2021 May 19
کیوں بنی ہاشم اور انصار نے حضرت زہر سلام اللہ علیہا سے دفاع نہیں کیا ؟
مندرجات: ١٨٥٤ تاریخ اشاعت: ٠٤ February ٢٠٢١ - ١١:٥٣ مشاہدات: 574
سوال و جواب » شیعہ عقائد
کیوں بنی ہاشم اور انصار نے حضرت زہر سلام اللہ علیہا سے دفاع نہیں کیا ؟

شبہہ کی وضاحت  :

مدینہ والوں کا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے خاندانی تعلق تھا اور یہ لوگ آپ کے رشتہ دار تھے ، پیغمبر ص کی والدہ کا تعلق مدینہ سے تھا ،جناب عبد المطلب کی ماں {سلمی} کا تعلق بھی مدینہ کے قدرت مند قبیلہ خزرج سے تھا ،اہل مدینہ میں سے خاص کر خزرج والے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مامو سمجھتے تھے ۔اس کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ  علیہ و آلہ وسلم نے ہزاروں جیالوں ک تربیت کی تھی کہ جو اللہ کی راہ میں جانفشانی کرنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم اور آپ کے خاندان سے دفاع کی راہ میں اپنی جانوں کا ذرانہ پیش کرنے کے لئے تیار تھے ۔

اگر اسلام کے دشمنوں کی بنائی ہوئی جھوٹی باتوں کو قبول کرئے تو سوال اٹھے گا کہ کیا وجہ تھی ؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیٹی پر طمانچے لگی ان کے گھر کو آگ لگائی گئی،ان کے چھے مہنے کا  محسن شہید ہوا لیکن یہ سب دیکھنے کے بعد بنی ہاشم کے منہ بند ہوگیا اور معمولی اعتراض بھی نہ کرئے؟

مدینہ میں موجود مخلص اور جانفشانی کرنے والے لوگ، خاص کر مدینہ والے کہ جو رسول اللہ ص کے رشتہ دار بھی تھے ،انہیں کیا ہوا  تھا ؟سب خاموش ہوگے، کوئی اعتراض نہیں کیا ؟

نقد اور تجزیہ :

یہ شبہہ دلیل نہیں ہے بلکہ ایک قسم ایک شبہہ کی وجہ سے اصل مسئلے ناممکن قرار دینے کا نتیجہ ہے ۔

کیونکہ جناب زہرا علیہا السلام اور امیر المومنین علیہ السلام کے گھر پر حملے کی روایتیں اہل سنت کی ہی کتابوں میں ہے اور وہ بھی صحیح سند ۔لہذا یہ احساساتی اور جذبات سے کھیلنے والی باتیں ہیں،منطقی اور عملی باتیں نہیں ہیں۔

 قبیلہ اسلم کا ابوبکر کی حکومت مظبوط کرنے میں کردار۔

قریش اور قریش کی رہبری کرتے ہوئے ابوبکر اور عمر نے امیر المومنین ع کا حق اس وقت ضائع کیا جس وقت امیر المومنین علیہ السلام، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے غسل و تدفین کے کام میں مصروف تھے اور پھر بعد میں ابوسفیان جیسے لوگوں کو لالچ دینے کے ذریعے قریش کی اکثریت کو اپنے ساتھ ملا دیا اور یہ بھی معلوم ہے کہ باقی قبائل قریش سے مقابلہ کرنے کی قدرت سے محروم تھے۔

ابوبکر اور عمر نے بھی ایسے  قبائل کو جو بادیہ نشین تھے، مدینے میں جمع کیا اور بہت سے نئے مسلمانوں کو اپنی طرف کھینچ لیا۔ امیر المومنین علی علیہ السلام کیونکہ اسلامی جنگوں میں پیش پیش تھے اور جنگوں میں اسلامی لشکر کی فتح میں آپ کا بنیادی کردار تھا ، اسی لئے وہ لوگ آپ سے دشمنی کرتے تھے ۔منافقوں نے بھی اسی کینہ سے فائدہ اٹھایا ۔ ان گروہوں اور قبائل والوں نے ملکر مولا علی ع کے گھر کا محاصرہ کیا اور ان کے گھر کو آگ لگانا چاہا۔

طبري نے اپنی  تاريخ میں، ماوردي شافعي نے  الحاوي الكبير میں اور عبد الوهاب نويري نے  نهاية الأرب، میں لکھا ہے :

وأقبلت أسلم بجماعتها حتي تضايقت بهم السكك فبايعوه، فكان عمر يقول: ما هو إلا أن رأيت أسلم فأيقنت بالنصر.

قبيله اسلم والے ابوبکر کی بییعت کرنے کے لئے سب مدینہ آئے ۔ لوگ اتنی تعداد میں تھی کہ ساری دکانیں اور بازار  ان سے کھچا کھچ بری ہوئی تھی۔

عمر کہتا تھا کہ قبلہ اسلم کو دیکھا تو فتح کا یقین ہو ا ۔

الطبري، أبي جعفر محمد بن جرير (متوفاي310)، تاريخ الطبري، ج 2، ص 244، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت؛

الماوردي البصري الشافعي، علي بن محمد بن حبيب (متوفاي450هـ)، الحاوي الكبير في فقه مذهب الإمام الشافعي وهو شرح مختصر المزني، ج 14، ص 99، تحقيق الشيخ علي محمد معوض - الشيخ عادل أحمد عبد الموجود، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت - لبنان، الطبعة: الأولي، 1419 هـ -1999 م؛

النويري، شهاب الدين أحمد بن عبد الوهاب (متوفاي733هـ)، نهاية الأرب في فنون الأدب، ج 19، ص 21، تحقيق مفيد قمحية وجماعة، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولي، 1424هـ - 2004م.

يعني اگر مدینہ والے اسی حالت میں چاہتے تو بھی  ابوبکر ، عمر اور قبیلہ اسلم سے مقابلہ نہیں کرسکتے تھے .

بني هاشم اور  انصار امیر المومنین عليه السلام کی نگاہ میں :

امير المومنین عليه السلام نے اصحاب کی طرف سے اپنے حق غصب کرنے والے  چاہئے یہ بنی ہاشم والے ہوں یا دوسرے لوگ اس سلسلے میں نہج البلاغہ میں  کئی جگہوں گفتگو کی ہے اور اس کی وجوہات سے بحث کی ہے۔

الف: حضرت علي عليه السلام  اللہ کی درگاہ میں استغاثه:

 اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَعْدِيكَ عَلَي قُرَيْشٍ وَمَنْ أَعَانَهُمْ فَإِنَّهُمْ قَدْ قَطَعُوا رَحِمِي وَأَكْفَئُوا إِنَائِي وَأَجْمَعُوا عَلَي مُنَازَعَتِي حَقّاً كُنْتُ أَوْلَي بِهِ مِنْ غَيْرِي وَقَالُوا أَلَا إِنَّ فِي الْحَقِّ أَنْ تَأْخُذَهُ وَفِي الْحَقِّ أَنْ تُمْنَعَهُ فَاصْبِرْ مَغْمُوماً أَوْ مُتْ مُتَأَسِّفاً فَنَظَرْتُ فَإِذَا لَيْسَ لِي رَافِدٌ وَلَا ذَابٌّ وَلَا مُسَاعِدٌ إِلَّا أَهْلَ بَيْتِي فَضَنَنْتُ بِهِمْ عَنِ الْمَنِيَّة....

  

نهج البلاغه، محمد عبده، ج2، ص 202 خطبه 217 و الإمامة والسياسة، ابن قتيبة، ج 1 ص 134، و مجمع الأمثال، أحمد بن محمد الميداني النيسابوري ( متوفي 528)، ج2، ص282 و شرح نهج البلاغه ابن ابي الحديد، ج 6، ص 95 و ج 11، ص109

اے اللہ !قریش اور قریش کی مدد کرنے والوں پرمجھے کامیاب ہونے کے لئے تجھ سے مدد مانگتا ہوں۔ ان لوگوں نے رشتہ داری کے تعلق کو توڑ دیا اور میرے کام کو خراب کیا اور میرے حق کے مقابلے میں کہ جس کا میں ان سب سے زیادہ مستحق تھا ،مجھ سے جگڑا اور  میرے خلاف متحد ہوئے اور مجھ سے کہا : اگر اپنے حق کو لے سکتے ہو تو لے لو اور اگر تجھے حق سے محروم کیا تو یا غم و اندوہ کے ساتھ صبر کرو یا حسرت دل میں رکھ کرمر جاو۔ میں نے اپنے اردگرد نگاہ کی ۔ میں نے دیکھا نہ کوئی مدد کرنے والا ہے نہ کوئی مجھ سے دفاع اور میری حمایت کرتے ہیں ،صرف میرے گھر والوں کے مجھے پسند نہیں تھا کہ ان کی جانوں کو خطرے میں ڈال دوں.

نهج البلاغه، خطبه 217.

ب: حضرت علي عليه السلام نے اپنے اوپر ہونے والے ظلم کو بیان کیا اور لوگوں سے انصاف کا تقاضا کیا :

 روي كثير من المحدثين انه عقيب يوم السقيفة تالم وتظلم واستنجد واستصرخ حيث ساموه الحضور والبيعة وانه قال وهو يشير الي القبر (يا بن ام إن القوم استضعفوني وكادوا يقتلونني)، وانه قال وا جعفراه ولا جعفر لي اليوم واحمزتاه ولا حمزة لي اليوم.

 

 بہت سے راویوں نے نقل کیا ہے کہ  ( حضرت علي عليه السلام) نے سقيفه کے واقعے کے بعد ناراضگی اور دکھ کا اظہار کیا اپنے حق کا مطالبہ کیا اور لوگوں سے مدد چاہی۔ آپ نے آواز بلند کی اور اس کے سامنے حاضر نہیں ہوا اور بیعت نہیں کی ۔

اور آپ نے چہرہ پیغمبر کی قبر کی طرف کیا اور ور فرمایا : -ہارون علیھ السّلامنے کہا بھائی قوم نے مجھے کمزور بنادیا تھا اور قریب تھاکہ مجھے قتل کردیتے تو میں کیا کرتا -آپ دشمنوں کو طعنہ کا موقع نہ دیجئے اور میرا شمار ظالمین کے ساتھ نہ کیجئے " افسوس میرا جعفر ،آج جعفر نہیں ہے،

إبن أبي الحديد المدائني المعتزلي، أبو حامد عز الدين بن هبة الله بن محمد بن محمد (متوفاي655 هـ)، شرح نهج البلاغة، ج ج 11، ص 65، تحقيق محمد عبد الكريم النمري، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت / لبنان، الطبعة: الأولي، 1418هـ - 1998م.

اسی مضمون کے  شیعہ کتابوں میں بہت زیادہ روایتیں موجود ہیں

ج: بيعت تحميل شده با يادي از خويشان:

 فَنَظَرْتُ فَإِذَا لَيْسَ لِي رَافِدٌ وَلَا مَعِي مُسَاعِدٌ إِلَّا أَهْلُ بَيْتِي فَضَنِنْتُ بِهِمْ عَنِ الْهَلَاكِ؛ وَلَوْ كَانَ لِي بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّي اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ عَمِّي حَمْزَةُ وَأَخِي جَعْفَرٌ لَمْ أُبَايِعْ كَرْهاً وَلَكِنِّي بُلِيتُ بِرَجُلَيْنِ حَدِيثِي عَهْدٍ بِالْإِسْلَامِ الْعَبَّاسِ وَعَقِيلٍ، فَضَنِنْتُ بِأَهْلِ بَيْتِي عَنِ الْهَلَاكِ، فَأَغْضَيْتُ عَيْنِي عَلَي الْقَذَي، وَتَجَرَّعْتُ رِيقِي عَلَي الشَّجَي وَصَبَرْتُ عَلَي أَمَرَّ مِنَ الْعَلْقَمِ، وَآلَمَ لِلْقَلْبِ مِنْ حَزِّ الشِّفَار.

 الحسني الحسيني، رضي الدين أبي القاسم علي بن موسي بن جعفر بن محمد بن طاووس (متوفاي664هـ)، كشف المحجة لثمرة المهجة، ص249، ناشر: بوستان كتاب ـ قم ، الطبعة الثانية، 1375ش ؛

المجلسي، محمد باقر (متوفاي 1111هـ)، بحار الأنوار، ج 30 ص 15، تحقيق: محمد الباقر البهبودي، ناشر: مؤسسة الوفاء - بيروت - لبنان، الطبعة: الثانية المصححة، 1403 - 1983 م.

امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں : میں نے دیکھا ،نہ میرے ساتھ دینے والے کوئی ہے،نہمیری مدد کرنے والے کوئی ہے۔ لہذا میں نے یہ چاہا کہ اپنے گھرانے کو نابودی سے نجات دوں ۔ اگر  رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد میرا چچا حمزه اور بھائی جعفر زندہ ہوتے تو میں مجبور ہو کر بیعت نہ کرتا۔ لیکن میری حالت یہ تھی کہ میں دو نئے  مسلمانوں میں پھنس گیا، ایک عباس ور ایک عقیل؛ لہذا اپنے خاندان کو نابودی سے بچانا چاہا ،آنکھوں کو بند کیا جبکہ آنکھوں میں خار تھا ،منہ کے پانی کو گانٹے کے ہوتے ہوئے نگل لیا علقم{یک انتہائی تلخ پودا} سے بھی تلخ چیز پر صبر کیا۔قلب پر خنجر کے زخم سے زیادہ دردناک چیز پر صبر کیا [یعنی ان حالات میں صبر کرنا علقم سے بھی زیادہ تلخ اور دل پر خنجر اور بلیٹ کے زخم سے بھی زیادہ درد ناک تھا}

د: علي عليه السلام اور مدد کرنے والوں کی کمی کا شگوہ :

 فَقَالَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ [وَغَضِبَ مِنْ قَوْلِهِ ] فَمَا يَمْنَعُكَ يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ حِينَ بُويِعَ أَخُو تَيْمِ بْنِ مُرَّةَ وَأَخُو بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ وَأَخُو بَنِي أُمَيَّةَ بَعْدَهُمَا أَنْ تُقَاتِلَ وَتَضْرِبَ بِسَيْفِكَ وَأَنْتَ لَمْ تَخْطُبْنَا خُطْبَةً مُنْذُ كُنْتَ قَدِمْتَ الْعِرَاقَ إِلَّا وَقَدْ قُلْتَ فِيهَا قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ عَنْ مِنْبَرِكَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَوْلَي النَّاسِ بِالنَّاسِ وَمَا زِلْتُ مَظْلُوماً مُنْذُ قَبَضَ اللَّهُ مُحَمَّداً (صلي الله عليه وآله) فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَضْرِبَ بِسَيْفِكَ دُونَ مَظْلِمَتِكَ؟

  فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ (عليه السلام) يَا ابْنَ قَيْسٍ [قُلْتَ فَاسْمَعِ الْجَوَابَ ] لَمْ يَمْنَعْنِي مِنْ ذَلِكَ الْجُبْنُ وَلَا كَرَاهِيَةٌ لِلِقَاءِ رَبِّي وَأَنْ لَا أَكُونَ أَعْلَمُ أَنَّ مَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ لِي مِنَ الدُّنْيَا وَالْبَقَاءِ فِيهَا وَلَكِنْ مَنَعَنِي مِنْ ذَلِكَ أَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ (صلي الله عليه وآله) وَعَهْدُهُ إِلَيَّ أَخْبَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ (صلي الله عليه وآله) بِمَا الْأُمَّةُ صَانِعَةٌ بِي بَعْدَهُ فَلَمْ أَكُ بِمَا صَنَعُوا حِينَ عَايَنْتُهُ بِأَعْلَمَ مِنِّي وَلَا أَشَدَّ يَقِيناً مِنِّي بِهِ قَبْلَ ذَلِكَ بَلْ أَنَا بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ (صلي الله عليه وآله) أَشَدُّ يَقِيناً مِنِّي بِمَا عَايَنْتُ وَشَهِدْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا تَعْهَدُ إِلَيَّ إِذَا كَانَ ذَلِكَ قَالَ: إِنْ وَجَدْتَ أَعْوَاناً فَانْبِذْ إِلَيْهِمْ وَجَاهِدْهُمْ وَإِنْ لَمْ تَجِدْ أَعْوَاناً فَاكْفُفْ يَدَكَ وَاحْقِنْ دَمَكَ حَتَّي تَجِدَ عَلَي إِقَامَةِ الدِّينِ وَكِتَابِ اللَّهِ وَسُنَّتِي أَعْوَاناً وَأَخْبَرَنِي (صلي الله عليه وآله) أَنَّ الْأُمَّةَ سَتَخْذُلُنِي وَتُبَايِعُ غَيْرِي وَتَتَّبِعُ غَيْرِي وَأَخْبَرَنِي (صلي الله عليه وآله) أَنِّي مِنْهُ بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَي وَأَنَّ الْأُمَّةَ سَيَصِيرُونَ مِنْ بَعْدِهِ بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ وَمَنْ تَبِعَهُ وَالْعِجْلِ وَمَنْ تَبِعَهُ إِذْ قَالَ لَهُ مُوسَي يا هارُونُ ما مَنَعَكَ إِذْ رَأَيْتَهُمْ ضَلُّوا. أَلَّا تَتَّبِعَنِ أَ فَعَصَيْتَ أَمْرِي. قالَ يَا بْنَ أُمَّ لا تَأْخُذْ بِلِحْيَتِي وَلا بِرَأْسِي إِنِّي خَشِيتُ أَنْ تَقُولَ فَرَّقْتَ بَيْنَ بَنِي إِسْرائِيلَ وَلَمْ تَرْقُبْ قَوْلِي وَقَالَ ابْنَ أُمَّ إِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُونِي وَكادُوا يَقْتُلُونَنِي وَإِنَّمَا [يَعْنِي أَنَ مُوسَي أَمَرَ هَارُونَ حِينَ اسْتَخْلَفَهُ عَلَيْهِمْ إِنْ ضَلُّوا فَوَجَدَ أَعْوَاناً أَنْ يُجَاهِدَهُمْ وَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَعْوَاناً أَنْ يَكُفَّ يَدَهُ وَيَحْقُنَ دَمَهُ وَلَا يُفَرِّقَ بَيْنَهُمْ] وَإِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَقُولَ لِي ذَلِكَ أَخِي رَسُولُ اللَّهِ ص [لِمَ ] فَرَّقْتَ بَيْنَ الْأُمَّةِ وَلَمْ تَرْقُبْ قَوْلِي وَقَدْ عَهِدْتُ إِلَيْكَ إِنْ لَمْ تَجِدْ أَعْوَاناً أَنْ تَكُفَّ يَدَكَ وَتَحْقُنَ دَمَكَ وَدَمَ أَهْلِ بَيْتِكَ وَشِيعَتِكَ فَلَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ (صلي الله عليه وآله) مَالَ النَّاسُ إِلَي أَبِي بَكْرٍ فَبَايَعُوهُ وَأَنَا مَشْغُولٌ بِرَسُولِ اللَّهِ (صلي الله عليه وآله) بِغُسْلِهِ وَدَفْنِهِ ثُمَّ شُغِلْتُ بِالْقُرْآنِ فَآلَيْتُ عَلَي نَفْسِي أَنْ لَا أَرْتَدِيَ إِلَّا لِلصَّلَاةِ حَتَّي أَجْمَعَهُ [فِي كِتَابٍ ] فَفَعَلْتُ ثُمَّ حَمَلْتُ فَاطِمَةَ وَأَخَذْتُ بِيَدِ ابْنَيَّ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ فَلَمْ أَدَعْ أَحَداً مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ وَأَهْلِ السَّابِقَةِ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ إِلَّا نَاشَدْتُهُمُ اللَّهَ فِي حَقِّي وَدَعَوْتُهُمْ إِلَي نُصْرَتِي فَلَمْ يَسْتَجِبْ لِي مِنْ جَمِيعِ النَّاسِ إِلَّا أَرْبَعَةُ رَهْطٍ سَلْمَانُ وَأَبُو ذَرٍّ وَالْمِقْدَادُ وَالزُّبَيْرُ وَلَمْ يَكُنْ مَعِي أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي أَصُولُ بِهِ وَلَا أَقْوَي بِهِ أَمَّا حَمْزَةُ فَقُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ وَأَمَّا جَعْفَرٌ فَقُتِلَ يَوْمَ مُوتَةَ وَبَقِيتُ بَيْنَ جِلْفَيْنِ جَافِيَيْنِ ذَلِيلَيْنِ حَقِيرَيْنِ [عَاجِزَيْنِ ] الْعَبَّاسِ وَعَقِيلٍ وَكَانَا قَرِيبَيِ الْعَهْدِ بِكُفْرٍ فَأَكْرَهُونِي وَقَهَرُونِي فَقُلْتُ كَمَا قَالَ هَارُونُ لِأَخِيهِ- ابْنَ أُمَّ إِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُونِي وَكادُوا يَقْتُلُونَنِي فَلِي بِهَارُونَ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ وَلِي بِعَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ (صلي الله عليه وآله) حُجَّةٌ قَوِيَّةٌ.

اشعث بن قيس امام علي عليه السّلام کی باتوں کی وجہ سے غصے میں تھا ۔ اس نے امام سے کہا : اے ابوطالب کے بیٹے ! کیوں جس وقت ابوبکر کی بیعت کی گئی ،جس وقت عمر کی بیعت کی گئی اور جس وقت عثمان کی بیعت کی گئی اس وقت آپ نے جنگ نہیں کی اور تلوار نیام سے نہیں نکالی؟

جب سے آپ کوفہ میں آئے ہیں تب سے جب بھی ممبر پر جاتے ہو ہر ہر خطبہ ختم کرنے سے پہلے یہ کہتے ہو : "اللہ کی قسم میں لوگوں سے زیادہ سزاوار اور مستحق ہوں ، جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا سے چلے گِے تب سے میں ہمیشہ مظلوم رہا ہوں " اشعث پوچھتا ہے : اگر ایسا ہے تو پھر اپنے حق سے دفاع کے لئے تلوار کیوں نہیں چلائی؟ کیوں جنگ نہیں کی؟

علي عليه السلام نے فرمایا : اے قیس کے بیٹے ! تم نے یہ سوال کیا تو اب جواب بھی سن لو؛ موت سے ڈر کی وجہ سے میں نے مسلحانہ اقدام سے اجتناب نہیں کیا ۔ میں سب سے بہتر جانتا ہوں کہ جو اللہ کے پاس میرے لئے اجر و ثواب ہے وہ میرے لئے دنیا اور جو چیز دنیا میں ہے، ان سے بہتر ہے ۔۔جس چیز نے تلوار نیام میں رکھنے پر مجھے مجبور کیا وہ رسول اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وصیت اور ان سے کیا ہوا عہد و پیمان تھا ۔ رسول خدا صلّي اللَّه عليه و اله و سلّم نے مجھے اس چیز کی خبر دی تھی کہ ان کے بعد امت  میرے ساتھ کیا سلوک روا رکھے گی۔

  

میں نے رسول اللہ صلی آللہ سے پوچھا : ایسے میں کیا کروں ، ایسے موقعوں پر میری ذمہ داری کیا ہے ؟۔۔۔۔۔۔

 

فرمایا : اگر مدد کرنے والے ملے تو ان سے جہاد کرو آگر مدد کرنے والے نہ ملے تو پیچھے ہٹنا اور اپنے خون کی حفاظت کرنا، یہاں تک کہ اللہ کے دین ،اللہ کی کتاب اور میری سنت کو اجراء کرنے کے لئے کوئی مدد گار ملے ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے خبر دی ہے کہ امت بہت جلد مجھے چھوڑ دے گی اور میرے علاوہ کسی اور کی بیعت اور پیروی کرئے گی۔ رسول خدا صلي اللَّه عليه و آله و سلّم نے مجھے خبر دی ہے کہ ان کی مجھ سے وہی نسبت ہوگی کہ جو جناب ہارون کو موسی علیہما السلام سے تھی اور ان کی وفات کے بعد ان کی امت کا حشر وہی ہارون اور ان کے پیروکاروں کا حشر ہوگا ،یہ لوگ  بہت جلد گوسالہ پرست بن گی۔یہاں تک کہ حضرت موسی نے ہارون سے کہا : جب تم نے دیکھا قوم گمراہ ہورہی ہے تو کیوں ان سے جدا نہیں ہوئے ؟ کیا تم میری نافرمانی کرنا چاہتا تھا؟

ہارون نے جواب میں کہا :اے میرے بھائی ! آپ میری داڑھی اور میرا سر نہ پکڑیں مجھے تو یہ خوف تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تم نے بنی اسرائیل میں اختلاف پیدا کردیا ہے اور میری بات کا انتظار نہیں کیا ۔۔ ۔۔ بھائی قوم نے مجھے کمزور بنادیا تھا اور قریب تھاکہ مجھے قتل کردیتے تو میں کیا کرتا -

 یعنی جب جناب موسی علیہ السلام  نے جناب ہارون علیہ السلام کو اپنی جگہ بٹھایا اور انہیں اپنا جانشین بنایاتو اس وقت اس سے فرمایا : اگر قوم گمراہ ہوجائے اور تمہیں یار و انصار ملے تو ان سے جہاد کرنا اگر ایسا مدد گار نہ ملے تو ہاتھ کھینچنا اور اپنے خون کی حفاظت کرنا اور قوم میں تفرقہ   پڑنے نہ دینا۔ مجھے یہ خوف لاحق ہوا کہ کہیں میرا بھائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھ سے یہ نہ کہے۔:کیوں میری امت میں پھوٹ ڈالا اور میری وصیت پر عمل نہیں کیا؟ میں نے تم سے کہا تھا کہ تمہیں کوئی یار و انصار نہ ملے تو اپنا اور اپنے خاندان اور اپنے پیروکاروں کے خون کی حفاظت کرئے؟

رسول خدا صلي اللَّه عليه و آله و سلّم کی وفات کے بعد جس وقت میں ان کے غسل و کفن اور دفن  کے کام میں مصروف تھا اس وقت لوگوں نے ابوبکر کا رخ کیا اور اس کی بیعت کی اور میں اس کے بعد قرآن جمع کرنے کے کام میں مصروف ہوا ۔میں نے اپنے آپ سے عہد کیا کہ جب تک قرآن کو ایک کتاب کی شکل میں جمع نہ کرلوں اس وقت تک نماز کے علاوہ کوئی اور کام نہ کروں اور ایک ردا اپنے اوپر نہ ڈالوں اور گھر سے باہر قدم نہ رکھوں گا اور ایسا ہی کیا ۔پھر فاطمہ سلام اللہ علیہا کو ساتھ لیا اور حسن و حسین علیہما السلام کا ہاتھ تھاما اور بدر کے مجاہدوں اور مہاجر اور انصار میں سے پیشقدم بزرگوں میں سے ہر ایک کے دروازے پر دستک دی اور اللہ کی قسم کھا کھا کر ان سے اپنے حق کو واپس لینے کے لئے میری مدد کرنے کے لئے کہا۔ ان سب میں سے صرف چار لوگوں نے میرے پکار پر لبیک کہا  اور یہ سلمان ، ابوذر ،مقداد ، ور زبیر تھے ،میرے خاندان میں بھی کوئی میری مدد کرنے والا نہ تھا، جناب حمزہ جنگ احد میں شہید ہوئے اور جعفر بھی جنگ موتہ میں شہید ہوئے،میرے خاندان میں ،میں تھا اور دو عام لوگ جو سخت مزاج ، بدبخت ، کمزور اور خوار تھے ، عباس اور عقیل کہ جو تازہ کفر سے اسلام کی طرف آئے تھے ۔لوگ مجھے نہیں چاہتے تھے اور مجھے چھوڑ دئے تھے ،جس طرح ہارون نے اپنے بھائی سے کہا : اے میرے بھائی ! لوگوں نے مجھے کمزور بنایا اور نذدیک تھا مجھے قتل کرئے ، هارون میرے لئے نمونہ عمل تھا اور رسول للہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وصیت اور ان سے کیا ہوا عہد وپیمان میرے لئے بہت مظبوط حجت تھا .

الهلالي، سليم بن قيس (متوفاي80هـ)، كتاب سليم بن قيس الهلالي، ص666، ناشر: انتشارات هادي ـ قم ، الطبعة الأولي، 1405هـ.

المجلسي، محمد باقر (متوفاي 1111هـ)، بحار الأنوار، ج 29، ص 468، تحقيق: محمد الباقر البهبودي، ناشر: مؤسسة الوفاء - بيروت - لبنان، الطبعة: الثانية المصححة، 1403 - 1983 م.

ایک اور جگہ پر آپ نے فرمایا:

أَمَا وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ إِنِّي لَوْ وَجَدْتُ يَوْمَ بُويِعَ أَخُو تَيْمٍ الَّذِي عَيَّرْتَنِي بِدُخُولِي فِي بَيْعَتِهِ أَرْبَعِينَ رَجُلًا كُلُّهُمْ عَلَي مِثْلِ بَصِيرَةِ الْأَرْبَعَةِ الَّذِينَ قَدْ وَجَدْتُ لَمَا كَفَفْتُ يَدِي وَلَنَاهَضْتُ الْقَوْمَ وَلَكِنْ لَمْ أَجِدْ خَامِساً [فَأَمْسَكْتُ ] قَالَ الْأَشْعَثُ فَمَنِ الْأَرْبَعَةُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ عليه السلام: سَلْمَانُ أَبُو ذَرٍّ وَالْمِقْدَادُ وَالزُّبَيْرُ بْنُ صَفِيَّةَ قَبْلَ نَكْثِهِ بَيْعَتِي فَإِنَّهُ بَايَعَنِي مَرَّتَيْنِ أَمَّا بَيْعَتُهُ الْأُولَي الَّتِي وَفَي بِهَا فَإِنَّهُ لَمَّا بُويِعَ أَبُو بَكْرٍ أَتَانِي أَرْبَعُونَ رَجُلًا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ فَبَايَعُونِي [وَفِيهِمُ الزُّبَيْرُ] فَأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُصْبِحُوا عِنْدَ بَابِي مُحَلِّقِينَ رُءُوسَهُمْ عَلَيْهِمُ السِّلَاحُ فَمَا وَفَي لِي وَلَا صَدَقَنِي مِنْهُمْ أَحَدٌ غَيْرُ أَرْبَعَةٍ سَلْمَانَ وَأبو [أَبِي] ذَرٍّ وَالْمِقْدَادِ وَالزُّبَيْرِ....

اس ذات کی قسم جس نے دانہ کو شگافتہ کیا اور لوگوں کو خلق کیا۔ جس دن لوگوں نے ابوبکر کی بیعت کی ، اس وقت خاموشی کی وجہ سے میرے اوپر اعتراض کرتے ہو اگر انہیں چار لوگوں ہمفکر  ۴۰ لوگ میرے پاس ہوتے تو یقینا میں ہاتھ نہیں کھینچتا اور پیچھے نہیں ہٹتا اور اس قوم کے مقابلے میں اٹھ کڑا ہوتا لیکن میں نے ان چار کے علاوہ کوئی پانچواں نہیں پایا لہذا پیچھے ہٹا ۔

اشعث نے کہا : یہ چار لوگ کون تھے ؟ فرمایا : سلمان ، ابوذر ،مقداد اور زبیر بن صفیہ اور وہ بھی بیعت توڑنے سے پہلے،یہ بات ٹھیک ہے کہ زبیرنے دو مرتبہ میری بیعت کی، پہلی دفعہ اس نے بیعت کے ساتھ وفا کیا اور یہ اس وقت تھا جب لوگوں نے ابوبکر کی بیعت کی اس وقت انصار اور مہاجرین میں سے ۴۰ لوگ میرے پاس آئے اور میری بیعت کردی، زبیر بھی انہیں لوگوں میں سے تھا۔ میں نے ان لوگوں سے کہا : کل صبح سر منڈا کر اور مسلح ہوکر میرے گھر کے دروازے پر جمع ہوجائیں، ان میں سے کسی نے بھی وعدہ وفائی اور میری حماہت نہیں  کی سوای ان چار لوگوں کے،سلمان، ابوذر ،مقداد اور زبیر کے....

الهلالي، سليم بن قيس (متوفاي80هـ)، كتاب سليم بن قيس الهلالي، ص669، ناشر: انتشارات هادي ـ قم ، الطبعة الأولي، 1405هـ.

المجلسي، محمد باقر (متوفاي 1111هـ)، بحار الأنوار، ج 29، ص 471، تحقيق: محمد الباقر البهبودي، ناشر: مؤسسة الوفاء - بيروت - لبنان، الطبعة: الثانية المصححة، 1403 - 1983 م.

 اسی طرح آپ نے فرمایا :

ثُمَّ أَخَذْتُ بِيَدِ فَاطِمَةَ وَابْنَيَّ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ فَدُرْتُ عَلَي أَهْلِ بَدْرٍ وَأَهْلِ السَّابِقَةِ فَنَاشَدْتُهُمْ حَقِّي وَدَعَوْتُهُمْ إِلَي نُصْرَتِي فَمَا أَجَابَنِي مِنْهُمْ إِلَّا أَرْبَعَةُ رَهْطٍ سَلْمَانُ وَعَمَّارٌ وَأَبُو ذَرٍّ وَالْمِقْدَادُ... لَوْ وَجَدْتُ يَوْمَ بُويِعَ أَخُو تَيْمٍ أَرْبَعِينَ رَهْطاً لَجَاهَدْتُهُمْ فِي اللَّهِ إِلَي أَنْ أُبْلِيَ عُذْرِي...

میں فاطمه اور اپنے دوفرزند حسن و حسين کو لے کر اہل بدر اور اسلام میں سبق رکھنے والے لوگوں کے پاس گیا، ان سے اپنے حق کا اعتراف لیا ۔ انہیں میری نصرت کی دعوت دی لیکن سوای سلمان ،عمار ، ابوذر ،مقداد اور زبیر کے کسی نے مجھے مثبت جواب نہیں دی، اس ذات کی قسم جس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مبعوث کیا؛ جس وقت ابوبکر کی بیعت کی گئی اس وقت ۴۰ لوگ بھی میرے ساتھ دیتے تو میں اللہ کی راہ میں جہاد کرتا اور اپنے فریضے پر عمل کرتا .

الطبرسي، أبي منصور أحمد بن علي بن أبي طالب (متوفاي 548هـ)، الاحتجاج، ج 1 ص 98، تحقيق: تعليق وملاحظات: السيد محمد باقر الخرسان، ناشر: دار النعمان للطباعة والنشر - النجف الأشرف، 1386 - 1966 م.

ایک اور روایت میں آپ نے فرمایا:

أَمَا وَاللَّهِ لَوْ كَانَ لِي عِدَّةُ أَصْحَابِ طَالُوتَ أَوْ عِدَّةُ أَهْلِ بَدْرٍ وَهُمْ أَعْدَاؤُكُمْ لَضَرَبْتُكُمْ بِالسَّيْفِ حَتَّي تَئُولُوا إِلَي الْحَقِّ وَتُنِيبُوا لِلصِّدْقِ فَكَانَ أَرْتَقَ لِلْفَتْقِ وَآخَذَ بِالرِّفْقِ اللَّهُمَّ فَاحْكُمْ بَيْنَنَا بِالْحَقِّ وَأَنْتَ خَيْرُ الْحَاكِمِين.

اللہ کی قسم اگر  طالوت کے ساتھیوں کی تعداد یا  يا اهل بدر کی تعداد میں میرے پاس طاقت اور ساتھ دینے والے ہوتے اور یہ تم لوگوں{آپ کے مخالف لوگ} سے دشمنی کرتے اور میرے ساتھ دیتے تو میں تم پر تلوار چلاتا یہاں تک کہ تم لوگ حق کی طرف پلٹ کر آتے اور صداقت کو ترجیح دیتے اور ایسا کرنا ایک دوسرے سے دوری کو کم کرنے اور سکون اور آرامش کو بحال کرنے کے لئے بہتر تھا ۔ اے اللہ ! ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرے کیونکہ تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے ۔

الكليني الرازي، أبي جعفر محمد بن يعقوب بن إسحاق (متوفاي328 هـ)، الأصول من الكافي، ج 8 ص 32، ناشر: اسلاميه ، تهران ، الطبعة الثانية،1362 ش .

اہل سنت کے اصول کے مطابق جواب :

بني هاشم اور  انصار نے  رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فرمان کی اطاعت کی ؛

اهل سنت خلفاء کی خلافت کو شرعی حیثیت دینے کے لئے کچھ روایات نقل کرتے ہیں۔ ان روایات کے مطابق آنحضرت نے اپنے اصحاب کو اپنے بعد کے خلفاء اور حاکموں کی اطاعت کا حکم دیا تھا ،اگرچہ یہ معلوم بھی ہو کہ یہ حاکم  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کی سنت پر عمل بھی نہ کرتے ہو اور لوگوں کے مال و اموال کو غارت کرتے ہو اور لوگوں کو اللہ کی راہ کی طرف ہدایت کرنے کے بجائے گمراہی اورضلالت کی طرف لے جاتے ہو ۔

 گرچہ ہم ان روایات کے جعلی ہونے پر یقین رکھتے ہیں؛لیکن کیونکہ یہ روایات اہل سنت کی معتبر کتابوں میں نقل ہوئی ہیں لہذا جدال احسن اور قاعدہ الزام کی رو سے ہم  انہیں ان روایات کو اور ان کے نتیجے کو قبول کرنے پر مجبور کرسکتے ہیں۔

 بني هاشم ، انصار اور باقی اصحاب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فرمان پر عمل کیا اور یہ لوگ یہ جانتے بھی تھے کہ ابوبکر اور عمر خلافت کے غاصب ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت پر عمل نہیں کرتے ہیں ،لوگوں کے اموال اور جائیداد کو چھین لیتے ہیں اور ۔۔۔ لیکن ان سب کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فرمان پر عمل کیا اور اس وقت کے حالات اور مصلحت کی وجہ سے ان کے خلاف قیام کرنے سے اجتناب کیا.

مسلم نيشابوري نے حذيفة بن يمان سے نقل کیا ہے کہ  رسول خدا صلي الله عليه وآله نے فرمایا  :

يَكُونُ بَعْدِي أَئِمَّةٌ لَا يَهْتَدُونَ بِهُدَايَ ولا يَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِي وَسَيَقُومُ فِيهِمْ رِجَالٌ قُلُوبُهُمْ قُلُوبُ الشَّيَاطِينِ في جُثْمَانِ إِنْسٍ قال قلت كَيْفَ أَصْنَعُ يا رَسُولَ اللَّهِ إن أَدْرَكْتُ ذلك قال تَسْمَعُ وَتُطِيعُ لِلْأَمِيرِ وَإِنْ ضُرِبَ ظَهْرُكَ وَأُخِذَ مَالُكَ فَاسْمَعْ وَأَطِعْ .

میرے بعد ایسے پیشوا مسند خلافت پر بیٹھ جائیں گے جو میری ہدایت سے بے بہرہ ہوں گے ، میری سنت پر عمل نہیں کریں گے ان کے درمیان ایسے افراد ہوں گے جن کے انسانی جسم میں شیطانی دل ہوگا۔ عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اگر ہم اس دن کو پالے تو ہماری ذمہ داری کیا ہے ؟ فرمایا : ان کی باتیں سنیں اور ان کی اطاعت کریں۔ اگر تمہیں مارے ، تمہیں برا بلا کہے اور  تمہارے مال تم سے چھین لیں تو بھی تمہاری ذمہ داری ان کی اطاعت اور فرمانبرداری کرنا ہے !!! .

النيسابوري، مسلم بن الحجاج ابوالحسين القشيري (متوفاي261هـ)، صحيح مسلم، ج 3، ص 1476، ح1847، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت.

لہذا ، بني هاشم ، انصار اور باقی اصحاب کا جناب فاطمه زهرا سلام الله عليها سے دفاع نہ کرنا  اور  امير المؤمنن عليه السلام کے حق سے دفاع نہ کرنا رسول خدا کے دستور کے مطابق اور اس وقت کے حالات کے تقاضے اور مصلحت کے مطابق تھا کہ جن کی رعایت ابوبکر کے خلاف قیام کرنے سے زیادہ اہمیت کا حامل تھا۔

 

شبہات کے جواب دینے والی ٹیم

 تحقيقاتي ادارہ ،حضرت ولي عصر (عج)

 

 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی