2021 July 29
فدک ھبہ یا وراثت؟ اصل معاملہ کیا تھا ؟
مندرجات: ٢٠١٦ تاریخ اشاعت: ١٥ July ٢٠٢١ - ١٩:٢٦ مشاہدات: 103
مضامین و مقالات » پبلک
فدک ھبہ یا وراثت؟ اصل معاملہ کیا تھا ؟

   فدک ھبہ یا  وراثت؟ اصل معاملہ کیا تھا ؟

 مخالفین کے شبھات : 

کیا سیدہ فاطمہ کا مطالبہ فدک بطور میراث  تھا ؟ یا بطور ھبہ ؟

  اگر فدک واقعی سیدہ فاطمہ کا حق تھا تو کس حیثیت سے تھا ؟ کیونکہ میراث نبوی میں ازواج مطہرات، بیٹی اور چچا حضرت عباس بھی فدک کے حصہ دار بنتے تھے۔ جب پورا باغ فدک سیدہ فاطمہ کا حق نہیں بنتا تو پھر صدیوں سے جاری فتنہ و فساد کیوں؟

کیا سیدہ فاطمہ کو آیات میراث کا علم تھا؟اگر ہاں تو پورا فدک ان کو ورثے میں کیسے دیا جاتا؟

  کیا ہم تصور کر سکتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ باقی ورثاء کو حصے دینے کے بجائے فدک صرف اپنے لئے حاصل کرنا چاہتی تھیں? کیا یہ قرآن کی خلاف ورزی نہیں ہے?

کیا واقعی شیعہ سیدہ فاطمہ کے مطالبہ میراث پر یقین رکھتے ہیں؟  

 مسئلہ فدک اہل تشیع کی صحیح روایات سے قابل اثبات ہے ؟

حقیقت یہی ہے کہ فدک کے اتنے سارے حصہ داروں کو نبی کے فیصلے کے مطابق حصہ نہیں ملا کیونکہ فیصلہ خود نبی کا تھا، تکلیف صرف شیعوں کو ہے، غضب خدا کا یہ کھل کر اقرار بھی نہیں کرتے کہ قرآن کے مطابق پورا باغ فدک اگر وراثت بھی ہو تو سیدہ کا حق نہیں بنتا!

   اگر سیدہ فدک کو بطور میراث اپنا حق سمجھتی تھیں تو آپ فدک کے کچھ حصے کی دعویدار تھیں یا پورا فدک سیدہ فاطمہ کا حق تھا?   

 شبھات  کے  جواب :

 پہلی بات :    

حق حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی  بحث میں  جناب فاطمہ نے فدک سمیت اپنے دوسرے حقوق کا مطالبہ کیا اور جب مطالبہ منظور نہ ہوا تو خلفاء سے ناراض ہوئیں اور مکمل بائیکاٹ کی حالت میں دنیا سے چلی گئیں  اور یہ ناقابل انکار حقیقت ہے.

لہذا فدک کے بارے میں خصوصی روایات ہو یا نہ ہو ،جناب سیدہ سلام اللہ علیہا نے چاہئے ارث کے عنوان سے اس کا مطالبہ کیا ہو یا  ھبہ اور عطاء الرسول کے عنوان سے ،اس سے ہماری اصلی بحث کی صحت پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا ۔ اصل یہ دکھانا ہے کہ خلفاء کے بارے  اہل بیت کا موقف کیا تھا اور شیعہ کس موقف کی حمایت کرتے ہیں اور اہل سنت والے کس موقف کی حمایت کرتے ہیں ۔

 لہذا اس قسم  کے سوالات ایک جہت سے انحرافی سوالات ہیں، ایک حقیقت کو چھپانے  اور اس کا انکار کرنے کے لئے  یہ سوالات اٹھاتے ہیں تاکہ عوام کو جناب سیدہ سلام اللہ علیہا  کے موقف  کا علم نہ ہو اور بعد از رسول رونما ہونے والے  تلخ واقعات اور حقائق  سے انہیں دور رکھا جائے ۔

دوسری بات :

   ہمارا یہ ایمان ہے کہ فدک کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی زندگی میں جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا  کو بخش  دیا تھا ۔ شیعہ کتب میں تو یہ مسئلہ کلیر ہے  ۔

 نمونے کے طور پر کچھ روایات :

امیر  المومنین علیہ السلام  :   ہمارے پاس جائیداد میں سے صرف فدک کی زمین تھی وہ بھی ہم سے چھین لیا۔

« بَلَى كَانَتْ فِي أَيْدِينَا فَدَكٌ مِنْ كُلِّ مَا أَظَلَّتْهُ السَّمَاءُ فَشَحَّتْ عَلَيْهَا نُفُوسُ قَوْمٍ وَ سَخَتْ عَنْهَا نُفُوسُ قَوْمٍ آخَرِينَ وَ نِعْمَ الْحَكَمُ اللَّه‏ » نهج البلاغه  نامه 45

اور ہاں! اس آسمان کے سائے تلے صرف فدک ہمارے تصرف میں تھا اور انہوں نے از روئے بخل وہ بھی ہم سے چھین لیا اور دوسرے اس سے گذر گئے اور سخاوت کا مظاہره کیا اور بہترین فیصله کرنے والا الله جل و علی ہے...

شیعوں کی قدیم ترین  تفسیر   میں امام صادق  علیہ السلام سے نقل  ہوا ہے کہ جناب سیدہ نے فدک کو عطاء الرسول کے عنوان سے مطالبہ کیا ہے  :

15، 14، 1- فَإِنَّهُ حَدَّثَنِي أَبِي عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَيْرٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عِيسَى وَ حَمَّادِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ‏ لَمَّا بُويِعَ لِأَبِي بَكْرٍ وَ اسْتَقَامَ لَهُ الْأَمْرُ عَلَى جَمِيعِ الْمُهَاجِرِينَ وَ الْأَنْصَارِ بَعَثَ إِلَى فَدَكَ‏ فَأَخْرَجَ وَكِيلَ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ ص مِنْهَا- فَجَاءَتْ فَاطِمَةُ ع إِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَتْ يَا أَبَا بَكْرٍ مَنَعْتَنِي عَنْ مِيرَاثِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ وَ أَخْرَجْتَ وَكِيلِي مِنْ فَدَكَ‏ فَقَدْ جَعَلَهَا لِي رَسُولُ اللَّهِ ص بِأَمْرِ اللَّهِ، فَقَالَ لَهَا هَاتِي عَلَى ذَلِكَ شُهُوداً- فَجَاءَتْ بِأُمِّ أَيْمَنَ فَقَالَتْ لَا أَشْهَدُ- حَتَّى أَحْتَجَّ يَا أَبَا بَكْرٍ عَلَيْكَ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص فَقَالَتْ أَنْشُدُكَ اللَّهَ، أَ لَسْتَ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ص قَالَ إِنَّ أُمَّ أَيْمَنَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ قَالَ بَلَى، قَالَتْ فَأَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ أَوْحَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ص «فَآتِ ذَا الْقُرْبى‏ حَقَّهُ‏» فَجَعَلَ فَدَكَ‏ لِفَاطِمَةَ بِأَمْرِ اللَّهِ- وَ جَاءَ عَلِيٌّ ع فَشَهِدَ بِمِثْلِ ذَلِكَ- فَكَتَبَ لَهَا كِتَاباً بِفَدَكَ وَ دَفَعَهُ إِلَيْهَا- فَدَخَلَ عُمَرُ فَقَالَ مَا هَذَا الْكِتَابُ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّ فَاطِمَةَ ادَّعَتْ فِي فَدَكَ‏ وَ شَهِدَتْ لَهَا أُمُّ أَيْمَنَ وَ عَلِيٌّ فَكَتَبْتُ لَهَا بِفَدَكَ، فَأَخَذَ عُمَرُ الْكِتَابَ مِنْ فَاطِمَةَ فَمَزَّقَهُ وَ قَالَ هَذَا فَيْ‏ءُ الْمُسْلِمِينَ ۔۔۔۔

تفسير القمي / ج‏2 / 155 / [سورة الروم(30): آية 38] ..... ص : 155

 اسی طرح شیعوں کی ایک قدیمی تفسير فرات الكوفي بھی فدک کو عطاء الرسول کہا ہے ۔

- فُرَاتٌ قَالَ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ الْأَحْمَسِيُّ مُعَنْعَناً عَنْ أَبِي مَرْيَمَ قَالَ سَمِعْتُ جَعْفَرَ ع يَقُولُ‏ لَمَّا نَزَلَتْ [هَذِهِ‏] الْآيَةُ وَ آتِ ذَا الْقُرْبى‏ حَقَّهُ‏ أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ ص فَاطِمَةَ فَدَكَ فَقَالَ أَبَانُ بْنُ تَغْلِبَ رَسُولُ اللَّهِ [ص‏] أَعْطَاهَا قَالَ فَغَضِبَ جَعْفَرٌ [ع‏] ثُمَّ قَالَ اللَّهُ أَعْطَاهَا۔۔

تفسير فرات الكوفي / 239 / [سورة الإسراء(17): آية 26] ..... ص : 239

لہذا خاص کر فدک کے مسئلے میں شیعوں کا یہ متفقہ قول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ  علیہ و آلہ وسلم  نے  اپنی زندگی میں ہی اسے حضرت  فاطمہ سلام اللہ علیہ کا بخش دیا تھا۔۔

 بنابریں یہ میراث کی بحث سے خارج ہے اسی لئے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وہ حدیث {نحن معاشر الانبیاء لا نورث ۔۔۔۔}صحیح بھی ہو  تو یہ حدیث فدک کے مطالبے کو شامل نہیں ہے  اور خلیفہ کی طرف سے اس مذکورہ حدیث سے خاص کر فدک سے آپ کو محروم کرنے کے لئے استدلال  ہی صحیح نہیں ہے ۔

قابل توجہ نکتہ :  اہل سنت کی کتابوں میں فدک کا مطالبہ بطور میراث  بھی ذکر ہوا ہے اور بطور عطاء الرسول بھی ،دونوں قسم کی روایات اہل سنت کی کتابوں میں موجود ہیں۔ اب یہاں اس سلسلے میں دوسرے  اسناد کو سامنے رکھے تو  یہ  کہنا صحیح ہے کہ شاید راوی نے جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کے مطالبات کی حکایت کے وقت  سب کو ایک ہی عنوان سے ذکر کیا ہے ورنہ فدک کا مطالبہ  ھبہ اور  عطاء رسول ص کے عنوان سے ہوا  اور اس پر باقاعدہ شاہد اور گواہ کا مطالبہ کیا ۔

اہل سنت کے  بعض علماء کے اعتراف کے مطابق جناب سیدہ  نے اس کو  دو الگ الگ عنوان سے مطالبہ کیا ۔۔۔ پہلے ھبہ اور عطاءالرسول کے عنوان سے اور جب یہ مطالبہ منظور نہیں ہوا تو پھرباقی حقوق کے ساتھ اس کو میراث کے عنوان سے بھی مطالبہ کیا  کیونکہ یہ فدک حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذاتی ملکیت تھی۔اہل سنت کے بھی بعض علماء کا یہی نظریہ تھا ،  جیساکہ  حلبی نے  نقل کیا ہے :

 قال بعضهم: وكأنها تأولت قوله صلى الله عليه وسلم: «لا نورث» وحملت ذلك على الأموال. أي الدراهم والدنانير كما جاء في بعض الروايات: «لا تقسم ورثتي دينارا ولا درهما» بخلاف الأراضي، ولعل طلب إرثها من فدك كان منها بعد أن ادعت رضي الله تعالى  عنها أن النبي صلى الله عليه وسلم أعطاها فدكا. وقال لها: هل لك بينة فشهد لها علي كرم الله وجهه وأم أيمن، فقال لها رضي الله عنه أبرجل وامرأة تستحقيها.۔۔۔ السيرة الحلبية = إنسان العيون في سيرة الأمين المأمون (3/ 513):

بعض علماء کا یہ نظریہ ہے کہ فدک کا مطالبہ  پہلے عطاء الرسول کے عنوان سے کیا اور پھر مطالبہ رد ہوا تو  میراث کے عنوان سے ۔

اور اس میں کوئی قباحت بھی  نہیں ہے کیونکہ بہت سے تاریخی اسناد کی بنیاد پر حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے اس کو عطاءالرسول کے عنوان سے مطالبہ کیا اور آئمہ اہل بیت علیہم السلام کا بھی یہی نظریہ ہے ،جب خلیفہ نے گواہی کا طلب کیا ،گواہی پیش کرنے کے باوجود خلیفہ نے دینے سے انکار کیا تو آپ نے میراث کے عنوان سے مطالبہ کیا اور کیونکہ یہ حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذاتی ملکیت تھی لہذا اس عنوان سے مطالبہ بھی صحیح تھا اور خلیفہ بھی عطا الرسول ہونے کو نہیں مان رہا تھا ۔

اہل سنت کی کتابوں سے اسناد۔

ہم فدک عطاالرسول ہونے پر  اہل سنت  کی کتابوں سے اسناد  پیش کرتے ہیں  اور یہ اسناد  قسم کے ہیں  ؛

الف :  اصحاب سے منقول احادیث ۔۔

«ابو یعلی الموصلی» متوفای 307 نے  «ابو سعید خدری» سے نقل کیا ہے ؛ قَرَأْتُ عَلَى الْحُسَيْنِ بْنِ يَزِيدَ الطَّحَّانِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ خُثَيْمٍ ، عَنْ فُضَيْلٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ «لما نزلت هذه الآية (وآت ذا القربى حقه) [الإسراء / 26] دعا النبي صلى الله عليه وسلم فاطمة وأعطاها فدك»

ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی (اورقرابت دار کو اس کا حق دو) نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو بلایا اور فدک انہیں عطا فرمایا"

مسند أبي يعلى؛ اسم المؤلف: أحمد بن علي بن المثنى أبو يعلى الموصلي التميمي الوفاة: 307، دار النشر: دار المأمون للتراث - دمشق - 1404 - 1984، الطبعة: الأولى ، تحقيق: حسين سليم أسد، ج2، ص334

«سیوطی» کہتا ہے : «بزّار ،  ابو یعلی ، ابن ابی حاتم  اور  ابن مردویه» نے «ابو سعید خدری» سے نقل کیا ہے :

«لما نزلت هذه الآية (وآت ذا القربى حقه) دعا رسول الله صلى الله عليه وسلم فاطمة فأعطاها فدك»

الدر المنثور؛ اسم المؤلف: عبد الرحمن بن الكمال جلال الدين السيوطي الوفاة: 911، دار النشر: دار الفكر 1993، ج5، ص273

سیوطی نے نقل کیا ہے : 

« وَأخرج ابْن مرْدَوَيْه عَن ابْن عَبَّاس رَضِي الله عَنْهُمَا قَالَ: لما نزلت {وَآت ذَا الْقُرْبَى حَقه} أقطع رَسُول الله فَاطِمَة فدكا »

الدر المنثور؛ اسم المؤلف: عبد الرحمن بن الكمال جلال الدين السيوطي الوفاة: 911، دار النشر: دار الفكر - بيروت – 1993، ج5، ص274

اب ان کی سند میں بعض  عَطِيَّةَ  عوفی کی وجہ سے بحث کرتے ہیں  اور اس کو ایک ضعیف روایت کے طور پر پیش کرتے ہیں ۔ لیکن بہر حال ان کی سند شعبی کی رضایت والی روایت سے قوی ہے ۔

اس قسم کی روایات کیونکہ حق حضرت زہرا سلام اللہ  علیہا  کے سلسلے میں خلفاء پر طعن کا سبب  بنتی ہیں لہذا اہل سنت کے علماء ایڑی چوڑی کا زور لگاتے ہیں اور اس کی سند کو ضعیف  ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس سلسلے میں دہرا معیار  اور متضاد رویہ اپناتے ہیں تاکہ کسی نے کسی طریقے سے شیعہ موقف کو کمزور دکھا کر عوام کو حقیقت سے دور رکھا جائے ۔

لہذا جناب سیدہ سلام اللہ علیہا کے خلفاء پر غضبناک ہونے کے مسئلے میں صحیح سند روایات اور بہت سے قطعی شواہد  سے چشم پوشی کرتے ہیں اور ایک مدلس کی مرسل روایت کا سہارا لیتے ہیں ۔ جبکہ  فدک کے مسئلے میں موجود مسند روایات کو ٹھکراتے ہیں ۔

   عطیہ عوفی  کا جرم بھی خاص کر جناب امیر المومنین علیہ سلام کے مقام سے دفاع کرنا ہے ۔ حجاج نے ان کے بارے میں یہ حکم دیا کہ  امیر المومنین علیہ السلام کی شان میں گستاخی کرئے ،ورنہ ۴۰۰ کوڑے اس کو لگوائے ۔  «فأبى عطية أن يفعل فضربه أربعمائة وحلق رأسه ولحيته»

 الطبقات الكبرى؛  محمد بن سعد  البصري الزهري الوفاة: 230، دار النشر: دار صادر - بيروت -  - ج 6، ص 304

اس مرد مجاہد نے  ۴۰۰ کوڑے اور حجاج جیسے سفاک حاکم  کے ہاتھوں اپنی تذلیل کو برداشت کیا لیکن امیر المومنین علیہ السلام کی شان میں گستاخی نہیں کیا ۔یہ اس مرد مجاہد کا درخشان چہرہ ہے ۔ امیر المومنین علیہ السلام کی فضیلت اور برتری سے دفاع  کے  اسی جرم میں  اس کی تضعیف ہوتی ہے۔ جبکہ  شعبی تقیہ  کر کے ظالم  اور جابر حاکم  کے خوف سے  حضرت امیر المومنین علیہ السلام کو برا بلا کہہ کر اپنی جان بچالیتا ہے۔:

عن مجالد عن الشعبي قال: قدمنا علي الحجاج البصرة، وقدم عليه قراء من المدينة من أبناء المهاجرين والأنصار، فيهم أبو سلمة بن عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه... وجعل الحجاج يذاكرهم ويسألهم إذ ذكر علي بن أبي طالب فنال منه ونلنا مقاربة له وفَرَقاً منه ومن شره..

  أنساب الأشراف بلاذري (متوفاي279هـ) ، ج 4، ص 315؛  

 شعبی امیر المومنین علیہ السلام کے بارے منفی نظریہ رکھتا ہے ،اپنی جان بچانے کے لئے امیر المومنین علیہ السلام کی شان میں توہین کرتا ہے اور آپ کے دشمن بنی  امیہ کی حمایت کرتا  ہے ۔ لیکن ان سب کے باوجود  یہ کیونکہ خلفاء کے حق میں ایک مرسل روایت نقل کرتا ہے اور اصلی راوی کو چھپاتا ہے تو اہل سنت کے علماء مرسل روایات کے بارے میں اپنے ہی بنائے ہوئے قواعد  کو پاوں تلے روندتے ہیں اور ادھر سے عطیہ عوفی جو  امیر المومنین علیہ السلام سے  محبت میں ۴۰۰ کوڑے کھاتے ہیں ۔ لیکن حضرت زہرا سلام اللہ علیہا   کے  حق کے بارے میں روایت نقل کرنے کی وجہ سے اس کا مقام گرتا ہے  اور  اس کی روایت کو ضعیف قرار دیتے ہیں۔

 اہل سنت کے علماء  کا دہرا معیار ۔

عطیہ  کی بہت سی دوسری روایات کو اہل سنت کے علماء نے صحیح قرار دیا ہے لیکن جب خاص کر حق حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی بحث میں  اہل سنت کے علماء  متضاد رویہ اختیار کرتے ہیں ۔ ایک نمونہ  ۔۔۔

«سنن ترمذی» کی ایک روایت ملاحظہ کریں ۔اس کو امام  ترمذی ، حسن   کہتا ہے  اور «ناصر الدین البانی» اس کو صحیح قرار دیتا ہے  :

« عَنْ عَطِيَّةَ العَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ...«قُولُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الوَكِيلُ تَوَكَّلْنَا عَلَى اللَّهِ رَبِّنَا» وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ: عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا. هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ»   [حكم الألباني] : صحيح

الكتاب: سنن الترمذي- أبو عيسى محمد بن عيسى ، الترمذي، (المتوفى: 279هـ)- تحقيق وتعليق: أحمد محمد شاكر (جـ 1، 2)- ومحمد فؤاد عبد الباقي (جـ 3)

اب یہاں امام ترمذی روایت کو حسن قرار دئے کر عطیہ کی توثیق کرتے ہیں اور ناصر الدین البانی کہ روایت کو صحیح قرار دئے کر عطیہ کے ثقیہ اور عادل ہونے کا اعتراف کرتا ہے، لیکن جب حق زہرا سلام اللہ علیہا کی بات ہو:۔۔۔«دعا رسول الله صلى الله عليه وسلم فاطمة فأعطاها فدك» تو وہ کہتا ہے :

«وهذا اسنادٌ ضعیف»   « قلت: وهذا إسناد ضعيف، عطية - وهو: العوفي -، ضعيف مدلس تدليساً خبيثاً...شیعیّ»!

الكتاب: سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة وأثرها السيئ في الأمة- المؤلف: أبو عبد الرحمن محمد ناصر الدين، بن الحاج نوح بن نجاتي بن آدم، الأشقودري الألباني (المتوفى: 1420هـ)دار النشر: دار المعارف، الرياض - الممكلة العربية السعودية- ج14، ص157

لہذا مشکل عطیہ کے ثقہ ہونے یا نہ ہونے کا نہیں ہے بلکہ اصل حق حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے سلسلے میں خلفاء پر طعن کے دروازے بند کرنا ہے ۔چاہئے اس کے لئے متضاد اور دہرا معیار  اپنانا ہی کیوں نہ پڑے۔

 قواعد کے اعتبار سے یہ روایت حجت ہے

 اھل سنت کے علماء کے بنائے ہوئَ قواعد کی روشنی میں ہم اس کو اہل سنت کے لئے  حجت کے طور پر پیش کرسکتے ہیں ۔

مثلا :  راوی مختلف فیہ کی روایات کو اہل سنت کے علماء حسن کا درجہ دیتے ہیں۔ عطیہ کو بعض نے  ثقہ کہا ہے بعض نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے ،ایسی  صورت میں اس قسم کے راوی کی روایت کو  جعلی کہنا تو دور کی بات اس کو ضعیف بھی کہنا صحیح نہیں ہے ۔

دیکھیں  اہل سنت کے مایہ ناز عالم ابن حجر  یہی قانون دوسرے راوی کے بارے میں جاری کرتا ہے اور اس کی روایت کو حسن کہتا ہے : ابن حجر عسقلاني نے  «القول المسدد في الذب عن مسند للإمام احمد» میں «قزعة ابن سوید» کے بارے میں لکھا ہے :

« وَأَمَّا قَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ فَهُوَ بَاهِلِيٌّ بَصْرِيٌّ يُكَنَّى أَبَا مُحَمَّدٍ رَوَى أَيْضًا عَنْ جَمَاعَةٍ مِنَ التَّابِعِينَ وَحَدَّثَ عَنْهُ جَمَاعَةٌ مِنَ الأَئِمَّةِ وَاخْتُلِفَ فِيهِ كَلامِ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ فَقَالَ عَبَّاسٌ الدُّورِيُّ عَنْهُ ضَعِيفٌ وَقَالَ عُثْمَانُ الدَّارِمِيُّ عَنْهُ ثِقَةٌ وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ مَحَلُّهُ الصِّدْقُ وَلَيْسَ بِالْمَتِينِ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ وَلا يُحْتَجُّ بِهِ وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ لَهُ أَحَادِيثُ مُسْتَقِيمَةٌ وَأَرْجُو أَنَّهُ لَا بَأْس بِهِ وَقَالَ الْبَزَّار لَمْ يَكُنْ بِالْقَوِيِّ وَقَدْ حَدَّثَ عَنْهُ أَهْلُ الْعِلْمِ وَقَالَ الْعِجْلِيُّ لَا بَأْسَ بِهِ وَفِيهِ ضَعِيفٌ فالحاصل من كلام هؤلاء الأئمة فيه أن حديثه في مرتبة الحسن»

القول المسدد في الذب عن المسند للإمام أحمد؛ اسم المؤلف: أحمد بن علي العسقلاني أبو الفضل الوفاة: 852، دار النشر: مكتبة ابن تيمية - القاهرة - 1401، الطبعة : الأولى، تحقيق: مكتبة ابن تيمية، ج 1، ص 30

 

«ابن حجر» نے «تهذیب التهذیب» میں «عبدالله ابن صالح» کے بارے میں ہی بات کی ہے :

«وقال ابن القطان هو صدوق ولم يثبت عليه ما يسقط له حديثه إلا أنه مختلف فيه فحديثه حسن »

 تهذيب التهذيب؛ اسم المؤلف: أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل العسقلاني الشافعي الوفاة: 852، دار النشر: دار الفكر - بيروت - 1404 - 1984، الطبعة : الأولى، ج5، ص228

اور حسن روایت حجت ہونے کے اعتبار سے صحیح روایت کی طرح ہے ۔

« الحسن وهو في الاحتجاج به كالصحيح عند الحمهور. » : اختصار علوم الحديث - ج1، ص37

لہذا صاف واضح ہے کہ اہل سنت کے علماء عطیہ اور  حق حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کی بات جب آتی ہے تو اس قسم کے سارے قواعد بول جاتے ہیں ۔

 قابل توجہ بات :  کسی مختلف فیہ راوی کی روایت کو ضعیف کہنے کا معنی اس کا جعلی ہونا نہیں ہے ۔جعلی  اور ضعیف کی اصطلاح میں واضح فرق ہے۔  ضعیف  سند ہونے  کی صورت میں دوسرے قرائن اور شواہد کو بھی دیکھ کر اس کی ضعف اور کمزوری کا علاج بھی کرسکتا ہے۔   جبکہ جعلی روایت ایک مردہ شخص کی طرح ہے قابل علاج نہیں ہے ۔

 

ب  :  جناب فاطمہ  سلام اللہ علیہا  نے  فدک کو   ھبہ اور عطاء رسول اللہ ص کے عنوان سے مطالبہ  کیا۔

 اس سلسلے میں بھی بہت سے اسناد طرفین کی کتابوں میں موجود ہیں  ۔ہم ذیل میں اہل سنت کی کتابوں سے اس کے کچھ نمونے نقل کرتے ہیں :

۱:    أحمد بن يحيى  البلاذري {الوفاة: 279}  نے فتوح البلدان میں لکھا ہے : کہ جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا نے اس کو عطاالرسول کے عنوان سے مطالبہ کیا لیکن خلیفہ نے گواہ لانے کا کہا ۔

، «قالت فاطمة لأبي بكر أن رسول الله (صلى الله عليه وسلم) جعل لي فدك فأعطني إياه وشهد لها علي بن أبي طالب فسألها شاهدا آخر فشهدت لها أم أيمن فقال قد علمت يا بنت رسول الله أنه لا تجوز إلا شهادة رجلين أو رجل و امرأتين فانصرفت»

فتوح البلدان؛   أحمد بن يحيى  البلاذري الوفاة: 279،  : دار الكتب العلمية - بيروت - 1403، تحقيق: رضوان محمد ، ج1، ص44

 

۲:  «یاقوت حمویی متوفی ۶۲۶» نے  «معجم البلدان» میں اس واقعے کو نقل کیا ہے ۔وہ فدک کے بارے میں لکھتا ہے :

لما قُبض رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت فاطمة رضى الله عنها لأبي بكر رضي الله عنه: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم جعل لي فدَك فاعطني إياها وشهد لها علي بن أبي طالب رضي الله عنه فسألها شاهداً آخر فشهدت لها أم أيمنَ مولأ النبي صلى الله عليه وسلم فقال: قد علمت يا بنت رسول الله أنه لا يجوز إلا شهادة رجلين أو رجل وامرأتين فانصرفت وروي عن أم هانىء أن فاطمة أتت أبا بكر رضي الله عنه فقالت له: من يرِثك فقال: ولدي وأهلي فقالت له فما بالك ورثت رسول الله صلى الله عليه وسلم دوننا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ معجم البلدان (3/ 313،) :

۳:  «شمس الدین سرخسی» متوفی 483 کہ جو حنفی بڑا عالم ہیں وہ  فقہ حنفی کی سب سے معروف کتاب المبسوط میں لکھتا ہے  : «انها یعنی فاطمة سلام الله علیها ادعت ان رسول الله وهب فدک لها»  ان رسول الله وهب فدک لها و اقامت رجلا و امراة ضمی الی الرجل رجلا او الی المراة امراة فلما لم تجد ذلک .

فاطمہ نے یہ دعوا کیا: فدک رسول اللہ (ص)  نے مجھے ھبہ کیا ہے اور یہ میری ملکیت ہے۔ فاطمہ(س)  نے فدک کے بارے میں یہ ادعا کیا کہ اس کو رسول اللہ (ص) نے ھبہ کیا ہے اور اس کے لئے ایک مرد اور ایک عورت کو گواہ کے طور پر پیش کیا ۔ابوبکر نے  فاطمه زهرا (س) سے کہا : علی نے گواہی دی ہے اب  ایک اور مرد یا ام ایمن کے ساتھ ایک اور عورت لے آو .فاطمه زهرا کو کوئی اور گواہی دینے کے لئے نہیں ملی .

سرخی اس کے بعد آگے لکھتا ہے : جعلت تقول من یرثک فقال ابوبکر رضی الله عنه اولادی ان یرثک اولادک و لا ارث انا من رسول الله؟

فاطمه زهرا نے ابوبکر سے کہا : اگر تم مرے تو تیرا وارث کون ہوگا ؟  ابوبکر نے کہا : میری اولاد میرے وارث  ہوں گے .فاطمه نے فرمایا : عجیب بات ہے کہ تماری اولاد تم سے ارث لے لیکن میں اپنے والد رسول اللہ (ص) سے ارث نہ لوں ؟

 المبسوط، اسم المؤلف: شمس الدين السرخسي، دار النشر: دار المعرفة - بيروت ج12، ص 29

دقت کریں اس نقل کے مطابق بھی پہلے  فدک کو بعنوان عطاء الرسول مطالبہ کیا ،پھر ارث کے عنوان سے ۔

۴:      أبو جعفر الطحاوي (المتوفى : 321هـ)  نے شرح معاني الآثار میں لکھا ہے :

وَلَقَدْ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ، قَالَ : ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ الْكَلْبِيِّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أُمِّ هَانِئٍ أَنَّ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ ( يَا أَبَا بَكْرٍ مَنْ يَرِثُك إذَا مِتَّ ؟ ) قَالَ : وَلَدِي وَأَهْلِي .قَالَتْ : ( فَمَا لَك تَرِثُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دُونِي ؟ ) .قَالَ : يَا ابْنَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا وَرَّثَ أَبُوك دَارًا وَلَا ذَهَبًا ، وَلَا غُلَامًا .

قَالَتْ : ( وَلَا سَهْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، الَّذِي جَعَلَهُ لَنَا وَصَافِيَتَنَا الَّتِي بِيَدِك ) .فَقَالَ : سَمِعْت رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : { إنَّمَا هِيَ طُعْمَةٌ أَطْعَمَنِيهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، فَإِذَا مِتَّ ، كَانَتْ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ } .

فدک کو اللہ نے ہمارے لئے قرار دیا ہے اب جو تیرے قبضے میں ہے وہ ہماری ملکیت ہے ۔{یہ جو فرمایا : فدک اللہ نے ہمارے لئے قرار دیا ہے یہ اس  آیه «و آت ذا القربی حقه»  کی طرف اشارہ ہے ۔۔}

 ابوبکر نے پلٹ کر کہا : یہ حقیقت میں خرچہ پانی تھا کہ جو اللہ نے آپ لوگوں کے اختیار میں دیا تھا ۔{جب رسول اللہ ص دنیا سے چلے جائے تو یہ سب مسلمانوں میں تقسیم ہونا چاہئے۔}{یہ ابوبکر کی اپنی راے ہے }

شرح معاني الآثار: أحمد بن محمد أبو جعفر الطحاوي: دار الكتب العلمية بيروت -  1399؛ ج3، ص 308

۵:      جیساکہ عمر بن شبة النميري البصري (المتوفى: 262هـ) تاريخ المدينة لابن شبة (1/ 198): میں بھی یہی روایت نقل کی ہے ۔

۶:     اسی تاريخ المدينة لابن شبة  میں یہ روایت بھی ہے کہ فدک کو جناب فاطمہ سلام اللہ علیہ کے ہاتھ سے چھین لیا  اور حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے اس کو عطاء الرسول کے عنوان سے مطالبہ کیا  ۔

حدثنا محمد بن عبد الله بن الزبير قال، حدثنا فضيل بن مرزوق قال، حدثني النميري بن حسان قال: قلت لزيد بن علي رحمة الله عليه وأَنا أُريد أَن أُهجنَ  أَمر أَبى بكر: إِن أَبا بكر رضي الله عنه انتزع من فاطمة رضي الله عنها فَدَك. فقال: إِن أَبا بكر رضي اللّه عنه كان رجلاً رحيمًا، وكان يكره أَن يُغير شيئًا تركه رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأَتته فاطمة رضي الله عنها فقالت: إِن رسول اللّه صلى الله عليه وسلم أَعطاني فَدَك. فقال لها: هل لك على هذا بينة. فجاءت بعلي رضي الله عنه فشهد لها، ثم جاءت بأُم أَيمن فقالت: أَليس تشهد أَني من أَهل الجنة? قال: بلى- قال أَبو أَحمد: يعني أَنها قالت ذاك لأَبي بكر وعمر رضي الله عنهما- قالت: فأَشهدُ أَن النبي صلى الله عليه وسلم أَعطاها فَدك فقال أَبو بكر رضي الله عنه: فبرجل وامرأَة تستحقينها أَو تستحقين بها القضية

تاريخ المدينة المنورة؛ عمر بن شبة النميري البصري الوفاة: 262هـ، ج1، ص124

۶ :    ابن حجر ھیثمی نے بھی اسی کو نقل کیا ہے :

فَأَتَتْهُ فَاطِمَة رَضِي الله عَنْهَا فَقَالَت لَهُ إِن رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم أَعْطَانِي فدك فَقَالَ هَل لَك بَيِّنَة فَشهد لَهَا عَليّ وَأم أَيمن فَقَالَ لَهَا فبرجل وَامْرَأَة تستحقيها ۔۔۔۔۔الصواعق المحرقة على أهل الرفض والضلال والزندقة (1/ 157):

 ج : اھل سنت کے علماء کا اعتراف

جیساکہ تاریخی شواہد کے مطابق بہت سے اہل سنت کے علماء نے اسی حقیقت کو قبول کیا ہے ۔دو نمونے

۱ :  «یاقوت حمویی متوفی ۶۲۶» نے  «معجم البلدان»  میں فدک کی بحث میں یہ اعتراف کیا ہے کہ یہ وہی فدک ہے جس کے بارے میں جناب سیدہ سلام اللہ علیہا نے عطاالرسول ہونے ادعا کیا تھا:  «و هی التی قالت فاطمة سلام الله علیها نحلنیها ان رسول الله فقال ابوبکر رضی الله عنه ارید لذلک شهودا و لها قصة

فدک وہی ہے جس کے بارے میں حضرت فاطمہ (سلام الله علیها) نے ابوبکر سے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے بخش دیا ہے

ابوبکر نے کہا : اپنے مدعا کو ثابت کرنے کے لئے دلیل اور گواہ پیش کرو۔ بعد میں کہتا ہے : ۔ ایک خود ہی ایک داستان ہے ۔

معجم البلدان، اسم المؤلف: ياقوت بن عبد الله الحموي أبو عبد الله، دار النشر: دار الفكر – بيروت؛ ج4، ص 238

۲:  جیساکہ  بیان ہوا کہ حلبی نے  "  السيرة الحلبية" میں اہل سنت کے بعد علماء کی یہ راے نقل کیا ہے کہ جناب سیدہ نے پہلے فدک کو عطاء رسول اللہ ص کے عنوان سے مطالبہ کیا  اور جب اس پر گواہی بھی طلب کیا تو گواہی بھی پیش کی ۔ قال بعضهم: ۔۔۔۔ ولعل طلب إرثها من فدك كان منها بعد أن ادعت رضي الله تعالى  عنها أن النبي صلى الله عليه وسلم أعطاها فدكا. وقال لها: هل لك بينة فشهد لها علي كرم الله وجهه وأم أيمن، فقال لها رضي الله عنه أبرجل وامرأة تستحقيها.۔۔۔ السيرة الحلبية = إنسان العيون في سيرة الأمين المأمون (3/ 513):

فدک پر خلفاء نے خود ہی قبضہ کیا :

جیساکہ صحیح بخاری اور تاريخ المدينة لابن شبة وغیرہ میں خلیفہ دوم کا یہ اعتراف موجود ہے کہ اس کو جناب ابوبکر اور خود عمر نے اپنے قبضے میں لیا۔

- فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَنَا وَلِىُّ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - فَقَبَضَهَا أَبُو بَكْرٍ يَعْمَلُ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - وَأَنْتُمَا حِينَئِذٍ - وَأَقْبَلَ عَلَى عَلِىٍّ وَعَبَّاسٍ - تَزْعُمَانِ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَذَا وَكَذَا ، وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّهُ فِيهَا صَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ ، ثُمَّ تَوَفَّى اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ فَقُلْتُ أَنَا وَلِىُّ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - وَأَبِى بَكْرٍ ، فَقَبَضْتُهَا سَنَتَيْنِ أَعْمَلُ فِيهَا بِمَا عَمِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم ۔۔۔

صحيح البخارى  : کتاب النفقات ۔3 - باب حَبْسِ نَفَقَةِ الرَّجُلِ قُوتَ سَنَةٍ عَلَى أَهْلِهِ ، وَكَيْفَ نَفَقَاتُ الْعِيَالِ . ( 3 ) 5358  ۔۔كِتَابُ الِاعْتِصَامِ بِالكِتَابِ وَالسُّنَّةِ ۔۔۔ بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ التَّعَمُّقِ وَالتَّنَازُعِ فِي العِلْمِ، وَالغُلُوِّ فِي الدِّينِ وَالبِدَعِ7305

 مسند أحمد (4/ 213):  وَمِنْ مُسْنَدِ بَنِي هَاشِمٍ  ۔۔  حَدِيثُ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔

فَجِئْتَ يَا عَبَّاسُ تَطْلُبُ مِيرَاثَكَ مِنِ ابْنِ أَخِيكَ، وَجِئْتَ يَا عَلِيُّ تَطْلُبُ مِيرَاثَ زَوْجَتِكَ مِنْ أَبِيهَا، فَزَعَمْتُمَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ فِيهَا خَائِنًا فَاجِرًا، وَاللَّهُ يَعْلَمُ [ص:209] لَقَدْ كَانَ بَرًّا مُطِيعًا تَابِعًا لِلْحَقِّ، ثُمَّ تُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَبَضْتُهَا، فَجِئْتُمَانِي، تَطْلُبُ مِيرَاثَكَ يَا عَبَّاسُ مِنِ ابْنِ أَخِيكَ، وَتَطْلُبُ مِيرَاثَ زَوْجَتِكَ يَا عَلِيُّ مِنْ أَبِيهَا، وَزَعَمْتُمَا أَنِّي فِيهَا غَادِرٌ فَاجِرٌ،

تاريخ المدينة لابن شبة (1/ 204): خُصُومَةُ عَلِيٍّ وَالْعَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ۔۔۔

غور کریں :

 اب گزشتہ شواہد کی روشنی میں یہاں قبضہ کرنے کا  یہ معنی بھی ہوسکتا ہے کہ پہلے یہ عطاء الرسول کے عنوان سے جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کے قبضے بھی تھا ، اب خلیفہ نے یہ سمجھا کہ یہ  سب  مسلمانوں کا حق ہے لہذا حضور پاک ص کے بعد اس کو ان کے ہاتھ سے لیا چاہئے۔

جیساکہ عجیب تناقض اور تضاد  اس میں موجود ہے کہ ایک طرف سے خلیفہ  کہتا ہے کہ اس کو حضور ص نے خرچہ پانی کے عنوان سے اہل بیت علیہم السلام کو دیا تھا اور یہ ادعا کرتے یں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے طریقے پر عمل کریں گے  اور ساتھ ہی اہل بیت علیہم السلام کو کچھ بھی دینے سے انکار کرتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے طریقے پر عمل نہیں کرتے  اور خلیفہ دوم یہ  اعتراف بھی کرتاہے کہ اسی وجہ سے  امیر المومنین علیہ السلام اور جناب عباس انہیں  غَادِرٌ اور فَاجِرٌ سمجھتے تھے۔

اہل سنت کے ہاں رائج ایک قانون سے استدلال ۔

 اہل سنت کے ہاں رائج ایک قانون  یہ بھی ہے کہ کسی روایت کی سند ضعیف بھی ہو لیکن اس کے طرق متعدد ہو  تو  یہ پھر ضعیف نہیں رہے گئ۔ جیساکہ ابن تیمیہ کہتا ہے : «فَإِنَّ تَعَدُّدَ الطُّرُقِ وَ كَثْرَتَهَا يُقَوِّي بَعْضَهَا بَعْضًا حَتَّى قَدْ يَحْصُلُ الْعِلْمُ بِهَا وَ لَوْ كَانَ النَّاقِلُونَ فُجَّارًا فُسَّاقًا» ۔ طرق متعدد اور زیادہ ہو تو  اس صورت میں بعض طرق بعض کو قوی بناتا ہے ، ایک دوسرے کی تقویت کرتا ہے ۔ کثرت طرق سے ہمیں ان کے مضمون کی صحت پر علم حاصل ہوسکتا ہے۔ یہاں تک کہ نقل کرنے والے فاجر اور فاسق ہی کیوں نہ ہو ۔    

   كتب ورسائل وفتاوى شيخ الإسلام ابن تيمية،  ج18، ص 26۔

جیساکہ اہل سنت کے بہت سے علماء خاص کر فضائل کے باب میں اسی قانون سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔لہذا اہل سنت کے ہاں رائج اس قانون کی وجہ سے جو روایتیں ہم نے نقل کی ہیں  ان میں سے ہر ایک کی سند ضعیف بھی ہوں اور راوی فاجر اور فاسق بھی ہو پھر بھی کیونکہ طرق متعدد ہیں لہذا یہ اب ضعیف نہیں  رہے گی اور قابل استدلال ہے ۔

نتیجہ اور خلاصہ :

 لہذا  خاص کر فدک کے بارے میں  حضرت زہراء سلام اللہ علیہا  کی طرف سے  عطاء الرسول کے  عنوان سے مطالبہ ہی اس کی دلیل کے طور پر کافی ہے ۔ کیونکہ صداقت کے پیکر سے صداقت کی گواہی  کا مطالبہ ہی  صحیح نہیں ہے ۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ  اسلامی دنیا کی خاتون اول اور سب سے بافضیلت خاتون ،جنت کی عورتوں کی سردار ، کسی ایسی چیز کا مطالبہ کرئے جو ان کا نہیں ہے اور ایسی چیز کا ادعا کرئے جس کی کوئی حقیقت ہی نہ ہو ؟؟ یہ ہو ہی نہیں سکتا ۔

فاطمہ سلام اللہ علیہا  صداقت کا پیکر

«قالت عایشه ما رایت احدا قط اصدق من فاطمة کان بینهما شیء فقالت یا رسول الله سلها فانها لا تکذب »  جناب عائشہ کہتی ہے : میں نے حضرت زهرا )ع( سے زیادہ سچی نہیں دیکھی ، جناب عایشه اور ان کے درمیان کچھ اختلاف تھا ۔ تو اس وقت جناب عائشہ رسول اللہ )ص(  سے کہتی ہے : یا رسول اللہ )ص(  آپ فاطمہ سے پوچھیں کیونکہ فاطمہ جھوٹ نہیں بھولتیں  ۔

مسند أبي يعلى،الموصلي (المتوفى: 307هـ)، ج8، ص 153، ح4700

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سب سے ممتاز شاگرد ہونے کے لحاظ سے  یقینا فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا دوسرے مسلمانوں سے زیادہ دینی احکام سے واقف تھیں اور آپ جانتی تھیں کہ دوسروں کے مال میں  تصرف اور دوسروں کے مال کو استعمال کرنا باطل اور ناحق طریقے سے مال کھانے کا مصداق ہے اور یہ گناہ اور حرام ہے۔

  سوال یہ ہے کہ کیا ان ہستیوں سے اس معاملے میں دلیل اور گواہ کا مطالبہ کرنا ان کی شان میں موجود  روایات اور آیات سے نہیں ٹکراتا؟

یہ ہستیاں کہ  جو میدان مباھلہ میں  رسول اللہ )ص( کی رسالت اور نبوت کی حقانیت اور صداقت کے گواہ کے طور پر جاسکتے ہیں تو کیا فدک کے مسئلے میں ان کی گواہی اور ادعا کو قبول نہیں کرنا چاہئے ؟

فدک کی ان ہستیوں کے مقابلے میں کیا حیثیت تھی ؟

اب جب یہ بات ثابت ہوئی کہ خاص کر فدک کے بارے میں جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کا ادعا  یہ تھا کہ یہ عطاء الرسول ہے۔لہذا بہت سے سوالات  اور شبھات خود بخود ختم ہوجاتے ہیں ۔

فدک سے باقی ورثاء  کی وراثت کہاں گئی ؟

اتنا بڑا علاقہ کیوں ایک بیٹی کو دی گئی ؟        کیونکہ نبی کی ملکیت تھی جسے آپ بخش دئے ۔ 

وَ ما کانَ لِمُؤْمِنٍ وَ لا مُؤْمِنَةٍ إِذا قَضَی اللَّهُ وَ رَسُولُهُ أَمْراً أَنْ یکونَ لَهُمُ الْخِیرَةُ مِنْ أَمْرِهِم . سوره احزاب (33): آیه 36

  ایسا اعتراض منافقوں والا اعتراض ہے ۔۔۔

«والله إِنَّ هذه الْقِسْمَةَ ما عُدِلَ فيها وما أُرِيدَ بها وَجْهُ اللَّهِ فقلت والله لَأُخْبِرَنَّ النبي فَأَتَيْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ... »« فَمَنْ يَعْدِلُ إذا لم يَعْدِلْ الله وَرَسُولُهُ » « رَحِمَ الله مُوسَى قد أُوذِيَ بِأَكْثَرَ من هذا فَصَبَرَ»  صحیح بخاری   ج3، ص 1148، ح 2981

 

 

 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی