2021 October 20
کیا شیعہ بھی انبیاء کی مالی وراثت کے قائل نہیں؟
مندرجات: ٢٠١٣ تاریخ اشاعت: ١٤ July ٢٠٢١ - ١٩:٢٩ مشاہدات: 457
یاداشتیں » پبلک
کیا شیعہ بھی انبیاء کی مالی وراثت کے قائل نہیں؟

 
 کیا شیعہ بھی انبیاء کی مالی وراثت کے قائل نہیں؟

اہل سنت کا شبھہ :

 انبیائے کرام کی میراث نہیں ہوتی۔ یہ فرمان نبوی متفق علیہ بین الفرقین ہے ۔جیساکہ شیعوں کی سب سے معتبر کتاب اصول کافی میں یہ حدیث موجود ہے :

مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ أَبِي اَلْبَخْتَرِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ قَالَ: إِنَّ اَلْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ اَلْأَنْبِيَاءِ وَ ذَاكَ أَنَّ اَلْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُورِثُوا دِرْهَماً وَ لاَ دِينَاراً وَ إِنَّمَا أَوْرَثُوا أَحَادِيثَ مِنْ أَحَادِيثِهِمْ فَمَنْ أَخَذَ بِشَيْءٍ مِنْهَا فَقَدْ أَخَذَ حَظّاً وَافِراً فَانْظُرُوا عِلْمَكُمْ هَذَا عَمَّنْ تَأْخُذُونَهُ فَإِنَّ فِينَا أَهْلَ اَلْبَيْتِ فِي كُلِّ خَلَفٍ عُدُولاً يَنْفُونَ عَنْهُ تَحْرِيفَ اَلْغَالِينَ وَ اِنْتِحَالَ اَلْمُبْطِلِينَ وَ تَأْوِيلَ اَلْجَاهِلِينَ .

الاصول الکافی الجزء الأول  كِتَابُ فَضْلِ اَلْعِلْمِ  بَابُ صِفَةِ اَلْعِلْمِ وَ فَضْلِهِ وَ فَضْلِ اَلْعُلَمَاءِ۔

لہذا شیعہ اور اہل سنت دونوں کےہاں یہ روایت موجود ہے کہ انبیاء مالی وراثت چھوڑ کر نہیں جاتے ۔ اسی لئے یہ متفقہ فیصلہ ہے لیکن شیعہ اپنی کتاب کی روایات کو بھی نہیں مانتے ۔

جواب :   

 اس شبھہ  کا سادہ جواب ایک ادبی تحلیل کے ساتھ ہم دیتے ہیں۔

 {أَنَّ اَلْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُورِثُوا دِرْهَماً وَ لاَ دِينَاراً وَ إِنَّمَا "أَوْرَثُوا ۔۔۔۔اب { لَمْ يُورِثُوا اور أَوْرَثُوا  } یہ دونوں فعل  متعدی ہیں اور  وہ بھی  دو مفعولی ۔    اس کا ایک  مفعول ۔۔۔ درھما و دینارا ہے دوسرا مفعول ۔ علماء یا علماء کی طرف پلٹنی والی ضمیر ہے ۔ اب  اس کا معنی یہ ہے کہ  علماء انبیاء کے وارث ہیں ،انبیاء علماء کو درھم  اور  دینار وراثت میں دے کر نہیں جاتے بلکہ انبیاء علماء کو احادیث  اور علم وراثت میں دے کر جاتے ہیں ۔

اگر بات یہ ہوتی کہ انبیاء کسی کو بھی وراثت میں کچھ چھوڑ کر نہیں جاتے تو بات ایک حد تک ٹھیک ہوسکتی تھی لیکن یہاں تو علماء کو وراثت میں درہم و دینا چھوڑ کر نہ جانے کی بات ہورہی ہے  نہ کسی کو بھی کسی قسم کی وراثت  چھوڑ کر نہ جانے کی بات ۔ لہذا اس کا اولاد کی مالی  وراثت کی بحث سے دور کا تعلق بھی نہیں۔

 جیساکہ اسی قسم کی احادیث خود اہل سنت کی کتابوں میں بھی موجود ہیں ،کچھ نمونے؛

بخارى  کتاب علم  ، بَاب الْعِلْمُ قبل الْقَوْلِ وَالْعَمَلِ، میں ہے :

أَنَّ الْعُلَمَاءَ هُمْ وَرَثَةُ الأَنْبِيَاءِ - وَرَّثُوا الْعِلْمَ - مَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ.

علماء انبیاء کے وارث ہیں ، علماء کو ان سے علم کی وراثت ملتی ہے، جس کو یہ وراثت نصیب ہو  اس نے بہت زیادہ فائدہ اٹھایا ہے ۔    صحيح البخاري، ج 1، ص 37، كتاب العلم، بَاب الْعِلْمُ قبل الْقَوْلِ وَالْعَمَلِ،

 سنن میں ہیں : إِنَّ الْعُلَمَاءَ هُمْ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ لَمْ يَرِثُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَإِنَّمَا وَرِثُوا الْعِلْمَ

علماء، انبیاء کے وارث ہیں،علماء کو انبیاء سے درہم اور دینا ارث میں نہیں ملتا ۔ علماء انبیاء کے علم کے وارث ہیں ۔

 جیساکہ یہ حدیث سنن الترمذى میں { بَاب فَضْلِ الْعُلَمَاءِ وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِ الْعِلْمِ }  میں ذکر ہوئی ہے۔

اسی طرح سنن أبى داود - باب الْحَثِّ عَلَى طَلَبِ الْعِلْمِ. } میں ،سنن ابن ماجه  { بَاب فَضْلِ الْعُلَمَاءِ وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِ الْعِلْمِ۔} میں یہ حدیث  ذکر ہوئی ہے ۔

 

 

قابل توجہ نکات: دونوں کا مضمون اور مقصود الگ ۔

الف :  اہل سنت کے علماء نے شیعہ علماء کی طرح  علم اور عالم  کی فضیلت سے متعلق ابواب  میں اس قسم کی احادیث کو ذکر کیا ہے، کسی نے بھی اس قسم کی احادیث کو  مالی وراثت والے باب میں ذکر نہیں کیا ہے ۔ اگر ان علماء کے نذدیک  اس قسم کی احادیث  کا مالی وراثت والے موضوع سے  بھی کوئی تعلق ہوتی اور علماء یہ سمجھتے کہ  اس قسم کی احادیث انبیاء کی مالی وراثت کی نفی پر بھی دلیل ہے  تو  کم از کم  مالی وراثت سے متعلق کسی باب میں ان احادیث  کو ذکر کرتے  اور اس کی طرف اشارہ کرتے ۔

ب :  کسی  محدث اور شارح نے بھی اس کی وہ  شرح  نہیں کی ہے جو  ارث  کے باب میں موجود {نحن معاشر  الانبیاء لا نورث۔۔}جیسی احادیث کی شرح کرتے ہیں ۔ لہذا محدثین اور شارحین کے فھم   کو چھوڑ کر ان  سے زیادہ حدیث شناسی کا دعوا کرنا  عقلمندی نہیں ۔

ج :    شیعہ  عالم مرحوم کلینی نے بھی  مذکورہ  حدیث کو  كِتَابُ فَضْلِ اَلْعِلْمِ  بَابُ صِفَةِ اَلْعِلْمِ وَ فَضْلِهِ وَ فَضْلِ اَلْعُلَمَاءِ۔ میں ذکر کیا ہے   ۔ کسی شیعہ عالم نے اس کو ارث سے متعلق ابواب میں ذکر نہیں کیا  اور کسی شیعہ عالم نے اس قسم کی احادیث کو انبیاء کی  مالی وراثت کی نفی کی دلیل کے طور پر پیش نہیں کیا ہے ۔

 اب اہل سنت کے  مناظر  حضرات  کو آگر  دوسروں کے علماء کی  طرف سے اس قسم کی احادیث کے پیش کردہ  فھم اور تشریح  پسند نہیں ہے تو  کم از کم اپنے ہی علماء کے فھم اور سوچ کو  پسند  کرئے  اور اپنے آپ کو اپنے ہی   محدثیں اور  صحاح کے شارحین سے  زیادہ حدیث شناس کہنا چھوڑ دئے ۔

لہذا شیعہ کتاب میں موجود  "إِنَّ اَلْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ اَلْأَنْبِيَاءِ کا تعلق  اہل سنت کی کتابوں میں موجود " إِنَّ الْعُلَمَاءَ هُمْ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ "  والی  حدیث سے ہے یہ دونوں آپس میں ہم معنی ہیں ۔ اس قسم کی  احادیث اور حدیث "نحن الانبیاء لا نورث" کے درمیان کوئی ربط  نہیں۔یہ دو الگ الگ موضوع سے متعلق احادیث ہیں ۔ان کے  مضمون ، منطوق  اور ان کے الفاظ  سب الگ الگ ہیں ۔

    دونوں کے  الفاظ  الگ۔

ملاحظہ کریں علم اور علماء کی فضیلت والی احادیث ۔

شیعہ کتابوں میں  :

إِنَّ اَلْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ اَلْأَنْبِيَاءِ وَ ذَاكَ أَنَّ اَلْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُورِثُوا دِرْهَماً وَ لاَ دِينَاراً وَ إِنَّمَا أَوْرَثُوا أَحَادِيثَ مِنْ أَحَادِيثِهِمْ۔۔۔۔

اھل سنت کی کتابوں میں

 إِنَّ الْعُلَمَاءَ هُمْ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ لَمْ يَرِثُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَإِنَّمَا وَرِثُوا الْعِلْمَ ۔۔

مالی وراثت کی نفی والی احادیث کے الفاظ ۔۔۔  لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ  یا «إِنَّا مَعْشَرَ الْأَنْبِيَاءِ لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا فَهُوَ صَدَقَةٌ»

دقت کریں   :

ان دونوں قسم کی  احادیث  میں آسمان اور زمین کا فرق  ہے۔

ایک ظاہری طور پر بطور عام ،مالی وراثت سے متعلق ہے   اور  ماترک کو صدقہ قرار دینے سے متعلق الفاظ پر مشتمل ہے ۔ دوسری  خاص ہے اور علماء اور علم کی فضیلت سے متعلق  الفاظ پر مشتمل ہے ۔

جیساکہ  علماء کو وارث قرار دینے والی احادیث میں "الا صدقہ"  کا ذکر  موجود نہیں ہے ۔اب اگر دونوں قسم کی احادیث ایک ہی معنی اور مقصود کو بیان کرنے کے لئے ہیں  تو "الا صدقہ"   والا جملہ {إِنَّا مَعْشَرَ الْأَنْبِيَاءِ لَا نُورَثُ } والی احادیث میں تو ٹھیک ہوسکتی ہے جبکہ دوسری قسم { إِنَّ الْعُلَمَاءَ هُمْ وَرَثَةُ} کی    احادیث میں اس کا کوئی معنی ہی نہیں بنتا ،اگر  اس حصے کو علماء کی وراثت والی حدیث کے ساتھ ملائے تو عجیب و غریب معنی سامنے آتا ہے ۔مثلا علماء انبیاء کے وارث ہیں، ان کو وراثت میں علم ملتا  ہے اور یہ ماترک { علمی وراثت } صدقہ ہے ۔۔۔ اور پھر مسلمانوں کے بیت المال کا حصہ ہوگا ۔۔۔۔

     اس سلسلے کہ  ایک اہم بات یہ ہے کہ  علمی وراثت ان کی زندگی میں ہی منتقل ہوتی ہے ،لیکن مالی وراثت کا اطلاق وہاں ہوتا ہے جہاں وراثت چھوڑنے والا  دنیا سے چلا جائے ۔

          اسی طرح لفظ وراثت کا مالی وراثت میں استعمال اس لفظ کا اپنے حقیقی معنی میں استعمال ہونا ہے لہذا کسی قسم کی قرینہ لانے کی ضرورت نہیں ۔ لیکن علماء کے بارے میں اس لفظ کا استعمال مجازی ہے  ،لہذا  "لَمْ يُورِثُوا دِرْهَماً ۔۔۔ إِنَّمَا أَوْرَثُوا أَحَادِيثَ ۔۔۔۔ قرینہ کے طور پر  یہاں ذکر ہوا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ دونوں قسم کی احادیث الگ الگ مضامین پر مشتمل ہیں ۔لہذا  علماء  کو انبیاء  سے علم وراثت میں ملنا،  نبی کی مالی وراثت نہ ہونے اور  نبی کی  بیٹی کو باپ کی زمین اور باقی حقوق سے محروم کرنے  پر  دلیل  کے طور پر پیش  کرنا علمی کمزوری کی دلیل ہے ۔

 ذاتی تاویلات  کے ساتھ اس حدیث کا  ایسا معنی کرنا کہ جو اس حدیث کے سیاق اور الفاظ  کے خلاف ہو  اور اس کو ایسی احادیث کے ساتھ ہم معنی سمجھنا جو الفاظ اور مضمون کے اعتبار سے آپس میں مطابقت نہ رکھتی ہوں  تو یہ علمی خیانت  اور فقر علمی کی واضح دلیل ہے  ۔

   عجیب بات ہے کہ دوسروں سے کہتے ہیں  کہ ہماری احادیث کو ہمارے علماء ہی بہتر سمجھتے ہیں ، لیکن جب دوسروں کی باری آئے تو دوسروں کے علماء پر خیانت کا  الزام لگا کر خود ہی دوسروں کی احادیث کا شارح، قاضی ،مفتی  اور  دوسروں سے زیادہ حدیث شناس ہونے کا دعوا کرتا ہے ۔ یہاں تک کہ اپنے ہی علماء کے فہم اور سوچ کو غلط کہنے سے بھی نہیں کراتا اور اپنے منفرد فھم کو ہی ان احادیث کا حقیقی معنی قرار دینے پر مصر ہے ۔

 اگر  فرض کرئے ؛  اصول کافی والی حدیث کا بھی  وہی معنی ہو جو  مالی وراثت  والی حدیث کا ہے اور یہ انبیاء کی مالی وراثت کی نفی پر دلیل ہے ، تو  پھر ہم اس صورت میں اس معنی  کو قبول نہیں کریں گے کیونکہ آئمہ اہل بیت  علیہم السلام  نے واضح طور پر فرمایا ہے کہ ہماری طرف منسوب حدیث اگر  قرآنی تعلیمات  سے ٹکراتی ہو تو اس حدیث کو دیوار پر دئے مارو  ۔لہذا اس روایت کے مذکورہ معنی کو نہیں مان سکتے کیونکہ یہ قرآن کے خلاف ہے ۔  

نتیجہ

بعض لوگ ڈھوپتے کو تنکے کا سہارا کی مانند ،اصول کافی میں موجود مذکورہ حدیث کو جناب ابوبکر کی حدیث کی توجیہ کے لئے پیش کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ انبیاء علیہم السلام کی مالی وراثت نہ ہونا شیعہ اور اہل سنت کا متفقہ مسئلہ ہے ، جبکہ یہ ایک مغالطہ ہے ،اس حدیث کا ابوبکر کی حدیث سے کوئی تعلق نہیں ۔دونوں کا مضمون اور الفاظ الگ الگ ہیں۔

 لہذا اس حدیث کو الزامی جواب کے طور پر پیش کرنا ،فقر علمی اور تعصب میں اندھا پنی سے کام لینے کی واضح دلیل ہے ۔




Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی