2021 September 25
کیا ابوبكر نے حضرت زهرا (سلام الله عليها) کا جنازہ پڑھایا ؟
مندرجات: ١٩٦٣ تاریخ اشاعت: ٢٩ May ٢٠٢١ - ١٩:٤٨ مشاہدات: 600
سوال و جواب » امام حسین (ع)
کیا ابوبكر نے حضرت زهرا (سلام الله عليها) کا جنازہ پڑھایا ؟

 

 کیا ابوبكر نے حضرت زهرا (سلام الله عليها) کا جنازہ پڑھایا ؟

سؤال کرنے والا : حسين سيدي

سؤال کی وضاحت :

اھل سنت کی کتابوں میں ایسی روایتیں نقل ہوئی ہیں کہ جن کے مطابق جناب ابوبکر نے حضرت زهرا (سلام الله عليها) کا جنازہ پڑھایا ہے . کیا یہ روایتیں صحیح ہیں ؟ میں چاہتا ہوں آپ ان روایات کی تحقیق کریں ۔

مختصر اور اجمالی جواب

اھل سنت کی کتابوں میں اس سلسلے میں جو تحقیق ہوئی ہے اس کے مطابق اس سلسلے میں پانچ روایتیں ہیں مثلا: «فتقدم أبو بكر فصلى عليها فكبر عليها أربعا،‌ صلى عليها أبو بكر، صَلَّى أَبُو  بَكْرٍ الصِّدِّيقُ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ، وكبر أبو بكر على فاطمة أربعا»  یہ روایت بتاتی ہے کہ ابوبکر نے حضرت زهرا (سلام الله عليها) کا جنازہ پڑھایا ۔

لیکن اس قسم یہ روایتیں سند کے اعتبار سے ضعیف ہیں اور حجت نہیں ہیں .

ساتھ ہی ان روایات کے مقابلے میں ایسی روایتیں موجود ہیں کہ جو سند کے اعتبار سے بلکل صحیح ہیں، جیسے صحيح بخاري اور صحیح  مسلم کی روایات کہ جو واضح طور پر یہ بتاتی ہیں کہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا خلفاء سے ناراض ہوئیں اور آخری عمر تک بائیکاٹ کی حالت میں رہیں اور دنیا سے چلی گئیں :

  فَغَضِبَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رسول اللَّهِ فَهَجَرَتْ أَبَا  بَكْرٍ فلم تَزَلْ مُهَاجِرَتَهُ حتى تُوُفِّيَتْ  اور جب آپ دنیا سے چلی گئیں تو امیر المومنین عليه السلام نے خلفاء کو بنت رسول خدا (صلي الله عليه وآله) کی تجہیز ، تکفین اور تشیع کی رسومات میں اطلاع نہیں دی اور خود آپ نے اس پر نماز پڑاھی اور آپ نے ہی ان کو دفن کیا ۔  

 فلما تُوُفِّيَتْ دَفَنَهَا زَوْجُهَا عَلِيٌّ لَيْلًا ولم يُؤْذِنْ بها أَبَا بَكْرٍ وَصَلَّى عليها...

اس قسم کی صحيح سند روايات ،ضعيف روایات پر مقدم ہیں اور یہ روایات ثابت کرتی ہیں  كہ  ابو بكر نے ان کا جنازہ نہیں پڑھایا ،بلکہ حضرت زہراء سلام اللہ علیہا آخری عمر تک ان سے ناراض رہیں اور ناراضگی کی حالت میں  دنیا سے چلی گئیں۔

اس سلسلے میں تیسری بات یہ ہے کہ اھل سنت کے ہی بہت سے بزرگوں نے اعتراف کیا ہے کہ ابوبکر نے ان کا جنازہ نہیں پڑھایا ہے .

تفصيلي جواب :

بحث کے اس حصے میں ہم پہلے اہل سنت کی کتابوں میں موجود اس سلسلے کی روایات کی تحقیق اور پھر اس سلسلے میں  اھل سنت کے علماء کے اقوال بیان کریں گے ۔

الف: روایات کی تحقیق

اھل سنت کی کتابوں میں یہ روایتیں دو قسم کی ہیں :

1. ایسی روایتیں کہ جو کہتی ہیں کہ ابوبکر نے آپ کا جنازہ پڑھایا . (ان سب رویات کی سند ضعیف ہیں اور ہم ضعیف ہونے کو ثابت کریں گے )

2. ایسی روایات کی جو واضح طور پر کہتی ہیں کہ حضرت زهرا (سلام الله عليها) نے امیر المومنین علیہ السلام کو رات کو کفن دینے اور دفن کرنے کی وصیت کر کے دنیا سے چلی گئیں تھیں اور امیر المومنین علیہ السلام نے بھی انہیں روایات کے مضمون پر عمل کیا . (اس قسم کی روایتیں صحیح السند بھی ہیں )

ہم تحقیقی مطلب بیان کرنے اور حقیقت کو واضح کرنے کے لئے دونوں قسم کی روایات کو یہاں پیش کرتے ہیں۔

روایات کی پہلی قسم ، ابوبکر کا حضرت زهرا (سلام الله عليها)کا جنازہ پڑھانا ۔

پہلہ روایت : مالك بن انس نے امام صادق عليه السلام سے نقل کیا ہے :

اس موضوع کی ایک روایت کو ، ابن عدي نے  كتاب «الكامل في الضعفاء» میں مالك بن انس سے مندرجہ ذلیل سند اور مضمون کے ساتھ نقل کیا ہے :

ثنا محمد بن هارون بن حسان البرقي بمصر ثنا محمد بن الوليد بن أبان ثنا محمد بن عبد الله القدامي كذا قال وإنما هو عبد الله بن محمد القدامي قال مالك بن أنس أخبرنا عن جعفر بن محمد عن أبيه عن جده قال توفيت فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلا فجاء أبو بكر وعمر وعثمان وطلحة والزبير وسعيد وجماعة كثير سماهم مالك فقال أبو بكر لعلي تقدم فصل عليها قال لا والله لا تقدمت وأنت خليفة رسول الله صلى الله عليه وسلم قال فتقدم أبو بكر فصلى عليها فكبر عليها أربعا ودفنها ليلا.

 قال الشيخ وهذه الأحاديث التي أمليتها عن مالك بن أنس في الموطأ ولا أعلم رواها عن مالك غير عبد الله بن محمد بن ربيعة هذا

مالك نے امام صادق عليه السلام سے ،انہوں نے اپنے والد گرامی کے توسط سے  علي بن الحسين عليه السلام  سے نقل کیا ہے : رسول اللہ صلي الله عليه وآله کی بیٹی جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا رات کو دنیا سے چلی گئیں اور ابو بكر، عمر، عثمان، طلحه، زبير سعيد اور دوسرے بہت سے افراد جن کا مالک نے نام لیا ہے ،یہ سب حاضر ہوئے ، ابو بكر نے حضرت علي [عليه السلام] سے کہا : آگے آئے اور جاب فاطمه پر نماز ادا کرئے . حضرت علي عليه السلام نے فرمایا : نہیں اللہ کی قسم آپ سے آگے نہیں نکلوں گا کیونکہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جانشیں ہیں ۔ راوی کہتا ہے ابوبکر آگے آیا اور حضرت زهرا پر نماز پڑاھی اور چار تکبیریں کہیں اور جناب فاطمہ سلام اللہ علیہ کو راتوں رات دفن کر دیا ۔.

مصنف کہتا ہے کہ اس روایت کو میں نے مالك بن انس کی کتاب موطأ سے نقل کیا ہے ، مجھے معلوم ہے  عبد الله بن محمد بن ربيعه کے علاوہ کسی اور نے اس روایت کو نقل نہیں کیا ہے .

الجرجاني، عبدالله بن عدي بن عبدالله بن محمد أبو أحمد (متوفاي365 هـ)، الكامل في ضعفاء الرجال، ج 4، ص258، تحقيق: يحيى مختار غزاوي، دار النشر: دار الفكر  بيروت، الطبعة: الثالثة1409 - 1988   

جواب ؛ اس روایت کی سند ضعیف ہے

اس روایت کا پہلا جواب یہی ہے کہ اس کی سند ضعیف ہے ؛ کیونکہ اس کی سند میں «عبد الله بن محمد بن قدامي» ہے کہ جو اھل سنت کے علم رجال کے ماہرین کے نظریے کے مطابق ضعیف راوی ہے ۔ہم ذیل میں علم رجال کے ماہرین کی تصریحات کو نقل کرتے ہیں:

1. شمس الدين ذهبي

ذهبي کہ جو اهل سنت کے نذدیک  علم رجال کے ماہر علماء میں سے ہے، انہوں نے مندرجہ بالا راوی کو ضعفاء میں سے قرار دیا ہے ۔

4549 ( 4788 ) عبد الله بن محمد بن ربيعة بن القدامي المصيصي أحد الضعفاء أتى عن مالك بمصائب ( منها ) عن جعفر بن محمد عن أبيه عن جده قال توفيت فاطمة ليلا فجاء أبو بكر وعمر وجماعة كثيرة فقال أبو بكر لعلي تقدم فصل قال والله لا تقدمت وأنت خليفة رسول الله صلى الله عليه وسلم فتقدم أبو بكر وكبر أربعا.

عبد الله بن محمد بن ربيعه قدامي مصيصي، کہ جو ضعفاء میں سے ایک ہے ۔اس نے مالك سے ایسے مصائب نقل کیے ہیں. انہیں میں سے ایک  امام صادق عليه السلام سے ان کے والد اور جد سے یہ روایت نقل کی ہے کہ امام علی بن حسین علیہما السلام سے نقل ہے : فاطمہ سلام اللہ علیہا رات کو دنیا سے چلی گئیں  اور  ...۔۔۔۔۔

الذهبي الشافعي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفاى748 هـ)، ميزان الاعتدال في نقد الرجال، ج 4، ص180، تحقيق: الشيخ علي محمد معوض والشيخ عادل أحمد عبدالموجود، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1995م.

2. ابن حجر عسقلاني:

ابن حجر نے «الاصابه» میں اس روایت کو نقل کرنے کے بعد واضح طور پر کہا ہے، اس روایت کو مالك سے بعض متروک راویوں نے نقل کیا ہے اور دارقطني اور ابن عدي نے اس روایت کو وھن { کمزور اور ضعیف }کہا ہے ۔

وقد رَوَى بعض المتروكين عن مالك عن جعفر بن محمد عن أبيه نحوه ووهاه الدارقطني وابن عدي.

بعض متروک لوگوں نے اس روایت کو مالك سے ، جعفر بن محمد نے اپنے والد نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور دارقطني  اور  ابن عدي نے اس کو وھنی روایت کہا ہے ۔

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابوالفضل (متوفاى852هـ)، الإصابة في تمييز الصحابة، ج 8، ص58، تحقيق: علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولى، 1412هـ - 1992م.

3.      تضعيف ابن عدي:

ابن عدي نے «الكامل في الضعفاء» میں عبد الله بن محمد قدامي سے اس روایت کو اور دوسری روایات کو نقل کرنے  کے بعد کہا ہے :

وعامة حديثه غير محفوظة وهو ضعيف على ما تبين لي من رواياته واضطرابه فيها ولم أر للمتقدمين فيه كلاما فأذكره.

اس شخص کی روایات اور اس کی روایات میں موجود اضطراب سے میرے لئے یہ بات روشن ہوئی کہ اس کی روایات عام طور پر محفوظ اور ثابت نہیں ہیں ( اور وہ ضعيف ہے ) ؛ سابقہ علماء کے کلمات میں اس کے بارے میں کوئی ایسی بات نہیں ملی جس کو میں یہاں ذکر کروں۔

الجرجاني، عبدالله بن عدي بن عبدالله بن محمد أبو أحمد (متوفاي365 هـ)، الكامل في ضعفاء الرجال، ج 4، ص258، تحقيق: يحيى مختار غزاوي، دار النشر: دار الفكر  بيروت، الطبعة: الثالثة1409 - 1988    

4. ابن طاهر مقدسي:

مقدسي نے «ذخيرة الحفاظ» میں اسی روایت کو نقل کرنے کے بعد عبد الله بن محمد قدامي کو ضعیف قرار دیا ہے :

2493 - حديث : توفيت فاطمة بنت رسول الله ليلاً ، وجاء أبو بكر ، وعمر ، وعثمان ، وطلحة ، ... رواه عبد الله بن محمد القدامي : عن مالك بن أنس ، عن جفعر بن محمد عن أبيه ، عن جده قال : توفيت . ولم يروه عن مالك غير القدامي وهو ضعيف .

اس روایت کو عبد الله بن محمد قدامي نے مالك بن انس سے .... نقل کیا ہے ... اور وہ  ضعيف ہے .

المقدسي، مطهر بن طاهر (متوفاى507 هـ)، ذخيرة الحفاظ، ج2، ص1172، تحقيق: د.عبد الرحمن الفريوائي، ناشر: دار السلف - الرياض، الطبعة: الأولى، 1416 هـ -1996م.

5. حاكم نيشابوري:

انہوں نے بھی واضح طور پر کہا ہے کہ عبد الله بن محمد نے جعلی احادیث امام  مالك سے نقل کی ہیں :

92 عبد الله بن محمد بن ربيعة القدامى روى عن مالك أنس وإبراهيم بن سعد أحاديث موضوعة.

عبد الله بن محمد بن ربيعة قدامي، نے مالك بن انس اور  ابراهيم بن سعيد  سے جعلی روايات نقل کی ہیں .

الحاكم النيسابوري، محمد بن عبد الله بن حمدويه أبو عبد الله (متوفاي 405 هـ) ، المدخل إلى الصحيح ، ج 1، ص152، تحقيق : د. ربيع هادي عمير المدخلي، دار النشر : مؤسسة الرسالة – بيروت،‌ الطبعة : الأولى ، 1404 

ابو يعلي قزويني نے بھی کہا ہے :

 ( 134 ) عبد الله بن محمد بن ربيعة القدامي المصيصي يروي عن مالك وهو ضعيف يأتي بالمناكير وما لا يتابع عليه.

عبد الله بن محمد قدامي نے مالك سے روایت نقل کی ہیں اور وہ ضعیف ہے اس نے منکر روایات اور ایسی روایات نقل کی ہیں جو قابل پیروی نہیں ۔

الخليلي القزويني، الخليل بن عبد الله بن أحمد أبو يعلى (متوفاي446هـ)، الإرشاد في معرفة علماء الحديث، ج1، ص280، تحقيق : د. محمد سعيد عمر إدريس، دار النشر: مكتبة الرشد – الرياض،‌ الطبعة : الأولى1409

ابن جزري نے واضح طور پر کہا ہء کہ اس نے روایات کو  الٹ پلٹ کیا ہے :

عبد الله بن محمد بن ربيعة القدامي المصيصي روى عن مالك وإبراهيم بن سعد ... وكان يقلب الأخبار لا يحتج به.

عبد الله بن محمد قدامي ... نے روایات کو  الٹ پلٹ کیا ہے اور اس کی رویات قابل احتجاج اور قابل استدلال نہیں ۔

الشيباني الجزري، أبو الحسن علي بن أبي الكرم محمد بن محمد (متوفاي630هـ)، اللباب في تهذيب الأنساب، ج3، ص19، دار النشر: دار صادر - بيروت - 1400هـ - 1980م

دوسرا جواب : یہ روایت صحیح سند روایات سے ٹکراتی ہے۔

محب الدين طبري نے اس روایت کو  « الرياض النضرة في مناقب العشرة ، میں نقل کرنے کے بعد اس کا یوں جواب دیتا ہے کہ یہ روایت صحیح روایت سے ٹکراتی ہے کہ جس کے مطابق امیر المومنین علیہ السلام نے چھے ماہ تک ابوبکر کی بیعت نہیں کی۔

کیونکہ اس صورت میں امير المؤمنین عليه السلام ایسےکو کیسے اپنی زوجہ کا جنازہ پڑھنے کی اجازت دے گا جو ان کے حق کا  غاصب ہو ؟

وهذا مغاير لما جاء في الصحيح فإنه ورد في الصحيح أن عليا لم يبايع أبا بكر حتى ماتت فاطمة وطريان هذا مع عدم البيعة يبعد في الظاهر والغالب وإن جاز أن يكونوا لما سمعوا بموتها حضروها فاتفق ذلك ثم بايع بعده.

یہ روایت صحیح بخاری کی روایت کے مخالف ہے کیونکہ صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے اس وقت تک ابو بكر کی بیعت نہیں کی جب تک (حضرت) فاطمه (سلام الله عليها) دنیا سے چلی نہیں گئیں، ظاهر اور قوی یہ بات ہے کہ ابوبکر کا ان کا جنازہ پڑھانا بعید ہے ۔ اگرچہ یہ کہنا ممکن ہے کہ حضرت فاطمه سلام اللہ علیہا کی وفات کی خبر سن کر یہ لوگ وہاں آئے ہوں اور (حضرت) علي (عليه السلام) نے ان کی بیعت کی ہو .

الطبري، ابوجعفر محب الدين أحمد بن عبد الله بن محمد (متوفاى694هـ)، الرياض النضرة في مناقب العشرة ، ج 2، ص 96، تحقيق: عيسي عبد الله محمد مانع الحميري، ناشر: دار الغرب الإسلامي - بيروت، الطبعة: الأولى، 1996م.

یہاں صحيح روایت سے مراد وہی بخاري  اور مسلم کی روایت ہے کہ جس کے مطابق امير المومنین حضرت زهرا (سلام الله عليها) کی شھادت کے بعد انہوں نے ابو بكر بيعت کی بیعت کی:

 حدثنا يحيى بن بُكَيْرٍ حدثنا اللَّيْثُ عن عُقَيْلٍ عن بن شِهَابٍ عن عُرْوَةَ عن عَائِشَةَ أَنَّ فَاطِمَةَ عليها السَّلَام بِنْتَ النبي صلى الله عليه وسلم أَرْسَلَتْ إلى أبي بَكْرٍ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا. ...

 فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ على أبي بَكْرٍ في ذلك فَهَجَرَتْهُ فلم تُكَلِّمْهُ حتى تُوُفِّيَتْ وَعَاشَتْ بَعْدَ النبي صلى الله عليه وسلم سِتَّةَ أَشْهُرٍ فلما تُوُفِّيَتْ دَفَنَهَا زَوْجُهَا عَلِيٌّ لَيْلًا ولم يُؤْذِنْ بها أَبَا بَكْرٍ وَصَلَّى عليها وكان لِعَلِيٍّ من الناس وَجْهٌ حَيَاةَ فَاطِمَةَ فلما تُوُفِّيَتْ اسْتَنْكَرَ عَلِيٌّ وُجُوهَ الناس فَالْتَمَسَ مُصَالَحَةَ أبي بَكْرٍ وَمُبَايَعَتَهُ ولم يَكُنْ يُبَايِعُ تِلْكَ الْأَشْهُرَ.

 فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے کسی کو ابوبکر کے پاس بھیجا اور اپنی میراث کا مطالبہ کیا ۔۔۔  ابوبکر نے انہیں کچھ بھی دینے سے  انکار کیا ۔ اس پر فاطمہ سلام اللہ علیہا ابوبکر سے ناراض اور خفا ہو گئیں اور ان سے ترک ملاقات کر لیا اور اس کے بعد وفات تک ان سے کوئی گفتگو نہیں کی۔ فاطمہ سلام اللہ علیہا  آپ صلی اللہ علیہ و و آلہ سلم کے بعد چھ ماہ تک زندہ رہیں۔ جب ان کی وفات ہوئیں تو ان کے شوہر علی علیہ السلام نے انہیں رات میں دفن کر دیا اور ابوبکر کو اس کی خبر نہیں دی اور خود نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی ۔ فاطمہ سلام اللہ علیہا جب تک زندہ رہیں علی علیہ السلام  پر لوگ بہت توجہ رکھتے رہے لیکن ان کی وفات کے بعد انہوں نے دیکھا کہ اب لوگوں کے منہ ان کی طرف سے پھرے ہوئے ہیں۔ اس وقت انہوں نے ابوبکر سے صلح کر لینا اور ان سے بیعت کر لینا چاہا۔ اس سے پہلے چھ ماہ تک انہوں نے ابوبکر کی بیعت نہیں کی تھی ۔۔۔

البخاري الجعفي، ابوعبدالله محمد بن إسماعيل (متوفاى256هـ)، صحيح البخاري، ج 4، ص 1549، ح3998، تحقيق: د. مصطفي ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 - 1987.

اين روايت در صحيح مسلم ج3 ، ص1380، ح1759 نيز آمده است.

ابن حجر عسقلاني نے اپنی شرح میں لکھا ہے اميرالمؤمنين عليه السلام نے چھے ماہ سے پہلے بیعت نہیں کی :

فلما ماتت واستمر على عدم الحضور عند أبي بكر.

فتح الباري  ج 7، ص 494،‌ أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل العسقلاني الشافعي الوفاة: 852 ، دار النشر : دار المعرفة - بيروت ، تحقيق : محب الدين الخطيب

جب حضرت زهرا [سلام الله عليها] دنيا سے چلی گئیں،تو  بھی اميرالمؤمنین عليه السلام ابوبکر کے پاس نہیں  گیے .

قابل توجہ بات یہ ہے کہ حضرت فاطمہ سلام علیہ السلام علیہا کا ناراض ہونا صرف فدک کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ گھر پر حملہ اور خلافت غصب کرنا ، فدک و خیبر کا خمس اور مدینہ کے دوسرے حقوق سے محرومی کی وجہ سے بھی تھی۔

دوسری: شعبی والی روایت :

ابن سعد نے کتاب «الطبقات الكبرى» میں اس موضوع کی دو روایتیں نقل کی ہیں ۔ ان میں سے پہلی روایت شعبی سے نقل ہوئی ہے ۔

أخبرنا محمد بن عمر حدثنا قيس بن الربيع عن مجالد عن الشعبي قال صلى عليها أبو بكر رضي الله عنه .

شعبي کہتا ہے : جناب [فاطمه زهرا سلام الله عليها] کا نماز جنازہ ابوبکر نے پڑھائی۔.

البصري الزهري، محمد بن سعد بن منيع أبو عبدالله (متوفاي230 هـ)، الطبقات الكبرى ، ج 8، ص 29، دار النشر : دار صادر - بيروت ، طبق برنامه الجامع الكبير

جواب : اس روایت کی سند بھی ضعیف ہے۔

ابن حجر نے کتاب «الاصابه» میں اس روایت کو نقل کرنے کے بعد اس کی سند اور طريق کو ضعیف قرار دیا ہے اور واضح طور پر کہا ہے کہ  شعبي ضعيف راوی ہے اور ساتھ ہی اس روایت کی سند منقطع بھی ہے :

وروى الواقدي عن طريق الشعبي قال صلى أبو بكر على فاطمة وهذا فيه ضعف وانقطاع.

واقدي نے شعبي کے واسطے سے نقل کیا ہے کہ ابوبکر نے جناب فاطمہ سلام علیہا کا جنازہ پڑھایا۔ اس روایت میں ضعف ہے اور اس کی سند منقطع ہے .

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابوالفضل (متوفاى852هـ)، الإصابة في تمييز الصحابة، ج 8، ص 58، تحقيق: علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولى، 1412هـ - 1992م.

بيهقي نے شعبي سے ایک اور روایت نقل کی ہے جس کے مطابق اميرالمؤمنین عليه السلام نے ابو بكر کا بازو پکڑا اور ان کو نماز پڑھانے آگے لایا۔

 بيهقي نے اس کو نقل کرنے کے بعد اس روایت کو رد کیا ہے اور کہا ہے : صحيح بات یہ ہے کہ عايشه کی روایت کے مطابق ميراث کا مسئلہ پیش آنے کے بعد جب حضرت فاطمه نے وفات پائی  تو حضرت علي بن ابي طالب عليه السلام نے ابوبکر کو خبر نہیں دی اور خود انہوں نے ان کا جازہ پڑھایا ۔

دونوں روایات کے الفاظ :

6687 فَأَخْبَرَنَا فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلِ بْنِ خَلَفِ بْنِ شَجَرَةَ الْقَاضِي ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، ثنا عَوْنُ بْنُ سَلامٍ ، ثنا سَوَّارُ بْنُ مُصْعَبٍ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، أَنَّ فَاطِمَةَ رضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، لَمَّا مَاتَتْ دَفَنَهَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَيْلا ، وَأَخَذَ بِضَبْعَيْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَدَّمَهُ يَعْنِي فِي الصَّلاةِ عَلَيْهَا ، كَذَا رُوِيَ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَالصَّحِيحُ.

6688 عن بن شهاب الزهري عن عروة عن عائشة رضي الله عنها في قصة الميراث أن فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم عاشت بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم ستة أشهر فلما توفيت دفنها علي بن أبي طالب رضي الله عنهما ليلا ولم يؤذن بها أبا بكر رضي الله عنه وصلى عليها علي رضي الله عنه .

 شبعي کہتا ہے : جب فاطمه [سلام الله عليها] دنیا سے چلی گئی تو علي [عليه السلام] نے انہیں رات کو ہی دفن کر دیا ، انہوں نے ابوبکر کا بازو پکڑ کر انہیں جنازہ پڑھانے آگے کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   یہ روایت اس سند کے ساتھ نقل ہوئی ہے ، صحیح روایت وہ ہے کہ جو ابن شهاب نے  عروه سے ،انہوں نے عايشه سے میراث طلب کرنے کے واقعے میں نقل کیا ہے ، كه فاطمه  سلام اللہ علیہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کے بعد چھے ماہ تک زندہ رہیں اور جب آپ فوت ہوگئیں تو  حضرت علي بن ابي طالب [عليه السلام] نے راتوں رات انہیں دفن کر دیا اور ابوبکر کو اس کی خبر نہیں دی اور خود انہوں نے ہی ان کا جازہ پڑھایا۔

البيهقي أحمد بن الحسين بن علي بن موسى أبو بكر (متوفاي 458 هـ) ، سنن البيهقي الكبرى  ج 4، ص 29، تحقيق : محمد عبد القادر عطا، دار النشر : مكتبة دار الباز - مكة المكرمة - 1414 - 1994 ، طبق برنامه الجامع الكبير

جیساکہ سنن بیھقی کی بعض نسخوں میں «والصحيح» بعد کے جملے کے ساتھ ذکر ہے یعنی اس طرح ۔... كذا روي بهذا الاسناد والصحيح عن ابن شهاب الزهري عن عروة عن عائشة رضي الله عنها في قصة الميراث. ...

السنن الكبرى للبيهقي - (ج 4 / ص 29)،‌ ناشر : دار الفكر ،‌ طبق مكتبه اهل البيت.

عن الشعبي : أن فاطمة رضي الله عنها لما ماتت دفنها علي رضي الله عنه ليلا وأخذ بضبعي أبي بكر الصديق رضي الله عنه فقدمه يعني في الصلاة عليها كذا روي بهذا الإسناد والصحيح ۔ 6688 - عن بن شهاب الزهري عن عروة عن ۔۔۔۔۔سنن البيهقي الكبرى (4/ 29):   الناشر : مكتبة دار الباز - مكة المكرمة ، 1414 - 1994

 

اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ بیھیقی، شعبی کی روایت کو قبول نہیں کرتا تھا اور ان کی نظر میں صحیح یہ ہے کہ ابوبکر نے جنازہ نہیں پڑھایا ہے ۔

تیسری روایت :  حماد عن ابراهيم کی روایت

ابن سعد نے  «ابراهيم بن محمد بن حاطب» کے واسطے سے ایک اور روایت نقل کی ہے ۔

أَخْبَرَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ أَبِي الْمُسَاوِرِ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: صَلَّى أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صلي الله عليه وسلم فَكَبَّرَ عَلَيْهَا أَرْبَعًا.

ابراهيم کہتا ہے : ابو بكر صديق نے فاطمه بنت رسول خدا صلي الله عليه وآله کا جنازہ پڑھایا اور ان پر چار تکبیریں کہیں .

البصري الزهري، محمد بن سعد بن منيع أبو عبدالله (متوفاي230 هـ)، الطبقات الكبرى ، ج 8، ص 29، دار النشر : دار صادر - بيروت ، طبق برنامه الجامع الكبير

جواب  : اس روایت کی سند  بھی ضعيف ہے

اس روایت کی سند میں «عبد الاعلي ابن ابي المساور» موجود ہے اور اھل سنت کے علم رجال کے علماء نے اس کی سخت انداز میں تضعیف کی ہے ۔ لہذا اس کی روایت بھی قابل استدلال نہیں ہے جیساکہ علم رجال کے ماہرین نے اس کے بارے میں لکھا ہے :

عبدالاعلى بن أَبي المساور الزُّهْرِيّ ، مولاهم ، أبو مسعود الجرار - بالراء المهملة المكررة - الكوفي ، نزيل المدائن.

رَوَى عَن : إبراهيم بن محمد بن حاطب ، وثابت بن أَبي صفية الثمالي ، وحماد بن أَبي سُلَيْمان ،... قال الحافظ أبو بكر الخطيب : وقد روى غير واحد ، عن يحيى ابن مَعِين الطعن عليه ، وسوء القول فيه.

وَقَال عَباس الدُّورِيُّ ، وإبراهيم بن عَبد الله بن الجنيد ، عن يحيى بن مَعِين : ليس بشيءٍ. زاد إبراهيم : كذاب.

وَقَال المفضل بن غسان الغلابي ، عن يحيى بن مَعِين : ليس بثقة. وَقَال محمد بن عثمان بن أَبي شَيْبَة ، عن علي بن المديني : ضعيف ، ليس بشيءٍ. وَقَال محمد بن عَبد الله بن عمار الموصلي : ضعيف ، ليس بحجة. وَقَال أبو زُرْعَة : ضعيف جدا. وَقَال أبو حاتم : ضعيف الحديث ، شبه المتروك. قَال البُخارِيُّ : منكر الحديث. وَقَال أبو داود : ليس بشيءٍ. وَقَال النَّسَائي : متروك الحديث.

خطيب بغدادي کہتا ہے : بہت سے لوگوں نے ابن معين نے نقل کیا ہے کہ ابن معین نے ان پر طعن کیا ہے اور اس کے بارے میں سخت بات کہی ہے . عباس دوري اور ابراهيم بن عبد الله نے يحيي بن معين  سے نقل کیا : اس کی روایت کی کوئی حیثیت نہیں ہے ، ابراهيم نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ جھوٹا آدمی ہے . مفضل بن غسان نے يحيي بن معين سے نقل کیا ہے : وہ موثق نہیں ہے . محمد بن عثمان علي بن مديني نے اس کو ضعيف کہا ہے اور کہا ہے کہ اس کی روایت کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔ محمد بن عبد الله موصلي نے کہا ہے : وہ ضعيف ہے اور اس کی روایت حجت نہیں ہے ۔ ابو زرعه نے کہا ہے : وہ بہت ہی ضعیف آدمی ہے . ابو حاتم نے بھی اس کو ضعيف الحديث اور شبيه متروك الحديث کہا ہے . بخاري نے کہا ہے : وہ منكر الحديث ہے . نسائي نے اس کو متروك الحديث جانا ہے .

المزي، ابوالحجاج يوسف بن الزكي عبدالرحمن (متوفاى742هـ)، تهذيب الكمال، ج 16، صص366 – 368، تحقيق: د. بشار عواد معروف، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: الأولى، 1400هـ – 1980م.

ابن جوزي نے بعض دوسروں کی تضعیفات کو نقل کیا ہے :

1809 عبد الأعلى بن أبي المساور أبو مسعود الجرار الكوفي ... وقال ابن نمير والنسائي وعلي بن الجنيد متروك الحديث وقال البخاري منكر الحديث وقال أبو زرعة ضعيف جدا وقال الدارقطنيضعيف وقال ابن عدي حديثه لا يتابعه عليه الثقات.

ابن نمير، نسائي  اور علي بن جنيد نے اس کو متروك الحديث کہا ہے . بخاري نے کہا ہے : وہ منكر الحديث ہے . ... دارقطني نے اس کو ضعيف کہا ہے . ابن عدي نے کہا ہے : ثقہ افراد اس سے روایت نقل نہیں کرتے .

ابن الجوزي، عبد الرحمن بن علي بن محمد، أبو الفرج (متوفاي579هـ)، الضعفاء والمتروكين، ج 2، ص 81، تحقيق: عبد الله القاضي، دار النشر: دار الكتب العلمية – بيروت، الطبعة : الأولى 1406 

چوتھی روايت: ابن  ابن عباس کی روایت

ابو نعيم اصفهاني نے كتاب «حلية الأولياء وطبقات الأصفياء»، میں ابن عباس سے ایک اور روایت نقل کی ہے  ، ابن عباس کہتا ہے : ابو بكر نے حضرت زهرا (سلام الله عليها) کا جنازہ پڑھایا اور چهار تكبيریں کہیں ؛ اس روایت کی سند اور مضمون یہ ہے :

حدثنا عبدالله بن محمد بن جعفر ثنا محمد بن عبدالله رشتة ثنا شيبان ابن فروخ ثنا محمد بن زياد عن ميمون بن مهران عن ابن عباس ... كبر أبو بكر على فاطمة أربعا وكبر عمر على أبي بكر أربعا وكبر صهيب على عمر أربعا.

ابن عباس نے کہا ہے : ... ابو بكر نے فاطمه سلام اللہ علیہا پر چار تکبیریں کہیں. عمر نے ابو بكر اور صهيب نے عمر پر چهار تكبير کہیں.

الأصبهاني، ابونعيم أحمد بن عبد الله (متوفاى430هـ)، حلية الأولياء وطبقات الأصفياء، ج4، ص96، ناشر: دار الكتاب العربي - بيروت، الطبعة: الرابعة، 1405هـ.

جواب : اس روایت کی سند بھی ضعیف ہے :

اس روایت کی سند میں محمد بن زياد يشكري ہے کہ جس کو اھل سنت کے ہی علم رجال کے ماہر علماء نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن ابي حاتم نے شروع میں اس شخص کا شجرہ نامہ بتایا ہے اور کہا ہے وہ روایات اپنی طرف سے بناتا تھا :

محمد بن زياد الجزري اليشكري الحنفي يروي عن ميمون بن مهران روى عنه العراقيون كان ممن يضع الحديث على الثقات ويأتي عن الأثبات بالأشياء المعضلات لا يحل ذكره في الكتب إلا على جهة القدح ولا الرواية عنه إلا على سبيل الاعتبار عند أهل الصناعة خصوصا دون غيرهم و...

محمد بن زياد جزري يشكري حنفي، نے  ميمون بن مهران سے نقل کیا ہے: عراقیوں نے اس سے روایت نقل کی ہیں ۔لیکن وہ ایسا شخص جو روایات اپی طرف سے بناتا اور جعل کرتا تھا اور پھر انہیں ثقہ لوگوں کی طرف نسبت دیتا تھا اور ثقہ افراد سے ایسی روایات نقل کرتا تھا کہ جنہیں نقل کرنا جائز نہیں ہے ۔ ہاں اگر اھل علم ان مطالب کو نقد کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔ اس سے روایت نقل کرنا بھی جائز نہیں ،مگر یہ کہ کوئی اس کو نقل کر کے عبرت لینا چاہتا ہو۔

اور پھر اس کے اسی روایت کو نقل کیا ہے .

التميمي البستي، الإمام محمد بن حيان بن أحمد بن أبي حاتم (متوفاي354هـ)، المجروحين من المحدثين والضعفاء والمتروكين، ج 2، ص250، تحقيق: محمود إبراهيم زايد، دار النشر: دار الوعي- حلب ، الطبعة: الأولى 1396هـ 

شمس الدين ذهبي نے بھی اپنی کتابوں میں اس کے بارے میں لکھا ہے :

محمد بن زياد ( ت ) اليشكري الميموني الطحان يروي عن ميمون بن مهران وغيره وعنه شيبان بن فروخ وعقبة بن مكرم وجماعة قال أحمد كذاب أعور يضع الحديث وروى إبراهيم بن الجنيد وغيره عن ابن معين كذاب وقال ابن المديني رميت بما كتبت عنه وضعفه جدا وقال أبو زرعة كان يكذب وقال الدارقطني كذاب.

محمد بن زياد يشكري ... نے ميمون بن مهران اور دوسروں سے روايت نقل کی ہے اور خود اس سے شيبان بن فروخ ، عقبه بن مكرم اور بعض دوسروں نے روایت نقل کی ہے . احمد حنبل کہتا ہے : وہ ایک آنکھ والا اور بہت ہی جھوٹا انسان تھا اور روایت کو جعل کرتا تھا  ۔ ابراهيم بن جنيد اور دوسروں نے ابن  معين سے نقل ہے : محمد بن زياد بہت جھوٹا آدمی تھا . ابن مديني اس کو سخت انداز میں تضعیف کرتا تھا اور یہ کہتا تھا کہ اس سے کچھ روایت نقل کی تھی اور پھر سب کو دور پھینگ دیا ہے ۔

ابو زرعه نے کہا ہے : وہ بہت ہی جھوٹآ آدمی ہے . دار قطني نے بھی کہا ہے : وہ بہت ہی زیادہ جھوٹا آدمی تھا ،.

الذهبي الشافعي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفاى748 هـ)، ميزان الاعتدال في نقد الرجال، ج 6، ص154، تحقيق: الشيخ علي محمد معوض والشيخ عادل أحمد عبدالموجود، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1995م.

لہذا محمد بن زياد کیونکہ ضعیف راوی ہے اسی لئے اس کی روایت کی سند کی سند ضعیف ہے اور قابل استدلال نہیں ۔

پانچویں روایت : عبد الله بن عمر کی روایت

نور الدين هيثمي نے کتاب «بغية الباحث عن زوائد مسند الحارث»، میں  اسی قسم کی ایک روایت  عبد الله بن عمر سے نقل کی ہے :

272ـ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ حَمْزَةَ حَدَّثَنَا فُرَاتُ بْنُ السَّائِبِ حَدَّثَنَا مَيْمُونُ بْنُ مِهْرَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ ... كَبَّرَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى فَاطِمَةَ أَرْبَعًا ...

عبد الله بن عمر کہتا ہے : ... ابو بكر نے حضرت  فاطمه (سلام الله عليها) پر چار تکبیریں کہیں ہیں   ...

الهيثمي،‌ الحارث بن أبي أسامة / الحافظ نور الدين (متوفاي282هـ)، بغية الباحث عن زوائد مسند الحارث، ج 1، ص371 ، تحقيق: د. حسين أحمد صالح الباكري، دار النشر: مركز خدمة السنة والسيرة النبوية - المدينة المنورة ، الطبعة: الأولى 1413 - 1992 

جواب :  یہ روايت بھی  سند کے اعتبار سے ضعيف ہے

اس کی سند میں «فرات بن سائب» ہے  اور  اهل سنت کے علماء نے اس کو ضعيف قرار دیا ہے . ابن حجر عسقلاني نے فرات بن سائب کو ميمون بن مهران کے شاگردوں میں سے قرار دیا اور  اهل سنت کے علم رجال کے علماء کے اقوال نقل کیا ہے  :

فرات بن السائب أبو سليمان وقيل أبو المعلى الجزري عن ميمون بن مهران ..

 قال البخاري منكر الحديث وقال يحيى بن معين ليس بشيء وقال الدارقطني وغيره متروك. ...

 وقال أبو حاتم الرازي ضعيف الحديث منكر الحديث وقال الساجي تركوه وقال النسائي متروك الحديث وقال عباس عن يحيى بن معين منكر الحديث وقال أبو أحمد الحاكم ذاهب الحديث وقال بن عدى له أحاديث غير محفوظة وعن ميمون مناكير.

فرات بن سائب کا كنيه ابو سليمان  اور بعض نے یہ ابو المعلي جزري کہا ہے کہ جو ميمون بن مهران سے روایت نقل کرتا ہے ، بخاري نے کہا ہے ۔ وہ منكر الحديث ہے. يحيي بن معين نے  کہا ہے : اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے .دارقطني و غیرہ نے فرات بن سائب کو متروك الحديث قرار دیا ہے ۔

ابو حاتم رازي نے کہا ہے : وہ ضعيف اور منكر الحديث ہے. ساجي نے کہا ہے : علما نے اس کو ترك کیا ہے. نسائي نے کہا ہے : وہ متروك الحديث ہے. يحيي بن معين نے کہا ہے : وہ  منكر الحديث ہے . حاكم نيشابوري نے کہا ہے اس کی روایت کا کوئی اعتبار نہیں. ابن عدي نے کہا ہے : اس نے ایسی روایتیں نقل کی ہیں کہ جو ثابت نہیں ۔ اس نے ميمون سے منکر روایات نقل کی ہیں .

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابوالفضل (متوفاى852 هـ)، لسان الميزان، ج 4، ص430، تحقيق: دائرة المعرف النظامية - الهند، ناشر: مؤسسة الأعلمي للمطبوعات - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1406هـ – 1986م.

نتيجه:

مندرجہ بالا روایات کی سند کی تحقیق سے یہ بات واضح ہوئی کہ ان سب کی سند ضعیف ہے اور یہ سب قابل استدلال نہیں ۔

 

دوسری قسم کی احادیث ؛

 ایسی روایتیں کہ جو  ابو بكر کا حضرت زهرا (س) پر نماز پڑھنے کو رد کرتی ہیں اور انہیں راتوں رات مخفي  طور پر دفن ہونے کو ثابت کرتی ہیں (اور یہ  صحيح بھی ہیں)

ان روایات (کہ جن میں بعض صحیح سند روایات بھی ہیں ) کے مطابق حضرت زهرا (سلام الله عليها)، نے حضرت اميرالمؤمنین (عليه السلام) کو وصیت کی تھی کہ آپ انہیں رات کو ہی غسل و کفن دے کر دفن کر دئے۔

پہلی قسم کی روایات ؛ صحيح بخاري  اور  مسلم کی روایت 

بخاري نے صحیح سند روایت نقل کی ہے ، جس وقت حضرت زهرا (سلام الله عليها) دنیا سے چلی گئیں تو اس وہ امير المؤمنن (عليه السلام) نے انہیں رات کو ہی دفن کیا اور ابوبکر کو ان کے غسل ،کفن دفن اور نماز کی رسومات کے بارے میں اطلاع ہی نہیں دی۔

3998 حدثنا يحيى بن بُكَيْرٍ حدثنا اللَّيْثُ عن عُقَيْلٍ عن بن شِهَابٍ عن عُرْوَةَ عن عَائِشَةَ أَنَّ فَاطِمَةَ عليها السَّلَام بِنْتَ النبي صلى الله عليه وسلم أَرْسَلَتْ إلى أبي بَكْرٍ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا من رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِمَّا أَفَاءَ الله عليه بِالْمَدِينَةِ وَفَدَكٍ وما بَقِيَ من خُمُسِ خَيْبَرَ فقال أبو بَكْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قال لَا نُورَثُ ما تَرَكْنَا صَدَقَةٌ إنما يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم في هذا الْمَالِ وَإِنِّي والله لَا أُغَيِّرُ شيئا من صَدَقَةِ رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عن حَالِهَا التي كانت عليها في عَهْدِ رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَأَعْمَلَنَّ فيها بِمَا عَمِلَ بِهِ رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَبَى أبو بَكْرٍ أَنْ يَدْفَعَ إلى فَاطِمَةَ منها شيئا فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ على أبي بَكْرٍ في ذلك فَهَجَرَتْهُ فلم تُكَلِّمْهُ حتى تُوُفِّيَتْ وَعَاشَتْ بَعْدَ النبي صلى الله عليه وسلم سِتَّةَ أَشْهُرٍفلما تُوُفِّيَتْ دَفَنَهَا زَوْجُهَا عَلِيٌّ لَيْلًا ولم يُؤْذِنْ بها أَبَا بَكْرٍ وَصَلَّى عليها. ...

البخاري الجعفي، ابوعبدالله محمد بن إسماعيل (متوفاى256هـ)، صحيح البخاري، ج 4، ص1549، تحقيق: د. مصطفي ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 - 1987.

بدر الدين عيني نے صحيح بخاري کی اپنی شرح میں اس جملے «وصلي عليها» کا یوں معنی کیا ہے :

أي: صلى علي، رضي الله تعالى عنه، على فاطمة.

يعني، علي علیہ السلام نے فاطمه سلام اللہ علیہا کا جنازہ پڑھا.

العيني الغيتابي الحنفي، بدر الدين ابومحمد محمود بن أحمد (متوفاي 855هـ)، عمدة القاري شرح صحيح البخاري، ج 17، ص 259، ناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.

صحيح مسلم نے بھی یہی الفاظ ذکر کیے ہیں :

فلما تُوُفِّيَتْ دَفَنَهَا زَوْجُهَا عَلِيُّ بن أبي طَالِبٍ لَيْلًا ولم يُؤْذِنْ بها أَبَا بَكْرٍ وَصَلَّى عليها عَلِيٌّ.

النيسابوري القشيري، ابوالحسين مسلم بن الحجاج (متوفاى261هـ)، صحيح مسلم، ج 3، ص1380، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت.

دوسری روایت :

حضرت زهرا (س)کو راتوں رات دفن کیا تاکہ ابوبکر ان پر نماز نہ پڑھنے پائے

عبد الرزاق صاحب كتاب «المصنف» نے ایک اور معتبر روایت نقل کی ہے جس کے مطابق اميرالمؤمنین عليه السلام نے حضرت زهرا (سلام الله عليها) کو راتوں رات دفن کیا تاکہ ابو بكر آپ پر نماز نہ پڑھنے پائے :

6554 عبد الرزاق عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّ حَسَنَ بْنَ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم دُفِنَتْ بِاللَّيْلِ، قَالَ: فَرَّ بِهَا عَلِيٌّ مِنْ أَبِي بَكْرٍ، أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهَا، كَانَ بَيْنَهُمَا شَيْءٌ.

حسن بن محمد نے نقل کیا ہے  كه فاطمه بنت رسول خدا صلي الله عليه وآله کو راتوں رات دفن کیا : علي [عليه السلام] نے اس کام کو انجام دیا تاکہ ابوبکر حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کا جنازہ نہ پڑھنے پائے ، کیونکہ ابو بكر  اور  فاطمه کے درمیان کچھ ہوا تھا۔

الصنعاني، أبو بكر عبد الرزاق بن همام (متوفاي211هـ)، المصنف، ج 3، ص521، تحقيق : حبيب الرحمن الأعظمي، دار النشر: المكتب الإسلامي  بيروت، الطبعة : الثانية 1403 

اس روایت کی سند کی تحقیق

یہ روایت سنت کے اعتبار سے معتبر ہے اور اس کے سارے راوی اھل سنت کے علماء کی نظر میں ثقہ ہیں  :

1. عبد  الرزاق:

ذھبی نے پہلے ان کا تعارف کیا ہے اور پھر بعد میں ان کے بارے علماء کی آراء کو نقل کیا ہے ۔

 عبد الرزاق بن همام بن نافع الحافظ الكبير أبو بكر الحميري مولاهم الصنعاني صاحب التصانيف روى عن عبيد الله بن عمر قليلا وعن بن جريج ... قلت وثقه غير واحد وحديثه مخرج في الصحاح وله ما ينفرد به ونقموا عليه التشيع وماكان يغلو فيه بل كان يحب عليا رضي الله عنه ويبغض من قاتله.

عبد الرزاق بن همام بن نافع، بڑے حافظ  (حافظ اس کو کہا جاتا ہے جس کو ایک لاکھ احادیث یاد ہو ) ابو بكر حميري ... نے عبيد الله بن عمر (سے کم تعداد میں روایات نقل کی ہیں )  اور ابن جريج سے روایت نقل کی ہے  ... میں کہتا ہوں : بہت سے علماء نے اس کی  توثيق کی ہیں اور ان کی روایات اھل سنت کے صحاح ستہ میں موجود ہیں  ان کی ایسی روایتیں بھی ہیں کہ جنہیں ان کے علاوہ کسی اور نے نقل نہیں کیا ہے  ؛ علما نے ان کے شیعہ ہونے پر اعتراض کیا ہے جبکہ اس نے شیعہ ہونے میں غلو نہیں کیا ہے ، ان کے دل میں علی علیہ السلام سے محبت تھی اور ان سے جنگ کرنے والوں سے دل میں بغض رکھتے تھے .

الذهبي الشافعي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفاى 748 هـ)، تذكرة الحفاظ، ج 1، ص364، ناشر: دار الكتب العلمية – بيروت، الطبعة: الأولى.

مزي نے كتاب "تهذيب الكمال" نے ان کا تعارف کرنے کے بعد نقل کیا ہے :

وَقَال أبو زُرْعَة الدمشقي ، عَن أبي الحسن بن سميع ، عن أحمد بن صالح المِصْرِي : قلت لأحمد بن حنبل : رأيت أحدا أحسن حديثًا من عبد الرزاق ؟ قال : لا. قال أبو زُرْعَة : عبد الرزاق أحد من ثبت حديثه. ...

وَقَال أبو أحمد بن عدي : ولعبد الرزاق أصناف وحديث كثير ، و قد رحل إليه ثقات المسلمين وأئمتهم وكتبوا عنه ولم يروا بحديثه بأسًا...

ابو زرعه دمشقي نے ابو الحسن بن سميع سے ، انہوں نے احمد بن صالح سے انہوں نے  احمد بن حنبل سے نقل کیا ہے : کیا عبد الرزاق سے بہتر کسی کو دیکھا ہے ؟ جواب دیا : نہیں . ابو زرعه کہتا ہے : عبد الرزاق ان میں سے ایک ہے جن کی روایات صحيح اور ثابت ہیں . ...

ابو احمد بن عدي کہتا ہے :عبد الرزاق نے بہت سی روایات نقل کی ہیں ،مسلمانوں کے موثق افراد اور مسلمانوں کے ائمہ ان کے پاس گئے ہیں اور ان سے روایات نقل کی ہیں۔  موثق مسلمانوں میں سے ہے اور ائمہ ان سے روایت نقل کرنے میں کوئی حرج نہیں دیکھتے؟

المزي، ابوالحجاج يوسف بن الزكي عبدالرحمن (متوفاى742هـ)، تهذيب الكمال، ج 18، ص56 – 60، تحقيق: د. بشار عواد معروف، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: الأولى، 1400هـ – 1980م.

ذھبی نے اپنی دوسری کتاب میں ان کو بڑِ شخصیات میں سے قرار دیا ہے

عبد الرزاق بن همام بن نافع الحافظ أبو بكر الصنعاني أحد الأعلام ..

عبد الرزاق بن همام بن نافع بڑے حافظ ، ابو بكر صنعاني بزرگوں میں سے ایک ہیں ...

الذهبي الشافعي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفاى 748 هـ)، الكاشف في معرفة من له رواية في الكتب الستة، ج 1، ص651، تحقيق: محمد عوامة، ناشر: دار القبلة للثقافة الإسلامية، مؤسسة علو - جدة، الطبعة: الأولى، 1413هـ - 1992م.

ابن حجر عسقلاني نے لکھا ہے :

عبد الرزاق بن همام بن نافع الحميري مولاهم أبو بكر الصنعاني ثقة حافظ مصنف شهير ...

عبد الرزاق بن همام بن نافع حميري ... ثقه ،حافظ اور مشہور مصنف ہیں . ...

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابوالفضل (متوفاى852هـ)، تقريب التهذيب، ج1، ص354، تحقيق: محمد عوامة، ناشر: دار الرشيد - سوريا، الطبعة: الأولى، 1406 - 1986.

ابن حبان نے كتاب «الثقات» میں ان کو ذکر کیا ہے :

14146 عبد الرزاق بن همام بن نافع الحميري الصنعاني كنيته أبو ...

التميمي البستي، محمد بن حبان بن أحمد ابوحاتم (متوفاى354 هـ)، الثقات، ج 8، ص412، تحقيق: السيد شرف الدين أحمد، ناشر: دار الفكر، الطبعة: الأولى، 1395هـ – 1975م.

ابن عساكر دمشقي نے ان کے بارے میں لکھا ہے :

4039 عبد الرزاق بن همام بن نافع أبو بكر الحميري مولاهم الصنعاني أحد الثقات المشهورين.

عبد الرزاق بن همام بن نافع ابو بكر حميري صنعاني، مشہور اور موثق افراد میں سے ایک ہیں .

ابن عساكر الدمشقي الشافعي، أبي القاسم علي بن الحسن إبن هبة الله بن عبد الله،(متوفاى571هـ)، تاريخ مدينة دمشق وذكر فضلها وتسمية من حلها من الأماثل، ج 36، ص 160، تحقيق: محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمري، ناشر: دار الفكر - بيروت - 1995

اگرچہ ان کی توثیق کے بارے میں مطالب بہت زیادہ ہیں لیکن فلحال انہیں پر اکتفاء کرتے ہیں ۔

2. ابن جريج:

اس کا نام عبد الملك بن عبد العزيز ہے. اھل سنت کے علماء نے اس کی بھی توثیق کی ہے ۔

ذهبي نے اس طرح ان کا تعارف کیا ہے :

ابن جريج ع عبد الملك بن عبد العزيز بن جريج الإمام العلامة الحافظ ...

ابن جريج  صحاح ستہ کے راویوں میں سے ہے ۔۔۔  عبد الملك بن عبد الملك بن عبد العزيز بن جريج، پيشوا، علامه  اور حافظ ہیں ...

الذهبي الشافعي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفاى748 هـ)، سير أعلام النبلاء، ج 6، ص325، تحقيق: شعيب الأرنؤوط، محمد نعيم العرقسوسي، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: التاسعة، 1413هـ.

ابن حجر نے بھی اس کے بارے میں  اهل سنت کی توثيقات کو اپنی کتاب میں نقل کیا ہے ۔

 الستة عبد الملك بن عبد العزيز بن جريج الأموي ...

وقال بن أبي مريم عن بن معين ثقة في كل ما روى عنه من الكتاب وقال جعفر بن عبد الواحد عن يحيى بن سعيد كان بن جريج صدوقا... وقال سليمان بن النضر بن مخلد بن يزيد ما رأيت أصدق لهجة من بن جريج ... وذكره بن حبان في الثقات ...

وقال بن خراش كان صدوقا وقال العجلي مكي ثقة..

ابن ابي مريم نے ابن معين سے نقل کیا ہے کہ ؛ ابن جريج ہر کتاب کے نقل کرنے میں قابل اطمنان اور قابل اعتماد ہے. يحيي بن سعيد سے نقل ہوا ہے : ابن جريج سچا آدمی ہے . سليمان بن نضر بن مخلد بن يزيد نے کہا ہے : ابن جريج سے زیادہ سچا آدمی میں نے نہیں دیکھا . ابن حبان نے  كتاب «الثقات» میں اس کا نام ذکر کیا ہے . ابن خراش نے کہا ہے : یہ سچا آدمی ہے. عجلي نے کہا ہے : آپ  اهل مكه  اور  ثقه آدمی ہے .

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابوالفضل (متوفاى852هـ)، تهذيب التهذيب، ج6، ص357، ناشر: دار الفكر - بيروت، الطبعة: الأولى، 1404 - 1984 م.

3. عمرو بن دينار الجمحي:

ذهبي کہتا ہے :

 عمرو بن دينار: الإمام الكبير الحافظ أبو محمد الجمحي ... أحد الأعلام وشيخ الحرم في زمانه.

عمرو بن دينار ابو محمد جحمي ، بڑے امام ، حافظ ، ... بزرگوں میں سے ایک ہیں اور مکہ کے علماء میں سے ہیں۔

الذهبي الشافعي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفاى748 هـ)، سير أعلام النبلاء، ج 5، ص300، تحقيق: شعيب الأرنؤوط، محمد نعيم العرقسوسي، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: التاسعة، 1413هـ.

ذهبي نے اپنی کتاب میں علم رجال کے علماء کی توثيقات کو ان کے بارے میں نقل کیا ہے :

قال شعبة ما رأيت أحدا اثبت في الحديث من عمرو ... وقال بن مهدي قال لي شعبة لم أر مثل عمرو بن دينار ... قال عبد الله بن أبي نجيح ما رأيت أحدا قط أفقه من عمرو لا عطاء ولا مجاهدا ولا طاوسا وذكره بن عيينة فقال ثقة ثقة ثقة ... وروى نعيم بن حماد عن بن عيينة قال ما كان عندنا أحد أفقه ولا أعلم ولا أحفظ من عمرو بن دينار

شعبه نے کہا ہے : ہم نے روایت نقل کرنے میں عمر بن دينار  سے زیادہ ثابت کسی کو نہیں دیکھا  .. ابن مهدي نے نقل کیا ہے : شعبه نے کہا ہے : عمرو بن دينار جیسا کسی کو میں نے نہیں دیکھا ... عبد الله بن ابي نجيح نے کہا ہے : میں نے عمرو سے زیادہ دانا شخص کو نہیں دیکھا  (عطاء، مجاهد اور طاوس  وغیرہ میں کوئی بھی ان جیسا نہیں ہے  ).

ابن عيينه نے ان کے نام کو ذکر کرنے کے بعد تین مرتبہ کہا ہے: وہ ثقه ہے ،وہ ثقہ ہے  ،وہ ثقہ ہے . نعيم بن حماد ابن عيينه نے کہا ہے : ہمارے پاس کوئی بھی عمرو بن دینار سے زیادہ دین شناس ، زیادہ جاننے والا اور زیادہ حفظ کرنے والا نہیں دیکھا ۔

الذهبي الشافعي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفاى 748 هـ)، تذكرة الحفاظ، ج1، ص113، ناشر: دار الكتب العلمية – بيروت، الطبعة: الأولى.

  تهذيب کے خلاصه میں بھی نقل ہوا ہے: مسعر نے اس روایت کو نقل کرنے کے بعد تین مرتبہ کہا ہے «ثقه» ہیں :

( ع ) عمرو بن دينار الجمحي مولاهم أبو محمد المكي الأثرم أحد الأعلام ... قال مسعر كان ثقة ثقة ثقة ..

عمرو بن دينار جمحي ... بزرگوں میں سے ایک ہے  ... مسعر نے تین مرتبہ کہا ہے  (ثقۃ ،ثقہ ،ثقہ).

الخزرجي الأنصاري اليمني، الحافظ الفقيه صفي الدين أحمد بن عبد الله  (متوفاي329هـ )، خلاصة تذهيب تهذيب الكمال في أسماء الرجال، ج 1، ص 288، تحقيق: عبد الفتاح أبو غدة دار النشر: مكتب المطبوعات الإسلامية/دار البشائر - حلب / بيروت،‌ الطبعة: الخامسة 1416 هـ 

4. حسن بن محمد بن علي بن أبي طالب:

یہ بھی اھل ست کے ہاں سب سے معتبر کتابوں {صاح ستہ کے راویوں میں سے ہیں اور اھل سنت کے علماء نے اس کی توثیق کی ہے ،ابن حجر نے علم رجال کے ماہر علماء کی توثيقات کو اس طرح ذکر کیا ہے :

ع الستة الحسن بن محمد بن علي بن أبي طالب الهاشمي أبو محمد المدني وأبوه يعرف بابن الحنفية ... وعنه عمرو بن دينار وعاصم بن عمر بن قتادة ...

وقال بن سعد كان من ظرفاء بني هاشم وأهل الفضل منهم ... وقال الزهري ثنا الحسن وعبد الله ابنا محمد وكان الحسن ارضاهما في أنفسنا وفي رواية وكان الحسن أوثقهما وقال محمد بن إسماعيل الجعفري حدثنا عبد الله بن سلمة بن أسلم عن أبيه عن حسن بن محمد قال وكان من أوثق الناس عند الناس. ...

وہ صحاح سته کے راویوں میں سے ہے ، حسن بن محمد بن علي بن ابي‌طالب هاشمي، ان کا کنیہ ابو محمد مدني اور ان کے والد ابن حنفيه کے نام سے مشہور تھے ،اس نے  عمر بن دينار  اور دوسروں سے ... روايت نقل کی ہے ۔

ابن سعد نے کہا ہے : آپ بني هاشم کے بزرگوں میں سے اور  صاحب فضل شخصیت تھی . زهري نے کہا ہے: حسن بن محمد ہمارے نذدیک محمد حنفيه کے سب سے محبوب فرزندوں میں سے ایک ہے ۔ ایک اور نقل کے مطابق زهري سے نقل کیا ہے : وہ قابل اعتماد ترین افراد میں سے ایک ہے . محمد بن اسماعيل جعفري نے کہا ہے : آپ لوگوں کے نذدیک سب سے موثق اور قابل اعتماد افراد میں سے ایک ہے ۔

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابوالفضل (متوفاى852هـ)، تهذيب التهذيب، ج 2، ص 276، ناشر: دار الفكر - بيروت، الطبعة: الأولى، 1404 - 1984 م.

عجلي كوفي نے بھی انہیں اھل مدينه، موثق اور تابعي قرار دیا ہے :

 الحسن بن محمد بن على بن أبي طالب مدني ثقة تابعي ... وهو بن الحنفية

العجلي، أبي الحسن أحمد بن عبد الله بن صالح (متوفاى261هـ)، معرفة الثقات من رجال أهل العلم والحديث ومن الضعفاء وذكر مذاهبهم وأخبارهم، ج 1، ص300، تحقيق: عبد العليم عبد العظيم البستوي، ناشر: مكتبة الدار - المدينة المنورة - السعودية، الطبعة: الأولى، 1405 – 1985م.

نووي نے بھی واضح طور پر کہا ہے : ان کی وثاقت پر سب کو اتفاق ہے ۔

 الحسن بن محمد بن الحنفية ... واتفقوا على توثيقه.

النووي الشافعي، محيي الدين أبو زكريا يحيى بن شرف بن مر بن جمعة بن حزام (متوفاى676 هـ)، تهذيب الأسماء واللغات، ج 1، ص 164، تحقيق: مكتب البحوث والدراسات، ناشر: دار الفكر - بيروت، الطبعة: الأولى، 1996م.

لہذا ، مندرجہ بالا روایت، سند کے اعتبار سے صحيح ہے  اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ  ابو بكر نے حضرت زهرا سلام الله عليها کا جنازہ نہیں پڑھایا ہے .

عبد الرزاق صنعاني میں یہ  روایت ایک اور معتبر سند کے ساتھ نقل ہوئی ہے :

6555 عبد الرزاق عن بن عيينة عن عمرو بن دينار عن حسن بن محمد مثله الا أنه قال اوصته بذلك.

عبد الرزاق نے ابن عيينه سے ،انہوں نے عمرو بن دينار سے ،انہوں نے حسن بن محمد سے یہی روایت نقل کی ہے  كه حضرت زهرا سلام الله عليها نے حضرت علي عليه السلام کو رات کو دفن کرنے کی وصیت کی تھی تاکہ ابوبکر ان پر نماز نہ پڑھ پائے ۔

مصنف عبد الرزاق  ج 3، ص 521.

تیسری روایت :

 ابن عباس: اميرالمؤمنين عليه السلام نے حضرت زهرا سلام الله عليها کا جنازہ پڑھا۔

ابن سعد نے  علي بن الحسين (عليه السلام) سے ایک اور روایت نقل کی ہے کہ جس کے مطابق امیر المومین (عليه السلام) نے حضرت زهرا (سلام الله عليها) کا جنازہ پڑھایا ۔

اخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ مَتَى دَفَنْتُمْ فَاطِمَةَ؟ فَقَالَ: دَفَنَّاهَا بِلَيْلٍ بَعْدَ هَدْأَةٍ، قَالَ: قُلْتُ: فَمَنْ صَلَّى عَلَيْهَا ؟ قَالَ: عَلِيُّ .

علي بن الحسين [عليه السلام] سے نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا : میں نے ابن عباس سے سوال کیا ، حضرت فاطمه [سلام الله عليها] کو کس وقت دفن کیا ؟ کہا: راتوں رات اس وقت ان کو دفن کیا کہ جس وقت گلی میں لوگوں کا آنا جانا کم ہوا . میں نے کہا : کس نے ان کا جنازہ پڑھایا ؟ کہا : علي [عليه السلام] نے ۔

الطبقات الكبرى  ج 8 ، ص 29

چوتھی روایت :

 ابن شهاب زهري: حضرت علي (عليه السلام) نے  حضرت زهرا (سلام الله عليها) کا جنازہ پڑھا

ایک اور روایت میں ابن شهاب نے نقل کیا ہے کہ ، امير مؤمنین عليه السلام نے ان کا جنازہ پڑھایا ۔

7338 - حدثنا إبراهيم بن عبد الله ثنا [ محمد بن إسحاق ] [ السراج ] ثنا قتيبة ثنا الليث بن سعد عن عقيل عن [ ابن شهاب ] الزهري قال : دفنت [ فاطمة ] بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلا وصلى عليها علي رضي الله عنهما .

ابن شهاب زهري نے کہا ہے : فاطمه بنت رسول خدا صلي الله عليه وآله راتوں رات دفن ہوئی اور حضرت علي عليه السلام نے ہی ان کا جنازہ پڑھایا .

الأصبهاني، أبي‌نعيم (متوفاي430هـ)، معرفة الصحابة، ج 6 ، ص 3192، دار النشر: طبق برنامه الجامع الكبير.

ب: اهل سنت کے علماء کے اقوال :

  حضرت زهرا (سلام الله عليها) رات کو ہی دفن ہوئیں۔

ہم اس حصے میں اهل سنت کے علماء کے اقوال ان علماء کی وفات کے ترتيب کے  مطابق نقل کرتے ہیں ، ان اقوال کے مطابق حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے حضرت فاطمہ  صديقه طاهره )سلام الله عليها) کا جنازہ پڑھا  :

1. عجلي كوفي (متوفاي261هـ)

انہوں نے اپنی کتاب " معرفة الثقات" میں نقل کیا ہے :

2348 فاطمة بنت سيدنا محمد رسول الله صلى الله عليه وسلم ... ودفنها على بن أبي طالب رضي الله عنه ليلا وغسلها وصلى عليها.

فاطمه بنت حضرت محمد رسول خدا صلي الله عليه وآله وسلم.... کو علي بن ابي‌طالب [عليه السلام] نے رات کو  غسل دیا ، نماز پڑھی  اور  دفن کیا ۔

العجلي، أبي الحسن أحمد بن عبد الله بن صالح (متوفاى261هـ)، معرفة الثقات من رجال أهل العلم والحديث ومن الضعفاء وذكر مذاهبهم وأخبارهم، ج 2، ص 458، تحقيق: عبد العليم عبد العظيم البستوي، ناشر: مكتبة الدار - المدينة المنورة - السعودية، الطبعة: الأولى، 1405 – 1985م.

2. سليمان الجمل : متوفاي318هـ)

انہوں نے بھی اپنی کتاب  «حاشية الشيخ سليمان الجمل على شرح المنهج (لزكريا الأنصاري) »، میں نقل کیا ہے :

وغسلها علي وأسماء بنت عميس وصلى عليها وقيل عمه العباس وأوصت أن تدفن ليلا ففعل بها ذلك.

فاطمه [سلام الله عليها] کو علي [عليه السلام] اور اسماء بنت عميس نے غسل دیا اور انہوں نے نماز پڑھائی اور {ضعیف قول } یہ بھی کہا ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا عباس نے نماز اداء کی . حضرت زہراء سلام اللہ علیہا نے وصیت کی تھی کہ انہوں رات کو ہی دفن کیا جائے اور علي [عليه السلام] نے بھی وصیت کے مطابق عمل کیا ۔

حاشية الجمل على شرح المنهج، ج2، ص197، أبي بكر محمد بن إبراهيم بن المنذر النيسابوري (متوفاي 318ةـ) ، دار النشر : دار طيبة - الرياض - 1985م ، الطبعة : الأولى ، تحقيق : د . أبو حماد صغير أحمد بن محمد حنيف

3. مسعودي (متوفاي 346هـ)

مسعودي نے نقل کیا ہے :

وتولى غسلها أمير المؤمنين علي بن أبي طالب رضي الله عنه ودفنها ليلاً بالبقيع وقيل غيره، ولم يؤذن بها أبو بكر .

  حضرت فاطمه [سلام الله عليها] کو غسل اور دفن کرنے کی ذمہ داری امیر المومنین علي بن ابي‌طالب [عليه السلام] نے لی اور رات کو ہی بقیع میں آپ کو دفن کردیا ،ضعیف قول کے مطابق بقیع کے علاوہ کہیں اور جگہ دفن ہوئیں اور ابوبکر کو اس کی خبر نہیں دی گئی ۔

المسعودي، أبو الحسن على بن الحسين بن على (متوفاى346هـ)، التنبيه والإشراف، ج 1، ص106، دار النشر : طبق برنامه الجامع الكبير.

4. ابن حبان: (متوفاي 354هـ)

ابن حبان نے کہا ہے :

فدفنها على ليلا ولم يؤذن به أبا بكر ولا عمر.

علي [عليه السلام]  نے فاطمه [سلام الله عليها] کو راتوں رات دفن کیا اور ابوبکر اور عمر کو اس کی خبر نہیں دی.

التميمي البستي، محمد بن حبان بن أحمد ابوحاتم (متوفاى354 هـ)، الثقات، ج 2، ص170، تحقيق: السيد شرف الدين أحمد، ناشر: دار الفكر، الطبعة: الأولى، 1395هـ – 1975م.

ایک اور جگہ پر ابن حبان کہتا ہے :

1092 فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم ... وصلى عليها على ولم يؤذن بها أحدا ودفنها ليلا.

فاطمه بنت رسول خدا صلي الله عليه وآله وسلم... کا نماز جنازہ علي [عليه السلام] نے ادا کی اور کسی کو بھی اس کی خبر نہیں دی اور راتوں رات انہیں دفن کر دیا ۔  

الثقات  ج 3، ص334

5. ابن عبد البر (متوفاي463هـ)

ابن عبد البر لکھتا ہے :

وماتت فاطمة رضي الله عنها بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم وكانت أول أهله لحوقا به وصلى عليها علي بن أبي طالب ...

فاطمه بنت رسول اللہ صلي الله عليه وسلم، اهل بيت میں سے وہ پہلا فرد ہے کہ جو  آپ سے ملحق ہوا اور علي بن ابي‌طالب [عليه السلام] نے ان کا جنازہ پڑھایا.

ابن عبد البر النمري القرطبي المالكي، ابوعمر يوسف بن عبد الله بن عبد البر (متوفاى463هـ)، الاستيعاب في معرفة الأصحاب، ج 4، ص 1898، تحقيق: علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولى، 1412هـ.

6 . ابن جوزي (متوفاي 597هـ)

ابن جوزي لکھتا ہے :

توفيت فاطمة الزهراء عليها السلام بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم بستة أشهر ... وغسلها علي عليها السلام وصلى عليها وقالت عمرة صلى عليها العباس بن عبد المطلب ودفنت ليلا.

فاطمه زهرا سلام الله عليها رسول خدا صلي الله عليه وآله کی وفات کے بعد چھے مہینہ تک زندہ رہیں  ... اور علي [عليه السلام] نے انہیں غسل دیا ،ان کا جنازہ پڑھایا ۔ عمره نے کہا ہے : عباس بن عبد المطلب نے ان پر نماز پڑھائی اور رات کو انہیں دفن کیا.

ابن الجوزي الحنبلي، جمال الدين ابوالفرج عبد الرحمن بن علي بن محمد (متوفاى 597 هـ)، صفة الصفوة، ج 2، ص 14، تحقيق: محمود فاخوري - د.محمد رواس قلعه جي، ناشر: دار المعرفة - بيروت، الطبعة: الثانية، 1399هـ – 1979م.

ابن جوزي نے اپنی دوسری کتاب میں اس بات کو مسلم قرار دیا ہے : حضرت علي عليه السلام نے ان پر نماز اداء کی  اور ایک ضعيف قول یہ ہے کہ عباس يا ابو بكر نے نماز اداء کی ۔ وماتت فاطمة بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم بستة أشهر ... وغسلها علي وصلى عليها وقيل صلى عليها العباس وقيل صلى عليها أبو بكر

ابن الجوزي الحنبلي، جمال الدين ابوالفرج عبد الرحمن بن علي بن محمد (متوفاى 597 هـ)، تلقيح فهوم أهل الأثر في عيون التاريخ والسير، ج 1، ص 31، ناشر: شركة دار الأرقم بن أبي الأرقم - بيروت، الطبعة: الأولى 1997م.

7 . ابن اثير جزري (متوفاي630هـ)

ابن اثير نے كتاب «أسد الغابة في معرفة الصحابة»، میں لکھا ہے :

وهي أوّل من غُطِّي نعشها في الإسلام ، ثم بعده زينب بنت جحش . وصلى عليها علي بن أبي طالب . وقيل : صلى عليها العباس . وأوصت أن تدفن ليلاً ، ففعل ذلك بها .

حضرت زهرا [سلام الله عليها] کا بدن وہ پہلا بدن جس کو چھپایا [يعني تابوت میں قرار دیا] ان کے بعد جحش کی بیٹی زينب کو اس طرح کیا گیا. حضرت علي [عليه السلام] نے حضرت زهرا سلام اللہ علیہا کا جنازہ پڑھایا۔ خود حضرت زہراء سلام اللہ علیہا نے انہیں راتوں رات دفن کرنے کی وصيت کی تھیں اور  حضرت علي علیہ السلام نے بھی اس وصیت پر عمل کیا ۔

ابن أثير الجزري، عز الدين بن الأثير أبي الحسن علي بن محمد (متوفاى630هـ)، أسد الغابة في معرفة الصحابة، ج 7، ص 244، تحقيق: عادل أحمد الرفاعي، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت / لبنان، الطبعة: الأولى، 1417 هـ - 1996 م.

8 . مزي (متوفاي 742هـ)

مزي نے  «تهذيب الكمال» میں لکھا ہے :

وماتت فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم وكانت أول أهله لحوقا به ، وصلى عليها علي بن أَبي طالب ...

فاطمه [سلام الله عليها] بنت رسول اللہ صلي الله عليه وسلم دنیا سے چلی گئیں اور آپ اھل بیت میں سے پہلا فرد ہے جو آنحضرت سے ملحق ہوئیں ،علي بن ابي‌طالب [عليه السلام] نے ان کا جنازہ پڑھایا .

المزي، ابوالحجاج يوسف بن الزكي عبدالرحمن (متوفاى742هـ)، تهذيب الكمال، ج 35، ص252، تحقيق: د. بشار عواد معروف، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: الأولى، 1400هـ – 1980م.

9 . نووي (متوفاي 676هـ)

نووي لکھتا ہے :

فاطمة الزهراء بنت رسول الله .... وقال الكلبي ... وغسلها علي وأسماء بنت عميس وصلى عليها علي وقيل العباس وأوصت أن تدفن ليلا ففعل ذلك بها

فاطمه زهرا بنت رسول اللہ صلي الله عليه وآله... كلبي نے کہا ہے: ... علي [عليه السلام] اور اسماء بنت عميس نے انہیں  غسل دیا اور علي [عليه السلام] نے ان کا جنازہ پڑھایا  اور ایک ضعیف قول یہ ہے کہ عباس نے ان کا جنازہ پڑھایا ۔ انہوں نے رات کو دفنانے کی وصیت کی تھی اور  علي [عليه السلام] نے وصیت پر عمل کیا .

النووي الشافعي، محيي الدين أبو زكريا يحيى بن شرف بن مر بن جمعة بن حزام (متوفاى676 هـ)، تهذيب الأسماء واللغات، ج 2، ص 617، تحقيق: مكتب البحوث والدراسات، ناشر: دار الفكر - بيروت، الطبعة: الأولى، 1996م.

10 . ابن كثير (متوفاي774هـ)

ابن كثير اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ امير المؤمنین عليه السلام نے حضرت زهرا سلام الله عليها کا جنازہ پڑھایا اور ایک قول یہ بھی ہے کہ ابوبکر نے ان کا جنازہ پڑھایا ۔ ابن کثیر پھر اس قول کو عجیب وغریب قرار دیتا ہے ۔

وصلى عليها علي وقيل أبو بكر وهو قول غريب .

ابن كثير الدمشقي، ابوالفداء إسماعيل بن عمر القرشي (متوفاى774هـ)، فصول من السيرة، ج1، ص 216، دار النشر: طبق برنامه الجامع الكبير.

11. ابن حجر عسقلاني (متوفاي852هـ)

ابن حجر اسماء بنت عميس  کا حضرت فاطمه سلام علیہا کو  غسل نہ دینے کی بات کی تحلیل اور تحقیق کرتے ہوئے اس بات کو بیان کرتا ہے کہ ابو بكر نے حضرت زهرا سلام الله عليها کا جنازہ نہیں پڑھایا :

وقد ثَبَتَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ لم يَعْلَمْ بِوَفَاةِ فَاطِمَةَ لِمَا في الصَّحِيحِ من حديث عَائِشَةَ أَنَّ عَلِيًّا دَفَنَهَا لَيْلًا ولم يُعْلِمْ أَبَا بَكْرٍ فَكَيْفَ يُمْكِنُ أَنْ تُغَسِّلَهَا زَوْجَتُهُ وَلَا يَعْلَمُ هو وَيُمْكِنُ أَنْ يُجَابَ بِأَنَّهُ عَلِمَ بِذَلِكَ وَظَنَّ أَنَّ عَلِيًّا سَيَدْعُوهُ لِحُضُورِ دَفْنِهَا وَظَنَّ عَلِيٌّ أَنَّهُ يَحْضُرُ من غَيْرِ اسْتِدْعَاءٍ منه فَهَذَا لَا بَأْسَ بِهِ وَأَجَابَ في الْخِلَافِيَّاتِ بأنه (أنه) يَحْتَمِلُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ عَلِمَ بِذَلِكَ وَأَحَبَّ أَنْ لَا يَرُدَّ غَرَضَ عَلِيٍّ في كِتْمَانِهِ منه

یہ بات جناب عايشه سے نقل شدہ صحیح روایت کی رو سے ،ثابت ہے فاطمه [سلام الله عليها] کو علی علیہ السلام نے رات کو  ہی دفن کر دیا  اور ابوبکر کو اس چیز کی خبر ہی نہیں دی پس یہ کیسے ممکن ہے کہ ابوبکر کی بیوی نے انہیں غسل دی ہو اور ابوبکر کو اس چیز کی خبر ہی نہ ہو ۔

ممكن ہے یہ جواب دیا جائے کہ  ابوبکر کو وفات کی خبر تو تھی لیکن وہ یہ خیال کر رہا تھا کہ شاید علي [عليه السلام] انہیں جنازے میں شرکت کی دعوت دیں گے اور حضرت علی بھی یہ خیال کر رہے تھے کہ ابوبکر خود ہی جنازے میں حاضر ہوگا ۔لہذا اس صورت میں اسماء کا غسل کے لئے حاضر ہونا صحیح ہے ،کتاب «خلافيات» میں اس طرح جواب دیا ہے کہ  ابوبکر کو اس چیز کا علم تھا لیکن ابوبکر چاہتا تھا کہ علی علیہ السلام کیوںکہ اس کو چھپانا اور مخفی رکھنا چاہتے تھے لہذا جناب ابوبکر اس کام میں خلل نہیں ڈالنا چاہتا تھا ۔

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابوالفضل (متوفاى852هـ)، تلخيص الحبير في أحاديث الرافعي الكبير، ج2، ص143، تحقيق : السيد عبدالله هاشم اليماني المدني، ناشر: - المدينة المنورة – 1384هـ – 1964م.

12. بدر الدين عيني (متوفاي 855هـ)

عيني  نے «عمدة القاري شرح صحيح البخاري»، میں لکھا ہے :

وغسلها علي ، رضي الله تعالى عنه ، وصلى عليها ودفنت ليلاً، وفضائلها لا تحصى ، وكفى لها شرفاً كونها بضعة من رسول الله صلى الله عليه وسلم.

علي [عليه السلام] نے انہیں غسل دیا اور نماز پڑھائی اور رات کو ہی دفن کر دیا . آپ کے فضائل بہت ہیں ۔آپ کی عزت اور شرافت کے لئے یہی کافی ہے کہ آپ رسول اللہ صلي الله عليه وآ‌له کے وجود کا حصہ ہے .

العيني الغيتابي الحنفي، بدر الدين ابومحمد محمود بن أحمد (متوفاي 855هـ)، عمدة القاري شرح صحيح البخاري، ج 3، ص174، ناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.

13. ملا علي قاري (متوفاي1014هـ)

ملا علي هروي نے لکھا ہے :

تزوجها علي بن أبي طالب في السنة الثانية من الهجرة في شهر رمضان ... وغسلها علي وصلى عليها ودفنت ليلا .

دوم هجري کو فاطمه [سلام الله عليها] نے علي بن ابي‌طالب [عليه السلام] سے شادی کی ۔  علي [عليه السلام] نے ہی ان کا جنازہ پڑھایا اور رات کو دفن کر دیا .

ملا علي القاري، نور الدين أبو الحسن علي بن سلطان محمد الهروي (متوفاى1014هـ)، مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، ج 1، ص 174، تحقيق: جمال عيتاني، ناشر: دار الكتب العلمية - لبنان/ بيروت، الطبعة: الأولى، 1422هـ - 2001م .

14. حلبي (متوفاي 1044هـ)

حلبی اس سلسلے میں لکھتا ہے :

وقال الواقدي وثبت عندنا أن عليا كرم الله وجهه دفنها رضي الله تعالى عنها ليلا وصلى عليها ومعه العباس والفضل رضي الله تعالى عنهم ولم يعلموا بها أحدا.

واقدي نے کہا . ہمارے نذدیک یہ بات ثابت ہے کہ علي [عليه السلام] نے حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کا جنازہ پڑھایا اور رات کو ہی انہیں دفن کر دیا۔ عباس  اور فضل ان کے ساتھ تھے اور ان لوگوں نے کسی کو بھی اس کی خبر نہیں دی .

الحلبي، علي بن برهان الدين (متوفاى1044هـ)، السيرة الحلبية في سيرة الأمين المأمون، ج 3، ص487،‌ ناشر: دار المعرفة - بيروت – 1400.

آخری بات :

پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا چچا عباس نے ان کا جنازہ پڑھایا

بعض نقلوں کے مطابق رسول خدا (صلي الله عليه وآله) کے چچا عباس نے حضرت زهرا (سلام الله عليها) کا جنازہ پڑھایا ہے . اس بات کو مدائني، واقدي، ضحاك، بلاذري، ابو نعيم  اور ابن جوزي نے نقل کیا ہے :

ذهبي نے واقدي کے قول کے بارے میں کہا ہے :

وقال الواقدي : هذا أثبت الأقاويل عندنا . وقال : وصلى عليها العباس  ...

واقدي نے کہا ہے کہ صحيح ترين قول ہمارے نذدیک یہ ہے  کہ حضرت زهرا سلام الله عليها کا جنازہ  عباس نے پڑھایا ہے .

تاريخ الإسلام، ج 3، ص47

بلاذري نے کہا ہے :

وتوفيت فاطمة رضي الله تعالى عنها بعد النبي صلى الله عليه وسلم ... وصلى عليها العباس بن عبد المطلب.

فاطمه [سلام الله عليها] ، رسول اللہ صلي الله عليه وسلم ۔۔ ...  اور عباس بن عبد المطلب نے ان کا جنازہ پڑھایا .

البلاذري، أحمد بن يحيي بن جابر (متوفاى279هـ)، أنساب الأشراف، ج 1، ص 178، طبق برنامه الجامع الكبير.

ضحاك نے بھی کہا ہے :

فاطمة ابنة رسول الله صلى الله عليه وسلم ... وغسلها علي رضي الله عنه ودفنها ليلا وصلى عليها العباس بن عبد المطلب ...

فاطمه بنت رسول اللہ صلي الله عليه وآله ...کو  علي عليه السلام نے غسل دیا اور رات کو دفن کیا اور عباس بن عبد المطلب نے ان کا جنازہ پڑھایا.

الشيباني، أحمد بن عمرو بن الضحاك ابوبكر (متوفاى 287هـ)، الآحاد والمثاني، ج 5، ص 354، تحقيق: د. باسم فيصل أحمد الجوابرة، ناشر:دار الراية - الرياض، الطبعة: الأولى، 1411 – 1991م.

ابن جوزي نے اپنی دوسری کتاب میں لکھا ہے :

فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم  .. وصلى عليها العباس ...

ابن الجوزي الحنبلي، جمال الدين ابوالفرج عبد الرحمن بن علي بن محمد (متوفاى 597 هـ)، المنتظم في تاريخ الملوك والأمم، ج 4، ص 95، ناشر: دار صادر - بيروت، الطبعة: الأولى، 1358.

شيباني نے " الكامل في التاريخ" میں نقل کیا ہے :

وفي هذه السنة ماتت فاطمة بنت النبي ... وصلى عليها العباس بن عبد المطلب ...

ابن أثير الجزري، عز الدين بن الأثير أبي الحسن علي بن محمد (متوفاى630هـ) الكامل في التاريخ، ج 2، ص 204، تحقيق: عبد الله القاضي، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة الثانية، 1415هـ.

جواب :

اولا: یہ اهل سنت کے بعض علماء کا قول ہے اور یہ صحیح سند روایات کا مقابلہ نہیں کرسکتا کیونکہ صحیح سند روایات کے مطابق امير المؤمنین (عليه السلام) نے حضرت زهرا (سلام الله عليها) کا جنازہ پڑھایا ہے . لہذا یہ روایات اس قول پر مقدم ہیں  .

ثانيا: اس قول کے مقابلے میں اھل سنت کے ہی بہت سے بزرگوں کا نظریہ ہے یہ کہ حضرت اميرالمؤمنین عليه السلام نے ہی ان کا جنازہ پڑھایا ہے ۔ لہذا مذکورہ قول صحیح سند روایات اور اھل سنت کے ہی بزرگ علماء کے مخالف ہے لہذا یہ قول شاذ ہی ہوگا .

ثالثا: عباس کا نماز جنازہ پڑھنا، امير المؤمنین عليه السلام کا جنازہ پڑھانے کے ساتھ منافات بھی نہیں رکھتا؛ کیونکہ عام طور پر جو کسی جنازے کو دفن کرنے کے لئے آتے ہیں وہ میت پر نماز بھی پڑھتے ہیں لہذا ممکن ہے جناب عباس نے بھی بعض کے ساتھ الگ سے ایک نماز پڑھائی ہو یا سب نے الگ الگ نماز پڑھی ہو ۔

لیکن جیسا بھی ہو اہم نکتہ یہ ہے  ابو بكر کا ان کا جنازرہ پڑھانا تو دور کی بات ،ابوبکر تو  ان کے دفن اور جنازے کے رسومات میں بلکل حاضر ہی نہیں تھا، ۔ لہذا جب حاضر نہیں ہوا ہے تو کیسے نماز جنازہ پڑھائی ہے ؟

نتيجه:

صحیح سند روایات اور اھل سنت کے ہی معتبر علماء کے اقوال کی روشنی میں صحیح نظریہ یہی ہے کہ حضرت اميرمؤمنین (عليه السلام) نے حضرت زهرا (سلام الله عليها) کا جنازہ خود ہی پڑھایا اور زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ جنازے  میں شریک دوسرے بعض افراد نے بھی ایک الک  ان پر نماز پڑھی ۔

 

شبهات اور اعتراضات کے جواب دینے والی ٹیم

تحقيقاتي ادارہ  حضرت ولي عصر (عجل الله تعالي فرجه الشريف)

 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی