2021 May 19
اولیاء کرام کی قبروں پر روضہ تعمیر کرنا
مندرجات: ١٩٢٩ تاریخ اشاعت: ٢٤ April ٢٠٢١ - ١٨:٥٥ مشاہدات: 139
یاداشتیں » پبلک
اولیاء کرام کی قبروں پر روضہ تعمیر کرنا

اعتراض :  قبروں پر روضہ تعمیر کرنا   جائز نہیں ہے  اور یہ عمل  رسول اللہ کی حدیث کے خلاف ہے ۔ جیسا کہ مسلم ، ابولہیاج سے نقل کرتے ہیں : ’’ قالَ لي عَلِيُّ بنُ أَبِي طَالِبٍ: أَلَا أَبْعَثُكَ علَى ما بَعَثَنِي عليه رَسولُ اللهِ (ص) أَنْ لا تَدَعَ تِمْثَالًا إلَّا طَمَسْتَهُ وَلَا قَبْرًا مُشْرِفًا إلَّا سَوَّيْتَهُ ‘‘۔(


[1])علی ابن ابی طالب  علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا :  کیا تم یہ نہیں چاہتے کہ میں تمہیں اس کام کے انجام دینے  کا حکم دوں  جس کے کرنے کا رسول اللہ نے مجھے حکم دیا تھا  اور وہ یہ ہے  کہ  کوئی بھی(جاندار  شئی کی ) تصویر   باقی   نہ رہے   مگر یہ کہ تم نے اسے محو کردیا ہو۔ اور کوئی بھی (زمین سے ) ابھری ہوئی  قبر نہ  چھٹے  مگر یہ کہ تم نے  اسے  زمین  کے برابر  کردیا ہو ۔

 اس روایت اور اس جیسی دیگر روایات  کے مطابق  قبروں پر بنے تمام روضوں اور گنبدوں کو مسمار کردینا چاہیئے  جبکہ کچھ مسلمان  قبروں پر روضہ  اور گنبد اور بارگاہ تعمیر  کرکے پیغمبر اکرم کے اس فرمان  کی مخالفت کرتے ہیں ۔ اور  یہ لوگ  ان اعمال کے سبب ،بدعت اور شرک میں مبتلاء ہورہے ہیں ۔

تحلیل و جائزہ :

اس اعتراض کے جواب میں چند نکات قابل ذکر ہیں :

پہلا نکتہ :  قرآن مجید اصحاب کہف کے واقعہ میں فرماتا ہے  کہ جب وہ   تقریباً تین سو برس کی طویل نیند سے  بیدار ہوئے   اور ان کے بارے میں  شہر کے لوگوں کو پتہ چلا تو شہر سے لوگ غار کی طرف دوڑے  اور جیسے ہی وہاں پہونچے ،  تو انہوں نے اصحاب کہف کو پھر مردہ پایا ۔ قرآن مجید اس  کی منظر کشی کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جب لوگوں نے یہ ماجرا دیکھا تو وہ دو گروہوں میں تقسیم ہوگئے : ’’ فَقَالُوا ابْنُوا عَلَيْهِم بُنْيَانًا ۖ رَّبُّهُمْ أَعْلَمُ بِهِمْ ۚ قَالَ الَّذِينَ غَلَبُوا عَلَىٰ أَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيْهِم مَّسْجِدًا ‘‘ ۔ ([2]) تو (کچھ) لوگوں نے کہا کہ ان پر (یعنی غار پر) ایک (یادگاری) عمارت بنا دو۔ ان کا پروردگار ہی ان کو بہتر جانتا ہے۔ (آخرکار) جو لوگ  پہلے والے گروہ پر  غالب آئے تھے وہ بولے کہ ہم ان پر ایک مسجد ( یعنی عبادت گاہ) بنائیں گے۔

جیسا کہ اس آیت سے سمجھ میں آتا ہے کہ  ان دونوں گروہوں میں سے کوئی بھی  قبروں کو تعمیر کرنے  کا مخالف نہیں تھا ۔ بس فرق یہ تھا کہ مؤمنین وہاں ایک مسجد بنانا چاہتے تھے جبکہ دوسرے لوگ ان کی نشانی اور یادگار کے طور پر  وہاں ایک  عالی شأن عمارت  تعمیر کرنا چاہتے تھے ۔

یہ امر بھی  ذہن نشین رہے   کہ قرآن مجید نے اس ماجرے کو مدح و تعریف کی زبان میں نقل کیا ہے  اور اس پر کسی قسم کی تنقید بھی نہیں کی ہے  ۔لہذا اس نکتہ سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ  یہ  کام  شرعی ممانعت نہیں رکھتا ۔ اور خاص طور پر جبکہ اس آیت میں موجود ’’ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيْهِم مَّسْجِدًا ‘‘  کی تعبیر  سے پتہ چلتا ہے کہ  انہوں نے اس  درخواست کو  ایک حکم شرعی کے طور پر دیا تھا ۔ بہر کیف ! اس تعبیر سے یہ واضح ہوجاتا ہے ۔وہابیوں کے تصور کے برخلاف ۔  کہ  قبروں پر  بارگاہ  اور گنبد وغیرہ تعمیر  کرنا  ایک شرعی  اور    دینی عمل ہے ۔

اسی طرح اس واقعہ سے  یہ  بھی استفادہ ہوتا ہے کہ   غیر معمولی  لوگوں کی قبروں پر روضے   تعمیر کرنا ،  سابقہ اقوام اور امتوں  کے آداب  و سنتوں میں سے بھی  رہا ہے ۔ اور وہ لوگ اس کام کو اپنے بزرگوں اور عظیم ہستیوں کے احترام و تجلیل میں انجام دیا کرتے تھے ۔

دوسرا نکتہ : بزرگوں کی قبور پر مزارات تعمیر کرنا  ’’ ترفیع بیوت ‘‘ کا ایک مصداق ہے  ۔ وہ گھر جن کے لئے اللہ تعالیٰ کی مرضی یہ ہے کہ ان کی رفعت و منزلت بلند و بالا  رہے ۔اور اس کی وضاحت یہ ہے کہ قرآن مجید  سورہ نور میں اللہ تعالیٰ  کو منور چراغ سے تشبیہ دیتا ہے  جو آسمان میں چمکتے ہوئے ستاروں کی طرح  روشن ہے   پھر اس  آیت کے بعد  والی آیت میں ان چراغوں کے رکھے جانے کی جگہ ان گھروں کو بتلاتا ہے  جن کے لئے  خدا کی منشأ یہ ہے کہ ان کا احترام کیا جاتا رہے اور  وہ ارفع و اعلیٰ رہیں ۔  چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے : ’’ فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّـهُ أَن تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ يُسَبِّحُ لَهُ فِيهَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ ‘‘ ۔([3]) (یہ  روشن و منور چراغ) ایسے گھروں میں ہیں جن کے بارے میں اللہ نے حکم دیا ہے کہ انہیں بلند کیا جائے اور ان میں خدا کا نام لیا جائے  اور  ا صبح و شام ان(گھروں ) میں  اس  کی تسبیح کی جاتی رہے  ۔

واضح سی بات ہے کہ اس آیت میں ’’ بیوت ‘‘ سے مراد مساجد نہیں ہوسکتیں ۔ چونکہ  بیوت ، لفظ بیت کی جمع ہے  اور بیت عربی لغت میں ایسی جگہ کو کہتے ہیں کہ جس میں انسان رات بسر کرتا ہے  اور مسجد رات گذارنے کی جگہ نہیں ہوتی، اسی وجہ سے اسے ’’ بیت ‘‘ نہیں کہا جاتا ۔ بلکہ اس آیت میں ’’ بیوت ‘‘ سے  مراد ، اولیائے الہی اور ایسے پاک لوگوں کے گھر ہیں  کہ جن میں صبح و شام اللہ کی تسبیح ہوتی ہے اور اس کا ذکر کیا جاتا ہے ۔

اس آیت میں  موجود رفعت و بلندی سے   مراد کیا چیز ہے؟  اس کے سلسلہ میں دو احتمال پائے جاتے ہیں :

۱۔ رفعت ظاہری 

۲ ۔ رفعت معنوی

اگر اس آیت میں رفعت ظاہری مراد لی گئی ہوگی تو اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ  اس گھر کے دو و دیوار اور چھت وغیرہ کو بلند کرکے بنایا جائے  اور ان کی بلندی کو  مزید بڑھایا جائے ۔ لیکن چونکہ  یہ معنی  اس مقام  کے شایان شأن نہیں ہیں  اور اس آیت میں ذکر، اور تسبیح الہی کا تذکرہ ہے  ۔ چنانچہ  موضوع اور حکم میں مناسبت کا خیال رکھتے ہوئے ۔تو معنی کا تقاضہ یہ ہے کہ  اس سے مراد رفعت معنوی ہونی چاہیئے ۔ اور کسی گھر کی  منعوی   رفعت کا تقاضہ یہ ہے    کہ اسے تکریم و تعظیم کی نگاہ سے دیکھا  جائے  اور ان مکانوں کا احترام کیا  جائے ۔ اور یہ بھی واضح ہے کہ ان گھروں کے احترام  کا ایک مصداق  ، اس مکان کو تعمیرکرنا،اسے  منہدم اور مسمار ہونے سے بچانا اور اس کی حفاظت کی کوشش کرنا ہے ۔ لہذا اس تمہید کے بعد ، وہابیوں سے یہ پوچھنا چاہیئے کہ  کیا پیغمبر اکرم کا گھر انہیں گھروں میں سے ایک نہیں ہے  کہ قرآن مجید کی صراحت کے مطابق  جس کی تعظیم  و تکریم ہونی چاہیئے  اور جس کے لئے اللہ نے یہ چاہا ہے کہ وہ ہمیشہ آباد ر رفیع رہے؟ اگر ہمارا استدلال صحیح ہے  تو پھر ان کے فتویٰ کے مطابق جس گھر میں رسول رہے اور اسی میں دفن بھی  ہوئے ، کیا اسے مسمار کردینا چاہیئے؟  کیا پیغمبر اکرم کی تدفین کے بعد  قرآن مجید کا حکم ترفیع منسوخ ہوگیا تھا ؟

تیسرا نکتہ :   کئی روایات کے مطابق جب یہ آیت : ’’ فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّـهُ أَن تُرْفَعَ ‘‘  نازل ہوئی  اور  پیغمبر اکرم نے اسے مسجد میں اصحاب کے سامنے تلاوت کیا  تو ایک صحابی نے حضرت سے سوال کیا :  یا رسول اللہ!  اس’’ بیوت ‘‘  سے مراد  کیا ہے ؟ آنحضرت نے فرمایا : انبیاء(ع) کے گھر ۔اسی وقت ابوبکر اٹھے  اور علی و فاطمہ سلام اللہ علیہما  کے گھر کی طرف اشارہ کرکے پوچھا :  یا رسول اللہ ! کیا یہ ( علی و فاطمہ  کا) گھر بھی انہیں گھروں میں سے ہے جنہیں اللہ نے بلند رکھنے کی اجازت دی ہے  تاکہ ان کی منزلت، رفیع و اعلیٰ  رہئے ؟ پیغمبر نے فرمایا : ’’ نعم ، من افضلھا ‘‘ ہاں !  یہ گھر ان سب میں با فضیلت  ہے ۔([4])

اس بیان کی روشنی میں اب سوال یہ ہے  کہ وہ گھر جو اللہ کے حکم کے بموجب  سب سے افضل و برتر  ہو اور جس کی تکریم و تعظیم ہونی چاہیئے  ، کس بنیاد پر  اس گھر کو جس میں فاطمہ (س) کو دفنایا گیا ہو ویران کرنا جائز ہوگا ؟ کیا  اس حکم کو  منسوخ کرنے والا کوئی جدید حکم، اللہ کی جانب سے نازل ہوا تھا ؟

تاریخی حوالہ جات کے مطابق ، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا  جس گھر میں  رہتی تھیں اور جس میں صبح شام اللہ کا ذکر اور اس کی تسبیح کرتی تھیں  اسی میں دفنا دی گئیں ۔ ([5]) اور  یہ گھر پیغمبر اکرم کی زوجات کے حجروں کے درمیان ایک چھوٹا سا گھر تھا جو اِس وقت مسجد نبوی میں شامل کرلیا گیا ۔  اب سوال یہ ہے کہ اس گھر میں صدیقہ طاہرہ(س) کے دفن ہونے کے بعد اس کی نسبت مسلمانوں کی  کیا ذمہ داری ہے ؟  کیا ان کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اس گھر کو  ایک خاص گھر  ہونے کے سبب  اس کا احترام کریں  یا وہابیوں کے فتوے کے مطابق اسے ویران کردیں ؟ کیا ایسے گھر کو مسمار کردینا  اس کی ترفیع کا مصداق  ہوگا ؟

چوتھا نکتہ :  جیسا کہ پہلے گذر چکا ہے کہ  سورہ کہف کی آیت نمبر ۲۱ سے یہ استفادہ ہوتا ہے کہ انطاکیہ  کے لوگوں نے اصحاب کہف کے احترام کا پاس و لحاظ کرتے ہوئے  یہ درخواست دی تھی کہ  ان کی قبروں کو یادگار کے لئے تعمیر کردیا جائے یا اس جگہ کو مسجد قرار دیدیا جائے : ’’ فَقَالُوا ابْنُوا عَلَيْهِم بُنْيَانًا ۖ رَّبُّهُمْ أَعْلَمُ بِهِمْ ۚ قَالَ الَّذِينَ غَلَبُوا عَلَىٰ أَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيْهِم مَّسْجِدًا ‘‘ ۔ ( [6]) تو (کچھ) لوگوں نے کہا کہ ان پر (یعنی غار پر) ایک (یادگاری) عمارت بنا دو۔ ان کا پروردگار ہی ان کو بہتر جانتا ہے۔ (آخرکار) جو لوگ  پہلے والے گروہ پر  غالب آئے تھے وہ بولے کہ ہم ان پر ایک مسجد ( یعنی عبادت گاہ) بنائیں گے۔

اس  آیت سے سمجھ میں آتا ہے کہ قبر کو ایک  یادگاری عمارت  بنانا  خود صاحب قبر کے احترام ، اس سے محبت  اور مودت کی  علامت  ہوتی ہے ۔

 صالحین  اور اولاد رسول اللہ   کی قبروں کو تعمیر کرنا ،  ان کی نسبت مسلمانوں  کے ادب  اور احترام  کے ساتھ ساتھ ان سے مودت و  محبت کی بھی  نشانی  ہے  اور یہ  وہی  اجر رسالت   ہے جس کی ادائیگی کا انہیں حکم ملا ہے  جیسا کہ قرآن مجید کا ارشاد ہے : ’’قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَىٰ ‘‘۔([7]) اے پیغمبر! آپ(ص) کہدیجئے! کہ میں تم سے اس(تبلیغ و رسالت) پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتا سوائے اپنے قرابتداروں کی محبت کے۔

بے شک  اولیائے الہی کے معنوی مقام سے  احترام و تعظیم    کا اظہار اور ان سے محبت و مودت  کا شرک سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔  اور اگر ہر احترام   و تواضع شرک ہو تو پھر اولاد کا والدین  کے   احترام سلسلہ میں  بھی یہی فیصلہ  ہونا چاہیئے  جبکہ قرآن مجید ان کے لئے فرماتا ہے : ’’ وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ ‘‘ ۔([8]) ۔اور ان( والدین ) کے لئے خاکساری کے ساتھ اپنے کاندھوں کو جھکائے رکھنا ۔ دوسری بات یہ کہ شرک وہاں محقق ہوتا ہے جہاں اس کا ملاک و معیار پایا جائے ۔اس جگہ شرک کا کیا معیار ہے ؟  اگر کوئی شخص سبط رسول خدا حضرت امام حسین ؑ  کی نسبت ادب، احترام اور محبت کا اظہار کرتے ہوئے  ان کے روضے  کو تعمیر کردے  تو کیا وہ کسی جرم کا مرتکب ہوا ہے  یا اس نے قرآن مجید کی آئہ مودت پر عمل کیا ہے ؟

پانچواں نکتہ : اب آیئے بات کرتے ہیں  ابوالہیاج کی اس روات کے سلسلہ میں جسے وہابی اپنے مدعی میں پیش کرتے ہیں کہ  رسول اللہ نے قبروں کو مسمار کرنے اور ان کے نشان مٹانے کا حکم دیا ہے ۔ یہ روایت چند  اعتبارسے قابل تنقید ہے۔

الف ) سند کے اعتبار سے : اس روایت کی سند میں پانچ راوی موجود ہیں  جن میں  کم سے کم  دو  افراد خود اہل سنت  کے اکابر علماء کے نزدیک غیر معتبر ہیں ۔چنانچہ ان میں پہلا نام سفیان ثوری کا ہے    جس کے متعلق  بن حجر۔([9])  اور ذہبی  ۔([10])  کہتے ہیں کہ وہ اہل تدلیس  تھا  (یعنی    روایت کے ضعف کو چھپانے کے لئے  اس طرح کلام کو نقل کرتا تھا جیسا کہ اس نے خود مرویٌّ عنه سے سنا ہو )۔ جبکہ  اس سند میں دوسرا نام حبیب بن ابی ثابت کا  آتا ہے  کہ جسے ابن جبان نے مدلس کہا ہے اور ذہبی  نے بھی ابن ابی حاتم سے نقل کیا ہے  کہ اہل حدیث  کا اس سے حدیث نقل  نہ کرنے پر جماع ہے ۔([11]) نیز اس روایت کی سند میں موجود ایک  اور راوی  ، جسے   ابو وائل  کہا جاتا ہے اور  جس کا اصلی نام شقیق بن سلمہ اسدی کوفی  تھا ۔وہ  امیرالمؤمنین ؑ کے سخت مخالفین میں سے تھا ۔ ابن حجر کے نقل کے مطابق ، جب اس سے پوچھا گیا: علی  سے محبت کرتے ہو یا عثمان سے ؟ اس نے جواب دیا : ایک زمانہ تھا جب میں علی سے محبت کرتا تھا لیکن اب میں  فقط عثمان سے محبت کرتا ہوں ۔([12])

آئیے اب بات کرتے خود ابو الہیاج کے بارے میں  تو اس کا نام حیّان بن حصین ہے   اور اس کے لئے بس یہ کہنا ہی کافی ہے کہ پوری صحاح ستہ میں اس سے،  مذکورہ  ایک  روایت کے علاوہ کوئی دیگر روایت  نقل  نہیں  کی گئی ہے ۔([13])چنانچہ ابن ابی الحدید  خود اس کی زبانی نقل کرتے ہیں کہ وہ کوفہ میں عبیداللہ بن زیاد کی حکومت میں  خزانچی کے عہدے پر  تھا ۔([14])

نیز ذہبی نے اپنی کتاب میزان الاعتدال میں ان تمام راویوں  پر تنقید کرتے ہوئے اسی طرح کے مطالب بیان کئے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے  کہ یہ ایک ضعیف اور ناقابل اعتبار  روایت   ہے ۔ لیکن معلوم نہیں  کیوں  مکتب وہابیت کے پیروکار  ایسی روایات کو  نظر انداز  کردیتے ہیں جن کی سند حددرجہ  معتبر    بلکہ متواتر  ہوتی ہے  اور حقائق سے نظریں چراتے ہوئے  کچھ ایسی ہی  ضعیف  اور ناقابل اعتبار روایات سے تمسک کرکے اپنی کلامی مباحث کو ان پر استوار کرتے ہیں ؟!

ب )  دلالت کے اعتبار سے : سند کے ضعف  کو اگر نظر انداز کربھی دیا جائے تب بھی یہ روایت معنی کے اعتبار سے وہابیوں کے مدعی پر دلالت نہیں کرتی  چونکہ اس روایت کی ظاہری  تعبیر (’’ وَلَا قَبْرًا مُشْرِفًا إلَّا سَوَّيْتَهُ ‘‘  ۔(اور کوئی بھی (زمین سے ) ابھری ہوئی  قبر نہ  چھٹے  مگر یہ کہ تم نے  اسے  زمین  کے برابر  کردیا ہو )  میں  ’’ تسویہ ‘‘ سے قبور کو برابر کرنا سمجھ میں آتا ہے ۔ لیکن اب یہ کہ اس کے معنی قبروں کی تعمیر  نہ کرنا یا کسی قبر پر ضریح اور بارگاہ نہ بنانا  بھی ہو  تو یہ روایت، اس معنی پر  دلالت نہیں کرتی ۔جبکہ وہابیوں کا مدعی  قبروں کی تعمیر اور ان پر ضریح و بارگاہ  وغیرہ بنانے کے حرام ہونے پر   ہے جبکہ روایت کا معنی، قبروں کو زمین سے برابر کردینا ہے  ۔ واضح سی بات ہے کہ ان دونوں میں کوئی عقلی تلازم نہیں پایا جاتا   ۔

ایک اہم نکتہ جس کی طرف توجہ مبذول رہے  یہ ہے کہ فعل ’’ سوّی ‘‘ جب بھی دو چیزوں کے درمیان موازنہ کے لئے آئے ( یعنی دوچیزوں کو ایک دوسرے کے برابر کرنے کے لئے ) اس صورت میں یہ فعل دو مفعولی ہوگا کہ جس کا دوسرا مفعول حرف جرّ ( جیسا کہ باء وغیرہ) کے ذریعہ استعمال کیا جاتا ہے ۔ مثال کے طور پر  اگر اس روایت میں یہ کہا جاتا کہ قبروں کو زمین کے برابر کردو!  تو ضروری تھا کہ اس طرح  کہا جاتا : ’’ الاّ سویتہ بالارض ‘‘ ۔ جیسا کہ ہم قرآن مجید میں بھی پڑھتے ہیں  : ’’ إِذْ نُسَوِّيكُم بِرَبِّ الْعَالَمِينَ ‘‘ ۔([15]) جب ہم  تمہیں ، رب العالمین کے برابر قرار دے رہے تھے ۔

لیکن اگر ’’تسویہ‘‘ سے مراد  ایک ایسی چیز ہو جسے دوسری چیز سے مقائسہ نہ کیا گیا ہو تو ایسی صورت میں یہ فعل  ایک مفعول کے ساتھ استعمال ہوگا ۔جیسا کہ خود اس روایت میں آیا ہے   نیز قرآن مجید میں بھی اس کی مثال موجود ہے : ’’ الَّذِي خَلَقَ فَسَوَّىٰ ‘‘ ۔([16]) وہ خدا جس نے پیدااور منظم بنایا ہے ۔

پس  اس صورت میں کہ جب یہ فعل  ایک مفعولی ہو تو ہر چیز کا تسویہ( یعنی  برابر ہونا ) خود اسی شئی کے  اعتبار سے لحاظ کیا جائے گا دوسری چیز کی نسبت نہیں  ۔ اور چونکہ اس روایت میں فعل ’’ سوّی ‘‘  ایک مفعولی آیا ہے  تو  اس سے مراد قبر کی سطح کو   اسی کے اعتبار سے مسطح کرنا ہے  کہ جس کا مقابل تسنیم ( یعنی مچھلی کی  پیٹھ جیسا ) ہے  ۔ پس اگر یہ مان لیا جائے کہ یہ روایت صحیح بھی ہو تو اس میں امامؑ نے ابوالہیاج  کو یہ حکم دیا ہے کہ تم ان قبور کو  کہ جن کی شکل مچھلی کی پشت کی  مانند ہے ان  مسطح کردو نہ یہ کہ انہیں  منہدم  اور زمین کے مساوی  بنادو ۔ یہی وجہ ہے کہ   اہل سنت  کے کچھ بزرگ علماء نے اس روایت سے یہی معنی ’ ’ تسطیح ‘‘  کو سمجھا ہے  ۔ چنانچہ اہل سنت کے مشہور عالم ، قرطبی  رقمطراز ہیں : ’’ قال علماؤنا : ظاھرہ منع تسنیم القبور‘‘ ۔([17]) ہمارے علماء نے کہا ہے کہ اس  حدیث کا ظاہری معنی   قبروں کی تسنیم ( مچھلی کی پشت جیسے بنانے)  کا ممنوع ہونا ہے ۔

ہاں ! یہ نکتہ بھی توجہ کے قابل ہے کہ مسلم نے اپنی صحیح کے جس باب میں اس روایت کو جگہ دی ہے  اس کا عنوان بھی ’’ باب الامر بتسویۃ القبر ‘‘  قرار دیا ہے ۔([18]) جس سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے بھی فعل ’’ سوّی‘‘ سے تسطیح کے معنی کو ہی سمجھا ہے۔

نیز اس حدیث کے شارح    جناب نووی   رقمطراز ہیں :   قبر کا زمین سے زیادہ اٹھا ہوا یا  مسنّم (یعنی مچھلی کی پیٹھ جیسا)  نہیں ہونا چاہیئے  بلکہ قبر ، زمین سے ایک بالشت اٹھی ہوئی اور اوپر سے مسطح ہو۔([19])

اس سلسلہ میں دوسرا قابل غور نکتہ یہ ہے کہ اگر  حدیث میں ’’ تسویہ‘‘ سے مراد  وہی معنی ہوں جس کے وہابی دعویدار ہیں  ، تو اس صورت میں  قبر کا زمین کے برابر کردینا  ،تمام اسلامی مذاہب کے اجماع کے خلاف ایک نئی چیز ہوگی  چونکہ  تمام  مسلمان فقہاء  کے نظریہ کے مطابق ، قبر کو زمین سے ایک بالشت بلند ہونا چاہیئے ۔ ([20])

اہل سنت کے ایک دیگر عالم  قسطلانی  ، روایت  ابوالہیاج کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ’’ انہ لم یرد تسویتہ بالارض  و انما اراد تسطیحہ ‘‘ ۔([21]) اس حدیث میں ’’تسویہ‘‘ سے مراد ، قبر کا زمین کے برابر کرنا نہیں  بلکہ اسے مسطح بنانا ہے ۔

لیکن وہ روایت جسے وہابیوں نے ابوالزبیر سے قبور کو تعمیر کرنے اور ان پر گنبد اور روضہ  بنانے  کی حرمت میں نقل  کی ہے اسے  مسلم نے اپنی کتاب  صحیح میں  باب ’’ النھی عن تجصیص القبر و البناء علیہ ‘‘ میں  تین   اسناد کے ساتھ جابر سے نقل کیا ہے ۔([22])  اور ساتھ ہی اس طرف بھی توجہ رہے کہ اس کے سلسلہ سند میں جریج ، ابوالزبیر  اور حفص بن عنایت  آئیں ہیں  کہ جو خود اہل سنت علماء کے یہاں غیر معتبر شمار ہوتے ہیں ۔

احمد بن حنبل  جریج  والی روایت کے متعلق کہتے ہیں :  بہت سی وہ مرسلہ احادیث جنہیں ابن جریر نے جریج سے نقل کیا ہے   جعلی ہیں  چونکہ ان کے لئے یہ امر  اہمیت کا حامل  نہیں تھا کہ وہ روایت کس سے لے رہے ہیں  چنانچہ ذہبی لکھتے ہیں : جریج  تلدیس  کیا کرتا تھا  ۔([23])

 نیز  اس روایت کے  سلسلہ سند میں موجود دوسرا فرد ’’ ابوالزبیر‘‘ ہے  جس کا پورا نام محمد بن مسلم بن تدرس  آمدی ہے  ۔اسے علمائے رجال نے ضعیف قرار دیا ہے  چنانچہ ترمذی  کہتے ہیں : شعبہ ، ابوالزبیر مکی کو ضعیف جانتے تھے ۔([24])

 عبدالرحمٰن بن ابی حاتم  نے  اپنے والد سے ابوالزبیر کے سلسلہ میں  نقل کیا ہے   : اس کی حدیث نقل تو کی جاتی ہیں لیکن اس سے استدلال نہیں کیا جاسکتا ۔([25])

حفص بن غیاث   اس روایت کے سلسلہ سند میں  ایک   ایسا راوی ہے   جو احمد بن حنبل کے مطابق احادیث میں بہت زیادہ خلط  ملط کیا کرتا تھا ۔([26])  نیز ابن سعد اس کے بارے میں کہتے ہیں : وہ حدیث میں تدلیس کرتا تھا ۔([27])

آئیے ! اب اس روایت کی دلالت کے متعلق بھی کچھ گفتگو ہوجائے  ۔ تو  سب سے پہلے یہ سمجھ لینی  چاہیئے کہ  نہی ہمیشہ حرمت پر دلالت نہیں کرتی  اسی وجہ سے فقہاء نے بھی اس نہی سے حرمت کو نہیں سمجھا  بلکہ اسے کراہت پر حمل کیا ہے ۔

اہل سنت کے ایک مشہور عالم  ’’ سندی ‘‘  اس روایت کے بارے میں قائل ہیں : یہ حدیث تو صحیح ہے لیکن  قابل عمل نہیں  ہے ۔چونکہ مشرق سے لیکر مغرب تک تمام  بزرگ علماء  قبروں پر بیٹھتے(حاضری دیتے ) آئے ہیں ۔(یعنی یہ حدیث سیرت علماء کے خلاف ہے لہذا قابل عمل نہیں ہے ) ۔([28])

صحیح مسلم کے  شارح  جناب نووی  لکھتے ہیں :  اگر قبر خود صاحب  قبر کی  زمین میں بنائی گئی ہو ہو تو اس کو تعمیر کرنا مکروہ ہے لیکن اگر وقف کی زمین میں ہو تو حرام ہے ۔ نیز شافعی بھی اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں :  ہمارے اصحاب( علماء) قبر کے  پکا بنانے کو مکروہ جانتے ہیں ۔([29])

البتہ یہ سب  ایک عام  میت کی قبر کے بارے میں ہے  کہ جس کو پکا بنانا مال کو ضائع   کرنے اور زمین کو برباد کرنے کے مترادف ہے ۔ لہذا اسے مکروہ سمجھا گیا  ہے۔  لیکن اولیائے الہی کی قبور کو پکا بنانے کے  تو بہت سے معنوی اور مادی فوائد و برکات  ہوتے ہیں  اور ان کا شمار شعائر الہی میں ہوتا ہے  ۔لہذا ان قبروں کا عام قبروں سے موازنہ نہیں کیاجاسکتا ۔

چھٹا نکتہ :  کسی قبر کو تعمیر کرنا اور اس پر کسی بارگاہ  یا سائے بان کا بنانا صاحبان قبور کے لئےنہیں ہوتا ۔ جیسا کہ   کبھی کبھی مکتب وہابیت کے پیروکار یہ اظہار کرتے  ہیں ۔یہ ان کی طرف سے ایک قسم کا مغالطہ ہے ،  چونکہ کوئی بھی مسلمان ان مقبروں کو مردوں کے واسطہ نہیں بناتا  بلکہ یہ ان زائرین کے واسطے بنائی جاتے ہیں جو دور دراز سےدعا پڑھنے ، زیارت کرنے  کے لئے آتےہیں   تاکہ وہ گرمی کی تپش  اور سردی  کی ڈھنڈ سے محفوظ رہیں ۔ پس ان مقبروں کو تعمیر کرکے جہاں ایک طرف اولیائے الہی کی تعظیم و تکریم اور  قبور کی حفاظت ہوتی ہے تو دوسری طرف اس کا ا اصلی فائدہ  زندہ لوگوں کو ہوتا ہے  مردوں کو نہیں۔

ساتواں نکتہ : اپنے  قدیم آثار  اور زیارتی   مقامات  کی حفاظت  اسلام کے  اصلی اور حقیقت پر مبنی دین  ہونے کی  ایک محکم دلیل ہے ۔ چنانچہ آج وہ ادیان جن کے آثار قدیمہ  محو ہوچکے  اور جن کے بزرگوں کی کوئی نشانی موجود نہیں ہے   ان پر اکثر اوقات آنے والی نسلیں  شک کرتی ہیں ۔اور یہ سامنے کی بات ہے اگر رہبران  دین کے آثار کو آئندہ نسلوں کے لئے باقی رکھا جائے تو  ان کا اطمئنان اور ایمان مزید مستحکم ہوجاتا ہے ۔ اور اگر یہ ٹھان لیا جائے کہ پیغمبر اکرم اور رہبران دین کے کسی اثر کو باقی نہیں رکھا جائے گا تو رفتہ رفتہ وہ ساری چیزیں ختم ہوجائیں گی جن سے پتہ چلتا ہے کہ دین اسلام ایک اصلی اور حقیقی دین ہے  جسے اللہ نے اپنے حبیب پر نازل کیا  تھا۔پس جب آنے والی نسلیں یہ دیکھیں گی کہ یہ رسول اللہ کا محل پیدائش ہے ، اس گھر میں ہجرت کرکے آپ ٹہرے تھے ۔ یہاں آپ نے جنگ لڑی تھی ، یہاں آپ نماز پڑھتے تھے ، اس جگہ آپ کی وفات ہوئی اور یہاں آپ کو دفن کردیا گیا  تو اس وقت ان کے دل کو کتنا سکون ملے گا   اور دین کی اصلیت و حقیقت سے متعلق ان کے دل میں کتنی گرمی پیدا ہوگی ،اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے ؟

انہیں  مصلحتوں  کی بنیاد پر صدر اسلام کے مسلمان ، ان آثار کی حفاظت کا خاص اہتمام کیا کرتے تھے ۔یہاں تک کہ انہوں نے اس کنویں کو بھی محفوظ  ، اور یادگار کے طور پر رکھا جس سے رسول اللہ نے  صرف ایک مرتبہ پانی پیا تھا ۔ یا وہ درخت جس کے سائے میں بیٹھ کر سرکار نے وضو کیا اور نماز پڑھی  تھی ۔انہوں نےاس عظیم سرمائے کو آنے والی نسلوں تک پہونچایا ۔جس وقت مسلمانوں کی وسیع فتوحات   کا آغاز ہوا   ان  حالات میں بھی  انہوں نے  سابق رہبران کی قبور کو منہدم کرنے کی کوشش نہیں کی ۔ چنانچہ جب مسلمان فتح کرتے ہوئے ایران پہونچے  تو انہوں نے شوش میں موجود جناب دانیال پیغمبر(ع) کی قبر کو ویران  باقی رکھا   اور صرف یہی نہیں بلکہ تخت جمشید و  پاسارگاد  میں موجود  ساسانی بادشاہوں کی قبور  کو بھی ویران نہیں  اور وہ آج تک موجود و محفوظ ہیں ۔

اسی طرح جب مسلمان فتح کرتے ہوئے عراق میں داخل ہوئے  انہوں نے ہود، صالح ، یونس اور ذولکفل  علیہم السلام کے مقبروں کو مسمار نہیں  کیا ۔  نیز جب خلیفہ دوم نے بیت المقدس  پر حملہ کیا تو جناب ابراہیم ، اسحاق، یعقوب اور یوسف  علیہم السلام کے مقبروں  جو وہاں موجود تھے  اور جن پر روضے اور بارگاہیں بنی ہوئی تھیں ،ویسی ہی حالت پر رہنے دیا ۔ باوجود اس کے کہ یہ فتوحات صحابہ پیغمبر اکرم کے دور میں  واقع  ہوئیں ۔ تو کیا توحید کے سلسلہ میں  صحابہ کا علم ، محمد بن عبدالوہاب جیسوں  سے بھی  کم تھا ؟ لہذا  وہ لوگ جو اسلاف کی پیروی کو اپنے لئے فخر سمجھتے ہیں وہ کیوں ایسے مسائل میں ان  کی پیروی نہیں کرتے ؟

آٹھواں نکتہ : اگر قبروں پر  بارگاہ اور روضہ تعمیر کرنا جائز نہیں ہے تو کیوں قبر پیغمبر اکرم اور دو خلفاء کی قبروں پر بارگاہ  و ضریح بنی ہوئی ہے ؟  کیوں آل سعود  نے کہ  جو پوری دنیا میں چڑھائی کرتے ہیں  اور سادہ لوح جوانوں کو بہکا کر صالحین اور صحابہ کی قبروں کو مسمار کرتے ہیں   اپنی  ناک کے نیچے   قبر پیغمبر کو روضہ بنی حالت میں  چھوڑ رکھا ہے،  اگر جرأت ہے تو یہ بھی کرکرے دکھائیں ؟  لیکن اگر ان کا بہانا یہ ہے کہ  کسی قبر پر از سر نو بارگاہ  اور گنبد تعمیر کرنا  حرام ہے  اور  وہ بارگاہ یا روضہ جو پہلے سے موجود ہے  اسے باقی رکھنے میں کوئی قباحت نہیں ہے ، تو ہم ان سے یہ سوال کریں گے  کہ جب ایسا ہے تو پھر کیوں تم دوسرے ممالک اور شہروں میں  فتنہ وفساد پھیلا کر اور لوگوں کو قتل کرکے ان صحابہ اور صالحین کے روضوں کو مسمار کرتے ہو جو پہلے سے تعمیر شدہ تھے ؟ اور گذشتہ زمانے سے ہی بزرگوں نے ان روضوں کو تعمیر کیا تھا ؟ البتہ ان  سے کوئی بعید نہیں ہے کہ وہ ایک دن قبر پیغمبر کی بھی بے حرمتی کردیں  اور (نعوذ باللہ ) اسے بھی مسمار کرنے کی غلطی کربیٹھیں ؟ لیکن وہ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ جس دن انہوں نے یہ  کیا  انہیں پوری امت مسلمہ  کے شدید رد عمل اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا ۔

نتیجہ :

اولیائے الہی کی قبروں پر بارگاہ و روضہ تعمیر کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے  بلکہ اس کی جڑیں قرآن مجید  کی آیات اور حدیث میں موجود ہے اور  عقلائے عالم کے نزدیک ایسا کرنا   ایک معقول فعل شمار کیا جاتا ہے ۔ درحقیقت یہ کام  اولیائے الہی سے احترام و  محبت کے اظہار کے ساتھ ساتھ شعائر اللہ کی تعظیم  اور ترفیع بیوت اولیاء بھی ہے ۔

 



[1][1] ۔  صحیح مسلم ، ج۳ ، ص ۶۱ ۔

[2] ۔ سورہ کہف : ۲۱ ۔

[3] ۔ سورہ نور : ۳۶ ۔

[4] ۔ تفسیر آلوسی ، ج۱۸ ، ص ۱۷۴ ؛  الکشف و البیان عن تفسیر القرآن، ج۷ ، ص ۱۰۷ ؛ الدر المنثور، ج ۵ ، ص ۵۰ ۔’’ اخرج ابن مرویۃ عن انس بن مالک و بریدۃ  قال : قرأ رسول اللہ ھذہ الایۃ ( فی بیوت ۔۔۔۔) فقام الیہ علیہ السلام  رجل ، فقال : ایّ بیوت ھذہ یا رسول اللہ ؟ فقال (ص) : بیوت الانبیاء علیھم السلام ، فقام الیہ ابوبکر ، فقال : یا رسول اللہ ! ھذا البیت منھا لبیت علی و فاطمہ ؟ قال : نعم ، من افضلھا ‘‘ ۔

[5] ۔ الکافی ، ج۱ ، ص ۴۶۱ ؛ وفاء الوفاء ، ج ۳ ، ص ۹۰ ۔

[6] ۔ سورہ کہف : ۲۱ ۔

[7] ۔ سورہ شوری : ۲۳ ۔

[8] ۔ سورہ اسراء : ۲۴ ۔

[9] ۔ طبقات المدلسین ، ص ۳۲ ، رقم ۵۱ ۔

[10] ۔ میزان الاعتدال ،ج۲ ، ص ۱۶۹ ، رقم ۳۳۲۲ ۔

[11] ۔ تھذیب التھذیب ، ج۲ ، ص ۱۵۵ ۔ ۱۵۶ ۔

[12] ۔ تھذیب التھذیب ، ج۴ ،ص ۳۱۷ ۔

[13] ۔حاشیہ سندی علی النسائی ، ج۴ ، ص ۸۸ ۔

[14] شرح نہج البلاغہ، ج۱۲ ، ص ۲۲۳ ۔

[15] ۔ سورہ شعراء : ۹۸ ۔

[16] ۔ سورہ اعلیٰ : ۲ ۔

[17] ۔ الجامع لاحکام القرآن ، ج۱۱ ، ص ۳۸۰ ۔

[18] ۔ صحیح مسلم ، ج۳ ، ص ۶۱ ۔

[19] ۔ شرح صحیح مسلم ، ج۷ ، ص ۳۶ ۔

[20] ۔الفقہ علی المذاھب الاربعۃ ، ج۱ ، ص ۴۸۶ ۔

[21] ۔ ارشاد الساری، ج۲ ، ص ۴۷۷ ۔

[22] ۔ صحیح مسلم ، ج۳ ، ص ۶۲ ۔

[23] ۔میزان الاعتدال ،ج۲ ، ص ۶۵۹ ۔

[24] ۔ میزان الاعتدال ، ج۴ ، ص ۳۷ ۔ ۳۹ ۔

[25] ۔ تہذیب الاکمال ،ج۲۶ ، ص ۴۰۸ ۔

[26] ۔سیر اعلام النبلاء ، ج۹ ، ص ۳۱ ۔

[27] ۔تہذیب التہذیب ، ج۲ ، ص ۳۵۹ ۔

[28] ۔ حاشیۃ السندی علی النسائی ، ج۴ ، ص ۸۷ ۔

[29] ۔ شرح صحیح مسلم ، ج۷ ، ص ۲۷ ۔





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی