2021 November 30
کیا امام سجاد علیہ السلام نے یزید کی بیعت کی ؟
مندرجات: ٢١٠٧ تاریخ اشاعت: ١٦ October ٢٠٢١ - ١٦:١٥ مشاہدات: 233
وھابی فتنہ » پبلک
کیا امام سجاد علیہ السلام نے یزید کی بیعت کی ؟

یزید کی گنڈہ گردی  مذھب سے دفاع کی دلیل ؟

بعض کی عجیب مجبوری دیکھے ،اپنے مکتب سے دفاع کے لئے  کیا کیا  کرتے ہیں ۔

بعض کہتے ہیں کہ شیعہ معتبر کتاب اصول کافی کی روایت کے مطابق امام سجاد علیہ السلام نے یزید کی بیعت کی ہے اور اپنے کو یزید کے غلام کی طرح پیش کیا ہے ۔

لہذا یزید شیعوں کے امام کے امام ہے ۔۔۔۔۔۔۔

اس مغالطے کا جواب :

کچھ اہم نکات :

پہلا نکتہ :  اصول کافی میں کسی روایت کا ہونا اس کی سند اور متن کے معتبر ہونے کی دلیل نہیں ہے ۔ کیونکہ شیعوں کے نذدیک قرآن کے علاوہ کوئی بھی کتاب سوفیصد صحیح نہیں ہے ۔

دوسرا نکتہ    : کسی کی طرف سے روایت کی سند کو صحیح کہنے کا مطلب اس روایت کے مضمون کو بھی قبول کرنا نہیں ہے ۔ کیونکہ سند کے معتبر ہونے کا معیار اور ہے ،متن اور مضمون کے معتبر ہونے کا معیار اور ہے ۔

تیسرا نکتہ     : مذکورہ روایت کی سند ضعیف ہے ، جیساکہ  جنابِ شیخ علی آلِ محسن نے    لله و للحقیقه ، ج 1 ص 171-173) میں لکھا ہے : یہ روایت ضعیف ہے ۔ اس کے راویوں میں سے ایک ابو ایوب الخراز ابراهیم بن زیاد  ہے اور یہ مجہول ہے ،رجالی کتابوں میں اس کی توثیق نہیں ہوئی ہے لہذا یہ قابل اعتماد نہیں ہے۔   [ آخر میں اسکین ملاحظہ کریں ]

  چوتھا نکتہ :

اس واقعے کے بارے میں قابل توجہ نکتہ  

اس روایت کے متن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یزید کے ساتھ امام سجاد علیہ السلام کی ملاقات مدینہ میں ہوئی اور وہ مدینہ میں لوگوں سے اس عنوان سے بیعت لیتا ہے کہ گویا بیعت کرنے والا یزید کا غلام ہوگا ۔

لیکن اس میں خاص بات یہ ہے کہ یزید نے اپنی حکومت کے دوران مدینہ کا سفر نہیں کیا اور دمشق میں ہی جہنم واصل ہوا ہے، جیساکہ علامه مجلسی (رهنےمرآة العقول ، ص 178 میں اسی نکتے کی طرف اشارہ کیا ہے ۔

اب امام سجاد ع سے یزید کی ملاقات کا یہ واقعہ صحیح ہو تو یہ دمشق میں اسرا آل محمد ص اور کربلا کے لٹے ہوئے قافلہ والوں کے ساتھ یزید کے برتاو کو بیان کرتا ہے ۔

اس مثال پر توجہ دیں

بندوق کے نوک پر بیعت لینے کو بیعت کہنا صحیح نہیں ،مثلا کوئی ڈاکو پسٹول اور چھری ہاتھ میں لے کر کسی سے اس کا موبایل چھین لے اور جان بچانے کے لئے وہ موبایل ڈاکو کو دئے ۔

اب یہاں کوئی بیوقف ہی کہہ سکتا ہے یہ موبایل والے نے خود ہی ڈاکو کو دیا ہے لہذا اب یہ ڈاکو کا حق اور اس کی ملکیت ہے ۔

اب جو سند اصول کافی سے پیش کیجاتی ہے،اس کی سند سے قطع نظر اگر اس روایت کے مضمون پر غور کرئے تو معلوم ہوگا کہ امام نے گویا یزید کی رسوائی کی سند لکھی ہے ۔

پانچواں نکتہ  

اس روایت کے مطابق امام علیہ السلام پہلے اس سے یہ اقرار لیتے ہیں کہ اگر میں بیعت نہ کروں تو کل جس بنی ھاشم کے جوان کے ساتھ کیا وہ میرے ساتھ بھی کرو گے یعنی مجھے بھی اس کی طرح قتل کرو گے ؟

یزید نے اقرار کیا اور کہا : ہاں بیعت نہ کرنے کی صورت میں میں تجھے قتل کروں گا ۔

اب امام سجاد علیہ السلام نے اس طریقے سے یزید کا حقیقی چہرہ ،  درندگی اور حیوانیت  لوگوں کے سامنے رکھ دیا اور لوگوں پر یہ واضح کر دیا کہ یہ یزید اتنا پلید اور پست شخص ہے کہ یہ بیعت نہ کرنے کی صورت میں میرے بابا کو شہید کرنے کے علاوہ اس سید سجاد کو بھی شہید کر دئے گا کہ جو اس وقت امام حسین ع کے وارث اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نوسیوں اور مخدرات کے لئے آسرا تھے ۔۔

  امام سجاد علیہ السلام نے یزید کا حقیقی چہرہ اور یزید کی بیعت کی حقیقت لوگوں کے سامنے رکھنے کے بعد حکمت عملی سے کام لیا اور حالات کی نزاکت اور ضرورت کے مطابق ایک درندہ صفت انسان سے جان بچانے کے لئے حکمت عملی سے کام لیا ۔

لہذا نہ یہ یزید کی بیعت ہے اور نہ ہی یزید کی غلامی۔

یہ حقیقت میں یزید کی رسوائی کی سند ہے نہ یزید کی بیعت اور یزید کو اپنا امام بنانا اور یزید کی خلافت پر ایمان ۔۔۔کوئی عقل سے محروم ہی ایسا نتیجہ نکال سکتا ہے ۔

عجیب منطق : شیعہ دشمنی میں یزید کی گنڈہ گردی کو دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں اور اس طرح اپنے مکتب سے دفاع اور شیعوں کے موقف کو کمزور دکھانا چاہتے ہیں

 

 جان بچانا  ہمیشہ بذدلی نہیں ۔

ممکن ہے کوئی یہ کہے کہ امام سجاد علیہ السلام نے امام حسین علیہ السلام کی طرح کا کردار کیوں نہیں اپنایا اور یزید کی بیعت کو ٹھکرا کر شہادت کے راستے کا انتخاب کیوں نہیں کیا ؟

اس شبھے کا مختصر جواب یہ ہے کہ اگر امام سجاد علیہ السلام اس وقت اپنی شہادت میں حکمت دیکھتے تو ضروری ایسا کرتے۔

جیساکہ کیونکہ امام حسین علیہ السلام کی شھادت اور عظیم قربانی نےبنی امیہ کی سازشوں اور ساری محنتوں پر پانی پھیر دی تھی ، لہذا اس وقت نئی قربانی کی ضرورت نہیں تھی، کیونکہ جہاں ۱۰۰۰کلو وزنی بم سے سب کچھ ملیا میٹ ہوئے ہوں  وہاں دوسرے  دھماکے کی ضرورت نہیں رہتی ۔۔۔

اب اگر امام سجاد علیہ السلام کی اس حکمت علمی اور تدبیر کو بذدلی کہے اور یہ بتانے کی کوشش کرئے کہ اللہ کی راہ میں شہید ہونے کی فضیلت اور امتیاز پر امام نے زندہ رہنے کو ترجیح دیاور اپنے والد گرامی کی سیرت پر عمل نہیں کیا  تو ہم کہتے ہیں کہ ہمارے امام خود ہی بہتر جانتے تھے کہ  اس وقت آپ کا فریضہ کیا بنتا تھا ۔۔۔۔۔ 

اب جان بچانا او شھادت کا راستہ اختیار نہ کرنے کی وجہ سے امام پر اعتراض کرتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی جان بچانے کے لئے مکہ سے ہجرت فرمائی ۔

جناب ابوبکر جان کو خطرے میں دیکھ کر غار میں ڈر رہا تھا ،خلفا نے میدان جنگ میں جان بچانے کے لئے ہی فرار اختیار کیا ۔۔۔

اگر جان بچانا او شھادت کا راستہ اختیار کرنے کی وجہ سے امام سجاد علیہ السلام پر اعتراض کرتے ہیں تو یہ اعتراض خلفا پر بھی تو ہے ۔ خلفا کیوں جنگوں میں کفار سے ڈر کر بھاگے ؟

کیوں شھادت کا راستہ اختیار نہیں کیا ؟

کیا خلفا کو شھادت کی فضیلت کا علم نہیں تھا ؟

 

جبری بیعت اور خلافت کی تاریخ۔

عجیب بات یہ ہے کہ اھل سنت کی معتبر کتابوں کے مطابق اسی یزید کے لئے اھل مدینہ[ اصحاب اور تابعین ]سے غلام کے طور پر بیعت لی گئی ۔۔۔

اگر ہم سے کہیں تو ہم ثابت کرتے ہیں کہ اھل سنت کے خلفاْ کی بیعت کی حقیقت یہی ہے کہ ان کے لئے لوگوں سے بیعت لی گئی ہے، لوگوں نے اھل سمجھ کر بیعت نہیں کی ہے بیعت نہ کرنے کی صورت میں گردن اڑھانے اور گھر سمیت آگ لگانے کی دھمکی سقیفہ سے شروع ہوئی اور اھل سنت کے خلفا کی خلافت کی بنیاد اسی پر قائم رہی۔۔

دیکھیں ۔۔۔۔www.valiasr-aj.com/urdu/shownews.php

 

 

 

اسکین ۔۔۔۔





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی