2021 November 30
خلفاﺀ اپنی خلافت کی حقانیت پر یقین نہیں رکھتے تھے۔
مندرجات: ٢١٢٦ تاریخ اشاعت: ٠٣ November ٢٠٢١ - ١٦:٤٥ مشاہدات: 180
مضامین و مقالات » پبلک
خلفاﺀ اپنی خلافت کی حقانیت پر یقین نہیں رکھتے تھے۔

 

خلفاﺀ اپنی خلافت کی حقانیت پر یقین نہیں رکھتے تھے۔

اب دوسرے کیسے ان کی خلافت کی حقانیت پر ایمان رکھتے ہیں ؟  

  لمحہ فکریہ :

جناب ابوبکر اور عمر زندگی کے آخری لمحات میں اپنے خلیفہ بننے پر پشیمانی کا اظہار کرتے  اور اپنے کردار کی وجہ سے سخت مایوسی کا شکار تھے یہاں تک کہ اپنے انسان ہونے پر افسوس کرتے تھے ۔

رسول اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسی خطرے سے اصحاب کو آگاہ فرمایا تھا۔         

دیکھیں اھل سنت کی معتبر کتابوں سے مذکورہ مطالب کی اسناد۔

جناب ابوبکر کی اظہار پشیمانی

  امام «ذهبی» کہ امام ذھبی علم حدیث اور علم  رجال کے ماہر اور اھل سنت نزدیک اہم علمی شخصیت ہیں اور خاص کر راویوں کی توثیق وغیرہ میں اھل سنت کے علماﺀ ان کی باتوں کو قبول کرتے ہیں ؛

«ذهبی» نے اپنی کتاب «تاریخ اسلام» کی تیسری جلد ،باب «عهد الخلفاء الراشدین» میں ۱۱سے ۴۰ ہجری تک کے واقعات کو نقل کیا ہے اور صفحہ نمبر 117  اور 118 میں خلیفہ اول کی زندگی کے آخری لمحات میں خلیفہ اول کی طرف سے بعض چیزوں کے بارے افسوس اور پشیمانی کے اظہار کو نقل کیا ہے  ؛

«أما إنی لا آسی علی شیء إلا علی ثلاث فعلتهن، وثلاث لم أفعلهن، وثلاث وددت أنی سألت رسول الله عنهن »

میں تین کاموں کی وجہ سے افسوس کرتا ہوں اور پشیمان ہوں ،کاش میں ان کے بارے میں رسول اللہ ص سے پوچھتا؛ 

«وددت أنی یوم سقیفة بنی ساعدة کنت قذفت الأمر فی عنق عمر أو أبی عبیدة»

ای کاش سقیفه بنی ساعده کے دن میں خلافت کو قبول نہ کرتا اور اس خلافت کو عمر بن خطاب یا ابوعبیدہ کی گردن پر ڈال دیتا ۔

«ووددت أنی سألت رسول الله فی من هذا الأمر ولا ینازعه أهله»

ای کاش میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و آلہ سے خلافت کے بارے میں پوچھتا تاکہ لوگ اس بارے میں اختلاف نہ کرتے ۔

امام ذھبی نے اس روایت کو کسی قسم کے اشکال کے بغیر اپنی کتاب میں  «علوان»، «حمید»، «صالح بن کیسان»، «عبید ابن عبدالرحمن»، «عوف» سے نقل کیا ہے اور آخر میں  لکھا ہے :

«رواه هکذا وأطول من هذا ابن وهب، عن اللیث بن سعد، عن صالح بن کیسان، أخرجه کذلک ابن عائذ»

اس طرح اس نے نقل کیا ہے اور ابن دھب نے اللیث بن سعد سے انہوں نے صالح بن کیسان سے اس کو تفصیل سے نقل کیا ہے ، اسی طرح ابن عائذ نے بھی ۔

 تاریخ الإسلام  ،  اسم المؤلف: شمس الدین محمد بن أحمد بن عثمان الذهبی، دار النشر: دار الکتاب العربی - لبنان/ بیروت - 1407 هـ - 1987 م، الطبعة: الأولی، تحقیق: د. عمر عبد السلام تدمری، ج 3، ص 117، باب المتوفون فی هذه السنة

  «ضیاء الدین مقدسی» نے «الأحادیث المختارة» میں اس سلسلے کی بعض روایات کو نقل کیا ہے ؛ « فَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ سَأَلْتُهُ فِيمَنْ هَذَا الأَمْرُ فَلا يُنَازِعُهُ أَهْلُهُ وَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ سَأَلْتُهُ هَلْ لِلأَنْصَارِ فِي هَذَا الأَمْرِ سَبَبٌ »

مقدسی لکھتے ہیں : «وَهَذَا حَدِیثٌ حَسَنٌ عَنْ أَبِی بَکرٍ»

الأحادیث المختارة ۔۔ مما لم یخرجه البخاری ومسلم فی صحیحیهما، المؤلف: ضیاء الدین أبو عبد الله محمد بن عبد الواحد المقدسی (المتوفی: 643 هـ)، دراسة وتحقیق: معالی الأستاذ الدکتور عبد الملک بن عبد الله بن دهیش، الناشر: دار خضر للطباعة والنشر والتوزیع، بیروت – لبنان، الطبعة: الثالثة، 1420 هـ - 2000 م، ج 1، ص 90، ح 12

اب یہ روایت حسن ہے اور حسن روایت استدلال اور حجت ہونے کے اعتبار سے صحیح روایت کی طرح ہے جیساکہ . «سیوطی» نے بھی «جامع الاحادیث» میں اس روایت کو نقل کرنے کے بعد  لکھا ہے :« إِنَّه حديث حسن »

جامع الاحاديث   اسم المؤلف:  الحافظ جلال الدين عبد الرحمن السيوطي؛ ج 13، ص 101

امام طبرانی نے بھی ایک طولانی روایت میں اسی مطلب کو نقل کیا ہے ؛

سَأَلْتُهُ فِيمَنْ هَذَا الْأَمْرُ فَلَا يُنَازِعُهُ أَهْلُهُ۔

المعجم الكبير للطبراني (1/ 62):

 

 خلیفہ دوم بھی پشیمانی کا اظہار کرتے تھے :،

خلیفہ دوم سے بھی ایسی ہی روایت نقل ہوئی ہے ؛

. «عبدالرزاق صنعانی» نے اپنی کتاب «مصنف» میں نقل کیا ہے :

«لأن أکون سألت النبی عن ثلاثة أحب إلی من حمر النعم»«وعن الخلیفة بعده»

تین چیزیں ہیں کہ اگر میں ان کے  بارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھتا تو یہ میرے لئے سرخ اونٹوں سے زیادہ پسندیدہ تھیں ۔ کاش میں آپ کے بعد کے خلیفہ کے بارے آپ سے پوچھتا ؛

یہ سرخ اونٹ کی تشبیہ قیمتی ترین چیز ہونے کی طرف اشارہ ہے۔  

المصنف، اسم المؤلف: أبو بکر عبد الرزاق بن همام الصنعانی، دار النشر: المکتب الإسلامی - بیروت - 1403، الطبعة: الثانیة، تحقیق: حبیب الرحمن الأعظمی، ج 10، ص 302، ح 19185

اب یہ کوئی شیعہ کتاب، اصول کافی وغیرہ نہیں ہے۔ بلکہ اہل سنت کے معتبر عالم کی معتبر کتاب المصنف میں ہے ۔

ایسی ہی روایت خلیفہ دوم سے نقل ہوئی ہے :  

 

«لَمَّا طُعِنَ عُمَرُ جَعَلَ یأْلَمُ، فقال له بن عَبَّاسٍ وَکأَنَّهُ یجَزِّعُهُ یا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ»

 

«وَلَئِنْ کان ذَاک لقد صَحِبْتَ رَسُولَ اللَّهِ فَأَحْسَنْتَ صُحْبَتَهُ ثُمَّ فَارَقْتَهُ وهو عَنْک رَاضٍ ثُمَّ صَحِبْتَ أَبَا بَکرٍ فَأَحْسَنْتَ صُحْبَتَهُ ثُمَّ فَارَقْتَهُ وهو عَنْک رَاضٍ»

 

«أَمَّا ما ذَکرْتَ من صُحْبَةِ رسول اللَّهِ وَرِضَاهُ فَإِنَّمَا ذَاک مَنٌّ من اللَّهِ تَعَالَی مَنَّ بِهِ عَلَی» «وَأَمَّا ما تَرَی من جَزَعِی فَهُوَ من أَجْلِک وَأَجْلِ أَصْحَابِک»

«والله لو أَنَّ لی طِلَاعَ الأرض ذَهَبًا لَافْتَدَیتُ بِهِ من عَذَابِ اللَّهِ عز وجل قبل أَنْ أَرَاهُ»

جب عمر زخمی کر دیئے گئے تو آپ نے بڑی بے چینی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر ابن عباس نے آپ سے تسلی کے طور پر کہا کہ اے امیرالمؤمنین! آپ اس درجہ گھبرا کیوں رہے ہیں۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صحبت میں رہے اور آپ کی صحبت کا پورا حق ادا کیا اور پھر جب آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جدا ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ سے خوش اور راضی تھے، ۔۔۔۔ اس پر عمر نے جواب دیا : ابن عباس! تم نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت کا اور آپ کی رضا و خوشی کا ذکر کیا ہے تو یقیناً یہ صرف اللہ تعالیٰ کا ایک فضل اور احسان ہے جو اس نے مجھ پر کیا ہے۔ ۔۔۔۔ لیکن جو گھبراہٹ اور پریشانی مجھ پر تم طاری دیکھ رہے ہو وہ تمہاری وجہ سے اور تمہارے ساتھیوں کی وجہ سے ہے۔ اور اللہ کی قسم! اگر میرے پاس زمین بھر سونا ہوتا تو اللہ تعالیٰ کے عذاب کا سامنا کرنے سے پہلے اس کا فدیہ دے کر اس سے نجات کی کوشش کرتا۔۔۔

الجامع الصحیح المختصر، اسم المؤلف: محمد بن إسماعیل أبو عبدالله البخاری الجعفی، دار النشر: دار ابن کثیر, الیمامة - بیروت - 1407 - 1987، الطبعة: الثالثة، تحقیق: د. مصطفی دیب البغا، ج 3، ص 1350، ح 3489

یہاں پر اصحابک سے مراد امیر المومنین علیہ السلام اور بنی ھاشم والے ہیں جیساکہ دوسرے موارد میں بھی خلیفہ دوم نے یہی الفاظ استعمال کیے ہیں ۔

اب سوال یہ ہے کہ یہاں ابن عباس کے ساتھیوں کے ساتھ جناب خلیفہ نے کیا کیا تھا کہ جس کی وجہ سے جناب خلیفہ یہ کہتا ہے کہ:  اللہ کی قسم! اگر میرے پاس زمین بھر سونا ہوتا تو اللہ تعالیٰ کے عذاب کا سامنا کرنے سے پہلے اس کا فدیہ دے کر اس سے نجات کی کوشش کرتا۔۔۔

اسی طرح  «صحیح بخاری» حدیث 3497 میں یہ بھی نقل ہوا ہے :

«یا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ بِبُشْرَی اللَّهِ لک من صُحْبَةِ رسول اللَّهِ وَقَدَمٍ فی الْإِسْلَامِ ما قد عَلِمْتَ ثُمَّ وَلِیتَ فَعَدَلْتَ ثُمَّ شَهَادَةٌ»«قال وَدِدْتُ أَنَّ ذلک کفَافٌ لَا عَلَی ولا لی»

 ایک نوجوان آیا اور کہنے لگایا امیرالمؤمنین! آپ کو خوشخبری ہو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صحبت اٹھائی۔ ابتداء میں اسلام لانے کا شرف حاصل کیا جو آپ کو معلوم ہے۔ پھر آپ خلیفہ بنائے گئے اور آپ نے پورے انصاف سے حکومت کی، پھر شہادت پائی، عمر نے فرمایا میں تو اس پر بھی خوش تھا کہ ان باتوں کی وجہ سے برابر پر میرا معاملہ ختم ہو جاتا، نہ ثواب ہوتا اور نہ عذاب۔

الجامع الصحیح المختصر، اسم المؤلف: محمد بن إسماعیل أبو عبدالله البخاری الجعفی، دار النشر: دار ابن کثیر, الیمامة - بیروت - 1407 - 1987، الطبعة: الثالثة، تحقیق: د. مصطفی دیب البغا، ج 3، ص 1354، ح 3497

اہل سنت کی معتبر کتاب «تاریخ مدینه منوره» میں نقل ہوا ہے ؛

«واللّه لوددت أنی أُفْلت منهما کفافاً لا أجرٌ ولا وزر»

تاريخ المدينة المنورة، اسم المؤلف:  أبو زيد عمر بن شبة النميري البصري، دار النشر: دار الكتب العلمية - بيروت  - 1417هـ-1996م، تحقيق: علي محمد دندل وياسين سعد الدين بيان؛ ج 2، ص 76، ح 1565

 بدر الدین عینی» نے «عمدة القاری» نے اس پر تفصیلی گفتگو کی ہے ؛ انہوں نے اس سلسلے میں لکھا ہے :

«(ولا علی) أی: لیتنی لا عقاب علی ولا ثواب لی فیه»

یعنی کاش نہ مجھے سزا دیتا ،نہ ثواب دیتا۔

«أتمنی أن أکون رأساً برأس فی أمر الخلافة»

عمدة القاری شرح صحیح البخاری، اسم المؤلف: بدر الدین محمود بن أحمد العینی، دار النشر: دار إحیاء التراث العربی – بیروت، ج 8، ص 229، ح 2931۔

جناب «عمر بن خطاب»، کے اس جملے کا کیا معنی ہے کہ میرے سابقہ زندگی میں جو کام میں نے انجام دیا؛ پیغمبر ص کی صحبت ، اسلام لانا ، خلافت ،شہادت ان سب کے بدلے میرا معاملہ ختم ہو جاتا، نہ ثواب ہوتا اور نہ عذاب۔

اب ابن تیمیہ وغیرہ کے بقول خلفاﺀ کی خلافت پر نص ہوتی تو کیا اس طرح پشیمانی کا اظہار نہیں کرنا چاہئے تھے ؟

ان کی خلافت پر کوئی نص ہے تو کیوں جناب خلیفہ اس طرح افسوس کر رہا ہے اور یہ کہہ رہا ہے کہ کاش میں رسول اللہ ص سے پوچھتا کہ آپ کے بعد کون آپ کا خلیفہ ہے ؟

اگر خلفاﺀ کو اپنی خلافت کی حقانیت پر ایمان ہوتا تو اس طرح پشیمانی کا اظہار کرتے ؟

خلفاﺀ کی طرف سے اپنی زندگی سے شدید ناراضگی کا اظہار

اہل سنت کی معتبر کتابوں میں ایسے بہت سے نمونے موجود ہیں کہ جن کے مطابق خلفاﺀ زندگی کے آخری لمحات میں  اپنی زندگی سے تنگ تھے ، یہاں تک کہ اپنے انسان ہونے پر عدم رضایت کا اظہار کرتے تھے ۔

عن الضحاك قال رأى أبو بكر الصديق طيرا واقعا على شجرة فقال طوبى لك يا طير والله لوددت أني كنت مثلك تقع على الشجرة وتأكل من الثمر ثم تطير وليس عليك حساب ولا عذاب والله لوددت أني كنت شجرة إلى جانب الطريق مر علي جمل فأخذني فادخلني فاه فلاكني ثم ازدردني ثم أخرجني بعرا ولم أكن بشرا

المصنف - ابن أبي شيبة الكوفي - ج 8 ص 144

ضحاک نقل کرتا ہے:ابوبکر نے درخت پر ایک پرندے کو دیکھا اور کہا:خوش نصیب ہو، اللہ کی  قسم مجھے یہ پسند تھا کہ میں بھی تجھ جیسا ایک پرندہ ہوتا، درخت پر بیٹھتا ،درخت کے پھل کھاتا ،اڑھتا اور کسی قسم کے حساب و کتاب بھی نہ دیتا ۔ اللہ کی قسم مجھے یہ پسند تھا کہ اللہ مجھے راستے کے کنارے کا ایک درخت بناتا اور ایک اونٹ میرے پاس سے گزرتا ۔ وہ مجھے اپنے منہ میں لیتا اور مجھے نگل لیتا اور پھر گوبر کی شکل میں اس کے پیٹ سے نکلتا، لیکن انسان نہ ہوتا !!! .

 اس روایت میں جناب ابوبکر  واضح طور پر حساب و کتاب اور عذاب سے ڈرنے کا اظہار کرتا ہے ۔

اب کیا  ایسا انسان جس کو بہشت کا وعدہ دیا ہوا ہو اس کو مرنے سے ڈرنا چاہئے اور حساب و کتاب سے خائف ہونا چاہئے؟  ،کیا اللہ کے  مخلص اور مطیع بندے کو  اللہ سے ملاقات کا مشتاق نہیں ہونا چاہئے ؟ ۔

جناب عمر نے بھی اپنی آرزوں کے اظہار میں یہی باتیں کی ہے:

فقال عمر رضي الله عنه يا ليتني كنت كبش أهلي سمنوني ما بدا لهم حتى إذا كنت كأسمن ما يكون زارهم بعض من يحبون فذبحوني لهم فجعلوا بعضي شواء وبعضه قديدا ثم أكلوني ولم أكن بشرا

شعب الإيمان - أحمد بن الحسين البيهقي - ج 1 ص 485

جناب عمر بھی کہتا تھا :کاش میں گھر میں ایک موٹا مینڈھا ہوتا اور گھر والے میرے بدن کے بعض حصوں کو کباب بنا کر اور بعض حصوں کو خشک کر کے کھالیتے اور پھر پاخانے کی شکل میں باہر آتا اور میں انسان ہی خلق نہ ہوتا۔

ابودرداء کے نقل کے مطابق عمر کہتا تھا: کاش میں ایک درخت ہوتا اور مجھے کاٹ لیتااور میں انسان خلق نہ ہوتا۔  

اب ایسا انسان جو اللہ سے ملاقات کرنا چاہتا ہے اور وہ بھی بہشت کے وعدے کے ساتھ ۔اس کو تو اللہ کا ہزار مرتبہ شکر ادا کرنا چاہئے، کیونکہ اللہ نے اسے انسان بنایا اور وہ کمال کی منزل طے کر کے اب جنت میں داخل ہونے اور جنت میں رہنے جارہا ہے ۔

لیکن یہاں معاملہ بلکل الٹ ہے خلفاﺀ اپنے کیے ہوئے کاموں کی وجہ سے اللہ کی طرف سے عذاب سے خوف زدہ ہیں ۔

یہ وہی حقیقت ہے کہ جس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دئے کر گئے تھے اور اصحاب کو اس خطر سے آگاہ فرما کر گئے تھے ۔

 إنكم ستحرصون على الإمارة وستصير حسرةً وندامةً --

:  تم لوگ عنقریب حکومت اور اقتدار کے حریص ہونگے اور یہ  قیامت کے دن حسرت اور ندامت کا باعث ہوگی ۔

صحيح البخاري – ج 6 ص2613 - صحيح ابن حبان – ج 10 ص 334 - - مسند أحمد، ج 2  448-  مصنف ابن أبي شيبة - ج12 ص 215)- - السنن الكبرى للنسائي – ج 4 ص 436- - سنن البيهقي الكبرى – ج 3 ص 129-

 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی