2021 October 18
صلح امام حسنؑ ، اصحاب اور امہات مومنین کا معاویہ کے ہاتھوں پر بیعت : حقیقت کیا ہے ۔؟
مندرجات: ١٨٨٨ تاریخ اشاعت: ٠٤ October ٢٠٢١ - ٢٠:٣٥ مشاہدات: 951
یاداشتیں » پبلک
صلح امام حسنؑ ، اصحاب اور امہات مومنین کا معاویہ کے ہاتھوں پر بیعت : حقیقت کیا ہے ۔؟

 

صلح امام  حسنؑ ، اصحاب اور امہات مومنین کا معاویہ کے ہاتھوں پر بیعت کی حقیقت :

بعض لوگ  جب شیعوں کے منطق اور استدلال کے سامنے عاجز ہوجاتے ہیں تو  آخرمیں یہ کہتے ہیں کہ  معاویہ اور یزید  کے ہاتھوں پر اصحاب اور امہات مئومنین  نے بیعت کی ہیں ،  امام حسنؑ   نے معاویہ کے ساتھ صلح  کی  ہے لہذا  معاویہ اور یزید  کے خلاف   باتیں  ان بیعت کرنے والوں  کی شان میں گستاخی ہے ؛

اس قسم کے مغالطوں کا جواب :

1: یہ بات قابل انکار نہیں کہ اصحاب  کی اکثریت امام علیؑ کی حمایت  میں معاویہ  سے جنگ کرنے صفین  میں حاضر تھے , معاویہ کے ساتھ جو لوگ تھے ان میں چند گنے چنے  افراد ہی صحابہ  میں سے تھے, جیسے  عمر و  بن العاص اور عبد الله بن عمرو  وغیرہ  ، جبکہ بدری اور بیعت رضوان میں شریک اصحاب میں سے جو اس وقت زندہ تھے اور جنگ میں شریک ہوسکتے تھے وہ سب امام علی  کی حمایت میں  باقاعدہ طور پر جنگوں میں شریک ہوئے یہاں تک کہ جنگ جمل میں اصحاب  اور تابعین  میں سے  چار ہزار  افراد مدینہ سے آپکی  کی حمایت کے لیے روانہ ہویے  اور ۸۰۰ انصار، ۴۰۰بیعت رضوان  اور 70 جنگ بدر  میں شریک اصحاب نے اس جنگ میں امام علیؑ کے مخالفین سے جنگ کی [1] .جنگ صفین میں بھی معاویہ کے مقابلے  میں بھی یہی صورت حال تھی[2]،بیعت رضوان میں شریک  ۸۰۰ اصحاب نے معاویہ کے خلاف اس جنگ میں میں حصہ لیا اور ان میں سے ’’۶۳‘‘اسی جنگ میں شہید ہوے[3]۔ بدری صحابہ میں سے پچیس  اس جنگ میں امام علیؑ کی حمایت کرتے ہوےشہید ہوے [4] ۔ یہ اصحاب جہالت  کا شکار  ہو کر ،یا کسی کے  دھوکھے میں  معاویہ سے جنگ کرنے نہیں آئے تھےبلکہ  یہ اصحاب معاویہ سے جنگ کرنے کو اپنا دینی وظیفہ سمجھتے تھے ۔لہذا  معاویہ کا اپنے چالوں کے ذریعے اپنے دشمنوں پر غلبے کو ان کی بیعت سے تعبیر کرنا حقائق  میں تحریف کرنا اور مغالطے سے کام لینا ہے ۔

2: امام حسنؑ کے ساتھ صلح کے بعد  بعض اصحاب  کی خاموشی  یا  بعض کی بیعت کو  اس کی حکومت پر اصحاب کی رضایت کہنا بھی ایک واضح مغالطہ ہے کیونکہ  امام علیؑ کی  شہادت  اور امام حسنؑ کی صلح کے بعد اصحاب اور تابعین نہ  منظم انداز میں معاویہ  سے جنگ کرسکتے تھے نہ اس کی مخالفت کا پرچم  ہاتھ میں لے  کر  اس کے ظالم کمانڈروں کے غیض و غضب کا سامنا کرسکتے تھے، سکوت کے علاوہ کوئی راہ  ان کے پاس باقی نہیں رہا تھا ۔  کیونکہ معاویہ نے اپنے کمانڈروں اور  گورنروں کے  زریعے سے اپنے مخالفین کے ساتھ جو سلوک کیا ان کا مطالعہ کیا جاے تو معلوم  ہوگا کہ  معاویہ کی مخالفت  اور  اس سے دشمنی موت ،  زندان اور ظلم کی چکی میں خود کو ڈال دینے کی مانند   تھی۔ :چند نمونے ملاحظہ کریں  

جناب حجر بن عدی اور ان کے ساتھیوں کو امام علیؑ پر لعن طعن  کرنے والوں  پر  اعتراض کرنے کے  جرم میں شام کی طرف گرفتار کر کے لے جایا گیا اور معاویہ کے حکم سے امام علیؑ سے اظہار برات نہ کرنے کے جرم میں  شہید کردیا  گیا[5] جناب عمرو بن حمق کے سر کو  تن سے جدا کر کے معاویہ کے لیے تحفہ میں دمشق بھیجا گیا  [6]جبکہ  جناب حجر بن عدی اور عمروبن حمق دونوں صحابی پیامبر تھے اور یہ دونوں امام علیؑ سے دفاع کرتے اور  شیعہ ان کے ارد گرد جمع ہوتے تھے[7]۔ لیکن معاویہ اور اس کے گورنروں نے  پیامبر کے ان دو  اصحاب کو شہید کردیا .

جناب جابر بن عبد اللہ  انصاری جب معاویہ کے ظالم کمانڈر کے خوف سے ام المئومنین ام سلمہ کے پاس پناہ لینے آیا تو اس وقت یہ کہہ رہے تھے کہ مجھے جان کا خطرہ ہے جبکہ  معاویہ کی بیعت کرنا گمراہی  ہے اور ام المومنین جناب ام سلمہ بھی صاف کہتی تھی کہ یہ بیعت مجھے پسند نہیں ہے لیکن جان بچانے کے لئے جاکر بیعت کرو[8]۔معاویہ نے  اپنے  کمانڈروں کو  واضح طور پر بیعت نہ کرنے اور اس کی اطاعت نہ کرنے والوں کے قتل کا حکم دیا ہوا تھا اور بیعت کرنے پر نہ چاہتے ہوئے مجبور تھے ،اصحاب ادھر سے ادھر بھاگ رہے تھے تاکہ کسی طریقے سے معاویہ کے ظالم کمانڈروں کے ظلم و ستم سے بچ کر نکل سکے  [9]۔

لہذا معاویہ  کے کمانڈروں  کے ظلم و ستم  اور گستاخی  سے  محفوظ رہنے کے لئے  بعض  کی خاموشی یا بیعت  کو ان اصحاب کی طرف سے  معاویہ  کی حمایت اور تائید سے تعبیر  کرنا ،اصحاب کی شان میں گستاخی اور بعض جاہلوں کو دھوکے میں رکھنے کے لئے تاریخی حقائق کا مزاق  اڑانا  ہے ۔

3 : امام حسنؑ سے صلح کی داستان کو امام کا معاویہ کی حکومت پر رضایت  سے تفسیر کرنا بھی بنی امیہ کے طرفداروں کی ایک ناکام  کوشش ہے۔ کسی سے صلح کرنا مخالف کی حقانیت   اور صلح کرنے والے کی بذدلی کی دلیل نہیں ہے ، اسی طرح  ہر بیعت کو رضایت کی دلیل کہنا بھی غیر منطقی بات ہے،جیساکہ  رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کفار قریش کے ساتھ صلح کیا ، اس کا یہ مطلب نہیں کہ  نعوذ باللہ آپ بزدل تھے یا  کفار قریش  حق پر تھے ۔ اور جناب جابر بن عبد الله کہ جو بزرگان اصحاب میں سے ہیں آپ معاویہ کی بیعت کو گمراہی سمجھتے تھے لیکن جان  بچانے کی خاطر  معاویہ  کی بیعت کی،یہاں  کوئی یہ نہیں  کہہ سکتا ہے کہ جناب جابر بن عبد اللہ  انصاری معاویہ کی خلافت پر راضی تھے اور  انہیں شرعی خلیفہ مانتے تھے. 

امام حسنؑ کی صلح میں بھی یہ واضح  حقائق میں سے ہے کہ  یہ  سب  معاویہ کے چالوں کی وجہ سے امام حسنؑ  پر مسلط ہوا ، معاویہ نے امام کی فوج میں پروپگنڈے اور افواہوں کے ذریعے پھوٹ ڈالا ، بعض کو درہم اور مقام کی لالچ دے کر خرید لیا  بعض دوسرے وجو ہات سے جنگ سے گریزاں  ہوئے اور جب امام کے ساتھ اتنی قابل توجہ فوج باقی نہ رہی جن کے ساتھ  آپ معاویہ کا مقابلہ کر سکے  تو  آپ نے مصلحت  صلح  میں دیکھی[10]تاکہ صلح کے ذریعے سے اپنے کم تعداد مخلص ساتھیوں  اور  دوسرے مسلمانوں کے خون بہانے کا راستہ روک سکے[11] ورنہ خود  امام تو  لوگوں سے کہہ رہے تھے کہ تم لوگ  تیار ہیں تو میں اس سے جنگ کرنے کے لئے تیار ہوں.

معاویہ کے چالوں کی وجہ سے  امام کے سامنے دو ہی راہ باقی تھی؛

 الف:  قلیل تعداد  فوج کے ساتھ معاویہ سے جنگ کرے۔

ب : صلح کے زریعے سے ظاہری حکومت کو معاویہ کے حوالے کر کے اپنی اور اپنے مخلص ساتھیوں اور دوسرے مسلمانوں کی جان بچا کر مزید خون خرابے کے آگے بند باندھے ۔

  اس وقت کی حالات کے پیش نظر امام کے  پاس حکومت معاویہ کے حوالے کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا اور یہی حکمت عملی ہی اس وقت کی حالات کے تناظر میں مسلمانوں کو تباہی سے بچانے کی تنہا راہ تھی ۔

لہذا ہر کز  ایسا نہیں ہوا تھا  کہ امام   معاویہ کو  اس مقام کا لائق اور حق دار  سمجھ کر  خوشی  سے حکومت کو اس کے حوالے کیا ہو، گذشتہ بیان کے علاوہ امام نے صاٖف طور پر  معاویہ  کے سامنے  اعلان کردیا کہ خلافت میرا حق تھا معاویہ نے میرے اس حق کے بارے میں مجھ سے جنگ کی اور میں نے  امت کو خون خرابے سے بچانے  کے لئے اس کو معاویہ کے لئے چھوڑ دیا[12]معاویہ کو اس پر غصہ آیا اور امام کو مزید بولنے سے منع کیا [13]۔

جیساکہ  امام نے ایسی شروط  صلح کے لئے بیان کیا  کہ معاویہ نے ان شروط  کو  حکومت ملنے تک قبول کیا لیکن جوں ہی سب کچھ اپنے ہاتھ میں لیا تو صلح کے شروط کو پاوں تلے روند دینے کا اعلان کردیا [14] اور واضح طور پر کہا کہ میں نے حکومت کی خاطر تم لوگوں سے جنگ کی ہے[15] لہذا یہ  خود اس بات پر دلیل ہے کہ امام کس حد تک صلح کرنے کے سلسلے میں مجبور تھے اور معاویہ  امام کی اس مجبوری سے غلط فائدہ اٹھا رہا تھا ۔

اگر تعصب کے بجاے حقیقت بینی سے کام  لے تو امام کی بیعت  جناب جابر کی بیعت جیسی اور امام کی صلح بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صلح جیسی ہے ۔

لہذا جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ معاویہ امام  حسنؑ کے بھی امام ہے اور شیعہ اپنے امام کو نہیں مانتے، یہ ایک مغالطہ ہے، کوئی اسلحہ کے زور پر  کسی  سے  کوئی چیز چھین لے  اور  کسی معاہدے پر دستخط  کراے تو کیا یہ کہہ سکتا ہے  کہ مجبور شخص نے رضایت کے ساتھ یہ کام انجام  دیا ہے اور دستخط لینے والے کے لئے وہ چیز  حلال اور جائز ہے ؟

کیا امام اگر صلح نہ کرتے یا بیعت نہ کرتے تو معاویہ انہیں آزاد چھوڑتا ؟ کیا امام مجبور نہ ہوتے تو آپ معاویہ سے صلح کرتے یا اسکی بیعت کرتے؟

یہاں اگر کوئی یہ کہے کہ امام مجبور نہ تھے تو یہ تاریخی  حقائق  کے خلاف ہے  اور اس کو   امام حسن ؑ کی رضایت سے تعبیر کرنا اور یہ کہنا کہ آپ معاویہ کو اس کا اہل سمجھتے تھے  یہ امام کی  شان میں گستاخی ہے، اسی طرح  یہ کہنا بھی حقائق کے خلاف بات ہے کہ صلح نہ کرنے کی صورت میں آپ، معاویہ کی شر سے امان سے میں رہتے. 

حقیقت یہ ہے کہ  معاویہ نے امام حسنؑ سے حکومت چھین لی تھی اور امام نے معاویہ کو اس مقام کا اھل سمجھ کر ،رضایت کے ساتھ اس صلح نامے پر دستخط  نہیں کیا تھا۔ لہذا مجبور ہوکر انجام دینے والے  اس قسم کی  صلح کو بزدلی اور رضایت کہنا  یا  مد مقابل  کی حقانیت کی دلیل قرار دینا  کسی صورت میں منطقی نہیں ہے ۔

4 : امام  حسنؑ کی صلح کے مسئلہ میں بعض لوگ یہ مغالطہ بھی کرتے ہیں کہ اگر معاویہ کا امام علیؑ کو گالی دینے کی بات صحیح ہوتی تو امام حسنؑ اپنے باپ کو گالی دینے والے کے ساتھ صلح نہ کرتے۔ لیکن یہ لوگ اس چیز سے غافل ہیں  کہ معاویہ وہی تو تھا جس نے امام علیؑ  سے جنگ کی۔ لہذا  جب باپ کے ساتھ جنگ کرنے والے سے مجبوری کی حالت میں صلح کرسکتا ہے تو باپ کو گالی  دینے والے کے ساتھ کیوں صلح نہیں کرسکتا ؟  

یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ  یہاں امام حسنؑ کے بجاے امام حسینؑ ہوتے تو آپ بھی یہی کام انجام دیتے اور اگر  کربلا میں امام حسین ؑ کے بجاے امام حسن ؑ ہوتے تو آپ  بھی وہی کام انجام دیتے جو امام  حسینؑ نے انجام دیا ، ان دونوں اماموں کی سیرت اور فکر میں فرق  نہیں  تھا یہ حالات کے مختلف تقاضے کا  اثر تھا لہذا جب بعض لوگوں نے امام حسین ؑ سے کہا کہ صلح کے بجاے جنگ جاری رکھے تو آپ نے  امام حسن ؑ کی نظر کے خلاف  کام  انجام دینے سے انکار کیا[16]

امام حسنؑ اور امام حسینؑ جانتے تھے کہ لوگ ابھی تک معاویہ کو صحیح  طورسے نہیں پہچانتے ، آپ دونوں بخوبی اس چیز سے آگاہ تھے کہ معاویہ کے ساتھ اس صورت حال میں ٹکراو،  اپنے اور اپنے عزیزوں کے خون کو ضائع کرنا ہے کیونکہ معاویہ  جو جناب عثمان کے خون خواہی کا بہانا بنا کر علی مرتضی اور رسول پاک ؐ کے بزرگ اصحاب  کے مقابلے میں ہزاروں کا لشکر لے کر صفین میں حاضر ہوا ، سینکڑوں اصحاب کی شہادت کا باعث بنا اور آسانی سے ان سب پر پردہ ڈال سکا، اس کے لئے اپنی چالوں کے ذریعے سے  امام حسنؑ اور امام حسینؑ  کے خون میں ہاتھ  ڈالنا  اور اس کو  دبانا بھی  آسان کام تھا اور ایسا کرنے کی صورت میں عالم اسلام بہت سخت خطرات   سے دوچار ہوتا۔ لہذا معاویہ کے دور میں ان کے خون اتنا اثر نہ دکھا سکتا جو معاویہ کے بعد یزید کی بیوقوفی اور امام حسین ؑ کی تدبیر کے نتیجے میں  سامنے  آیا اور بنی امیہ کی حکومت کے خاتمے کا باعث بنا .





[1] ۔ كنا مع علي أربعة آلاف من أهل المدينة  ۔۔۔۔  كان مع علي يوم الجمل ثماني مائة من الأنصار وأربعة مائة ممن شهد بيعة الرضوان .۔۔ تاريخ خليفة بن خياط [ص 42] تاريخ أبى الفداء [1 /267]تاريخ ابن الوردي [1 /148] تاريخ الإسلام للإمام الذهبي [3 /484]

منهما سبعون بدرِيّاً وباقيهم من الصحابة / مروج الذهب (1/ 316،) البدء والتاريخ (ص: 321)

[2] . ورأيت عمارا لا يأخذ واديا من أودية صفين إلا اتبعه من كان هناك من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم 

البداية والنهاية [7 /299] تاريخ الطبري [4 /28] قصة الفتنة [ص 185]حياة الصحابة للكاندهلوى [2 /103]الإستيعاب [1 /352]

[3][3] - شهدنا مع علي رضي الله عنه صفين في ثمانمائة من بايع بيعة الرضوان قتل منهم ثلاثة وستون منهم عمار بن ياسر.۔۔۔۔-الإستيعاب [1 /351]  تاريخ ابن أبي خيثمة 2 [2 /993]  تاريخ الإسلام لذهبي [3 /545] تاريخ خليفة بن خياط [ص 46]الإصابة في تمييز الصحابة [4 /282] السيرة الحلبية [2 /265]

[4] - قتل بصفين.. فمن أصحاب أمير المؤمنين علي خمسة وعشرون بدريا - عمدة القاري - [16 /141] نهاية الأرب [20 /93] البداية والنهاية [7 /304] المنتظم [2 /110] تاريخ الإسلام لذهبي [3 /543] مروج الذهب [1 /331]

[5] ۔  فقال لهم رسول معاوية إنا قد أمرنا أن نعرض عليكم البراءة من على واللعن له فإن فعلتم تركناكم وإن أبيتم قتلناكم وإن أمير المؤمنين يزعم أن دماءكم قد حلت له بشهادة -   تاريخ الطبري [4 /205الكامل في التاريخ [3 /335]تاريخ ابن خلدون [3 /12] أنساب الأشراف [2 /167]

- [6]  - فكان أول رأس حمل في الاسلام. رأس عمرو بن الحمق إلى معاوية -- الإستيعاب في معرفة الأصحاب [1 /363] الثقات لابن حبان [3 /275] -الكامل في التاريخ [2 /179] المعارف [ص 66] أنساب الأشراف [2 /173] أسد الغابة [2 /346] الأعلام للزركلي [5 /77]





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی