2021 June 18
امام مھدی علیہ السلام کی ماں کے مختلف نام ۔۔۔۔۔
مندرجات: ١٩٤٤ تاریخ اشاعت: ١١ May ٢٠٢١ - ١٥:٥٦ مشاہدات: 246
سوال و جواب » امام حسین (ع)
امام مھدی علیہ السلام کی ماں کے مختلف نام ۔۔۔۔۔

 

 

 

کیا حضرت نرجس {س} کے مختلف نام ہونا حضرت امام مھدی {عج} کی ولادت نہ ہونے پر دلیل ہے ؟

شبهه کی وضاحت :

احسان الهي ظهير، پاكستاني وھابی مولوی اور غالب عواجي کہ جو عصر حاضر کے وھابی مولوی میں سے ہے ، اسی طرح دوسرے وہابیوں نے امام  زمان عجل الله تعالي فرجه الشريف کی والدہ کے نام کے بارے میں موجود اختلاف کو بنیاد بنا کر امام مھدی علیہ السلام کی ولادت کو زیر سوال قرار دینے اور امام کی ولادت کا انکار کرنے کی کوشش کی ہیں ۔

احسان الهي ظهير لکھتا ہے :

اختلف في اسم الجارية التي قالوا انّها ولدته، فقال قائلهم: انّ اسمها نرجس، وقيل: اسمها صقيل أو صيقل، وقيل: حكيمة، وقيل غير ذلك.

جس کنیز کو امام مھدی علیہ السلام کی ماں کہا ہے اس کنیز  کے نام میں اختلاف  ہے ، کسی نے ان کا نام نرجس کہا ہے، کسی نے صقيل، کسی نے صيقل، کسی نے حكيمه  اور کسی نے کچھ اور کہا ہے .

الشيعة والتشيع، ص272 ـ 273.

غالب عواجي نے بھی اسی مطلب کو  فرق معاصرة، ج1، ص263، میں تکرار کیا ہے .

نقد و بررسي:

یہ شبھہ ان شبھات میں سے ہے جس کو بیان کرنے والے کو شاباش کہنا چاہئے کیونکہ یہ ان کی ذھنی دقت اور ہوش کی نشانی ہے !!

اگر اس قسم کے کسی معمولی اور سطحی اختلاف کی وجہ سے کسی فرد کے وجود کا انکار کیا جائے تو ، اهل سنت والے بہت سے افراد کے وجود کو ثابت کرنے میں مشکلات سے دو چار ہوں گے  ،ان میں سے بعض کی طرف ہم یہاں اشارہ کریں گے ۔

امام زمان (عج) کی والدی کے نام  اور القاب میں اختلاف ۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْحَاقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَكَرِيَّا بِمَدِينَةِ السَّلَامِ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ خَلِيلَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ غِيَاثِ بْنِ أَسِيدٍ قَالَ: وُلِدَ الْخَلَفُ الْمَهْدِيُّ عليه السلام يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَأُمُّهُ رَيْحَانَةُ وَيُقَالُ لَهَا نَرْجِسُ وَيُقَالُ صَقِيلُ وَيُقَالُ سَوْسَنُ إِلَّا أَنَّهُ قِيلَ لِسَبَبِ الْحَمْلِ صَقِيلُ....

غياث بن اسيد نے کہا ہے کہ حضرت مهدي عجل الله تعالي فرجه الشريف جمعه کے دن متولد ہوئے ،ان کی ماں کا نام ريحانه  ہے ، انہیں نرجس بھی کہا گیا ہے ،بعض نے ان کا نام صیقل ،بعض نے سوسن کہا ہے ،بعض نے کہا ہے کہ آپ کو اپنے نورانی فرزند کے حمل کی وجہ سے صیقل کہا ہے ۔۔۔۔۔۔

الصدوق، ابوجعفر محمد بن علي بن الحسين (متوفاي381هـ)، كمال الدين و تمام النعمة، ص432، تحقيق: علي اكبر الغفاري، ناشر: مؤسسة النشر الاسلامي ( التابعة ) لجماعة المدرسين ـ قم، 1405هـ.

علامه مجلسي رضوان الله تعالي عليه نے اس جملے «قِيلَ لِسَبَبِ الْحَمْلِ صَقِيلُ» کی شرح میں کہا ہے :

 

بيان قوله إلا أنه قيل لسبب الحمل أي إنما سمي صقيلا لما اعتراه من النور و الجلاء بسبب الحمل المنور يقال صقل السيف و غيره أي جلاه فهو صقيل و لا يبعد أن يكون تصحيف الجمال .

اس جملہ « لِسَبَبِ الْحَمْلِ صَقِيلُ؛ کا مطلب یہ ہے کہ آپ امام کے حمل ٹھیرنے اور نور امامت کی وجہ سے نورانی ہوگئی تھی ،جس طرح کہا جاتا ہے " فلان شخص نے اپنی تلوار کو صیقل دیا ،یہ اس تلوار کی جمک کی وجہ سے ہے ۔لہذا بعید نہیں ہے کہ اس جملے کا معنی آپ کی مدح و اچھائی کا بیان ہو ۔

المجلسي، محمد باقر (متوفاي 1111هـ)، بحار الأنوار الجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطهار، ج51، ص15، تحقيق: محمد الباقر البهبودي، ناشر: مؤسسة الوفاء - بيروت - لبنان، الطبعة: الثانية المصححة، 1403هـ - 1983م.

بعض لغت کی کتابوں میں ہے :

الصِّقَالَة.  صقالہ۔۔ اٹلی کے ایک شہر سے منسوب ہے اور یہ کلمہ عام طور پر استعمال ہوتا ہے اور رائج ہے۔۔ مهيار، رضا (معاصر)، فرهنگ ابجدي، ص556، ماده صقل.

اس معنی کے مطابق کیونکہ آپ کا تعلق روم سے تھا اور شاید سیسیل جزیرے سے آنے کی وجہ سے آپ کو  صقيل کہا ہو ۔

مناوي، کہ جو اھل سنت کے بڑے علماء میں سے ہیں، اس سلسلے میں واضح طور پربیان کرتا ہے :

وأما أمه فاسمها نرجس من أولاد الحواريين.

امام مھدی علیہ السلام کی والدہ کا نام نرجس ہے آور آپ جناب عیسی السلام کے حواریں میں سے کسی کی نسل سے ہیں۔

المناوي، محمد عبد الرؤوف بن علي بن زين العابدين (متوفاي 1031هـ)، فيض القدير شرح الجامع الصغير، ج 6 ص 277، ناشر: المكتبة التجحارية الكبري - مصر، الطبعة: الأولي، 1356هـ.

کیا امام مھدی(عج) کی والدہ کا نام حکیمہ ہے ؟

حضرت حكيمه خاتون، حضرت امام عسكري عليه السلام کی پھوپھی تھی، امام کی ولادت کے وقت دایہ { Midwife}کے فرایض انجام دئے رہی تھی ۔ لیکن بعض نے امام مھدی علیہ السلام کی ماں کے ناموں میں سے ایک «حكيمه» کہا ہے ۔

محمد بن طلحه شافعي، کہ جو اهل سنت کے بڑے علماء میں سے ہے آپ اپنی كتاب مطالب السؤول میں یہ ادعا کرتا ہے : بعض نے امام ع کے والدہ کو حکیمہ بھی کہا ہے ۔

وأمه: أم ولد تسمي صقيل، وقيل: حكيمة، وقيل: غير ذلك.

الشيخ كمال الدين محمد بن طلحة الشافعي (متوفاي652هـ)، مطالب السؤول في مناقب آل الرسول (ع)، ص481، تحقيق ماجد ابن أحمد العطية.

بعض شیعہ علماء نے بھی اسی مطلب کو اھل سنت سے نقل کیا ہے ؛ جیساکہ مرحوم اربلي  نے كشف الغمه میں لکھا ہے ۔:

قال الشيخ كمال الدين بن طلحة رحمه الله الباب الثاني عشر في أبي القاسم محمد الحجة بن الحسن الخالص... أمه أم ولد تسمي صيقل وقيل حكيمة وقيل غير ذلك.

الإربلي، أبو الحسن علي بن عيسي بن أبي الفتح (متوفاي693هـ)، كشف الغمة في معرفة الأئمة، ج3، ص333 ـ 234، ناشر: دار الأضواء ـ بيروت، الطبعة الثانية، 1405هـ ـ 1985م.

سيد هاشم بحراني نے بھی غاية المرام، میں ،سيد محسن امين نے أعيان الشيعه  میں اور دوسروں نے اسی مطلب کو بیان کیا ہے... اور اسی مطلب کو  محمد بن طلحه شافعي سے نقل کیا ہے ۔.

البحراني الموسوي، أبو المكارم السيد هاشم بن السيد سليمان بن السيد إسماعيل (متوفاي1107هـ)، غاية المرام وحجة الخصام في تعيين الإمام من طريق الخاص والعام، ج7، ص135، تحقيق العلامة السيد علي عاشور.

الامام السيد محسن الأمين (متوفاي1371هـ)، أعيان الشيعة، تحقيق: حسن الأمين، ج2، ص64، ناشر: دار التعارف للمطبوعات ـ بيروت.

جیساکہ بیان ہوا کہ اس نقل کا اصلی منبع ، محمد بن طلحه شافعي کی کتاب " مطالب السؤول" ہے ۔انہوں نے بھی اس قول کے قائل کا ذکر نہیں کیا ہے اور اس بات کی سند پیش نہیں کی ہے ۔لہذا اس قول کی جب سند نہیں ہے تو اس کی قیمت بھی نہیں ہے .

زیادہ احتمال یہی ہے کہ کیونکہ امام عسكري عليه السلام کی پھوپھی جناب حلیمہ  امام عصر عجل الله تعالي فرجه الشريف کی ولادت کے وقت دایہ کے فرائض انجام دے رہی تھی لہذا ان کے اور امام مھدی کی ماں کے نام میں بعض کو خلط ہوا ہے اور غلطی سے ان کا نام حکیمہ لکھا ہے.

صدر اسلام کی عورتوں کے کئی کئی نام :

امام زمان عجل الله تعالي فرجه الشريف کی والدہ کے نام میں اختلاف سے خود امام کی ولادت کو زیر سوال قرار دینا صحیح نہیں ہے جیساکہ قدیم زمانے میں بھی ایک  آدمی کے کئی کئی نام  ہونا رائج امور میں سے تھا۔ کیونکہ بعض کا نام  اس کے والد انتخاب کرتے، بعض کی والدہ اس کے لئے اور نام انتخاب کرتی اور بیٹیوں کی جب شادی ہوجاتی تو شوہر کے گھر والے اس کے لئے اور نام کا انتخاب کرتے ۔جیساکہ یہ رسم آج بھی بعض اسلامی ممالک میں رائج ہے ، بعض لوگوں کے نام متعدد ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے القاب بھی متعدد ہوتے ہیں اور بعد والوں نے غلطی سے القاب کو نام سمجھ لیا ۔جیساکہ حضرت زهرا سلام الله عليها، رسول خدا صلي الله عليه وآله کی اکلوتی بیٹی انہیں افراد میں سے ایک ہے  : ان کو زهرا، فاطمه، صديقه، مرضيه، راضيه، زكيه، طاهره، طيبه، مطهرة، ريحانه، محدثه، كامله، فاضله... کہا گیا ہے ۔

اسی طرح  صدر اسلام کی عورتوں میں بعض ایسی ہی عورتیں تھیں؛جیساکہ ابن أثير نے اسد الغابه میں لکھا ہے :

سُهَيمة امرأة رِفاعَةَ القُرَظي. وقد تقدم ذكرها في رِفَاعَةَ، وفي عبد الرحمن بن الزبير. وقيل: اسمها تميمة، وقيل: عائشة.

رفاعه  کی بیوی ،سهميه... بعض نے اسے تميمه اور بعض نے اس کو عائشه نام دیا ہے .

ابن أثير الجزري، عز الدين بن الأثير أبي الحسن علي بن محمد (متوفاي630هـ)، أسد الغابة في معرفة الصحابة، ج 7 ص 171، تحقيق عادل أحمد الرفاعي، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت / لبنان، الطبعة: الأولي، 1417 هـ - 1996 م.

اسی طرح ابن اثیر کہتا ہے :

فَاطِمَةُ بنتُ حَمزة بن عبد المطلب القُرَشية الهَاشِمية ابنة عم النبي. وقيل: اسمها أُمامة. وقيل: عُمارة. قاله أبو نعيم، وتكني أُم الفضل.

حمزه بن عبد المطلب عليه السلام کی بیٹی فاطمه ، کو بعض نے امامه کہا ہے، بعض نے عماره کہا ہے . اور یہ  بات ابو نعيم نے کہی ہے ۔

ابن أثير الجزري، عز الدين بن الأثير أبي الحسن علي بن محمد (متوفاي630هـ)، أسد الغابة في معرفة الصحابة، ج 7 ص 237، تحقيق عادل أحمد الرفاعي، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت / لبنان، الطبعة: الأولي، 1417 هـ - 1996 م.

  أرقم بن أبي الأرقم کے زندگی نامہ میں ذکر ہوا ہے  :

الأرْقَم بن أبي الأرْقَم: واسم أبي الأرقم عبد مناف بن أسد بن عبد الله ابن عمر ابن مخزوم القرشي المخزومي، وأمه أميمة بنت عبد الحارث، وقيل اسمها: تماضر بنت حُذَيْم من بني سهم، وقيل اسمها: صفية بنت الحارث بن خالد بن عمير بن غُبْشَان الخزاعية...

أرقم بن أبي الأرقم... اس کی ماں کا نام ،اميمه بنت عبد الحارث ہے اور بعض نے تماضر بن حذيم، بعض نے صفيه بنت الحارث کہا ہے .

ابن أثير الجزري، عز الدين بن الأثير أبي الحسن علي بن محمد (متوفاي630هـ)، أسد الغابة في معرفة الصحابة، ج 1 ص 94، تحقيق عادل أحمد الرفاعي، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت / لبنان، الطبعة: الأولي، 1417 هـ - 1996 م.

ابوبكر اور  ابوبکر کی مادر کیا تھا ؟

اهل سنت کے علماء جناب ابوبكر اور ابوبکر کی ماں کے نام کے سلسلے میں اختلاف کا شکار ہے ، ابن أثير جزري نے اسد الغابة میں ابوبکر کے زندگی نامہ میں لکھا ہے :

وأُمه أُم الخَيْر سَلْمَي بنت صخر بن عامر بن كعب بن سعد بن تيم بن مرة، وهي ابنة عَمّ أبي قحافة، وقيل: اسمها: ليلي بنت صخر بن عامر. قاله محمد بن سعد، وقال غيره: اسمها سلمي بنت صخر بن عامر بن عمرو بن كعب بن سعد بن تَيْم. وهذا ليس بشيءٍ؛ فإنها تكون ابنةَ أخيه، ولم تكن العربُ تنكح بنات الإخوة. والأول أصح....

وقد اختلف في اسمه، فقيل: كان عبدَ الكعبة فسماه رسول الله صلي الله عليه وسلّم عبد الله. وقيل: إن أهله سموه عبد الله. ويقال له: عتيق أيضاً.

ان کی ماں کا نام، ام الخير بنت صخر بن عامر بن كعب ہے جو ابو قحافه کی پھوپھی کی بیٹی ہے، بعض نے کہا ہے اس کا نام ليلي بن صخر کہا ہے ،اس بات کو محمد بن سعد نے کہا ہے، دوسروں نے سلمي بنت صخر بنت عامر بن عمر کہا ہے؛ لیکن ان باتوں کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہے ؛ کیونکہ وہ  ابوقحافه کے بھائی کی بیٹی تھی اور عرب میں یہ رسم بھی نہیں تھی کہ کوئی اپنے بھائی کی بیٹی سے شادی کرئے لہذا پہلا نظریہ زیادہ صحیح ہے۔

اسی طرح ابوبكر کے نام میں بھی اختلاف ہے ؛ بعض نے کہا ہے جناب ابوبکر کا نام عبد الكعبه تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کا نام عبد الله رکھا ، بعض نے کہا ہے : ان کے گھر والوں نے ہی ان کا نام عبد الله رکھا تھا ؛ بعض نے کہا ہے : ان کا نام  عتيق تھا۔

ابن أثير الجزري، عز الدين بن الأثير أبي الحسن علي بن محمد (متوفاي630هـ)، أسد الغابة في معرفة الصحابة، ج 3 ص 315، تحقيق عادل أحمد الرفاعي، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت / لبنان، الطبعة: الأولي، 1417 هـ - 1996 م.

ابن أثير کی گفتگو میں قابل توجہ نکتہ یہ ہے : بعض نے کہا ہے  کہ  ابوبكر کی ماں ابوبکر کی چچا کی بیٹی تھی ؛ يعني ابوقحافه نے اپنے بھائی کی بیٹی سے شادی کر لی تھی؛ اب ابن اثیر آگے چل کر اس نظریہ کو رد کرتا ہے اور کہتا ہے کہ عرب میں ایسی رسم نہیں تھی  ؛ لیکن ابن اثیر کی یہ بات زیادہ اطمنان بخش نہیں ہے کیونکہ یہ ایک ایسا ادعا ہے کہ جس پر دلیل نہیں بلکہ اس کے برعکس پر دلیل موجود ہے ۔

طبراني نے اپنی کتاب" معجم الكبير " میں لکھا ہے :

1 حدثنا محمد بن عَمْرِو بن خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ حدثني أبي ثنا بن لَهِيعَةَ عن أبي الأَسْوَدِ عن عُرْوَةَ قال أبو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ اسْمُهُ عبد اللَّهِ بن عُثْمَانَ بن عَامِرِ بن عَمْرِو بن كَعْبِ بن سَعْدِ بن تَيْمِ بن مُرَّةَ شَهِدَ بَدْرًا مع رسول اللَّهِ صلي اللَّهُ عليه وسلم وَأُمُّ أبي بَكْرٍ رضي اللَّهُ عنه أُمُّ الْخَيْرِ سَلْمَي بنتُ صَخْرِ بن عَامِرِ بن عَمْرِو بن كَعْبِ بن سَعْدِ بن تَيْمِ بن مُرَّةَ بن كَعْبِ بن لُؤَيِّ بن غَالِبِ بن فِهْرِ بن مَالِكٍ.

  عروه سے نقل ہوا ہے کہ  ابوبكر کا نام عبد الله بن عثمان بن عامر بن عمرو تھا، جنگ بدر میں رسول خدا (ص) کے ساتھ تھا ، ابوبکر کی ماں کا نام سلمي بنت صخر بن عامر بن عمرو... تھا ۔

الطبراني، ابوالقاسم سليمان بن أحمد بن أيوب (متوفاي360هـ)، المعجم الكبير، ج 1 ص 51، تحقيق: حمدي بن عبدالمجيد السلفي، ناشر: مكتبة الزهراء - الموصل، الطبعة: الثانية، 1404هـ - 1983م.

ھیثمی نے اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے :

رواه الطبراني وإسناده حسن.

اس روایت کو طبراني نے نقل کیا ہے اور اس کی سند بھی صحیح ہے .

الهيثمي، ابوالحسن علي بن أبي بكر (متوفاي 807 هـ)، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، ج 9 ص 40، ناشر: دار الريان للتراث/ دار الكتاب العربي - القاهرة، بيروت - 1407هـ.

  اب جناب ابوبکر کے پیروکاروں کو چاہئے کہ وہ اس ادعا کو ثابت کرنے کے لئے کہ ابوبکر کی ماں ان کے چچا کی بیٹی نہیں تھی ، کسی اور بہتر جواب کے پیچھے جائے ۔

لہذا جناب ابوبکر اور ابوبکر کی ماں کے نام متعدد ذکر ہوا ہے ،اب کیا اس وجہ سے یہ کہنا صحیح ہے کہ ابوبکر  اور ان کی ماں کا خارج میں کوئی وجود نہیں تھا ؟

ابوهريره اور اس کے باپ کا نام :

اس سلسلے کی عجیب و غریب اختلافات میں سے ایک ابوهريره اور اس کے باپ کے نام میں موجود اختلاف ہے ؛شاید ۳۰ سے زیادہ نام ابوھریرہ اور اس کے والد کے لئے ذکر ہوئے ہیں۔ہم اختصار کی خاطر ابن حجر عسقلاني کی کتاب تقريب التهذيب سے اس کو نقل کرتے ہیں :

أبو هريرة الدوسي الصحابي الجليل حافظ الصحابة اختلف في اسمه واسم أبيه قيل عبد الرحمن بن صخر وقيل بن غنم وقيل عبد الله بن عائذ وقيل بن عامر وقيل بن عمرو وقيل سكين بن ودمة بن هانئ وقيل بن مل وقيل بن صخر وقيل عامر بن عبد شمس وقيل بن عمير وقيل يزيد بن عشرقة وقيل عبد نهم وقيل عبد شمس وقيل غنم وقيل عبيد بن غنم وقيل عمرو بن غنم وقيل بن عامر وقيل سعيد بن الحارث هذا الذي وقفنا عليه من الاختلاف في ذلك...

ابوهريره اور اس کے باپ کے نام کے بارے میں اختلاف نطر موجود ہے اور مندرجہ ذیل نام اس سلسلے میں ذکر ہوئے ہیں : 1. عبد الرحمن بن صخر؛ 2. عبد الرحمن بن غنم؛ 3. عبد لله بن عائذ؛ 4. عبد الله بن عامر؛ 5. عبد الله بن عمر؛ 6. سكين بن ودمة بن هاني؛ 7. سكين بن مل؛ 8. سكين بن صخر؛ 9. عامر بن عبد الشمس؛ 10. عامر بن عمير؛ 11. يزيد عشرقة؛ 12. يزيد بن عبد نهم؛ 13. يزيد بن عبد شمس؛ 14. يزيد بن غنم؛ 15. عبيد بن غنم؛ 16 عمرو بن غنم؛ 17. عمرو بن عامر؛ 18. سعيد بن الحارث.

یہ وہ نام ہیں جو ان کے بارے میں مجھے معلوم ہے ۔ ۔

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابوالفضل (متوفاي852هـ)، تقريب التهذيب، ج 1 ص680، رقم: 8426، تحقيق: محمد عوامة، ناشر: دار الرشيد - سوريا، الطبعة: الأولي، 1406 - 1986.

ابن حجر نے اپنی دوسری کتاب میں لکھا ہے:

وقد اختلف في اسمه اختلافا كثيرا قال بن عبد البر لم يختلف في اسم في الجاهلية والإسلام مثل ما اختلف في اسمه اختلف فيه علي عشرين قولا قلت وسرد بن الجوزي في التلقيح منها ثمانية عشر وقال النووي تبلغ أكثر من ثلاثين قولا قلت وقد جمعتها في ترجمته في تهذيب التهذيب فلم تبلغ ذلك ولكن كلام الشيخ محمول علي الاختلاف في اسمه وفي اسم أبيه معا.

ابوھریرہ کے نام کے بارے میں شدید اختلاف ہے ، ابن عبد البر نے کہا ہے : عرب جاہلیت کے دور میں اور اسلام لانے کے بعد بھی جتنا اختلاف ابوهريره کے نام کے سلسلے میں ہوا ہے وہ کسی اور کے بارے میں نہیں ہوا ہے  ؛ یہاں تک کہ ۲۰ سے زیادہ نام اس سلسلے میں ذکر ہوا ہے ۔ ابن جوزي نے كتاب التلقيح میں ۱۸ ناموں کا ذکر کیا ہے۔ نووي نے کہا ہے : اس کے نام کے بارے میں ۳۰ سے زیادہ اقوال موجود ہیں۔ میں کہتا ہوں میں نے ابوھریرہ کے زندگی نامے میں اس کے ناموں کو جمع کیا لیکن اس حد تک نہیں پہنچا ، نووی کی بات کو اس بات حمل کرنا ممکن ہے کہ ان کا مقصد ابوھریرہ اور اس کے باپ دونوں کے ناموں میں موجود اختلاف ہے۔

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابوالفضل (متوفاي852 هـ)، فتح الباري شرح صحيح البخاري، ج 1 ص 51، تحقيق: محب الدين الخطيب، ناشر: دار المعرفة - بيروت.

اس سلسلے میں بہت سے لوگوں کے ناموں کو ذکر کیا جاسکتا ہے ؛جیسے ام المؤمنين ام حبيبه، ام المؤمنين ام سلمه  وغیرہ کا نام ۔ ان کے ناموں کے بارے میں اختلاف تاریخی اور رجالی کتابوں میں ذکر ہوا ہے۔

نتيجه: لہذا حضرت نرجس خاتون کے متعدد ناموں کے ہونے سے ان کے فرزند کی ولادت کا انکار ممکن نہیں ہے، اگر نام کے اختلاف سے ایسا کرنا صحیح ہے تو اهل سنت بھی ابوبکر اور اس کی ماں اور اسی طرح ابوھریرہ وغیرہ کے وجود کو ثابت نہیں کرسکتے۔ { کیونکہ جناب نرجس کے صرف نام میں اختلاف ہے ،ان کے اصل وجود میں اختلاف نہیں ہے ،جبکہ جناب ابوبکر کی ماں کے باپ میں بھی اختلاف ہے }

شبھات کے جواب دینے والی ٹیم 

 تحقيقاتي ادارہ حضرت ولي عصر (عج)

 

 




Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی