2021 June 18
روايت «نحن معاشر الأنبياء لا نورث ...» کے بارے میں تحقیق
مندرجات: ١٩٦٨ تاریخ اشاعت: ٠٦ June ٢٠٢١ - ١٠:٤٨ مشاہدات: 139
مضامین و مقالات » پبلک
روايت «نحن معاشر الأنبياء لا نورث ...» کے بارے میں تحقیق

 روايت «نحن معاشر الأنبياء لا نورث ...» کے بارے میں تحقیق

تحقیق کا خلاصہ

تفصیلی جواب

لفظ «ما‌» اور  لفظ «صدقه» کی وضاحت اور ترکیب  

پہلی فصل: ابوبکر کی نقل کردہ حدیث قرآن کے مخالف ہے

 فصل دوم :اس حدیث کا سنت کے خلاف ہونا

تیسری فصل: اهل بيت(ع) نے ابوبکر کی حدیث کی مخالفت کی ۔

چوتھی فصل : بعض اصحاب کی طرف سے ابوبکر کی حدیث کی مخالفت

پانچواں فصل:خلفاء اور اہل سنت کے علماء کی مخالفت

 

تحقیق کا خلاصہ :

شیعہ اور اہل سنت کے درمیان موجود بنیادی اختلافات میں سے ایک  رسول خدا (ص)‌ کے ارث کا مسئلہ اور یہ مسئلہ ہے کہ کیا فدک جناب زہرا (ع) کی ملکیت تھی اور ابوبکر اور عمر  نے اس کو ان سے چھین لیا یا یہ مذکورہ حدیث کے مطابق صدقہ کے عنوان سے بیت المال کا حصہ تھا اور تمام مسلمانوں کا مال شمار ہوتا تھا ؟

ہم اس تحقیق میں اہل سنت کی معتبر کتابوں سے اس اختلاف کی تحقیق کے بعد ثابت کریں گے کہ اس حدیث پر بہت سے اشکالات وارد ہیں اور اہل سنت کے نظریے کو یہ حدیث ثابت نہیں کرسکتی۔

 ہم انشاء اللہ، اللہ کی دی ہوئی توفیق اور حضرت ولی العصر امام زمان ارواحنا لہ فدا کے لطف و عنایت سے اس سلسلے کے مطالب کو مندرجہ ذیل فصلوں میں بیان کریں گے :

ابوبکر کی حدیث قرآن کے مخالف ہے؛

ابوبکر کی حدیث سنت کے مخالف ہے؛

ابوبکر کی حدیث اور اہل بیت علیہم السلام کی مخالفت؛

خلفاء اور اہل سنت کے بعض علماء کی طرف سے ابوبکر کی حدیث کی مخالفت؛

 

تفصیلی جواب

سب سے پہلے اس حدیث کے معانى اور مفردات کی طرف توجہ ضروری ہے ؛ کیونکہ ان چیزوں کی شناخت کے بغیر اہل سنت کے علماء کی طرف سے اس حدیث سے اخذ شدہ نتیجہ گیری اور اس سلسلے میں شیعہ علماء کے نظریہ میں موجود گہرائی واضح نہیں ہوگی  ۔

لفظ «ما‌» اور  لفظ «صدقه» کی وضاحت اور ترکیب کے بارے میں دو احتمال   

حدیث «نحن معاشر الانبياء لانورث ما تركناه صدقة» کے بعض الفاظ مثلا  «ما» اور «صدقه» کو ادبی اعتبار سے دیکھنا ہوگا کہ یہ الفاظ اس حدیث میں کس معنی میں ہے اور عربی ادب کے اعتبار سے ان الفاظ کا حدیث کے معنی میں کیا کردار ہے؟

 

پہلی ترکیب :

ایک ترکیب کے مطابق حدیث میں موجود لفظ «ما» موصوله اور مفعول به ہے اور لفظ «صدقه» حال ہے ، اس ترکیب کی رو سے پوری حدیث ایسا ایک جملہ کہ جس کے سارے الفاظ پیوستہ اور ایک دوسرے سے ہماہنگ اور مربوط ہیں {یعنی پوری حدیث ایک جملہ ہے یہ ایک سے زیادہ جملوں کا مجموعہ نہیں ہے}

حدیث کے الفاظ کی اس تركيب کو  عربی ادب کے ماہر نحاس  نے صحیح قرار دیا ہے لیکن ایک اور عربی ادب کے ماہر،عياض نے اس کو قبول نہیں کیا ہے۔ کیونکہ اس سے مذہب شیعہ کے نظرے کی تائید ہوجاتی ہے ۔

وذهب النحاس إلى صحة نصب صدقة على الحال وأنكره عياض لتأييده مذهب الإمامية.

نحاس کا نظریہ یہ ہے کہ ( صدقه) منصوب ہے اور اس کو حال قرار دینا صحیح ہے۔    لیکن عياض کیونکہ اس ترکیب کو شيعه اماميه کے نظریے کہ تائید سمجھتا ہے لہذا اس ترکیب کو اس نے قبول نہیں کیا ہے.

الزرقاني، محمد بن عبد الباقي بن يوسف (متوفاي1122هـ) شرح الزرقاني على موطأ الإمام مالك، ج 4، ص 531، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1411هـ.

عیاض کی طرف سے اس ترکیب کو قبول نہ کرنے کی وجہ جیساکہ خود مندرجہ بالا الفاظ سے ظاہر ہے ، یہ انکار شیعہ نظرئے کی تائید کی وجہ سے ہے۔ لہذا یہ ادبی معاملات میں بھی مذہبی تعصب اور حق بات کو چھپانے کی اعلی مثال ہے.

اس ترکیب کے مطابق ابوبکر کی طرف سے نقل شدہ اس حدیث کا معنی یہ ہوگا؛

جو چیز ہم پیغمبر صدقہ کے طور پر چھوڑے جاتے ہیں وہ ارث نہیں ہوگا۔

اهل سنت کے بعض دانشمندوں کے نظریات

سرخسى کہ جو اهل سنت کے مشہور فقیہ ہیں وہ بھی اسی ترکیب اور معنی کو اپنے استاد سے نقل کرتے ہیں وہ لکھتے ہیں :

(وَاسْتَدَلَّ) بَعْضُ مَشَايِخِنَا رَحِمَهُمُ اللَّهُ بِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ «إنَّا مَعَاشِرَالْأَنْبِيَاءِ لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَاهُ صَدَقَة» فَقَالُوا: مَعْنَاهُ مَا تَرَكْنَاهُ صَدَقَةٌ لَا يُورَثُ ذَلِكَ عَنَّا؛ وليسَ الْمُرَادُ أَنَّ أَمْوَالَ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمْ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ لَا تُورَثُ، وَقَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: « وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُد » وَ قَالَ تَعَالَى «فَهَبْ لِي مِنْ لَدُنْك وَلِيًّا يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ» فَحَاشَا أَنْ يَتَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخِلَافِ الْمُنَزَّلِ.

ہمارے بعض استادوں نے پيامبر عليه الصلاة و السلام کی اس حدیث ( انا معاشر الانبياء لانورث ما تركناه صدقة ) سے استدلال کیا ہے اور کہا ہے :

اس کا معنی یہ ہے کہ جو مال ہم نے صدقہ کے عنوان سے چھوڑا ہے وہ ارث نہیں ہوگا۔اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے تمام اموال ارث کے عنوان سے منتقل نہیں ہوگا ۔کیونکہ اللہ نے ارشاد فرمایا ہے : ' 'سلمان نے داود سے ارث لیا" اسی طرح فرمایا :اے اللہ ! تو مجھے ایک ایسا ولی اور وارث عطاء فرما جو میرا اور آل یعقوب کا وارث ہو۔

 لہذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس چیز سے پاک و منزہ ہے کہ آپ قرآن کے خلاف کوئی بات کریں۔

السرخسي، شمس الدين أبو بكر محمد بن أبي سهل (متوفاي483هـ )، المبسوط، ج 12، ص 29، ناشر: دار المعرفة – بيروت.

فخر رازی نے بھی اسی ترکیب  اور اس معنی سے دفاع کیا ہے :

 فان قيل: فعلى هذا التقدير لا يبقى للرسول خاصية في ذلك.

قلنا: بل تبقى الخاصية لاحتمال أن الأنبياء إذا عزموا على التصدق بشيء فبمجرد العزم يخرج ذلك عن ملكهم ولا يرثه وارث عنهم و هذا المعنى مفقود في حق غيرهم.

اگر یہ کہا جائے کہ اس ترکیب اور معنی کے مطابق{انبیاء علیہم السلام جو چیز صدقہ کے طور پر چھوڑے جائیں گے وہ ارث نہیں ہوگا} تو یہ حکم تو انبیاء علیہم السلام  کے ساتھ مخصوص نہیں ہے دوسرے لوگوں کا بھی یہی حکم ہے [ کیونکہ جو بھی صدقہ چھوڑ کر جائے وہ ارث میں شامل نہیں ہوگا ]

 فخر رازی اس شبہہ کے جواب میں لکھتا ہے : انبیاء علیہم السلام جب کسی چیز کو صدقہ دینے کا ارادہ کرلے تو وہ ان کی ملکیت سے نکل جائے گی اور پھر ان کے وارث اس کو ارث کے طور پر نہیں لے سکے گا۔ ،جبکہ غیر انبیاء میں ایسا نہیں ہے صرف ارادہ کرنا کافی نہیں ہے ۔

الرازي الشافعي، فخر الدين محمد بن عمر التميمي (متوفاي604هـ)، التفسير الكبير أو مفاتيح الغيب، ج 9، ص 171، ذيل آيه 11سوره نساء، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2000م.

لہذا حدیث کے الفاظ کی اس ترکیب اور معنی کی وضاحت کے بعد کیا ابوبکر کو یہ حق پہنچتا تھا کہ وہ اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کو  ان کے حق سے محروم کردئے ؟

کیا اس بات پر کوئی دلیل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ اپنے سارے مال صدقہ کے طور پر چھوڑ گئے ہوں؟

دوسری ترکیب:

اس تركيب کے مطابق «ما» موصول اور  مبتداء ہوگا ،«صدقه» خبر اور مرفوع ہوگا: اس کے مطابق  حدیث «نحن معاشر الانبياء لانورث ما تركناه صدقة» دو الگ اور جدا جملوں سے مرکب ہوگی۔

ابن حجر اس سلسلے میں لکھتا ہے :

والذي توارد عليه أهل الحديث في القديم والحديث لا نورث بالنون وصدقة بالرفع وأن الكلام جملتان وما تركنا في موضع الرفع بالابتداء وصدقة خبره.

جو  بات قديمی علماء اور  جديد علماء نے کہی ہے اس کے مطابق «لانورث» نون کے ساتھ ہے ( نه ياء کے ساتھ ) اور لفظ صدقه مرفوع ہوگا، لہذا یہ کلام دو جملوں پر مشتمل ہوگی (1 . نحن معاشر الانبياء لانورث 2 . ما تركناه صدقة  ) «ما تركناه»  مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع اور لفظ  «صدقه» اس مبتدا کی خبر ہوگی.

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل (متوفاي852 هـ)، فتح الباري شرح صحيح البخاري، ج 6، ص 202، تحقيق: محب الدين الخطيب، ناشر: دار المعرفة - بيروت.

 

اس ترکیب کے مطابق حدیث کے چار معنی متصور ہیں:

پہلا معنی : پیغمبروں کے فضائل موروثی نہیں ہیں:

اس احتمال کے مطابق ابوبكر کی اس حديث کا معنی یہ ہے انبیاء علیہم السلام کےفضايل اور كرامات وراثت کے طور پر منتقل ہونے والی چیزیں نہیں ہیں ۔لہذا یہ حدیث انبیاء علیہم السلام کے اموال ان کے وارث کو منتقل ہونے کی نفی نہیں کرتی۔

فخر رازى « ان اكرمكم عندالله اتقاكم » کی تفسیر میں ابوبکر کی حدیث کا  معنی بیان کرتے ہوئے لکھتا  ہے :

فاعلم أن النسب يعتبر، بعد اعتبار العبادة كما أن الجعل شعوباً يتحقق بعد ما يتحقق الخلق، فإن كان فيكم عبادة تعتبر فيكم أنسابكم وإلا فلا... فيه إرشاد إلى برهان يدل على أن الافتخار ليس بالأنساب... اللّهم إلا أن يجوز شرف الانتساب إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فإن أحداً لايقرب من الرسول في الفضيلة حتى يقول أنا مثل أبيك، ولكن في هذا النسب، أثبت النبي صلى الله عليه وسلم الشرف لمن انتسب إليه بالاكتساب و نفاه لمن أراد الشرف بالانتساب فقال: «نحن معاشر الأنبياء لانورث» وقال: « العلماء ورثة الأنبياء » أي لا نورث بالانتساب، وإنما نورث بالاكتساب.

خاندانی اور نسلی شرافت ، اللہ کی بندگی کے بعد ہے۔جس طرح قبیلوں اور مختلف گروہوں کا وجود میں آنا،ان کی خلقت کے بعد ہے{ اللہ کسی کو خلق نہ کرئے تو قبائل کا وجود نہیں }لہذا کوئی اللہ کی بندگی اور اللہ کی اطاعت کرئے تو اس کی خاندانی شرافت کی اہمیت ہوگی۔ اگر اللہ کی بندگی اور اطاعت نہ ہو تو خاندانی شرافت کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی ۔جیساکہ آیت « ان اكرمكم عندالله اتقاكم » میں اسی نکتے کی طرف اشارہ ہوا ہے ۔یہ آیت ہمیں سمجھا رہی ہے کہ صرف نسبت کافی نہیں ہے۔ لیکن اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ سلم سے نسبت ایک امتیاز اور قابل فخر بات ہے۔

لہذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے قریب ہونے کے امتیاز کے اعتبار سے وہی سب سے قریب ہوگا کہ جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ کہے کہ میں تیرے باپ کی طرح ہوں پیغمبر ص یہ امتیاز اور شرافت کسی ایسے کو دیتے ہیں جس نے یہ امتیاز خود اپنے کردار کی وجہ سے حاصل کیا ہو صرف ان سے نسبت کی وجہ سے یہ امتیاز حاصل نہیں ہوگا۔ لہذا آپ نے فرمایا : ہم انبیاء سے کوئی ارث نہیں لے سکتااور یہ فرمایا : علماء انبیاء کے وارث ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف ہم سے نسبت کی وجہ سے کوئی ارث نہیں لے سکتا بلکہ وہ ہمارے فضائل کو خود ہی کسب کر کے ارث میں لے سکتا ہے۔

الرازي الشافعي، فخر الدين محمد بن عمر التميمي (متوفاي604هـ)، التفسير الكبير أو مفاتيح الغيب، ج 28، ص 118، ذيل آيه 13 سوره حجرات، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2000م.

دوسرا معنی : نبوت کا مقام مال جمع کرنے کے ساتھ قابل جمع نہیں ہے ۔

اس نکتے کی طرف توجہ کے ساتھ کہ مقام نبوت حكومت اور معاشرے کی رهبرى کو بھی شامل ہے ، حديث مذکور کا معنی یہ ہوگا کہ  انبیاء علیہم السلام اس نقطہ نظر سے کہ یہ حکومت اور معاشرے کی رہبری کے منصب پر بھی فائز ہیں لیکن انبیاء اس کے باوجود ناحق مال جمع نہیں کرتے تاکہ ان کے مال ان کے وارثوں تک منتقل ہو۔

لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ باپ اور شوہر ہونے کے اعتبار سے ان کے ذاتی مال ان کے وارثوں کو نہیں ملے گا ۔

 دوسرے الفاظ میں حدیث یہ کہنا چاہتی ہے کہ انبیاء کا منصب دنیا کے مال جمع کرنے اور ذخیرہ اندوزی کے ساتھ قابل جمع نہیں ہے ۔

اس مطلب کو ثابت کرنے کے لئے تین دلیل پیش کرتے ہیں؛

الف : ایک علمی قانوں سے استدلال :

ایک مشہور قانون اور علمی قاعدہ یہ ہے  «تعليق الحكم بالوصفية، مشعر بالعلية» یعنی جو بھی حکم کسی صفت کے ساتھ مشروط اور معلق ہو تو اس سے یہ معلوم ہوا کہ یہ صفت اس حکم کی علت ہے اور وہ حکم اسی صفت کی وجہ سے ہے۔لہذا اس حکم کا باقی رہنا یا نہ رہنا اس صفت کے ہونے اور نہ ہونے کے ساتھ مشروط ہے۔

 واضح طور پر یوں کہا جائے کہ کسی کو ارث نہ ملنا پیغمبر ہونے کی وجہ سے ہے۔ خاندانی رشتے مثلا باپ یا ہمسر ہونے کی وجہ سے نہیں ہے ۔

فخر رازی ایک آیت کے ضمن میں اس قانون کی یوں وضاحت کرتا ہے :

أن ترتيب الحكم على الوصف مشعر بالعلية فقوله: « وَإِنَّ الْفُجَّارَ لَفِى جَحِيمٍ » يقتضي أن الفجور هي العلة.

کوئی حکم اگر کسی صفت کے ساتھ مربوط ہو اور تو اس سے اس حکم کی علت سمجھ میں آتی ہے۔ جیساکہ اللہ کے اس فرمان : « بتحقیق فاجر لوگ جہنم میں ہوں گے »کا اقتضاء یہ ہے کہ فاجر ہونا جہنم میں جانے کی علت ہے ۔

الرازي الشافعي، فخر الدين محمد بن عمر التميمي (متوفاي604هـ)، التفسير الكبير أو مفاتيح الغيب، ج 3، ص 136، ذيل آيه 81 سوره بقره، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2000م.

آلوسى بھی اسی قانون کی وضاحت میں لکھتا ہے :

ومعلوم أن الصفة آلة لتمييز الموصوف عما عداه وأن تعليق الحكم بالوصف مشعر بالعلية.

 یہ بات روشن ہے کہ، صفت موصوف اور غیر موصوف کی پہچان کے لئے ہے ،حکم کا وصف کے ساتھ مربوط اور معلق ہونا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ صفت حکم کی علت ہے۔

الآلوسي البغدادي، العلامة أبي الفضل شهاب الدين السيد محمود (متوفاي1270هـ)، روح المعاني في تفسير القرآن العظيم والسبع المثاني، ج 1، ص 187، ذيل آيه 21 سوره بقره، ناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.

شوكانى نے بھی اس قانون کو بیان کیا ہے :

ربط الحكم باسم مشتق فإن تعليق الحكم به مشعر بالعلية نحو: أكرم زيدا العالم، فإن ذكر الوصف المشتق، مشعر بأن الإكرام لأجل العلم.

کسی حکم کو کسی مشتق اور صفت کے ساتھ مشروط اور معلق کرنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مذکورہ صفت اس حکم کی علت ہے، مثلا یہ کہے " زید تم عالم کا احترام کرو  اس جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ زید کے احترام کی علت اس کا علم ہے ۔  

الشوكاني، محمد بن علي بن محمد (متوفاي 1255هـ)، إرشاد الفحول إلى تحقيق علم الأصول، ج 1، ص 362، تحقيق: محمد سعيد البدري أبو مصعب، ناشر: دار الفكر - بيروت، الطبعة: الأولى، 1412هـ ـ 1992م

اہل سنت کے مندرجہ بالا ان تین بزرگوں کے اقوال کی روشنی میں اب ہم بہتر انداز میں دوسری ترکیب کے دوسرے معنی میں پیغمبروں سے ارث منتقل نہ ہونے کے معنی میں دقت کرسکتے ہیں۔ اور یہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا مقام نبوت، پیغمبر کی اولاد کو ارث لینے سے مانع بن سکتا ہے یا نہیں بن سکتا ؟

 کیا اس سے استدلال اور اس سلسلے میں مختلف کوششوں کا کوئی نتیجہ بھی نکلےگا یا نہیں نکلے گا ؟

ب: انبياء  اور فرعوں کا موازنہ  

پیغمبروں کے دور میں جن کے ہاتھ میں حکومت ہوتی تھی وہی سب سے زیادہ مال و ثروت کے مالک ہوتے تھے اور یہ لوگ مرنے کے بعد انہیں مادی چیزوں کے علاوہ اور چیز چھوڑ کر نہیں جاتے تھے ۔جبکہ انبیاء علیہم السلام کی ذمہ داری اور مسئولیت لوگوں کی ہدایت اور راہ نمائی اور مادی چیزوں کی طرف کم توجہ دینا ہے،لہذا ان کی وراثت ان کے ہدف اور ذمہ داری کے حساب سے معنوی تھی ،لیکن اس کا یہ معنی یہ نہیں کہ ان کی مالی وراثت ہی نہ ہو۔لہذا یہ کہنا ہوگا کہ انبیاء علیہم السلام کے سب سے اہم وراثت، معنوی وراثت تھی، درہم و دینا کی وراثت نہ تھی۔ انبیاء علیہم السلام کی وراثت ان کی معنوی شخصیت اور مقام کے مطابق تھی۔

جیساکہ امیر المومنین علی علیہ السلام سے نقل ہواہے :

قال علي بن ابي طالب رضي الله عنه: العلم افضل من المال بسبعة اوجه: العلم ميراث الانبياء والمال ميراث الفراعنة... .

علم سات لحاظ سے مال سے بہتر ہے: پہلا : علم انبیاء علیہم السلام کی وراثت ہے،ثروت اور مال فرعون جیسے لوگوں کی وراثت ہے ۔۔۔

الرازي الشافعي، فخر الدين محمد بن عمر التميمي (متوفاي604هـ)، التفسير الكبير أو مفاتيح الغيب، ج 2، ص 168، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2000م.

ج: علماء انبیاء علیہم السلام کے وارث ہیں

رسول خدا (ص)نے علماء کو انبیاء کے وارث کہا ہے؛ اور علماء کو اپنا وارث قرار دیا ہے ۔ جیساکہ رسول خدا (ص) کے کلام سے ہی واضح ہے کہ ، یہاں وراثت سے مراد علم کی وراثت ہے ،مالی اور مادی وراثت مراد نہیں ہے۔

بخارى میں ہے :

أَنَّ الْعُلَمَاءَ هُمْ وَرَثَةُ الأَنْبِيَاءِ - وَرَّثُوا الْعِلْمَ - مَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ.

علماء انبیاء کے وارث ہیں ، انبیاء، علماء کو علم کی وراثت چھوڑے جاتے ہیں، جس کو یہ وراثت نصیب ہو  اس نے گویا بہت زیادہ فائدہ اٹھایا ہے ۔

البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، صحيح البخاري، ج 1، ص 37، كتاب العلم، بَاب الْعِلْمُ قبل الْقَوْلِ وَالْعَمَلِ، تحقيق د. مصطفى ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 - 1987. 

اسی حدیث کو  احمد حنبل نے معمولی اختلاف کے ساتھ ذکر کیا ہے:

... إِنَّ الْعُلَمَاءَ هُمْ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ لَمْ يَرِثُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَإِنَّمَا وَرِثُوا الْعِلْمَ ۔۔

علماء، انبیاء کے وارث ہیں،علماء کو انبیاء درہم اور دینا ارث میں وراثت میں چھوڑ کر نہیں جاتے ۔ علماء انبیاء کے علم کے وارث ہیں ۔

الشيباني، أحمد بن حنبل أبو عبدالله (متوفاي241هـ)، مسند أحمد بن حنبل، ج 5، ص 196، ح21763، ناشر: مؤسسة قرطبة – مصر.

 

اب دیکھے ان احادیث اور حدیث "نحن الانبیاء لا نورث" کے درمیان کوئی ربط ہے؟  

تیسرا معنی : انبیاء کے نقدی مال صرف صدقہ ہے ۔

جیساکہ صحیح بخارى اور مسلم میں موجود اس روایت کے مطابق جس کو ابوہریرہ نے نقل کیا ہے«لا تقتسم ورثتى دينارًا ولا درهمًا؛ میرے وارث درہم اور دینار مجھ سے ارث میں لے کر آپس میں تقسیم نہیں کریں گے»

اهل سنت کے بعض علماء نے اس حدیث سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ پیغمبر ص کے وارث ان کے نقدی مال کو  ارث کے طور پر نہیں لے سکتے لیکن درہم اور دینار کے علاوہ باقی اموال ارث میں لے سکتا ہے .

ابن بطال، نے  صحيح بخارى کی شرح میں لکھا ہے :

قال المهلب: و من أجل ظاهر حديث أبى هريرة والله أعلم، طلبت فاطمة ميراثها فى الأصول لانها وجهت قوله: ( لا تقتسم ورثتى دينارًا ولا درهمًا )إلى الدنانير والدراهم خاصة، لا إلى الطعام والأثاث والعروض وما يجرى فيه المئونة والنفقة.

مهلّب نے کہا ہے : ابوهريرة نے جو حدیث  رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نقل کی ہے : «میرے وارث درہم و دینا وراثت کے طور پر آپس میں تقسیم نہیں کریں گے»  اس حدیث کے ظاہر کے مطابق جناب فاطمه (سلام الله عليها)، نے غیر نقدی چیزوں سے اپنے ارث کا مطالبہ کیا تھا ۔کیوکہ آپ کو اس حکم کا علم تھا کہ یہ حکم درہم اور دینار کے بارے میں ہے،کھانے پینے کی چیزوں اور وسائل زندگی اور دوسری منفعتوں اور ایسی چیزوں کے بارے میں نہیں ہے جو زندگی اور روز مرہ کے امور میں خرچ ہوتی ہیں ۔

إبن بطال البكري القرطبي، أبو الحسن علي بن خلف بن عبد الملك (متوفاي449هـ)، شرح صحيح البخاري، ج 5، ص 261، تحقيق: أبو تميم ياسر بن إبراهيم، ناشر: مكتبة الرشد - السعودية / الرياض، الطبعة: الثانية، 1423هـ - 2003م.

ایسا لگتا ہے کہ مهلّب نے دوسرے اهل سنت کے علماء کی نسبت سے ایک حد تک روشن فکری سے کام لیا ہے اور حقیقت اور واقعیت کے مطابق اس چیز کو دیکھا ہے کیونکہ انہوں نے نقدی اور غیر نقدی چیزوں میں فرق کیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ سلم کی بیٹی کے لئے ایک حد تک حق کے قائل ہوا ہے۔

چوتھا معنی: انبیاء کے مالی وراثت صدقہ ہے۔

اس احتمال کے مطابق ابوبکر کی حدیث کا معنی یہ ہے ؛

اگر انبیاء کسی مال اور ثروت کا مالک ہو تو ذمہ داری یہ ہے کہ ان سب کو صدقہ قرار دے اور کوئی بھی ارث اور میراث کا مطالبہ نہ کرئے .

جیساکہ صالحى شامى حدیث کے اس معنی کے مطابق کہتا ہے: پيامبر اكرم(ص) بلکہ سارے انبياء عليهم السلام کی خصوصیات میں سے ایک ان کے اموال ان کے وارث تک منتقل نہ ہونا ہے۔

... الثانية عشرة: وبأن ماله لا يورث عنه وكذلك الانبياء، عليهم أن يوصوا بكل مالهم صدقة.

رسول خدا صلى الله عليه وآله کی باوریں خصوصیت یہ ہے کوئی ان کے مال ، ارث کے طور پر نہیں لے سکتا  اور دوسرے انبیاء علیہم السام بھی ایسے تھے ۔ اسی لئے ان سب کی ذمہ یہ تھی کہ اپنے اموال کو وصیت کے ذریعہ صدقہ قرار دے ۔

الصالحي الشامي، محمد بن يوسف (متوفاي942هـ)، سبل الهدى والرشاد في سيرة خير العباد، ج 10، ص 430، تحقيق: عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1414هـ

لیکن یہاں یہ سوال تو باقی ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے لئے اس طرح حکم دینے کا معیار اور میزان کیا ہے ؟کیا ابوبکر کی اسی مذکورہ حدیث سے ایسا نتیجہ نکال سکتا ہے؟ کیا ایسی کوئی آیت ہے کہ انبیاء علیہم السلام کو ارث کے حکم میں دوسروں سے الگ کسی حکم کو بیان کرتی ہو اور ان کی اولاد کو ارث سے محروم کرنے اور ان کے ماترک کو صدقہ قرار دینے پر دلالت کرتی ہو؟

 اهل سنت  کے اكثر علماء نے اس حدیث کو کس طرح سمجھا ہے؟

مندرجہ بالا حدیث کے چار معنوں میں سے اہل سنت کے علماء کی اکثریت نے جس معنی کو قبول کیا ہے وہ یہ ہے کہ :کوئی بھی انبیاء علیہم السلام سے ارث  کے طور پر  کچھ نہیں لے سکتے ۔ انبیاء علیہم السلام کے تمام اموال ان کے بعد صدقہ ہیں۔

یہاں یہ بحث بھی ہے کہ کیا یہ خصوصیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ہی مخصوص ہے یا تمام انبیاء علیہم السلام بھی اس حکم میں شریک ہیں؟

 اس سلسلے میں  اہل سنت کے علماء کے دو نظریے ہیں۔

الف : صرف پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خصوصیت میں سے ہے۔

بعض نے اس حکم کو پیغمبر اسلام صلی اللہ سے ہی مختص جانا ہے ۔ ان افراد میں سے بعض درج ذیل ہیں؛

1. عمر بن خطاب

... فَقَالَ عُمَرُ... هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ « لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ». يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - نَفْسَهُ.

عمر (نے اپنے پاس موجود افراد کے ایک گروہ سے کہا ): کیا جانتے ہو  رسول اللہ صلى الله عليه و سلّم کے اس فرمان : « ہم انبیاء سے کوئی ارث نہیں لے سکتا» کا مطلب خود رسول اللہ  صلى الله عليه و سلّم  ہی ہیں .

البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، صحيح البخاري، ج 3، ص 1126، ح2927، أبواب الخمس، باب فَرْضِ الْخُمُسِ، تحقيق د. مصطفى ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 - 1987.

2. عايشه

... أَنَا سَمِعْتُ عَائِشَةَ - رضى الله عنها – زَوْجَة النَّبِىِّ - صلى الله عليه وسلم - تَقُولُ أَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِىِّ - صلى الله عليه وسلم - عُثْمَانَ إِلَى أَبِى بَكْرٍ يَسْأَلْنَهُ ثُمُنَهُنَّ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ - صلى الله عليه وسلم -، فَكُنْتُ أَنَا أَرُدُّهُنَّ، فَقُلْتُ لَهُنَّ أَلاَ تَتَّقِينَ اللَّهَ، أَلَمْ تَعْلَمْنَ أَنَّ النَّبِىَّ - صلى الله عليه وسلم - كَانَ يَقُولُ « لاَ نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ـ يُرِيدُ بِذَلِكَ نَفْسَهُ ـ .

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ عايشه سے نقل ہوا ہے: آنحضرت صلى الله عليه و آلہ و سلّم کے ازواج نے عثمان کو ابوبكر کے پاس بھیجا اور  رسول اللہ کے اموال سے ازواج کے حصے کا مطالبہ کیا ،میں نے ان کو اس کام سے منع کیا اور کہا :اللہ سے نہیں ڈرتی ہو ؟ کیا تم لوگوں کو یہ حکم معلوم نہیں ہے کہ رسول للہ صلی للہ علیہ و آلہ نے فرمایا : ہم انبیاء سے کوئی ارث نہیں لے سکتے ،جو ہم چھوڑے جاتے ہیں وہ صدقہ ہوگا اور آپ نے انبیاء سے مراد خود کو ہی قرار دیا ہے .

البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، صحيح البخاري، ج 3، ص 1126، ح2927، أبواب الخمس، باب فَرْضِ الْخُمُسِ، تحقيق د. مصطفى ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 - 1987.

3. ابن حجرعسقلاني

... لَا نُورَث مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ " فَيَكُون ذَلِكَ مِنْ خَصَائِصه الَّتِي أُكْرِمَ بِهَا، بَلْ قَوْل عُمَر"يُرِيد نَفْسَهُ" يُؤَيِّد اِخْتِصَاصَهُ بِذَلِكَ.

یہ... «... لَا نُورَث مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ " » پيامبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خصوصیات میں سے ہے،جیسا کہ عمر کا یہ قول : « «ہم انبیاء سے مراد خود آنحضرت ہی ہیں »، یہ قول اسی اختصاص کی تائید کرتا ہے.

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل (متوفاي852 هـ)، فتح الباري شرح صحيح البخاري، ج 12، ص 9، تحقيق: محب الدين الخطيب، ناشر: دار المعرفة - بيروت.

4. ابن عليه

   قال ابن علية: ان ذلك لنبينا صلى الله عليه و سلم خاصة.

ابن علية کہتا ہے : یہ (... لَا نُورَث مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ")، ہمارے پیغمبر صلى الله عليه و سلّم، کی خصوصیات میں سے ہے۔

سيوطي، تنوير الحوالك، ص715،‌ كتاب الكلام، باب ما جاء في تركة النبيّ صلي الله عليه وسلم.

ب :  یہ حکم تمام انبیاء علیہم السلام کے لئے ہے۔

مندرجہ بالا افراد کے علاوہ اہل سنت کے بہت سے علماء نے اس کو تمام انبیاء کی خصوصیت قرار دیا ہے،جیسے تميمى، حنبلى ، شنقيطى اس سلسلے میں کہتے ہیں :

إن قيل: هذا مختص به صلى الله عليه وسلم. لأن قوله « لا نورث » يعني به نفسه كما قال عمر... فالجواب من أوجه:

الأول: أن ظاهر صيغة الجمع شمول جميع الأنبياء، فلا يجوز العدول عن هذا الظاهر إلا بدليل من كتاب أو سنة و قول عمر لا يصح تخصيص نص من السنة به لأن النصوص لا يصح تخصيصها بأقوال الصحابة على التحقيق كما هو مقرر في الأصول.

اگر یہ کہا جائے کہ یہ حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مختص احکام میں سے ہے اور باقی انبیاء اس حکم میں شامل نہیں ،جیساکہ عمر بن خطاب کا نظریہ بھی یہی تھا ۔ہم اس نظریے کا جواب چند جہت سے دے سکتے ہیں۔

الف : جیساکہ (الانبياء) جمع کا صیغہ ہے۔ اس سے یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ یہاں پر مراد تمام انبیاء ہیں۔ جب تک قرآن اور حدیث سے کوئی دلیل نہ ہو ہم لفظ کے ظاہری اور رائج معنی سے ہاتھ نہیں اٹھاسکتے اور عمر کا قول سنت میں موجود کسی نص کو تخصیص دینے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

 جیساکہ بات علم اصول میں ثابت شدہ تحقیقی اور صحیح نظریہ یہ ہے کہ اصحاب میں سے کسی کا قول سنت میں موجود کسی نص کو تخصیص نہیں دے سکتا۔  

التميمي الحنبلي، حمد بن ناصر بن عثمان آل معمر (متوفاي1225هـ)، الفواكه العذاب في الرد على من لم يحكم السنة والكتاب، ج 3، ص 426؛ الجكني الشنقيطي، محمد

البتہ اہل سنت کے بعض علماء کا یہ نظریہ ہے کہ یہاں سارے انبیاء مراد نہیں ہے بلکہ ان میں سے  اکثر مراد ہیں ، جیساکہ ابن عطية اندلسى اور انصارى قرطبى نے اپنی تفسیروں میں لکھا ہے:

ويحتمل قول النبي صلى الله عليه وسلم إنا معشر الأنبياء لا نورث أن لا يريد به العموم بل على أنه غالب أمرهم فتأمله.

پيامبر‌ صلى الله عليه و سلّم کے اس قول کے بارے میں احتمال یہ ہے کہ یہاں اکثر اور اغلب انبیاء مراد ہے، سارے انبیاء مراد نہ ہوں {البتہ یہ قول قابل غور ہے}

الأندلسي، أبو محمد عبد الحق بن غالب بن عطية، المحرر الوجيز في تفسير الكتاب العزيز، ج 4، ص 5، تحقيق: عبد السلام عبد الشافي محمد، ناشر: دار الكتب العلمية - لبنان، الطبعة: الاولى، 1413هـ- 1993م؛ الأنصاري القرطبي، أبو عبد الله محمد بن أحمد (متوفاي671، الجامع لأحكام القرآن، ج 11، ص 78، ناشر: دار الشعب – القاهرة

ایک اور جگہ لکھتا ہے :

ويحتمل قوله عليه السلام إنا معشر الأنبياء لا نورث أن يريد به أن ذلك من فعل الأنبياء وسيرتهم وإن كان فيهم من ورث ماله كزكرياء على اشهر الأقوال فيه.

یہ بھی احتمال ہے اس سے مراد یہاں یہ ہو کہ ارث چھوڑ کر جانا انبیاء کا کام  اور ان کی سیرت نہیں ۔ اگرچہ ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں کہ جن سے ان کے ورثاء نے ارث لیا ہے جیساکہ جناب زکریا کے بارے میں مشہور ترین نظریہ یہی ہے کہ ان کے مال ان کے ورثاء کو ملا ہے۔  

الأندلسي، أبو محمد عبد الحق بن غالب بن عطية، المحرر الوجيز في تفسير الكتاب العزيز، ج 4، ص 253، تحقيق: عبد السلام عبد الشافي محمد، ناشر: دار الكتب العلمية - لبنان، الطبعة: الاولى، 1413هـ- 1993م؛ الأنصاري القرطبي، أبو عبد الله محمد بن أحمد (متوفاي671، الجامع لأحكام القرآن، ج 13، ص 164، ناشر: دار الشعب – القاهرة.

نتيجه

اب تک کہ گفتگو سے یہ واضح ہوا ہے ؛ چاہئے حدیث کی پہلی ترکیب کےمعنی کو لے یا دوسری ترکیب کے چوتھے معنی کے علاوہ باقی معانی کو لے اس حدیث سے اہل سنت کا نظریہ ثابت نہیں ہوگا اور ان کا اصلی مقصد یعنی ابوبکر کے عمل کو اثبات کرنے کے ذریعے اهل بيت عليهم السلام کو رسول خدا (ص) کے اموال سے محروم کرنے کا ہدف حاصل نہیں کرسکیں گے۔

چوتھا معنی (یعنی پیغمبر کے تمام اموال صدقہ ہونا ) کا رد ۔  

 اس مرحلے میں ہم دوسری ترکیب کے چوتھے معنی سے بحث کریں گے ۔ ہم اہل سنت کی ہی کتابوں اور منابع سے یہ ثابت کریں گے کہ اس چوتھے معنی کے مطابق بھی اہل سنت کا مقصد اور نظریہ ثابت نہیں ہوگا ہم اس سلسلے میں اپنے مطالب کو پانچ فصلوں میں بیان کریں گے۔ انشاء اللہ ۔

پہلی فصل: ابوبکر کی نقل کردہ حدیث قرآن کے مخالف ہے

یہ حدیث اسی معنی کے لحاظ سے جس پر اہل سنت کا اصرار ہے ،یہ کئی جہت سے قرآن کے مخالف ہے ؛

1. قانون ارث کے مخالف

انسانی زندگی پر حاکم قوانین میں سے ایک ارث کا قانون ہے اور اس حکم کی قدمت اور تاریخ، انسانی زندگی کی قدمت اور تاریخ سے جڑی ہوئی ہے۔ لہذ یہ قانون تمام اقوام و قبائل اور تمام ادیان اور ملتوں کے درمیان ایک طبعی ، رائج اور قابل قبول قوانین میں سے ہے۔

اسلامی شریعت کے اجتماعی اور عائلی قوانین کہ جو قرآن مجید سے ہی اخذ شدہ ہے، اس میں نہ صرف اس قانون کی مخالفت نہیں ہوئی ہے بلکہ بہت سے دستورات اور احکام کے ذریعے قرآن نے اس قانون سے دفاع اور اس پر عمل کرنے کی تاکید کی ہے جیساکہ مندرجہ ذیل آیات اسی سلسلے میں نازل ہوئی ہیں۔

 

الف: «يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ».

خدا تمہاری اولاد کے بارے میں تم کو ارشاد فرماتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے حصے کے برابر ہے النساء/ 11.

ب: «وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ و َلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ».

اور جو مال تمہاری عورتیں چھوڑ مریں۔ اگر ان کے اولاد نہ ہو تو اس میں نصف حصہ تمہارا۔ اور اگر اولاد ہو تو ترکے میں تمہارا حصہ چوتھائی۔ (لیکن یہ تقسیم) وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو انہوں نے کی ہو یا قرض کے (ادا ہونے کے بعد جو ان کے ذمے ہو، کی جائے گی) اور جو مال تم (مرد) چھوڑ مرو۔ اگر تمہاری اولاد نہ ہو تو تمہاری عورتوں کا اس میں چوتھا حصہ۔ اور اگر اولاد ہو تو ان کا آٹھواں حصہ ہے۔ النساء/ 12.

3. و َلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ.

اور جو مال ماں باپ اور رشتہ دار چھوڑ کر جائے تو (حق داروں میں تقسیم کردو کہ) ہم نے ہر ایک کے حقدار مقرر کردیا ہے   النساء/33.

یہاں «موالي» کا معنی ابن عباس کے نقل کے مطابق یہ ہے :

حَدَّثَنِى الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ إِدْرِيسَ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - ( وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِىَ ) قَالَ وَرَثَةً .

... لفظ («موالي»)  کہ جو اس آیت«وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِىَ » میں ہے، ابن عباس- نے اس کا معنی ورثۃ کیا ہے ۔

البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، صحيح البخاري، ج 4، ص 1671، ح4304، كتاب تفسير القرآن باب و لكل جعلنا موالي مما ترك الوالدان

ابن كثير نے بھی اپنی تفسیر میں اس لفظ کا ایک مختصر معنی یوں کیا ہے :

قال ابن عباس ومجاهد وسعيد بن جُبَير وابوصالح و قتادة وزيد بن أسلم، والسدي الضحاك ومقاتل بن حيان وغيرهم في قوله: « وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ » أي: ورثة... فتأويل الكلام: ولكلّكم أيها الناس جعلنا عصبة يرثونه مما ترك والداه وأقربوه من ميراثهم له.

ابن عباس ، مجاهد ، سعيد بن جُبَير ، ابوصالح ، قتادة ، زيد بن أسلم، ، السدي الضحاك ، مقاتل بن حيان اور دوسروں نے ... «وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِىَ » میں لفظ «موالي» کا معنی ورثہ کہا ہے، یعنی ہم نے ہر ایک کے لئے وارث قرار دیا ہے۔ اس بات کی تاویل اور حقیقی معنی یہ ہے کہ اے لوگو !تم میں سے ہر ایک کے لئے ہم نے آولاد دی ہیں۔یہ اولاد ماں، باپ اور ان کے قریبی رشتہ دار سے کوئی ، کوئی چیز چھوڑے جائیں تو وہ اس کو ارث کے طور پر لیں گے ۔  

القرشي الدمشقي، إسماعيل بن عمر بن كثير أبو الفداء (متوفاي774هـ)، تفسير القرآن العظيم، ج 1، ص 490، ناشر: دار الفكر - بيروت – 1401هـ.

زمخشرى نے بھی لفظ «موالي» کا معنی وارثین ہی لیا ہے :

« مّمَّا تَرَكَ » تبيين لكلٍ أي: ولكل شيء مما ترك « الوالدان والاقربون » من المال جعلنا موالي ورّاثاً يلونه ويحرزونه.

« مّمَّا تَرَكَ » کی عبارت  « سب کے لئے » کی وضاحت ہے « ماں ،باپ اور رشتہ دار » اپنے مال میں سے جو چھوڑ کر جائے، ان سب کے لئے ہم نے وارث قرار دئے ہیں ، یہ  وارث ان کے بعد آئیں گے اور ان کے اموال کی حفاظت کریں گے .

الزمخشري الخوارزمي، أبو القاسم محمود بن عمر جار الله، الكشاف عن حقائق التنزيل وعيون الأقاويل في وجوه التأويل، ج 1، ص 536، تحقيق: عبد الرزاق المهدي، بيروت، ناشر: دار إحياء التراث العربي.

 

جیساکہ بیان ہوا ،ارث ایک ایسا دینی قانون ہے جو سب کے لئے ہے، پورے قرآن میں اس مسئلے میں نبی اور غیر نبی میں فرق نہیں ہے، کسی کو کسی قسم  کسی قسم کی استثنائی حیثیت حاصل نہیں ۔انبیاء اور رسول ، منصب نبوت اور رسالت رکھنے میں دوسرے انسانوں سے جدا ہیں  لیکن ان کے بشری پہلو کی جہت سے یہ بھی دوسرے انسانوں کی طرح ہیں۔ لہذا ارث جیسے مسائل میں ان میں اور دوسرے انسانوں میں فرق نہیں ہے۔  جیساکہ اللہ تعالی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بارے میں فرماتے ہیں: 

قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَيَّ... .

اے پیغمبر! کہے کہ میں تم جیسا بشر ہوں لیکن یہ کہ میرے اوپر وحی ہوتی ہے ۔   الكهف / 110.                                

لہذا قانون ارث عام ہے یہ پیغمبروں کو بھی شامل ہے اس میں کسی کو کوئی استثنائی حیثیت حاصل نہیں ہے ۔

اب یہ سوال ہوسکتا ہے کہ کیا  حديث « نحن معاشر الانبياء لانورث ما تركناه صدقة » ان آیات کو نسخ کرسکتی ہے ؟

سوال کی وضاحت :

شیعہ اور اہل سنت کے درمیان موجود اختلاف میں سے ایک یہ ہے کہ کیا خبر واحد کے ذریعے قرآن نسخ ہوسکتا ہے ؟ اسی لئے یہاں سوال ہوسکتا ہے کہ کیا خبر واحد کسی قرآنی حکم کو نسخ کرسکتی ہے ؟  

مذکورہ سوال کا جواب دیکھنے کے لئے ہم تحریر کے اس مرحلے میں نسخ کے موضوع سے بحث کرنے اور اہل سنت کی کتابوں میں اس سلسلے میں تحقیق کرنے کی ضرورت ہے ۔

اہل سنت کی کتابوں میں نسخ کے حکم کے بارے میں مختصر وضاحت

نسخ کی تعريف

ابن جوزى نے كتاب نواسخ القرآن میں نسخ کی یہ تعریف کی ہے:

النسخ في اللغة، على معنيين: الأول: الرفع والإزالة. والثاني: تصوير مثل المكتوب في محل آخر. وإذا أطلق النسخ في الشريعة أريد به المعنى الأول لأنه رفع الحكم الذي ثبت تكليفه للعباد إما بإسقاطه إلى غير بدل أو إلى بدل.

لغت میں نسخ کے دو معنی ہیں : 1. اٹھا لینا اور ختم  کرنا ؛ 2. ایک تحریر کی شکل اور صورت کو دوسری جگہ منتقل کرنا ۔

شرع میں لفظ نسخ سے مراد یہ ہے کہ شریعت میں موجود ایک ثابت حکم کو اٹھا کر کوئی اور حکم اس کے بدلے میں لانا یا ایک حکم کو ہٹانا لیکن کوئی اور حکم اس کے بدلے میں بیان نہ ہو ۔

ابن الجوزي، أبو الفرج عبد الرحمن بن علي بن محمد (متوفاي 597 هـ)، نواسخ القرآن، ج 1، ص 20، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1405هـ.

نسخ کی اقسام :

 آيات قرآنی کا نسخ ہونا اہل سنت کی نظر میں ایک قطعی اور قابل قبول موضوع ہے لہذا اہل سنت کے علماء نے نسخ کی دو قسمیں بیان کیا ہے ؛ جائز نسخ اور محال نسخ ؛  

نسخ محال یہ ہے کہ  جہاں آیت کا منعی صرف خبر دینا ہی ہو ،جیساکہ قرآن جناب یحیی اور سلیمان علیہا السلام کے اراث کی خبر دیتا ہے۔ اس قسم کی خبر کا نسخ محال ہے کیونکہ اس کا نتیجہ گزشتہ کی خبر کا جھوٹ ہونے کی صورت میں نکلتا ہے جبکہ قرآن میں جھوٹ کا دخل ہی نہیں ۔

الثاني: الخبر الخالص فلا يجوز عليه لأنه يؤدي إلى الكذب وذلك محال.

 آيات کی وہ قسم جن کا معنی گزشتہ کی خبر دینا ہو ان آیات کا نسخ جائز نہیں ہے کیونکہ اس سے پہلے دی ہوئی خبر کا جھوٹ ہونا لازم آتا ہے اور یہ محال ہے.

ابن الجوزي، أبو الفرج عبد الرحمن بن علي بن محمد (متوفاي 597 هـ)، نواسخ القرآن، ج 1، ص 21، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1405هـ.

ابو جعفر نحاس نے اس قسم کے نسخ جائز ہونے پر اعتقاد رکھنے کو کفر سمجھتا ہے:

وهذا القول عظيم جدا يؤول إلى الكفر لأن قائلا لو قال قام فلان ثم قال لم يقم فقال نسختُه، لكان كاذبا.

 اس قسم کے نسخ پر عقیدہ رکھنا بڑی بات ہے اس کا نتیجہ کفر ہے ۔کیونکہ اگر کوئی یہ کہے کہ فلان شخص کھڑا ہے اور پھر کہے کھڑا نہیں ہے اور یہ کہے کہ میری اس بات سے پہلے والی بات نسخ ہوگی تو ایسے آدمی کو جھوٹا کہا جاتا ہے.

ابن الجوزي، أبو الفرج عبد الرحمن بن علي بن محمد (متوفاي 597 هـ)، نواسخ القرآن، ج 1، ص 21، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1405هـ.

نحاس کی اس بات سے زیادہ اہم بات ابن عقیل کی بات ہے :

وقال ابن عقيل الأخبار لا يدخلها النسخ لأن نسخ الأخباركذبٌ وحوشى القرآن من ذلك.

ابن عقيل کہتا ہے : جن آیات میں خبری معنی ہو وہ قابل نسخ ہی نہیں ہے ؛ کیونکہ اس کے نتیجے میں نسخ کرنے والی آیات، نسخ ہونے والی آیات کو جھٹلاتی ہے جبکہ قرآن ان چیزوں سے پاک و منزہ ہے۔

ابن الجوزي، أبو الفرج عبد الرحمن بن علي بن محمد (متوفاي 597 هـ)، نواسخ القرآن، ج 1، ص 21، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1405هـ.

جائز نسخ :

جائز نسخ ایسی آیات کے بارے میں ہے کہ جو کسی شرعی حکم کو بیان کرتی ہو اور اس کی دو صورتیں ہیں؛

1. قرآنی آیات کے ذریعے قرآنی آیات کا نسخ ؛

2. حدیث کے ذریعے قرآنی آیات کا نسخ ؛

نسخ کی پہلی صورت یہاں مورد بحث نہیں ہے۔ ہم نسخ کی دوسری صورت کے بارے میں یہاں تحقیق کریں گے ۔

سنت کے ذریعے سے قرآنی آیات کے نسخ کی دو صورتیں ہیں ؛

الف :  سنت متواتر طریقے سے پہنچی ہو ۔

ب : سنت خبر واحد ہو ۔ ہم پہلے خبر متواتر کے ذریعے سے نسخ کی تحقیق کریں گے اور پھر خبر واحد کے ذریعے نسخ کی تحقیق کریں گے۔

خبر متواتر کے ذریعے قرآنی آیت کا  نسخ۔

معروف کتاب" نواسخ القرآن" کے مصنف ابن جوزی نے سنت کے ذریعے قرآن کے نسخ ہونے کے بارے میں دو نظرِیے بیان کرتا ہے ؛

فأما نسخ القرآن بالسنة: فالسنة تنقسم قسمين: القسم الأول: ما ثبت بنقل متواتر كنقل القرآن فهل يجوز أن ينسخ القرآن بمثل هذا؟

حكى فيه شيخنا علي بن عبيد الله روايتين عن أحمد قال والمشهور أنه لا يجوز وهو مذهب الثوري والشافعي والرواية الثانية يجوز وهو قول أبي حنيفه ومالك.

... و روى الدارقطني من حديث جابر ابن عبد الله قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « كلامي لا ينسخ القرآن، ينسخ بعضه بعضا ».

  سنت {قول ، فعل اور  تصدیق } کے ذریعے سے نسخ کی دو قسمیں ہیں؛

1.     سنت متواتر ہو تو یہ قرآن کے متواترنقل کی طرح ہے۔

 لیکن سوال یہ ہے ہوتا ہے : کیا سنت متواتر کے ذریعے سے قرآن کا نسخ ممکن ہے یا نہیں  ؟

مشهور کا قول : یہ جائز نہیں ہے اور یہ ثورى اور شافعى کا نظریہ بھی ہے.

دوسرا قول : یہ جائز ہے جیساکہ ابوحنيفه اور مالك وغیرہ کا یہی نظریہ ہے .

ابن جوزی، جناب جابر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یہ  حدیث نقل کرتا ہے: میری بات قرآن کے لئے ناسخ نہیں بن سکتی بلکہ قرآن کی بعض آیات ،بعض آیات کے ناسخ ہے.

اور آخر میں  مشہور کے نظرے کو قبول کرتا ہے ۔

... والقول الأول هو الصحيح لأن هذه الأشياء تجري مجرى البيان للقرآن لا النسخ.

پہلا نظریہ کہ جو مشہور کا نظریہ ہے یہی صحیح ہے کیونکہ سنت قرآن کا بیان اور قرآن کی تفسیر ہے، سنت قرآن کو نسخ نہیں کرتی۔

پھر لکھتا ہے :

 وقد روى أبو داود السجستاني قال: سمعت أحمد بن حنبل رضي الله عنه يقول: السنة تفسر القرآن ولا ينسخ القرآن إلا القرآن.

ابو داوود سجستانى نے احمد حنبل سے نقل کیا ہے: سنت قرآن کی تفسیر کرتی ہے ،سنت قرآن کو نسخ نہیں کرتی۔

اسی طرح امام شافعی کہتا ہے :

وكذلك قال الشافعي: إنما ينسخ الكتاب الكتاب والسنة ليست ناسخة له.

  قرآن کو قرآن ہی نسخ کرسکتا ہے ،سنت قرآن کو نسخ نہیں کرسکتی ۔

ابن الجوزي، أبو الفرج عبد الرحمن بن علي بن محمد (متوفاي 597 هـ)، نواسخ القرآن، ج 1، ص 25 و 26، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1405هـ.

 اختلاف الحديث والی کتب میں امام شافعی لکھتا ہے :

قال: ولا ينسخ كتاب الله إلا كتابه لقول الله (ما ننسخ من آية أو ننسها نأت بخير منها أو مثلها) وقوله (وإذا بدلنا آية مكان آية والله أعلم بما ينزل قالوا إنما أنت مفتر) فأبان أن نسخ القرآن لا يكون إلا بقرآن مثله.

اللہ کی کتاب کو اللہ کی کتاب ہی نسخ کرسکتی ہےجیساکہ خود خدا نے ارشاد فرمایا ہے « اور اے رسول ہم جب بھی کسی آیت کو منسوخ کرتے ہیں یا دلوں سے محو کردیتے ہیں تو اس سے بہتر یا اس کی جیسی آیت ضرور لے آتے ہیں » اسی طرح ارشاد ہوا ہے : « اور ہم جب ایک آیت کی جگہ پر دوسری آیت تبدیل کرتے ہیں تو اگرچہ خدا خوب جانتا ہے کہ وہ کیا نازل کررہا ہے لیکن یہ لوگ یہی کہتے ہیں کہ محمد تم افترا کرنے والے ہو » ان دو آیات سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ قرآن کو قرآن ہی نسخ کرسکتا ہے ۔

الشافعي، محمد بن إدريس أبو عبدالله (متوفاي204هـ)، اختلاف الحديث، ج 1، ص 484، تحقيق: عامر أحمد حيدر، ناشر: مؤسسة الكتب الثقافية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1405 ـ 1985م

عينى نے بھی وضو کی نیت کی بحث میں قرآن کو حدیث کے ذریعے سے نسخ نہ کرنے کے قول کو شافعی اور دوسروں سے نقل کیا ہے:

... أن المنقول الصحيح عن الشافعي عدم جواز نسخ الكتاب بالسنة قولا واحدا.

... شافعی سے جو صحیح بات نقل ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ قرآن کو سنت کے ذریعے نسخ نہیں کرسکتا ۔

العيني، بدر الدين أبو محمد محمود بن أحمد الغيتابى الحنفى (متوفاي 855هـ)، عمدة القاري شرح صحيح البخاري، ج1، ص 31، ناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.

اسی طرح  عيني نے فخر رازى کے قول کو نقل کیا ہے اور لکھا ہے :

قال الإمام فخر الدين الرازي: قطع الشافعي وأكثر اصحابنا وأهل الظاهر وأحمد في إحدى روايتيه بامتناع نسخ الكتاب بالسنة المتواترة.

شافعى ،ہمارے بہت سے اصحاب اور اهل ظاهر نے یقینی طور پر کہا ہے :

 قرآن کو سنت متواتر کے ذریعے نسخ نہیں کرسکتا ۔ جیساکہ احمد بن جنبل سے منسوب دو قول میں سے ایک یہی ہے ۔

العيني، بدر الدين أبو محمد محمود بن أحمد الغيتابى الحنفى (متوفاي 855هـ)، عمدة القاري شرح صحيح البخاري، ج1، ص247، ناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.

ابن تیمیہ نے بھی قرآن کو غیر قرآن کے ذریعے نسخ نہ کرنے پر چار دلیلیں پیش کیے ہیں ۔

و مما يدل على المسألة:

1. أن الصحابة و التابعين الذين أخذ عنهم علم الناسخ و المنسوخ إنما يذكرون نسخ القرآن بقرآن لا يذكرون نسخه بلا قرآن بل بسنة و هذه كتب الناسخ و المنسوخ المأخوذة عنهم إنما تتضمن هذا و كذلك قول علي رضي الله عنه للقاص،« هل تعرف الناسخ من المنسوخ في القرآن » فلو كان ناسخ القرآن غير القرآن لوجب أن يذكر ذلك أيضا.

2. وأيضا الذين جوزوا نسخ القرآن بلا قرآن من أهل الكلام و الرأي إنما عمدتهم أنه ليس فى العقل ما يحيل ذلك.

 و عدم المانع الذي يعلم بالعقل لا يقتضي الجواز الشرعي فإن الشرع قد يعلم بخبره ما لا علم للعقل به و قد يعلم من حكمة الشارع التى علمت بالشرع ما لا يعلم بمجرد العقل و لهذا كان الذين جوزوا ذلك عقلا مختلفين فى و قوعه شرعا و إذا كان كذلك فهذا الخبر الذي فى الآية [ما ننسخ من آية...] دليلٌ على إمتناعها شرعا.

3. وأيضا فإن الناسخ مهيمن على المنسوخ قاض عليه مقدم عليه فينبغي أن يكون مثله أو خيرا منه كما أخبر بذلك القرآن و لهذا لما كان القرآن مهيمنا على ما بين يديه من الكتاب بتصديق ما فيه من حق و إقرار ما أقره و نسخ ما نسخه كان أفضل منه فلو كانت السنة ناسخة للكتاب لزم أن تكون مثله أو أفضل منه.

4. و أيضا فلا يعرف فى شيء من آيات القرآن أنه نسخه إلا قرآن قال تعالى (تلك حدود الله و من يطع الله و رسوله يدخله جنات تجري من تحتها الأنهار خالدين فيها و ذلك الفوز العظيم و من يعص الله و رسوله و يتعد حدوده يدخله نارا خالدا فيها و له عذاب مهين ) و الفرائض المقدرة، من حدوده و لهذا ذكر ذلك عقب ذكر الفرائض فمن أعطى صاحب الفرائض أكثر من فرضه فقد تعدى حدود الله بأن نقص هذا حقه و زاد هذا على حقه فدل القرآن على تحريم ذلك و هو الناسخ.

اور نتیجہ کے طور پر وہ لکھتا ہے

 و بالجملة، فلم يثبت ان شيئا من القرآن نسخ بسنة بلا قرآن .

یہ بات ثابت نہیں ہوئی ہے کہ قرآن کی کوئی آیت سنت کے ذریعے سے نسخ ہوئی ہو اور قرآن کے ذریعے نہ ہوئی ہو ۔

ابن تيميه الحراني، أحمد عبد الحليم أبو العباس (متوفاي 728 هـ)، كتب ورسائل وفتاوى شيخ الإسلام ابن تيمية، ج17 ص197، تحقيق: عبد الرحمن بن محمد بن قاسم العاصمي النجدي، ناشر: مكتبة ابن تيمية، الطبعة: الثانية.

 

قرآن کا خبر واحد کے ذریعے سے نسخ ہونا ۔

جیساکہ گزشتہ بیان سے ظاہر ہوا کہ قرآن خبر متواتر کے ذریعے سے بھی نسخ نہیں ہوسکتا۔ لہذا خبر واحد کے ذریعے سے نسخ ہونے والی بات تو خود بخود باطل ہوجاتی ہے۔ لیکن پھر بھی ہم اس سلسلے میں کچھ تحقیقی مطالب یہاں پیش کریں گے۔

خبر واحد وہ خبر اور حدیث ہے کہ اس کو نقل کرنے والے راوی اتنی تعداد میں نہ ہو کہ جس کی وجہ سے انسان کو خود بخود علم اور یقین حاصل ہوجائے۔ بلکہ یہ اتنی تعداد میں ہو کہ جس سے صرف گمان اور ظن حاصل ہو {شک سے اوپر لیکن یقین سے نیچے}البتہ اگر کوئی ایسا قرینہ بھی ساتھ ہو جس سے انسان کو اس حدیث کے بارے کے بارے یقین ہوجائے تو یہ حدیث یقین قرآئن کی وجہ سے ہے خود خبر کی وجہ سے نہیں ہے ؛

جیساکہ بیان ہوا کہ اہل سنت کے علماء نے اس قسم کے نسخ کو بھی جائز نہیں سمجھا ہے

عيني نے صحيح بخاري، کی شرح میں لکھا ہے :

... جماهير الاصوليين علي عدم جواز نسخ الكتاب بالخبر الواحد.

علم اصول کے جمہور علماء نے کہا ہے : قرآن خبر واحد کے ذریعے نسخ نہیں ہوسکتا ۔

العيني، بدر الدين أبو محمد محمود بن أحمد الغيتابى الحنفى (متوفاي 855هـ)، عمدة القاري شرح صحيح البخاري، ج1، ص 31، ناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.

[1] . الآلوسي البغدادي، العلامة أبي الفضل شهاب الدين السيد محمود (متوفاي1270هـ)،

صاحب تفسير، آلوسى نے کہا ہے :

... لا تصح دعوى النسخ بما ذكر لأنه خبر الواحد وعندنا لا يجوز نسخ الكتاب به.

خبر واحد کے ذریعے قرآن کے نسخ کی بات قابل قبول نہیں ہے۔ ہم اس کو جائز نہیں سمجھتے ۔

الآلوسي البغدادي، العلامة أبي الفضل شهاب الدين السيد محمود (متوفاي1270هـ)، روح المعاني في تفسير القرآن العظيم والسبع المثاني، ج18، ص81، ناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.

ابوبكر كاشاني، اس سلسلے میں لکھتا :

وَنَسْخُ الْكِتَابِ بِالْخَبَرِ الْمُتَوَاتِرِ لَا يَجُوزُ عِنْدَ الشَّافِعِيِّ فَكَيْفَ يَجُوزُ بِخَبَرِ الْوَاحِدِ.

امام شافعى نے خبر متواتر کے ذریعے سے قرآن کے نسخ کا انکار کیا ہے۔لہذا خبر واحد کے ذریعے نسخ تو دور کی بات ہے ۔

الكاشاني، علاء الدين (متوفاي587هـ)، بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، ج 1، ص 160، : ناشر: دار الكتاب العربي - بيروت، الطبعة: الثانية، 1982م.

مشہور کے مقابلے میں بعض نے خاص شرائط کے ساتھ اس نسخ کو جائز قرار دیا ہے۔ لیکن اس نظریے کے مطابق بھی ابوبکر کی حدیث سے قرآن کا نسخ ثابت نہیں ہوسکتا ،کیونکہ اس حدیث میں نسخ کے لئے مطلوبہ شرائط موجود نہیں ہے ۔ہم یہاں اختصار کی خاطر ان میں سے ایک شرط کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔   

ان شرائط میں سے ایک : منسوخ پہلے اور ناسخ بعد میں صادر ہونے پر قطعی علم ہو  ؛   

جیساکہ اہل سنت کے ہی فقيه، ابن عربی نے قرآن کی دو آیت میں مذکورہ شرائط نہ ہونے کی وجہ سے ان کا ناسخ و منسوخ نہ ہونے پر استدلال کیا ہے :

فإن شروط النسخ أربعة منها معرفة التاريخ بتحصيل المتقدم والمتأخر وهذا مجهول من هاتين الآيتين فامتنع أن يدعى أن واحدة منهما ناسخة للأخرى وبقي الأمر على حاله.

... کیونکہ نسخ کی چار شرائط ہیں ان میں سے ایک پہلے والے اور بعد والے کے صادر ہونے کی تاریخ کا جاننا ہے اور یہ ان دو آیتوں میں معلوم نہیں ہے۔  لہذا ان میں سے ایک کے ناسخ، ایک کے منسوخ ہونے کا ادعا صحیح نہیں ہے۔ لہذا یہ آیتیں اپنی پہلے والی حالت پر باقی رہے گی۔

ابن العربي، أحكام القرآن ، أبو بكر محمد بن عبد الله ابن العربي الوفاة : 543هـ ، ج 2 ص 137 ، دار النشر : دار الفكر للطباعة والنشر - لبنان ، تحقيق : محمد عبد القادر عطا

نتیجہ : ابوبکر کی حدیث کے بارے میں یہ معلوم نہیں کہ یہ ارث کے بارے میں موجود آیات سے پہلے صادر ہوئی ہے یا بعد میں ۔ لہذا نسخ کی اس شرط کے نہ ہونے کی وجہ سے اس حدیث کو ناسخ قرار نہیں دے سکتا ۔

کیا  خبر واحد مشهور قرآن کا ناسخ ہوسکتی ہے۔

ممکن ہے کی کوئی یہ کہے : ابوبکر کی حدیث اخبر واحد مشہور ہے اور یہ خبر متواتر کی طرح ہے ۔ لہذا ممکن ہے ارث والی آیات کو یہ نسخ کرئے ؟

ہم اس کے جواب میں کہتے ہیں۔

 اولاً: جیساکہ پہلے بیان ہوا کہ خبر متواتر کے ذریعے سے بھی قرآن کا نسخ نہیں ہوسکتا لہذا خبر واحد مشہور کا مرتبہ خبر متواتر کی حد تک بھی ہو پھر بھی یہ حدیث ان آیات کو نسخ نہیں کرسکتی ۔

ثانياً:اہل سنت کے مشہور مفسر فخر رازى، نے اسی مطلب کا جواب بھی دیا ہے اور  ہم اسی پر اکتفاء کرتے ہیں؛

«كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ » اختلفوا في أنها بأي دليل صارت منسوخة؟ و ذكروا وجوهاً...

ثانيها: أنها صارت منسوخة بقوله عليه السلام: « ألا لا وصية لوارث »وهذا أقرب إلا أن الإشكال فيه أن هذا، خبرواحد فلا يجوز نسخ القرآن به.  وأجيب عن هذا السؤال بأن هذا الخبر وإن كان خبر واحد إلا أن الأئمة تلقته بالقبول فالتحق بالمتواتر.

ولقائل أن يقوليدعى أن الأئمة تلقته بالقبول على وجه الظن أو على وجه القطع . والأول: مسلم إلا أن ذلك يكون إجماعاً منهم على أنه خبر واحد، فلا يجوز نسخ القرآن به

والثاني: ممنوع لأنهم لو قطعوا بصحته مع أنه من باب الآحاد لكانوا قد أجمعوا على الخطأ وأنه غير جائز.

مفسران اور علماء نے اس آیت کے  منسوخ ہونے کی دلیل کے بارے میں اختلاف کیا ہے اور اس کے لئے کچھ دلائل اور وجوہات بیان کیے ہیں، ان میں سے دوسری دلیل یہ ہے کہ یہ آیت اس حدیث« ألا لا وصية لوارث » وارث کے لئے وصیت نہیں ہے ، کے ذریعے نسخ ہوئی ہے ۔ اگرچہ یہ دلیل اور وجہ ٹھیک ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ خبر واحد کے ذریعے قرآن کو نسخ کرنا جائز نہیں ہے ۔

اس کا بعض نے  جواب دیا ہے : کیونکہ بزرگوں نے اس کو قبول کیا ہے لہذا یہ متواتر خبر  کی طرح ہے۔

 ممکن ہے کوئی یہ کہے : اس حدیث کو قبول بھی کرئے تو کیا یہ اسی ظن اور گمان کی حد پر ہے یا قطع  اور یقین کے درجے پر ہے؟ اگر پہلی صورت ہو تو اس بات پر اجماع ہے کہ خبر واحد ناسخ نہیں بن سکتی ۔ اور دوسری صورت کو قبول کرنا بھی صحیح نہیں ہے، کیونکہ علماء کسی ایسی حدیث{کہ جو خبر واحد ہو} کی صحت پر یقین کرئے تو یقینا یہ ایک غلط مطلب پر اجماع ہے اور یہ جائز نہیں ہے۔کیونکہ یہ خبر واحد ہی ہے ،خبر واحد ہی ہو اور یقینی بھی، ایسا نہیں ہوسکتا ۔  

الرازي الشافعي، فخر الدين محمد بن عمر التميمي (متوفاي604هـ)، التفسير الكبير أو مفاتيح الغيب، ج5، ص54، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2000م.

نسخ کے بارے میں بحث کا نتیجہ

اہل سنت کے علماء کی نظر کے مطابق اگر ابوبکر کی حدیث کے معنی کو قبول بھی کیا جائے {ہم انبیاء ارث چھوڑ کر نہیں جاتے جو چھوڑے جاتے ہیں وہ صدقہ ہے}

پھر بھی یہ حدیث آیات کے لئے ناسخ نہیں بن سکتی کیونکہ ایک تو یہ خبر واحد ہے یا زیادہ سے زیادہ خبر مشہور ہے اور ہم نے گزشتہ مطالب میں یہ ثابت کیا ہے کہ ان دونوں صورتوں میں یہ قرآن کے لئے ناسخ نہیں بن سکتی ۔

 

کیا ابوبكر کی حديث ارث والی آیات کے لئے مخصِّص بن سکتی ہے؟  

                                                            

ممکن ہے کوئی یہ کہے : ابوبکر کی حدیث ارث والی آیات کو نسخ تو نہیں کرتی ہے۔ لیکن یہ ان کے لئے مخصِّص بن سکتی ہے۔ لہذا ابوبکر کی طرف سے اس حدیث کے ذریعے حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کو فدک سے منع کرنے کا کام ٹھیک تھا ۔

ہم بحث کے اس حصے میں اسی مطلب کی تحقیق کریں گے۔اس مطلب کو بیان کرنے کے لئے یہاں اہل سنت کے نذدیک تخصیص کے مسئلے سے بحث ضروری ہے۔

الف: تخصيص کی تعريف

زركشى شافعى نے «تخصيص» کی یوں تعریف کی ہے:

تَعْرِيفُ التَّخْصِيصِ وَأَمَّا التَّخْصِيصُ وهو الْمَقْصُودُ بِالذِّكْرِ فَهُوَ لُغَةً الْإِفْرَادُ وَمِنْهُ الْخَاصَّةُ وَاصْطِلَاحًا قال ابن السَّمْعَانِيِّ تَمْيِيزُ بَعْضِ الْجُمْلَةِ بِالْحُكْمِ وَتَخْصِيصُ الْعَامِّ بَيَانُ ما لم يُرِدْ بِلَفْظِ الْعَامِّ.

تخصيص؛ یعنی جملے سے جس چیز کا ارادہ کیا ہے، اس کو بیان کرنا ، لغت میں اس سے مراد ،تنہا ہونا اور خاص ہونا ہے ۔ سمعانی نے کہا ہے : تخصیص اصطلاح میں: جملے کے بعض افراد کو حکم کے اعتبار سے الگ کرنا،عام کی تخصیص سے مراد ، عام سے جن کا ارادہ نہ کیا ہو ان کو بیان کرنا ہے۔

{مثلا اکرم العلماء}۔ علماء کا احترام کرئے۔ {لا تکرم الفاسق} فاسق کا احترام نہ کرئے ۔ پہلے والا جملہ عام ہے دوسرا جملہ خاص ہے۔ پہلے والے حکم کو مخصَّص اور دوسرے کو مخصِّص بھی کہتے ہیں ۔

  الزركشي، بدر الدين محمد بن بهادر بن عبد الله (متوفاي794هـ)، البحر المحيط في أصول الفقه، ج 2، ص 392، : تحقيق: ضبط نصوصه وخرج أحاديثه وعلق عليه: د. محمد محمد تامر، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2000م.

 

ب:   تخصیص کے بارے میں اہل سنت کے پانچ نظریات

قرآن قطعی الصدور ہے، سنت ظنی الصدور ہے، لہذا سنت کے ذریعے سے قرآن کو تخصیص دینے کے سلسلے میں اهل سنت کے علماء کے درمیان اختلاف ہے اور یہ  پانچ نظریات پر مشتمل ہے.

سبكى کہ جو اهل سنت کے مشہور عالم ہیں، انہوں نے ان پانچ مختلف نطریات کو اس طرح بیان کیا ہے ۔

1. جواز مطلق: اہل سنت کے چار فقہی مذاہب کے پیشواوں اور دوسروں سے خبر قطعى کو خبر ظني کے ذریعے سے تخصیص دینے کو جائز قرار دیا ہے (یعنی حدیث کے ذریعے سے آيات قرآن کی تخصیص ) ؛

2. منع مطلق:  متكلمين اور  فقهاء میں سے بعض نے اس کو جائز نہیں سمجھا ہے۔

3. اگر عام قابل تخصیص ہو تو کوئی مشکل نہیں ہے ۔

4. اگر مخصص منفصل ہو تو جائز ہے لیکن اگر مخصص متصل ہو تو جائز نہیں ہے؛

5. اگر حدیث قرآن سے ٹکراتی ہو اور ان میں تعارض ہو تو  اس سے استدلال کرنا جائز نہیں ہے لہذا یہاں کسی اور دلیل کی تلاش ضروری ہے۔

... هذه المسألة في تخصيص المقطوع بالمظنون وفيها بحثان الأول: في جواز تخصيص الكتاب بخبر الواحد وفيه مذاهب:

أحدها: الجواز مطلقا وهو المنقول عن الأئمة الأربعة واختاره الإمام وأتباعه منهم المصنف وبه قال امام الحرمين وطوائف وتبعهم الآمدي قال إمام الحرمين ومن شك ان الصديق لو روى خبرا عن المصطفى صلى الله عليه و سلم في تخصيص عموم الكتاب لا بتدره الصحابة قاطبة بالقبول فليس على دراية من قاعدة الاخبار

والثاني: المنع مطلقا ونقله ابن برهان في الوجيز عن طائفة من المتكلمين وشرذمة من الفقهاء

 والثالث: قال عيسى بن أبان إنه لا يجوز في العام الذي لم يخصص ويجوز فيما خصص.

والرابع: إن كان التخصيص بدليل منفصل جاز وإن يخص أو كان بمتصل فلا يجوز قاله أبو الحسن الكرخي.

وفي المسألة مذهب خامس وهو الوقف في المحل الذي يتعارض فيه الخبر ومقتضى لفظ الكتاب وأجرى اللفظ العام من الكتاب في بقية مسمياته وذهب إليه القاضي كما نقله عن إمام الحرمين والغزالي والامام والآمدي نقل عنه ابن برهان في الوجهين أنهما يتعارضان ويتساقطان ويجب الرجوع إلى دليل آخر.

السبكي، علي بن عبد الكافي (متوفاي756هـ)، الإبهاج في شرح المنهاج على منهاج الوصول إلى علم الأصول للبيضاوي، ج 2، ص 171، : تحقيق: جماعة من العلماء، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1404هـ.

 ان نظریات میں سے دوسرا اور پانچواں نظریہ یہ بتاتے ہیں کہ ابوبکر کی حدیث کے ذریعے سے قرآنی آیات کی تخصیص نہیں ہوسکتی؛ کیونکہ دوسرے نظریے کی رو سے حدیث کے ذریعے سے قرآن کی تخصیص ممنوع ہے۔پانچویں نظرے کے مطابق اگر ان دونوں میں ٹکراو اور تعارض ہو تو یہ یہاں اس سے استدلال نہیں کرسکتے ۔

اب یہ روشن ہوا کہ اهل سنت کے درمیان اس سلسلے میں اختلاف نظر موجود ہے اور اس سلسلے کے دو نظرے کے مطابق ابوبکر کی حدیث سے قرآنی آیات کا تخصیص ممنوع ہے ۔لہذا ہم یہاں اس سلسلے کے دوسرے نظریات سے بحث کرتے ہیں ۔

تاخیر نہ ہونے کی شرط :

اهل سنت کے بعض علماء نے اس تخصیص کے جائز ہونے کے لئے یہ شرط رکھی ہے کہ دونوں ایک ساتھ صادر ہو،یعنی عام اور خاص میں زمانے کا فاصلہ نہ ہو۔

جیساکہ ابی سعود نے اس سلسلے میں لکھا ہے :

فإن من شرائط التخصيص أن لا يكون المخصص متراخى النزول.

تخصیص کی شرائط میں سے ایک یہ ہے کہ مخصَّص{ جس کی تخصیص مقصود ہو} زمان صدور کے اعتبار سے مخصِّص{جو چیز تخصیص دیتی ہے} کے بعد میں نازل نہ ہوئی ہو۔

العمادي، أبي السعود محمد بن محمد (متوفاي951هـ)، إرشاد العقل السليم إلى مزايا القرآن الكريم (تفسير أبي السعود )، ج 6، ص 158، ذيل آيه 6 نور، : ناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.

اس شرط کے مطابق ابوبكر کی حدیث آيات ارث کے لئے مخصِّص نہیں بن سکتی؛ کیونکہ اس حدیث کا صدور اور ارث کی آيات کا ایک ساتھ نزول معلوم نہیں ہے اور تخصیص میں شک کی صورت میں اصل قانوں تخصیص نہ ہونا ہے جیساکہ صحيح بخاري کے مشہور شارخ نے اس سلسلے میں لکھا ہے:

الاصل، عدم التخصيص.

العيني، بدر الدين أبو محمد محمود بن أحمد الغيتابى الحنفى (متوفاي 855هـ)، عمدة القاري شرح صحيح البخاري، ج 11 ص 6، ناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.

لیکن اس کے مقابلے میں بعض نے عدم تراخی کی شرط کو قبول نہیں کیا ہے ، اور یہ ادعا کیا ہے کہ ارث کی آيات کی عموميت کو ابوبكر کی حديث کے ذریعے تخصيص  دینا ممکن ہے ، ابن حجر عسقلانى اس سلسلے میں لکھتا ہے :

وأما عموم قوله تعالى: «يوصيكم الله في أولادكم الخ» فأجيب عنها بأنها عامة فيمن ترك شيئا كان يملكه وإذا ثبت أنه وقفه قبل موته فلم يخلف ما يورث عنه فلم يورث وعلى تقدير أنه خلف شيئا مما كان يملكه فدخوله في الخطاب قابل للتخصيص لما عرف من كثرة خصائصه وقد اشتهر عنه أنه لا يورث فظهر تخصيصه بذلك دون الناس.

اگر قرآن کی اس آیت کی عمومیت سے استدلال کرئے  : «يوصيكم الله في أولادكم الخ» تو جواب میں یہ کہا جاے گا : یہ آیت عام ہے اور ہر اس کو شامل ہے جو کوئی مال چھوڑ کر جائے اگر یہ ثابت ہو كه پيامبر(ص) نے  وفات سے پہلے کسی چیز کو وقف کیا ہو یا کوئی چیز چھوڑ کر نہیں گئے ہو تاکہ ارث کے طور پر منتقل ہو۔

اور اگر یہ فرض بھی کیا جائے کہ کوئی چیز چھوڑ کر گئے ہو تو پھر بھی پھر آیت قابل تخصیص ہے کیونکہ آپ کی بہت سی امتیازی خصوصیات تھی ۔جیساکہ مشہور نے یہی کہا ہے کہ آپ سے کوئی ارث نہیں لے سکتا اور یہ حکم ان کے اختصاصی احکام میں سے ہے۔ اس میں کوئی ان کے ساتھ شریک نہیں ہے۔

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل (متوفاي852 هـ)، فتح الباري شرح صحيح البخاري، ج 12، ص 9، تحقيق: محب الدين الخطيب، ناشر: دار المعرفة - بيروت.

صالحى شامى نے ابوبكر کی حديث کو ارث والی آیات کے لئے مخصِّص قرار دیا ہے:

وأما: (يوصيكم الله) النساء/11 فهي عامة لمن ترك شيئا كان يملكه، وإذا ثبت أنه وقفه قبل موته، فلم يخلف ما يورث عنه فلم يورث، و على تقدير انه خلف شيئا فما كان ملكه فدخوله في الخطاب قابل للتخصيص لما عرف من كثرة خصائصه صلى الله عليه وسلم و قد صح عنه انه لا يورث، فخص من عموم المخاطبين وهم الامة.

ارث والی آیت عام ہے؛ لہذا جو بھی مرے اور اپنے بعد کوئی چیز چھوڑ کر جائے تو یہ ارث میں اس کے وارث کو منتقل ہوگا لیکن اگر یہ ثابت ہو کہ میت نے کوئی چیز وقف کیا ہو تو یہ ارث میں سے نہیں ہوگا؛ اگر یہ قبول کیا جائے کہ رسول خدا ص کوئی چیز باقی چھوڑ کر گئے تھے تو یہ اس عموم میں داخل ہے لیکن آپ کی امتیازی خصوصیات کی وجہ سے ہم یہ کہیں گے کہ اس عام  کی تخصیص ہوئی ہے۔ کیونکہ صحیح خبر موجود ہےکہ آپ سے کوئی ارث نہیں لے سکتا اور یہ اس حکم عام کےخلاف ہے جو دوسرے لوگوں کے لئے ہے۔لہذا یہ حدیث خاص ہے اور آیات عام ہیں۔

 

الصالحي الشامي، محمد بن يوسف (متوفاي942هـ)، سبل الهدى والرشاد في سيرة خير العباد، ج10، ص431، تحقيق: عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1414هـ

اس نظرے کا نقد

اس قسم کی تخصیص قرآنی اعتبار سے صحیح نہیں ہے ؛

ارث ایک عمومی قانون ہے اس میں تمام انسان شامل ہے، چاہئے اس کا تعلق جس نسل سے ہو،جس رنگ اور عقیدے کا مالک ہو، اس قانون میں کسی کو استثنائی حیثیت حاصل نہیں ہے ، عام حالت میں کسی قسم کا منع اس میں نہیں ہے۔

کسی خاص موقعوں پر  خاص شرائط کے ساتھ وارث کو ارث سے محروم کیا جاتا ہے مثلا وارث قاتل یا کافر ہو تو ارث سے محروم ہوگا، لیکن یہ اس طبعی اور عمومی قانوں کی خلاف ورزی شمار نہیں ہوتی۔

لہذا آیات میں موجود عمومیت کسی خاص شخص یا گروہ کو اس انسانی اور الہی حق سے محروم کرنے کی راہ میں مانع اور رکاوٹ نہیں ہے اور  یہ حکم سب لوگوں کو شامل ہے چاہئے وہ پیغمبر ہو یا غیر پیغمر۔جیساکہ قرآن کی بعض آیات میں خاص طور پر اور واضح انداز میں بعض پیغمبروں کے ارث کا ذکر ہوا ہے۔ اسی لئے ہم یہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی یہ ادعا کرئے کہ قرآنی آیات کی عمومیت ابوبکر کی حدیث کی وجہ سے غیر انبیاء سے مختص ہے ، تو ایسا ادعا باطل ہے ، اس پر کوئی دلیل نہیں ہے۔کیونکہ گزشتہ بیان کے مطابق پیغمبروں کے ارث کے بارے میں قرآنی دلیل موجود ہے۔

 لہذا یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ ارث والی آیات، انبیاء کے علاوہ دوسرے لوگوں کے لئے ہیں اور یہ آیات قابل تخصیص ہیں۔ کیونکہ قرآن مجید نے جناب سلیمان اور داود کے بارے میں فرمایا :

 

وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ وَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْرِ وَأُوتِينَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِينُ.

اور پھر سلیمان داؤد کے وارث ہوئے اور انہوں نے کہا کہ لوگو مجھے پرندوں کی باتوں کا علم دیا گیا ہے اور ہر فضیلت کا ایک حصہ عطا کیا گیا ہے اور یہ خدا کا کھلا ہوا فضل و کرم ہے النمل/ 16.

قرآن نے حضرت زكريا کا یہ قول نقل کیا ہے:

وَإِنّي خِفْتُ الْمَوَالِيَ مِنْ وَرَائِي وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِرًا فَهَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا * يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آَلِ يَعْقُوبَ وَاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِيًّا.

اور مجھے اپنے بعد اپنے خاندان والوں سے خطرہ ہے اور میری بیوی بانجھ ہے تو اب مجھے ایک ایسا ولی اور وارث عطا فرمادے ۔مريم/ 6 ـ 7.

اس مطلب کے واضح ہونے کے لئے اس مثال میں دقت کریں۔

اگر کوئی اپنے خادم اور نوکر سے کہے مہمان کی مہمانداری کرو اور پھر خاص انداز میں کسی ایک مہمان کی طرف اشارہ کرے تو یہ  اس فرد کی نسبت سے تخصیص شمار نہیں ہوگی بلکہ یہ اس کے علاوہ کے لئے تخصیص ہوگی ۔

کیا حضرت زكريا علیہ السلام  و حضرت سليمان علیہ السلام کے مالی ارث تھا ؟

جواب : ارث کا حقیقی معنی مالی وراثت ہے :

لفظ ارث اور اس سے مشتق ہونے والے الفاظ جیسے: وارث ، موروث ، يرث وغیرہ   ایسے مال اور حقوق کے لئے بنا ہے اور استعمال ہوتا ہے کہ جو میت سے  دوسروں کو منتقل ہونے کے قابل ہو۔ اسی لئے اس لفظ کا حقیقی معنی یہی ہے اس کے علاوہ دوسرے معانی مجازی معنی ہے۔

ابن منظور افريقى نے  لسان العرب میں، عبد القادر الرازى نے  مختار الصحاح میں ، فيومى نے  مصباح المنير میں اور  زبيدى نے تاج العروس میں ارث کے معانی یوں بیان کیا ہے :

]ووَرَّثَه[ تَورِيثاً، أَي أَدخَلَه في مالِه على وَرَثَتِه.

اس کو ارث دیا ؛ یعنی اس کو مالی ارث کے معاملے میں اپنے وارثوں میں قرار دیا .

الأفريقي المصري، محمد بن مكرم بن منظور (متوفاي711هـ)، لسان العرب، ج 2، ص 200، ناشر: دار صادر - بيروت، الطبعة: الأولى؛ الرازي، محمد بن أبي بكر بن عبدالقادر (متوفاي721هـ)، مختار الصحاح، ج 1، ص 298، : تحقيق: محمود خاطر، ناشر: مكتبة لبنان ناشرون - بيروت، الطبعة: طبعة جديدة، 1415هـ – 1995م؛ المقري الفيومي، أحمد بن محمد بن علي (متوفاي770هـ)، المصباح المنير في غريب الشرح الكبير للرافعي، ج 2، ص 654، : ناشر: المكتبة العلمية – بيروت؛ الحسيني الزبيدي، محمد مرتضى (متوفاي1205هـ)، تاج العروس من جواهر القاموس، ج 5، ص 381، تحقيق: مجموعة من المحققين، ناشر: دار الهداية.

 

اور قانون یہ ہے کہ جتنا ہوسکے لفظ سے اس کا حقیقی معنی مراد لیا جائےنہ مجازی معنی ۔

قرطبى لکھتے ہیں  :

إذا دار الكلام بين الحقيقة والمجاز، فالحقيقة الأصل كما في كتب الأصول.

اصولی کتابوں میں یہ بات بیان ہوئی ہے کہ اگر کسی جگہ لفظ کے حقیقی اور مجازی معنی میں شک ہو تو اس کا حقیقی معنی مراد لینا ہی اصل ہے۔

الأنصاري القرطبي، أبو عبد الله محمد بن أحمد (متوفاي671، الجامع لأحكام القرآن، ج 4، ص 257، ذيل آيه 161سوره آل عمران، ناشر: دار الشعب – القاهرة.

فخر رازى لکھتے ہیں:

أن الأصل المعتبر فى علم القرآن أنه يجب إجراء اللفظ على الحقيقة إلا إذا قام دليل يمنع منه.

جو چیز قرآن سے متعلق علم میں معتبر ہے وہ لفظ کو اس کے حقیقی معنی پر حمل کرنا ہے مگر یہ کہ کوئی چیز اس حقیقی کو معنی مراد لینے سے مانع ہو۔

الرازي الشافعي، فخر الدين محمد بن عمر التميمي (متوفاي604هـ)، التفسير الكبير أو مفاتيح الغيب، ج 9، ص 60 ذيل آيه 161سوره آل عمران، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2000م

ماوردى شافعى اس سلسلے میں لکھتے ہیں:

أَنَّ مَوْضِعَ الْكَلَامِ أَنْ يُحْمَلَ عَلَى حَقِيقَتِهِ دُونَ مَجَازِهِ إِلَّا فِي مَوْضِع لَا يُمْكِنُ اسْتِعْمَالُهُ عَلَى الْحَقِيقَةِ، فَيَعْدِلُ بِهِ إِلَى الْمَجَازِ.

کلام کی شان یہ ہے کہ اس کو اس کے مجازی معنی میں استعمال کرنے کے بجائے اس کے حقیقی معنی میں استعمال کیا جائے ، لیکن اگر کسی مورد میں اس کے حقیقی معنی پر حمل کرنا ممکن نہ تو پھر مجازی معنی پر اس کو حمل کیا جائے گا۔

الماوردي البصري الشافعي، علي بن محمد بن حبيب (متوفاي450هـ)، الحاوي الكبير في فقه مذهب الإمام الشافعي وهو شرح مختصر المزني، ج 18، ص 251، تحقيق الشيخ علي محمد معوض - الشيخ عادل أحمد عبد الموجود، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت - لبنان، الطبعة: الأولى، 1419 هـ -1999 م.

لہذا حضرت زكريا اور حضرت سليمان علیہما السلام کے ارث کے سلسلے میں موجود آیات کی توجیہ  اور تاویل کرتے ہوئے اس سے نبوت مراد لینا مجازی معنی مراد لینا ہے اور  پر کوئی قرینہ اور دلیل موجود نہیں ہے ۔

اور حقیقت میں اس قسم کی تفسیر اور تاویل کا مقصد جناب زہرا سلام اللہ علیہا کو ان کے والد جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ملنے والے طبعی اور قانونی حق سے انہیں محروم  کرنا ہے۔

حدیث میں موجود حکم، قرآنی حکم کے خلاف ہے :

اہل سنت کے عقیدے کے مطابق جو بھی حدیث قرآن کے خلاف ہو تو یہ حدیث مردود ہوگی۔

أبو يوسف نے كتاب الرد علي سير الأوزاعى میں اور محمد بن ادريس شافعى نے كتاب الأم میں لکھا ہے :

حدثنا بن أبي كَرِيمَةَ عن أبي جَعْفَرٍ عن رسول اللَّهِ صلى اللَّهُ عليه وسلم أَنَّهُ دَعَا الْيَهُودَ فَسَأَلَهُمْ فَحَدَّثُوهُ حتى كَذَبُوا على عِيسَى فَصَعِدَ النبي صلى اللَّهُ عليه وسلم الْمِنْبَرَ فَخَطَبَ الناس فقال إنَّ الحديث سَيَفْشُو عَنِّي فما أَتَاكُمْ عَنِّي يُوَافِقُ الْقُرْآنَ فَهُوَ عَنِّي وما أَتَاكُمْ عَنِّي يُخَالِفُ الْقُرْآنَ فَلَيْسَ عَنِّي.

رسول خدا صلى الله عليه وآله، نے یہودیوں کو بلایا اور ان سے سوال کیا ،یہودیوں نے باتیں کی اور ان باتوں کو حضرت مسیح علیہ السلام کی طرف جھوٹی نسبت دی، رسول خدا صلى الله عليه وآله ممبر پر تشریف لے گئے  اور فرمایا : بہت جلد میری طرف جھوٹی نسبت دی جائے گی ۔ لہذا میری طرف نسبت دی ہوئی جو باتیں قرآن کے مطابق ہو تو وہ میری حدیث ہے اور جو قرآن کے مخالف ہو وہ میری حدیث نہیں ہے ۔

أبو يوسف يعقوب بن إبراهيم الأنصاري (متوفاي182هـ)، الرد على سير الأوزاعي، ج 1، ص 25، : تحقيق: أبو الوفا الأفغاني، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت؛ الشافعي، محمد بن إدريس أبو عبد الله (متوفاي204هـ)، الأم، ج 7، ص 339، : ناشر: دار المعرفة - بيروت، الطبعة: الثانية، 1393هـ.

عبد الرحمن سيوطى نے  الدر المنثور میں اور  شوكانى نے فتح القدير میں لکھا ہے :

أخرج ابن أبي حاتم عن ابن عباس قال: ما خالف القرآن فهو من خطوات الشيطان.

ابن عباس نے کہا: جو بھی قرآن کے مخالف ہو وہ  شیطان کی باتیں ہیں.

السيوطي، عبد الرحمن بن الكمال جلال الدين (متوفاي911هـ)، الدر المنثور، ج 1، ص 403، ذيل آيه 168 سوره بقره، ناشر: دار الفكر - بيروت – 1993؛ الشوكاني، محمد بن علي بن محمد (متوفاي1255هـ)، فتح القدير الجامع بين فني الرواية والدراية من علم التفسير، ج 1، ص 168، ناشر: دار الفكر – بيروت.

عبد الرزاق صنعانى لکھتا ہے :

أخبرنا عبد الرزاق عن الثوري عن الأعمش عن عمارة عن حريث بن ظهير قال قال عبد الله لا تسألوا أهل الكتاب عن شيء فإنهم لن يهدوكم وقد ضلوا فتكذبوا بحق وتصدقوا الباطل وإنه ليس من أحد من أهل الكتاب إلا في قلبه تالية تدعوه إلى الله وكتابه كتالية المال و التالية البقية قال الثوري وزاد معن عن القاسم بن عبد الرحمن عن عبد الله في هذا الحديث قال إن كنتم سائليهم لا محالة فانظروا ما واطى كتاب الله فخذوه وما خالف كتاب الله فدعوه.

... عبدالله بن مسعود نے کہا : اگر یہودی سے کوئی چیز پوچھے، تو ضرور قرآن کی طرف نگاہ کریں اگر قرآن کے مطابق ہو تو اس کو لے لیں آگر قرآن کے مخالف ہو تو اسکو چھوڑ دیں ۔

الصنعاني، أبو بكر عبد الرزاق بن همام (متوفاي211هـ)، المصنف، ج 6، ص 111، ح1062، تحقيق حبيب الرحمن الأعظمي، ناشر: المكتب الإسلامي - بيروت، الطبعة: الثانية، 1403هـ.

دوسرا  جواب : بہت سے اصحاب اور تابعین ان آیات میں ارث سے مراد ارث مالی مانتے تھے ۔

اهل سنت والے خاص کر وہابی اپنے آُپ کو سلف کے طرفدار اور اپنے آپ کو سلفی کہتے ہیں۔لہذا انہیں اس بات کی طرف توجہ دینی چاہئے کہ ارث کے مسئلے میں ان کے سلف صالح کا نظرِیہ ان کے نظریے کے مخالف ہے۔بہت سے بزرگ اصحاب اور تابعین ارث مالی کے قائل ہیں،جیسے ابن عباس، حسن بصرى، ضحاك، سدى، مجاهد، شعبى  اور دوسرے ... یہ سب جناب سليمان کا جناب داوود  سے لئے ارث کو مالی ارث کہتے تھے۔.

ابن عطية نے تفسير المحرر الوجيز میں اور انصارى قرطبى نے الجامع لإحكام القرآن میں اور  ابوحيان نے  تفسير بحر المحيط میں لکھا ہے :

... فقال ابن عباس و مجاهد و قتادة و أبو صالح: خاف أن يرثوا ماله وأن ترثه الكلالة فأشفق من ذلك وروى قتادة والحسن عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: يرحم الله أخي زكرياء ما كان عليه ممن يرث ماله.

ابن عباس ، مجاهد ، قتاده اورابوصالح نے کہا ہے : حضرت زكريا اس سے ڈرتے تھے کہ کہیں ان کے مال دوسرےکی وراثت میں نہ جائے۔ قتاده اور  حسن بصرى نے پيامبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ روايت نقل کی ہے:  اللہ میرے بھائی زکریا پر رحمت کرئے ،کیونکہ کوئی ان کے مال وراثت میں لے جانے والا نہ تھا {اسی لئے اللہ سے وارث کے لئے دعا کی۔}

الأندلسي، أبو محمد عبد الحق بن غالب بن عطية، المحرر الوجيز في تفسير الكتاب العزيز، ج 4، ص 4، تحقيق: عبد السلام عبد الشافي محمد، ناشر: دار الكتب العلمية - لبنان، الطبعة: الاولى، 1413هـ- 1993م؛ الأنصاري القرطبي، أبو عبد الله محمد بن أحمد (متوفاي671، الجامع لأحكام القرآن، ج 11، ص 78، ناشر: دار الشعب – القاهرة؛ أبي حيان الأندلسي، محمد بن يوسف، تفسير البحر المحيط، ج 6، ص 164، تحقيق: الشيخ عادل أحمد عبد الموجود - الشيخ علي محمد معوض، شارك في التحقيق 1) د.زكريا عبد المجيد النوقي 2) د.أحمد النجولي الجمل، ناشر: دار الكتب العلمية - لبنان/ بيروت، الطبعة: الأولى، 1422هـ -2001م.

فخر رازى، نے تفسير كبير میں، صحابه اور  تابعين کے اقوال کو اس بیان کیا ہے:

اختلفوا في المراد بالميراث على وجوه:

 أحدها: أن المراد بالميراث في الموضعين هو وراثة المال وهذا قول ابن عباس والحسن والضحاك.

وثانيها: أن المراد به في الموضعين وراثة النبوة و هو قول أبي صالح.

وثالثها: يرثني المال ويرث من آل يعقوب النبوة وهو قول السدي و مجاهد والشعبي وروي أيضاً عن ابن عباس والحسن والضحاك.

ورابعها: يرثني العلم ويرث من آل يعقوب النبوة وهو مروي عن مجاهد...

اهل سنت حضرت يحيى  علیہ السلام کا حضرت زکريا علیہ السلام سے ارث لینے کے مسئلے میں اختلاف نظر رکھتے ہیں:

پہلا قول  : دونوں جگہوں پر  (يرثنى، يرث من آل يعقوب) سے مراد مالی وراثت ہے اور یہ ابن عباس ، حسن بصرى  اور ضحاك کا نظریہ ہے .

دوسرا قول  : دنوں جگہوں پر وراثت سے مراد نبوت کی وراثت ہے ، یہ ابوصالح کا نظریہ ہے۔

تیسر قول : «يرثني»، میں وراثت مالى مراد ہے  اور «يرث من آل يعقوب»، میں وراثت نبوت مراد ہے ، یہ سدى ، مجاهد اور شعبى کا نظریہ ہے .

چوتھا قول : «يرثني» میں وراثت سے مراد علم کی وراثت ہے اور «يرث من آل يعقوب»، میں نبوت کی وراثت مراد ہے اور یہ نظریہ مجاهد کا نظریہ ہے.

اسی طرح فخر رازی نے وراثت مالی والوں کے دلائل کو اس طرح نقل کیا ہے ؛

 واحتج من حمل اللفظ على وراثة المال، بالخبر والمعقول:

أما الخبر فقوله عليه السلام: « رحم الله زكريا ما كان له من يرثه » وظاهره يدل على أن المراد إرث المال.

و أما المعقول فمن وجهين:

الأول: أن العلم والسيرة و النبوة لاتورث بل لاتحصل إلا بالاكتساب فوجب حمله على المال.

الثاني: أنه قال « و اجعله رَبّ رَضِيّاً » و لو كان المراد من الإرث إرث النبوة لكان قد سأل جعل النبي صلى الله عليه وسلم رضياً و هو غير جائز لأن النبي لا يكون إلا رضياً معصوماً.

جن لوگوں نے آیت میں وراثت سے مراد مالی وراثت جانا ہے انہوں نے روایت اور عقلی دلیل سے اپنے نظریے پر دلیل قائم کیا ہے۔ اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث یہ ہے: «اللہ میرے بھائی زکریا پر رحم کرئے کہ ان سے کوئی ارث لینے والا نہ تھا » اس حدیث کے ظاہر سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہاں میراث سے مراد مالی وراثت ہے .

لیکن دو عقلی دلیل بھی اس سلسلے میں پیش کی ہیں ۔

پہلی دلیل : علم ، سيرت اور نبوت، وراثتی چیزیں نہیں ہیں ۔ان کو صرف  حاصل اور اکتساب کیا جاتا ہے۔لہذا (يرثنى و يرث من آل يعقوب ) کو مالی وراثت پر حمل کرنا واجب ہے ۔

دوسری دلیل : حضرت زكريا ع نے اللہ سے عرض کیا : « اسے اپنا پسندیدہ بھی قرار دے دے » اب اگر دعا کے شروع میں ارث سے مراد نبوت کی وراثت ہو تو اس کا معنی یہ ہوگا کہ انہوں نے اللہ سے اپنے پیغمبر کو پسندیدہ اور مورد رضایت قرار دینے کی دعا کی ہے ۔ لیکن یہ معنی صحیح نہیں ہے کیونکہ ہر نبی اور رسول، اللہ کے پسندیدہ اور مقام عصمت کے مالک ہی ہوتے ہیں۔ اب کیسے ممکن ہے کہ اسی کا اللہ سے درخواست بھی کرئے۔

الرازي الشافعي، فخر الدين محمد بن عمر التميمي (متوفاي604هـ)، التفسير الكبير أو مفاتيح الغيب، ج 21، ص 156، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2000م.

تیسرا جواب : بہت سے اہل سنت کے علماء اس کو مالی وراثت ہی جانتے ہیں:

اهل سنت کے علماء نے  حضرت زكريا علیہ السلام  کے ارث کے مسئلے میں دو الگ الگ نظریے کے قائل ہیں ؛

پہلا گروہ :  

اهل سنت کے بہت سے مفسرین نے حضرت زكريّا علیہ السلام کے ارث کو مالی ارث قرار دیا ہے ؛ یعنی وہی حقیقی معنی جو اس آیت میں بیان ہوا ہے یہاں تک کہ بعض نے تو اس کو اکثر کا نظریہ اور سب سے مشہور نظریہ قرار دیا ہے :

حسن بصري

اہل سنت کے بزرگ علماء میں سے ہے وہ علم اور نبوت کی وراثت کو ممکن نہیں سمجھتا :

سمرقندى نے اپنی تفسير میں لکھا ہے :

وقال الحسن ورث المال والملك لا النبوة والعلم لأن النبوة والعلم فضل الله تعالى ولا يكون بالميراث.

حسن بصری نے کہا ہے :حضرت سليمان نے مال اورحكومت ارث میں لیا ؛ کیونکہ نبوت اور علم، اللہ کا ایک فضل ہے یہ وراثت میں منتقل نہیں ہونے والی چیز نہیں ہے .

السمرقندي، نصر بن محمد بن أحمد أبو الليث (متوفاي367 هـ)، تفسير السمرقندي المسمى بحر العلوم، ج 2، ص 575، ذيل آيه، تحقيق: د. محمود مطرجي، ناشر: دار الفكر - بيروت.

و فخر رازى لکھتا ہے :

أما قوله تعالى: «وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودُ» فقد اختلفوا فيه، فقال الحسن المال لأن النبوة عطية مبتدأة ولا تورث.

اس میں اختلاف ہوا ہے کہ سلیمان علیہ السلام نے داوود سے کیا چیز وراثت میں لی ، حسن بصرى نے کہا ہے : یہاں مقصود مال کی وراثت ہے کیونکہ نبوت اور پیغمبری اللہ کے فضل میں سے ہے ۔ان کا ارثی ہونا معنی نہیں رکھتا۔

الرازي الشافعي، فخر الدين محمد بن عمر التميمي (متوفاي604هـ)، التفسير الكبير أو مفاتيح الغيب، ج 24، ص 160، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2000م.

نحاس کا نظریہ :

یہ بھِی اہل سنت کے مشہور عالم ہیں ،نبوت وراثت میں منتقل ہونے کومحال سمجھتا ہے جیساکہ قربطی نے اس کے نظرے کو نقل کیا ہے :

قال النحاس: فأما معنى «يرثني و يرث من آل يعقوب» فللعلماء فيه ثلاثة أجوبة قيل: هي وراثة نبوة و قيل: هي وراثة حكمة و قيل: هي وراثة مال.

فأما قولهم وراثة نبوة فمحال لأن النبوة لا تورث... وأما وراثة المال فلا يمتنع.

نحاس نے کہا ہے : علما نے «يرثنى و يرث من آل يعقوب » کے بارے میں تین جواب دیے ہیں :

1. نبوت کی وراثت مراد ہے ؛ 2. حكمت  کی وراثت مراد ہے ؛ 3. مالى وراثت مراد ہے ۔ نبوت کی وراثت تو محال ہے کیونکہ یہ موروثی نہیں، لیکن مالی وراثت کہنے میں کوئی مشکل نہیں ہے۔

الأنصاري القرطبي، أبو عبد الله محمد بن أحمد (متوفاي671هـ)، الجامع لأحكام القرآن، ج11، ص82، ذيل آيه6 مريم، ناشر: دار الشعب – القاهرة

ابن عطيه اندلسي

ابن عطيه، نےحضرت زكريّا کے مالی وراثت مراد ہونے کو اکثر مفسروں کا نظریہ کہا ہے :

قال القاضي أبو محمد عبد الحق بن عطية رضي الله عنه:... والاكثر من المفسرين علي انه اراد وراثة المال.

و ان كان فيهم من ورث ماله كزكرياء علي اشهر الاقوال.

اکثر مفسروں کا نظریہ ہے کہ حضرت زكريا کے بارے میں{ يرثنى و يرث من آل يعقوب} سے مراد مالی وراثت ہے اور انبیاء علیہم السلام میں ایسے بھی ہیں کہ جنہوں نے جناب زکریا کی طرح مالی ارث چھوڑے ہیں اور یہ مشہور ترین نظریہ ہے ۔

الأندلسي، أبو محمد عبد الحق بن غالب بن عطية، المحرر الوجيز في تفسير الكتاب العزيز، ج 4، ص 5، تحقيق: عبد السلام عبد الشافي محمد، ناشر: دار الكتب العلمية - لبنان، الطبعة: الاولى، 1413هـ- 1993م

فخررازي

فخر رازی نے بھی حضرت زکریا کی وراثت کے بارے میں مختلف نظریات اور ان کے دلائل پیش کرنے کے بعد اپنے نطریے کو اس طرح بیان کیا ہے ؛

والأولي: أن يحمل ذلك على كل ما فيه نفع وصلاح في الدين وذلك يتناول النبوة والعلم والسيرة الحسنة والمنصب النافع في الدين والمال الصالح، فإن كل هذه الأمور مما يجوز توفر الدواعي على بقائها ليكون ذلك النفع دائماً مستمراً.

بهترين نظریہ ہے کہ : قرآن میں حضرت زكريّا کی وراثت سے مراد دین میں موجود ہر قسم کے نفع اور مصلحت ہے کہ جو نبوت ،علم ،اچھی سیرت ، فائدہ مند مقام اور نیک مال سب کو شامل ہے کیونکہ یہ سب ایسے امور ہیں کہ جن کے باقی رہنے کے لئے بہت سے عوامل موجود ہیں تاکہ ان کے نفع باقی رہے اور لوگ ان سے مستفید ہوتے رہیں ۔

الرازي الشافعي، فخر الدين محمد بن عمر التميمي (متوفاي604هـ)، التفسير الكبير أو مفاتيح الغيب، ج 21، ص 184، ذيل آيه 6 مريم، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2000م.

ابن جرير طبري

وقوله: «يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ» يقول: يرثني من بعد وفاتي، مالي، ويرث من آل يعقوب النبوة، وذلك أن زكريا كان من ولد يعقوب.

 جناب زکریا کے اس قول «يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ»کا معنی یہ ہے کہ میری وفات کے  بعد میرے مال ارث میں لینے والا کوئی ہو  اور وہ  آل یعقوب سے نبوت ارث میں لے کیونکہ جناب زکریا جناب یعقوب کی اولاد میں سے ہے ۔

الطبري، أبي جعفر محمد بن جرير (متوفاي 310هـ)، جامع البيان عن تأويل آي القرآن، ج 16، ص 47، ذيل آيه 6 مريم، ناشر: دار الفكر، بيروت – 1405هـ.

ابن عبد البر قرطبى نے یہ ادعا کیا ہے کہ وراثت مالی کا نظریہ حسن بصری کا خاص نظریہ ہے لیکن جیساکہ بیان ہوا کہ یہ ادعا باطل ہے :

كذلك قولهم في « يرثني ويرث من آل يعقوب » لايختلفون في ذلك إلا ما روى عن الحسن أنه قال يرثني مالي ويرث من آل يعقوب النبوة والحكمة.

علماء نے «يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ» میں اختلاف نہیں کیا ہے سوای حسن بصری کے کہ انہوں نے يَرِثُنِي سے مراد مالی اور وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ سے مراد نبوت اور حکمت کی وراثت مراد لیا ہے ۔

النمري القرطبي، أبو عمر يوسف بن عبد الله بن عبد البر (متوفاي463هـ) التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد، ج 8، ص 175، تحقيق: مصطفى بن أحمد العلوي،‏محمد عبد الكبير البكري، ناشر: وزارة عموم الأوقاف والشؤون الإسلامية - المغرب – 1387هـ.

 

دوسرا گروہ :

  ایک سنت کے ایک گروہ نے مذکورہ بالا علماء کے صحیح روش کی پیروی نہیں کی ہے اور ساتھ اس چیز کا اعتراف بھی کیا  ہے کہ لفظ ارث کا حقیقی معنی مالی ارث ہے۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ انہیں لوگوں نے حضرت زکریا علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے ارث کو علم اور نبوت کا ارث قرار دیا ہے جیساکہ ابوحیان لکھتا ہے : 

والموروث: الملك والنبوّة، بمعنى: صار ذلك إليه بعد موت أبيه فسمي ميراثاً تجوزاً، كما قيل: العلماء ورثة الأنبياء. وحقيقة الميراث في المال والأنبياء لا نورث مالاً.

 حكومت اور پیغمبری کی وراثت حضرت زکریا کے بعد ان کے فرزند جناب یحیی  کو منتقل ہوئی اور یہ ارث کا مجازی معنی ہے ۔

أبي حيان الأندلسي، محمد بن يوسف (متوفاي745هـ)، تفسير البحر المحيط، ج 7، ص 57، تحقيق: الشيخ عادل أحمد عبد الموجود - الشيخ علي محمد معوض، شارك في التحقيق 1) د.زكريا عبد المجيد النوقي 2) د.أحمد النجولي الجمل، ناشر: دار الكتب العلمية - لبنان/ بيروت، الطبعة: الأولى، 1422هـ -2001م .

و شوكانى لکھتا ہے :

وَوَرِثَ سليمانُ دَاوُودَ، أي ورثه العلم والنبوّة... فهذه الوراثة هي وراثة مجازية.

حضرت سليمان نے حضرت داوود سے ارث لیا یعنی علم اور نبوت ارث میں لیا اور یہ وراثت کا مجازی معنی ہے ۔

الشوكاني، محمد بن علي بن محمد (متوفاي1255هـ)، فتح القدير الجامع بين فني الرواية والدراية من علم التفسير، ج 4، ص 129، ذيل آيه 16 نمل، ناشر: دار الفكر – بيروت.

اس نظرے کے  تجزیہ اور تحلیل

یہ نظریہ بہت سے اہل سنت کے علماء کے نظریے کے خلاف بھی ہے اور ساتھ ہی اس پر اور بھی بہت سے اعتراضات وارد ہیں ۔

مقام  نبوت اور  علم  مورثی چیزیں نہیں ۔

قرآن کی بعض آیات بعض دوسری آیات کی تفسیر کرتی ہے ۔قرآن میں بہت سی ایسی آیات ہیں کہ جو نبوت اور علم کو اللہ کی طرف سے ایک عطاء قرار دیتی ہے، نہ ایک موروثی چیز ۔لہذا ارث سے نبوت اور علم مراد لینا قرآنی استعمال کے خلاف ہے ۔

اولَئِكَ الَّذِينَ آَتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ.

  یہی وہ افراد ہیں جنہیں ہم نے کتاب ,حکومت اور نبوت عطا کی ہے الأنعام / 89.

و كلّا‍ً آتيناه حكما وعلما.

پھر ہم نے سلیمان علیھ السّلام کو صحیح فیصلہ سمجھا دیا اور ہم نے سب کو قوت فیصلہ اور علم عطا کیا تھا الأنبياء / 79.

وآتيناه الحكم صبييا.

یحیٰی علیھ السّلام! ۔۔اور ہم نے انہیں بچپنے ہی میں نبوت عطا کردی مريم / 12.

ولقد آتينا داوود وسليمان علما.

ہم نے داود اور سلیمان کو علم دیا ۔

مريم / 15.

نتیجہ گیری اور دو الگ الگ رفتار :

 اس گروہ نے ارث کے حقیقی معنی کو وہی مالی میراث تو  قرار دیا لیکن آیت کی تفسیر میں صحیح راستے کا انتخاب نہیں کیا ۔ جیساکہ بیان ہوا ؛ اہل سنت کے بزرگ علماء یہ کہتے ہیں: کسی لفظ کے استعمال میں قانون اور اصل یہ ہے کہ اس لفظ سے اس کے حقیقی معنی کا ارادہ کیا جائے ۔ جب لفظ کے حقیقی اور مجازی معنی میں شک ہو تو لفظ کے حقیقی معنی ہی مرد لینا چاہئے ہاں اگر کہیں پر حقیقی معنی مراد نہ ہونے پر کوئی قوی دلیل موجود ہو تو پھر مجازی معنی مراد لے سکتا ہے۔

لیکن اس گروہ نے قرآن میں ارث کو مجازی معنی پر حمل کیا ہے اور حدیث «نحن معاشر الانبياء لانورث»  میں بغیر کسی قرینہ اور دلیل کے اس ارث سے  حقیقی معنی مراد لیا ہے ۔یہ دو قسم کی مختلف رفتار ہے اور یہ دینی معارف میں تعصب سے کام لینے کا نتیجہ ہے۔

2. یہ نظریہ قرآن میں موجود ضرر والی وصیت سے منع کے خلاف ہے

حدیث  «نحن معاشر الانبياء لانورث ...» اور اس جیسی احادیث کا نتیجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے تنہا فرزند کو اس کے مسلم حق سے محروم کرنا اور اہل بیت علیہم السلام کے تقدس کو پامال کرناہے۔جبکہ قرآنی آیات کے مطابق کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی وارث کو اس کے شرعی اور قانونی حق سے محروم کرے ۔

 لہذا ایسے لوگوں سے یہ سوال ہوسکتا ہے کہ آپ لوگوں کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ آپ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور انبیاء علیہم السلام کے لئے ذمہ داری اور حکم کا تعین کرئے اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھ کر ان سے یہ کہے : آپ کے سارے اموال کو صدقہ قرار دیں؟

ارث کا عمومی حکم کہ جو ایک شرعی اور قرآنی حکم ہے ۔اگر اس حکم میں پیغمبرں کے بارے میں تخصیص کے قائل ہو تو اس پر کونسی دلیل ہے؟  کس دلیل کی بنیاد پر انبیاء کو عمومی حکم سے خارج  کرتے ہیں ؟   

اگر پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے تمام اموال کو صدقہ قرار دئے تو کیا انہیوں نے اپنے وارثوں کو ارث سے محروم نہیں کیا ہے؟ کیا اس قسم کی وصیت ،قرآن میں منع شدہ وہی مضر وصیت میں سے نہیں ہے ؟

 قرآن نے تو اس قسم کی وصیت سے منع کیا ہے ؛

« يوصيکم الله في اولادکم... مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ... ولکم نصف ما ترک...مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَى بِهَا أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَار ٍّوَصِيَّةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَلِيمٌ ».

  اللہ تمہاری اولاد کے بارے میں تمہیں ہدایت فرماتا ہے، ۔۔۔ یہ تقسیم میت کی وصیت پر عمل کرنے اور اس کے قرض کی ادائیگی کے بعد ہو گی،  ۔

۔اور تمہیں اپنی بیویوں کے ترکے میں سے ۔۔۔ یہ تقسیم میت کی وصیت پر عمل کرنے اور قرض ادا کرنے کے بعد ہو گی ۔۔۔۔ بشرطیکہ ضرر رساں نہ ہو، یہ نصیحت اللہ کی طرف سے ہے اور اللہ بڑا دانا، بردبار ہے النساء / 11 و 12.

شیعہ اور اہل سنت کا اس پر اتفاق نظر ہے کہ ایک تہائی سے زیادہ وصیت باطل ہے کیونکہ ایسی وصیت مضر وصیت ہے ؛

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِى وَقَّاصٍ - رضى الله عنه - قَالَ جَاءَ النَّبِىُّ - صلى الله عليه وسلم - يَعُودُنِى وَأَنَا بِمَكَّةَ، وَهْوَ يَكْرَهُ أَنْ يَمُوتَ بِالأَرْضِ الَّتِى هَاجَرَ مِنْهَا قَالَ « يَرْحَمُ اللَّهُ ابْنَ عَفْرَاءَ ». قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُوصِى بِمَالِى كُلِّهِ؟ قَالَ « لاَ ». قُلْتُ فَالشَّطْرُ ؟ قَالَ « لاَ ». قُلْتُ الثُّلُثُ؟ قَالَ: «فَالثُّلُثُ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ».

سعد وقاص کہتا ہے : رسول خدا  صلی اللہ علیہ و الہ وسلم مکہ میں میری عیادت کے لئے تشریف لے آئے۔آپ کو یہ پسند نہیں تھا کہ ایسی جگہ پر مرے جہاں سے ہجرت کر کے گئے تھے ، آپ نے فرمایا : اللہ  عفراء کے بیٹے پر رحم کرئے ۔ میں نے کہا : یا رسول خدا ص ! میرے سارے مال کے بارے میں وصیت کر سکتا ہوں ؟ اپ نے فرمایا : نہیں ، میں نے کہا : ادھا ؟ آپ نے فرمایا : نہیں، میں نے کہا : ایک تہائی ؟ جواب میں فرمایا: ہاں، ایک تہائی بھی زیادہ ہے ۔

البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، صحيح البخاري، ج 3، ص 1006، ح2591، كتاب الوصايا، بَاب أَنْ يَتْرُكَ وَرَثَتَهُ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ من أَنْ يَتَكَفَّفُوا الناس، تحقيق د. مصطفى ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407م ـ 1987م

نووى کہ جو  اہل سنت کے بڑے علماء میں سے ہے وہ سعد کی اس روایت کے بارے میں کہتے ہیں :

اما الاحكام: فان كل ما جاز الانتفاع به من مال ومنفعة جازت الوصية به وسواء كان المال عينا أو دينا حاضرا أو غائبا معلوما أو مجهولا مشاعا أو محوزا وتقدر الوصية بالثلث؛ وليس للموصي الزيادة عليه لحديث سعد (الثلث والثلث كثير) وان نقص من الثلث جاز.

ہر چیز کہ جس سے نفع لینا ممکن ہو، چاہئے یہ مال کی صورت میں ہو یا منفعت کی صورت میں ہو ، یہ مال موجود ہو یا غائب ہو ، یہ مال معلوم ہو یا معلوم نہ ہو ،یہ  مشترک اور مشاع کی صورت میں ہو یا جدا صورت میں، ان سب کے بارے میں ایک تہائی کی وصیت کرسکتا ہے لیکن ثلث سے زیادہ کی وصِت نہیں کرسکتا ۔  

النووي، أبي زكريا محيي الدين (متوفاي676 هـ)، المجموع، ج 15، ص403، ناشر: دار الفكر للطباعة والنشر والتوزيع، التكملة الثانيه.

ابوبكر كاشانى نے اسی روایت کے ضمن میں لکھا ہے :

... لِأَنَّ الشَّرْعَ جَوَّزَ الْوَصِيَّةَ بِالثُّلُثِ وَلَمْ يُجَوِّزْ بِمَا زَادَ عَلَى الثُّلُثِ.

...  کیونکہ شریعت میں ایک تہائی مال میں وصیت صحیح ہے اس سے زیادہ میں وصیت صحیح نہیں ہے .

الكاشاني، علاء الدين (متوفاي587هـ)، بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، ج 5، ص 75، : ناشر: دار الكتاب العربي - بيروت، الطبعة: الثانية، 1982م.

لہذا اللہ نے قرآن کریم میں ایسی وصیت سے منع کیا ہے جس سے ورثاء کو ضرر ہو چاہئے قرض ادا کرنے کی جہت سے ہو یا کسی اور جہت سے لیکن ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت ہو تو یہ شریعت میں منع ہے یہ عمومی قانون ہے اور تمام انسانوں کو شامل ہے چاہئے پیغمبر ہو یا غیر پیغمبر ۔

3. انفاق کے باب میں دو قسم کی آیات کی مخالفت

قرآنی تعلیمات میں سے ایک مال انفاق کا کرنا اور ضرورت مندوں کی مدد کرنا ہے گرچہ یہ مالی واجب میں سے نہیں ہے ۔ اس موضوع کے بارے میں وحی اور معصومین کی زبان اور ان سیرت میں اس کے بارے میں بہت زیادہ تاکید ہوئی ہے لیکن ساتھ ہی  اس کے لئے کچھ قوانین اور حدود معین کیے ہیں،ان میں سے کچھ درج ذیل ہے:

انفاق میں اعتدال اور میانہ روی سے کام لینا ایمان کی علامت ہے۔

ایسے افراد جو کھلے دل اور کھلے ہاتھ کے مالک ہیں ،ان کے لئے شریعت کا دستور یہ ہے کہ وہ اپنے اموال اور سرمایے کو معمول سے زیادہ دوسروں میں اس طرح تقسیم نہ کرئے کہ جس سے وہ اور اس کے کفالت میں موجود افراد کے لئے کوئی مشکل پیش آئے۔ لہذا قرآن کریم میانہ روی سے کام لینے کی سفارش کرتا ہے اور میانہ روی اختیار کرنے کو اللہ کے بندوں کی نشانی قرار دیتا ہے ۔اس گروہ کے سب سے ممتاز اور کامل مصداق اور فرد خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات گرامی ہے اور یقینا آپ اس حکم کے پابندی کرتے تھے ۔

خداوند فرموده است:

]وَ عِبَادُ الرَّحْمَانِ الَّذِين‏... وَالَّذِينَ إِذَا أَنْفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا وَكَانَ بَيْنَ ذَلِكَ قَوَامًا[.

رحمان کے خاص بندے وہ ہیں کہ جو اور یہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تونہ اسراف کرتے ہیں اور نہ بخل کرتے ہیں بلکہ ان کے درمیان اعتدال رکھتے ہیں الفرقان / 63 و 67.

ابوبکر کی حدیث کہتی ہے کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا تمام مال صدقہ قرار دیا ہے اور رسول خدا (ص) کا یہ عمل قرآن کے دستور کے خلاف ہے۔

  سوره اسراء  کی ۲۹ نمبر آیت میں اللہ فرماتا ہے :

]وَلا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُولَةً إِلَى عُنُقِكَ وَلا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُومًا مَحْسُورًا[.

اور نہ تو آپ اپنا ہاتھ اپنی گردن سے باندھ کر رکھیں اور نہ ہی اسے بالکل کھلا چھوڑ دیں ورنہ آپ ملامت کا نشانہ اور تہی دست ہوجائیں گے!

زمخشرى نے اس آیت کی تفسير میں لکھا ہے :

هذا تمثيلٌ لمنع الشحيح وإعطاء المسرف، وأمرٌ بالاقتصاد الذي هو بين الاسراف والتقتير «فَتَقْعُدَ مَلُومًا» فتصير ملوماً عند الله، لأنّ المسرف غير مرضي عنده وعند الناس.

یہ ایک تمثیل، بخل اور زیادہ روئی سے منع کرنے اور میانہ روئی سے کام لینے کے لئے ہے کیونکہ اللہ زیادہ روئی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا.

الزمخشري الخوارزمي، أبو القاسم محمود بن عمر جار الله، الكشاف عن حقائق التنزيل وعيون الأقاويل في وجوه التأويل، ج 2، ص 620، تحقيق: عبد الرزاق المهدي، بيروت، ناشر: دار إحياء التراث العربي.

ان آیات کا نتیجہ ،

ان آیات میں بخل کی مذمت ہوئی ہے اور تمام اموال کو انفاق کرنے سے منع کرتی ہیں اور میارنہ روئی سے کام لینے کی سفارش کرتی ہیں۔

لہذا ایسا انفاق اور بخشش کہ جس سے دوسروں کو محروم کرنا لازم آیے، اللہ کی نظر میں ایسا انفاق بطریق اولی قابل مذمت عمل ہے ۔

ب: انفاق  میں زیادہ روئی ممنوع ہے

اس سلسلے میں دوسرا حکم انفاق میں زیادہ روئی نہ کرنا ہے؛ جبکہ اہل سنت ابوبکر کی حدیث سے تمام اموال کرنے انفاق کرنےکا نتیجہ لیتے ہیں

]وَآَتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا. إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِرَبِّهِ كَفُورًا[.

اور دیکھو قرابتداروں کو اور مسکین کو اور مسافر غربت زدہ کو اس کا حق دے دو اور خبردار اسراف سے کام نہ لینا الإسراء / 26.

ابن كثير دمشقى نے ان آیات کی تفسیر میں کہا ہے :

قوله تعالى: ]وَلا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا[، لمّا أمر بالإنفاق، نهى عن الإسراف فيه، بل يكون وسطاً، كما قال في الآية الأخرى: ]وَالَّذِينَ إِذَا أَنْفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا وَكَانَ بَيْنَ ذَلِكَ قَوَامًا[ الفرقان: 67. ثم قال: منفراً عن التبذير والسرف: ]إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ[ أي: أشباههم في ذلك.

 (لا تبذّر تبذيرا)  والی آیت میں انفاق کرنے کا حکم اور اسراف سے منع کیا ہے ۔ لہذا ان دونوں میں سے درمیانی راہ کا انتخاب کرنا چاہئے جیساکہ ارشاد ہوا ہے " اور یہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ کنجوسی سے کام لیتے ہیں بلکہ ان دونوں کے درمیان اوسط درجے کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔

اور پھر فضول خرچی اور اسراف سے جداگانہ اس طرح طور پر منع کیا: اسراف کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں یا شیطان کی طرح ہیں ۔

القرشي الدمشقي، إسماعيل بن عمر بن كثير أبو الفداء (متوفاي774هـ)، تفسير القرآن العظيم، ج 3، ص 37، ذيل آيه 26 اسراء، ناشر: دار الفكر - بيروت – 1401هـ

لہذا اگر تمام اموال کو بخش دینا اور انفاق کرنا اللہ کی نظر میں قبل تعریف کام نہیں ہے تو دوسروں کی محرومیت کا سبب بنے والا انفاق بھی بطریق اولی قابل تحسین عمل نہیں.

۔۔۔۔

 

 

 

       فصل دوم :اس حدیث کا سنت کے خلاف ہونا

1.   ازواج کے بارے میں رسول اللہ ص کی وصیت اور ازواج کی بہرہ مندی

رسول خدا (ص) سے نقل شدہ وصیت کے مطابق آپ نے فرمایا تھا کہ جو ازواج کے نفقہ اور خرچے کے بعد بچ جائے وہ صدقہ ہے ،اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے بعد جو چیز بھی باقی بچ جائے وہ صدقہ نہیں ہے ۔جیساکہ صحیح بخاری وغیرہ می نقل ہوا ہے :

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنِى مَالِكٌ عَنْ أَبِى الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: « لاَ يَقْتَسِمُ وَرَثَتِى دِينَارًا، مَا تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِى وَمُؤْنَةِ عَامِلِى فَهْوَ صَدَقَةٌ ».

میرے ورثا دینار وراثت میں تقسیم نہیں کریں گے جو میں چھوڑے چاوں گا وہ میری ازواج اور اہل و عیال کا خرچ نکلانے کے بعد صدقہ ہوگا۔

البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، صحيح البخاري، ج 3، ص 1020، ح2624، كتاب الوصايا، بَاب نَفَقَةِ الْقَيِّمِ لِلْوَقْفِ و ج 3، ص 1128، ح2929،

کیونکہ یہ روایت اہل سنت کی صحيح بخارى و صحيح مسلم  جیسی معتبر کتابوں میں ہے.اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آپ کےسارے مال و اموال صدقہ نہیں ہے. ایسا نہیں ہے کہ آپ کے وارث آپ کے مال سے محروم رہے انہیں کچھ نہ ملے ۔

لہذا یہ والی حدیث ابوبکر کی حدیث سے ٹکراتی ہے  اور یہ حدیث دو جہت سے  ابوبکر والی حدیث پر مقدم ہے ۔ 

الف: یہ حديث قرآن کے موافق ہے ،جبکہ ابوبكر کی حدیث قرآن کے مخالف ہے۔ کیونکہ اس حدیث کے مطابق کم از کم آپ کے تمام وارث ارث کے حق سے محروم نہیں ہوتے۔ لہذا یہ ان آیات کے موافق ہے جو ایسی وصیت سے منع کرتی کہ جو وارثوں کے لئے ضرر کا باعث ہو۔ جبکہ ابوبکر کی حدیث ان آیات کے مخالف ہے ۔

اللہ تعالی قرآن ممیں ارشاد فرماتا ہے :

]... مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَى بِهَا أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَار ٍّوَصِيَّةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَلِيمٌ[.

 النساء / 11 و 12.

ب: یہ حدیث ابوبکر کی حدیث کے لئے مخصص ہے:

  یہ حدیث رسول اللہ ص کے تمام اموال کو صدقہ قرار نہیں دیتی بلکہ نقدی چیزوں سے  ازواج کا نفقہ نکالنے کے بعد باقی کو صدقہ دینے کے حکم کو بیان کرتی ہے۔ لہذا یہ حدیث خاص اور مخصص ہوگی جبکہ ابوبکر کی حدیث عام ہے یعنی اس حدیث کے مطابق نفقہ نکالے بغیر رسول اللہ ص کے تمام اموال صدقہ ہوگا ۔لہذ ابوبکر کی حدیث عام ہے اور یہ والی حدیث خاص ہے اور یہ ابوبکر کی حدیث پر مقدم ہے۔جیساکہ یہ قانون ایک عمومی قانون ہے ۔

فخر رازى اسی نکتے کو واضح طور پر بیان کرتے ہیں :

والعام والخاص إذا تعارضا، قدم الخاص على العام.

عام اور خاص میں ٹکراو ہو تو خاص کو عام پر مقدم کیا جاتا ہے ۔

الرازي الشافعي، فخر الدين محمد بن عمر التميمي (متوفاي604هـ)، التفسير الكبير أو مفاتيح الغيب، ج 3، ص 61، ذيل آيه 48 سوره بقره، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2000م.

اس تخصیص کی تائید وہ حدیث کرتی ہے کہ جو مسند احمد بن حنبل میں ہے اور اس میں یہ دونوں حدیثیں ایک طرف سے جمع ہوکر آئی ہے :

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: انا معشر الأنبياء لا نورث ما تركت بعد مؤنة عاملي ونفقة نسائي صدقة.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : ہم انبیاء کوئی چیز ارث چھوڑ کر نہیں جاتے جو ہم چھوڑے جاتے ہیں اس میں سے پہلے گھر میں کام کرنے والے اور ازواج کے مخارج کو نکالا جاتا ہے اور جو بچ جاتا ہے وہ صدقہ ہے۔

الشيباني، أحمد بن حنبل أبو عبدالله (متوفاي241هـ)، مسند أحمد بن حنبل، ج 2، ص 463، ح9973، ناشر: مؤسسة قرطبة – مصر.

اس حدیث میں قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ اس کے مطابق گھر میں کام کرنے والوں اور ازواج کے خرچ نکالنے کے بعد باقی بچ جانے والی چیزیں صدقہ ہوگی۔اب سوال یہ ہے کہ پیغمبر کی ازواج اور ان کی اولاد میں کیا فرق ہے کہ ان کی ازواج آپ کے بعد اموال سے حق لے سکتی ہیں لیکن آپ کی بیٹی کے لئے کوئی حق نہ ہو؟؟

اس حدیث کے شروع میں « لايقتسم ورثتي دينارا » ہے یہ روایت نہی کے معنی میں نہیں ہے بلکہ یہ ایسی چیز کی خبر کے معنی میں ہے  جو آپ کے بعد رونما ہوگی ۔

جیساکہ طبری نے اس نکتے کی  طرف اشارہ کیا ہے

قال الطبرى: قوله: ( لا تقتسم ورثتى دينارًا ولا درهمًا ) ليس بمعنى النهى... ومعنى الخبر أنه ليس تقتسم ورثتى دينارًا ولا درهمًا، لأنى لا أخلفهما بعدي.

اس جملے (درہم اور دینا میرے ورثے کے درمیان تقسیم نہیں ہوگا ) کا معنی نہی کرنا نہیں ہے۔ بلکہ یہ اس معنی میں ہے میں درہم اور دینار چھوڑ کر ہی نہیں جاوں گا لہذا میرے ورثاء کے لئے دینار آپس میں  تقسیم کرنے کی نوبت ہی نہیں آئے گی ۔

إبن بطال البكري القرطبي، أبو الحسن علي بن خلف بن عبد الملك (متوفاي449هـ)، شرح صحيح البخاري، ج 5، ص 258، تحقيق: أبو تميم ياسر بن إبراهيم، ناشر: مكتبة الرشد - السعودية / الرياض، الطبعة: الثانية، 1423هـ - 2003م.

اگر اس تفسیر اور تجزیے کو قبول کیا جائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے اموال کی صورت حال مشخص کیے تھے تو پھر جناب زہرا علیہا السلام جو مطالبہ کر رہی تھی وہ کس حساب سے تھا ؟

اس کے جواب میں ہم کہتے ہیں :

ارث کا مطالبہ کرنا اس بات پر دلیل ہے کہ ارث کو ان سے چھین لیا تھا، ارث کا مطالبہ اور اپنے حق سے دفاع اس صورت میں صحیح ہے کہ مطالبہ کرنے والا اس چیز پر ایمان اور اعتقاد رکھتا ہو کہ دوسرے نے ناحق ان کے طبعی حق سے اس کو محروم کیا ہے ۔ہم تیسری فصل میں اس موضوع پربحث کریں گے کہ بہت سے دلائل کی بنیاد پر حضرت زہرا سلام اللہ علیہا اس وقت کے حاکموں کو اپنے حق کا غاصب سمجھتی تھیں اور آپ کا یہی عقیدہ اس چیز پر واضح دلیل ہے کہ حاکموں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اموال کو چھین لیا تھا اور ان کے وارثوں کو ان کے  اموال تک رسائی سے محروم کیا تھا ۔

2. رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک تہائی سے زیادہ وصیت کرنے سے منع کیا ہے۔

رسول خدا (ص) نے ایک تہائی سے زیادہ اموال کے بارے میں وصیت سے منع کیا ہے ۔ چاہے یہ وصیت کرنے والا غنی اور مالدار ہی کیوں نہ ہو ،کیونکہ ایسی وصیت سے اس کے وارثوں کو نقصان پہنچتی ہے لہذا کوئی بھی ایک تہائی سے زیادہ اموال کے بارے میں وصیت کرنے کا حق نہیں رکھتا اور اگر ابوبکر کی حدیث کا وہی معنی لیا جائے جو اہل سنت معنی لیتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت کی ہے .

مندرجہ ذیل احادیث ہماری بات کی تائید کرتی ہیں ؛

بخاري نے نقل کیا ہے :

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِى وَقَّاصٍ - رضى الله عنه - قَالَ جَاءَ النَّبِىُّ - صلى الله عليه وسلم - يَعُودُنِى وَأَنَا بِمَكَّةَ، وَهْوَ يَكْرَهُ أَنْ يَمُوتَ بِالأَرْضِ الَّتِى هَاجَرَ مِنْهَا قَالَ « يَرْحَمُ اللَّهُ ابْنَ عَفْرَاءَ ». قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُوصِى بِمَالِى كُلِّهِ قَالَ: « لاَ » قُلْتُ فَالشَّطْرُ قَالَ: « لاَ » قُلْتُ الثُّلُثُ. قَالَ: «لا»فَالثُّلُثُ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ، إِنَّكَ أَنْ تَدَعَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ فِى أَيْدِيهِمْ، وَإِنَّكَ مَهْمَا أَنْفَقْتَ مِنْ نَفَقَةٍ فَإنها صَدَقَةٌ، حَتَّى اللُّقْمَةُ الَّتِى تَرْفَعُهَا إِلَى فِى امْرَأَتِكَ، وَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَرْفَعَكَ فَيَنْتَفِعَ بِكَ نَاسٌ وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ ». وَلَمْ يَكُنْ لَهُ يَوْمَئِذٍ إِلاَّ ابْنَةٌ.

 

سعد وقاص کہتا ہے : رسول خدا  صلی اللہ علیہ و الہ وسلم مکہ میں میری عیادت کے لئے تشریف لے آئے۔آپ کو یہ پسند نہیں تھا کہ ایسی جگہ پر مرے جہاں سے ہجرت کر کے گئے تھے ، آپ نے فرمایا : اللہ  عفراء کے بیٹے پر رحم کرئے ۔ میں نے کہا : یا رسول خدا! کیا میں اپنے سارے مال کے بارے میں وصیت کر سکتا ہوں ؟ اپ نے فرمایا : نہیں ، میں نے کہا : ادھا ؟ آپ نے فرمایا : نہیں، میں نے کہا : ایک تہائی ؟ فرمایا: ہاں، ایک تہائی بھی زیادہ ہے ۔ پھر فرمایا :

 تیرا وارث تم سے زیادہ مالدار ہو تو یہ اس چیز سے بہتر ہے کہ وہ کسی کا محتاج ہو ۔تم وارث کے لئے جو خرچ کرتا ہے۔ وہ تیرے لئے صدقہ حساب ہوگا حتی وہ لقمہ جو تیری بیوی کے منہ میں تم ڈالتے ہو اس کی وجہ سے یہ امید ہے کہ اللہ تجھے عزت دے اور لوگ تیری وجہ سے فائدہ اٹھائے {یہ اس وقت کی بات ہے کہ جس وقت سعد کے ہاں ایک بیٹی کے علاوہ کوئی اور اولاد نہ تھی ۔

البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، صحيح البخاري، ج 3، ص 1006، ح2591، كتاب الوصايا، بَاب أَنْ يَتْرُكَ وَرَثَتَهُ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ من أَنْ يَتَكَفَّفُوا الناس، تحقيق د. مصطفى ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407م ـ 1987م

 

مسلم نے اپنی صحیح میں نقل کیا ہے :

وحدثني الْقَاسِمُ بن زكريا حدثنا حُسَيْنُ بن عَلِيٍّ عن زَائِدَةَ عن عبد الْمَلِكِ بن عُمَيْرٍ عن مُصْعَبِ بن سَعْدٍ عن أبيه قال عَادَنِي النبي صلى الله عليه وسلم فقلت أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ قال لَا قلت فَالنِّصْفُ قال لَا فقلت أَبِالثُّلُثِ فقال نعم وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ.

سعد نے کہا : پيامبر (صلى الله عليه وآله) نے میری عیادت کی اور اور میں نے ان سے کہا : کیا تمام مال کے بارے میں وصیت کروں ؟ فرمایا : نہیں ۔ میں نے کہا : ادھا مال ؟ فرمایا : نہیں ۔ میں نے کہا : ایک تہائی ؟ فرمایا : ہاں ،لیکن یہ بھی زیادہ ہے  .. .

النيسابوري، مسلم بن الحجاج أبو الحسين القشيري (متوفاي261هـ)، صحيح مسلم، ج 3، ص 1252، ح1628،كِتَاب الْوَصِيَّةِ، بَاب الْوَصِيَّةِ بِالثُّلُثِ، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت.

سرخی کہ جو حنفى فقہاء میں سے ہے ، وہ اس روایت کی وضاحت میں کہتا ہے:  فِيهِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِلْمَرْءِ أَنْ يُوصِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ ثُلُثِهِ؛ لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ ذَمَّ الْمُعْتَدِينَ فِي الْوَصِيَّةِ. وَالتَّعَدِّي فِي الْوَصِيَّةِ، مُجَاوَزَةُ حَدِّهَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمْ الظَّالِمُونَ، وَفِي الْحَدِيثِ: الْحَيْفُ فِي الْوَصِيَّةِ أَكْبَرُ الْكَبَائِرِ، وَالْحَيْفُ هُوَ الظُّلْمُ وَالْمَيْلُ وَذَلِكَ بِمُجَاوَزَةِ الْحَدِّ الْمَحْدُودِ شَرْعًا بِأَنْ يُوصِيَ لِبَعْضِ وَرَثَتِهِ أَوْ يُوصِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ ثُلُثِ مَالِهِ عَلَى الْإِضْرَارِ بِوَرَثَتِهِ.

یہ روایت اس بات کی دلیل ہے کہ ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت کرنا مناسب نہیں ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایسے لوگوں کی مذمت کی ہے جنہوں نے وصیت کے ذریعے دوسروں کو ضرر اور نقصان پہنچایا ہے۔ اللہ نے کتاب میں ارشاد فرمایا ہے کہ جو اللہ کے قوانین اور حدود کی رعایت نہیں کرتا یہ لوگ ظالم ہے ۔ روایات میں یہ بات موجود ہے کہ وصیت کے ذریعے سے دوسروں کے حقوق کی رعایت نہ کرنا بڑے گناہوں میں سے ہے ۔ اللہ کے بنائے ہوئے شرعی قوانین کی خلاف ورزی کے مورد میں سے یہ ہے کہ بعض وارثوں کے بارے میں وصیت کرئے بعض کے بارے میں نہ کرئے اور ثلث سے زیادہ کی وصیت کرئے کہ جس سے دوسرے وارثوں کو نقصان کا سامنا ہو۔

السرخسي، شمس الدين أبو بكر محمد بن أبي سهل (متوفاي483هـ )، المبسوط، ج 27، ص 144، ناشر: دار المعرفة – بيروت.

 ابن قدامه  کہ جو حنبلی فقهاء میں سے ہے، وہ کہتا : بہتر یہ ہے مکمل ثلث کی وصیت بھی نہ کرئے:

 والاولى أن لا يستوعب الثلث بالوصية وان كان غنيا لقول النبي صلى الله عليه وسلم " والثلث كثير ب" قال ابن عباس لو أن الناس نقصوا من الثلث فان النبي صلى الله عليه وسلم قال " الثلث كثير " متفق عليه.

اگر ميت مالدار بھی ہو پھر بھی مکمل ثلث کی وصیت بھی نہ کرئے کیونکہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے : ایک تہائی کی وصیت بھی زیادہ ہے۔ ابن عباس نے بھی کہا ہے: لوگ اگر ثلث سے کم کی وصیت کرئے تو بہتر ہے کیونکہ آنحضرت نے فرمایا : ایک تہائی بھی زیادہ ہے ۔  ثلث سے زیادہ وصیت نہ کرنے والی بات پر اہل علم و دانش متفق ہیں ۔۔۔

المقدسي، عبد الله بن أحمد بن قدامة أبو محمد (متوفاي620هـ)، المغني في فقه الإمام أحمد بن حنبل الشيباني، ج 6، ص 56، ناشر: دار الفكر - بيروت، الطبعة: الأولى، 1405هـ؛ المقدسي، شمس الدين أبي الفرج عبد الرحمن بن محمد بن أحمد بن قدامة (متوفاي682هـ)، الشرح الكبير على متن المقنع، ج 6، ص 426.

اب گزشتہ مطالب کی کی رو سے کیا یہ کہنا صحیح ہے کہ رسول خدا (ص) لوگوں کو کسی کام کا شوق دلائے ، اس پر عمل کی تاکید کرئے اور دوسروں کو ایک کام کے کرنے کا حکم دے لیکن خود اس کے خلاف کام انجام دئے ؟

جبکہ قرآن مجید میں ہے :

« يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ * كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ أَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ ». الصف / 2 و 3.

 ایمان والو آخر وہ بات کیوں کہتے ہو جس پر عمل نہیں کرتے ہو اللہ کو یہ پسند نہیں ہے کہ تم لوگ وہ بات کرو جس کو تم انجام نہیں دیتے ۔

جبکہ رسول خدا (ص) لوگوں کے لئے نمونہ عمل تھے، اسی لئے الهي دستورات پر عمل کرنے میں آپ سب سے زیادہ کوشاں رہتے تھے کیونکہ جیساکہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: 

« قَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآَخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا ».

بتحقیق تمہارے لیے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور روز آخرت کی امید رکھتا ہو اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرتا ہو الأحزاب / 21.

3. ہر ایک کامال اس کےوارثوں کو ہی ملتا ہے؛

اس میں شک ہی نہیں کہ جب کوئی مرتا ہے تو اس کا مال اسی کے ہی سب سے قریبی رشتہ داروں کو ملتا ہے۔ لہذا مرنے والے کی میراث کا حقیقتی مالک میت کے وارث ہی ہے۔

بخاری نے اپنی کتاب میں اس سلسلے میں بہت سی روایات نقل کی ہیں ہم ان میں سے تین کو یہاں نقل کرتے ہیں ؛

حدثنا يحيى بن بُكَيْرٍ حدثنا اللَّيْثُ عن عُقَيْلٍ عن بن شِهَابٍ عن أبي سَلَمَةَ عن أبي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كان يُؤْتَى بِالرَّجُلِ الْمُتَوَفَّى عليه الدَّيْنُ فَيَسْأَلُ هل تَرَكَ لِدَيْنِهِ فَضْلًا فَإِنْ حُدِّثَ أَنَّهُ تَرَكَ وَفَاءً صلى وَإِلَّا قال لِلْمُسْلِمِينَ صَلُّوا على صَاحِبِكُمْ فلما فَتَحَ الله عليه الْفُتُوحَ قال أنا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ من أَنْفُسِهِمْ فَمَنْ تُوُفِّيَ من الْمُؤْمِنِينَ فَتَرَكَ دَيْنًا فَعَلَيَّ قَضَاؤُهُ وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ.

  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جب کسی ایسے شخص کا جنازہ لایا جاتا جس پر قرض ہوتا تو آپ  دریافت فرماتے کہ مرنے والے نے قرض کی ادائیگی کے لیے ترکہ چھوڑا ہے یا نہیں۔ اگر کہا جاتا کہ اتنا چھوڑا ہے جس سے ان کا قرض ادا ہو سکتا ہے تو آپ  ان کی نماز پڑھتے، ورنہ مسلمانوں سے کہتے کہ اپنے ساتھی پر تم ہی نماز پڑھ لو۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر فتوحات کے دروازے کھول دیئے تو فرمایا کہ میں مسلمانوں سے ان کی خود اپنی ذات سے بھی زیادہ قریب ہوں اس لیے ان مسلمانوں میں جو کوئی وفات پائے اور قرض چھوڑے تو اس کی ادائیگی کی ذمہ داری میری ہے اور جو کوئی مال چھوڑے وہ اس کے ورثاء کا ہے۔

البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، صحيح البخاري، ج 5، ص 2054، ح5056، كِتَاب النَّفَقَاتِ، بَاب قَوْلِ النبي (ص) من تَرَكَ كَلًّا أو ضَيَاعًا فَإِلَيَّ، تحقيق د. مصطفى ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 - 1987.

حدثنا عَبْدَانُ أخبرنا عبد اللَّهِ أخبرنا يُونُسُ عن بن شِهَابٍ حدثني أبو سَلَمَةَ عن أبي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال أنا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ من أَنْفُسِهِمْ فَمَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ ولم يَتْرُكْ وَفَاءً فَعَلَيْنَا قَضَاؤُهُ وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ.

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں مومنوں کا خود ان سے زیادہ حقدار ہوں۔ پس ان میں سے جو کوئی قرض دار مرے گا اور ادائیگی کے لیے کچھ نہ چھوڑے گا تو ہم پر اس کی ادائیگی کی ذمہ دار ہیں اور جس نے کوئی مال چھوڑا ہو گا وہ اس کے وارثوں کا حصہ ہے۔

 

البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، صحيح البخاري، ج 6، ص 2054، ح6350، كِتَاب الْفَرَائِضِ، بَاب قَوْلِ النبي صلى الله عليه وسلم من تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ، تحقيق د. مصطفى ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 - 1987.

حدثنا عبد اللَّهِ بن مُحَمَّدٍ حدثنا أبو عَامِرٍ حدثنا فُلَيْحٌ عن هِلَالِ بن عَلِيٍّ عن عبد الرحمن بن أبي عَمْرَةَ عن أبي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّ النبي صلى الله عليه وسلم قال ما من مُؤْمِنٍ إلا وأنا أَوْلَى بِهِ في الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ اقرؤوا إن شِئْتُمْ ) النبي أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ من أَنْفُسِهِمْ ( فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ مَاتَ وَتَرَكَ مَالًا فَلْيَرِثْهُ عَصَبَتُهُ من كَانُوا... .

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا، ہر مومن کا میں دنیا و آخرت میں سب سے زیادہ قریب ہوں۔ اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو «النبي أولى بالمؤمنين من أنفسهم‏» ”نبی صلی اللہ علیہ  وآلہ وسلم مومنوں سے ان کی جان سے بھی زیادہ قریب ہیں۔“ اس لیے جو مومن بھی انتقال کر جائے اور مال چھوڑ جائے تو چاہئے کہ ورثاء اس کے مالک ہوں۔ وہ جو بھی ہوں اور جو شخص قرض چھوڑ جائے یا اولاد چھوڑ جائے تو وہ میرے پاس آ جائیں کہ ان کا ولی میں ہوں۔

 البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، صحيح البخاري، ج 2، ص 845، ح2269، كِتَاب الِاسْتِقْرَاضِ وَأَدَاءِ الدُّيُونِ وَالْحَجْرِ وَالتَّفْلِيسِ، بَاب الصَّلَاةِ على من تَرَكَ دَيْنًا و ج 4، ص 1795، ح4503، كتاب التفسير، بَاب «النبي أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ من أَنْفُسِهِمْ»، تحقيق د. مصطفى ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 - 1987.

تیسری فصل: اهل بيت(ع) نے ابوبکر کی حدیث کی مخالفت کی ۔

ابوبکر کی طرف سے مذکور حدیث کا رد اور اس سے استدلال کے بے بنیاد ہونے کے سلسلے میں ایک اہم نکتہ اہل بیت علیہم السلام کا موقف ہے ،اہل سنت کی معتبر ترین کتابوں کے مطابق بھی اہل بیت علیہم السلام نے اس حدیث اور اس کے مضمون کو واضح طور ہر رد کیا .

ہم اس فصل کو دو حصوں میں بیان کریں گے ؛

حضرت زهراء (س) کی طرف سے مخالفت :

اس بحث کو شروع کرنے سے پہلے اہل سنت کی کتابوں میں حضرت زهراء (س) کے مقام  سے مختصر بحث کرنا مناسب ہے ، کیونکہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا  کے مقام سے آگاہی، آپ کی مخالفت کی  اہمیت  اور ان پر ہونے والے ظلم و ستم کی حقیقت آشکار کے لئے مدد گار ثابت ہوگی ۔۔

 الف: جنت کی عورتوں کی سردار

اہل سنت کی کتابوں میں واضح طور جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی اس فضیلت کا ذکر ہے، آپ کی یہی فضیلت صحیح بخاری میں موجود ہے اور یہ کتاب بی اہل سنت کے نذدیک قرآن مجید کے بعد سب سے زیادہ معتبر کتاب ہے؛

... فَقَالَ «أَمَا تَرْضَيْنَ أَنْ تَكُونِى سَيِّدَةَ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَوْ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ».

...رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : «کیا آپ اس چیز پر راضی نہیں کہ آپ جنت کی عورتوں کی یا مومنین کی عورتوں کی سردار ہو ؟ ».

البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، صحيح البخاري، ج 3، ص 1326، ح3426، كِتَاب الْمَنَاقِبِ، بَاب عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ في الْإِسْلَامِ، تحقيق د. مصطفى ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 - 1987.

ب:   ان کی رضایت اللہ کی رضایت اور انکی ناراضگی اللہ کی ناراضگی ہوا ۔

حاكم نيشابوري  نے لکھا ہے :

حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الحسن بن علي بن عفان العامري وأخبرنا محمد بن علي بن دحيم بالكوفة ثنا أحمد بن حاتم بن أبي غرزة قالا ثنا عبد الله محمد بن سالم ثنا حسين بن زيد بن علي عن عمر بن علي عن جعفر بن محمد عن أبيه عن علي بن الحسين عن أبيه عن علي رضي الله عنه قال قال رسول الله لفاطمة: « إِنَّ اللَّهَ يَغْضَبُ لِغَضَبِكِ وَيَرْضَى لِرِضَاكَ ».

هذا حديث صحيح الإسناد ولم يخرجاه.

... رسول خدا(ص) نے حضرت فاطمه (س) سے فرمایا : « اللہ آپ کی ناراضگی سے ناراض ہوتا ہے اور آپ کی خوشنودی سے خوشنود ہوتا  ہے ».

یہ حديث صحيح سند ہے لیکن صحیح بخاری اور مسلم نے اس کو نقل نہیں کیا ہے ۔

الحاكم النيسابوري، محمد بن عبدالله أبو عبدالله (متوفاي 405 هـ)، المستدرك على الصحيحين، ج 3، ص 167، ج4730، تحقيق: مصطفى عبد القادر عطا، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت الطبعة: الأولى، 1411هـ - 1990م

ج: پيامبر اكرم(ص) کے نذدیک سب سے زیادہ محبوب خاتون

حاكم نيشابوري نے ہی اس سلسلے میں نقل کیا ہے :

حدثنا أبو بكر محمد بن علي الفقيه الشاشي ثنا أبو طالب أحمد بن نصر الحافظ ثنا علي بن سعيد بن بشير عن عباد بن يعقوب ثنا محمد بن إسماعيل بن رجاء الزبيدي عن أبي إسحاق الشيباني عن جميع بن عمير قال دخلت مع أمي على عائشة فسمعتها من وراء الحجاب و هي تسألها عن علي فقالت تسألني عن رجل والله ما أعلم رجلا كان أحب إلى رسول الله من عليّ و لا في الأرض امرأة كانت أحب إلى رسول الله من امرأته.

هذا حديث صحيح الإسناد ولم يخرجاه.

جميع بن عمير  کہتا ہے : میں اپنی ماں کے ساتھ عائشہ کے پاس گیا ۔ میں سن رہا تھا اور جناب عائشہ پردے کے پیچھے حضرت علی علیہ السلام کے بارے میری ماں کے سوال کا جواب دیتی ہوئی کہہ رہی تھی : تم نے ایسے شخص کے بارے مجھ سے سوال کیا کہ اللہ کی قسم ان سے زیادہ کسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نذدیک میں نے محبوب نہیں دیکھا۔ زمین پر علی کی زوجہ جناب زیراء سلام اللہ علیہا سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ  وآلہ وسلم کے نذدیک کوئی محبوب خاتون نہیں تھیں ۔

الحاكم النيسابوري، محمد بن عبدالله أبو عبدالله (متوفاي 405 هـ)، المستدرك على الصحيحين، ج 3، ص 167، ح4731، تحقيق: مصطفى عبد القادر عطا، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت الطبعة: الأولى، 1411هـ - 1990م.

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا جناب خدیجہ اورعائشہ سے زیادہ بافضیلت ؛

بدر الدين عينى نے صحيح بخارى کی شرح میں اہل سنت کے نذدیک جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کا ، جناب خدیجہ اور عائشہ پر برتری کے بارے میں لکھتا ہے:

أن فاطمة سيدة نساء أهل الجنة، قال الكرماني: فهي أفضل من خديجة وعائشة، رضي الله تعالى عنهما.

یقینا فاطمہ جنت کی عورتوں کی سردار ہیں ، کرمانی نے کہا ہے : اس حدیث کے مطابق حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا جناب خدیجہ اور جناب عائشہ سے برتر ہے ۔

العيني، بدر الدين أبو محمد محمود بن أحمد الغيتابى الحنفى (متوفاي 855هـ)، عمدة القاري شرح صحيح البخاري، ج 16، ص 154، ناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.

ملا علي هروى نے بھی اس سلسلے میں لکھا ہے :

وقال الحافظ ابن حجر: فاطمة أفضل من خديجة وعائشة بالإجماع، ثم خديجة ثم عائشة.

حافظ ابن حجر نے کہا ہے : فاطمہ سلام اللہ علیہا، خديجه اور عائشه سے افضل ہیں ان کے بعد خدیجہ ہے اور خدیجہ کے بعد عائشہ افضل ہے۔

القاري، علي بن سلطان محمد الهروي، مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، ج 10، ص 403، تحقيق: جمال عيتاني، ناشر: دار الكتب العلمية - لبنان/ بيروت، الطبعة: الأولى، 1422هـ - 2001م.

 قاضي عبد النبى حنفى لکھتا ہے :

وقال الإمام علم الدين العراقي رحمه الله إن فاطمة وأخاها إبراهيم أفضل من الخلفاء الأربعة بالاتفاق.

وقال الإمام مالك رضي الله عنه ما أفضل على بضعة النبي أحدا.

وقال الشيخ ابن حجر العسقلاني رحمه الله فاطمة أفضل من خديجة وعائشة بالإجماع ثم خديجة ثم عائشة.

واستدل السهيلي بالأحاديث الدالة على أن فاطمة رضي الله عنها بضعة رسول الله.

 امام علم الدين عراقي سے نقل ہوا ہے : فاطمہ اور ان کے بھائی ابراہیم خلفاء اربعہ سے افضل ہیں۔

امام مالك سے نقل ہوا ہے :  کوئی بھی پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ سلم کے جسم کے حصے {جناب فاطمہ } سے زیادہ افضل نہیں ہے۔

ابن حجر عسقلاني نے کہا ہے : اہل سنت کے علماء کا اس پر اجماع ہے کہ جناب فاطمہ، خدیجہ ور عائشہ سے افضل ہیں، ان کے بعد جناب خدیجہ اور پھر جناب عائشہ افضل ہے ۔

سهيلي نے بھی ان کے افضل ہونے کو ثابت کرنے کے لئے ان احادیث سے استدلال کیا ہے کہ جو جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ  و آلہ وسلم کے جسم ک حصہ بتاتی ہیں ۔

الأحمد نكري، القاضي عبد النبي بن عبد الرسول الحنفي الهندي، دستور العلماء أو جامع العلوم في اصطلاحات الفنون، ج 1، ص 12، : تحقيق: عرب عباراته الفارسية: حسن هاني فحص، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2000م.

مناوى نے بھی جناب فاطمہ کا خلفاء پر برتری کے بارے میں لکھا ہے  :

وذكر العلم العراقي أن فاطمة وأخاها إبراهيم أفضل من الخلفاء الأربعة بالاتفاق.

علم الدين عراقي نے کہا ہے : اہل علم کا اتفاق نظر ہے کہ جناب فاطمہ اور ان کے بھائی ابراہیم خلفاء اربعہ سے افضل ہیں ۔

المناوي، محمد عبد الرؤوف بن علي بن زين العابدين (متوفاي 1031هـ)، فيض القدير شرح الجامع الصغير، ج 4، ص 422، ناشر: المكتبة التجارية الكبرى - مصر، الطبعة: الأولى، 1356هـ.

  عبد الرحمن سيوطى نے بھی جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کا تمام صحابہ سے افضل ہونے کے بارے میں اہل سنت کے نظرئے کو بیان کرتے ہیں ؛

قال مالك رضي الله عنه: لا أفضل على بضعة من النبي صلى الله عليه وسلّم أحداً.

امام  مالك نے کہا ہے : کوئی بھی پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وجود کے حصے سے افضل نہیں ہے .

السيوطي، جلال الدين عبد الرحمن بن أبي بكر (متوفاي911هـ)، الحاوي للفتاوي في الفقه وعلوم التفسير والحديث والاصول والنحو والاعراب وسائر الفنون، ج 2، ص 280، تحقيق: عبد اللطيف حسن عبد الرحمن، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2000م

هـ: بہشتی دسترخوان کا نزول

اہل سنت کے مشہور مفسر زمخشري نے اس سلسلے میں لکھا ہے :

وقد أخرج أبو يعلى عن جابر: «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أقام أياماً لم يطعم طعاماً حتى شق ذلك عليه فطاف في منازل أزواجه فلم يجد عند واحدة منهن شيئاً فأتى فاطمة فقال: يا بنية هل عندك شيء آكله فإني جائع؟ فقالت: لا والله فلما خرج من عندها بعثت إليها جارة لها برغيفين وقطعة لحم فأخذته منها فوضعته في جفنة لها وقالت: لأوثرن بهذا رسول الله صلى الله عليه وسلم على نفسي ومن عندي وكانوا جميعاً محتاجين إلى شبعة طعام فبعثت حسناً أو حسيناً إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فرجع إليها فقالت له: بي أنت و أمي قد أتى الله تعالى بشيء قد خبأته لك قال: هلمي يا بنية بالجفنة فكشفت عن الجفنة فإذا هي مملوءة خبزاً ولحماً فلما نظرت إليها بهتت وعرفت أنها بركة من الله تعالى فحمدت الله تعالى وقدمته إلى النبي صلى الله عليه وسلم فلما رآه حمد الله تعالى، وقال: من أين لك هذا يا بنية؟ قالت: يا أبتي هو من عند الله إن الله يرزق من يشاء بغير حساب فحمد الله سبحانه ثم قال: الحمد لله الذي جعلك شبيهة سيدة نساء بني إسرائيل فإنها كانت إذا رزقها الله تعالى رزقاً فسئلت عنه قالت: هو من عند الله إن الله يرزق من يشاء بغير حساب ثم جمع علياً والحسن والحسين وجمع أهل بيته حتى شبعوا وبقي الطعام كما هو فأوسعت فاطمة رضي الله تعالى عنها على جيرانها.

الزمخشري الخوارزمي، أبو القاسم محمود بن عمر جار الله، الكشاف عن حقائق التنزيل وعيون الأقاويل في وجوه التأويل، ج 1، ص 387، تحقيق: عبد الرزاق المهدي، بيروت، ناشر: دار إحياء التراث العربي؛ البيضاوي، ناصر الدين أبو الخير عبدالله بن عمر بن محمد (متوفاي685هـ)، أنوار التنزيل وأسرار التأويل (تفسير البيضاوي)، ج 2، ص 35، ناشر: دار الفكر – بيروت؛ القمي النيسابوري، نظام الدين (متوفاي 728 هـ)، تفسير غرائب القرآن ورغائب الفرقان، ج 2، ص 151، تحقيق: الشيخ زكريا عميران، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت / لبنان، الطبعة: الأولى، 1416هـ - 1996م ؛ الزيلعي، عبدالله بن يوسف أبو محمد الحنفي (متوفاي762هـ)، تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في تفسير الكشاف للزمخشري، ج 1، ص 184، تحقيق: عبد الله بن عبد الرحمن السعد، ناشر: دار ابن خزيمة - الرياض، الطبعة: الأولى، 1414هـ؛ الآلوسي البغدادي، العلامة أبي الفضل شهاب الدين السيد محمود (متوفاي1270هـ)، روح المعاني في تفسير القرآن العظيم والسبع المثاني، ج 3، ص 142، ناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.

 حضرت زہرا(س) کے لیے جنت سے مائدے کا نزول

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اپنے پروردگار کے یہاں اتنی عزیز تھیں کہ کئی بار آپ کے لیے آسمان سے مائدے نازل ہوئے۔ ایک مرتبہ پیغمبر گرامی اسلام (ص) کو شدت سے بھوک کا احساس ہو رہا تھا بدن میں کمزوری آگئی تھی اور گھر میں کسی بھی زوجہ کے پاس آپ کے لیے طعام نہیں تھا۔ آپ نے جناب زہرا(س) کے گھر کا رخ کیا تاکہ خانہ زہرا (س) میں شاید آپ کو کھانے کے لیے کچھ مل جائے۔ لیکن جناب زہرا (س) اور آپ کے بچے سب فاقہ میں تھے گھر میں کچھ بھی کھانے کو نہیں تھا۔

رسول خدا (ص) بیٹی کے گھر سے بھی واپس چلے گئے۔ آپ کو گھر سے نکلے ہوئے ابھی کچھ لمحے ہی گزرے تھے کہ ایک پڑوسی روٹی کے دو ٹکرے اور کچھ مقدار میں گوشت لے کر دروازے پر آیا۔ جناب زہرا (س) نے دل میں سوچا کہ خدا کی قسم میں اور میرے بچے بھوک برداشت کر لیں گے اور میں یہ کھانا بابا کو کھلاوں گی۔ جناب حسنین(ع) کو رسول خدا (ص) کے پیچھے بھیجا تاکہ انہیں دوبارہ گھر میں بلا کر لائیں۔

حضرت رسول خدا (ص) گھر میں واپس آئے جناب زہرا (س) نے پڑوسی کے گھر سے دیا ہوا کھانا جو اوپر سے ڈھک کر رکھا ہوا تھا لا کر رسول خدا (ص) کے سامنے رکھا اور اوپر سے ڈکن اتارا تو دیکھا کہ ظرف کھانے سے بھرے ہوئے ہیں۔ جناب زہرا (س) کو تعجب ہوا کہ کھانا تو صرف ایک آدمی کا تھا! آپ تعجب کی نگاہوں سے کھانے کی طرف دیکھ رہی تھیں کہ رسول خدا (ص) نے فرمایا: اے بیٹی! یہ کھانا کیسے اور کہاں سے آیا ہے؟ جناب زہرا (س) نے کہا:  یہ اللہ کی جانب سے ہے۔ بیشک اللہ جسے چاہتا ہے بغیر حساب کے رزق عطا کرتا ہے۔ رسول خدا (ص)نے جب بیٹی کی یہ بات سنی تو فرمایا: اس خدا کا شکر ہے جس نے تمہیں مریم کی طرح قرار دیا جو بنی اسرائیل کی عورتوں کی سردار تھیں اس لیے کہ ان پر بھی خدا جب اپنے لطف و عنایت سے کوئی مائدہ بھیجتا تھا تو وہ کہتی تھیں: یہ اللہ کی جانب سے ہے بیشک اللہ جسے چاہتا ہے بغیر حساب کے رزق دیتا ہے۔

اس کے بعد رسول خدا (ص) نے علی (ع)کو بھی بلوایا اور سب نے مل کر کھانا تناول کیا ازواج رسول کو بھی دعوت دی گئی انہوں نے بھی آسمانی مائدے سے تناول کیا۔ حتی کہ جناب زہرا (س) نے اپنے پڑوسیوں کو بھی اس میں سے عطا کیا۔

  و: فاطمه زهراء (س)، رسول اللہ صلی اللہ  علیہ و آلہ وسلم کے وجود کا حصہ ۔

بخاري نے جناب فاطمہ(س) کے بارے میں اہل سنت کے نظریے کو نقل کیا ہے :

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ أَبِى مُلَيْكَةَ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ - رضى الله عنهما - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ: «فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّى، فَمَنْ أَغْضَبَهَا أَغْضَبَنِى».

... رسول خدا صلى الله عليه و آلہ وسلم نے فرمایا : « فاطمه میرے وجود کا حصہ ہے جس نے ان کو ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا ».

البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، صحيح البخاري، ج 3، ص 1361، ح3510، كتاب فضائل الصحابة، بَاب مَنَاقِبِ قَرَابَةِ رسول اللَّهِ (ص) وَمَنْقَبَةِ فَاطِمَةَ عليها السَّلَام و ج 3، ص 1374، ح3556، كتاب فضائل الصحابة بَاب مَنَاقِبِ فَاطِمَةَ عليها السَّلَام، تحقيق د. مصطفى ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 - 1987.

مسلم نے بھی اس سلسلے میں نقل کیا ہے :

حدثني أبو مَعْمَرٍ إسماعيل بن إبراهيم الْهُذَلِيُّ حدثنا سُفْيَانُ عن عَمْرٍو عن بن أبي مُلَيْكَةَ عن الْمِسْوَرِ بن مَخْرَمَةَ قال قال رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إنما فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي يُؤْذِينِي ما آذَاهَا.

... رسول خدا صلى الله عليه وسلم نے فرمایا : « فاطمه میرے وجود کا حصہ ہے جس نے انہیں تکلیف پہنچائی اس نے مجھے تکلیف پہنچائی ».

النيسابوري، مسلم بن الحجاج أبو الحسين القشيري (متوفاي261هـ)، صحيح مسلم، ج 4، ص 1903، ح2449، كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رضي الله عنهم، بَاب فَضَائِلِ فَاطِمَةَ بِنْتِ النبي عليها الصَّلَاة وَالسَّلَامُ، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت.

اہل سنت کی معتبر کتابوں میں موجود جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی منزلت اور شخصیت کے پرمشتمل کچھ روایات نقل کرنے کے بعد اب ہم جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کی طرف سے ابوبکر کی حدیث کی مخالفت کی بحث کی طرف پلٹ آتے ہیں  کہ جو تین طریقے سے انجام پائی؛  

حضرت زهرا(س) کے مطالبات 

ابوبکر کے مقابلے میں حضرت زہراء (س)نے اپنے شرعی اور الہی حق کا مطالبہ کیا اور اس سلسلے میں اپنے مطالبات کو بیان فرمایا اور یہ آپ کی طرف سے ابوبکر کی حدیث کی مخالفت کی نشانی ہے ۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ یہ مطالبات دو طریقے سے انجام پائے :

الف: غير حضوري مطالبه

پہلے آپ حاضر نہیں ہوئیں ۔بلکہ آپ نے بعض افراد کے ساتھ پیغام بھیج کر اپنے والد بزرگوار کے حق ارث کا مطالبہ کیا۔

بخاري اس سلسلے میں لکھتا ہے :

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِىِّ قَالَ حَدَّثَنِى عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ فَاطِمَةَ - عَلَيْهَا السَّلاَمُ - أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِى بَكْرٍ تَسْأَلُهُ ميراثها مِنَ النَّبِىِّ - صلى الله عليه وسلم - فِيمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ - صلى الله عليه وسلم -، تَطْلُبُ صَدَقَةَ النَّبِىِّ - صلى الله عليه وسلم - الَّتِى بِالْمَدِينَةِ وَفَدَكٍ وَمَا بَقِىَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ.

... عائشہ نقل کیا ہے : فاطمہ سلام علیہا نے ابوبکر   کے یہاں اپنا آدمی بھیج کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملنے والی میراث کا مطالبہ کیا جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فی کی صورت میں دی تھی۔ یعنی آپ کا مطالبہ مدینہ کی جائیداد ، فدک کی جائیداد اور خیبر کے خمس کا مطالبہ تھا۔

البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، صحيح البخاري، ج 3، ص 1360، ح3508، كتاب فضائل الصحابة، بَاب مَنَاقِبِ قَرَابَةِ رسول اللَّهِ (ص) وَمَنْقَبَةِ فَاطِمَةَ عليها السَّلَام، تحقيق د. مصطفى ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 - 1987.

ب: حضوري مطالبه

جب جناب زہرا سلام اللہ علیہا نے یہ دیکھی کہ غیر حضوری مطالبے کا فائدہ نہیں تو آپ خود اپنے مطالبات کو بیان کرنے کے لئے ابوبکر کے پاس چلی گئیں۔

بخاري اس سلسلے میں لکھتا ہے :

 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى أَخْبَرَنَا هِشَامٌ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ فَاطِمَةَ - عَلَيْهَا السَّلاَمُ - وَالْعَبَّاسَ أَتَيَا أَبَا بَكْرٍ يَلْتَمِسَانِ مِيرَاثَهُمَا، أَرْضَهُ مِنْ فَدَكٍ، وَسَهْمَهُ مِنْ خَيْبَر.

...  فاطمہ اور عباس علیہما السلام، ابوبکر کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرف سے اپنی میراث کا مطالبہ کرنے آئے، یہ فدک کی زمین کا مطالبہ کر رہے تھے اور خیبر میں بھی اپنے حصہ کا۔

البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، صحيح البخاري، ج 4، ص 1481، ح3810، كِتَاب الْمَغَازِي، بَاب حديث بَنِي النَّضِيرِ و ج 6، ص 2474، ح6346، كِتَاب الْفَرَائِضِ، بَاب قَوْلِ النبي صلى الله عليه وسلم لَا نُورَثُ ما تَرَكْنَا صَدَقَةٌ، تحقيق د. مصطفى ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 - 1987.

ان دو حديثوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے اپنا حق واپس لینے اور اپنے والد کے ارث سے اپنے حصے کے مطالبے کے لئے  اقدام کیا تھا۔ اب اگر یہ مال بیت المال کا حصہ ہو اور دوسرے کا مال ہو تو کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دامن میں پروش ور تربیت پانے والی یہ ہستی دوسروں کے مال اور حق کو اپنے لئے مطالبہ کر رہی تھیں؟

یقینا فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا دوسرے مسلمانوں سے زیادہ دینی احکام سے واقف تھیں اور آپ جانتی تھیں کہ دوسروں کے مال میں  تصرف اور دوسروں کے مال کو استعمال کرنا باطل اور ناحق طریقے سے مال کھانے کا مصداق ہے اور یہ گناہ اور حرام ہے ۔جیساکہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے:

]وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِل وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ[.

اور خبردار ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقے سے نہ کھانااور نہ حکام کے حوالہ کر دینا کہ رشوت دےکر حرام طریقے سے لوگوں کے اموال کو کھا جاﺅ،جب کہ تم جانتے ہو کہ یہ تمہارا مال نہیں ہے۔  

البقرة / 188.

اور کیونکہ سابقہ آیت میں ناحق اور باطل طریقے سے کسی مال کھانے کو گناہ اور پلیدی کہا ہے ۔ اللہ نے  اپنے ارادے سے  اهل بيت کو ہرقسم کی نجاست اور پلیدی سے پاک قرار دیا ہے جیساکہ اللہ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے :

« إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمْ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيراً ».

بس اللہ کا ارادہ یہ ہے اے اہلبیت علیھ السّلام کہ تم سے ہر برائی کو دور رکھے اور اس طرح پاک و پاکیزہ رکھے جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے الاحزاب/33

  مسلم بن حجاج نيشابوري نے اللہ کی طرف سے اہل بیت کی اس طهارت کو یوں نقل کیا ہے  :

حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة ومحمد بن عبدالله بن نمير واللفظ لأبي بكر قالا حدثنا محمد بن بشر عن زكرياء عن مصعب بن شيبة عن صفية بنت شيبة قالت قالت عائشة : خرج النبي صلى الله عليه و سلم غداة وعليه مرط مرحل من شعر أسود فجاء الحسن بن علي فأدخله ثم جاء الحسين فدخل معه ثم جاءت فاطمة فأدخلها ثم جاء علي فأدخله ثم قال: «إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا».

 

عائشہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  وسلم صبح کو نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک چادر اوڑھے ہوئے تھے ۔۔۔  اتنے میں   حسن علیہ السلام  آئے، آپ نے ان کو اس چادر کے اندر کر لیا، پھر حسین علیہ السلام  آئے ان کو بھی اندر کر لیا، پھر فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا آئیں ان کو بھی اندر کر لیا، پھر علی علیہ السلام  آئے ان کو بھی اندر کر لیا بعد اس کے فرمایا «إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّـهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا» (٣٣-الأحزاب: ۳۳یعنی اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ آپ اہل بیت سے ناپاکی کو دور کرنا اور آپ لوگوں کو پاک کرنا چاہتا ہے۔   

النيسابوري، مسلم بن الحجاج أبو الحسين القشيري (متوفاي261هـ)، صحيح مسلم، ج 4، ص 1883، ح2424، كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ، بَاب فَضَائِلِ أَهْلِ بَيْتِ النبي صلى الله عليه وسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت.

 نتیجہ : حضرت زهرا(س) کی درخواست اور آپ کا مطالبہ حق تھا اور ابوبکر کی طرف سے اس حق کو دینے سے انکار پر کوئی عقلی،شرعی  اور عرفی دلیل نہِن تھی کہ جو ان کی بات کی تائید کرئے .

دو باطل ادعا

صحيح بخارى اور صحیح مسلم سے جو احادیث ہم نے نقل کی ہیں،یہ احادیث ان لوگوں کے حدیث "نحن معاشر الانبیاء ۔۔۔۔ " کے ذریعے سے ارث والی آیات کی تخصیص کا " تمام مسلمانوں کا اجماعی اور اتفاقی نظریہ ۔" ہونے کے ادعا کو باطل کرتی ہیں، کیونکہ حضرت زہرا بھی تو مسلمان کا جزء ہیں ۔

اسی لئے یہ احادیث ان لوگوں کی باتوں کو بھی باطل قرار دیتی ہیں جو حضرت زهرا(س) کے مطالبات کو رسول خدا (ص) کی بخشش اور ہدیوں تک محدود سمجھتے ہیں ، جن لوگوں نے ایسا مدعا پیش کیا ہے ان میں سے ایک رزكشى کہ جو سمعانی کی بات نقل کرنے کے بعد کہتا ہے :

وَاحْتَجَّ ابْنُ السَّمْعَانِيِّ فِي بَابِ الْأَخْبَارِ عَلَى الْجَوَازِ، بِإِجْمَاعِ الصَّحَابَةِ، فَإِنَّهُمْ خَصُّوا قَوْله تَعَالَى: { يُوصِيكُمْ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ } بِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: إنَّا مَعْشَرَ الْأَنْبِيَاءِ لَا نُورَثُ فَإِنْ قَالُوا: إنَّ فَاطِمَةَ ( رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ) طَلَبَتْ الْمِيرَاثَ؟ قُلْنَا: إنَّمَا طَلَبَتْ النُّحْلَى لَا الْمِيرَاثَ.

اصحاب کا اس بات پر اجماع ہے کہ ابوبکر کی طرف سے نقل شدہ حدیث[ جس میں یہ کہا : ہم انبیاء ارث چھوڑ کر نہیں جاتے۔۔} یہ ارث والی آیات ،کے لئے تخصیص ہے ۔ پس اگر ایسا ہی ہے تو فاطمه نے ارث کا مطالبہ کیوں کیا ؟ ہم کہتے ہیں : ارث کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ ان کے والد کے لئے لائے گئے ہدایا اور تحفوں کا مطالبہ کیا ۔

الزركشي، بدر الدين محمد بن بهادر بن عبد الله (متوفاي794هـ)، البحر المحيط في أصول الفقه، ج 2، ص 497، : تحقيق: ضبط نصوصه وخرج أحاديثه وعلق عليه: د. محمد محمد تامر، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2000م.

کیا حضرت زهراء علیہ السلام  نے  ابوبكر والی حديث کو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  سے نہیں سنی تھی؟

اہل سنت کے بعض لوگ حضرت زہرا(ص)کی طرف سے اپنے حق کے مطالبے کے لئے عذر تراشنے کی کوشش میں ایک ان کا یہ کہنا ہے کہ  شاید حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کو اس حدیث کا علم نہیں تھا اسی لئے آپ نے ارث کا مطالبہ کیا۔

اس توجیہ اور عذر کا جواب یہ ہے ؛

پہلی بات : کیا یہ عقل قبول کرتی ہے کہ رسول خدا (ص)نے اس قدر اہم موضوع کو دوسروں سے مخفی رکھا ہو اور اپنے نذدیک ترین فرد کو اس کے بارے میں کچھ نہ بتایا ہو ؟

قابل توجہ بات یہ ہے کہ اہل سنت کے ہی بڑے مفسر جناب فخر رازی نے اس توجیہ اور عذر تراشی کے جواب میں لکھا ہے :

... أن المحتاج إلى معرفة هذه المسألة ما كان إلا فاطمة وعلي والعباس وهؤلاء كانوا من أكابر الزهاد والعلماء وأهل الدين، وأما أبو بكر فانه ما كان محتاجا إلى معرفة هذه المسألة البتة، لأنه ما كان ممن يخطر بباله أنه يرث من الرسول عليه الصلاة والسلام فكيف يليق بالرسول عليه الصلاة والسلام أن يبلغ هذه المسألة إلى من لا حاجة به إليها ولا يبلغها إلى من له إلى معرفتها أشد الحاجة.

جن لوگوں کو اس حکم کو جاننے کی ضرورت تھی وہ جناب فاطمہ حضرت علی اور عباس ہی تھے ۔ یہ لوگ بھی دین کے بزرگ اور زاہد لوگ تھے ۔لیکن ابوبکر کو تو اس مسئلے کی ضرورت نہیں تھا کیونکہ ان کے ذہن میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ انہیں رسول اللہ ص سے کچھ ارث میں بھی ملے گا ۔ اب جن کو اس حکم کے جاننے کی ضرورت تھی ان تک یہ حکم نہ پہنچے اور جن کو اس حکم کو جاننے کی ضرورت نہیں تھی یہ حکم ان تک پہنچ جائے ۔

الرازي الشافعي، فخر الدين محمد بن عمر التميمي (متوفاي604هـ)، التفسير الكبير أو مفاتيح الغيب، ج 9، ص 171، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2000م.

دوسری بات: جیساکہ بعد میں ذکر ہوگا کہ ابوبکر کی طرف سے اس حدیث سے استدلال کے بعد جناب زهرا (س) غضبناك ہوئیں اور یہی اس توجیہ کے بے اساس ہونے کی دلیل ہے کیونکہ اس حدیث کو سننے کے بعد آپ سخت ناراض ہوئی اور واضح انداز میں اپنی مخالفت کا اظہار کیا ۔لہذا یہی موقف اس بات پر دلیل ہے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف اس حدیث کی نسبت ہی بے بنیاد ہے یا اس حدیث سے استدلال کر کے حضرت فاطمہ سلام علیہا کو ان کے حق سے محروم کرنا باطل ہے ۔

ذیل کے الفاظ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی طرف سے اس حدیث کی نفی اور اور سخت موقف اختیار کرنے کی دلیل ہے ؛

 جیساکہ بخاری لکھتا ہے :

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِى عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ - رضى الله عنها - أَخْبَرَتْهُ أَنَّ فَاطِمَةَ - عَلَيْهَا السَّلاَمُ - ابْنَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - سَأَلَتْ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - أَنْ يَقْسِمَ لَهَا مِيرَاثَهَا، مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ « لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ». فَغَضِبَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - فَهَجَرَتْ أَبَا بَكْرٍ، فَلَمْ تَزَلْ مُهَاجِرَتَهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ وَعَاشَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - سِتَّةَ أَشْهُرٍ.

جناب عائشہ نقل کرتی ہے : رسول خدا صلى الله عليه و آله کی وفات کے بعد فاطمه نے ابوبكر سے اپنے والد کی ميراث کا مطالبه کیا، ابوبكر نے کہا : رسول خدا نے فرمایا ہے : ہم انبیاء کوئی چیز ارث چھوڑ کر نہیں جاتے ،جو چھوڑے جاتے ہیں وہ صدقه ہے، فاطمه غضبناك ہوئیں اور ابوبکر کے ہاس سے ناراض ہوکر چلی گئیں  اور دنیا سے جانے تک اسی حالت میں رہیں ۔ آپ  رسول اللہ ص کے بعد چھے ماہ تک زندہ رہیں۔

البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، صحيح البخاري، ج 3، ص 1126، ح2926، أبواب الخمس، باب فَرْضِ الْخُمُسِ، تحقيق د. مصطفى ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 – 1987

 

 

 

 

 

فدک کے مسئلے پر ایک سرسری نگاہ

جیساکہ فدک حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے حضوری اور غیر حضوری مطالبات میں سے ایک ہے ۔ ہم اس فصل میں فدک کے مسئلے  پر جدا گانہ بحث کریں گے ۔

 ممکن ہے کوئی یہ کہے کہ ابوبکر حضرت زہرا علیہا اسلام کی خبر واحد{یعنی زہرا ع کا یہ کہنا کہ فدک رسول اللہ ص نے مجھے عطاء کیا ہے}کی وجہ سے فدک واپس نہیں کرسکتا تھا اسی لئے گواہ لانے کا مطالبہ کیا اور جب حضرت زہراء (س) نے گواہ پیش نہیں کیا تو فدک ان کو نہیں دیا ۔کیونکہ  صرف کسی کے ادعا اور کہنے سے کسی کے حق میں فیصلہ نہیں کیا جاتا ۔  

جواب: فدک کا مسئلہ اسلامی تاریخ میں عروج و زوال  کا شکار رہا۔ لہذا ہم اس بحث کو چھے موضوعات کے ضمن میں مختصر طور پر یہاں بیان کرتے ہیں  ؛

1. فدك، رسول خدا (ص) کا ذاتی مال تھا ؛

فدك مکمل طور پر رسول خدا (ص) کے ذاتی اورشخصی مال شمار ہوتا ہے ؛ اہل سنت نے بھی اس مطلب کو بیان کیا ہے ،انہیں میں سے ایک ابن سلام ہے جنہوں نے اپنی مشہور کتاب "الاموال"  میں اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ذاتی مال میں شمار کیا ہے :

قال أبو عبيد: أول ما نبدأ به من ذكر الأموال ما كان منها لرسول الله خالصا دون الناس وذلك ثلاثة أموال:

 أولها: ما أفاء الله على رسوله من المشركين مما لم يوجف المسلمون عليه بخيل ولا ركاب وهي فدك وأموال بني النضير فإنهم صالحوا رسول الله على أموالهم وأرضيهم بلا قتال كان منهم ولا سفر تجشمه المسلمون إليهم؛

والمال الثاني: الصفي الذي كان رسول الله يصطفيه من كل غنيمة يغنمها المسلمون قبل أن يقسم المال؛

 والثالث: خمس الخمس بعد ما تقسم الغنيمة وتخمس وفي كل ذلك آثار قائمة معروفة.

ابوعبيد (ابن سلام) کہتا ہے : سب سے پہلے رسول اللہ (ص)  کے شخصی اور ذاتی اموال کی تحقیق کرتے ہیں اور یہ تین طرح کے ہیں :

1.     مشرکوں کے وہ اموال جس کو اللہ نے اپنے رسول کو بخش دیا تھا ۔ انہیں اموال میں سے بعض وہ تھا جو جنگ کے بغیر ہاتھ آیا تھا ۔ انہیں میں سے باغ فدک بھی ہے یہ بنی نضیر کی ملکیت تھی اور بنی نضیر والوں نے  صلح کے ساتھ اپنے اموال کو پیش کیا،

 2. وہ اموال کہ جس کو رسول خدا (ص)  نےجنگی غنائم سے اپنے لئے انتخاب کیا تھا ؛ 3. غنائم کی تقسیم کے بعد غنائم کا خمس.

أبو عبيد القاسم بن سلام (متوفاي224هـ )، كتاب الأموال، ج 1، ص 14، باب باب صنوف الأموال التي يليها الأئمة للرعية وأصولها في الكتاب والسنة ، ناشر: دار الفكر. - بيروت. تحقيق: خليل محمد هراس، 1408هـ - 1988م.

ابن جرير طبرى، ثعلبى، بغوى  اور  ابن خازن نے اپنی تفسیروں میں اور شمس الدين ذهبى نے اپنی تاریخ میں اس سلسلے میں لکھا ہے:

... فكانت خيبر فيئا للمسلمين وكانت فدك خالصة لرسول الله لأنهم لم يجلبوا عليها بخيل ولا ركاب.

... خیبر سارے مسلمانوں کا تھا لیکن فدك صرف رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا تھا  کیونکہ یہ لشکر کشی کے بغیر فتح ہوا تھا .

الطبري، أبي جعفر محمد بن جرير (متوفاي310)، تاريخ الطبري، ج 2، ص 138، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت؛ الذهبي، شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان، (متوفاي748هـ)، تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام، ج 2، ص 422، تحقيق د. عمر عبد السلام تدمرى، ناشر: دار الكتاب العربي - لبنان/ بيروت، الطبعة: الأولى، 1407هـ - 1987م؛ الثعلبي النيسابوري أبو إسحاق أحمد بن محمد بن إبراهيم (متوفاي427هـ) الكشف والبيان، (متوفاي 427 هـ - 1035م)، ج 9، ص 52، تحقيق: الإمام أبي محمد بن عاشور، مراجعة وتدقيق الأستاذ نظير الساعدي، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت، الطبعة: الأولى، 1422هـ-2002م؛ البغوي، الحسين بن مسعود (متوفاي516هـ)، تفسير البغوي، ج 4، ص 197، تحقيق: خالد عبد الرحمن العك، ناشر: دار المعرفة - بيروت؛ البغدادي الشهير بالخازن، علاء الدين علي بن محمد بن إبراهيم (متوفاي725هـ )، تفسير الخازن المسمى لباب التأويل في معاني التنزيل، ج 6، ص 201، ناشر: دار الفكر - بيروت / لبنان - 1399هـ ـ 1979م.

 ماوردى شافعى نے بھی لکھا ہے :

ولما سمع أهل فدك ما فعل بأهل خيبر بعثوا إلى رسول الله (ص) أن يحقن دماءهم، ويسيرهم ويخلوا له أموالهم، ومشى وبينه وبينهم محيصة بن مسعود فاستقر على هذا، وصارت فدك خالصة لرسول الله (ص)؛ لأنه أخذها بلا إيجاف خيل ولا ركاب، فكانت فيئا له.

جب فتح خيبر کی خبر فدک والوں تک پہنچی تو انہوں نے کسی کے ساتھ پیغمبر {ص} کے پاس صلح کرنے کے لئے پیغام بھیجا ۔تاکہ ان کے مال و اموال پیغمبر کے اختیار میں دینے کے بدلے میں ان کی جانیں محفوظ رہے ۔ لہذا اس طرح فدک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مخصوص ہوگیا کیونکہ کسی لشکر نے اس کو فتح نہیں کیا تھا ۔ یہ ایک ہدیہ الہی تھا۔

الماوردي البصري الشافعي، علي بن محمد بن حبيب (متوفاي450هـ)، الحاوي الكبير في فقه مذهب الإمام الشافعي وهو شرح مختصر المزني، ج 14، ص 55، تحقيق الشيخ علي محمد معوض - الشيخ عادل أحمد عبد الموجود، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت - لبنان، الطبعة: الأولى، 1419 هـ -1999 م.

  علاء الدين كاشانى اس سلسلے میں لکھتا ہے :

وَرُوِيَ عن سَيِّدِنَا عُمَرَ رضي اللَّهُ عنه أَنَّهُ قال كانت أَمْوَالُ بَنِي النَّضِيرِ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عز وجل على رَسُولِهِ وَكَانَتْ خَالِصَةً له وكان يُنْفِقُ منها على أَهْلِهِ نَفَقَةَ سَنَةٍ وما بَقِيَ جَعَلَهُ في الْكُرَاعِ وَالسِّلَاحِ.

وَلِهَذَا كانت فَدَكُ خَالِصَةً لِرَسُولِ اللَّهِ إذْ كانت لم يُوجِفْ عليها الصَّحَابَةُ رضي اللَّهُ عَنْهُمْ من خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ فإنه رُوِيَ أَنَّ أَهْلَ فَدَكَ لَمَّا بَلَّغَهُمْ أَهْلُ خَيْبَرَ أَنَّهُمْ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يُجْلِيَهُمْ وَيَحْقِنَ دِمَاءَهُمْ وَيُخَلُّوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَمْوَالِهِمْ بَعَثُوا إلَى رسول اللَّهِ وَصَالَحُوهُ على النِّصْفِ من فَدَكَ فَصَالَحَهُمْ عليه الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ على ذلك.

عمر سے نقل ہوا ہے : بني نضير کے اموال رسول خدا (ص) کے ساتھ مخصوص تھا آپ اپنے گھر والوں کا خرچہ اس سے نکالتے تھے اور جو بچ جاتا تھا اس سے گھوڑے اور اسلحہ خریدتے تھے .

فدك رسول خدا کا ہی تھا  کیونکہ اس کو فتح کرنے میں کسی صحابی نے حصہ نہیں لیا تھا ۔جیساکہ روایت میں ہے کہ فدک والوں نے فتح خیبر کی خبر سننے کے بعد یہ پیشکش کیا کہ ان کی جانیں محفوظ رہے تو فدک کی آمدنی کا آدھا حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دے دیا جائے گا۔

الكاشاني، علاء الدين (متوفاي587هـ)، بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، ج 7، ص 116، : ناشر: دار الكتاب العربي - بيروت، الطبعة: الثانية، 1982م.

  ابوالفداء نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے :

وكان فتح خيبر في صفر، سنة سبع للهجرة، وسأل أهل خيبر رسول الله صلى الله عليه وسلم الصلح، على أن يساقيهم على النصف من ثمارهم، ويخرجهم متى شاء، ففعل ذلك، وفعل ذلك أهل فدك فكانت خيبر للمسلمين، وكانت فدك خالصة لرسول الله صلى الله عليه وسلم لأنها فتحت بغير إيجاف خيل.

أبو الفداء عماد الدين إسماعيل بن علي (متوفاي732هـ)، المختصر في أخبار البشر، ج 1، ص 94.

 خيبر صفر کے مہنے میں سات ہجری کو فتح ہوا اور یہ پیشکش کی کہ آدھی آمدنی کے مقابلے میں ان کی جانیں محفوظ رہے اور جس وقت چاہئے انہیں باہر نکال دے۔ فدک والوں نے بھی جب یہ خبر سنی تو جنگ کے بغیر تسلیم ہوگئے لہذا خیبر سارے مسلمانوں کا مال ہے لیکن فدک رسول اللہ ص کے ساتھ مخصوص ہے۔

أبو الفداء عماد الدين إسماعيل بن علي (متوفاي732هـ)، المختصر في أخبار البشر، ج 1، ص 94.

ابن زنجويه لکھتا ہے :

... وأما فدك فكانت على ما جاء فيها من الصلح فلما أخذوا قيمة بقية أرضهم، خلصت كلها لرسول الله.

... فدک کیونکہ صلح کے ساتھ ہاتھ آیا ہے اور باقی کی قیمت ادا کرنے کے بعد پورا فدک رسول اللہ ص سے ہی مخصوص ہوگیا ۔

الخرساني، أبو أحمد حميد بن مخلد بن قتيبة بن عبد الله المعروف بابن زنجويه (متوفاى251هـ) الأموال، ج 1، ص 67.

اسی طرح ایک دوسری سند کے مطابق باقی زمینوں کو تقسیم کی گئی لیکن فدک تقسیم نہیں ہوئی کیونکہ یہ آپ کا ہی تھا ؛

يحيي بن آدم نے اس سلسلے میں لکھا ہے :

اخبرنا اسماعيل قال حدثنا الحسن قال حدثنا يحيى قال حدثنا أبو بكر ابن عياش عن الكلبي عن أبي صالح عن ابن عباس قال: ... قال أبو بكر: ثم قسم رسول الله (ص) ارض بني النضير وارض بني قريظة ولم يقسم فدك .

ابوبكر نے کہا ہے : رسول اللہ ص نے بنی نضیر اور بنی قرینظۃ کی زمینیں تقسیم کر دی لیکن فدک تقسیم نہیں کی ۔

القرشي، يحيى بن آدم (متوفاي203هـ)، كتاب الخراج، ج 1، ص 41، : ناشر: المكتبة العلمية - لاهور - باكستان، الطبعة: الأولى، 1974م.

2. فدك، حضرت زهراء (س) کی ملکیت تھی۔

 رسول خدا (ص)، جب پورے فدک کا مالک بنا تو اس کو اپنی زندگی میں ہی حضرت زهراء (س) کو بخش دیا ۔ جیساکہ یہ مطلب بھی اہل سنت کی کتابوں میں موجود ہے۔

ابويعلي موصلي کہ جو اهل سنت کے پرانے علماء میں سے ہے وہ لکھتا ہے :

قرأت على الحسين بن يزيد الطحان هذا الحديث فقال هو ما قرأت على سعيد بن خثيم عن فضيل عن عطية عن أبي سعيد قال لما نزلت هذه الآية « وآت ذا القربى حقه » الإسراء دعا النبي فاطمة وأعطاها فدك.

... ابو‌سعيد خدري (پیغمبر ص کے مشہور صحانی )نے کہا ہے  : جس وقت  « وآت ذا القربى حقه ۔ رشتہ داروں کو ان کا حصہ دیا جائے » ، والی یہ آیت نازل ہوئی اس وقت  رسول خدا ص نے فاطمه کو بلا کر فدک انہیں بخش دیا .

أبو يعلى الموصلي التميمي، أحمد بن علي بن المثنى (متوفاي307 هـ)، مسند أبي يعلى، ج 2، ص 334 و ج 2، ص 534، تحقيق: حسين سليم أسد، ناشر: دار المأمون للتراث - دمشق، الطبعة: الأولى، 1404 هـ – 1984م.

اہل سنت کے مشہور عالم سیوطی نے اپنی تفسیر ' ' الدر المنثور" میں  اہل سنت کے بعض علماء کا نام لیا ہے جنہوں نے اس مطلب کو اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے :

وأخرج البزار وأبو يعلى وابن أبي حاتم وابن مردويه عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: لما نزلت هذه الآية «وآت ذا القربى حقه» دعا رسول الله صلى الله عليه وسلم فاطمة فأعطاها فدك.

 بزار ، أبو يعلى ، ابن أبي حاتم ، ابن مردويه نے ابو سعيد خدري رضي الله عنه سے اس واقعے کو نقل کیا ہے  ، ابوسعيد سے نقل ہوا ہے : جس وقت  «وآت ذا القربى حقه» والی یہ آیت نازل ہوئی اس وقت رسول خدا ص نے فاطمه کو بلا کر فدک انہیں بخش دیا .

السيوطي، عبد الرحمن بن الكمال جلال الدين (متوفاي911هـ)، الدر المنثور، ج 5، ص 273، ناشر: دار الفكر - بيروت – 1993.

و شوكانى نے اس حدیث کو  ابن عباس سے نقل کیا ہے اور اس میں فدك مکمل طور پر  حضرت زهرا (س) کو بخشنے کو بیان کیا ہے  :

وأخرج ابن مردويه عن ابن عباس قال لما نزلت «وآت ذا القربى حقه» أقطع رسول الله صلى الله عليه وسلم فاطمة فدك.

 ابن مردويه نے ابن عباس نے نقل کیا ہے  :  جب « وآت ذا القربى حقه » ، والی یہ آیت نازل ہوئی اس وقت  رسول خدا ص نے فاطمه کو بلا کر فدک مکمل طور پر انہیں بخش دیا .

الشوكاني، محمد بن علي بن محمد (متوفاي1255هـ)، فتح القدير الجامع بين فني الرواية والدراية من علم التفسير، ج 3، ص 224، ناشر: دار الفكر – بيروت.

ایک باطل ادعا

رسول خدا کے صحابى ابوسعید کی اس روایت سے ان لوگوں کا ادعا بھی باطل ہوجاتا ہے کہ جو یہ کہتے ہیں کہ جناب فاطمہ کو اس بخشش کی  خبر نہ تھی لیکن جب ام ایمن نے ان کو اس کی خبر دی تو آپ نے فدک کا مطالبہ۔

3. غصب فدك

پچھلے دو مطلب واضح ہونے کے بعد اب ہم فدک کے غصب ہونے کی بات کو شروع کرتے ہیں۔

ابن حمدون کہ جو  اهل سنت کے علماء میں سے ہے ، اس نے اس سلسلے میں امیر المومنین عليه‌السلام سے روایت نقل کی ہے ، اس میں آپ نے واضح طور پر یہ فرمایا ہے کہ فدک ہمارے ہاتھ میں تھا لیکن بخیل اور لالچی لوگوں نے یہ ہم سے چھین لیا :   

... كانت في أيدينا فدك من كل ما أظلمته السماء فشحت عليها نفوس قوم وسخت عنها نفوس آخرين.

اميرالمؤمنين عليه السلام نے فرمایا: جی جو چیز آسمان کے سائے تلے ہمارے ہاتھوں میں تھی وہ صرف فدک تھا وہ بھی بخیل اور لالچی لوگوں نے ہم سے چھین لیا اور ایک گروہ نے سخاوت مندانہ طور پر اس سے ہاتھ اٹھایا۔

ابن حمدون، محمد بن الحسن بن محمد بن علي (متوفاي 608هـ)، التذكرة الحمدونية، ج 1، ص 99، تحقيق: إحسان عباس، بكر عباس، ناشر:دار صادر - بيروت،، الطبعة: الأولى، 1996م.

 

 4. فدک کا مطالبہ شخصی مال کے عنوان سے ؛

پہچھلے تین مطالب اور تین مرحلہ بحث کے بعد اب ہم فدک غصب ہونے اور شخصی مال کے عنوان سے اس کے مطالبے سے بحث کرتے ہیں ۔

بلاذرى نے  فتوح البلدان میں اس نوعیت کے مطالبے کے بارے میں نقل کیا ہے:

 أن فاطمة رضي الله عنها قالت لأبي بكر الصديق رضي الله عنه : اعطني فدك فقد جعلها رسول الله صلى الله عليه وسلم لي ...

فاطمه نے ابوبكر سے کہا : فدک مجھے دو کیونکہ اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے بخش دیا ہے۔

البلاذري، أحمد بن يحيى بن جابر (متوفاي279هـ)، فتوح البلدان، ج 1، ص 44، تحقيق: رضوان محمد رضوان، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت – 1403هـ.

ياقوت حموى نے معجم البلدان میں فدک کے حدود و ثغور کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مخصوص قرر دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ وہی چیز ہے جو کو جناب  فاطمہ نے ابوبکر سے مطالبہ کیا تھا.

فدَكُ: قرية بالحجاز بينها و بين المدينة يومان و قيل ثلاثة أفاءها الله على رسوله صلى الله عليه وسلم في سنة سبع صلحاً وذلك أن النبي صلى الله عليه وسلم لما نزل خيبرَ وفتح حصونها ولم يبق إلا ثلث واشتد بهم الحصار راسلوا رسولَ الله صلى الله عليه وسلم يسألونه أن يُنزلهم على الجلاءِ وفعل و بلغ ذلك أهل فدك فأرسلوا إلى رسول الله أن يصالحهم على النصف من ثمارهم وأموالهم فأجابهم إلى ذلك فهي مما لم يوجف عليه بخيل ولا ركاب فكانت خالصة لرسول الله، صلى الله عليه وسلم وفيها عين فوارة ونخيل كثيرة وهي التي قالت فاطمة رضي الله عنها: إن رسول اللَه صلى الله عليه وسلم نحلنيها.

فدك ایک دہات ہے کہ جو حجاز میں ہے ، مدینہ سے اس کا فاصلہ دو یا تین دین کا ہے۔ جب ۷ ہجری کو خیبر فتح ہوا تو اس وقت فدک والوں نے کسی کو رسول اللہ ص کے پاس بھیجا تاکہ جنگ کے بجائے صلح کیجائے لہذا یہ لوگ جنگ کے بغیر تسلیم ہوئے اور اس میں وافر مقدار میں پانی اور کھجور کے باغات ہیں ۔ یہ سب رسول اللہ ص کے ساتھ مختص ہوا یہ وہی فدک ہے جس کے بارے میں فاطمہ نے فرمایا : اس کو رسول اللہ ص نے میرے لئے بخش دیا ہے ۔

الحموي، أبو عبد الله ياقوت بن عبد الله (متوفاي626هـ)، معجم البلدان، ج 4، ص 239، : ناشر: دار الفكر – بيروت.

  فدك حضرت زهراء عليها السلام کی ملكيت ہونے کے ثبوت کے لئے درج ذیل کتب کی طرح مراجعہ کریں :

- حاكم حسكانى کی کتاب" شواهد التنزيل ج 1 ص 438  ، ايجى  کی کتاب "المواقف ج 3 ص 609  ،- قاضى جرجانى کی کتاب" شرح مواقف ج 8 ص 356  ،- حلبي کی کتاب"السيرة الحلبية ج 3 ص 488 ،  سرخسى کی کتاب "المبسوط سرخسي ج 12 ص 30  اور دوسری کتابیں

 ایک اور باطل ادعا

اہل سنت کی کتابوں  سے اس  بات کو ثابت کرنے کے بعد کہ جناب فاطمه عليهما السلام نے  نے فدک کا مطالبہ شخصی مال کے طور پر کیا تھا ، ان لوگوں کا ادعا بھی باطل ہوجاتا ہے کہ جو یہ کہتے ہیں: حضرت زهراء نے صرف ارث کا ہی مطالبہ کیا تھا۔

از جیساکہ " تركة النبى" کے مصنف نے ایسا دعوا کیا ہے :

... و إنما طلبت وادعت الميراث هي و غيرها من الورثة وكان النظر والدعوى في ذلك.

جناب فاطمہ اور دوسروں کا مطالبہ صرف ارث کے بارے میں ہی تھا ۔

البغدادي، حماد بن زيد (متوفاي 267هـ) تركة النبي (ص)، ص 86، تحقيق: أكرم ضياء العمري، الطبعة: الأولى، 1404هـ.

 

حضرت زهرا(س) سے گواہ لانے کی درخواست ۔

جس وقت جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا نے فدک کو شخصی مال کے عنوان سے واپس دینے کا مطالبہ کیا تو اس وقت تعجب کی بات یہ ہے کہ ابوبکر نے آپ کو گواہ پیش کرنے کرنے کا حکم دیا ،جیساکہ درج ذیل سند اور مدرک اسی پر گواہ ہے۔

بلاذري نے اس سلسلے میں لکھا ہے :

أن فاطمة رضي الله عنها قالت لأبي بكر الصديق رضي الله عنه اعطني فدك فقد جعلها رسول الله صلى الله عليه وسلم لي فسألها البينة ...

فاطمه نے  ابوبكر سے کہا : فدک مجھے واپس کردو کیونکہ رسول اللہ ص نے اس کو مجھے بخش دیا ہے ،ابوبکر نے دلیل اور گواہ پیش کرنے کا مطالبہ  کیا ...

البلاذري، أحمد بن يحيى بن جابر (متوفاي279هـ)، فتوح البلدان، ج 1، ص 44، تحقيق: رضوان محمد رضوان، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت – 1403هـ.

حموى نے بھی معجم البلدان میں فدک کے سلسلے میں لکھا ہے :

... فهي مما لم يوجف عليه بخيل ولا ركاب فكانت خالصة لرسول الله، صلى الله عليه وسلم وفيها عين فوارة ونخيل كثيرة وهي التي قالت فاطمة رضي الله عنها: إن رسول اللَه صلى الله عليه وسلم نحلنيها فقال: أبو بكر رضي اللَه عنه أريد لذلك شهوداً.

۔۔۔جناب فاطمہ نے ابوبکر سے کہا: اس کو رسول اللہ ص  نے مجھے بخشا ہے۔ تو  ابوبکر نے کہا : مجھے گواہ چاہئے .

الحموي، أبو عبد الله ياقوت بن عبد الله (متوفاي626هـ)، معجم البلدان، ج 4، ص 238، : ناشر: دار الفكر – بيروت.

یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیٹی سے دلیل اور گواہ کا مطالبہ کرنا اس قسم کی احادیث میں تبعیض اور جانب دارانہ رویہ رکھنا اور غیر منصفانہ طرز عمل ہے۔یہاں پر ہم ابوبکر کی طرف سے گواہ اور دلیل کا مطالبہ کرنے کے سلسلے میں چند ایک رد پیش کرتے ہیں ؛

اولا:   فاطمه (س) کی طرف سے دلیل اور گواہ پیش کرنے کی ضرورت ہی نہ تھی؛

ذیل میں پیش ہونے والی اسناد کے مطابق اہل سنت کی حدیثی اور تاریخ کتابوں میں بہت سے ایسے موارد موجود ہیں کہ جہاں پیغمبر )ص( اور اصحاب نے ایسے موقعوں پر دلیل اور شاہد کا مطالبہ نہیں کیا ۔بلکہ نقل اور ادعا کرنے والے کی عدالت کی شرط کے ساتھ خبر واحد پر عمل کیا اور فیصلہ دیا ،یہاں تک کہ ان کاموں کو رسول اللہ )ص( اور اصحاب کی سیرت کے عنوان سے یاد کیے گئے ہیں ۔

بزدوى حنفى نے اپنی کتاب اصول میں اس سیرت کے بارے میں لکھا ہے  :

واما السنة: فقد صح عن النبي عليه السلام قبوله خبر الواحد مثل خبر بريرة في الهدية وخبر سلمان في الهدية والصدقة وذلك لا تحصى عدده ومشهور عنه أنه بعث الأفراد إلى الآفاق مثل علي ومعاذ وعتاب بن اسيد ودحية وغيرهم رضي الله عنهم وهكذا أكثر من أي يحصى وأشهر من ان يخفى وكذلك أصحابه رضي الله عنهم عملوا بالآحاد وحاجوا بها  ... وأجمعت الأمة على قبول أخبار الآحاد من الوكلاء والرسل والمتضاربين وغيرهم.

صحیح سند روایت کے مطابق رسول خدا )ص( خبر واحد پر عمل کرتے تھے مثلا هديه کے بارے میں بريره  کی خبر اور سلمان کی طرف سے ہدیہ اور صدقہ کی خبر وغیرہ کہ جن کی تعداد بہت زیادہ ہے ۔ مشہور ہے کہ رسول اللہ )ص( نے حضرت علی )ع( ،معاذ، ، دحیہ اور دیگر اصحاب کو اطراف میں بھیجا تاکہ اطراف کی خبر ان تک پہنچ جائے اور یہ سب ایک نفر ہی تھے اور ایسے موارد بہت زیادہ ہے۔ اسی طرح خود اصحاب بھی خبر واحد پر عمل کرتے تھے اور اسی کو حجت سمجھتے تھے ۔لہذا امت اسلامی کا اس سلسلے میں اجماع ہے کہ وکیل حضرات اور نمائندوں کی باتیں خبر واحد ہونے کے باوجود حجت ہیں ۔

البزدوي الحنفي، علي بن محمد (متوفاي382هـ)، كنز الوصول الى معرفة الأصول (أصول البزدوي)، ج 1، ص 154، : ناشر: مطبعة جاويد بريس – كراچي.

 ثانياً: خود ابوبكر نے دوسروں کی خبر واحد کو شاہد کے بغیر قبول کیا

 اهل سنت کی معتبر کتابوں میں یہ بات آئی ہے کہ ابوبکر خود صحابہ کی باتوں کو خبر واحد ہونے کے باوجود قبول کرتا تھا: 

  پہلا نمونہ  : رسول اللہ )ص(  نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ فلان مقدار تجھے دوں گا ،لیکن جب واپس آیا تو دیکھا  رسول خدا (ص) دنیا سے چلے گئے ہیں تو خلیفہ نے  اس سے دلیل مانگے بغیر ،اس کو اتنی مقدار میں بخش دیا  

 بخارى نے اپنی کتاب میں لکھا ہے :

حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَمْرٌو سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِىٍّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ - رضى الله عنهم - قَالَ قَالَ النَّبِىُّ - صلى الله عليه وسلم - « لَوْ قَدْ جَاءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ، قَدْ أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ». فَلَمْ يَجِئْ مَالُ الْبَحْرَيْنِ حَتَّى قُبِضَ النَّبِىُّ - صلى الله عليه وسلم - فَلَمَّا جَاءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ أَمَرَ أَبُو بَكْرٍ فَنَادَى مَنْ كَانَ لَهُ عِنْدَ النَّبِىِّ - صلى الله عليه وسلم - عِدَةٌ أَوْ دَيْنٌ فَلْيَأْتِنَا. فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ إِنَّ النَّبِىَّ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ لِى كَذَا وَكَذَا، فَحَثَى لِى حَثْيَةً فَعَدَدْتُهَا فَإِذَا هِىَ خَمْسُمِائَةٍ، وَ قَالَ خُذْ مِثْلَيْهَا.

... جابربن عبدالله کہتا ہے : پيامبر نے مجھ سے کہا تھا : اگر بحرین سے اموال پہنچ جائے تو کچھ تجھے دوں گا ،لیکن بحرین سے مال پہنچنے سے پہلے رسول خدا صلى الله عليه و آلہ وسلم دنيا سے چلے گئے، اور جس وقت مال پہنچا تو ابوبکر نے اعلان کیا کہ جس کو بھی رسول اللہ )ص( نے مال دینے کا وعدہ کیا ہے یا کسی کا مال رسول اللہ ص کے ذمے ہو تو آکر مجھ سے لے لیے۔جابر کہتے ہیں میں ابوبکر کے پاس گیا اور کہا : رسول خدا صلى الله عليه و آلہ وسلم نے مجھ سے ایسا وعدہ کیا تھا ، ابوبکر نے مٹھی بر مجھے درہم دیا ۔ گنا تو ۵۰۰ درہم تھا اور پھر کہا اس کے دوبرابر خود ہی اٹھالے ۔

البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، صحيح البخاري، ج 2، ص 803، ح2174، كتاب الكفالة، بَاب من تَكَفَّلَ عن مَيِّتٍ دَيْنًا فَلَيْسَ له أَنْ يَرْجِعَ، تحقيق د. مصطفى ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 - 1987.

اب یہاں یہ سوال ہوسکتا ہے کہ ابوبکر نے پیغمبر کے وعدے کے مطابق جابر کو دیا اور یہاں خبر واحد کی خبر دینے والا صرف جابر ہی تھا لیکن ان سے شاہد کا مطالبہ نہیں کیا ۔ تعجب کی بات ہے کہ جناب فاطمہ زہرا سلام علیہا کہ جو تمام عورتوں کی سردار ہیں ۔یہاں تک کہ ان پر اللہ کی طرف سے دسترخوان اترتا ہے۔ اب خلیفہ ان سے گواہ طلب کرئے ؟    

دوسرا مورد : ابوبكر نے مغيره اور  محمد بن مسلمه کی طرف سے خبر دینے پر  نانای کو میت کے میراث  میں سے ارث دینے کا حکم دیا کیونکہ ان دونوں نے کہا تھا : پيامبر نے فوت ہونے والے کی نانی کے لئے یک ششم ميراث دیا۔ لیکن جب بلال نے کہا:  یہ رسول اللہ )ص( کے حکم کے خلاف ہے تو پہلے والے حکم کو تبدیل کیا۔

علاءالدين  نے اس سلسلے میں لکھا ہے :

... وَمِنْهَا رُجُوعُهُ إلَى تَوْرِيثِ الْجَدَّةِ بِخَبَرِ الْمُغِيرَةِ، وَمُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَعْطَاهَا السُّدُسَ.

وَنَقْضُهُ حُكْمَهُ فِي الْقَضِيَّةِ الَّتِي أَخْبَرَ بِلَالٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ حَكَمَ فِيهَا بِخِلَافِ مَا حَكَمَ هُوَ فِيهَا.

... انہیں موارد میں سے  (كه  جہاں ابوبكر نے خبر واحد پر عمل کیا ور راوی کے حق میں حکم دیا ) ، خلیفہ نے نانای کے ارث کے مسئلے میں خبر وحد پر عمل اور اعتماد کیا  ۔۔۔۔

اسی طرح بلال نے جب خبر دی کہ رسول اللہ )ص( نے ان کے حکم کے خلاف حکم دیا ہے تو اس حکم کو تبدیل کیا ۔

البخاري، علاء الدين عبد العزيز بن أحمد (متوفاي730هـ)،كشف الأسرار عن أصول فخر الإسلام البزدوي، ج 2، ص 544، تحقيق: عبد الله محمود محمد عمر، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت - 1418هـ - 1997م.

اب ابوبكر  کی طرف سے صحابہ سے گواہ کا مطالبہ نہ کرنا اور جناب فاطمه (س) سے گواہ کا مطالبہ کرنے کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟

ثالثا : خود ابوبکر کی خبر واحد شاہد کے بغیر مورد قبول واقع ہوئی :

 اگر حضرت زهراء(س)  کی طرف سے فدک کی بخشش کی خبر گواہ کی طرف محتاج تھی تو کیوں ابوبکر کی خبر «نَحْنُ مَعَاشِرَ الْأَنْبِيَاءِ لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَاهُ صَدَقَةٌ» گواہ کی طرف محتاج نہیں اور گواہ کے بغیر قابل قبول ہے؟

جیساکہ علاءالدين بخاري نے البزدوي کے اصول پر اپنی شرخ میں اس خبر واحد کو اصحاب کی طرف سے قبول کرنے کے بارے میں لکھا ہے :

... ومنها رجوعهم إلى خبر أبي بكر رضي الله عنه في قوله عليه السلام الأنبياء يدفنون حيث يموتون وقوله عليه السلام ونحن معاشر الأنبياء لا نورث ما تركناه صدقه .

... اسی کے ایک موارد میں سے  (کہ جہاں خبر واحد پر عمل کیا اور راوی کے حق میں فیصلہ دیا ) اصحاب کا ابوبکر کی خبر واحد پر عمل اور اعتماد ہے اور وہ یہ خبر تھی { ہم انبیاء جہاں مرتے ہیں وہاں دفن ہوتے ہیں اور اسی طرح یہ خبر " ہم انبیاء ارث چھوڑ کر نہیں جاتے جو چھوڑ کر جاتے ہیں وہ صدقہ ہے ۔

البخاري، علاء الدين عبد العزيز بن أحمد (متوفاي730هـ)،كشف الأسرار عن أصول فخر الإسلام البزدوي، ج 2، ص 544، تحقيق: عبد الله محمود محمد عمر، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت - 1418هـ - 1997م.

اسی طرح وہ لکھتا ہے  :

سقیفہ کے دوران ابوبکر کی یہ خبر: (الْأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ؛ ائمہ قریش میں سے ہیں) جیساکہ کسی نے ان سے رسول خدا(ص) کی طرف خبر کی نسبت دینے پر گواہ کا مطالبہ نہیں کیا ؟

علاءالدين بخاري نے اصول بزودي پر اپنی شرح میں انہیں موارد کے بیان میں لکھا ہے :

فَمِنْهَا مَا تَوَاتَرَ أَنَّ يَوْمَ السَّقِيفَةِ لَمَّا احْتَجَّ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الْأَنْصَارِ بِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: الْأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ : قَبِلُوهُ مِنْ غَيْرِ إنْكَارٍ عَلَيْهِ.

یہ خبر متواتر ہے کہ ابوبکر نے سقیفہ کے دن :«ائمہ قریش سے ہوں گے» کی خبر کے ساتھ استدلال کیا۔ سب نے قبول کیا اور کسی نے اس کو رد نہیں کیا ۔

البخاري، علاء الدين عبد العزيز بن أحمد (متوفاي730هـ)،كشف الأسرار عن أصول فخر الإسلام البزدوي، ج 2، ص 544، تحقيق: عبد الله محمود محمد عمر، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت - 1418هـ - 1997م.

خلاصہ : جب خود رسول اللہ )ص( نے خبر واحد پر عمل کیا ہے اور اصحاب نے بھی خبر واحد پر عمل کیا ہے اور جب اصحاب کی سیرت اس پر قائم ہے اور اس پر امت کا اجماع ہے ،یہاں تک کہ خود ابوبکر نے کئی موارد میں خبر واحد پر عمل کیا اور گواہ طلب نہیں کیا اور راوی کے حق میں فیصلہ دیا اور خود ابوبکر کی خبر واحد بھی بغیر گواہ کے قابل قبول ہوتی ہے۔ تو ایسے میں جناب فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا سے گواہی کا مطالبہ کرنے کا معنی خاندان نبوت پر اعتماد اور بروسہ نہ کرنے کے علاوہ کیا ہوسکتا ہے ؟  

اميرمؤمنن (ع) کی طرف سے گواہی :

گزشتہ کے جانبدارانہ رویہ سے ہٹ کر بھی ،جناب امیر المومنین علی علیہ السلام نے حاضر ہوکر جناب فاطمہ (س) کے حق میں گواہی دی ؛ جیساکہ بلاذري نے اس سلسلے میں لکھا ہے :

... وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْمُونٍ الْمُكْتِبُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ عَيَّاضٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ جَعْوَنَةَ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَتْ فَاطِمَةُ لأَبِي بَكْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ لِي فَدَكَ فأعطنى إياها وَشَهِدَ لَهَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَسَأَلَهَا شَاهِدًا آخَرَ فَشَهِدَتْ لَهَا أُمُّ أَيْمَنَ، فَقَالَ قَدْ عَلِمْتِ يَا بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ لا تَجُوزُ إِلا شَهَادَةُ رَجُلَيْنِ أَوْ رَجُلٍ وامرأتين فانصرفت۔۔

... فاطمه نے ابوبكر سے کہا : فدک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے دیا ہے ،پس فدک مجھے دے دو اور علي بن أبي طالب علیہ السلام  نے یہ گواہی دی ، لیکن ان سے ایک اور گواہی کا مطالبہ کیا ۔۔۔۔

البلاذري، أحمد بن يحيى بن جابر (متوفاي279هـ)، فتوح البلدان، ج 1، ص 44، تحقيق: رضوان محمد رضوان، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت – 1403هـ؛ قدامة بن جعفر (متوفاي337هـ)، الخراج وصناعة الكتابة، ج 1، ص 259، : تحقيق: محمد حسين الزبيدي، ناشر: دار الرشيد - العراق، الطبعة: الأولى؛ الحموي، أبو عبد الله ياقوت بن عبد الله (متوفاي626هـ)، معجم البلدان، ج 4، ص 239، : ناشر: دار الفكر – بيروت.

لیکن ابو بکر نے امیر المومنین علیہ السلام کی گواہی قبول  نہیں کیا :

... وشهد لها علي بن أبي طالب فسألها شاهدا آخر...

  علي بن أبي طالب نے گواہی دی کہ رسول اللہ (ص)  نے یہ انہیں بخش دیا ہے لیکن ابوبکر نے کہا : کوئی اور گواہ ؟

البلاذري، أحمد بن يحيى بن جابر (متوفاي279هـ)، فتوح البلدان، ج 1، ص 44، تحقيق: رضوان محمد رضوان، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت – 1403هـ؛ قدامة بن جعفر (متوفاي337هـ)، الخراج وصناعة الكتابة، ج 1، ص 259، : تحقيق: محمد حسين الزبيدي، ناشر: دار الرشيد - العراق، الطبعة: الأولى؛ الحموي، أبو عبد الله ياقوت بن عبد الله (متوفاي626هـ)، معجم البلدان، ج 4، ص 239، : ناشر: دار الفكر – بيروت.

کیا امیر المومنین علیہ کی گواہی کافی نہیں تھی ؟

ایک یہودی نے ادعا کیا کہ رسول خدا (ص) اس کے مقروض ہیں ، خزيمه بن ثابث انصارى نے  پيامبر اكرم صلى الله عليه و آلہ کے حق میں گواہی دی اسی لئے پیغمبر نے ان کی گواہی کو دو گواہ کے طور پر قبول کیا۔

 ثعالبى نے ثمار القلوب میں حذیفہ کے واقعے کو یوں نقل کیا ہے :

 ( ذو الشهادتين ) خزيمة بن ثابت الأنصارى سماه رسول الله (ص) ذا الشهادتين وذلك أن يهوديا أتاه فقال يا محمد اقضنى دينى فقال (ص) أو لم أقضك قال لا فقال إن كانت لك بينة فهاتها وقال لأصحابه ايكم يشهد أنى قضيت اليهودى ماله فأمسكوا جميعا فقال خزيمة أنا يا رسول الله اشهدك أنك قضيته قال: وكيف تشهد بذلك و لم تحضره ولم تعلمه. فقال يا رسول الله نحن نصدقك على الوحى من السماء فكيف لا نصدقك على أنك قضيته فأنفذ صلى الله عليه وسلم شهادته وسماه ذا الشهادتين لأنه صلى الله عليه وسلم صير شهادته شهادة رجلين.

 الثعالبي، أبي منصور عبد الملك بن محمد بن إسماعيل (متوفاي429هـ)، ثمار القلوب في المضاف والمنسوب، ج 1، ص 288، : ناشر: دار المعارف – القاهرة؛ الصفدي، صلاح الدين خليل بن أيبك (متوفاي764هـ)، الوافي بالوفيات، ج 13، ص 192، تحقيق أحمد الأرناؤوط وتركي مصطفى، ناشر: دار إحياء التراث - بيروت - 1420هـ- 2000م

 خزيمه نے يهودى کے مدعا کے بعد ،جب رسول اللہ (ص) نے فرمایا : کون گواہی دیتے ہیں کہ میں نے اس شخص کا قرض ادا کیا ہے ؟٫ اس وقت حذیفہ کے علاوہ کسی اور نے گواہی نہیں دی ،حذیفہ نے کہا : میں گواہی دیتا ہوں ۔ رسول اللہ (ص) نے فرمایا : تم کس طرح گواہی دیتے ہو جبکہ تم کو نہ اس کی خبر تھی نہ اس وقت تم حاضر تھا ؟ حذیفہ نے جواب میں کہا : ہم نے اللہ کی طرف سے  وحى اور آسمان سے پیغام لانے کے سلسلے میں آپ کی تصدیق کی ہے، تو اب کیسے اس قرض کو ادا کرنے کے سلسلے میں آپ کی بات کی تصدیق اور تائید نہ کروں؟ رسول اللہ (ص) نے اس کی گواہی کو دو گواہی کے برابر قرار دیا اور اس کو ذو الشهادتين کا لقب دیا .

الثعالبي، أبي منصور عبد الملك بن محمد بن إسماعيل (متوفاي429هـ)، ثمار القلوب في المضاف والمنسوب، ج 1، ص 288، : ناشر: دار المعارف – القاهرة؛ الصفدي، صلاح الدين خليل بن أيبك (متوفاي764هـ)، الوافي بالوفيات، ج 13، ص 192، تحقيق أحمد الأرناؤوط وتركي مصطفى، ناشر: دار إحياء التراث - بيروت - 1420هـ- 2000م

اب پيامبر (ص) نے ان کی گواہی کو دو گواہی قرار دیا، جبکہ فضیلت میں امیر المومنین کا مقام ان سے بہت زیادہ ہے، وہ خود جناب امیر کے اصحاب اور یار و انصار میں سے تھے اور آپ کی حمایت میں شہید ہوئے، تو کیا خود امیر المومنین علیہ السلام کی گواہی ان کی گواہی سے کم درجے کی تھی کہ جس کی وجہ سے ابوبکر نے ان کی گواہی کو کافی نہیں سمجھا ؟ کیا رسول اللہ (ص) کی  سنت کی پیروی یہی ہے ؟.

ام ايمن اور رباح  کی شهادت

جب امیر المومنین علیہ السلام کی گواہی قبول نہیں کی گئی تو حضرت زهراء (س) نے  اور بھی گواہ پیش کیا، ان میں سے ایک ام ايمن اور رسول خدا (ص) کے خدمت گزار رباح شامل ہیں۔

بلاذرى نے ان دونوں کی گواہی کے بارے میں لکھا ہے :

... أن فاطمة رضي الله عنها قالت: لأبي بكر الصديق رضي الله عنه اعطني فدك فقد جعلها رسول الله (ص) لي فسألها البينة فجاءت بأم أيمن ورباح مولى النبي (ص)فشهدا لها بذلك فقال: إن هذا الأمر لا تجوز فيه إلا شهادة رجل وامرأتين

... فاطمه نے ابوبكر سے کہا : فدک مجھے واپس کر دے کیونکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ مجھے بخشا ہے تو ابوبکر نے گواہ اور دلیل پیش کرنے کے لئے کہا. ام ایمن اور رسول للہ ص کے خادم نے گواہی دی لیکن ابوبکر نے کہا : یہاں یا دو مرد گواہی دیں یا ایک مرد اور دو عورتیں۔   

البلاذري، أحمد بن يحيى بن جابر (متوفاي279هـ)، فتوح البلدان، ج 1، ص 44، تحقيق: رضوان محمد رضوان، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت – 1403هـ.

اب یہاں دو مرد یعنی حضرت امير(ع) اور رباح کی گواہی مالی امور میں کافی تھی  حضرت زهرا (س) نے امّ‌ايمن کو بھی پیش کیا ؛ لیکن ابوبکر پھر بھی اپنی بات پر اٹکا رہا اور فدک واپس نہیں کیا۔

اس سلسلے میں مزید معلومات کے لئے مندرجہ ذیل کتابوں کی طرف رجوع کریں:

ياقوت حموى در معجم البلدان، باب فدک، ج 4، ص 270 رقم: 9053؛ سمهودى در وفاء الوفاء بأخبار دار المصطفى، ج3، ص995؛ فخر رازى در التفسير الكبير، ج 29 ص 284؛ ابن حجر هيثمى در الصواعق المحرقة، ص25؛ سرخسى در المبسوط، ج 12، ص 30؛ ابن شبة نميرى در تاريخ المدينة، ج 1، ص 199؛ الجوهرى فى السقيفة وفدك، ص 110؛ حاکم حسکانى در شواهد التنزيل؛ ج 1، ص 438 و حلبى در السيرة الحلبية، ج 3، ص 488.

5. رسول خدا (ص) کی میراث کے عنوان سے فدک کا  مطالبہ

گزشتہ بحثوں میں رسول خدا(ص) کی طرف سے  فدک کا اپنی پیاری بیٹی کے لئے نحله اور هديه کے عنوان سے دینے سے بحث ہوئی۔ لیکن ابوبکر کی طرف سے گواہ پیش کرنے پر اصرار اور حضرت علی(ع)، امّ‌ايمن اور  رباح کی گواہی قبول نہ کرنے کی وجہ سے جناب زہراء(س) جب اس جہت سے ناامید ہوگئی تو دوسرے مرحلے میں آپ نے میراث کے عنوان سے اس کا مطالبہ کیا: 

بخاری نے اس سلسلے میں لکھا ہے :

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى أَخْبَرَنَا هِشَامٌ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ فَاطِمَةَ - عَلَيْهَا السَّلاَمُ - وَالْعَبَّاسَ أَتَيَا أَبَا بَكْرٍ يَلْتَمِسَانِ مِيرَاثَهُمَا أَرْضَهُ مِنْ فَدَكٍ.

... عائشه کہتی ہے : فاطمه اور عباس نے ابوبكر کے پاس آکر فدک سے اپنے ارث کا مطالبہ کیا .

البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، صحيح البخاري، ج 4، ص 1481، ح3810، كِتَاب الْمَغَازِي، بَاب حديث بَنِي النَّضِيرِ و ج 6، ص 2474، ح6346، كِتَاب الْفَرَائِضِ، بَاب قَوْلِ النبي صلى الله عليه وسلم لَا نُورَثُ ما تَرَكْنَا صَدَقَةٌ، تحقيق د. مصطفى ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 - 1987.

دوسری جگہ پر نقل کیا ہے :

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِىِّ قَالَ حَدَّثَنِى عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ فَاطِمَةَ - عَلَيْهَا السَّلاَمُ - أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِى بَكْرٍ تَسْأَلُهُ ميراثها مِنَ النَّبِىِّ - صلى الله عليه وسلم - فِيمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ - صلى الله عليه وسلم -، تَطْلُبُ صَدَقَةَ النَّبِىِّ - صلى الله عليه وسلم - الَّتِى بِالْمَدِينَةِ وَفَدَكٍ وَمَا بَقِىَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ.

... جناب عائشہ نقل کرتی ہے : فاطمہ سلام اللہ علیہا نے ابوبکر کے یہاں اپنا آدمی بھیج کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملنے والی میراث کا مطالبہ کیا جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فی کی صورت میں دی تھی۔ یعنی آپ کا مطالبہ مدینہ  میں ان کی جائیداد ، فدک کی جائیداد اور خیبر کے خمس کے بارے میں تھا۔

البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، صحيح البخاري، ج 3، ص 1360، ح3508، كتاب فضائل الصحابة، بَاب مَنَاقِبِ قَرَابَةِ رسول اللَّهِ (ص) وَمَنْقَبَةِ فَاطِمَةَ عليها السَّلَام، تحقيق د. مصطفى ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 - 1987.

رسول اللہ ص کی حدیث نقل کرنے پر پابندی لگانے والے ان کی حدیث سے استدلال کرتے ہیں ؛

یہاں ایک قابل توجہ بات یہ ہے کہ جناب زہرا (س) کے حق سے انہیں محروم کرنے کے لئے رسول اللہ (ص) کی حدیث {ہم انبیاء ارث چھوڑ کر نہیں جاتے ۔۔۔} سے استدلال کیا ۔ جبکہ ابوبکر اور ان کا دوست عمر، رسول اللہ (ص) کی حدیث نقل کرنے پر پابندی لگاتے تھے اور یہ بہانہ بناتے تھے کہ اگر لوگ حدیث اور تفسیر میں مشغول ہوجائے تو قرآن سے دور ہوجائیں گے اسی بہانے سے ان دونوں نے رسول اللہ (ص) کی حدیث نقل کرنے پر پابندی کی تحریک کا بیڑا اٹھایا ،یہاں تک کہ ابوبکر نے اپنے پاس جمع شدہ ۵۰۰ احادیث کو بھی آگ لگائی؛  

جیساکہ علم رجال کے ماہر اور مشہور محدث ذھبی اس سلسلے میں لکھتا ہے:

قالت عائشة جمع أبي الحديث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم وكانت خمسمائة حديث فبات ليلته يتقلب كثيرا قالت فغمني فقلت أتتقلب لشكوى أو لشئ بلغك؟ فلما أصبح قال: أي بنية هلمي الأحاديث التي عندك فجئته بها فدعا بنار فحرقها.      

عائشہ کہتی ہیں: میرے والد نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کچھ حدیثیں جمع کی تھیں جن کی تعداد پانچ سو تھی۔ ایک رات وہ اپنے بستر پر بڑی بے چینی سے کروٹ پہ کروٹ بدل رہے تھے۔ عائشہ کہتی ہیں میں اس بات سے پریشان ہوئی اور عرض کی کیا آپ کو کسی چیز کی شکایت ہے یا آپ کو کوئی [بری] خبر ملی ہے؟ پھر صبح کو میرے والد نے مجھے آواز دی اور کہا: بیٹی! جو حدیثیں تمہارے پاس ہیں انھیں جلدی سے لے آو۔ میں انھیں لے آئی۔ پھر انھوں نے آگ منگواکر انھیں جلاڈالا۔ 

الذهبي، شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان، (متوفاي748هـ)، تذكرة الحفاظ، ج 1، ص 5، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى.

عمربن خطاب نے بھی رسول خدا (ص) نے جب  قلم اور كاغذ حاضر کرنے اور ایک وصیت لکھنے کے لئے کہا تو انتہائی جسارت کے ساتھ کہا : قرآن ہمارے لئے کافی ہے۔

اور یہی بات عمر کی نگاہ میں رسول خدا (ص) کی حدیث کی قیمت کم ہونے کی نشانی ہے ۔۔اب عجیب بات یہ ہے کہ جناب فاطمہ زہرا (س) کی طرف سے ارث اور نحلہ کے مطالبے کے مسئلے میں انہیں لوگوں نے حدیث سے استدلال کیا اور ارث کے بارے میں قرآنی حکم سے چشم پوشی کی؛

جیساکہ بخاری نے لکھا ہے :

حدثنا إِبْرَاهِيمُ بن مُوسَى حدثنا هِشَامٌ عن مَعْمَرٍ وحدثني عبد اللَّهِ بن مُحَمَّدٍ حدثنا عبد الرَّزَّاقِ أخبرنا مَعْمَرٌ عن الزُّهْرِيِّ عن عُبَيْدِ اللَّهِ بن عبد اللَّهِ عن بن عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قال لَمَّا حُضِرَ رسول اللَّهِ وفي الْبَيْتِ رِجَالٌ فِيهِمْ عُمَرُ بن الْخَطَّابِ قال النبي هَلُمَّ أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَا تَضِلُّوا بَعْدَهُ فقال عُمَرُ إِنَّ النبي قد غَلَبَ عليه الْوَجَعُ وَعِنْدَكُمْ الْقُرْآنُ حَسْبُنَا كِتَابُ اللَّهِ.

... ابن عباس کہتے تھے : جس وقت رسول اللہ (ص) کی بیماری شدت اختیار کرگئی تو اس وقت گھر میں عمر اور دوسرے لوگ تھے، رسول اللہ (ص) نے فرمایا : آئیں میں تمہارے لئے ایک چیز لکھوں تاکہ تم لوگ اس کے بعد گمراہ نہ ہو ۔عمر نے اس وقت کہا : رسول اللہ ص پر بیماری کی شدت کا غلبہ ، تم لوگوں کے پاس قرآن ہے یہی تم لوگوں کے لئے کافی ہے۔

[1] . البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، صحيح البخاري، ج 4، ص 1612، ح4169، كِتَاب الْمَغَازِي، بَاب مَرَضِ النبي، تحقيق د. مصطفى ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 - 1987؛ النيسابوري، مسلم بن الحجاج أبو الحسين القشيري (متوفاي261هـ)، صحيح مسلم، ج 3، ص 1259، ح1637، كِتَاب الْوَصِيَّةِ، بَاب تَرْكِ الْوَصِيَّةِ لِمَنْ ليس له شَيْءٌ يوصى فيه، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت.

لہذ اب یہاں ان لوگوں سے  یہ سوال ہوسکتا ہے : کیا قرآن نے انبیاء کی طرف سے ارث چھوڑ کر نہ جانے کی خبر دی ہے ؟

حضرت زهرا کا أبوبكر  سے مناظره 

حضرت زهراء(س) نے اپنے حق سے دفاع کے لئے علمی انداز میں مختلف دلیل پیش کی اور اس سلسلے میں آپ نے عقلی اور نقلی انداز میں استدلال پیش کیا ۔لہذا اپ کے استدلال عقلی پہلو بھی رکھتا ہے اور نقلی پہلو بھی اور نقلی پہلو سے بھی آپ نے قرآن سے بھی دلیل پیش کیا اور حدیث سے بھی، ہم ذیل میں ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں ؛

الف: قرآن سے تمسك

 حضرت زهراء(س) کی علمی گفتگو میں قرآن سے استناد سر فہرست ہے اور یہی چیز ہر منصف مزاج انسان کو غور وفکر کرنے کی دعوت دیتی ہے۔

ذهبى نے ایک حدیث نقل کی ہے جس میں حضرت زہرا(س) نے خمس کی آیت سے استدلال کیا ،حدیث کے الفاظ یہ ہیں :

و قال الوليد بن مسلم، وعمر بن عبد الواحد: ثنا صدقة أبو معاوية، عن محمد بن عبد الله بن محمد بن عبد الرحمن بن أبي بكر الصديق، عن يزيد الرقاشي، عن أنس أن فاطمة أتت أبا بكر فقالت: قد علمت الذي خلفنا عنه من الصدقات أهل البيت ثم قرأت عليه " واعلموا أنما غنمتم من شيء فإن لله خمسه وللرسول " إلى آخر الآية... .

انس کہتا ہے : فاطمه زہرا (س)  ابوبكر کے پاس آئی اور فرمایا: تمہیں معلوم ہے کہ باقی بچ جانے والے اموال میں سے ہمارا کیا حصہ ہے؟ پھر یہ آیت تلاوت کی : اور یہ جان لو کہ تمہیں جس چیز سے بھی فائدہ حاصل ہو اس کا پانچواں حصہ اللہ , رسول ,رسول کے قرابتدار ,ایتام ,مساکین اور مسافران غربت زدہ کے لئے ہے، اگر تمہارا ایمان اللہ پر ہے اور اس نصرت پر ہے جو ہم نے اپنے بندے پر حق و باطل کے فیصلہ کے دن جب دو جماعتیں آپس میں ٹکرا رہی تھیں نازل کی تھی اور اللہ ہر شے پر قادر ہے۔

الذهبي، شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان، (متوفاي748هـ)، تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام، ج 3، ص 24، تحقيق د. عمر عبد السلام تدمرى، ناشر: دار الكتاب العربي - لبنان/ بيروت، الطبعة: الأولى، 1407هـ - 1987م؛ النميري البصري، أبو زيد عمر بن شبة (متوفاي262هـ)، تاريخ المدينة المنورة، ج 1، ص 130، تحقيق علي محمد دندل وياسين سعد الدين بيان، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت - 1417هـ-1996م؛ العاصمي المكي، عبد الملك بن حسين بن عبد الملك الشافعي (متوفاي1111هـ)، سمط النجوم العوالي في أنباء الأوائل والتوالي، ج 2، ص 335، تحقيق: عادل أحمد عبد الموجود- علي محمد معوض، ناشر: دار الكتب العلمية.

رسول خدا(ص)کی وہ اگلوتی بیٹی کہ جو آپ کے محبت آمیز گود میں قرآنی آیات اور ان کی تفسیر کو رسول اللہ (ص) سے سنتی وہ حضرت فاطمہ ہی تھی،آپ کو اللہ کے اس حکم کا علم تھا کہ اس آیت میں غنیمت سے مراد صرف جنگی غنائم نہیں کیونکہ شان نزول اور خاص مورد کی وجہ سے یہ حکم  جنگی غنائم کے ساتھ خاص نہیں ہوسکتا لہذا خمس کو قرآنی نص کے مطابق رسول اللہ (ص) کے فرزندوں کا حق ہونے کو ابوبکر کو سمجھا دیا اور اپنے باپ کے ارث سے انہیں محروم رکھنے کو قرآنی حکم کے خلاف ہونے کو بیان فرمایا۔

ب: ابوبكر سے اعتراف لینا۔

فاطمه (س) کی طرف سے کوئی ابوبكر کے پاس جاتا ہے اور ان کی طرف سے یہ سوال پوچھتا ہے: پیغمر کے وارث تم ہو یا ان کے گھر والے : ابوبکر نے بھی جواب دیا، ان کے گھر والے ۔

احمد بن حنبل نے اس اعتراف کے بارے میں لکھ ہے  :

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ عَبْد اللَّهِ وَسَمِعْتُهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ جُمَيْعٍ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ فَاطِمَةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْتَ وَرِثْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْ أَهْلُهُ قَالَ فَقَالَ: لَا بَلْ أَهْلُهُ... .

الشيباني، أحمد بن حنبل أبو عبدالله (متوفاي241هـ)، مسند أحمد بن حنبل، ج 1، ص 4، ناشر: مؤسسة قرطبة – مصر؛ المروزي، أحمد بن علي بن سعيد الأموي أبو بكر (متوفاي292هـ)، مسند أبي بكر الصديق، ج 1، ص 146، : تحقيق: شعيب الأرناؤوط، ناشر: المكتب الإسلامي - بيروت؛ الذهبي، شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان، (متوفاي748هـ)، تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام، ج 3، ص 23، تحقيق د. عمر عبد السلام تدمرى، ناشر: دار الكتاب العربي - لبنان/ بيروت، الطبعة: الأولى، 1407هـ - 1987م؛ القرشي الدمشقي، إسماعيل بن عمر بن كثير أبو الفداء (متوفاي774هـ)، البداية والنهاية، ج 5، ص 289، ناشر: مكتبة المعارف – بيروت؛ العيني، بدر الدين أبو محمد محمود بن أحمد الغيتابى الحنفى (متوفاي 855هـ)، عمدة القاري شرح صحيح البخاري، ج 15، ص 20، ناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت؛

مقدسى نے اس روایت کو نقل کرنے کے بعد اس کی صحت کے بارے میں لکھا ہے: إسناده صحيح. اس کی سند صحیح ہے

المقدسي الحنبلي، أبو عبد الله محمد بن عبد الواحد بن أحمد (متوفاي643هـ)، الأحاديث المختارة، ج 1، ص 129، تحقيق عبد الملك بن عبد الله بن دهيش، ناشر: مكتبة النهضة الحديثة - مكة المكرمة، الطبعة: الأولى، 1410هـ

ابوبکر کا یہ اعتراف ایک تو اس پہلے والی حدیث{نحن معاشر الانبیا۔۔۔} کے جعلی ہونے کو بیان کرتی ہے ،ساتھ میں اس بات پر بھی دلیل ہے کہ ابوبکر نے رسول اللہ (ص) کی اولاد کا ان سے ارث لینے کو بھی مسلم اور قطعی جانا، اب یہاں پر جو چیز مشکوک ہے وہ وہی حدیث ہے {نحن معاشر الانبیاء۔۔۔}یہ خبر واحد ہے اس کو ابوبکر سے پہلے کسی نے نقل نہیں کیا تھا ۔لہذا قطعی حکم مشکوک خبر پر مقدم ہے۔

اسی لئے جوہری نے ابوبکر کے اس اعتراف پر تعجب کرتے ہوئے کہا ہے :

قلت: في هذا الحديث عجب، لأنها قالت له: أنت ورثت رسول الله صلى الله عليه وآله أم أهله، قال: بل أهله، وهذا تصريح بأنه صلى الله عليه وآله موروث يرثه أهله، وهو خلاف قوله: لا نورث.

اس حدیث میں عجیب نکتہ یہ ہے کہ کیونکہ جناب فاطمہ(س) کہتی ہے : تم رسول اللہ (ص) کے وارث ہو یا ان کے گھر والے ؟ ابوبکر کہتا ہے : ان کے گھر والے ۔اب ابوبکر کے اس جواب میں یہ اعتراف موجود ہے کہ رسول اللہ (ص) کی اولاد ان سے ارث لے سکتی ہیں جبکہ ابوبکر کا یہی بیان اس حدیث کے مخالف ہے جو یہ کہتی ہے { ہم انبیاء ارث چھوڑ کر نہیں جاتے ۔

الجوهري البصري البغدادي، أبو بكر أحمد بن عبد العزيز (متوفاي323هـ) السقيفة وفدك، ص 109، ناشر: شركة الكتبي للطباعة والنشر ـ بيروت، الطبعة الأولى، 1401هـ ـ 1980م.

ج: تیری بیٹی تجھ سے ارث لے لیکن میں اپنے بابا سے ارث نہ لوں !

ابوبکر کی پیش کردہ حدیث کے مقابلے میں جناب زہرا سلام اللہ علیہا نے تعجب کے ساتھ ،اس انداز میں استدلال کیا : کیا تیری پیٹی تجھ سے ارث لے اور میں اپنے والد سے ارث نہ لوں  ۔جیساکہ اہل سنت کی معتبر کتابوں میں یہ نقل ہوا ہے؛

طبرانى نے  معجم الأوسط مى‌نويسد:

حدثنا عثمان بن خالد بن عمرو السلفي قال: نا إبراهيم بن العلاء قال: نا إسماعيل بن عياش، عن جعفر بن الحارث، عن محمد بن إسحاق، عن صالح بن كيسان، عن الزهري، عن عروة، عن عائشة، قالت: كلمت فاطمة أبا بكر في ميراثها من رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت: أترثك ابنتك، ولا أرث أبي؟.

عائشہ نقل کرتی ہے : فاطمه نے اپنے والد کے میراث کے مسئلےمیں ابوبکر سے کہا : کیا تیری بیٹی تجھ سے ارث لے اور میں اپنے والد سے ارث نہ لوں ؟

الطبراني، سليمان بن أحمد بن أيوب أبو القاسم (متوفاي360هـ)، المعجم الأوسط، ج 4، ص 104، ح3718، تحقيق: طارق بن عوض الله بن محمد،‏ عبد المحسن بن إبراهيم الحسيني، ناشر: دار الحرمين - القاهرة – 1415هـ.

د: تم کیوں ہمارے بجائے پیغمبر کے وارث ہو ؟!

ابوبکر کے استدلال کے رد میں آپ نے فرمایا : « تم کیوں پیغمبر (ص) سے ارث لیتے ہو ۔۔۔» آپ کے اسی سوال کا یہ نتیجہ نکال سکتا ہے کہ ابوبکر پیغمبر (ص) کے اموال پر قبضہ کرنا چاہتا تھا اور ان سب کو اپنے اختیار میں لینا چاہتا تھا۔

ابن سعد نے اس سلسلے میں لکھا ہے:

أخبرنا عفان بن مسلم، أخبرنا حماد بن سلمة، حدثني الكلبي عن أبي صالح عن أم هانئ: أن فاطمة قالت: لأبي بكر من يرثك إذا مت؟ قال: ولدي وأهلي! قالت: فما لك ورثت النبي دوننا؟.

امّ‌هانى سے نقل ہوا ہے :جناب فاطمه نے ابوبكر سے سوال کیا : اگر تم مرے تو کون تیری میراث کے وارث ہوگا ؟ کہا :میرے گھر والے اور میری اولد ۔ آپ نے پھر فرمایا : پس کیسے  ہمارے بجائے تم پیغمبر کے وارث بنے بیٹھے ہو ؟.

الزهري، محمد بن سعد بن منيع أبو عبدالله البصري (متوفاي230هـ)، الطبقات الكبرى، ج 2، ص 314، ناشر: دار صادر - بيروت؛ النميري البصري، أبو زيد عمر بن شبة (متوفاي262هـ)، تاريخ المدينة المنورة، ج 1، ص 123، تحقيق علي محمد دندل وياسين سعد

هـ: ابوبکر اور عمر کے ایک دوسرے  سے اتفاق پر تعجب ۔۔

جناب فاطمہ کی طرف سے ابوبکر کی حدیث کی مخالفت کے سلسلے میں بیان شدہ گفتگو سے ظاہر ہے کہ آپ اپنے حق سے محروم رکھنے کے سلسلے میں ابوبکر اور ابوبکر کے دوست ، عمر کے اتفاق نظر پر تعجب کرتی تھی۔

ذهبي اس سلسلے میں لکھتا ہے :

 فانصرفت إلى عمر فذكرت له كما ذكرت لأبي بكر، فقال لها مثل الذي راجعها به أبو بكر، فعجبت وظنت أنهما قد تذاكرا ذلك واجتمعا عليه.

فاطمه زہرا(ٍس) نے ابوبکر سے گفتگو کے بعد عمر کی طرف رخ کیا اور عمر کو بھی وہی باتیں بتائیں جو ابوبکر کو بتائیں تو عمر نے بھی وہی جواب دیا جو ابوبکر نے جواب دیا تھا ۔ تو آپ کہتی ہیں : مجھے تعجب ہوئی اور میں یہ سمجھ گئی کی ان دونوں نے پہلے سے آپس میں گفتگو کر کے معاملہ طے کیا ہوا تھا۔

الذهبي، شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان، (متوفاي748هـ)، تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام، ج 3، ص 24، تحقيق د. عمر عبد السلام تدمرى، ناشر: دار الكتاب العربي - لبنان/ بيروت، الطبعة: الأولى، 1407هـ - 1987م.

3. علمی طور پر ابوبکر کے ساتھ برتاو؛

حضرت فاطمہ نے پہلے قرآن اور حدیث سے استدلال کیا اور اپنے حق سے دفاع اور حق کا مطالبہ کیا لیکن جب جواب نہیں ملا تو عملی اقدام کے طور پر ان سے غضبناک ہوئیں اور آخری عمر تک ان سے بائیکاٹ کی صورت میں باقی رہیں۔

بخاري در اين باره چنين مي‌نويسد:

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِى عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ - رضى الله عنها - أَخْبَرَتْهُ أَنَّ فَاطِمَةَ - عَلَيْهَا السَّلاَمُ - ابْنَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - سَأَلَتْ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - أَنْ يَقْسِمَ لَهَا مِيرَاثَهَا، مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ « لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ». فَغَضِبَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - فَهَجَرَتْ أَبَا بَكْرٍ، فَلَمْ تَزَلْ مُهَاجِرَتَهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ وَعَاشَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وس      لم - سِتَّةَ أَشْهُرٍ.

) البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، صحيح البخاري، ج 3، ص 1126، ح2926، أبواب الخمس، باب فَرْضِ الْخُمُسِ، تحقيق د. مصطفى ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 - 1987. (

 جناب عائشہ نقل کرتی ہے : رسول خدا صلى الله عليه و آله کی وفات کے بعد فاطمه نے ابوبكر سے اپنے والد کی ميراث کا مطالبه کیا، ابوبكر نے کہا : رسول خدا نے فرمایا ہے : ہم انبیاء کوئی چیز ارث چھوڑ کر نہیں جاتے ،جو چھوڑے جاتے ہیں وہ صدقه ہے، فاطمه غضبناك ہوئی اور ابوبکر کے ہاس سے ناراض ہوکر چلی گئی  اور دنیا سے جانے تک اسی حالت میں رہیں ۔ آپ رسول اللہ ص کے بعد چھے ماہ تک زندہ رہیں۔

البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، صحيح البخاري، ج 3، ص 1126، ح2926، أبواب الخمس، باب فَرْضِ الْخُمُسِ، تحقيق د. مصطفى ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 - 1987.

اب یہاں حق نہ ملنے کی وجہ سے جناب فاطمہ(س)  ناراض ہوئیں،جبکہ خود صحیح بخاری کی روایت کے مطالب رسول خدا (ص) نے فرمایا:

« فاطمة بضعة مني فمن اغضبها اغضبني» .

فاطمہ میرے وجود کا حصہ ہے جس نے انہیں ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔

ابوبكر نے فاطمہ زهراء (س) کو ناراض کیا اور ایسی ناراضگی جو آخر تک جاری رہی، لیکن اس ناراضگی کی وجہ سے ابوبکر نے پيغمبر اكرم(ص) کو بھی ناراض کیا اور اسی ناراضگی کے نتیجے میں اللہ کو بھی ناراض کر بیٹھا ۔

 جیساکہ ابوبکر کی طرف سے مذکورہ حدیث سے استدلال ٹھیک ہوتا تو جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کے غضبناک ہونے کی کوئی وجہ نہیں تھی اور وہ بھی ایسی ناراضگی کہ جو مکمل بائیکاٹ کی صورت میں ہو اور یہ دنیا سے جانے کے بعد بھی باقی رہے {کیونکہ جنازے میں بھی شرکت کی اجازت نہیں دی}

ہم یہاں جناب فاطمہ(س) کے غضب اور ناراضگی کے بارے میں قرطبي کے بیان کو نقل کرنا مناسب سمجھتے ہیں:

اس سلسلے میں قرطبی سے نقل ہوا ہے :

قال القرطبي في شرح مسلم في فضائل السيدة فاطمة رضي الله عنها: وقوله (ص): «يريبني ما يريبها» أي يؤذيني: وتظهر فائدة ذلك بأن من فعل منا ما يجوز فعله لا يمنع منه وإن تأذى بذلك الفعل غيره؛ وليس كذلك حالنا مع النبي (ص) بل يحرم علينا كل فعل يؤذيه وإن كان في أصله مباحا لكنه إذا أدى إلى أذى النبي (ص) ارتفعت الإباحة وحصل التحريم.

قرطبي نے  مسلم کی شرح میں ، باب فضائل سيدة فاطمة سلام الله علیها میں لکھا ہے : پيامبر(ص)کے اس فرمان: «جو انہیں تکلیف پہنچائے اس نے مجھے تکلیف پہنچائی ہے» کا معنی یہ ہے کہ پیغمبر کے کام اور حالات

اور ہمارے کام اور حالات میں فرق ہے ۔ اگر ہم کوئی ایسا کام انجام دے جو ہمارے لئے جائز ہو تو اس سے منع نہیں کیا جاتا اگرچہ یہ دوسروں کی تکلیف کا باعث بھی ہو ۔۔ لیکن پیغمبر کے ساتھ رفتار کے مسئلے میں ایسا نہیں ہے اگر اصل کام جائز اور مباح ہو لیکن اس سے پیغمبر کو تکلیف ہوتی ہو تو یہ پھر جائز نہیں رہے گا بلکہ ایسی صورت میں یہ حرام کام شمار ہوگا۔

 المغربي، محمد بن عبد الرحمن أبو عبد الله (متوفاي954هـ)، مواهب الجليل لشرح مختصر خليل، ج 3، ص 399، : ناشر: دار الفكر - بيروت، الطبعة: الثانية، 1398هـ.

جیساکہ قرآن محید میں بھی پیغمبر (ص) کو تکلیف دینے والوں کے لئے سخت عذاب کی دھمکی دی ہے :

]وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ رَسُولَ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ[.

یقینا جو لوگ خدا اور اس کے رسول کو ستاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں خدا کی لعنت ہے اور خدا نے ان کے لئے رسوا کن عذاب مہیاّ کر رکھا ہے. التوبه /61.

 

 ایک اور باطل ادعا ۔۔ 

بعض نے یہ ادعا کیا ہے کہ حضرت زهرا سلام الله عليها نے ابوبکر کی طرف س استدلال کے بعد اپنی بات کو واپس لی اور پھر مطالبہ نہیں کیا جیساکہ نووى نے قاضی عیاض سے نقل کیا ہے :

قال القاضي عياض: و في ترك فاطمة منازعة أبي بكر بعد احتجاجه عليها بالحديث التسليم للإجماع على قضية وأنها لما بلغها الحديث وبين لها التأويل، تركت رأيها ثم لم يكن منها ولا من ذريتها بعد ذلك طلب ميراث.

... فاطمه نے ابوبکر کی طرف سے رسول اللہ (ص) کی حدیث سے استدلال کے بعد اپنے مدعا سے ہاتھ اٹھایا اور پھر نہ انہوں نے، نہ ان کے فرزندوں میں سے کسی نے میراث کا دعوا نہیں کیا۔

النووي، أبو زكريا يحيى بن شرف بن مري، شرح النووي على صحيح مسلم، ج 16، ص 63، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت، الطبعة الثانية، 1392 هـ.

لیکن جیساکہ خود بخاری اور مسلم کی حدیث کے مطابق جناب فاطمہ(س) ان سے ناراض ہوئی اور خلفاء سے مکمل پائیکاٹ کے ساتھ دینا سے چلی گئیں ۔لہذا اگر جناب فاطمہ (س) اپنے مدعا سے ہاتھ اٹھا چکی ہوتیں تو پھر اس کا کیا معنی ہے ؟

اھل سنت کے علماء کی ایک تیکنکی غلطی۔

مسلم اور بخاری کی شرح کرتے وقت ، جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کے غضبناک ہونے کا معنی کرتے ہیں اور اسی صحیح سند روایت کے مطابق اصل غضبناک ہونے کو مانتے اور اس روایت میں کسی قسم کے ادراج اور روای کا قول اور گمان ہونے کی طرف اشارہ نہیں کرتے ۔لہذا اسی صحیح سند روایت سے ناراض ہونے کو مانتے ہیں لیکن بعد میں رضایت حاصل ہونے کو ثابت کرنے کے لئے شعبی کی ایک مرسل روایت کا سہارا لیتے ہیں۔۔

اور شیعوں کو جواب دینے کے لئے اس علمی قانون پر عمل نہیں کرتے جو قانون یہ کہتا ہے کہ مرسل روایت  صحیح سند روایت کا مقابلہ نہیں کرسکتی ۔۔۔{مترجم}

خطبه حضرت زهرا(س)

بحث کے اس مرحلے میں اہل سنت کی ہی کتابوں سے جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کے خطبہ فدکیہ کے کچھ حصوں کو نقل کرنا مناسب  ہوگا۔

ابن اثير جزرى نے كتاب منال الطالب، باب أحاديث الصحابيّات میں ، جناب فاطمہ صديقه شهيده سلام الله عليها،سے دو خطبے نقل کیے ہیں ۔ یہ دونوں خطبے آپ نے ابوبکر سے اپنے حق کے مطالبے کے دوران ارشاد فرمایا ، ابن اثیر اس سلسلے میں نقل کرتا ہے :

هذا الحديث أكثر ما رُوي من طريق أهل البيت، و إن كان قد رُويَ من طُرُق أخري، أطولَ من هذا وأكثر.

وقال ابن قتيبة: قد كنت كتبتُه وأنا أري أنّ له أصلاً.

خطبه فدكيه کو اہل سنت کے بہت سے لوگوں نے نقل کیا ہے اور یہ اہل بیت کے واسطے سے نقل ہوا ہے اگرچہ یہ دوسرے واسطے سے بھی تفصیلی طور پر نقل ہوا ہے؛ ابن قتيبه کہتا ہے : اس خطبے کو اس حالت میں لکھا ہوں کہ میں جانتا ہوں اس خطبے کی سند ہے ۔

اهل سنت  کے نذدیک ابن أثير جزري کا مقام  :

بہتر یہ ہے خطبہ نقل کرنے سے پہلے صاحب منال الطالب يعني ابن اثير جزرى کے بارے میں اہل سنت کے علماء کی راے اور نظر سے بحث کیجاے، تاکہ کوئی ابن اثیر کی وجہ سے خطبہ پر اشکال اور اعتراض نہ کر بیٹھے ۔

ذهبى نے  سير اعلام النبلاء میں ان کے بارے میں لکھا ہے :

252 - ابن الأثير. القاضي الرئيس العلامة البارع الأوحد البليغ مجد الدين أبو السعادات المبارك بن محمد بن محمد بن عبد الكريم بن عبد الواحد الشيباني الجزري ثم الموصلي، الكاتب ابن الأثير صاحب ( جامع الأصول ) و ( غريب الحديث ) وغير ذلك.

قال الإمام أبو شامة: قرأ الحديث والعلم والأدب، وكان رئيسا مشاورا... وكان ورعا، عاقلا، بهيا، ذا بر وإحسان...

قال ابن الشعار: كان كاتب الانشاء لدولة صاحب الموصل نور الدين أرسلان شاه بن مسعود بن مودود، وكان حاسبا، كاتبا، ذكيا، إلى أن قال: ومن تصانيفه كتاب... و (شرح غريب الطوال).

ابن اثير، قاضى رئيس، علامه ، بي‌نظير، بليغ، مجد الدين ، آپ  جو جزرى اور موصلی کے لقب سے مشہور ہے ، آپ جامع الاصول و غريب الحديث اور دوسری کتابوں کے مصنف ہے ۔

ابو‌شامه نے کہا ہے : انہوں نے حديث اور علم  و ادب سیکھا ۔۔۔ اور یہ رئیس اور مشاور تھا ...پرهيزگارى ، عاقل ، هيبت والا  اور نیک کام کرنے والا تھا

ابن شعار کہتا ہے: ابن اثير موصل کے دربار میں محرر تھا ۔۔۔، وہ حساب و کتاب کرنے والا اور ایک ذہین آدمی تھا ان کی کتابوں میں سے  شرح غريب الطوال ہے .

. الذهبي، شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان، (متوفاي748هـ)، سير أعلام النبلاء، ج 21، ص 488، تحقيق: شعيب الأرناؤوط، محمد نعيم العرقسوسي، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: التاسعة، 1413هـ.

خطبه فدكيّه کے بعض اہم حصے

اس نورانی خطبے کے کچھ حصے :

]كلُّمَا أَوْقَدُواْ نَارًا لِّلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ[ (المائده/64) أو نَجَم قَرْنٌ للضَّلالة، أو فغَرَتْ فاغرةٌ للمشركين، قذف أخاه عليّا في لهَوَاتِها، فلا ينكفيءُ حتّي يطأْ ضِماخَها بأخْمَصِه، وَيُخْمِدَ لَهَبَها بِحدِّه، مَكْظُوظاً في طاعةِ ‌الله وطاعةِ رسوله، مُشَمِّراً، ناصحاً، مُجِدّاً، كادِحاً، وأنتم في بُلَهْنِيَةٍ وادِعُونَ، وفي رَفاهيةٍ فَكِهُون، تأكُلُون العَفْوَ، وتشرَبُونَ الصَّفوَ، تَتَوكَّفُون الأخبارَ، وتَنْكِصُونَ عندَ النِّزال.

 جتنا وہ جنگ كى آگ كو بھڑكاتے تھے خدا سے خاموش كردیتا تھا جب كوئی شیاطین میں سے سر اٹھاتا یا مشركوں میں سے كوئی بھى كھولتا تو محمدؐ اپنے بھائی على (ع) كو ان كے گلے میں اتار دیتے اور حضرت على (ع) ان كے سر اور مغز كو اپنى طاقت سے پائمال كردیتے اور جب تك ان كى روشن كى ہوئی آگ كو اپنى تلوار سے خاموش نہ كردیتے جنگ كے میدان سے واپس نہ لوٹتے ، اللہ كى رضا كے لئے ان تمام سختیوں کو تحمل كرتے تھے اور خدا كى راہ میں جہاد كرتے تھے، اللہ كے رسول (ص) كے نزدیك تھے۔ على (ع) خدا دوست تھے، ہمیشہ جہاد كے لئے آمادہ تھے، وہ تبلیغ اور جہاد كرتے تھے اور تم اس حالت میں آرام اور خوشى میں خوش و خرم زندگى گزار رہے تھے اور كسى خبر كے منتظر اور فرصت میں رہتے تھے دشمن كے ساتھ لڑائی لڑنے سے ا جتناب كرتے تھے اور جنگ كے وقت فرار كرجاتے تھے۔۔۔

 

فلمّا اختاره اللهُ لنبيِّه دارَ أنبيائه، ومَحلَّ أصْفيائِه، ظَهَرتْ حَسِيكَةُ النِّفاق، وانْسَمَلَ جِلْبابُ الدِّينِ، وأخْلَق عَهْدُه، وانْتَقَضَ عَقْدُه، ونَطَقَ كاظِمٌ، وَنَبغ خامُلٌ، وَهَدَر فَنِيقُ الباطِل؛ يَخْطِرُ في عَرَصاتِكم، وأطْلَعَ الشَّيْطانُ رأسَه مِن مَغْرِزِه، صارِخاً بكم،‌ فأَلفاكم لدعوتِهِ مُصِيخِين ... ]أَلَا فىِ الْفِتْنَةِ سَقَطُواْ وَ إِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةُ بِالْكَفِرِين‏ [.   

       التوبه / 49. 

جب خدا نے اپنے پیغمبر كو دوسرے پیغمبروں كى جگہ كى طرف منتقل كیا تو تمہارے اندرونى كینے اور دوروئی ظاہر ہوگئی ، دین كا لباس كہنہ ہوگیا اور گمراہ لوگ باتیں كرنے لگے، پست لوگوں نے سر اٹھایا اور باطل كا اونٹ آواز دیتے لگا اور اپنى دم ہلانے لگا اور شیطان نے اپنا سركمین گاہ سے باہر نكالا اور تمہیں اس نے اپنى طرف دعوت دى اور تم نے بغیر سوچے اس كى دعوت قبول كرلى اور اس كا احترام كیا تمہیں اس نے ابھارا اور تم حركت میں آگئے اس نے تمہیں غضبناك ہونے كا حكم دیا اور تم غضبناك ہوگئے۔ لوگو وہ اونٹ جو تم میں سے نہیں تھا تم نے اسے با علامت بناكر اس جگہ بیٹھایا جو اس كى جگہ نہیں تھی، حالانكہ ابھى پیغمبرؐ كى موت كو زیادہ وقت نہیں گزرا ہے ابھى تك ہمارے دل كے زخم بھرے نہیں تھے اور نہ شگاف پر ہوئے تھے، ابھى پیغمبرؐ كو دفن بھى نہیں كیا تھا كہ تم نے فتنے كے خوف كے بہانے سے خلافت پر قبضہ كرلیا، لیكن خبردار رہو كہ تم فتنے میں داخل ہوچكے ہو اور دوزخ نے كافروں كا احاطہ كر ركھا ہے۔

وأنتم الآن تزعُمون أنْ لا إِرثَ لَنا، ولا حَظَّ ] أَ فَحُكْمَ الجْاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ وَ مَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُوقِنُون‏[.۔۔۔۔۔۔

     المائده /50.

 كیا تم یہ عقیدہ ركھتے ہو كہ ہم پیغمبرؐ سے میراث نہیں لے سكتے، كیا تم جاہلیت كے قوانین كى طرف لوٹنا چاہتے ہو ؟ حالانكہ اسلام كے قانون تمام قوانین سے بہتر ہیں، كیا تمہیں علم نہیں كہ میں رسول خداؐ كى بیٹى ہوں كیوں نہیں جانتے ہو اور تمہارے سامنے آفتاب كى طرح یہ روشن ہے۔۔۔

اَیهَا الْمُسْلِمُونَ!  وَيْهاً مَعْشَرَ المُسلِمة، أَ أُبْتَزُّ إرْثيَهْ [يابن أبي قحافة]؟ أَفِي كتابِ اللهِ أن تَرِثَ أباكَ وَلا أَرِثُ أبِيَهْ؟ لَقَد جِئْتَ شَيْئاً فَريّاً.

مسلمانوں كیا یہ درست ہے كہ میں اپنے باپ كى میراث سے محروم ہوجاؤں؟ اے ابوبكر آیا خدا كى كتاب میں تو لكھا ہے كہ تم اپنے باپ سے میراث لو اور میں اپنے باپ كى میراث سے محروم رہوں؟ یہ تو تُونے برا کام کیا ۔

جُرْأَةً منكم علي قطيعةِ الرَّحِم وَنَكْثِ الْعَهْدِ، فَعَلي عَمْدٍ ماتركتم كتابَ اللهِ بينَ أَظْهُرِكم ونَبَذْتُموه.

تم لوگوں کے اس کام کی وجہ سے قطع رحمی کی جرات کر بیٹھے۔ اور اپنے عہد و پیمان کو توڑ دیا۔ کیا جان بوجھ کر اللہ کی کتاب کو پیچھے چھوڑے جارہے ہو؟  

ثم عدلت إلي مجلس الأنصار، فقالت:

يا مَعْشَرَ الفِئَةِ، وأَعْضادَ المِلّة، وَحَضَنَةَ الإسلامِ، ما هذه الغَمِيزَةُ في حَقّى، وَالسِّنَةُ عن ظُلامَتِي؟ أَما قال رسولُ اللهِ(ص) «المرءُ يُحْفَظُ فِي وَلَدِهِ» لَسَرْعانَ ما أَحْدَثْتُم! وعَجْلانَ ذا إِهالةً!.

إيهاً بني قَيْلَةَ! أ اُهْتَضَتمُ تُراثَ أبي وأنتم بمَرْأًي منِّي ومَسْمَع؟

پھر انصار کی طرف رخ کر کے فرمایا : اے ملت كے مددگار جوانو اور اسلام كى مدد كرنے والو كیوں حق كے ثابت كرنے میں سستى كر رہے ہو اور جو ظلم مجھ پر ہوا ہے اس سے خواب غفلت میں ہو؟ كیا میرے والد نے نہیں فرمایا كہ كسى كا احترام اس كى اولاد میں بھى محفوظ ہوتا ہے یعنى اس كے احترام كى وجہ سے اس كى اولاد كا احترام كیا كرو؟ كتنا جلدى فتنہ برپا كیا ہے تم نے؟ اور كتنى جلدى ہوى اور ہوس میں مبتلا ہوگئے ہو؟

 اے فرزندان قیلہ: (انصار کا گروہ) کیا یہ مناسب ہے كہ میں باپ كى میراث سے محروم رہوں جب كہ تم یہ دیكھ رہے ہو اور سن رہے ہو اور یہاں موجود ہو میرى پكار تم تك پہنچ چكى ہے ۔۔۔۔

وفي حديث آخر: روي أنها مرضت قبل وفاتها،‌ فدخل إليها نساء المهاجرين والأنصار، يَعُدْنَها، فقلن لها:‌ كيف أصبحت من علّتك يا إبنة رسول الله؟

ایک اور روایت کے مطابق: فاطمه سلام اللہ علیہا  دنیا سے جانے سے پہلے مریض ہوگئیں، آپ کی عبادت کے لئے آئیں مهاجر اورانصار  کی عورتوں نے آپ سے پوچھا: رسول خدا (ص) کی بیٹی آپ کی کیا حالت ہیں؟ کس حالت میں اس بیماری کے ساتھ آپ نے رات گزاری ؟

فقالت: أصْبحْتُ، واللهِ، عائفةً لِدنياكُنَّ، قاليةً لرِجالِكُنَّ، لَفَظْتُهم بَعْدَ أن عَجَمْتُهم، وشَنِئتُهم بعد أن سَبَرْتُهم، فقُبحاً لفُلُولِ الحَدَ وخَطَلِ الرَّأىِ وَخَوَرِ القَناةِ ]لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لهَُمْ أَنفُسُهُمْ أَن سَخِطَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ[.

  حضرت زہرا نے حمد باری تعالیٰ بجا لائی، پھر اپنے باپ پر درود بھیجا اور کہا خدا کی قسم اس حال میں صبح کی ہے کہ تمہاری دنیا سے کوئی سروکار نہیں اور تمہارے مردوں سے ناراض ہوں، ان کو خود سے دور کردیا اور ان کو پہچان لینے کے بعد ان سے ناراض ہوں، پس کس قدر پست ہے تلواروں کا کندہونا اور کوشش کے بعد سست ہوجانا اور نوک دار پتھر پر اپنا سر پٹخنا اور اپنی صفوں میں شگاف پیدا ہونا، غلط آراء دینا اور اغراض میں منحرف ہونا، کس قدر گھٹیا زادِ راہ کو اپنے لئے آگے روانہ کیا ہے،

ما الذي نَقَمُوا من أبى حَسَنٍ؟ نَقَمُوا، واللهِ شِدَّةَ وَطْأَتِهِ، وَنَكالَ وَقْعَتَِهِ وَنَكيرَ سَيْفِهِ، وَتَنَمُّرَه فِي ذاتِ اللهِ.

علی علیہ السلام میں کون سا عیب دیکھا ہے؟ خدا کی قسم فقط ان میں یہ عیب ہے کہ ان کی تلوار کاٹنے والی ہے، وہ موت سے ڈرنے والے نہیں۔ معاملات میں سخت گیر ہیں اور ان کا محاسبہ سخت ہے اور ان کا غضبناک ہونا رضائے الہی کے لئے ہے۔

. الجزري، أبو السعادت المبارك بن محمد ابن الأثير (متوفاي544هـ)، منال الطالب في شرح طوال الغرائب، ص501 ـ 534، ناشر: مركز البحث العلمي وإحياء التراث الإسلامي، كلية الشريعة والدراسات الإسلامية، مكة المكرمة جامعة أم القري.

 امير المومنین (ع) اور  ابوبکر کی حديث کی مخالفت

 ابوبکر کی حدیث میں موجود ادعا روشن ہونے کے لئے امیر المومنین ع کے رد و عمل کو بھی دیکھنا چاہئے ،امیر المومنین کی طرف سے فدک وغیرہ کے مسئلے میں ابوبکر کی مخالفت اور حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا سے دفاع ابوبکر کے ادعا کے بطلان کو واضح سے واضح تر کرتا ہے۔

اہل سنت کی کتابوں میں حضرت امیر المومنین علیہ السلام کا مقام  :

اس بحث کے شروع میں امیر المومنین کے مقام اور منزلت سے مختصر انداز میں بحث کرنا یہاں مناسب اور مفید ہے ۔

 امام علی کبھی حق سے جدا نہیں

أبو يعلي موصلى نے اپنی مسند میں اور ابن حجر عسقلانى نے المطالب العالية میں نقل کیا ہے :

حدثنا محمد بن عباد المكي حدثنا أبو سعيد عن صدقة بن الربيع عن عمارة بن غزية عن عبد الرحمن بن أبي سعيد عن أبيه قال كنا عند بيت النبي صلى الله عليه وسلم في نفر من المهاجرين والأنصار فخرج علينا فقال ألا أخبركم بخياركم قالوا بلى قال خياركم الموفون المطيبون إن الله يحب الخفي التقي قال ومر علي بن أبي طالب فقال: « الحق مع ذا الحق مع ذا ».

... ابوسعيد کہتے ہیں : انصار اور مہاجرین کے کچھ لوگوں کے ساتھ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھر کے باہر بیٹھے تھے، آپ گھر سے باہر تشریف لائیں اور فرمایا : کیا میں تم لوگوں میں سے سب سے بہتر کے بارے میں تم لوگوں کو باخبر نہ کروں ؟ سب نے کہا: ہاں یا رسول اللہ ص ، آپ نے فرمایا: تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے عہد سے وفاء کرنے والا اور مطیع و فرمانبردار ہو۔۔

 اور علی ابن ابی طالب وہاں سے گزر ہوا، تو رسول اللہ {ص} نے فرمایا: حق علی کے ساتھ ہیں ، حق علی کے ساتھ ہے۔  

أبو يعلى الموصلي التميمي، أحمد بن علي بن المثنى (متوفاي307 هـ)، مسند أبي يعلى، ج 2، ص 318، ح1052، تحقيق: حسين سليم أسد، ناشر: دار المأمون للتراث - دمشق، الطبعة: الأولى، 1404 هـ – 1984م؛ العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل(متوفاي852هـ)، المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية، ج 16، ص 147، تحقيق: د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشتري، ناشر: دار العاصمة/ دار الغيث، الطبعة: الأولى، السعودية - 1419هـ .

هيثمى نے اس روایت کو نقل کرنے کے بعد اس کی سند کے بارے میں لکھا ہے:

رواه أبو يعلى ورجاله ثقات.

اس روایت کو ابویعلی نے نقل کیا ہے اور اس کے سارے راوی ثقہ اور قابل اعتماد ہیں ۔

الهيثمي، أبو الحسن علي بن أبي بكر (متوفاي 807 هـ)، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، ج 7، ص 235، ناشر: دار الريان للتراث/‏ دار الكتاب العربي - القاهرة، بيروت – 1407هـ.

علي (ع) قرآن کے ساتھ ہیں  اور  قرآن علی کے ساتھ۔۔

حاكم نيشابورى نے المستدرك علي الصحيحين میں ، طبرانى نے  المعجم الصغير میں ، زمخشرى نے ربيع الأبرار میں، جلال الدين سيوطى نے الفتح الكبير  میں اور  عاصمى مكى نے  سمط النجوم میں امیر المومنین ع  کے اس امتیازی خصوصیت اور فضیلت کے بارے میں نقل کیا ہے :

أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله الحفيد ثنا أحمد بن محمد بن نصر ثنا عمرو بن طلحة القناد الثقة المأمون ثنا علي بن هاشم بن البريد عن أبيه قال حدثني أبو سعيد التيمي عن أبي ثابت مولى أبي ذر قال كنت مع علي رضي الله عنه يوم الجمل فلما رأيت عائشة واقفة دخلني بعض ما يدخل الناس فكشف الله عني ذلك عند صلاة الظهر فقاتلت مع أمير المؤمنين فلما فرغ ذهبت إلى المدينة فأتيت أم سلمة فقلت إني والله ما جئت أسأل طعاما ولا شرابا ولكني مولى لأبي ذر فقالت مرحبا فقصصت عليها قصتي فقالت أين كنت حين طارت القلوب مطائرها قلت إلى حيث كشف الله ذلك عني عند زوال الشمس قال أحسنت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : « علي مع القرآن والقرآن مع علي لن يتفرقا حتى يردا علي الحوض » هذا حديث صحيح الإسناد وأبو سعيد التيمي هو عقيصاء ثقة مأمون ولم يخرجاه.

ابوذر کا غلام نقل کرتا ہے : جنگ جمل میں ، میں علي(عليه السلام ) کے ساتھ تھا ، عائشہ پر میری نظر پڑی، دوسرے بعض لوگوں کی طرح میں بھی شک میں پڑ گیا ، یہاں تک کہ ظہر کی نماز کا وقت ہوا تو میرا اشک ختم ہوا۔    جنگ ختم ہونے کے بعد مدینہ میں ام سلمہ کے پاس گیا اور میں نے ان سے کہا : کھانے پینے کی کوئی چیز مانگنے نہیں آیا ہوں ۔ میں ابوذر کا غلام ہوں، انہوں نے خوش آمدید کہا ۔میں نے جنگ کے وقت کا واقعہ بیان کیا۔ ام سلمہ نے سوال کیا : جس وقت تیرا دل ڈگمگا کیا تھا اس وقت تم نے کیا کیا ؟ میں نے کہا : اللہ نے ظہر کے وقت میرے شک کو دور کیا، انہوں نے کہا : شاباش ہو تم پر۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : علی قرآن کے ساتھ ہیں اور قرآن علی کے ساتھ ۔یہ دونوں یہ دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے آملے۔

حاکم نیشاپوری اس حدیث کی سند کے بارے میں کہتے ہیں :اس  حديث کی سند صحیح ہے ، اگرچہ بخاری اور مسلم نے اس کو نقل نہیں کیا ہے ، و ابو سعيد تيمى، کا نام  عقيصاء ہے اور وہ ثقہ اور قابل اعتماد ہے.

الحاكم النيسابوري، محمد بن عبدالله أبو عبدالله (متوفاي 405 هـ)، المستدرك على الصحيحين، ج 3، ص 134، ح4628، تحقيق: مصطفى عبد القادر عطا، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت الطبعة: الأولى، 1411هـ - 1990م؛ الطبراني، سليمان بن أحمد بن أيوب أبو القاسم (متوفاي360هـ)، المعجم الصغير ( الروض الداني )، ج 2، ص 28، تحقيق: محمد شكور محمود الحاج أمرير، ناشر: المكتب الإسلامي، دار عمار - بيروت، عمان، الطبعة: الأولى، 1405هـ ـ 1985م؛ الزمخشري الخوارزمي، أبو القاسم محمود بن عمرو بن أحمد جار الله (متوفاى538هـ)، ربيع الأبرار، ج 1، ص 133؛ السيوطي، جلال الدين عبد الرحمن بن أبي بكر (متوفاي911هـ)، الفتح الكبير في ضم الزيادة إلى الجامع الصغير، ج 2، ص 230، تحقيق: يوسف النبهاني، ناشر: دار الفكر - بيروت / لبنان، الطبعة: الأولى، 1423هـ ـ 2003م؛ العاصمي المكي، عبد الملك بن حسين بن عبد الملك الشافعي (متوفاي1111هـ)، سمط النجوم العوالي في أنباء الأوائل والتوالي، ج 3، ص 63، تحقيق: عادل أحمد عبد الموجود- علي محمد معوض، ناشر: دار الكتب العلمية؛ المناوي، محمد عبد الرؤوف بن علي بن زين العابدين (متوفاي 1031هـ)، التيسير بشرح الجامع الصغير، ج 2، ص 146، ناشر: مكتبة الإمام الشافعي - الرياض، الطبعة: الثالثة، 1408هـ ـ 1988م.

 

خليل بن كيكلدى علايي نے بھی حاكم  نیشاپوری کی اس سند کو معتبر قرار دیا ہے:

وأخرج الحاكم في مسنده بسند حسن عن أم سلمة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه وسلم قال : « علي مع القرآن والقرآن مع علي لن يفترقا حتى يردا علي الحوض».

حاكم نے اس کو  حسن سند کے ساتھ نقل کیا ہے  اس کو  امّ السلمه نے اس کو  رسول اللہ {ص} سے نقل کیا ہے :  علی قرآن کے ساتھ ہیں اور قرآن علی کے ساتھ ۔یہ دونوں یہ دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے آملے ۔

العلائي، خليل بن كيكلدي (متوفاي761هـ)، إجمال الإصابة في أقوال الصحابة، ج 1، ص 55، : تحقيق: د. محمد سليمان الأشقر، ناشر: جمعية إحياء التراث الإسلامي - الكويت، الطبعة: الأولى، 1407هـ.

اب ہم امیر المومنین ع کے خصوصی مقام اور منزلت کو بیان کرنے کے بعد فدک وغیرہ کے مسئلے میں ان کے موقف کے بارے بحث کرتے ہیں۔

1. ارث کے مطالبے کے مسئلے میں حضرت زهرا (س) کی حمایت

اميرالمؤمنین نے ارث کے مطالبے کے سلسلے میں جناب فاطمه زهراء (س) کے ساتھ دیا اور یہی ان کی طرف سے ابوبکر کی نقل کردہ حدیث کی مخالفت پر بہترین دلیل ہے کیونکہ اگر اس حدیث کو قبول کرتے تو ابوبکر کی مخالفت اور جناب فاطمہ (س)  کی حمایت نہیں کرتے۔

خلاصہ  : جو ہمیشہ حق کے ساتھ ہو اس کی طرف سے کسی کی حمایت ابوبکر کے دعوے کے باطل ہونے کی دلیل ہے اور یہ حمایت اہل سنت کی بہت سی کتابوں میں نقل ہوئی ہے۔

محمد بن سعد نے الطبقات الكبرى میں نقل کیا ہے :

أخبرنا محمد بن عمر، أخبرنا هشام بن سعد عن زيد بن أسلم عن أبيه قال: سمعت عمر يقول: لما كان اليوم الذي توفي فيه رسول الله، صلى الله عليه وسلم، بويع لأبي بكر في ذلك اليوم، فلما كان من الغد جاءت فاطمة إلى أبي بكر معها علي فقالت: ميراثي من رسول الله أبي، صلى الله عليه وسلم،... فدك وخيبر وصدقاته بالمدينة أرثها كما يرثك بناتك إذا مت!

زيد بن اسلم نے اپنے والد سے ، اس نے عمر سے نقل کیا ہے: رسول اللہ {ص} کی وفات کے دن ابوبکر کے لئے بیعت لی گئی، دوسرے دن  حضرت فاطمه ،حضرت علي علیہما السلام  کے ساتھ ابوبكر پاس آئی، حضرت فاطمه نے کہا :فدک ،خیبر اور رسول اللہ ص کے صدقات  سے میرا ارث ۔۔۔۔ میں ان چیزوں سے  ارث لوں گی جس طرح تم مرا تو تیری بیٹی تجھ سے ارث لے گی۔

پھر ابن سعد لکھتا ہے :

أخبرنا محمد بن عمر، حدثني هشام بن سعد عن عباس بن عبد الله بن معبد عن جعفر قال: جاءت فاطمة إلى أبي بكر تطلب ميراثها، وجاء العباس بن عبد المطلب يطلب ميراثه، وجاء معهما علي.

فاطمه ابوبكر کے پاس گئیں اور ارث کا مطالبہ کیا اور عباس بھی آیا تھا،  علي بھی ان کے ساتھ آئے تھے۔

الزهري، محمد بن سعد بن منيع أبو عبدالله البصري (متوفاي230هـ)، الطبقات الكبرى، ج 2، ص315، ناشر: دار صادر – بيروت

2.      براہ راست مطالبہ  :

امير المؤمنین (ع) نے جناب فاطمہ سیدۃ نساء العالمین(س) کی حمایت اور فدک کی ملکیت پر گواہی دینے  کے ساتھ ساتھ براہ راست رسول اللہ (ص)  کے ارث کا مطالبہ کیا اور یہ ابوبکر کے زمانے میں بھی کیا اور عمر کے زمانے میں بھی ۔

تاریخ کا یہ حساس لمحہ اہل سنت کی معتبر ترین کتاب میں موجود ہے۔ جیساکہ مسلم بن حجاج نيشابوري، نے اپنی کتاب میں عمر کی طرف سے حضرت علی اور عباس کی طرف سے ابوبکر اور خود عمر کے دور میں میراث کے مطالبے  پر ناراضگی کے اظہار کے طور پر بیان کیا ہے۔

... ثم أقبل على العباس وعلي فقال:... فلما توفي رسول الله صلى الله عليه و سلم قال أبو بكر أنا ولي رسول الله صلى الله عليه و سلم فجتئما تطلب ميراثك من ابن أخيك ويطلب هذا ميراث امرأته من أبيها ... ثُمَّ تُوُفِّىَ أَبُو بَكْرٍ وَأَنَا وَلِىُّ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَوَلِىُّ أَبِى بَكْرٍ ... ثُمَّ جِئْتَنِى أَنْتَ وَهَذَا وَأَنْتُمَا جَمِيعٌ وَأَمْرُكُمَا وَاحِدٌ فَقُلْتُمَا ادْفَعْهَا إِلَيْنَا.

عمر نے  امير المؤمنن (ع) اور  عباس سے مخاطب ہوکر کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات ہوئی اور ابوبکر نے کہا : میں رسول اللہ صی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جانشین ہوں تو تم دونوں آئے اور عباس اپنے بھتیجے کی وراثت مانگ رہا تھا اور علی اپنی بیوی کی ان کے والد کی طرف سے وراثت مانگ رہا تھا  اور جب ابوبکر فوت ہوا تو تم دونوں میرے پاس آئے اور یہ ۔۔۔۔۔

النيسابوري، مسلم بن الحجاج أبو الحسين القشيري (متوفاي261هـ)، صحيح مسلم، ج 3، ص 1378، ح 1757، كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ، بَاب حُكْمِ الْفَيْءِ، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت.

3. ابوبکر کی حدیث کا قرآن کے مخالف ہونے کا بیان اور ابوبکر سےاس پر اعتراف لینا

امير المؤمنین (ع) نے اپنی زوجہ کے غصب شدہ حق سے دفاع کے لئے ابوبکر کے سامنے قرآنی آیات سے استدلال کیا۔

جیساکہ بیان ہوا کہ اہل سنت کی کتابوں میں اس سلسلے میں صحیح سند روایات موجود ہیں کہ علی(ع) قرآن کے ساتھ ہیں اور قرآن علی کے ساتھ۔ ۔ اب امیر المومنین علی (ع)  کی جانب سے قرآنی آیات سے استدلال ابوبکر کے ادعا کے بطلان پر بہترین دلیل ہے۔

محمد بن سعد نے الطبقات الكبرى میں اس سلسلے میں نقل کیا ہے:

أخبرنا محمد بن عمر، حدثني هشام بن سعد عن عباس بن عبد الله بن معبد عن جعفر قال: جاءت فاطمة إلى أبي بكر تطلب ميراثها، وجاء العباس بن عبد المطلب يطلب ميراثه، وجاء معهما علي فقال أبو بكر: قال رسول الله لا نورث، ما تركنا صدقة، وما كان النبي يعول فعلي، فقال علي: «ورث سليمان داود»وقال زكريا «يرثني ويرث من آل يعقوب».

فاطمه(عليها السلام) ،عباس کے ساتھ  ابوبكر کے پاس گئیں اور ارث کا مطالبہ کیا اس وقت علي (عليه السلام) بھی وہاں حاضر تھے، ابوبكر نے کہا : رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے : ہم ارث چھوڑ کر نہیں جاتے جو چھوڑے جاتے ہیں ہو صدقہ ہے، اس وقت  علي(عليه السلام) نے جواب میں فرمایا: قرآن میں اللہ کا ارشاد ہے : «سليمان نے داود سے ارث لیا »  اور جناب زکریا نے فرمایا : «مجھے ایسا وارث دئے  جو مجھ سے اور آل یعقوب سے ارث لے».

الزهري، محمد بن سعد بن منيع أبو عبدالله البصري (متوفاي230هـ)، الطبقات الكبرى، ج2، ص315، ناشر: دار صادر - بيروت.

حضور علي(ع) نے حضرت زهراء عليهما السلام کے حق خواہی کے لئے جب قرآنی آیات سے استدلال کیا تو اس وقت خلیفہ نے بات تسلیم کی اور آپ کے استدلال کے بعد آپ کی تصدیق میں ہی بہتری دیکھی۔

ابن سعد نے اس سلسلے میں لکھا ہے :

فقال أبو بكر: قال رسول الله لا نورث، ما تركنا صدقة، وما كان النبي يعول فعلي، فقال علي: ورث سليمان داود وقال زكريا يرثني ويرث من آل يعقوب؛ قال أبو بكر: هو هكذا.

ابو بكر نے فاطمہ(س) کے مطالبے کے جواب میں کہا : رسول خدا (ص)  نے فرمایا ہے : ہم انبیاء ارث چھوڑ کر نہیں جاتے ۔۔۔۔ اس وقت حضرت علي(ع)  نے جواب دیا : سلیمان نے داود سے ارث لیا  اور جناب زكريا نے اللہ سے ایسے وارث کا مطالبہ کیا ۔ جو ان سے اور آل یعقوب سے ارث لے سکے ، ابوبکر نے کہا : ہاں ایسا ہی ہے.

الزهري، محمد بن سعد بن منيع أبو عبدالله البصري (متوفاي230هـ)، الطبقات الكبرى، ج2، ص315، ناشر: دار صادر - بيروت.

4. ابوبکر کو قرآن پر عمل کرنے کی دعوت

ابوبکر نے گرچہ اعتراف کیا کہ انبیاء ارث چھوڑ کر جاتے ہیں لیکن پھر بھی جناب فاطمہ زہرا (ع) کو ارث دینے سے انکار کیا اس وقت  اميرالمؤمنین (ع) نے قرآنی حکم کی پابندی کرنے کی دعوت دی ، جیساکہ ابن سعد اس سلسلے میں لکھتا ہے : 

أخبرنا محمد بن عمر، حدثني هشام بن سعد عن عباس بن عبد الله بن معبد عن جعفر قال: جاءت فاطمة إلى أبي بكر تطلب ميراثها، وجاء العباس بن عبد المطلب يطلب ميراثه، وجاء معهما علي، فقال أبو بكر: قال رسول الله لا نورث، ما تركنا صدقة، وما كان النبي يعول فعلي، فقال علي: ورث سليمان داود وقال زكريا يرثني ويرث من آل يعقوب؛ قال أبو بكر: هو هكذا وأنت والله تعلم مثلنا أعلم، فقال علي: هذا كتاب الله ينطق! فسكتوا وانصرفوا.

جناب فاطمہ، عباس کے ساتھ ابوبکر کے پاس میراث کا مطالبہ کرنے آئی ،اس وقت علي (عليه السلام) بھی وہاں حاضر تھے، ابوبكر نے کہا : رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے : ہم ارث چھوڑ کر نہیں جاتے جو چھوڑے جاتے ہیں ہو صدقہ ہے،۔۔ اس وقت  علي(عليه السلام) نے جواب میں فرمایا: قرآن میں اللہ کا ارشاد ہے : «سليمان نے داود سے ارث لیا »  اور جناب زکریا نے فرمایا : «مجھے ایسا وارث دئے  جو مجھ سے اور آل یعقوب سے ارث لے۔ ابوبکر نے کہا : ہاں ایسا ہی ہے۔ اور کہا : اللہ کی قسم تم ہم سے زیادہ جاننے ہو ۔ پھر حضرت علی نے کہا : اللہ کی کتاب تو یہ کہتی ہیں ۔۔ اس کے بعد سب خاموش ہوگئے اور واپس چلے گئے۔

الزهري، محمد بن سعد بن منيع أبو عبدالله البصري (متوفاي230هـ)، الطبقات الكبرى، ج2، ص315، ناشر: دار صادر - بيروت

5. ابوبکر کو جھوٹا ، خائن ، دھوکہ باز اور گناہ گار کہنا؛

امبرالمؤمنین(ع)نے جب یہ دیکھا کہ ان کی کوششوں کا نتیجہ نہیں نکلا اور ابوبکر مسلسل اپنی نقل شدہ حدیث پر ہی اصرار کرتا ہے اور اہل بیت کو ان کے حق سے محروم کرنے پر لگا ہوا ہو تو اس وقت حضرت امیر نے واضح اور سخت انداز میں اپنے موقف کو بیان کیا اور ابوبکر کو جھوٹا ،گناہ کار، دھوکہ باز  اور خائن کہا ۔ جیساکہ اس مطلب کو بھی اہل سنت کی بہت سی کتابوں میں نقل کیا ہے:

مسلم نے اپنی کتاب" صحيح" میں  خود عُمر بن خطاب اس کو نقل کیا ہے :

... . قَالَ فَلَمَّا تُوُفِّىَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَنَا وَلِىُّ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَجِئْتُمَا تَطْلُبُ مِيرَاثَكَ مِنَ ابْنِ أَخِيكَ وَيَطْلُبُ هَذَا مِيرَاثَ امْرَأَتِهِ مِنْ أَبِيهَا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ». فَرَأَيْتُمَاهُ كَاذِبًا آثِمًا غَادِرًا خَائِنًا وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّهُ لَصَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ... .

عمر نے  اميرالمؤمنین (ع) اور  عباس سے مخاطب ہوکر کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات ہوئی تو ابوبکر نے کہا : میں رسول اللہ صی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جانشین ہوں تو تم دونوں آئے اور عباس اپنے بھتیجے کی وراثت مانگ رہا تھا اور علی اپنی بیوی کی ان کے والد کی طرف سے وراثت مانگ رہا تھا۔ اس پر ابوبکر نے کہا: رسول اللہ ص نے فرمایا ہے : ہم انبیاء ارث چھوڑ کر نہیں جاتے ،جو چھوڑے جاتے ہیں وہ صدقہ ہے۔لیکن تم دونوں نے انہیں جھوٹا ، گناہ گار ، عہد شکن اور خائن سمجھا ۔

 اور جب ابوبکر فوت ہوا اور میں رسول اللہ ص اور ابوبکر کا جانشین بنا تو اے عباس آپ آئے اور اپنے بھتیجے کی وراثت مانگ رہے ہو۔۔۔۔۔

 

 النيسابوري، مسلم بن الحجاج أبو الحسين القشيري (متوفاي261هـ)، صحيح مسلم، ج 3، ص 1378، ح 1757، كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ، بَاب حُكْمِ الْفَيْءِ، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت.

7. ابوبکر کے ساتھ عملی مخالفت   

ابوبکر کی شخصیت کی معرفی کے بعد آپ نے عملی طور پر بھی ابوبکر کے ساتھ منفی رویہ اختیار کیا ۔

انہیں میں سے ایک اپنی زوجہ کی تکفین ، تشیع اور تدفین کے موقع پر ابوبکر کو خبر نہیں دی اور رات کی تاریکی میں یہ سب انجام دیا اور خلیفہ کو خبر تک نہ دی ،جبکہ اس وقت رسم یہ تھا میت ہر نماز خلیفہ پڑھا کرتا تھا ۔لہذا امیر المومنین علیہ السلام کی طرف سے ایسا اقدام حقیقت میں حضرت فاطمہ اور حضرت علی علیہما السلام کا حکومتی رویہ سے رنجیدہ اور ناراض ہونے کی نشاندہی کرتا ہے ۔

بخاري نے  نقل کیا ہے :

... فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى فَاطِمَةَ مِنْهَا شَيْئًا فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ عَلَى أَبِى بَكْرٍ فِى ذَلِكَ فَهَجَرَتْهُ، فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ، وَعَاشَتْ بَعْدَ النَّبِىِّ - صلى الله عليه وسلم - سِتَّةَ أَشْهُرٍ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ، دَفَنَهَا زَوْجُهَا عَلِىٌّ لَيْلاً، وَلَمْ يُؤْذِنْ بِهَا أَبَا بَكْرٍ وَصَلَّى عَلَيْهَا...  

ابوبكر نے جناب فاطمه کو ارث دینے سے انکار کیا اسی وجہ سے آُپ ناراض ہوگئی اور ان سے بات تک نہیں کی جبکہ آپ کے والد کی وفات کے بعد آپ چھے ماہ زندہ رہیں اور جب آپ دنیا سے چلی گئیں تو اس وقت ان کے شوہر نے راتوں رات انہیں دفنا دیا اور ابوبکر کو اس کی اطلاع تک نہیں دی اور ان کے شوہر نے ہی ان کا جنازہ پڑھا۔

البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، صحيح البخاري، ج 4، ص 1549، ح3998، كتاب المغازي، باب غزوة خيبر، تحقيق د. مصطفى ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 - 1987

چوتھی فصل : بعض اصحاب کی طرف سے ابوبکر کی حدیث کی مخالفت

اس فصل میں ہم ابوبکر کی نقل شدہ حدیث کے مقابلے میں دوسرے بعض اصحاب کے رد و عمل کی تحقیق کریں گے تاکہ یہ واضح ہو کہ  رسول خدا (ص) کی میراث کا مطالبہ کرنے اور ابوبکر کی طرف سے نقل کردہ حدیث کی مخالفت کرنے والا صرف جناب فاطمه (س) اور حضرت علي (ع)  نہ تھے .

الف) پیغمبر کے چچا کا اس حدیث کی مخالفت

رسول اللہ (ص) کے اصحاب میں سے ایک رسول للہ (ص)   کے چچا عباس ہے ،اہل سنت کے نذدیک ان کے مقام کے بیان میں ان کی معتبر کتابوں میں ہے کہ عمر کے دور حکومت میں جب قحط سالی ہوئی اور بارش نہیں آئی تو عمر بن خطاب نے ان کو واسطہ قرار دے کر اللہ سے بارش و باران کے لئے دعا کی ۔

جیساکہ صحیح بخاری میں ہے ؛

حدثنا الْحَسَنُ بن مُحَمَّدٍ قال حدثنا محمد بن عبد اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ قال حدثني أبي عبد اللَّهِ بن الْمُثَنَّى عن ثُمَامَةَ بن عبد اللَّهِ بن أَنَسٍ عن أَنَسِ أَنَّ عُمَرَ بن الْخَطَّابِ رضي الله عنه كان إذا قَحَطُوا اسْتَسْقَى بِالْعَبَّاسِ بن عبد الْمُطَّلِبِ فقال اللهم إِنَّا كنا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا فَتَسْقِينَا وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا قال فَيُسْقَوْنَ .

 

البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، صحيح البخاري ،بَاب سُؤَالِ الناس الْإِمَامَ الِاسْتِسْقَاءَ إذا قَحَطُوا ،ج1ص342 ، تحقيق د. مصطفى ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 - 1987.

   جناب عباس کی مخالفت اهل سنت کی کتابوں میں بہت زیادہ نقل ہوئی ہے۔ ہم ان میں سے بعض یہاں نقل کرتے ہیں۔

1.     جناب زہرا کی حمایت

وہ اگرچہ جناب فاطمه (س) کی موجودگی میں پيامبر (ص) کے وارث تو نہیں تھے لیکن انہوں نے رسول خدا (ص) کی بیٹی کی حمایت میں بھی کوتاہی نہیں کی اور امیر المومنین ع کا بھی ساتھ دیا ۔

بخاری نے اس سلسلے میں نقل کیا ہے؛

حدثنا إبراهيم بن موسى أخبرنا هشام أخبرنا معمر عن الزهري عن عروة عن عائشة أن فاطمة عليها السلام والعباس أتيا أبا بكر يلتمسان ميراثهما أرضه من فدك وسهمه من خيبر فقال أبو بكر سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول: لا نورث ما تركنا صدقة....

فاطمه اور عباس ابوبكر کے پاس آئے اور فدک  کی زمین اور خیبر سے اپنی وراثت کا مطالبہ کیا تو  اس وقت ابوبکر نے کہا : رسول اللہ (ع) نے فرمایا: ہم انبیاء ارث چھوڑ کر نہیں جاتے جو چیز چھوڑے جاتے ہیں وہ صدقہ ہے ۔

البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، صحيح البخاري، ج 4، ص 1481، ح3810، كِتَاب الْمَغَازِي، بَاب حديث بَنِي النَّضِيرِ و ج 6، ص 2474، ح6346، كِتَاب الْفَرَائِضِ، بَاب قَوْلِ النبي صلى الله عليه وسلم لَا نُورَثُ ما تَرَكْنَا صَدَقَةٌ، تحقيق د. مصطفى ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 - 1987.

2.     اپنے لئے ارث کا مطالبہ ۔

عباس نے جناب فاطمہ(س)   کی حمایت کے ساتھ اپنے لئے ارث کا مطالبہ بھی کیا اور یہ مطالبہ ابوبکر کے دور میں بھی کیا اور عمر کے دور میں بھی ۔

جیساکہ صحیح  بخاری میں  عمر سے  نقل ہوا ہے ؛

قَالَ فَلَمَّا تُوُفِّىَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَنَا وَلِىُّ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَجِئْتُمَا تَطْلُبُ مِيرَاثَكَ مِنَ ابْنِ أَخِيكَ... ثُمَّ تُوُفِّىَ أَبُو بَكْرٍ وَأَنَا وَلِىُّ رَسُولِ اللَّهِ ... ثُمَّ جِئْتَنِى يَا عَبَّاسُ تَسْأَلُنِى نَصِيبَكَ مِنِ ابْنِ أَخِيكَ ... .

عمر نے  اميرمؤمنن (ع) اور  عباس سے مخاطب ہوکر کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات ہوئی اور ابوبکر نے کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جانشین ہوں تو تم دونوں آئے اور عباس اپنے بھتیجے کی وراثت مانگ رہا تھا اور علی اپنی بیوی کی ان کے والد کی طرف سے وراثت مانگ رہا تھا ۔۔۔ اور جب ابوبکر فوت ہوا اور میں رسول اللہ(ص) اور ابوبکر کا جانشین بنا تو آئے عباس آپ آئے اور اپنے بھتیجے کی وراثت مانگ رہے ہو۔۔۔۔۔

البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، صحيح البخاري، ج 3، ص 1126، ح2927، أبواب الخمس، باب فَرْضِ الْخُمُسِ، تحقيق د. مصطفى ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 - 1987؛ النيسابوري، مسلم بن الحجاج أبو الحسين القشيري (متوفاي261هـ)، صحيح مسلم، ج 3، ص 1378، ح 1757، كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ، بَاب حُكْمِ الْفَيْءِ، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت.

3. ابوبکر اور عمر کو جھوٹا ، گناہ گار ، عہد شکن اور خائن سمجھا۔

 جناب عباس اور اميرمؤمنین (ع) نے جب یہ دیکھا کہ خلفاء ایک حدیث ست استدلال کرتے ہوئے رسول اللہ (ص) کی بیٹی کی وراثت دینے کے لئے تیار نہیں تو آپ نے ان دونوں کی شخصیت پر حملہ کیا :

.جیساکہ صحیح مسلم میں نقل ہوا ہے ؛

... قَالَ فَلَمَّا تُوُفِّىَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَنَا وَلِىُّ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَجِئْتُمَا تَطْلُبُ مِيرَاثَكَ مِنَ ابْنِ أَخِيكَ وَيَطْلُبُ هَذَا مِيرَاثَ امْرَأَتِهِ مِنْ أَبِيهَا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- «مَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ». فَرَأَيْتُمَاهُ كَاذِبًا آثِمًا غَادِرًا خَائِنًا وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّهُ لَصَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ ثُمَّ تُوُفِّىَ أَبُو بَكْرٍ وَأَنَا وَلِىُّ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَوَلِىُّ أَبِى بَكْرٍ فَرَأَيْتُمَانِى كَاذِبًا آثِمًا غَادِرًا خَائِنًا وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنِّى لَصَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ فَوَلِيتُهَا ثُمَّ جِئْتَنِى أَنْتَ وَهَذَا وَأَنْتُمَا جَمِيعٌ وَأَمْرُكُمَا وَاحِدٌ فَقُلْتُمَا ادْفَعْهَا إِلَيْنَا.

عمر نے  اميرالمؤمنین (ع) اور  عباس سے مخاطب ہوکر کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات ہوئی اور ابوبکر نے کہا : میں رسول اللہ صی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جانشین ہوں تو تم دونوں آئے اور عباس اپنے بھتیجے کی وراثت مانگ رہا تھا اور علی اپنی بیوی کی ان کے والد کی طرف سے وراثت مانگ رہا تھا  اس پر ابوبکر نے کہا: رسول اللہ ص نے فرمایا ہے : ہم انبیاء ارث چھوڑ کر نہیں جاتے جو چھوڑے جاتے ہیں وہ صدقہ ہے۔لیکن تم دونوں نے انہیں جھوٹا ، گناہ گار ، عہد شکن اور خائن سمجھا ۔

 اور جب ابوبکر فوت ہوا اور میں رسول اللہ (ع)  اور ابوبکر کا جانشین بنا تو آئے عباس آپ آئے اور اپنے بھتیجے کی وراثت مانگ رہے ہو۔۔۔۔۔

 

 النيسابوري، مسلم بن الحجاج أبو الحسين القشيري (متوفاي261هـ)، صحيح مسلم، ج 3، ص 1378، ح 1757، كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ، بَاب حُكْمِ الْفَيْءِ، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت.

 ب: ابن عباس اور ابوبکر کی حدیث کا انکار

ابن عباس  رسول خدا (ص) کے چچا کا بیٹا ہے اور علمی اور دینی لحاظ سے اسلامی تاریخ میں اس کا خاص مقام ہے ، ان کو حبر الامّة (یعنی ایسا آدمی جس کے پاس بہت زیادہ علم ہو ) کا لقب دیا ہے ۔ ابن عباس نے بھی ابوبکر کی حدیث کے مقابلے میں منفی رویہ اختیار کیا

جیساکہ صحیح مسلم میں ہے :

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ - يَعْنِى ابْنَ بِلاَلٍ - عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ أَنَّ نَجْدَةَ كَتَبَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ خَمْسِ خِلاَلٍ... وَعَنِ الْخُمْسِ لِمَنْ هُوَ؟... وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِى عَنِ الْخُمْسِ لِمَنْ هُوَ؟ وَإِنَّا كُنَّا نَقُولُ هُوَ لَنَا فَأَبَى عَلَيْنَا قَوْمُنَا ذ َاكَ.

... نجده نے ابن عباس کو خط لکھا اور سوال کیا :خمس کس کا حق ہے ؟  عباس نے کہا : ہم تو کہتے ہیں یہ ہمارا حق ہے لیکن ہماری قوم نے اس سے ہمیں دور رکھا۔

النيسابوري، مسلم بن الحجاج أبو الحسين القشيري (متوفاي261هـ)، صحيح مسلم، ج 3، ص 1444، ح1812، كتاب الجهاد والسير، بَاب النِّسَاءِ الْغَازِيَاتِ، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت

ج: رسول اللہ ص کی ازواج اور ابوبکر کی حدیث کی مخالفت

اصحاب کی طرف سے ابوبکر کی حدیث کی مخالفت کے موارد میں سے ایک  رسول خدا (ص) کی ازواج کی مخالفت ہے ۔

1. ارث کا مطالبه‌  

ازواج نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کے باقی اموال سے اپنے ارث کا مطالبہ کیا اور یہی مطالبہ کرنا ہی ان کی طرف سے حدیث کو قبول نہ کرنے کی نشانی ہے، اگرچہ عائشہ اپنے والد کی مدد کے لئے آئی اور اسی مذکورہ حدیث کو نقل کر کے ازواج کو خاموش کر دیا لیکن اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ازواج نے بھی ایسی کوئی بات رسول اللہ (ع)  سے نہیں سنی تھیں ۔ حق تو یہ تھا کہ یہ حکم دوسروں سے زیادہ ان کو بتادیا جاتا،جبکہ انہیں اس چیز کی خبر نہیں تھیں اسی لئے ارث کو اپنا شرعی حق سمجھتی تھیں۔

بخاری اس سلسلے میں نقل کرتا ہے :

... مالِكُ بْنُ أَوْسٍ، أَنَا سَمِعْتُ عَائِشَةَ - رضى الله عنها - زَوْجَ النَّبِىِّ - صلى الله عليه وسلم - تَقُولُ أَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِىِّ - صلى الله عليه وسلم - عُثْمَانَ إِلَى أَبِى بَكْرٍ يَسْأَلْنَهُ ثُمُنَهُنَّ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ - صلى الله عليه وسلم -، فَكُنْتُ أَنَا أَرُدُّهُنَّ، فَقُلْتُ لَهُنَّ أَلاَ تَتَّقِينَ اللَّهَ، أَلَمْ تَعْلَمْنَ أَنَّ النَّبِىَّ - صلى الله عليه وسلم - كَانَ يَقُولُ « لاَ نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ.

... عايشه نقل کرتی ہیں :  رسول خدا ص کے ازواج نے آپ کی وفات کے بعد عثمان کو ابوبکر کے پاس بھیجا اور رسول اللہ (ص) کی میراث سے اپنے حصے کے آٹھویں حصے کا مطالبہ کیا ،عائشہ کہتی ہے : میں نے ان سے کہا :کیا اللہ سے نہیں ڈرتیں ؟ کیا رسول اللہ (ص)  نے نہیں فرمایا: ہم انبیاء(ع) کوئی چیز ارث چھوڑ کر نہیں جاتے جو چھوڑے جاتے ہیں وہ صدقہ ہے۔؟

البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، صحيح البخاري، ج 3، ص 1126، ح2927، أبواب الخمس، باب فَرْضِ الْخُمُسِ، تحقيق د. مصطفى ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 - 1987؛ النيسابوري، مسلم بن الحجاج أبو الحسين القشيري (متوفاي261هـ)، صحيح مسلم، ج 3، ص 1378، ح 1757، كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ، بَاب حُكْمِ الْفَيْءِ، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت.

جیساکہ بیان ہوگا کہ ازواج حتی خود عائشہ نے ارث میں سے اپنا حصہ لے لیا۔

2. کمروں سے اپنا ارث لینا :

زمانے گزرنے کے ساتھ ساتھ بہت سی چیزیں بدل جاتی ہیں لیکن کوئی بھی تاریخی واقعات کو مکمل طور پر تاریخ کی صفحات سے پاک نہیں کرسکتا۔

 ابن تيميه حرانى یہ اعتراف کرتا ہے کہ پیغمبر کی ازواج نے حجروں کو کہ جو رسول اللہ (ص)  کے اموال میں سے تھے، ارث کے طور پر لیا اور رسول خدا(ص) کی ازواج کے وارث ان حجروں کے وارث بنے اور پھر انہیں فروخت بھی کیا ۔

ابن تیمیہ اس سلسلے میں لکھتا ہے:

وكان النبى لما مات دفن فى حجرة عائشة رضى الله عنها وكانت هي وحجر نسائه فى شرقى المسجد وقبليه لم يكن شيء من ذلك داخلا فى المسجد وإستمر الأمر على ذلك إلى أن إنقرض عصر الصحابة بالمدينة ثم بعد ذلك فى خلافة الوليد بن عبد الملك بن مروان بنحو من سنة من بيعته وسع المسجد وأدخلت فيه الحجرة للضرورة فإن الوليد كتب إلى نائبه عمر بن عبد العزيز أن يشترى الحجر من ملاكها ورثة أزواج النبى فإنهن كن قد توفين كلهن رضى الله عنهن فأمره أن يشترى الحجر ويزيدها فى المسجد فهدمها وأدخلها فى المسجد.

پيامبر اكرم (ع) جس وقت فوت ہوئے اس وقت انہیں عائشہ کے حجرے میں دفن کر دیا یہ حجرہ مسجد کے مشرق کی طرف تھا۔

جب صحابہ کا دور ختم ہوا اور سب صحابہ دنیا سے چلے گئے تو وليد بن عبد الملك کی خلافت کے دور میں مسجد النبى کو وسعت دی اور عائشہ کے حجرے کو مسجد میں شامل کیا ۔ وليد نے مدینہ میں اپنے نمائندہ، عمر بن عبد العزيز کو خط لکھا اور ازواج کے حجروں کو ان کے مالکوں{ازواج کے وارثوں} سے خرید کر مسجد میں شامل کرنے کا حکم دیا ۔

ابن تيميه الحراني، أحمد عبد الحليم أبو العباس (متوفاي 728 هـ)، كتب ورسائل وفتاوى شيخ الإسلام ابن تيمية، ج 27، ص 323، تحقيق: عبد الرحمن بن محمد بن قاسم العاصمي النجدي، ناشر: مكتبة ابن تيمية، الطبعة: الثانية.

اب یہاں یہ سوال ہوسکتا ہے کہ کیا یہ حجرے رسول اللہ(ص) کے اموال میں سے نہیں تھے :کیا آپ کی ازواج صرف آپ سے ارث لے سکتی تھیں اور پھر ان کے ازواج کے وارث ان سے ارث لے سکتے تھے ؟  کیا جناب فاطمہ (س)  اپنے والد کے وارث نہیں تھیں؟ اب یہ کیسے ممکن ہے ان کی ازواج ارث لیں لیکن  ان کی بیٹی ان سے ارث نہ لے ؟

ایک اور باطل ادعا :

ابن تيميه نے جو بات نقل کیا اس سے شرح بخاری میں ابن حجر اور بطال کا نظریہ بھی باطل ہوا کیونکہ یہ دونوں کہتے ہیں کہ ازواج کے حجرے انہیں ارث میں نہیں ملے بلکہ ان کے نفقہ شمار ہوتے تھے ۔ ازواج ان حجروں کے مالک نہیں تھیں ۔

قال ما تركت بعد نفقة نسائي قال وهذا أرجح ويؤيده أن ورثتهن لم يرثن عنهن منازلهن ولو كانت البيوت ملكا لهن لانتقلت إلى ورثتهن وفي ترك ورثتهن حقوقهم منها دلالة على ذلك ولهذا زيدت بيوتهن في المسجد النبوي بعد موتهن لعموم نفعه للمسلمين... .

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل (متوفاي852 هـ)، فتح الباري شرح صحيح البخاري، ج 6، ص 211، تحقيق: محب الدين الخطيب، ناشر: دار المعرفة - بيروت.

قال: ( ما تركت بعد نفقة نسائى ومئونة عاملى فهو صدقة ) قالوا: ويدل على صحة ذلك أن مساكنهن لم يرثها عنهن ورثتهن، ولو كان ذلك ملكًا لهن كان لا شك يورث عنهن، وفى ترك ورثتهن حقوقهم من ذلك دليل أنه لم يكن لهن ملكًا، وإنما كان لهن سكناه حياتهن، فلما مضين بسبيلهن جعل ذلك زيادة فى المسجد الذى يعم المسلمين نفعه.

إبن بطال البكري القرطبي، أبو الحسن علي بن خلف بن عبد الملك (متوفاي449هـ)، شرح صحيح البخاري، ج 5، ص 263، تحقيق: أبو تميم ياسر بن إبراهيم، ناشر: مكتبة الرشد - السعودية / الرياض، الطبعة: الثانية، 1423هـ - 2003م.

3. خیبر کے اموال کا قبول کرنا

 اس سلسلے میں ازواج کا ایک اقدام یہ تھا کہ انہوں نے خیبر سے اپنے حصے کے اموال کو قبول کیا۔ کیونکہ یہ سب بھی رسول اللہ (ص)  کے اموال میں شمار تھا اور حضرت زہرا (س) نے بھی انہیں اموال سے اپنے حصے کا مطالبہ کیا تھا۔ ازواج کی طرف سے ان اموال کو قبول کرنا اس پر دلیل ہے کہ ازواج اس حدیث کو قبول نہیں کرتی تھیں۔

بخاری نے ابن عمر سے نقل کیا ہے :

حديث ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَامَلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا مِنْ ثَمَرٍ أَوْ زَرْعٍ، فَكَانَ يُعْطِي أَزْوَاجَهُ مِائَةَ وَسْقٍ: ثَمَانُونَ وَ سْقَ تَمْرٍ، وَعِشْرُونَ وَ سْقَ شَعِيرٍ؛ فَقَسَمَ عُمَرُ خَيْبَرَ فَخَيَّرَ أَزْوَاجَ النَبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُقْطِعَ لَهُنَّ مِنَ الْمَاءِ وَالأَرْضِ أَوْ يُمْضِيَ لَهُنَّ، فَمِنْهُنَّ مَنِ اخْتَارَ الأَرْضَ وَمِنْهُنَّ مَنِ اخْتَارَ الْوَسْقَ، وَكَانَتْ عَائِشَةُ اخْتَارَتِ الأَرْضَ.

 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (خیبر کے یہودیوں سےوہاں (کی زمین میںپھل کھیتی اور جو بھی پیداوار ہو اس کے آدھے حصے پر معاملہ کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے اپنی بیویوں کو سو وسق دیتے تھے۔ جس میں ۸۰ وسق کھجور ہوتی اور بیس وسق جو۔ عمر اپنے عہد خلافت میںجب خیبر کی زمین تقسیم کی تو ازواج مطہرات کو  یہ اختیار دیا کہ (اگر وہ چاہیں توانہیں بھی وہاں کا پانی اور قطعہ زمین دے دیا جائے۔ یا وہی پہلی صورت باقی رکھی جائے۔ چنانچہ بعض نے زمین لینا پسند کیا۔ اور بعض نے  پیداوار سےوسق لینا پسند کیا۔ عائشہ  نے زمین ہی لینا پسند کیا تھا۔

البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، صحيح البخاري، ج 2، ص 820، ح2203، كِتَاب الْمُزَارَعَةِ، بَاب الْمُزَارَعَةِ بِالشَّطْرِ وَنَحْوِهِ، تحقيق د. مصطفى ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 - 1987 .

یہ جو خیبر کے اموال سے بیویوں کو دیتے تھے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ رسول اللہ (ص)  کے ذاتی اموال میں سے تھا اگر رسول اللہ (ص) کے تمام اموال آپ کے بعد صدقہ اور عمومی اموال شمار ہوتا تھا تو عمر نے کیوں اس کو ازواج میں تقسیم کیا ؟ اگر ارث تھا تو کیوں رسول اللہ (ص) کی بیٹی کو ارث سے محروم کیا ؟

پانچواں فصل:خلفاء اور اہل سنت کے علماء کی مخالفت

صرف اهل بيت عليهم السلام اور اصحاب میں سے عباس اور ابن عباس وغیرہ نے اس حدیث کی مخالفت نہیں کی بلکہ خود خلفاء اور اہل سنت کے بعض علماء نے بھی اس کی ٘مخالفت کی ہے ۔

الف: خود ابوبکر کی طرف سے مخالفت

اس سلسلے میں قابل توجہ نکات میں سے ایک خود ابوبکر کی طرف سے عملی طور پر اس حدیث کی مخالفت ہے ،ہم ذیل میں ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

1. فدک حضرت زہرا ع کے نام لکھنا ؛

سب سے پہلے اس حدیث کے مضمون کی عملی طور پر جس نے مخالفت کی وہ خود ابوبکر ہی تھا ،جب حضرت زہرا (س) نے مطالبہ کیا اور اپنے حق کے بارے میں دلائل پیش کیے تو اس وقت ابوبکر نے فدک حضرت زہرا (ع)  کو واپس کرنے کے لئے ایک سند لکھی:

اہل سنت کے ہی ایک سیرت نگار اور عالم حلبی اس سلسلے میں لکھتا ہے :

وفى كلام سبط ابن الجوزى رحمه الله أنه رضي الله تعالى عنه كتب لها بفدك ودخل عليه عمررضى الله تعالى عنه فقال: ما هذا فقال كتاب كتبته فاطمه بميراثها من ابيها فقال: مماذا تنفق على المسلمين وقد حاربتك العرب كما ترى ثم احذ عمر الكتاب فشقه.

ابوبكر نے فدک حضرت زہرا (س) کو واپس کرنے کے لئے ایک سند لکھی ،لیکن عمر جب پہنچا تو اس نے سوال کیا : یہ کیا ہے ؟ ابوبکر نے جواب دیا : یہ ایک سند ہے تاکہ ان کے والد کی وراثت انہیں واپس کروں ۔اس پر عمر نے کہا : تو پھر آپ مسلمانوں میں کیا چیز تقسیم کروگے ؟جبکہ عرب آپ سے جنگ کرنے آئیں گے ۔ یہ کہا اور خط لے کر اس کو پھاڑ دیا ۔

الحلبي، علي بن برهان الدين (متوفاي1044هـ)، السيرة الحلبية في سيرة الأمين المأمون، ج 3، ص 488، ناشر: دار المعرفة - بيروت – 1400.

اب اگر ابوبكر اس حديث کو  رسول اللہ (ص) سے سننے کے ادعا میں صادق تھا تو پھر  فدک واپس کر کے رسول اللہ (ص)  کی حدیث کی مخالفت نہ کرتا۔

2. رسول اللہ ص کی عصاء ،جوتے اور  سواری حضرت امیر کو واپس کرنا ؛

اس سلسلے میں ایک قابل غور کام یہ ہے کہ خليفه اول نے پيامبر (ص) کے اموال پر قبضہ کرنے کے بعد ان میں سے بعض امیر المومنین(ع) کو واپس کر دیا۔

ماوردي اس سلسلے میں لکھتا ہے :

وأما رحل رسول الله وآلته فقد روى هشام الكلبي عن عوانة بن الحكم أن أبا بكر الصديق رضي الله عنه دفع إلى علي رضي الله عنه آلة رسول الله ودابته وحذاء وقال ما سوى ذلك صدقة.

 هشام كلبي نے عوانه سے روایت نقل کیا ہے : ابوبکر نے رسول اللہ (ص)  کی سواری، ان کے عصاء اور جوتے، امیر المومنین کو دیا  اور کہا ان کے علاوہ باقی صدقہ ہے۔

الماوردي البصري الشافعي، علي بن محمد بن حبيب (متوفاي450هـ)، الأحكام السلطانية والولايات الدينية، ج 1، ص 193، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت - 1405هـ- 1985م

اگر رسول الله (ص) کے چھوڑے ہوئے اموال صدقہ ہی تھا تو زمین اور گھر کے سامان میں اس سلسلے میں فرق نہیں ہونا چاہئے ۔

3. رسول اللہ ص کے ذاتی اموال دوسروں سے واپس نہیں لیا۔

رسول خدا (ص) کی بعض چیزیں بعض اصحاب کے پاس تھی جیسے آپ کے لباس،اگر آپ کے سارے مال صدقہ شمار ہوتے تو کیوں ابوبکر نے ان سب کو واپس نہیں لیا اور ان کو عمومی اموال میں سے قرار نہیں دیا ؟ انہیں موارد میں سے ؛

عائشہ کے پاس آنحضرت کے لباس

عائشه کے پاس رسول اللہ (ص) کی وفات کے وقت آپ پر اوڑھی ہوئی چادر تھی۔ اسی کو لے کر لوگوں کو عثمان کے خلاف اکساتی تھی:

بخاري نے عائشہ کے پاس آپ کے لباس کے موجود ہونے کے بارے میں لکھا ہے :

حدثني محمد بن بَشَّارٍ حدثنا عبد الْوَهَّابِ حدثنا أَيُّوبُ عن حُمَيْدِ بن هِلَالٍ عن أبي بُرْدَةَ قال: أَخْرَجَتْ إِلَيْنَا عَائِشَةُ رضي الله عنها كِسَاءً مُلَبَّدًا وَقَالَتْ: في هذا نُزِعَ رُوحُ النبي صلى الله عليه.

عائشہ نے ہمیں ایک پیوند لگی ہوئی چادر نکال کر دکھائی اور بتلایا کہ اسی کپڑے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روح قبض ہوئی تھی۔ اور سلیمان بن مغیرہ نے حمید سے بیان کیا ‘ انہوں نے ابوبردہ سے اتنا زیادہ بیان کیا کہ عائشہ نے یمن کی بنی ہوئی ایک موٹی ازار (تہمداور ایک کمبل انہیں کمبلوں میں سے جن کو تم ملبہ (اور موٹا پیوند دار کہتے ہوہمیں نکال کر دکھائی۔

البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، صحيح البخاري، ج 3، ص 1131، 2941، أبواب الخمس، بَاب ما ذُكِرَ من دِرْعِ النبي، تحقيق د. مصطفى ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 - 1987.

 فخر رازى نے اسی چادر کے وسیلے سے لوگوں کو عثمان کے خلاف ورغلانے کے سلسلے میں لکھا ہے :

... فكانت عائشة رضي الله عنها تحرض عليه جهدها وطاقتها وتقول: ايّها الناس هذا قميص رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يبل وقد بليت سنّته اقتلوا نعثلا قتل الله نعثلا... .

عائشه پوری قوت کے ساتھ لوگوں کو عثمان کے خلاف اکساتی تھی اور کہتی تھی:  اے لوگو! یہ لباس ابھی پٹھا نہیں ہے لیکن اس نے سنت کو ختم کیا ہے اس نعثل{ایک مصری یہودی کہ جس کی داڑھی لمبی تھی اور بیوقف تھا } کو قتل کرو ،خدا اس کو مار دئے ۔

الرازي الشافعي، فخر الدين محمد بن عمر التميمي (متوفاي604هـ) المحصول في علم الأصول، ج 4، ص 343، تحقيق: طه جابر فياض العلواني، ناشر: جامعة الإمام محمد بن سعود الإسلامية - الرياض، الطبعة: الأولى، 1400هـ.

بلاذرى نے انساب الأشراف میں پیغمبر(ص)کے لباس اور جوتے کے بارے میں لکھا ہے:  

... وبلغ عائشة ما صنع بعمار فغضبت وأخرجت شعراً من شعر رسول الله صلى الله عليه وسلم وثوباً من ثيابه ونعلاً من نعاله ثم قالت: ما أسرع ما تركتم سنة نبيكم وهذا شعره وثوبه ونعله ولم يبل بعد، فغضب عثمان غضباً شديداً حتى ما درى ما يقول، فالتج المسجد وقال الناس سبحان الله سبحان الله.

... جناب عمار کو تکلیف پہنچانے کی خبر جناب عائشہ تک پہنچی اور آپ  بہت ناراض ہوئی ۔پیغمبر کے بال ،ان کے لباس اور آپ کی نعلین لے کر باہر آئی اور کہنے لگی: کتنی جلدی پیغمبر(ص) کی سنت کو تم لوگوں نے چھوڑ دیا ،یہ دیکھو یہ پیغمبر کے بال ، یہ ان کے لباس اور نعلین ہے۔ابھی چیزیں پرانی اور خراب نہیں ہوئی ہیں۔ عثمان ان کی اس حرکت کی وجہ سے بہت ناراض ہوا یہاں تک کہ شدت غصہ کی وجہ سے سجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کہا جائے ۔ مسجد میں رش پڑھ گیا لوگ کہہ رہے تھے ،سحان اللہ سبحان اللہ۔

البلاذري، أحمد بن يحيى بن جابر (متوفاي279هـ) أنساب الأشراف، ج 2، ص 275.

ابو الفداء نے بھی اپنی تاریخ میں لکھا ہے :

وكانت عائشة تنكر على عثمان مع من ينكر عليه، وكانت تخرج قميص رسول الله صلى الله عليه وسلم وشعره وتقول: هذا قميصه وشعره لم يبل، وقد بلي دينه.

عائشه عثمان کے مخالفوں کے ساتھ دیتی تھی ، رسول خدا (ص) کے لباس اور بال باہر لے آتی اور کہتی تھی : یہ رسول اللہ (ص) کے بال اور لباس ہے ،ابھی یہ پرانے اور خراب نہیں ہوئے لیکن ان کے دین کو خراب کیا۔

. أبو الفداء عماد الدين إسماعيل بن علي (متوفاي732هـ)، المختصر في أخبار البشر، ج 1، ص 118.

پيامبر اكرم (ص) کے جوتے اور برتن  انس بن مالك کے پاس تھا

بخاري نے آپ کے جوتے کے بارے میں نقل کیا ہے :

حدثني عبد اللَّهِ بن مُحَمَّدٍ حدثنا محمد بن عبد اللَّهِ الْأَسَدِيُّ حدثنا عِيسَى بن طَهْمَانَ قال أَخْرَجَ إِلَيْنَا أَنَسٌ نَعْلَيْنِ جَرْدَاوَيْنِ لَهُمَا قِبَالَانِ فَحَدَّثَنِي ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ بَعْدُ عن أَنَسٍ أَنَّهُمَا نَعْلَا النبي.

عيسي بن طَهمان کہتا ہے : انس نے رسول اللہ (ص) کے جوتے ہمیں دکھا دیے ، ثابت بناني نے کہا :وہ پیغمبر کے جوتے تھے.

البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، صحيح البخاري، ج 3، ص 1131، 2940، أبواب الخمس، بَاب ما ذُكِرَ من دِرْعِ النبي، تحقيق د. مصطفى ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 – 1987

اسی طرح پيامبر (ص) کے برتن انس کے پاس تھا:

حدثنا الْحَسَنُ بن مُدْرِكٍ قال حدثني يحيى بن حَمَّادٍ أخبرنا أبو عَوَانَةَ عن عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ قال رأيت قَدَحَ النبي صلى الله عليه وسلم عِنْدَ أَنَسِ بن مَالِكٍ وكان قد انْصَدَعَ فَسَلْسَلَهُ بِفِضَّةٍ قال وهو قَدَحٌ جَيِّدٌ عَرِيضٌ من نُضَارٍ قال قال: أَنَسٌ لقد سَقَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم في هذا الْقَدَحِ أَكْثَرَ من كَذَا وَكَذَا.

عاصم اَحول کہتا ہے :  پیغمبر (ص) کے برتن انس کے پاس تھا ،برتن کے لب شکستہ تھا اور چاندی سے اس کی تعمیر کی ہوئی تھی۔ انس کہتا ہے : اس برتن میں کئی مرتبہ رسول اللہ (ص) کو پانی دے چکا ہوں ۔   

البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، صحيح البخاري، ج 5، ص 2135، ح5315، كِتَاب الْأَشْرِبَةِ، بَاب الشُّرْبِ من قَدَحِ النبي، تحقيق د. مصطفى ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 - 1987. 

ب: عمر اور حدیث کی مخالفت

ابوبکر کے علاوہ عمر نے کئی دفعہ اس حدیث پر عمل نہیں کیا ۔ ہم یہاں اس سلسلے کے چند نمونے پیش کرتے ہیں؛

1.     مدینہ کے صدقات کی واپسی :

مدينه کے صدقات پيامبر(ص) کے اموال میں سے تھا اور جیساکہ بیان ہوا کہ جناب فاطمہ کی طرف سے مطالبہ شدہ چیزوں میں سے ایک یہی صدقات بھی ہیں۔

... تَطْلُبُ صَدَقَةَ النَّبِىِّ - صلى الله عليه وسلم - الَّتِى بِالْمَدِينَةِ وَفَدَكٍ و