2021 May 7
جنگ صفین میں شہید ہونے والے صحابہ کے نام :
مندرجات: ١٨٩٧ تاریخ اشاعت: ١٥ March ٢٠٢١ - ١٦:١٩ مشاہدات: 355
سوال و جواب » امام علی (ع)
جنگ صفین میں شہید ہونے والے صحابہ کے نام :

 

رسول خدا صلي الله عليه وآله کے اصحاب کے درمیان ہونے والی جنگوں میں سے ایک جنگ ،جنگ صفین ہے.

اس جنگ میں  رسول خدا صلي الله عليه وآله کے بہت سے اصحاب شہید ہوئے اور ان کی یہی شہادت اس جنگ میں طرفین کے حق اور باطل پر ہونے کا فیصلہ بھی کرتی ہے  اور یہ بتاتی ہے کہ اس جنگ کونسا گروہ حق پر تھا کونسا باطل پر۔ ان اصحاب میں سے حضرت عمار یاسر بھی موجود تھے کہ جنھیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ نے حق و باطل جاننے کاپیمانہ قرار دیا تھا۔ 

ابن جوزی کے کے نقل کے مطابق اس جنگ میں کم سے کم حضرت علی علیہ السلام کے لشکر میں سے 25 بدری صحابہ شہادت پر فائز ہوئے

وقتل بصفين سبعون ألفا خمسة وأربعون ألفا من أهل الشام وخمسة وعشرون ألفا من أهل العراق منهم خمسة وعشرون بدريا.

جنگ صفين 70 ہزار افراد قتل ہوئے جن میں 45 ہزار اہل شام کے تھے اور 25 ہزار افراد اہل عراق کے قتل ہوئے اور ان میں سے 25 افراد بدری صحابہ تھے ۔

ابن الجوزي الحنبلي، جمال الدين ابوالفرج عبد الرحمن بن علي بن محمد (متوفاى 597 هـ)، المنتظم في تاريخ الملوك والأمم، ج 5، ص120 ، ناشر: دار صادر - بيروت، الطبعة: الأولى، 1358.

 25  بدر صحابہ کا خود صحابہ کے ہاتھ قتل کر ہوجانا  اہل سنت کے تمام عقائد میں زلزلہ برپا کردیتا ہے ۔کیسے ہو سکتا ہے کہ بدری صحابہ کے قاتل عادل و عدول بن جائے اور اللہ ہمیشہ ان سے راضی رہے ؟

ہم ان میں سے بعض افراد کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

عمار ياسر: 

عمار بن ياسر ان افراد میں سے جنھوں نے دل و جان سے اسلام قبول کیا اور اپنی زندگی کے آخری روز تک رسول صلی اللہ علیہ و آلہ سے کئے ہوئے عہد کو پورا کیا یہ وہی ہیں جنھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے فتنوں کے ایام میں حق اور باطل جاننے کا پیمانہ قرار دیا تھا

اہل سنت کے عالم طبرانى لکھتے ہیں:

حدثنا محمد بن عبد اللَّهِ الْحَضْرَمِى ثنا ضِرَارُ بن صُرَدٍ ثنا عَلِى بن هَاشِمٍ عن عَمَّارٍ الدُّهْنِى عن سَالِمِ بن أبى الْجَعْدِ عن عَلْقَمَةَ عن عبد اللَّهِ عَنِ النبى صلى اللَّهُ عليه وسلم قال:

إذا اخْتَلَفَ الناسُ كان بنُ سُمَيَّةَ مع الْحَقِّ.

عبد الله بن مسعود نے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ سے نقل کیا ہے کہ جب بھی لوگ آپس میں اختلاف کرنے لگے تو سمیہ کا فرزند[عمار] حق پر پوگا۔

الطبراني، ابوالقاسم سليمان بن أحمد بن أيوب (متوفاى360هـ)، المعجم الكبير، ج10، ص95، ح10071، تحقيق: حمدي بن عبدالمجيد السلفي، ناشر: مكتبة الزهراء - الموصل، الطبعة: الثانية، 1404هـ – 1983م.

حاكم نيشابورى نے المستدرك على الصحيحين میں لکھا ہے :

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ الْهَاشِمِى بِالْكُوفَةِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِى بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِى، ثنا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ النَّهْدِى، أَنْبَأَ إِسْرَائِيلُ بْنُ يُونُسَ، عَنْ مُسْلِمٍ الأَعْوَرِ، عَنْ خَالِدٍ الْعُرَنِى، قَالَ:

دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِى عَلَى حُذَيْفَةَ، فَقُلْنَا: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِى الْفِتْنَةِ؟

قَالَ حُذَيْفَةُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «دُورُوا مَعَ كِتَابِ اللَّهِ حَيْثُ مَا دَارَ» فَقُلْنَا: فَإِذَا اخْتَلَفَ النَّاسُ فَمَعَ مَنْ نَكُونُ؟ فَقَالَ: «انْظُرُوا الْفِئَةَ الَّتِى فِيهَا ابْنُ سُمَيَّةَ فَالْزَمُوهَا، فَإِنَّهُ يَدُورُ مَعَ كِتَابِ اللَّهِ»،

قَالَ: قُلْتُ: وَمَنِ ابْنُ سُمَيَّةَ؟ قَالَ: " أَوَ مَا تَعْرِفُهُ؟ "، قُلْتُ: بَيِّنْهُ لِى، قَالَ: «عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ»، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِعَمَّارٍ: «يَا أَبَا الْيَقْظَانِ، لَنْ تَمُوتَ حَتَّى تَقْتُلَكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ عَنِ الطَّرِيقِ».

هَذَا حَدِيثٌ لَهُ طُرُقٌ بِأَسَانِيدَ صَحِيحَةٍ، أَخْرَجَا بَعْضَهَا وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ.

خالد العرنى نے کہا میں اور ابوسعيد خدرى ، حذيفه کے پاس آئے اور ہم نے کہا ابوعبد اللہ [حذیفہ] وہ حدیث جس کو تم نے فتنہ کے بارے میں رسول صلی اللہ علیہ و آلہ سے سنی ہے ہمارے لئے بیان کیجئے حذیفہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا : قرآن کے پیچھے چلتے رہو وہ جہاں بھی جائے ۔ہم نے کہا جب لوگوں میں اختلاف ہوجائے تو پھر کس کے ساتھ ہونا چاہئے ؟ تو انہوں نے کہا : اس جماعت کو دیکھو جس میں سمیہ کا بیٹا ہے اور اسی جماعت کے ساتھ چپکے رہو ۔حذیفہ کہتے ہیں میں نےعرض پوچھا ؛ سمیہ کون ہے ؟ جواب دیا : کیا تم اسے نہیں جانتے ہو؟ میں نے کہا آپ اسے معین کر دیجئے۔ جواب دیا : "عمار بن یاسر " میں نے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ سے سنا ہے کہ آپ نے عمار سے فرمایا : اے ابو یقظان! تم اس وقت تک نہیں مروگے جب تک تمہیں ایک باغی جماعت صراط [مستقیم سے ہٹی ہوئی ] قتل نہ کردے اس

حاکم نیشاپوری نے کہتا ہے : اس روایت کی متعدد طرق صحیح السند ہیں بخاری اور مسلم نے اس روایت کا بعض حصہ نقل کیا ہے لیکن انھوں نے ان الفاظ میں نقل نہیں کیا ہے۔

الحاكم النيسابوري، ابو عبدالله محمد بن عبدالله (متوفاى 405 هـ)، المستدرك علي الصحيحين، ج2، ص162، ح2652، تحقيق: مصطفي عبد القادر عطا، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت الطبعة: الأولى، 1411هـ - 1990م.

مسجد نبوی کی تعمیر کےدوران تمام صحابہ ایک ایک اینٹ اٹھا کر لارہے تھے لیکن عمار دو دو اینٹ اٹھا کر لا رہے تھے ۔ جب رسول صلی اللہ علیہ و آلہ نے یہ حالت دیکھی تو عمار کا چہرہ اپنے دست مبارک سے صاف کر کے فرمایا:

وَيْحَ عَمَّارٍ تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ، يَدْعُوهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ، وَيَدْعُونَهُ إِلَى النَّار.

عمار تمیں ایک باغی جماعت قتل کرے گی تم انھِیں جنت کی طرف بلا رہے ہونگے اور وہ تمہیں دوزخ کی طرف دعوت دے رہی ہونگی ۔

البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، صحيح البخاري، ج 1، ص172، ح436، كتاب الصلاة،بَاب التَّعَاوُنِ في بِنَاءِ الْمَسْجِدِ، و ج3، ص1035، ح 2657، الجهاد والسير، باب مَسْحِ الْغُبَارِ عَنِ النَّاسِ فِي السَّبِيلِ، تحقيق: د. مصطفى ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407هـ – 1987م.

اس روایت کے مطابق عمار اور انکے ہم عقیدہ جنتی ہیں اور عمار کے قاتلین اور انکے ہم عقیدہ افراد دوزخی ہیں یہی وہ چیز ہے کہ اہل سنت 14 صدیوں سے اسکا کوئی معقول جواب نہیں دے سکے ہیں۔

قابل توجہ یہ بات ہے کہ ذھبی نے ابو الغادیہ جو قاتل عمار تھا اس سے نقل کیا ہے کہ عمار کا قاتل جہنمی ہے :

عن أبى الغادية سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: قاتل عمار فى النار وهذا شيء عجيب فإن عمارا قتله أبو الغادية.

ابوغاديہ سے نقل ہے کہ وہ کہتا ہے میں رسول صلی اللہ علیہ و آلہ سے سنا ہے کہ عمار کا قاتل جہنمی ہےاور یہ بات بہت تعجب خیز ہے کہ اس لئے کہ عمار کو ابو الغادیہ نے قتل کیا تھا۔

الذهبي، شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان، (متوفاي748هـ)، ميزان الاعتدال في نقد الرجال، ج 2، ص 236، تحقيق: الشيخ علي محمد معوض والشيخ عادل أحمد عبدالموجود، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1995م.

رسول صلی اللہ علیہ و آلہ کا عمار کے لئے یہ روایت ثابت شدہ تھی اور تمام لوگ اس سے با خبر بھی تھے اور یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ معاویہ اور اسکی جماعت باغی اور ظالم ہیں اسی لئے جب معاویہ نے دیکھا کہ عمار قتل ہوگئے ہیں تو بہت سے لوگوں پر لرزا طاری ہو گیا اور لوگوں کی زبانوں پر یہ حدییث نبوی جاری ہونے لگی معاویہ نے عمرو عاص کو طلب کیا اور مشورہ کے بعد یہ اعلان کردیا گیا کہ علی علیہ السلام نے عمار کو قتل کیا ہے اور استدلال اس طرح کر نے لگے کہ عمار علی علیہ السلام کے لشکر میں تھے اور علی نے انھیں جنگ کے لئے بھیجا پس علی[ع] اسکے قاتل ہیں ۔

۔احمد بن جنبل نےمسندمیں لکھا ہے :

مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمَّا قُتِلَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ دَخَلَ عَمْرُو بْنُ حَزْمٍ عَلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقَالَ قُتِلَ عَمَّارٌ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ فَقَامَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ فَزِعًا يُرَجِّعُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى مُعَاوِيَةَ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ مَا شَأْنُكَ قَالَ قُتِلَ عَمَّارٌ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ قَدْ قُتِلَ عَمَّارٌ فَمَاذَا قَالَ عَمْرٌو سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ دُحِضْتَ فِى بَوْلِكَ أَوَنَحْنُ قَتَلْنَاهُ إِنَّمَا قَتَلَهُ عَلِى وَأَصْحَابُهُ جَاءُوا بِهِ حَتَّى أَلْقَوْهُ بَيْنَ رِمَاحِنَا أَوْ قَالَ بَيْنَ سُيُوفِنَا.

ابو بكر بن محمد بن عمرو بن حزم نے اپنے والد سے نقل کیا ہے کہ جب عمار شہید ہوگئے تو عمرو بن حزم عمرو عاص کے پاس گئے اور کہا عمار قتل ہوگئے اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا تھا : عمار تمہیں باغی اور ظالم جماعت قتل کرے گی ۔ عمرو عاص غمناک ہوکر اٹھا اور «لا حول ولا قوة الا بالله» معاویہ کہتا ہوا معاویہ کے پاس پہنچا تو معاویہ نے سوال کیا کہ کیا ہوا؟ کہا عمار قتل ہوگئے ہیں ، معاویہ نے کہا قتل ہوگئے تو ہوگئے اب کیا کریں؟ عمرو عاص نے کہا میں رسول صلی اللہ علیہ و آلہ سے سنا تھا کہ عمار کو کو ایک باغی اور ظالم لوگ قتل کرینگے معاویہ نے جواب دیا ہم تو عمار کو قتل نہیں کیا عمار کو علی [ع]اور اسکے ساتھیوں نے قتل کیا ہے اور اسے اپنے ساتھ لائے اور انھوں نے ہمیں تلوار اور نیزوں کے سامنے لے کر آئے ۔

الشيباني، أحمد بن حنبل أبو عبدالله (متوفاي241هـ)، مسند أحمد بن حنبل، ج4، ص199، ح 17813، ناشر: مؤسسة قرطبة – مصر؛

البيهقي، أحمد بن الحسين بن علي بن موسى أبو بكر (متوفاي 458هـ)، سنن البيهقي الكبرى، ج8، ص189، ناشر: مكتبة دار الباز - مكة المكرمة، تحقيق: محمد عبد القادر عطا، 1414 - 1994؛

الذهبي، شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان، (متوفاي748هـ)، سير أعلام النبلاء، ج 1، ص 420 و ص 426، تحقيق: شعيب الأرناؤوط، محمد نعيم العرقسوسي، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: التاسعة، 1413هـ.

هيثمى نے اسے نقل کے بعد کہا :

رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحْمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، وَهُوَ ثِقَةٌ.

اس کو احمد ،ابو یعلی اور طبرانی نے نقل کیا ہے اور احمد کے نقل کے راوی صحیح ہیں ،سوای محمد بن عمرو کے وہ بھی ثقہ ہے ۔

الهيثمي، علي بن أبي بكر (متوفاي 807 هـ)، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، ج7، ص242، ناشر: دار الريان للتراث/ دار الكتاب العربي - القاهرة، بيروت – 1407هـ.

حاكم نيشابورى نے اس روایت کو نقل کرنے کےبعد کہا :

هذا حديث صحيح على شرط الشخين ولم يخرجاه بهذه السياقة.

یہ بخاری اور مسلم کی شرط پر ہے لیکن انھوں نےاس طرح نقل نہیں کیا ہے.

الحاكم النيسابوري، محمد بن عبدالله أبو عبدالله (متوفاي 405 هـ)، المستدرك على الصحيحين، ج2، ص155، تحقيق: مصطفى عبد القادر عطا، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت الطبعة: الأولى، 1411هـ - 1990م.

مناوى نے قرطبی سے نقل کیا ہے کہ :

وهذا الحديث أثبت الأحاديث وأصحّها، ولمّا لم يقدر معاوية على إنكاره قال: إنّما قتله من أخرجه، فأجابه على بأنّ رسول اللّه صلى اللّه عليه وسلم إذن قتل حمزة حين أخرجه.

قال ابن دحية: وهذا من على إلزام مفحم الذى لا جواب عنه، وحجّة لا اعتراض عليها.

یہ حدیث مضبوط ترین اور صحیح ترین احادیث میں سے ہے اور جب معاویہ اس حدیث کے انکار کرنےسے قاصر ہوا تو کہا عمار کو ان لوگوں نے قتل کیا ہے جو لوگ انکو اپنے ساتھ لائے تھے ۔ علی [علیہ السلام نے ] نے معاویہ کے جواب میں کہا اس دلیل کی بناء پر حضرت حمزہ کے قاتل رسول صلی اللہ علیہ و آلہ تھے اس لئے حضرت حمزہ کو اپنے ساتھ [احد میں ] لائے تھے

ابن دحیہ کہتے ہیں:حضرت علی [علیہ السلام ] کا یہ جواب منہ توڑ تھا جس کا کوئی جواب نہیں ہے اور یہ ایسی دلیل ہے جس پر کوئی اعتراض نہیں کر سکتا ہے ۔

المناوي، عبد الرؤوف (متوفاي: 1031هـ)، فيض القدير شرح الجامع الصغير، ج 6، ص 366، ناشر: المكتبة التجارية الكبرى - مصر، الطبعة: الأولى، 1356هـ

مسند أحمد بن حنبل کے محقق نے بھی اس کو صحیح سند قرار دیا ہے :

عليق شعيب الأرنؤوط : إسناده صحيح ۔

مسند أحمد بن حنبل، أحمد بن حنبل أبو عبدالله الشيباني(4/ 199): ،الناشر : مؤسسة  قرطبة – القاهرة عدد الأجزاء : 6،الأحاديث مذيلة بأحكام شعيب الأرنؤوط عليها 

مسند ابی یعلی کے محقق نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے :

قال حسين سليم أسد : إسناده صحيح

مسند أبي يعلى: أحمد بن علي بن المثنى أبو يعلى الموصلي التميمي ج 13/ 94):: دار المأمون للتراث – دمشق الطبعة الأولى ، 1404 – 1984 تحقيق : حسين سليم أسدعدد الأجزاء : 13 (13/ 94): 

خزيمة ذوالشهادتين: 

خزيمہ بن ثابت، حضرت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ کے با وفا ساتھیوں میں سے تھے اور آخری عمر تک آپ سے کئے ہوئے عہد کو نبھاتا رہا ۔ یہ صحابی جنگ بدر اور دوسری جنگ میں شریک رہے ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ نے انکی گواہی کو دو مردوں کی گواہی کے برابر قرار دیا ۔اسی لئے انھیں «ذوالشهادتين» کے لقب سے شہرت ملی وہ جنگ صفین میں حضرت علی [علیہ السلام ]کے ہمرکاب حاضر ہوئے اور درجہ شہادت پر فائز ہوئے

ابن عبد البر قرطبى نے ان کے شرح حال میں لکھا ہے :

خزيمة بن ثابت بن الفاكه بن ثعلبة الخطمى الأنصارى من بنى خطمة من الأوس يعرف بذى الشهادتين جعل رسول الله صلى الله عليه وسلم شهادته بشهادة رجلين يكنى أبا عمارة شهد بدرا وما بعدها من المشاهد وكانت راية خطمة بيده يوم الفتح وكان مع على رضى الله عنه بصفين فلما قتل عمار جرد سيفه فقاتل حتى قتل وكانت صفين سنة سبع وثلاثين

روى عن محمد بن عمارة بن خزيمة بن ثابت من وجوه قد ذكرتها فى كتاب الإستظهار فى طرق حديث عمار قال ما زال جدى خزيمة بن ثابت مع على بصفين كافا سلاحه وكذلك فعل يوم الجمل فلما قتل عمار بصفين قال خزيمة سمعت رسول الله (ص) يقول تقتل عمار الفئة الباغية ثم سل سيفه فقاتل حتى قتل.

خزيمہ بن ثابت، ذى الشهادتين کے نام سے معروف ، رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ ، نے انکی گواہی کو دو مردوں کی گواہی کا درجہ دیاانکی کنیت ابو عمارہ تھی وہ جنگ بدر اور دوسری جنگوں میں شریک ہوئے فتح مکہ کے وقت خطمہ کا علم انکے ہاتھ میں تھا ۔ وہ جنگ صفین میں علی علیہ السلام کے لشکر میں تھے جب عمار شہید ہوگئے تو اپنی تلوار کو غلاف سے نکال کر جہاد کرتے رہے یہاں تک کہ شہادت نصیب ہوئی جنگ صفین 37 ہجری میں واقع ہوئی تھی

محمد بن عماره بن خزيمة بن ثابت چند جہت سے روایت ہوئی جس کو ہم نے "كتاب الإستظهار " عمار کے طریق میں بیان کیا ہے اس نے کہا میرے جد خزیمہ بن ثابت صفین اور جمل میں علی علیہ السلام کے ساتھ تھے لیکن انکی تلوار غلاف میں ہی رہی یہاں تک عمار صفین میں شہید ہوگئے تو انھوں کہا میں نے رسول سے سنا ہے کہ عمار تمہیں ایک نابکار اور باغی گروہ قتل کرے گا پھر اپنی تلوار نیام سے نکالی اور اس وقت تک جنگ کرتے رہے یہاں تک شہادت نصیب ہوئی ۔

ابن عبد البر النمري القرطبي المالكي، ابوعمر يوسف بن عبد الله بن عبد البر (متوفاى 463هـ)، الاستيعاب في معرفة الأصحاب، ج 2، ص448 ، تحقيق: علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولى، 1412هـ.

حاكم نيشابورى نے كتاب المستدرك میں لکھا ہے :

حَدَّثَنِى أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِى، ثَنَا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِى، قَالَ: " خُزَيْمَةُ بْنُ ثَابِتِ بْنِ الْفَاكِهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ سَاعِدَةَ بْنِ عَامِرِ بْنِ غَيَّانَ بْنِ عَامِرِ بْنِ خَطْمَةَ وَهُوَ ذُو الشَّهَادَتَيْنِ، جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَهَادَتَهُ بِشَهَادَةِ رَجُلَيْنِ، وَأَخْبَرَ النَّبِى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ رَأَى فِى الْمَنَامِ كَأَنَّهُ سَجَدَ عَلَى جَبْهَةِ النَّبِى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَاضْطَجَعَ لَهُ النَّبِى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَجَدَ عَلَى جَبْهَتِهِ " قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ:« قُتِلَ مَعَ عَلِى رَضِى اللَّهُ عَنْهُ بِصِفِّينَ بَعْدَ قَتْلِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ».

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: " شَهِدَ خُزَيْمَةُ بْنُ ثَابِتٍ ذُو الشَّهَادَتَيْنِ مَعَ عَلِى بْنِ أَبِى طَالِبٍ رَضِى اللَّهُ عَنْهُ صِفِّينَ، وَقُتِلَ يَوْمَئِذٍ سَنَةَ سَبْعٍ وَثَلاثِينَ مِنَ الْهِجْرَةِ.

مصعب زبيرى سے نقل ہے کہ : خزیفہ بن ثابت ذو الشهادتين کہ جن کی گواہی کو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ دو افرادکی گواہی کے مساوی قرار دیاتھا انھوں نے حضرت کو یہ بتایا تھا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے آپ کی پیشانی پر میں نے سجدہ کیا ہے پس حضرت لیٹ گئے یہاں تک کہ خزیفہ نے آپ کی پیشانی پر سجدہ کیا ۔

محمد بن اسحاق سے نقل ہوا ہےکہ وہ جنگ صفین میں حضرت علی [ع]کی فوج میں تھے اور عمار کی شہادت کے بعد شہید ہوئے۔

ابن اسحاق سے نقل ہوا ہے کہ خزيمہ ذوالشهادتين ،جنگ صفین میں على بن أبى طالب [ع] کے ساتھ تھے وہ اسی جنگ میں 37 ہجری می قتل ہوئے۔

الحاكم النيسابوري، ابو عبدالله محمد بن عبدالله (متوفاى 405 هـ)، المستدرك علي الصحيحين، ج 3، ص448 ، تحقيق: مصطفي عبد القادر عطا، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت الطبعة: الأولى، 1411هـ - 1990م.

بابن سعد (المتوفى: 230هـ) نے  الطبقات الكبرى میں لکھا ہے :

- خزيمة بن ثابت ۔۔۔۔۔  وهو ذو الشهادتين. وقدم الكوفة مع علي بن أبي طالب فلم يزل معه حتى قتل بصفين سنة سبع وثلاثين.  

   ۔حذیفہ بن ثابت وہی ذو شھادتین ہیں،آپ کوفہ گئے اور علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے ساتھ ہی رہے اور ان سے جدا نہیں ہوئے یہاں تک کہ جنگ صفین میں شہید ہوگے۔ اور یہ ۳۷ ہجری کو پیش آیا ۔

  أبو عبد الله محمد بن سعد ، المعروف بابن سعد (المتوفى: 230هـ) الطبقات الكبرى ۔ (6/ 121): تحقيق محمد عبد القادر عطاالناشر: دار الكتب العلمية – بيروت الطبعة:  1990 م عدد الأجزاء: 8 

ابن عبد البر  نے الاستيعاب في معرفة الأصحاب، میں لکھا ہے : 

 ) خزيمة بن ثابت ۔۔ الأنصاري،۔۔۔۔۔۔۔يعرف بذي الشهادتين، ۔۔۔ شهد بدرا، وما بعدها من المشاهد، وكانت راية خطمة بيده يوم الفتح، وكان مع علي رضي الله عنه بصفين، فلما قتل عمار جرد سيفه فقاتل حتى قتل، ۔۔

حذیفہ بن ثابت انصاری جو ذو الشھادتین کے نام سے معروف تھے ۔آپ جنگ بدر میں اور اس کے بعد کی جنگوں میں شریک رہے اور فتح مکہ کے وقت حطمہ کا پرچم آپ کے ہاتھ میں تھا ،آپ صفین میں حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ تھے اور جب جناب عمار شہید ہوئے تو آپ نے تلوار نیام سے نکالی اور جنگ شروع کی اور جنگ کرتے کرتے شہید ہوئے ۔

أبو عمر يوسف بن عبد الله بن محمد بن عبد البر بن عاصم النمري القرطبي (المتوفى: 463هـ) (2/ 448):المحقق: علي محمد البجاوي الناشر: دار الجيل، بيروت

الطبعة: الأولى، 1412 هـ - 1992 م

هاشم بن عتبة   

هاشم بن عتبہ بن أبى وقاص، ھاشم مرقال کے نام سے معروف ، سعد بن ابی وقاص کا بھتیجا ہے ۔ آپجنگ صفین میں درجہ شہادت پر فائز ہوئے ۔

ابن حبان انکےبارے میں لکھتے ہیں:

هاشم بن عتبة بن أبى وقاص بن أخى سعد له صحبة قتل يوم صفين.

هاشم بن عتبہ بن أبى وقاص، سعد کا بھتیجا، صحابى تھے اور جنگ صفین میں شہید ہوئے.

التميمي البستي، ابوحاتم محمد بن حبان بن أحمد (متوفاى354 هـ)، الثقات، ج 3، ص437، رقم: 1428، تحقيق السيد شرف الدين أحمد، ناشر: دار الفكر، الطبعة: الأولى، 1395هـ – 1975م.

محمد بن جرير طبرى انکا نام شہداء صفین میں شمار کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

وهاشم بن عتبة بن أبى وقاص بن أهيب بن عبدمناف بن زهرة أسلم هاشم بن عتبة يوم فتح مكة وهو المرقال وكان أعور فقئت عينه يوم اليرموك وهو ابن أخى سعد بن أبى وقاص شهد صفين مع على بن أبى طالب عليه السلام وكان يومئذ على الرجالة وهو الذى يقول:

أعور يبغى أهله محلا

قد عالج الحياة حتى ملا

لابد أن يفل أو يفلا

وقتل يوم صفين.

هاشم بن عتبہ نے فتح مكه کے وقت اسلام قبول کیا ، یہ وہی مرقال ہے انکی ایک آنکھ ناکارہ تھی۔ یرموک میں انکی آنکھ ضائع ہوئی یہ سعد بن ابی وقاص کے بھتیجے تھے ۔ جنگ صفین میں حضرت علی [ع]کے ساتھ تھے وہ پیادہ فوج کے سردار تھے یہ وہی ہیں جنھوں نے کہا تھا اعور وہ ہے جو اپنے لوگوں کے لئے ،مقام و منزلیت کا طالب ہو اور اتنی زندگی کر چکا ہو کہ تھکن اس پر عارض ہوگئی ہو پس چارہ نہیں سوائے اس کے کہ تلوار سے دشمن کو مارے یا خود مر جائے وہ جنگ صفین میں شہید ہوئے ۔

الطبري، أبو جعفر محمد بن جرير بن يزيد بن كثير بن غالب (متوفاى310)، المنتخب من ذيل المذيل ، ج 1، ص16 ـ 17، طبق برنامه الجامع الكبير.

و ابن حجر عسقلانى نے اس علمدار لشکر علی [ع] کی تعریف میں لکھا ہے:

هاشم بن عتبة بن أبى وقاص بن أهيب بن زهرة بن عبد مناف الزهرى الشجاع المشهور المعروف بالمرقال بن أخى سعد بن أبى وقاص قال الدولابى لقب بالمرقال لأنه كان يرقل فى الحرب أى يسرع من الإرقال وهو ضرب من العدو وقال بن الكلبى وابن حبان له صحبة ...

وأخرج يعقوب بن سفيان من طريق الزهرى قال قتل عمار بن ياسر وهاشم بن عتبة يوم صفين وأخرج بن السكن من طريق الأعمش عن أبى عبد الرحمن السلمى قال شهدنا صفين مع على وقد وكلنا بفرسه رجلين فإذا كان من القوم غفلة حمل عليهم فلا يرجع حتى يخضب سيفه دما قال ورأيت هاشم بن عتبة وعمار بن ياسر يقول له يا هاشم:

أعور يبغى أهلى محلا

قد عالج الحياة حتى ملا

لا بد أن يفل أو يفلا

قال ثم أخذوا فى واد من أودية صفين فما رجعا حتى قتلا

وأخرج عبد الرزاق عن أبى بكر بن محمد بن عمرو بن حزم أن هاشما أنشده فذكر نحوه .

وقال المرزبانى لما جاء قتل عثمان إلى أهل الكوفة قال هاشم لأبى موسى الأشعرى تعال يا أبا موسى بايع لخير هذه الأمة على فقال لا تعجل فوضع هاشم يده على الأخرى فقال هذه لعلى وهذه لى وقد بايعت عليا وأنشد

أبايع غير مكترث عليا

ولا أخشى أميرا أشعريا

أبايعه وأعلم أن سأرضى

بذاك الله حقا والنبيا

هاشم بن عتبہ بن أبى وقاص، شجاع مرقال کے نام سے معروف سعد کے بھتیجے دولابی نےکہا ہے مرقال اس لئے لقب دیا گیا کہ وہ جنگ میں تیزی سے داخل ہوجاتے تھے ارقال یعنی دوڑنا ابن کلبی اور ابن حبان نے کہا ہے کہ وہ صحابی ہیں يعقوب بن سفيان نے طريق زهرى سے نقل کیا ہے

عمار بن ياسر اور هاشم بن عبته ، جنگ صفين میں شہید ہوئے ۔۔ ابو عبد اللہ سلمی سے نقل ہوا ہے کہ ہم جنگ صفین میں حضرت علی[ع] کے لشکر میں تھے دو افراد ایک گھوڑے پر سوار ہوکر جب دشمن غافل ہوتا تھا حملہ کرتے تھے اور کوئی اس وقت تک نہیں لوٹتا تھا جب تک اپنی تلوار کو خون میں ترنہ کر لے ۔میں نے عمار بن ياسر اور هاشم بن عبتہ کو دیکھا عمار نے ہاشم سے کہا :اعور وہ ہے جو اپنے لوگوں کے لئے ،مقام و منزلیت کا طالب ہو اور اتنی زندگی کر چکا ہو کہ تھکن اس پر عارض ہوگئی ہو پس چارہ نہیں سوائے اس کے تلوار سے دشمن کو مارے یا خود مر جائے پس دونوں نے صفین کے بیابان کا رخ کیا اور شہادت نصیب ہوئی۔

عبد الرزاق نے أبوبكر بن محمد بن عمرو بن حزم سے نقل کیا ہے كہ یہ شعر هاشم نے پڑھا.

مرزبانى کہتا ہے : جب عثمان کے قتل کی خبر کوفہ پہنچی تو هاشم نے ابوموسى اشعرى سے کہا اے ابوموسی آو اور اس امت کے بہترین شخص کی بیعت کرو یعنی علی علیہ السلام کی ۔ ابو موسی نے کہا جلدی مت کرو ۔ پس ہاشم نے ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ ہر رکھ کر کہا یہ ہاتھ علی [ع]کے لئے اور دوسرا ہاتھ میرا ، میں نے علی[ع] کی بیعت کر لی ہےاور پھر یہ شعر پڑھا :  میں نے بغیر تعطل کے علی [ع]کی بیعت کر لی ہے اور امیر اشعری سے خوف نہیں کھاتا ہوں میں انکی بیعت کرتا ہوں اور مجھے معلوم ہے کہ اللہ اور اسکا رسول میرے اس فعل سے راضی ہے ۔

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابوالفضل (متوفاى852هـ)، الإصابة في تمييز الصحابة، ج6 ص515 ـ 516، رقم: 8918 ، تحقيق: علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولى، 1412هـ - 1992م.

و ابن عبد البر قرطبى انکا تعارف اس طرح کرواتے ہیں:

هاشم بن عتبة بن أبى وقاص القرشى الزهرى ابن أخى سعد بن أبى وقاص بكى أبا عمرو وقد تقدم ذكر نسبه إلى زهرة فى باب عمه سعد قال خليفة بن خياط فى تسمية من نزل الكوفة من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم هاشم بن عتبة بن أبى وقاص الزهرى وقال الهيثم ابن عدى مثله قال أبو عمر أسلم هاشم بن عتبة يوم الفتح يعرف بالمرقال وكان من الفضلاء الخيار وكان من الأبطال البهم فقئت عينه يوم اليرموك...

ثم شهد هاشم مع على الجمل وشهد صفين وأبلى فيها بلاء حسنا مذكورا وبيده كانت راية على على الرجالة يوم صفين ويومئذ قتل وهو القائل يومئذ

أعور يبغى أهله محلا

قد عالج الحياة حتى ملا

لا بد أن يفل أو يفلا

وقطعت رجله يومئذ فجعل يقاتل من دنا منه وهو بارك ويقول:

الفحل يحمى شوله معقولا

وقاتل حتى قتل وفيه يقول أبو الطفيل عامر بن وائلة:

يا هاشم الخير جزيت الجنة

قاتلت فى الله عدو السنة

أفلح بما فزت به من منة۔

هاشم بن عتبہ بن أبى وقاص قرشى، سعد بن أبى وقاص کے بھتیجے انکے نسب کے بارے میں جو زہری سے نقل ہوا ہے ان کے چچا کے شرح حال میں بیان کردیا ہے ۔ خلیفہ بن خیاط نے انھیں ان صحابہ میں شمار کیا ہے جو کوفہ میں ساکن ہوگئے تھے ۔  ھیثم بن عدی نے بھی ہیی کہا ہے ابو عمر نے کہا ہے کہ وہ فتح مکہ میں مسلمان ہوئے اور مرقال کے نام سے مشہور ہوئے وہ عالم ء مایہ ناز شخصیت بہادر ، اور پیادہ لشکر کے علمبردار تھے ۔جنگ یرموک میں ایک آنکھ ضائع ہوگئی تھی ۔ اسکے بعد جنگ جمل اور صفین میں علی [ع]کے ساتھ شریک ہو ئے اور اس میں بلاء حسنہ میں مبتلاء ہوئے ۔ اس جنگ میں پیادہ لشکر کا علم انکے ہاتھ میں تھا اور اسی جنگ میں شہید ہوئےیہ وہ ہی ہیں جنھوں نے یہ شعر پڑھا :

اعور وہ ہے جو اپنے لوگوں کے لئے ،مقام و منزلیت کا  طالب ہو اور اتنی زندگی کر چکا ہو کہ تھکن اس پر عارض ہوگئی ہو پس چارہ نہیں سوائے اس کے تلوار سے دشمن کو مارے یا خود مر جائے ۔ اس جنگ میں انکا پیر کٹ گیا لیکن جو بھی انکے قریب آتا اس سے جنگ کرتے اور زمین پر گرادیتے ۔اسے  اپنے سینے کے نیچے دبا کر کہتے :

مرد اپنے لوگوں کا دفاع کرتا ہے اگرچہ گرفتار ہی کیوں نہ ہو اور اس قدر لڑے کہ شہید ہو گئے۔

 انکےبارے میں ابو طفیل عامر بن وائلہ نے اشعار کہے:  اے ہاشم نیک سیرت تمہاری جزا جنت ہو تم اللہ اور سنت کےدشمنوں سے لڑے اور کس قدر رستگاری ہے جس عنایت کے تم مالک ہوئے ۔

ابن عبد البر النمري القرطبي المالكي، ابوعمر يوسف بن عبد الله بن عبد البر (متوفاى 463هـ)، الاستيعاب في معرفة الأصحاب، ج4 ص1546 ـ 1547، رقم: 2700 ، تحقيق: علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولى، 1412هـ.

هيثمى نے مجمع الزوائد میں لکھا ہے :

وعن أبى عبدالرحمن السلمى قال شهدنا مع على صفين وقد وكلنا بفرسه رجلين فكانت إذا كانت من الرجل غفلة غمز على فرسه فإذا هو فى عسكر القوم فيرجع إلينا وقد خضب سيفه دما ويقول يا اصحابى اعذرونى اعذرونى فكنا إذا توادعنا دخل هؤلاء فى عسكر هؤلاء فكان عمار بن ياسر يقول علما لأصحاب محمد (ص) لا يسلك عمار واديا من أودية صفين إلا تبعه أصحاب محمد (ص) فانتهينا إلى هاشم بن عتبة بن أبى وقاص وقد ركز الراية فقال مالك يا هاشم أعور وجبنا لا خير فى أعور لا يغشى الناس فنزع هاشم الراية وهو يقول :

أعور يبغى أهله محلا

قد عالج الحياة حتى ملا

لا بد أن يفل أو يفلا

ابو عبد الرحمن سلمى نےروایت کی ہے ہم صفین میں علی[ع] کے ساتھ تھے۔۔۔۔۔۔ عمار اس روز پیشوا اور اصحاب رسول کے لئے علم تھے صفین میں جس مقام پر بھی قدم رکھتے تھے اصحاب انکے پیچھے آجاتے تھے اور اسی دوران «هاشم بن عتبة بن ابى وقّاص» جو لشکر کے علمدار تھے کے پاس پہنچے عمار نے کہا اے اعور تم اور ڈر ؟ اس اعور کا کیا فائدہ جو لوگوں کو جوش میں نہ لائے ۔ ہاشم ناراض ہوئے اور پرچم اٹھا کر کہا : اعور وہ ہے جو اپنے لوگوں کے لئے ،مقام و منزلیت کا طالب ہو اور اتنی زندگی کر چکا ہو کہ تھکن اس پر عارض ہوگئی ہو پس چارہ نہیں سوائے اس کے تلوار سے دشمن کو مارے یا خود مر جائے

هيثمى اس روایت کی سند کے بارے میں کہا :

رواه الطبرانى وأحمد باختصار وأبو يعلى بنحو الطبرانى والبزار بقوله تقتل عمارا الفئة الباغية عن عبدالله بن عمرو وحده ورجال أحمد وأبى يعلى ثقات.

یہ روايت طبرانى، احمد و ابويعلى سے بطور خلاصہ نقل ہوئی ہے ۔بزار نے جملہ «تقتل عمار الفئة الباغية» کے ساتھ طريق عبد الله بن عمر سے نقل کیا . أحمد وابويعلى کے راوی موثق اور قابل اعتماد ہیں۔

الهيثمي، ابوالحسن نور الدين علي بن أبي بكر (متوفاى 807 هـ)، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، ج 7 ص240 ـ 241، ناشر: دار الريان للتراث/ دار الكتاب العربي - القاهرة، بيروت – 1407هـ.

ابوفضالة الأنصاري: 

ابو فضالہ انصارى، جنگ بدر میں شریک ہوئے اور صفین میں شرکت کی .

ابن حجر انکے بارے میں لکھتے ہیں:

أبو فضالة الأنصارى ذكره أحمد والحارث بن أبى أسامة فى مسنديهما وابن أبى خيثمة والبغوى فى الصحابة وأسد بن موسى فى فضائل الصحابة وذكره البخارى فى الكنى مختصرا قال حدثنا موسى حدثنا محمد بن راشد حدثنا بن عقيل عن فضالة بن أبى فضالة الأنصارى وقتل أبو فضالة بصفين مع على وكان من أهل بدر .

وأخرجه بن أبى خيثمة عن عارم عن بن راشد فقال عنه عن فضالة أن عليا قال أخبرنى النبى صلى الله عليه وسلم أنى لا أموت حتى أؤمر ثم تخضب هذه من هذه قال فضالة فصحبه أبى إلى صفين وقتل معه وكان أبو فضالة من أهل بدر .

ابو فضالہ انصاري؛ کو احمد بن حنبل و حارث بن أبى أسامه نے  اپنی مسند میں ذکر کیا ہے . ابن أبى خيثمہ اور بغوى نے انھیں صحابی قرار دیا ہے. اسد بن موسى نے فضائل الصحابہ میں انکا تذکرہ کیا ہے . بخارى نے كتاب الكنى میں مختصر تعارف لکھتے ہوا کہا ہے : موسی نے محمد بن راشد سے انھوں نے ابن عقیل سے انھوں نے ابی فضالہ سےروایت کیا کرتے تھے ۔ ابو فضالہ جنگ صفین میں علی [ع]کے لشکر میں تھے اور شہید ہوئے یہ بدری صحابی تھے ۔

فضالہ سے نقل ہے کہ على عليہ السلام نے فرمایا :رسول خدا صلى الله عليہ وآلہ مجھ سے فرمایا ہے ، میں دنیا سے اس وقت نہیں جاونگا جب تک میں حاکم نہ بن جاوں اور میری داڑھی خون سے رنگین نہ ہوجا ۔پس میرے والد نے صفین میں علی[ع] کا ساتھ دیا اور اسی جنگ میں شہید ہوئے وہ اہل بدر تھے اور جنگ بدر میں شریک ہوئے تھے۔

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابوالفضل (متوفاى852هـ)، الإصابة في تمييز الصحابة، ج7 ص322، رقم: 10388 ، تحقيق: علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولى، 1412هـ - 1992م.

ابن عبد البر نے الإستيعاب میں لکھا ہے :

أبو فضالة الأنصارى شهد بدرا مع النبى صلى الله عليه وسلم وقتل مع على بصفين... .

ابوفضالہ انصارى جنگ بدر میں همراه رسول خدا (ص) تھے اور جنگ صفين میں ركاب على (ع) میں شہید ہوئے.

ابن عبد البر النمري القرطبي المالكي، ابوعمر يوسف بن عبد الله بن عبد البر (متوفاى 463هـ)، الاستيعاب في معرفة الأصحاب، ج4 ص1729، رقم: 3125 ، تحقيق: علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولى، 1412هـ. 

سهيل بن عمرو الأنصاري

یہ بھی صحابی رسول اور جنگ بدر میں شریک ہوئے اور صفین میں امام علی کے ساتھ دیتے ہوئے شہید ہوئے

ابن عبد البر انکے بارے میں لکھا ہے :

سهيل بن عمرو بن أبى عمرو الأنصارى ذكره ابن الكلبى فيمن شهد صفين من البدريين فقال سهيل بن عمرو الأنصارى شهد بدرا وقتل مع على بن أبى طالب رضى الله عنه بصفين.

سهيل بن عمرو بن أبى عمرو انصارى، کو ابن كلبى ان صحابہ میں ذکر کیا ہے جو بدر میں شرکت کے بعد صفین میں حاضر ہوئے تھے انھوں نے کہا وہ جنگ بدر میں شریک تھے اور علی بن ابیطالب[ع] کے لشکر میں موجود تھے اور شہید ہوئے۔

ابن عبد البر النمري القرطبي المالكي، ابوعمر يوسف بن عبد الله بن عبد البر (متوفاى 463هـ)، الاستيعاب في معرفة الأصحاب، ج 2، ص669، رقم:1105 ، تحقيق: علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولى، 1412هـ

عبد الله بن بديل اور انکے بھائی : 

ابن حجر عسقلانى نے كتاب الإصابه میں لکھا ہے :

عبد الله بن بديل بن ورقاء الخزاعى تقدم ذكر أبيه ونسبه قال الطبرى وغيره أسلم يوم الفتح مع أبيه وشهد حنينا والطائف وتبوك وقال بن الكلبى كان هو وأخوه عبد الرحمن رسولى رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى اليمن ثم شهدا صفين مع على وقتلا بها وكان عبد الله على الرحال۔

وفى كتاب صفين لنصر بن مزاحم بسنده إلى زيد بن وهب إن عبد الله بن بديل قام بصفين فقال إن معاوية نازع الأمر أهله وصال عليكم بالأحزاب والأعراب وأنتم والله على الحق فقاتلوا ومن طريق الشعبى قال كان على عبد الله بن بديل بصفين درعان ومعه سيفان فكان يضرب أهل الشام وهو يقول:

لم يبق إلا الصبر والتوكل

ثم التمشى فى الرعيل الأول

مشى الجمال فى حياض المنهل

والله يقضى ما يشاء ويفعل ۔

عبد الله بن بديل بن ورقاء خزاعى، انکا نسب اور والد کا نام پہلے گزر گیا ہے طبری اور دیگر افراد نے کہا ہے : وہ فتح مکہ میں اپنے والد کے ساتھ مسلمان ہوئے جنگ حنین ، طائف ، اور تبوک میں شریک ہوئے ابن کلبی نے انھیں اور انکے بھائی عبد الرحمن کو رسول رسول خدا صلى الله عليہ وآلہ نے یمن کی طرف بھیجا ہوا ایلچی قرار دیا ہے پھر یہ دونوں صفین میں علی [ع]کے ساتھ شریک ہوئے اور اسی جنگ میں دونوں شہید ہوئے اور عبد اللہ پیادہ فوج میں شامل تھے نصر بن مزاحم نے کتاب الصفین میں زید بن وھب کی سند سے ذکر کیا ہے کہ عبد اللہ بن بدیل نے جنگ صفین میں بڑ کر یہ کہا: معاویہ نے اہل امر اور حق سے جگڑا شروع کیا ہے اور تمہارے مقابل احزاب اور اعراب لے کر آئے ہیں۔ اللہ کی قسم تم لوگ حق پر ہو پس جہاد کرو ۔

شعبی کے طریق سے نقل ہوا ہے کہ جنگ صفین میں عبد اللہ کے پاس دو زرہ اور دو تلواریں تھیں۔ اہل شام سے جنگ کرتے ہوئے کہتے تھے :  اب صبر اورتوکل کے علاوہ کچھ نہیں بچا ہے اور صف اول میں اس تیزی سے چلے گئے جس طرح اونٹ اپنے پانی کیطرف بھاگتا ہے۔ اللہ جو چاہتا انجام دیتا ہے ۔

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابوالفضل (متوفاى852هـ)، الإصابة في تمييز الصحابة، ج 4 ص21، رقم: 4562 ، تحقيق: علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولى، 1412هـ - 1992م.

عبد الله بن كعب مرادي:

ابن عبد البر، ابن أثير اور ابن حجر نے انھیں اصحاب کے زمرہ میں داخل کیا ہے اور جنگ صفین مین شہید ہونےکی صراحت کی ہے۔

عبد الله بن كعب المرادى قتل يوم صفين وكان من أعيان أصحاب على.

عبد الله بن كعب مرادى، جنگ صفين میں شہید ہوئے وہ حضرت علی [ع] کے خاص اصحاب میں سے تھے .

ابن عبد البر النمري القرطبي المالكي، ابوعمر يوسف بن عبد الله بن عبد البر (متوفاى 463هـ)، الاستيعاب في معرفة الأصحاب، ج 3، ص981، رقم: 1644 ، تحقيق: علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولى، 1412هـ.

ابن أثير الجزري، عز الدين بن الأثير أبي الحسن علي بن محمد (متوفاى630هـ)، أسد الغابة في معرفة الصحابة، ج 3، ص382 ، تحقيق عادل أحمد الرفاعي، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت / لبنان، الطبعة: الأولى، 1417 هـ - 1996 م.

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابوالفضل (متوفاى852هـ)، الإصابة في تمييز الصحابة، ج 4، ص4919، رقم: 4921 ، تحقيق: علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولى، 1412هـ - 1992م.

ابو عمره انصاري:

ابو عمره انصارى، صحابی رسول رسول خدا صلى الله عليہ وآلہ جو جنگ صفین میں شہید ہوئے لیکن انکا نام بشير بن عمرو است ہے يا ثعلبة بن عمرو ہے اختلاف ہے البتہ انکے انکا علی[ع] کے لشکر میں ہوکر شہید ہونا یقینی ہے

اسی طرح علماءاهل سنت نے لکھا ہےانھوں نےجنگ جمل میں ایک لاکھ ہزار کی مالی امداد دی تھی تاکہ دشمنان خدا کے مقابلہ میں کامیابی ملے۔

ابن عبد البر قرطبى نے الإستيعاب میں لکھا ہے:

بشير بن عمرو بن محصن أبو عمرة الأنصارى روى عن النبى وقتل يوم صفين وقد اختلف فى أسم أبى عمرة الأنصارى هذا والد عبدالرحمن بن أبى عمرة .

بشير بن عمرو بن محصن، ابو عمرة انصارى، انھوں نے رسولرسول خدا صلى الله عليہ وآلہ سے بھی روایات نقل کی ہے اور یہ جنگ صفین میں شہید ہوئے. انکے نام کےبارے میں اختلاف ہےوہ عبد الرحمن بن ابی عمرہ کے والد ہیں۔

ابن عبد البر النمري القرطبي المالكي، ابوعمر يوسف بن عبد الله بن عبد البر (متوفاى 463هـ)، الاستيعاب في معرفة الأصحاب، ج 1، ص175 ، تحقيق: علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولى، 1412هـ.

طبرانى نے المعجم الكبير میں لکھا ہے :

أبو عَمْرَةَ الأَنْصَارِى وَيُقَالُ بَشِيرُ بن عمرو بن محصن رضى الله عنه ويقال ثعلبة بن عمرو بن محصن ويقال عَمْرِو بن مِحْصَنٍ من بنى مَازِنِ بن النَّجَّارِ وَيُقَالُ إِنَّ أَبَا عَمْرَةَ أَعْطَى عَلِيًّا رضى اللَّهُ عنه يوم صِفِّينَ مِائَةَ أَلْفِ دِرْهَمٍ أَعَانَهُ بها يوم الْجَمَلِ وَقُتِلَ يوم صِفِّينَ .

ابو عمره انصارى، ان کو بشير بن عمرو بن محصن یا ثعلبة بن عمرو بن محصن، کہا جاتا تھا۔ انھوں نے علی رضی اللہ عنہ کو صفین میں ایک لاکھ درھم جنگ کے لئے دیئے ، جس کی وجہ سے جنگ جمل میں یوم جمل میں مدد کی اور وہ صفین میں شہید ہوئے۔

الطبراني، ابوالقاسم سليمان بن أحمد بن أيوب (متوفاى360هـ)، المعجم الكبير، ج 1، ص211 ، تحقيق: حمدي بن عبدالمجيد السلفي، ناشر: مكتبة الزهراء - الموصل، الطبعة: الثانية، 1404هـ – 1983م.

ابن حبان شافعى نے كتاب مشاهير الأمصار اور كتاب الثقات میں اسی مطلب کو ذکر کیا ہے :

ثعلبة بن عمرو بن محصن كنيته أبو عمرة والد عبد الرحمن بن أبى عمرة شهد مع النبى صلى الله عليه وسلم خيبر وقد قيل ان اسم أبى عمرة بشير بن عمرو بن محصن أعطى عليا يوم الجمل مائة ألف درهم أعانه بها وقتل يوم صفين.

ثعلبة بن عمر، جنگ خيبر رسول خدا (ص) ساتھ تھے. اور جنگ جمل میں ایک لاکھ درھم حضرت علی [ع] کو دیئے اور صفین میں شہید ہوئے۔

التميمي البستي، ابوحاتم محمد بن حبان بن أحمد (متوفاى354 هـ)، مشاهير علماء الأمصار ، ج1 ص23، تحقيق : م. فلايشهمر ، ناشر : دار الكتب العلمية ـ بيروت ، 1959م.

التميمي البستي، ابوحاتم محمد بن حبان بن أحمد (متوفاى354 هـ)، الثقات، ج 3، ص48 ، تحقيق السيد شرف الدين أحمد، ناشر: دار الفكر، الطبعة: الأولى، 1395هـ – 1975م.

أبو حازم البجلي: 

یہ بھی شہداء صفین میں سے تھے ابو جزم بجلی کوفی تھے ابن حجر نے انکے بارے میں کہا:

أبو حازم البجلى والد قيس وقيل اسمه عوف وقيل عبد عوف أخرج حديثه البخارى فى الأدب المفرد وأبو داود وصححه وابن خزيمة وابن حبان والحاكم كلهم من طريق إسماعيل بن أبى خالد عن قيس بن أبى حازم عن أبيه أنه جاء والنبى صلى الله عليه وسلم يخطب فقام فى الشمس فأمر به فتحول إلى الظل قال محمد بن سعد قتل أبو حازم بصفين .

ابو حازم بجلى، قیس کے والد اور کہا گیا ہے انکا نام عوف ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے انکا نام عبد عوف ہے بخاری نے انکی روایت کو الادب المفرد میں ذکر کی ہیں اورابوداود نے انکی روایت نقل کی اور انکی روایت کو صحیح جانا ہے اسی طرح ابن خزیمہ ، ابن حبان ۔ اور حاکم نے ۔۔ نقل کیا ہےکہ وہ رسول رسول خدا صلى الله عليہ وآلہ کے پاس آتے ہیں جبکہ رسولرسول خدا صلى الله عليہ وآلہ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے وہ دھوپ میں گھڑے ہوگئے تو آپ نے انھیں حکم دیا اور وہ سایہ میں آگئے محمد بن سعد نے کہا ہےکہ وہ وہ جنگ صفین میں شہید ہوئے ۔

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابوالفضل (متوفاى852هـ)، الإصابة في تمييز الصحابة، ج7 ص82، رقم : 9726 ، تحقيق: علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولى، 1412هـ - 1992م.

و مزى نے در تهذيب الكمال میں لکھا ہے:

 أبو حازم البجلى الاحمسى ، والد قيس بن أَبى حازم ، له صحبة.

وقد ذكرنا ما قيل فى اسمه ونسبه وبعض ما فى ذلك من الخلاف فى ترجمة ابنه قيس بن أَبى حازم . رَوَى عَن : النبى صلى الله عليه وسلم (بخ د). رَوَى عَنه : ابنه قيس بن أَبى حازم (بخ د).قال محمد بن سعد : قتل يوم صفين.

ابوحازم بجلى صحابی تھے . محمد بن سعد نے کہا ہےکہ وہ جنگ صفین میں شہید ہوئے۔

المزي، ابوالحجاج يوسف بن الزكي عبدالرحمن (متوفاى742هـ)، تهذيب الكمال، ج 33، ص437، رقم: 7298 ، تحقيق: د. بشار عواد معروف، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: الأولى، 1400هـ – 1980م.

جندب بن زهير العامري: 

جندب بن زهير، صحابی رسول رسول خدا صلى الله عليہ وآلہ اور امام علی علیہ السلام کے بہادر ساتھیوں میں سے تھے جنگ صفین میں شریک ہوئے اور اسی جنگ مین شہادت پر فائز ہوئے۔

ابو نعيم اصفهانى نے معرفة الصحابه میں لکھا ہے :

جندب بن زهير العامرى كان على رجالة على بن أبى طالب [ رضى الله عنه] وقتل يوم صفين ذكره البغوى عن عمه عن أبى عبيد . وقال : هو أزدى.

جندب بن زهير العامرى، جنگ صفین میں على بن أبى طالب [ع]کے پیادہ لشکر میں تھے بغوی نے اس بات کو اہنے چچا ابو عبید سے نقل کیا ہے ۔

الأصبهاني، ابو نعيم أحمد بن عبد الله (متوفاى430هـ)، معرفة الصحابة ، ج 2، ص580 ، طبق برنامه الجامع الكبير.

ابن أثير نے اسد الغابہ میں لکھا ہے :

جُنْدب بن زُهَيْر بن الحارث بن كثير بن جُشم بن سُبَيع بن مالك بن ذُهَل بن مازن ابن ذبيان بن ثعلبة بن الدؤل بن سعد مناة بن غامد الأزدى الغامدى . كان على رجَّالة صفين مع على ، وقتل فى تلك الحرب بصفين .

جندب بن زهير العامرى، جنگ صفین میں على بن أبى طالب [ع]کے پیادہ لشکر میں اور اسی جنگ میں شہادت پائی۔

ابن أثير الجزري، عز الدين بن الأثير أبي الحسن علي بن محمد (متوفاى630هـ)، أسد الغابة في معرفة الصحابة، ج 1، ص443، رقم: 799 ، تحقيق عادل أحمد الرفاعي، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت / لبنان، الطبعة: الأولى، 1417 هـ - 1996 م.

ابن حجر عسقلانى نے انکی جنگ صفین میں بہادری کے بارے میں لکھا ہے :

وذكر بن دريد فى أماليه بسنده إلى أبى عبيدة عن يونس قال كان عبد الله بن الزبير اصطفنا يوم الجمل فخرج علينا صائح كالمنتصح من أصحاب على فقال يا معشر فتيان قريش أحذركم رجلين جندب بن زهير الغامدى والأشتر فلا تقوموا لسيوفهما أما جندب فرجل ربعة يجر درعه حتى يعفى أثره .

ابن دريد نےامالى میں اپنی سند تا یونس سے نقل کیا ہے کہ وہ کہتے ہیں جنگ جمل میں عبد اللہ بن زبیر نے ہماری صفوں کو منظم کیا اور ابن زبیر نے علی [ع] کے ساتھیوں کی طرح چیخ کر کہا اے قریش کےجوانوں دو افراد سے جنگ میں ڈرنا [اور انکے مقابلہ سے کترانا] ایک جندب بن زھیر اور دوسرے مالک اشتر انکے تلواروں کے سامنے مت جانا ۔جندب کی یہ نشانی ہے کہ انکا قد متوسط ہے اور زرہ زمین سے لگ رہی ہے ۔

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابوالفضل (متوفاى852هـ)، الإصابة في تمييز الصحابة، ج 1، ص507 ، تحقيق: علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولى، 1412هـ - 1992م.

محمد بن سليمان بن رفاعة 

محمد بن سليمان، صحابی اور جنگ احد میں بھی شریک ہوئے یہ بھی صفین میں شہادت کی سعادت سے سر فراز ہوئے ابن حجر نے انکے بارے میں کہا:

محمد بن سليمان بن رفاعة بن خليفة بن أبى كعب قال بن القداح شهد أحدا وحضر فتح العراق وقتل يوم صفين.

محمد بن سليمان بن رفاعہ. ابن قداح نے کہا : یہ جنگ احد میں شریک ہوئے اور فتح عراق میں شامل تھے اور صفین میں شہید ہوئے۔

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابوالفضل (متوفاى852هـ)، الإصابة في تمييز الصحابة، ج 6، ص15، رقم: 7781 ، تحقيق: علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولى، 1412هـ - 1992م.

سعد بن الحارث: 

سعد بن الحارث صحابی رسول رسول خدا صلى الله عليہ وآلہ اور جنگ صفین میں شریک ہوئے ابن حجر نے لکھا ہے :

سعد بن الحارث بن الصمة الأنصارى أخو جهيم قال بن شاهين له صحبة وشهد صفين مع على وقال الطبرى صحب النبى صلى الله عليه وسلم وشهد مع على صفين وقتل يومئذ .

سعد بن الحارث انصارى، ابن شاهين نے کہا ہے کہ وہ صحابی اور علی[ع] ساتھ جنگ صفین مین موجود تھے طبری نےکہا وہ رسولرسول خدا صلى الله عليہ وآلہ کے صحابی اور علی[ع] کے ساتھ جنگ صفین مین تھے اور اسی میں شہید ہوئے ۔

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابوالفضل (متوفاى852هـ)، الإصابة في تمييز الصحابة، ج3 ص50، رقم: 3138 ، تحقيق: علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولى، 1412هـ - 1992م.

ابن عبد البر قرطبى نے بھِی الإستيعاب میں لکھا ہے :

سعد بن الحارث بن الصمة قد ذكرنا نسبه فى باب أبيه صحب النبى صلى الله عليه وسلم وشهد مع على صفين وقتل يومئذ وهو أخو جهيم بن الحارث بن الصمة.

سعد بن الحارث، ۔ ہپ صحابی اور جنگ صفین میں علی [ع]کےساتھ شریک ہوئے اور اسی میں شہادت پائی۔

ابن عبد البر النمري القرطبي المالكي، ابوعمر يوسف بن عبد الله بن عبد البر (متوفاى 463هـ)، الاستيعاب في معرفة الأصحاب، ج2 ص583، رقم: 921 ، تحقيق: علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولى، 1412هـ. 

عبد الله بن أرقم:

ابن كثير دمشقى سلفى البداية والنهاية میں لکھتے ہیں عبد الله بن أرقم جو کاتب وحی تھے وہ جنگ صفین میں علی[ع] کی جانب سے جنگ کرتے ہوئے شہید ہوئے:

عبد الله بن الأرقم بن أبى الأرقم

اسلم عام الفتح وكتب بين يدى رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد تقدم مع كتاب الوحى عبد الله بن بديل بن ورقاء الخزاعى قتل يوم صفين وكان أمير الميمنة لعلى.

عبد الله بن أرقم، فتح مکہ میں مسلمان ہوئے جو کہ رسول کے لئے لکھتے تھے ۔۔۔ وہ جنگ صفین میں شہید ہوئے وہ لشکر حضرت علی [ع] کے میمنہ کے امیر تھے

ابن كثير الدمشقي، ابوالفداء إسماعيل بن عمر القرشي (متوفاى774هـ)، البداية والنهاية، ج 7، ص311 ، ناشر: مكتبة المعارف – بيروت.

يعلي بن امية: 

يعلى بن اميہ، صحابی رسول رسول خدا صلى الله عليہ وآلہ تھے پہلے وہ عائشہ طلحہ اور زبیر کے طرفدار تھے جنگ جمل میں انکے ساتھ تھے یہ وہی ہیں جنھوں نے عائشہ کے لئے عسکر نامی اونٹ خریدا اور زبیر کو کافی زیادہ مالی امداد دی لیکن اس کے بعد علی [ع]کی حقانیت پر ایمان لے کر آگئے اور جنگ صفین میں شہید ہوئے ۔

ابن حجر عسقلانى انکے بارے میں لکھتے ہیں:

يعلى بن أمية بن أبى عبيدة بن همام بن الحارث التميمى الحنظلى... قال المدائنى عن سلمة بن محارب عن عوف الأعرابى قال استعمل أبو بكر يعلى على حلوان فى الردة ثم عمل لعمر على بعض اليمن فحمى لنفسه حمى فعزله ثم عمل لعثمان على صنعاء اليمن وحج سنة قتل عثمان فخرج مع عائشة فى وقعة الجمل ثم شهد صفين مع على.

يعلى بن أمیہ. مدائنى نے سلمہ بن محارب سے انھوں نے عوف الأعرابى سے نقل کیا ہے کہ ابوبکر نے یعلی کو حلوان کا جنگ ردہ میں امیر بنایا اور عمر کے زمانہ میں یمن کے بعض علاقوں کے حاکم تھے پھر انھوں نے اپنے نفع کے لئے کام کیا تو اسے معزول کردیا گیا پھر عثمان کے زمانہ میں صنعاء یمن کے حاکم ہوئے اور اور جس سال عثمان قتل ہوئے تھے۔ وہ حج کے لئے گئے تھے جنگ جمل میں عائشہ کے ساتھ تھے لیکن صفین میں حضرت علی [ع] کے ساتھ تھے اور شہید ہوئے۔

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابوالفضل (متوفاى852هـ)، الإصابة في تمييز الصحابة، ج6، ص685، رقم: 9365 ، تحقيق: علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولى، 1412هـ - 1992م.

ابن عبد البرنے لکھا:

وذكر عن مسلمة عن عوف قال أعان يعلى بن أمية الزبير بأربعمائة ألف وحمل سبعين رجلا من قريش وحمل عائشة على جمل يقال له عسكر كان اشتراه بمائتى دينار

قال أبو عمر كان يعلى بن أمية سخيا معروفا بالسخاء وقتل يعلى بن أمية سنة ثمان وثلاثين بصفين مع على بعد أن شهد الجمل مع عائشة وهو صاحب الجمل أعطاه عائشة وكان الجمل يسمى عسكرا.

مسلمہ نےعوف سے نقل کیا ہے یعلی بن امیہ نے چار لاکھ [درھم یا دینار] سے زبیر کی مدد کی اور ستر قریش کے جوانوں کو اپنے ساتھ لائے اور عائشہ کے لئے اونٹنی جس کا نام عسکر تھا دوسو دینار میں خریدا

ابوعمر نے کہا ہے کہ: يعلى بن اميہ، سخاوت میں مشہور تھے ۳۸ ہجری میں جنگ صفین میں لشکر حضرت [ع] کےساتھ تھا اور شہید ہوئے اس سے قبل جنگ جمل میں عائشہ کے ساتھ تھے اور انکے لئے عسکر نامی اونٹنی دی۔

ابن عبد البر النمري القرطبي المالكي، ابوعمر يوسف بن عبد الله بن عبد البر (متوفاى 463هـ)، الاستيعاب في معرفة الأصحاب، ج4 ، ص1587 ، تحقيق: علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولى، 1412هـ.

یہ کچھ اصحاب رسول خدا صلى الله عليہ وآلہ ہیں جو جنگ صفين میں قاسطين ہاتھوں شہید ہوئے.

اللہ انکی روح کو مزید شاد کرے۔

 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی