2019 December 9
واقعہ عاشورا میں لشکر یزید نے اتنے مظالم ڈھانے کے باوجود امام سجاد (ع) کو کیوں قتل نہیں کیا تھا ؟
مندرجات: ١٨٢١ تاریخ اشاعت: ٢٠ July ٢٠١٩ - ١٤:٠٨ مشاہدات: 267
سوال و جواب » شیعہ عقائد
جدید
واقعہ عاشورا میں لشکر یزید نے اتنے مظالم ڈھانے کے باوجود امام سجاد (ع) کو کیوں قتل نہیں کیا تھا ؟

سوال:

واقعہ عاشورا میں لشکر یزید نے اتنے مظالم ڈھانے کے باوجود امام سجاد (ع) کو کیوں قتل نہیں کیا تھا ؟

جواب:

لشکر یزید کے امام سجاد (ع) کو شہید نہ کرنے کے متعدد عوامل ہیں کہ بعض کو یہاں ذکر کیا جا رہا ہے:

بیعت کا لینا:

اہم ترین عامل یہ کہ شاید لشکر یزید کا امام سجاد (ع) سے بیعت لینے کا ارادہ تھا اور اس کام سے وہ عوام کو یہ بتانا چاہتے تھے کہ امام سجاد (ع) اور یزید لعین کے آپس میں اچھے تعلقات ہیں، اسی لیے تو امام سجاد (ع) نے یزید کی بیعت کی ہے، اسکے علاوہ وہ اپنے اس کام سے واقعہ کربلا میں کی گئی ظالمانہ جنایات کو کم رنگ کر کے عوام کے افکار و توجہ کو اس واقعے سے ہٹانا چاہتے تھے اور اگر امام سجاد (ع) سے بیعت لینے میں ناکامی کی صورت میں انکو قتل کر دیتے، لیکن واقعہ کربلا کے بعد نتیجہ بالکل بر خلاف نکلا اور عوام اس طرح سے یزید کی حکومت کے خلاف ہو گئی کہ امام حسین (ع) کو شہید کرنے کے بعد کامیابی و فتح کا احساس کرنے کی بجائے لشکر یزید اس ظلم و جنایت کو ایک دوسرے کے کندھے پر ڈالنے لگے اور ہر کوئی اس وحشیانہ جنایت کو اپنی گردن پر لینے سے فرار کرنے لگا۔

امام حسین (ع) کے خون سے اپنے دامن کو صاف کرنا:

دوسرا عامل کہ جسکی وجہ سے لشکر یزید نے امام سجاد (ع) کو قتل نہیں کیا تھا، وہ یہ تھا کہ جب یزید نے دیکھا کہ شہادت امام حسین (ع) کا معاشرے میں بہت سخت رد عمل سامنے آیا ہے اور عوام کو معلوم ہو گیا ہے کہ نواسہ رسول خدا کو بے جرم و خطا تین دن کا بھوکا پیاسا شہید کر دیا گیا ہے تو اس (یزید) نے کوشش کی کہ اس گناہ کو اپنے سر نہ لے اور اسے عبید اللہ ابن زیاد اور عمر ابن سعد کی گردن پر ڈال دے۔

اس صورت حال میں امام سجاد (ع) جیسے چہرے، کہ جو فرزند امام حسین (ع) تھے، کی شہادت معاشرے اور عوام میں زیادہ منفی اثر کرتی کیونکہ امام سجاد (ع) ظاہری طور پر بیمار تھے اور اسی بیماری کیوجہ سے انھوں نے لشکر یزید سے جنگ بھی نہیں کی تھی، لہذا یہ قتل یزید کے ناپاک دامن پر ایسا دھبہ ہونا تھا کہ جو اتنی آسانی سے صاف نہیں ہونا تھا اور سب نے یہی کہنا تھا کہ امام سجاد (ع) کا قتل بھی یزید کے حکم دینے پر کیا گیا ہے، لہذا اس سے امام سجاد (ع) کے قتل کی ذمہ داری یزید کی گردن پر آ جانی تھی اور اسکا عوام کو کہنا کہ اس نے امام حسین (ع) کو قتل نہیں کیا، یزید کا یہ دعوا بھی عوام کے سامنے غلط ثابت ہو جانا تھا۔

اس تمام صورتحال کے مطابق لشکر یزید نے یزید کے منع کرنے پر امام سجاد (ع) کو شہید نہیں کیا تھا۔

ارادہ خداوند حفظ امام و امامت تھا:

تیسرا سبب کہ لشکر شام نے امام سجاد (ع) کو شہید نہیں کیا تھا، یہ تھا کہ خداوند کی حکیم و علیم ذات کا ارادہ تھا کہ امام سجاد (ع) زندہ رہیں اور اپنے والد گرامی کی شہادت کے بعد امامت کا ذمہ اپنے کندھوں پر لیں، امام سجاد (ع) کے قتل کی صورت میں نظام امام و امامت میں خلل واقع ہو جانا تھا، اسی حکمت الہی کیوجہ سے شمر امام سجاد (ع) کے خیمے تک گیا اور امام کو قتل کرنے کا ارادہ بھی کیا لیکن ایک دم سے قتل کیے بغیر واپس پلٹ گیا،

 جیسا کہ انبیاء میں بھی ایسے ہی تھا، جیسے حضرت ابراہیم، موسی اور عیسی علی نبينا و آلہ و عليہم السلام، نبی کے وجود کے نہ ہونے سے خداوند کی غرض محقق نہیں ہوتی تھی، اس لیے خداوند کی مشیت و ارادہ تھا کہ یہ انبیاء زندہ رہیں اگرچہ ظالم حکمران اور انکی حکومتیں ان انبیاء کو قتل کرنا، آگ میں جلانا اور نابود کرنا چاہتی تھیں۔

التماس دعا۔۔۔۔۔





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی