدرت مند ہوں۔

3- حضرت مہدی (ع) اولاد فاطمہ (س) میں سے ہیں:

المهدي من ولد فاطمه،

سنن ابن ماجه ، ج2 ص 1368 - كتاب الفتن ، باب خروج المهدي (34) ح 4086 .

اس روایت کو ام سلمہ نے رسول خدا (ص) سے نقل کیا ہے۔ یہی روایت اسی سند کے ساتھ ان الفاظ کے ساتھ بھی ذکر ہوئی ہے:

المهديّ من عترتي من ولد فاطمه،

مہدی میری عترت اور اولاد فاطمہ میں سے ہے۔

سنن ابي داود ، كتاب المهدي ، ح 4284 .

ان مذکورہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ کتب صحاح ستہ کے مصنفین جیسے ابن ماجہ نے قبول کیا ہے کہ

اوّلاً:

مہدی، رسول خدا کے اہل بیت میں سے ہے،

ثانياً:

وہ حضرت، اولاد حضرت فاطمہ (س) میں سے ہیں،

کتاب ابن ماجہ کی روایت ہے کہ جسے انس ابن مالک نے رسول خدا (ص) سے نقل کیا ہے:

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی مشکلات زیادہ ہوں گی اور دنیا ان سے منہ موڑ لیا ہے اور لوگ زیادہ بخیل ہو جائیں گے اور قیامت واقع نہیں ہو گی مگر یہ بدترین لوگوں پر حضرت مہدی اور حضرت عیسی حکومت نہ کر لیں۔

سنن ابن ماجہ ج 2 ، ص1340 - كتاب الفتن ، باب شدّة الزّمان ، ح 4039

ابن ماجہ پر تعجب ہے کہ جو کچھ اس نے خود نقل کیا ہے، اس پر آنکھیں بند کر کے حضرت عیسی ابن مریم کو اہل بیت اور اولاد حضرت فاطمہ (س) میں سے قرار دیتا ہے !

ابن ماجہ کے اس کام کی بہترین توجیہ یہ ہے کہ کہیں بعض راویوں نے اس حدیث کو اسکی کتاب میں اضافہ کیا ہے تو اس صورت میں پھر اہل سنت کی کتب کا کیا اعتبار باقی رہ جائے گا کہ جب انکی معتبر ترین کتب میں حدیث کا اضافہ یا کمی کی جا سکتی ہو تو۔

4- حضرت مہدی (ع) کی حکومت کی راہ ہموار کرنا:

يخرج ناس من المشرق فيوطّئون للمهدي سلطانه،

رسول خدا (ص) نے فرمایا ہے: مشرق سے لوگ خارج ہوں گے اور مہدی کی حکومت کی راہ ہموار کریں گے۔

سنن ابن ماجہ ج 2 ، ص1368 - باب خروج المهدي ، ح 4088.
يخرج رجل من وراء النّهر يقال له الحارث بن حرّاث ، علي مقدّمته رجل يقال له منصور ، يوطّي ء او يمكّن لآل محمّد (ع) كما مكّنت قريش لرسول اللَّه r وجب علي كل مؤمن نصره او قال «اجابته»

علی (ع) نے رسول خدا (ص) سے روایت نقل کی ہے کہ ان حضرت نے فرمایا:

ایک مرد نہر کے اس طرف سے خارج ہو گا کہ اسے حارث ابن حرّاث کہا جاتا ہے، اسکے لشکر کا سالار منصور نام کا شخص ہے کہ جو آل محمد کی حکومت کی راہ ہموار کرے گا جیسے کہ قریش نے رسول خدا کے لیے انجام دیا تھا۔ ہر مؤمن پر لازم ہے کہ اسکی مدد کرے، یا اسکی دعوت پر لبیک کہنا ضروری ہے۔ 

سنن ابي داود ، كتاب المهدي ، ح 4290

5- نزول حضرت عيسی ( ع ) اور امامت حضرت مہدی (ع):

كيف انتم اذا نزل ابن مريم فيكم و امامكم منكم،

رسول خدا (ص) نے فرمایا: تمہارا اس وقت کیا حال ہو گا جب مریم کا بیٹا تم میں نازل ہو گا اور تمہارا امام تم میں سے ہو گا۔

صحيح بخاري ، ج4 ص205 - كتاب بدء الخلق ، باب نزول عيسي بن مريم ( ع )

صحيح مسلم ، ج1 ص 136 - كتاب الايمان ، باب 71 ، ح 244 
فينزل عيسي بن مريم r فيقول اميرهم: تعال صلّ لنا . فيقول: لا . انّ بعضكم علي بعض امراء تكرمة اللَّه هذه الامّة،

پھر عیسی ابن مریم نازل ہوں گے، انکا سردار ان سے کہے گا: آئیں اور ہمیں نماز پڑھائیں (یعنی امام جماعت بنیں) وہ کہے گا: نہیں، تم میں سے بعض ایک دوسرے پر امیر و حاکم ہیں کیونکہ خداوند نے اس امت کو محترم بنایا ہے۔

صحيح مسلم ، ج1 - كتاب الايمان ، باب 71  ص137 ، ح 247 .

سنن ابن ماجہ ج 2   ، ص1361 - كتاب الفتن باب 33 ، ح 4077
یہ دو احادیث واضح بیان کر رہی ہیں کہ عیسی ابن مریم (ع) کے نزول کے وقت اسکا امام کوئی اور ہے کہ گذشتہ روایات کی روشنی میں وہ امام حضرت مہدی صاحب الزمان (ع) کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں ہے۔

روایات گذشتہ سے معلوم ہوا کہ ظہور کے بعد حضرت مہدی (ع) کا اصلی کام زمین کو عدل و انصاف سے پر کرنا ہے، لہذا ضروری ہے کہ ان حضرت کی حکومت قدرت مند اور وزراء صالح و نیک انسان ہوں اور یہ ایسی چیز ہے کہ جس پر تقریبا مسلمانوں کے تمام فرقوں کا اعتقاد ہے۔

اس بارے میں روایات سے بھی واضح ہوا ہے کہ عیسی ابن مریم (ع) بھی نازل ہوں گے اور چونکہ امامت ، قدرت اور حکومت حضرت مہدی کے اختیار میں ہو گی تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ حضرت عیسی ان حضرت کی مدد کے لیے نازل ہوں گے۔ خود حضرت عیسی کے آنے کا سبب شاید اس زمانے میں مسیحیوں کا کثرت سے موجود ہونا ہو کہ جب حضرت عیسی نماز کے لیے امام زمان کے پیچھے کھڑے ہوں گے تو انکے پیروکاروں میں سے جو طالب حق ہیں، وہ جلدی اسلام کو قبول کر لیں گے۔

اسکے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ صاحبان کتب صحاح مخصوصا بخاری و مسلم نے کوشش کی ہے کہ اس زمانے میں حکومت کو حضرت مسیح کے اختیار میں قرار دیں اور یہی وجہ ہے کہ اہل سنت کی ان دو اہم کتب میں حضرت مہدی کا نام بالکل ذکر نہیں کیا گیا۔ بخاری اور مسلم نے شاید گمان کیا ہے کہ اگر وہ دونوں اپنی آنکھیں بند کر لیں گے تو دوسرے بھی اندھے ہو جائیں گے !

6- خسف بیداء:

روایات اہل بیت (ع) سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مہدی (ع) کے ظہور کے لیے دو طرح کی علامات واقع و ظاہر ہوں گی:

ایک: وہ عمومی علامات کہ اس زمانے تک دعوا کیا جا سکتا ہے کہ وہ تمام علامات ظاہر ہو گئی ہیں،

دو: وہ ظہور کی علامات حتمیہ ہیں اور وہ پانچ علامات ہیں:

خروج سفيانی

صيحہ (نداء) آسمانی

نفس زكيّہ کا قتل ہونا

خسف بيداء

خروج يمانی

ان علامات کو روایات کی روشنی میں حتمی علامات کہا گیا ہے۔

اہل سنّت نے خروج سفيانی اور خسف بيداء کو اپنی روايات میں ذکر کیا ہے،

کتب صحاح ستہ میں شام سے لشکر (لشکر سفیانی) کے آنے اور اس لشکر کے مکہ و مدینہ کے درمیان زمین میں دھنسنے (خسف بیداء) کے بارے میں نقل ہوا ہے اور یہ تمام روایات رسول خدا (ص) سے نقل کی گئی ہیں:

بخاری نے لکھا ہے:

ایک لشکر کعبہ سے جنگ کے لیے آئے گا اور جب ایک خشک بیابان صحرا میں پہنچے گا تو وہاں زمین میں دھنس جائے گا۔

مسلم نے لکھا ہے:

ایک شخص خانہ کعبہ کی پناہ لے گا اور لشکر اسکی طرف جائے گا کہ اچانک وہ لشکر زمین میں غرق ہو جائے گا۔

مسلم بعد والی حدیث میں ابو جعفر سے نقل کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ اس نے قسم کھائی ہے کہ وہ بیابان اطراف مدینہ میں ہے:

انّها لبيداء المدينه،

ترمذی نے لکھا ہے:

لوگ اس بیت (گھر) سے جنگ کرنے سے منع نہیں ہوں گے، یہاں تک کہ ایک گروہ مقابلہ کرنے کے لیے آئے گا اور جب وہ بیابان میں پہنچے گا تو سارے کے سارے زمین میں دھنس جائیں گے۔

ابن ماجہ نے بھی ترمذی کی طرح کی روایت کو نقل کیا ہے۔

ابو داود نے اسی مطلب کو تھوڑی تفصیل سے ذکر کیا ہے:

خلیفہ کے مرنے کے بعد لوگوں اختلاف شروع ہو گا، کچھ اہل مدینہ ، مکہ کی طرف جائیں گے۔ اہل مکہ میں سے کچھ افراد اسکے پاس جائيں گے اور رکن و مقام کے درمیان اسکی بیعت کریں گے، (یہاں ابو داود لکھتا ہے کہ وہ شخص مجبوری کی حالت میں قبول کرے گا، یہ بات صحیح نہیں ہو سکتی)، لشکر شام اسکی طرف جائے گا کہ مکہ و مدینہ کے درمیان زمین میں دھنس جائے گا، جب لوگ اس صورتحال کو دیکھیں گے تو شام اور عراق کے کچھ افراد رکن و مقام کے درمیان اسکی بیعت کریں گے، وہ اموال کو لوگوں کے درمیان عادلانہ طور پر تقسیم کرے گا اور سنت پیغمبر پر عمل کرے گا۔۔۔۔۔

حاكم نیشاپوری نے کتاب مستدرک حاکم میں ابو داود کی روايت کو ایسے نقل کیا ہے:

میری امت کے ایک شخص کی اہل بدر کی تعداد کے مطابق یعنی 313 افراد رکن و مقام کے درمیان بیعت کریں گے اور شام و عراق سے بھی ایک گروہ مدد کے لیے آئے گا، پھر لشکر شام اس شخص سے جنگ کے لیے جائے گا تو بیداء کے مقام پر زمین میں دھنس جائے گا۔

جیسا کہ آپ نے ملاحظہ کیا ان تمام روایات میں کسی روایت میں بھی سفیانی کا نام ذکر نہیں کیا گیا اور یہ بھی ذکر نہیں ہوا کہ جس شخص کی رکن و مقام کے درمیان بیعت کی جائے گی، وہ کون اور اسکا کیا نام ہے اور کیونکہ ابو داود نے اس روایت کو کتاب المہدی میں ذکر کیا ہے، پس معلوم ہوتا ہے کہ وہ شخص کہ جسکی بیعت کی جائے گی، وہ حضرت مہدی ہیں۔

حاكم نیشاپوری کتاب مستدرک میں ایک دوسری روايت بھی ہے کہ جس میں سفیانی اور اسکے لشکر کے زمین میں دھنسنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے، وہ روایت یہ ہے:

ایک شخص (سفیانی) دمشق سے خروج کرے گا اور میرے اہل بیت میں سے بھی ایک شخص خروج (ظہور) کرے گا۔ اسکی خبر سفیانی کو ملے گی، وہ اپنے لشکر کے ساتھ اسکی طرف حرکت کرے گا۔۔۔۔۔ جب یہ لشکر بیابان میں پہنچے گا تو وہاں زمین میں دھنس جائے گا، صرف ایک بندہ باقی بچے گا کہ جو اس واقعے کی خبر لے کر آئے گا۔

صحيح بخاري ، ج3 ص 86 كتاب البيوع ، باب ما ذكر في الاسواق،

صحيح مسلم ، ج  4  ص10 - 2208 ، كتاب الفتن و اشراط السّاعة ، باب الخسف بالجيش الذي يؤمّ البيت ، ح8 - 4 .،

سنن ترمذي ، ج4  ص415 - كتاب الفتن ، باب21 ما جاء في الخسف ح 2184

سنن ابن ماجه ، ج 2 ص51 - 1350 ، كتاب الفتن ، باب 30 جيش البيداء ، ح 5 - 4063

سنن ابي داود ، كتاب المهدي ، ح4286 .

مستدرك حاكم ، ج4 ص478 ح 8328 و ص565 ح8586

فریقین (شیعہ و سنی) کی بہت سی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سفیانی اپنے جس لشکر کو اہل بیت کے شخص یعنی حضرت مہدی (ع) کی طرف روانہ کرے گا، وہ سفیانی خود اس لشکر میں نہیں ہو گا، اسی لیے کتاب مستدرک حاکم کی آخری روایت صحیح نہیں ہو گی کہ جو سفیانی کو زمین میں دھنسنے والے لشکر میں سے قرار دیتی ہے۔

حضرت مہدی (عج) اور بعض كتب اہل سنت:

رسول خدا (ص) کے اہل بیت میں سے ایک شخص بنام مہدی کا خروج و ظہور کرنے کا مسئلہ ایسا ہے کہ جسے اہل سنت کے اکثر علماء نے ذکر کیا ہے۔ مصنف معاصر محمد ابن احمد ابن اسماعيل نے ، كتاب «المهدي ، حقيقة لا خرافة» کی فصل دوم میں ان مطالب کو ذکر کیا ہے:

1- 31 اصحاب کے اسماء کو ذکر کیا ہے کہ جہنوں نے حضرت مہدی کے بارے میں احادیث کو نقل کیا ہے۔

2- 38 علماء کے اسماء کو ذکر کیا ہے کہ جہنوں نے اپنی اپنی کتب میں ان احادیث کو ذکر کیا ہے۔

3- 63 ایسے علماء کے اسماء کو ذکر کیا ہے کہ جہنوں نے ان احادیث کو صحیح یا حسن قرار دیا ہے۔

4- 31 ایسے علماء کے اسماء کو ذکر کیا ہے کہ جہنوں نے حضرت مہدی کے بارے میں مستقل کتاب لکھی ہے۔

اس مختصر تحریر میں ہم اہل سنت کے 17 علماء کے اسماء کو ذکر کرتے ہیں کہ حضرت مہدی کے بارے میں مطالب یا روایات کو ذکر کیا ہے:

1- حاكم نيشاپوری - الامام الحافظ ابو عبد اللَّه محمد بن عبد اللَّه» ، متوفّي 405 ہجری نے اپنی معروف کتاب «المستدرک علي الصّحيحين» میں متعدد احاديث کو حضرت مہدی (ع) کے بارے میں ذکر کیا ہے کہ ان حضرت کو رسول خدا (ص) کے اہل بیت میں اور حضرت فاطمہ (س) کی اولاد میں سے قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔

عن ابي سعيد خُدري (رض) قال: قال رسول اللَّه : «لا تقوم السّاعة حتّي تملأ الارض ظلماً و جوراً و عدواناً ثمّ يخرج من اهل بيتي من يملأها قسطاً و عدلاً كما ملئت ظلماً و عدواناً،

ساعت (ظہور) برپا نہیں ہو گی جب تک کہ زمین ظلم و جور سے بھر نہ جائے پھر میرے اہل بیت میں سے ایک شخص خروج (ظہور) کرے گا اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسے کہ وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہو گی۔

المستدرک علي الصّحيحين ج4 ص&600 ، ح 8669 .

پھر حاکم نے لکھا ہے: یہ حدیث شیخین (بخاری و مسلم) کے مطابق بھی صحیح ہے لیکن ان دونوں نے اس حدیث کو اپنی اپنی کتاب میں ذکر نہیں کیا۔

2- ابو سالم كمال الدّين محمّد ابن طلحة ابن محمّد ابن الحسن شافعی ، متوفّي 652 ہجري نے كتاب «مطالب السّؤول في مناقب آل الرّسول» میں بارہ آئمہ کے بارے میں مناقب کو ذکر کیا ہے۔ اس نے باب 12 میں بارویں امام کے بارے میں ایسے لکھا ہے:

الباب الثاني عشر في ابي القاسم محمّد بن الحسن الخالص بن علي المتوكّل ابن القانع ابن عليّ الرّضا ابن موسي الكاظم ابن جعفر الصّادق ابن محمّد الباقر ابن علي زين العابدين ابن الحسين الزّكي ابن عليّ المرتضي اميرالمؤمنين ابن ابي طالب ، المهدي ، الحجّة ، الخلف الصّالح ، المنتظَر (ع) و رحمة اللَّه و بركاته،

پھر لکھتا ہے:

امّا نسبه اباً و امّاً فابوه الحسن الخالص ابن . . . و امّه امّ ولد تسمّي صقيل (صحيح صيقل ہے) و قيل حكيمه (حكيمہ خاتون) و قيل غير ذلك ، و امّا اسمه فمحمّد و كنيته ابو القاسم و لقبه الحجّة و الخلف الصّالح و قيل المنتظَر،

یعنی حضرت مہدی کے والد گرامی امام حسن عسکری اور والدہ محترمہ صیقل ہیں اور اسکا نام محمد اور کنیت ابو القاسم اور لقب حجت اور خلف صالح تھا اور منتظر بھی کہا جاتا ہے۔ پھر بعض روایات کو ابو داود اور ترمذی سے نقل کرتا ہے اور صحیحین میں نقل شدہ حدیث:  

«كيف انتم اذا نزل ابن مريم فيكم و امامكم منكم» ،

اور بعض روایات کو نقل کرنے کے بعد نتیجہ نکالتا ہے کہ حضرت مہدی رسول خدا کے اہل بیت اور اولاد حضرت فاطمہ میں سے ہیں کہ جو رسول خدا کے ہمنام ہیں اور وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے اور وہ عبد المطلب کی اولاد میں سے ہیں اور سردار جنت ہیں۔

سنن ابن ماجه ، ج 2  ص&1368 ، ح 4087 .  كتاب الفتن باب خروج المهدي ،

انس ابن مالک سے نقل ہوا ہے کہ رسول خدا (ص) نے فرمایا ہے: ہم اولاد عبد المطلب جنت کے سردار ہیں، میں، حمزه ، علی ، جعفر ، حسن ، حسين اور مہدی (ع)۔

پھر اشکال کرتے ہیں کہ اگر کوئی کہے کہ یہ کوئی دلیل نہیں ہے کہ یہ وہی ابو القاسم محمّد ابن الحسن ہے، کیونکہ اولاد حضرت فاطمہ زیادہ ہے اور روز قیامت تک جو بھی اولاد فاطمہ میں سے ہے، وہ رسول خدا کے اہل بیت میں سے بھی ہو گا۔ پس آپ اپنے دعوی کو ثابت کرنے کے لیے کوئی دوسری دلیل لائیں۔

جواب میں وہ کہتے ہیں کہ رسول خدا (ص) نے اسکی پیشانی، ناک، رخسار وغیرہ کے بارے میں علامات کو ذکر فرمایا ہے اور وہ تمام علامات امام حسن عسکری کے فرزند پر صحیح منطبق ہوتی ہیں۔

پھر اشکال کرتا ہے کہ شاید بعد میں بھی کوئی شخص اولاد حضرت فاطمہ میں سے انہی علامات کے ساتھ دنیا میں آ جائے۔ جواب دیتا ہے کہ جب اسی علامت کے ساتھ کوئی شخص مل جائے تو اسکو صرف احتمال و گمان کیوجہ سے چھوڑا نہیں جا سکتا اور اگر ہر چیز کے بارے میں روایات میں کوئی علامت ذکر ہوئی ہو تو کوئی دوسری چیز اسی علامت کے ساتھ موجود ہونے کا احتمال دیں تو پھر کہنا چاہیے کہ اگر روایت میں کسی چیز کی کوئی علامت ذکر ہو، اگر یہی علامت تکراری ہو تو پھر علامت، علامت نہیں رہے گی، جیسے اگر کوئی کہے کہ فلاں گلی میں ہمارے گھر کا دروازہ سبز رنگ کا ہے، اب اگر اسی گلی میں اس دروازے کے علاوہ کوئی دوسرا دروازہ بھی سبز رنگ کا ہو تو یہ سبز پھر علامت نہیں رہے گا، لہذا روایات میں کسی چیز کی جو علامات ذکر ہوتی ہیں، وہ علامات اسی چیز کے ساتھ مخصوص ہوتی ہیں، پھر ایسے مزید لکھتا ہے کہ:

مسلم نے اپنی کتاب صحيح میں لکھا ہے:

رسول خدا (ص) نے عمر سے فرمایا: یمن سے ایک اویس نام کا بندہ ان علامات کے ساتھ آئے گا، اگر ہو سکے تو اس سے طلب مغفرت کرنا۔

ج 4 صحيح مسلم ، ص 1969 ، كتاب فضائل الصحابه ، باب 55 من فضائل اويس القرنيّ ( رض ) ح225 .

اور جب وہی شخص انہی علامات کے ساتھ آ گیا تو عمر نے نہیں کہا کہ شاید بعد میں بھی کوئی شخص انہی علامات کے ساتھ آ جائے۔

یہی قصہ خوارج اور یہودیوں کا بھی ہے کہ جب رسول خدا کتاب تورات میں مذکور علامات کے ساتھ مبعوث ہوئے تو انھوں نے کہا: شاید کوئی دوسرا نبی انہی علامات کے ساتھ آ جائے تو خداوند نے انکی اس بات پر مذمت کی تھی اور سورہ بقرہ کی آیت 89 میں ان پر لعنت بھی کی تھی۔

لہذا اگر ہمیں محمّد بن الحسن ، الحجّہ ، الخلف الصّالح کے مبارک وجود میں رسول خدا کی بیان کی گئی علامات مل جائیں تو پھر ہمیں انہی صفات و علامات کے ساتھ کسی دوسرے شخص کے انتظار میں نہیں رہنا چاہیے۔

پھر مزید ایک اشکال ذکر کرتا ہے کہ:

جو کچھ تم نے کہا ہے وہ صحیح ہے لیکن روایت میں ذکر ہوا ہے کہ اسکے والد کا نام اور رسول خدا کے والد کا نام ایک ہی ہے حالانکہ خلف صالح (امام زمان) کے والد کا نام حسن عسکری ہے نہ عبد اللہ۔

جواب میں کہتا ہے کہ:

اوّلاً – زبان عرب میں دادا کو بھی والد کہا جاتا ہے، جیسے قرآن میں آیا ہے:

«مِلَّةَ اَبيكُمْ اِبْراهيمَ»

(یہ دین وہی) تمہارے والد ابراہیم کا دین ہے۔

سوره حجّ آيت 78

ثانياً  کنیت کو بھی اسم (نام) کہا جاتا ہے، بخاری و مسلم نے نقل کیا ہے کہ رسول خدا (ص) نے علی کا ابو تراب نام رکھا اور علی (ع) کے نزدیک اس نام سے زیادہ کوئی دوسرا نام محبوب تر نہیں تھا۔ (ابو تواب کنیت ہے نہ نام)

یہ جو روایت میں آیا ہے کہ امام زمان کے والد کا نام عبد اللہ ہے تو یہ اس لیے ہے کہ انکے جدّ (دادا) یعنی امام حسین (ع)، ابا عبد اللہ تھے، یعنی وہ فرزند امام حسین (ع) ہیں نہ فرزند امام حسن (ع) کہ انکی کنیت ابو محمد تھی۔

3- سبط ابن جوزی متوفّي 654 ہجری نے كتاب تذكرة الخواص ، المعروف: «تذكرة خواصّ الامّة في خصائص الائمّة (ع) فصل متعلق بہ امام زمان (ع) تحت عنوان: «فصل في ذكر الحجّة المهدي» میں ایسے لکھا ہے:

هو محمّد بن الحسن بن علي بن . . . علي بن ابي طالب عليه (وعليهم) السّلام و كنيته ابو عبد اللَّه و ابو القاسم و هو الخلف الحجّة صاحب الزّمان ، القائم و المنتظَر و التّالي و هو آخر الائمّة»،

اس نے ابتداء میں بارہ آئمہ کے نام ترتیب سے ذکر کیے ہیں اور اسکے بعد حضرت مہدی کی کنیت اور القاب کو ذکر کرتا ہے اور کہتا ہے کہ: وہ (شیعہ کے) آخری امام ہیں۔ پھر اس حدیث کو اسکی سند کے ساتھ ابن عمر سے نقل کرتا ہے کہ رسول خدا نے فرمایا:

«يخرج في آخر الزّمان رجل من ولدي اسمه كاسمي و كنيته ككنيتي يملأ الارض عدلاً كما ملئت جوراً فذالك هو المهدي»،

آخر الزمان میں فرزندان میں سے ایک شخص خروج (ظہور) کرے گا کہ وہ میرا ہمنام اور ہم کنیت ہو گا، وہ زمین کو عدل سے بھر دے گا جیسا کہ ظلم سے بھری جا چکی ہو گی اور وہ وہی مہدی ہے۔

اور اس نے اس حدیث کو مشہور کہا ہے، پھر مزید چند روایات کو نقل کیا ہے اور حضرت مہدی کی طولانی عمر کے ممکن ہونے کو ثابت کرنے کے لیے تاریخ میں چند طولانی عمر والے افراد کو ذکر کیا ہے اور آئمہ کی مدح میں شعر کو نقل کرنے کے بعد لکھتا ہے:

«قلت: و من شروط الامام ان يكون معصوماً لئلاّ يقع في الخطأ و لانّهم حجج اللَّه علي عباده و من شرط الحجّة العصمه من كلّ وصمه . انتهي ذكر الائمّة ( ع ) » .

یعنی امام کی شرائط میں سے ہے کہ وہ معصوم ہو تا کہ اس سے خطا سرزد نہ ہو اور یہ کہ وہ (آئمہ) خداوند کی طرف سے بندوں پر حجت ہیں اور حجت ہونے کی شرط، ہر عیب سے محفوظ ہونا ہے۔

4- ابن ابی الحديد معتزلی متوفّي 655 ہجری نے ج7  شرح نہج البلاغہ ، ص 59  امیر المؤمنین علی کے قول «بابي ابن خيرة الاماء» میرے والد بہترین کنیزوں کے فرزند پر قربان ہوں، کے ذیل میں لکھا ہے:

اگر کہا جائے کہ وہ مرد کون ہے تو جواب میں ہم کہیں گے:

امامیہ کہتے ہیں: وہ بارویں امام ہیں اور انکی والدہ کنیز تھی کہ جسکا نام نرجس تھا،

معتزلہ کہتے ہیں: وہ فاطمی ہے (یعنی از اولاد حضرت فاطمہ س) کہ جو بعد میں دنیا میں آئے گا اور اسکی والدہ کنیز ہے اور وہ ابھی موجود نہیں ہے۔

پھر ایک سوال ذکر کرتا ہے کہ:

اس زمانے میں بنی امیہ میں سے کون موجود ہو گا کہ وہ مرد (فاطمی) اس سے انتقام لے گا ؟

جواب میں کہتا ہے:

امامیہ: رجعت کے قائل ہیں اور کہتے ہیں جب حضرت مہدی ظاہر ہوں گے تو بنی امیہ کا ایک گروہ رجعت کرے گا اور وہ امام آل محمد کے تمام دشمنوں سے انتقام لیں گے۔

معتزلہ: کہتے ہیں کہ آخر الزمان میں خداوند اولاد فاطمہ میں سے ایک شخص کو خلق کرے گا کہ جو ابھی موجود نہیں ہے اور وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسا کہ وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہو گی اور وہ ظالمین سے بہت سخت انتقام لیں گے اور اسکی والدہ کنیز ہے اور اس شخص کا نام رسول خدا کی طرح، محمد ہے، وہ شخص اس زمانے میں ظاہر ہو گا کہ جب بہت سے اسلامی ممالک پر بنی امیہ کا غلبہ ہو گا اور وہ ابو سفیان ابن حرب ابن امیہ کی اولاد میں سے، سفیانی ہے کہ جسکے آنے کے بارے میں صحیح و معتبر روایت میں خبر دی گئی ہے اور وہ فاطمی امام اس سفیانی اور اسکے بنی امیہ کے پیروکاروں وغیرہ کو قتل کرے گا اور اس وقت حضرت مسیح آسمان سے نازل ہوں گے۔۔۔۔۔

میں بھی حضرت مہدی کو یاد کرتے ہوئے کہتا ہے:

تمام اسلامی فرقوں کا اجماع و اتفاق ہے کہ دنیا کا خاتمہ حضرت مہدی کے قیام کے ساتھ ہو گا۔

ہم نے اہل سنت کے اس عالم کے کلام کا، کہ جو شیعہ اور حتی اہل سنت کے بہت سے علماء کے عقیدے کے بر خلاف ہے، ترجمہ کیا ہے تا کہ اسکی طرف سے کی گئی امیر المؤمنین علی (ع) کی مدح و تعریف کو دیکھ یا سن کر بعض لوگ اسے شیعہ نہ سمجھ لیں، حالانکہ امیر المؤمنین علی (ع) کی ذات ایسی ہے کہ جسکی تعریف غیر مسلم علماء نے بھی کی ہے اور انکی بے نظیر و لا زوال شخصیت کے بارے میں کتب لکھی اور اشعار کہے ہیں جیسے عبد المسیح انطاکی کہ اس نے امیر المؤمنین علی (ع) کی مدح میں 5595 اشعار پر مشتمل طولانی ترین قصیدہ لکھا ہے۔ علاّمہ امينی (ره) نے اس قصیدے کے 15 بیت اپنی کتاب الغدیر ج 3 میں ذکر کیے ہیں۔

5- محمّد ابن يوسف ابن محمّد گنجی شافعی وہ سن 658 ہجری کو شہید ہوا تھا۔ اسکی شہادت کا سبب اسکی کتاب «كفاية الطّالب في مناقب امير المؤمنين علي بن ابي طالب صلوات اللَّه و سلامہ عليہ تھی، حالانکہ اس کتاب میں علمائے اہل سنت کے اقوال کو نقل کیا گیا ہے لیکن اسکے باوجود اس کتاب لکھنے کے جرم میں 29 ماہ رمضان مسجد جامع دمشق میں اس عالم کو شہید کر دیا گیا۔

عالم اہل سنت نسائی نے کتاب «البيان في اخبار صاحب الزّمان (ع) لکھی ہے کہ ہم اس کتاب کے 13 ابواب کے صرف عناوین کو ذکر کرتے ہیں کہ جو اجمالی طور پر مصنف کے عقیدے پر بھی دلالت کرتے ہیں:

1- حضرت مہدی (ع) کے آخر الزمان میں خروج کرنے کے بارے میں،

2- حدیث نبوی: مہدی (ع) میری عترت اور اولاد حضرت فاطمہ میں سے ہے،

3- حدیث: مہدی (ع) اہل جنت کے سرداروں میں سے ہے،

نحن ولدَ عبد المطّلب سادة اهل الجنّة انا و حمزه و علي و جعفر و الحسن و الحسين و المهدي (ع)

4- رسول خدا (ص) کے مہدی (ع) کی پیروی کرنے کے حکم کے بارے میں،

5- اہل مشرق کے ان حضرت کی مدد کرنے کے بارے میں،

6- ظہور کے بعد ان حضرت کی حکومت کی مدت کے بارے میں،

7- وہ حضرت نماز میں حضرت عیسی (ع) کے امام ہوں گے،

8- رسول خدا (ص) نے حضرت مہدی (ع) کی علامات کو ذکر کیا ہے، اور اس نے روایت: مہدی اہل جنت میں مور کی مانند ہو گا، (خوبصورتی کے لحاظ سے)،

9- رسول خدا (ص) نے واضح فرمایا ہے کہ مہدی (ع) اولاد امام حسین (ع) میں سے ہے،

10- حضرت مہدی (ع) کے کرم و سخاوت کے بارے میں،

11- اس قول کے ردّ کے بارے میں کہ مہدی (ع)، وہی عیسی ابن مریم (ع) ہے،

12- حدیث نبوی: وہ امت کہ جسکی ابتداء میں، میں اور آخر میں عیسی (ع) اور وسط میں مہدی (ع) ہوں، وہ امت ہلاک نہیں ہو گی۔

13- حضرت مہدی (ع) کی کنیت اور انکا اخلاق، اخلاق نبوی ہے، اور اس نے باب کے آخر میں استدلال کیا ہے کہ حضرت مہدی (ع) کے والد، حضرت امام عسکری (ع) ہیں۔

6- ابن تيميّہ متوفّی 728 ہجری اس نے اپنی كتاب «منهاج السنّة» کی جلد 4 میں حديث نبوی:

«يخرج في آخر الزّمان رجل من ولدي اسمه كاسمي و كنيته كنيتي يملأ الارض عدلاً كما ملئت جوراً،

کو قبول کیا ہے اور اسے وہی مہدی قرار دیتا ہے اور اس نے ابو داود و ترمذی کی ظہور کے حتمی ہونے اور ان حضرت کے رسول خدا (ص) کے اہل بیت میں سے ہونے کے بارے میں، بعض احادیث کو نقل کیا اور انکو صحیح و معتبر قرار دیا ہے۔

7- شيخ السلام ابراهيم بن محمّد بن المؤيّد الحمويي الخراسانی متوفّی 732 ہجری نے كتاب فرائد السّمطين في فضائل المرتضي و البتول و السّبطين و الائمّة من ذرّيّتهم (ع)، میں حضرت مہدی (ع) کے بارے میں زیادہ روایات کو نقل کیا ہے، جیسے اہل سنت کے اس عالم نے نقل کیا ہے کہ:

حضرت مہدی (ع) کے لیے غیبت ہو گی اور یہ کہ جو بھی خروج مہدی کا انکار کرے، گویا وہ رسول خدا حضرت محمد (ص) پر نازل ہونے والی تمام چیزوں کا انکار کر کے کافر ہو گیا ہے اور یہ کہ حضرت مہدی (ع) کا انتظار کرنا افضل ترین عبادت ہے۔

8- ابن قيّم متوفّی 751  ہجری یہ ابن تيميّہ کا شاگرد تھا، اس نے اپنی كتاب: «المنار المنيف في الصّحيح و الضعيف» کی فصل 50 میں حضرت مہدی (ع) کے بارے میں روايات نقل کی ہیں۔

اس نے ابن ماجہ کی روايت: «لا مهدي الاّ عيسي بن مريم » کو سند کے لحاظ سے ضعیف اور دوسری روایات، کہ جو حضرت مہدی (ع) اولاد حضرت فاطمہ (س) سے قرار دیتی ہیں، سے تعارض میں قرار دیتے ہوئے ردّ کر دیا ہے۔

9- ابن صبّاغ مالكی علی ابن محمّد متوفّی 855 ہجری نے اپنی كتاب الفصول المهمّة في معرفة احوال الائمّة (ع) کی فصل 12 میں ایسے لکھا ہے:

الفصل الثّاني عشر في ذكر ابي القاسم محمّد الحجّة الخلف الصّالح ابن ابي محمّد الحسن الخالص

اور مزید لکھتا ہے کہ: وہ بارویں امام ہیں اور ذکر تاریخ ولادت اور دلائل امامت اور نیز انکے بارے میں بعض روایات، انکی غیبت اور حکومت کی مدت، انکی کنیت اور نسب وغیرہ سب کا ذکر کیا ہے۔ عربی عبارت ایسے ہے:

و هو الامام الثّاني عشر و تاريخ ولادته و دلايل امامته و ذكر طرف من اخباره و غيبته و مدّة قيام دولته و ذكر كنيته و نسبه و غير ذلك ممّا يتّصل به،

اور چند روایات کو ذکر کرنے کے بعد لکھتا ہے:

ابو القاسم محمّد الحجّة بن الحسن الخالص شب نیمہ شعبان سن 255 ہجری سامراء میں دنیا میں آئے اور والد و والدہ کی طرف سے نسب: وہ ابو القاسم محمّد الحجّة ابن حسن خالص ابن علی ہادی . . . ابن علی ابن ابی طالب صلوات اللَّه عليہم اجمعين ہیں اور انکی والدہ ایک کنیز تھی کہ جسکا نام نرجس تھا، انکی کنیت ابو القاسم اور لقب حجت مہدی ، خلف صالح ، قائم ، منتظَر ، صاحب الزّمان اور مشہور ترين لقب مہدی ہے اور حضرت مہدی کے بارے میں متعدد روایات کو نقل کرنے کے بعد آیت « لِيُظْهِرَهُ عَلَي الدّينِ كُلِّه » کی طرف اشاره اور پھر آيت: «هو الّذي ارسل رسوله بالهدي و دين الحقّ ليظهره علي الدّين كلّه» کی طرف اشارہ کیا ہے۔

سوره توبہ ، آيت 33

سوره فتح ، آيت 28

سوره صفّ ، آيت 9

10- ابن طولون متوفّي 953 ہجری اور اہل دمشق ہے، اس نے اپنی كتاب «الائمة الاثنا عشر» میں بارویں امام کے بارے میں ایسے لکھا ہے:

و ثاني عشر هم ابنه (يعني ابن الحسن العسكري) محمّد بن الحسن و هو ابوالقاسم محمّد بن الحسن بن عليّ الهادي ابن محمّد الجواد ابن . . . عليّ بن ابي طالب رضي اللَّه عنهم» .

اور اسے وہی مہدی قرار دیتا ہے، پھر ایک شعر کو نقل کرتا ہے کہ جس میں بارہ آئمہ کے اسماء ترتیب سے ذکر ہوئے ہیں۔

11- عبد الوہاب شعرانی متوفّی 973 ہجری نے كتاب «اليواقيت و الجواهر في بيان عقائد الاكابر» میں حضرت مہدی (ع) کو امام حسن عسكری (ع) کا فرزند قرار دیا ہے اور لکھا ہے کہ اسکی تاریخ ولادت نیمہ شعبان سن 255 ہجری کو ہوئی اور اب کہ جب سن 958 ہجری ہے، اس حساب سے اسکی عمر 706 سال ہو چکی ہے۔

12- ابن حجر ہيتمی مكّی متوفّي 974 ہجری نے كتاب «الصّواعق المحرقه» میں لکھا ہے:

بارویں آیت: «و انّه لعلمٌ للسّاعة» آيت 61 سوره زخرف ہے، یعنی بے شک وہ (حضرت عیسی) ساعت کے لیے علم ہے،

قابل ذکر ہے کہ ابن حجر نے اس کتاب میں اہل بیت کے فضائل کے بارے میں 15 سے زیادہ آیات کو ذکر کیا ہے اور بارویں وہی آیت ہے کہ جسکو ابھی اوپر ذکر کیا گیا ہے اور اس آیت کو ذکر کرنے کے بعد لکھتا ہے کہ:

یہ آیت حضرت مہدی (ع) کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

پھر مزید لکھتا ہے: مہدی (ع) اہل بیت میں سے ہے تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ علی (ع) و فاطمہ (س) کی نسل سے ہیں، اور پھر خروج حضرت مہدی (ع) کے بارے میں چند روایات کو ذکر کرنے کے بعد حدیث:

لا مهدي الاّ عيسي بن مريم، کو ذکر کرتا ہے اور اس روایت کی سند میں محمّد ابن خالد کے مجہول ہونے کیوجہ سے اس حدیث کو قبول نہیں کرتا۔

13- عليّ ابن سلطان محمّد متوفّی 1014 ہجری نے كتاب «مرقاة المفاتيح» میں اس روايت: «اسمه اسمي و اسم ابيه اسم ابي» سے استدلال کرتے ہوئے لکھتا ہے: یہ روایت شیعہ کے بر خلاف ہے کہ جو کہتے ہیں کہ مہدی موعود وہی قائم منتظر ہے اور  وہ محمّد ابن الحسن العسكری ہے، اس کے استدلال کا ضعیف اور غلط ہونا اتنا واضح ہے کہ جسے بیان کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔

14- 
احمد ابن يوسف ابن احمد متوفّی 1019 ہجری نے كتاب «اخبار الدُّوَل و آثار الاُوَل» میں لکھا ہے:

الفصل الحادي عشر في ذكر الخلف الصّالح الامام ابي القاسم محمّد بن الحسن العسكري (رض) و كان عمره عند وفاة ابيه خمس سنين . آتاه اللَّه فيها الحكمة كما اوتيها يحيي (ع) صبيّاً،

فصل 11 خلف صالح ، امام ابی القاسم محمّد ابن الحسن العسكری (ع) کے بارے میں ہے اور انکے والد کی وفات کے وقت انکی عمر پانچ سال تھی، خداوند نے اتنی ہی عمر میں اسے حکمت عطا فرمائی تھی جیسا کہ یحیی کو بھی پچپنے میں عطا فرمائی تھی۔

15- عبد اللَّه ابن محمّد ابن عامر شافعی متوفّي 1171 ہجری نے كتاب «الاتحاف بحبّ الاشراف» میں لکھا ہے:

محمّد ابن الحسن (ع) بارویں امام تھے، انکے القاب مہدي ، قائم ، منتظَر ، خلف صالح اور صاحب الزّمان ہیں، مشہور ترين لقب مہدی ہے لیکن مہدی موعود كہ جو آخر الزّمان میں خروج کرے گا، یہ وہ نہیں ہے،

وہ بارہ آئمہ کی ایسے تعریف کرتا ہے:

و قد اشرق نور هذه السّلسلة الهاشميّة و البيضة الطّاهرة النّبويّة و العصابة العلويّة و هم اثناعشر اماماً . مناقبهم عليّة و صفاتهم سنيّة و نفوسهم شريفة ابيّة و ارومتهم كريمة محمّديّة و هم محمّد الحجّة بن الحسن الخالص ابن عليّ الهادي . . . ابن الامام الحسين اخي الامام الحسن ولدي اللّيّث الغالب عليّ بن ابي طالب رضي اللَّه تعالي عنهم اجمعين،

اس ہاشمی سلسلے، پاک نسل نبوی اور اولاد علوی، کہ جو 12 امام ہیں، کے نور نے سب کو منور کیا ہے، انکے اعلی مناقب اور صفات اور انکا حسب و نسب نبوت محمدی میں موجود ہے، وہ محمد ابن الحسن خالص ابن علی ہادي . . . ابن امام حسين برادر امام حسن ابن شير غالب علی ابن ابی طالب ہیں۔

16- شيخ سليمان ابن ابراہيم قندوزی حنفی متوفّی 1294 ہجری نے كتاب «ينابيع المودّة لذوي القربي» میں متعدد روايات حضرت مہدی (ع) کے بارے میں نقل کی ہیں۔  جیسے باب 65 میں لکھتا ہے:

۔۔۔۔۔ امام حسن عسکری (ع) اپنے والد کے بعد 6 سال زندہ رہے اور ابو القاسم محمّد المنتظر ملقّب بہ قائم ، حجّت ، مہدی ، صاحب الزّمان اور خاتم الائمّة الاثنی عشر کے علاوہ اماميہ کے نزدیک انکا کوئی بیٹا نہیں تھا، انکی ولادت 15 شعبان سن 255 ہجری کو واقع ہوئی، انکی والدہ ایک کنیز تھی جسکا نام نرجس تھا، وہ (مہدی ع) اپنے والد کی وفات کے وقت 5 سال کے تھے اور وہ ابھی تک نظروں سے غا‏ئب ہیں۔۔۔۔۔

17- سيّد مؤمن ابن حسن ابن مؤمن شبلنجی متوفّی 1290 ہجری نے كتاب «نور الابصار في مناقب آل النّبي المختار» میں حضرت مہدی (ع) والی فصل میں ایسے لکھا ہے:

فصل في ذكر مناقب محمّد ابن الحسن الخالص ابن علي الهادي . . . ابن علي بن ابي طالب ،

ان حضرت کی بعض صفات کو ذکر کرنے کے بعد، اس نے انکی عمر کے طولانی ہونے کے بارے میں محمّد ابن يوسف گنجی شافعی کے دلائل کو نقل کیا ہے۔

خداوند ان حضرت کے ظہور میں تعجیل فرمائیں اور ہمیں انکے اصحاب و انصار میں قرار دیں۔

التماس دعا۔۔۔۔۔


 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی