2022 August 10
آراء کی فہرست

سے: تک: عبارت کو شامل: عبارت کی جگہ: مشاہدات کی تعداد:

صفحہ نمبر سے 2  »
1
مندرجات کا کوڈ: 1984 - عنوان: کیا رسول اللہ {ص} نے جنگ جمل ، صفین اور نہروان میں امیر المومنین {ع} کی حمایت کا حکم دیا تھا ؟
مکمل نام : شمریزعلی - تاریخ اشاعت: 20:51 - 16 January 2022
قیس بن حازم کا جنگ جمل میں ہونا ثابت ہے؟
دلائل کے ساتھ جواب دیں
جواب:
سلام علیکم ۔۔۔۔۔
محترم مقالے کا عنوان دیکھیں پھر اسی حساب سے سوال پوچھیں ۔۔۔۔۔
 
 پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ جنگیں امیر المومنین علیہ السلام اور آپ کے حامی اصحاب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم سے لڑی ہے ۔۔۔۔ لہذا ان جنگوں کا فیصلہ اور ان میں حق اور باطل کا تعین حضور پاک (ص) خود ہی فرماگئے ہیں ۔۔۔۔جیساکہ شیعوں کا بھی یہی نظریہ ہے ۔۔۔ لیکن اہل سنت حضور پاک (ص) کے واضح فرامین کے خلاف نظریہ رکھتے ہیں اور دونوں کو اہل حق سمجھتے ہیں ۔۔۔
۔۔۔
اس سلسلے کی روایات قیس بن حازم کے صفیں میں ہونے اور نہ ہونے سے مربوط نہیں نہیں ہیں ۔۔۔۔
 
ایک نمونہ ۔۔۔
 

حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: ثنا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عَلِي بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَلِي، قَالَ: " عَهِدَ إِلَي رَسُولُ اللَّهِ (ص) فِي قِتَالِ النَّاكِثِينَ، وَالْقَاسِطِينَ، وَالْمَارِقِينَ ".

علي (عليه السلام) نے فرمایا : رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے، ناكثين ، قاسطين اور مارقين سے جنگ کرنے کا عہد و پیمان لیا ہے اور وصیت فرمائی ہے .

البزار، أبو بكر أحمد بن عمرو بن عبد الخالق (متوفاي292 هـ)، البحر الزخار (مسند البزار)، ج3، ص26ـ 27، ح774، تحقيق: د. محفوظ الرحمن زين الله، ناشر: مؤسسة علوم القرآن، مكتبة العلوم والحكم - بيروت، المدينة الطبعة: الأولي، 1409 هـ.

طبراني نے المعجم الأوسط میں لکھا ہے :

حَدَّثَنَا مُوسَي بْنُ أَبِي حُصَيْنٍ، قَالَ: نا جَعْفَرُ بْنُ مَرْوَانَ السَّمُرِي، قَالَ: نا حَفْصُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ يَحْيَي بْنِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي صَادِقٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ نَاجِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا، يَقُولُ: " أُمِرْتُ بِقِتَالِ النَّاكِثِينَ، وَالْقَاسِطِينَ، وَالْمَارِقِينَ "

مجھے ناکثین ، قاسطین اور مارقین سے جنگ کرنے کا حکم دیا ہے ۔

  • الطبراني، ابوالقاسم سليمان بن أحمد بن أيوب (متوفاي360هـ)، المعجم الأوسط، ج 8، ص213، ح8433، تحقيق: طارق بن عوض الله بن محمد، عبد المحسن بن إبراهيم الحسيني، ناشر: دار الحرمين - القاهرة - 1415هـ.
  1. هيثمي نے اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے :

رواه البزار والطبراني في الأوسط وأحد إسنادي البزار رجاله رجال الصحيح غير الربيع بن سعيد ووثقه ابن حبان.

اس روایت کو بزار اور طبراني نے نقل کیا ہے اور بزار کے نقل کردہ دو سندوں میں سے ایک کی سند کے راوی بخاری کے راوی ہیں ، سوای ربیع بن سعید کے ،ابن حبان نے اس کو ثقہ کہا ہے .

  • الهيثمي، أبو الحسن علي بن أبي بكر (متوفاي 807 هـ)، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، ج7، ص 238، ناشر: دار الريان للتراث/ دار الكتاب العربي - القاهرة، بيروت - 1407هـ.
 

دوسری بات
 
آگرآپ حواب کے کتوں اور جناب عائشہ کے واقعے کو رد کرنے کے لئے اس سلسلے کی روایات کو رد کرنا چاہتے ہیں تو یہاں بھی چند نکات قابل ملاحظہ ہیں۔۔۔
 
 
پہلا نکتہ : اس سلسلے کی روایات صحیح السند ہیں ،لہذا قیس بن حازم  جمل میں نہ بھی ہو تو بھی انکی صحت پر فرق نہیں پڑتا ۔۔۔۔ کیونکہ قیس ثقہ اور قابل اعتماد راوی ہے ۔۔۔۔ ممکن ہے ہے یہ وہاں تک تو ساتھ ہو لیکن پھر جنگ جمل میں شریک نہ ہوا ہو۔۔۔ کیونکہ اس حدیث سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ جناب عائشہ آگے بڑھنے سے انکار کر رہی تھیں ،اگرچہ عبد اللہ ابن زبیر کی طرف سے پیش کردہ جھوٹے گواہوں کی وجہ سے جناب عائشہ نے اس سفر کو جاری رکھا ،،،، اب ممکن ہے قیس جیسے لوگوں کو حقیقت کا پتہ چلنے کے بعد اس سے آگے جناب عائشہ کا ساتھ نہ دیا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔جیساکہ خود زبیر بن العوام اس سفر میں ساتھ لیکن جنگ میں شریک نہیں ہوا اور میدان چھوڑ کر بھاگ گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لہذا جنگ جمل میں اس کا شریک ہونا ثابت نہ بھی ہو پھر بھی واقعہ صحیح سند روایات سے ثابت ہے ۔۔۔۔
 
دوسرا نکتہ : کیونکہ یہ روایت صحیح السند ہیں لہذا یہی روایات خود اس سلسلے کے دوسرے احتمالات کو رد کر دیتی ہیں ۔۔۔لہذا اس صحیح سند کوملاک اور معیار قرار دینا چاہئے دوسرے شبھات کو بنیاد بنا کر اس کو رد کرنا عقلمندی اور علمی طریقہ نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔ جیساکہ اہل سنت کے بہت سے علما نے انہیں روایات کو بنیاد بنا کر اس واقعے کو نبوت کی دلائل میں سے قرار دیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔

2
مندرجات کا کوڈ: 633 - عنوان: شہادت حضرت فاطمہ زہرا (س) ایک انكار ناپذیر حقیقت
مکمل نام : اشرف خان - تاریخ اشاعت: 17:26 - 11 January 2022
اھل سنت کی کسی بھی معتبر کتاب میں حضرت فاطمہ کی شہادت کا ذکر نہیں ھے۔
جواب:
سلام علیکم :
 اہل سنت کی کتابوں میں بعد از رسول (ص) ان پر آنے والے مصائب اور مشکلات کا ذکر ہے ۔ان کے گھر کو آگ لگانے کی دھمکی کا ذکر ہے ،ان کی طرف سے خلفا کو اپنے حق سے محروم کرنے والے سمجھ کر خلفا سے مکمل بائیکاٹ کی حالت میں دنیا سے جانے کا ذکر ہے ۔۔ خلیفہ کی طرف سے زندگی کے آخری ایام میں جناب فاطمہ سلام علیہا کے گھر کی حرمت کا خیال نہ رکھنے پر اظہار پشیمانی کا ذکر ہے ۔۔۔۔۔
 
 
۔۔۔۔ جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کی طرف سے خلفا کو نماز جنازے سے دور رکھنے کی وصیت کا ذکر ہے ۔۔۔۔
 
۔۔۔۔۔۔ شیعہ یہ تو نہیں کہتے کہ جناب سیدہ (ع) خلیفہ کی تلوار سے میدان جنگ میں زخمی ہوئیں اور اسی وجہ سے آپ شہید ہوئیں ۔۔۔۔۔۔۔
 

3
مندرجات کا کوڈ: 1976 - عنوان: حضرت علی نے کیوں اپنی حکومت کے دور میں فدک واپس نہیں لیا
مکمل نام : ,aners - تاریخ اشاعت: 07:25 - 06 January 2022
اچھا ھے ماشاء اللہ
جواب:
سلام علیکم  ۔۔۔
 
اس سلسلے میں تفصیلی جواب ایک اور مقالے میں ہم نے دیا ہے۔۔۔
 دیکھیں۔۔
 

فدک اگر حق زہرا (ع) تھا تو امیر المومنین (ع) نے فدک واپس کیوں نہیں لیا ؟

www.valiasr-aj.com/urdu/shownews.php
 
 

4
مندرجات کا کوڈ: 2013 - عنوان: کیا شیعہ بھی انبیاء کی مالی وراثت کے قائل نہیں؟
مکمل نام : نوررحمان - تاریخ اشاعت: 20:08 - 03 January 2022
شیعہ مذھب کے اصول اربعہ کی اوّل کتاب اصول کافی میں موجود ہے : محمد بن يحيى، عن أحمد بن محمد بن عيسى، عن محمد بن خالد، عن أبي البختري، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: إن العلماء ورثة الأنبياء وذاك أن الأنبياء لم يورثوا درهما ولا دينارا، وإنما أورثوا أحاديث من أحاديثهم، فمن أخذ بشئ منها فقد أخذ حظا وافرا، فانظروا علمكم هذا عمن تأخذونه؟ فإن فينا أهل البيت في كل خلف عدولا ينفون عنه تحريف الغالين، وانتحال المبطلين، وتأويل الجاهلين ۔
ترجمہ : امام جعفر صادق (رضی الله تعالی عنہ) نے فرمایا کہ علماء وارث انبیاء ہیں ، اور یہ اس لئے کہ انبیاء کسی کو وارث نہیں بناتے درہم یا دینار کا ، وه صرف اپنی احادیث وراثت میں چھوڑتے ہیں ۔ پس جس نے ان (احادیث) سے کچھ لے لیا ، اس نے کافی حصہ پا لیا ۔ تم دیکھو کہ تم اس علم کو کس سے لیتے ہو ۔ ہم اہل بیت کےخلف میں ہمیشہ ایسے لوگ ہوں گے جو عادل ہوں گے اور رد کریں گے غالیوں کی تحریف اور اہل باطل کے تغیرات اورجابلوں کی تاویلوں کو ۔ (اصول الکافی الشیخ الکلینی جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 17،چشتی)
یہی روایت شیعہ کے جیّد عالم شیخ مفید نے اپنی کتاب “الخصاص” میں بھی بیان کی ہے : وعنه، عن محمد بن الحسن بن أحمد، عن محمد بن الحسن الصفار، عن السندي بن محمد، عن أبي البختري، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: إن العلماء ورثة الأنبياء وذلك أن العلماء لم يورثوا درهما ” ولا دينارا ” وإنما ورثوا أحاديث من أحاديثهم فمن أخذ بشئ منها فقد أخذ حظا وافرا “، فانظروا علمكم هذا عمن تأخذونه فإن فينا أهل البيت في كل خلف عدولا ينفون عنه تحريف الغالين وانتحال المبطلين وتأويل الجاهلين ۔
ترجمہ : امام جعفر صادق رضی الله تعالی عنہ نے فرمایا کہ علماء وارث انبیاء بیں اور یہ اس لئے کہ انبیاء کسی کو وارث نہیں بنانے دربم یا دینار کا، وه صرف اپنی احادیث وراثت میں چھوڑتے ہیں۔ پس جس نے ان (احادیث) سے کچھ لے لیا، اس نے کافی حصہ پا لیا۔ تم دیکھو کہ تم اس علم کو کس سے لیتے ہو۔ ہم اہل بیت کے خلف میں ہمیشہ ایسے لوگ ہوں گے جو عادل ہوں گے اور رد کریں گے غالیوں کی تحریف اور اہل باطل کے تغیرات اور جابلوں کی تاویلوں کو ۔ (كتاب الاختصاص – الشيخ المفيد – الصفحة 16)

شیعہ مذھب کی کتاب اصول الکافی میں موجود ہے جس میں نبی کریم سے واضح الفاظ میں مروی ہے کہ انبیاء کرام درہم و دینار وراثت میں نہیں چھوڑتے :محمد بن الحسن وعلي بن محمد، عن سهل بن زياد، ومحمد بن يحيى، عن أحمد بن محمد جميعا، عن جعفر بن محمد الأشعري، عن عبد الله بن ميمون القداح، وعلي بن إبراهيم، عن أبيه، عن حماد بن عيسى، عن القداح، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله: من سلك طريقا يطلب فيه علما سلك الله به (3) طريقا إلى الجنة وإن الملائكة لتضع أجنحتها لطالب العلم رضا به (4) وإنه يستغفر لطالب العلم من في السماء ومن في الأرض حتى الحوت في البحر، وفضل العالم على العابد كفضل القمر على سائر النجوم ليلة البدر، وإن العلماء ورثة الأنبياء إن الأنبياء لم يورثوا دينارا ولا درهما ولكن ورثوا العلم فمن أخذ منه أخذ بحظ وافر ۔
ترجمہ : رسول الله صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا دین کے عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جس طرح ستاروں پر چاند کی فضیلت اور چاندنی رات پر فضیلت ہے اور علماء وارث انبیاء ہیں اور انبیاء نہیں چھوڑتے اپنی امت کے لئے درہم و دینار ، بلکہ وہ وراثت میں چھوڑتے ہیں علم دین کو۔ پس جس نے اس کو حاصل کیا ، اس نے بڑا حصہ پا لیا ۔ (کتاب اصول الكافي – الشيخ الكليني – ج ۱ – الصفحة ۱۹) ، اصول الکافی کی اس حدیث کو خمینی نے بھی صحیح تسلیم کیا ہے ۔

شیعہ مذھب کی مشہور کتاب قرب الاسناد میں موجود ہے اور علامہ الحمیری القمی نے بحار الانوار کے حوالے سے بیان کی ہے : جعفر، عن أبيه: أن رسول الله صلى الله عليه وآله لم يورث دينارا ولا درهما، ولا عبدا ولا وليدة، ولا شاة ولا بعيرا، ولقد قبض رسول الله صلى الله عليه وآله وإن درعه مرهونة عند يهودي من يهود المدينة بعشرين صاعا من شعير، استسلفها نفقة لأهله ۔
ترجمہ : حضرت ابو جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو درھم و دینار یا غلام یا باندی یا بکری یا اونٹ کا وارث نہیں بنایا، بلاشبہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی روح اس حال میں قبض ہوئی جب کہ آپ کی زرہ مدینہ کے ایک یہودی کے پاس صاع جو کے عیوض رہن تھی، آپ نے اس سے اپنے گھر والوں کے لئے بطور نفقہ یہ جو لئے تھے ۔ (قرب الاسناد الحمیری القمی ص 91,92،چشتی)(بحوالہ المجلسي في البحار 16: 219 / 8)

کلینی نے الکافی میں ایک مستقل باب اس عنوان سے لکھا ہے ۔ باب (ان النساء لا يرثن من العقار شيئا) علي بن إبراهيم، عن محمد بن عيسى ، عن يونس، عن محمد بن حمران، عن زرارة عن محمد بن مسلم، عن أبي جعفر عليه السلام قال: النساء لا يرثن من الأرض ولا من العقار شيئا ۔ عورتوں کو غیر منقولہ مالِ وراثت میں سے کچھ بھی نہیں ملتا ۔ اس عنوان کے تحت اس نے متعدد روایات بیان کی ہیں ، ان کے چوتھے امام ابو جعفر سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : عورتوں کو زمین اور غیر منقولہ مالِ وراثت میں سے کچھ بھی نہیں ملے گا ۔ (الفروع من الکافی کتاب المواریث ج ۷ ص ۱۳۷،چشتی)

يونس بن عبد الرحمان عن محمد بن حمران عن زرارة ومحمد بن مسلم عن أبي جعفر عليه السلام قال: النساء لا يرثن من الأرض ولا من العقار شيئا ۔
ترجمہ : حضرت امام باقر (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا عورت زمین و جائیداد میں سے کسی کی وارث نہیں ۔ (کتاب تھذیب الاحکام الشیخ الطوسی ج 9 ص 254)

جہاں تک ان کے حقوق غصب کرنے کا سوال ہے ، اس بارے میں مجلسی باوجود شدید نفرت و کراہت کے یہ بات کہنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ : ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جب دیکھا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا خفا ہوگئیں تو ان سے کہنے لگے : میں آپ کے فضل اور رسول اللہ علیہ السلام سے آپ کی قرابت کا منکر نہیں۔ میں نے صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل میں فدک آپ کو نہیں دیا ۔ میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ علیہ السلام کو یہ کہتے سنا ہے: ہم انبیاء کا گروہ، مالِ وراثت نہیں چھوڑتے ۔ ہمارا ترکہ کتاب و حکمت اور علم ہے ۔ اس مسئلے میں میں تنہا نہیں، میں نے یہ کام مسلمانوں کے اتفاق سے کیا ہے۔ اگر آپ مال و دولت ہی چاہتی ہیں تو میرے مال سے جتنا چاہیں لے لیں، آپ اپنے والد کی طرف سے عورتوں کی سردار ہیں، اپنی اولاد کے لیے شجرۂ طیبہ ہیں، کوئی آدمی بھی آپ کے فضل کا انکار نہیں کرسکتا ۔ (حق الیقین‘‘ ص ۲۰۱، ۲۰۲ ترجمہ از فارسی)

جواب:
سلام علیکم :
 
جناب پہلی بات تو یہ ہے کہ ارث کا قانون ایک عمومی قانون ہے اس میں نبی اور غیر نبی میں فرق نہیں  ہے ۔۔
شریعت نے دین اولاد کو والدین کی ارث سے محروم قرار دیا ہے ،
 ولد الزنا ْْ۔۔ والدین کا قاتل ۔۔۔۔ کافر اولاد۔۔
 
ان وراثت سے محروم کرنا ایک قسم کی سزا ، عیب اور معاشرے کو برائیوں سے دور رکھنے کے لئے شریعت کی طرف سے چارہ جوئی ہے۔۔۔ انبیا کی اولاد کا کیا جرم ہے ؟ کیا ان کو وراثت کی ضرورت نہیں ؟ کیا انبیا کی وراثت بیت المال کا حصہ بننے اور فقرا میں تقسیم ہونے پر انبیا کی تاریخ سے کوئی ایک نمونہ دکھا سکتے ہو۔۔۔۔۔۔
 
 دوسری بات :
قرآن میں ارث کےحکم کو بتانے والی دس سے زیادہ آیات موجود ہیں لیکن ایک آیت بھی انبیا کی مالی وراثت کی نفی پر نہیں ہے لہذا یہ حکم قرآن کے حکم کے خلاف ہے۔۔۔۔
ہم قرآنی حکم کے خلاف کوئی حدیث ہو تو اس کو قبول نہیں کرتے کیونکہ ہمارے ائمہ  قرآن کے خلاف نہیں بولتے ۔۔
تیسری بات :
آپ نے اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لئے اصول کافی کی حدیث کا معنی غلط کیا ہے ۔ایک سادہ ادبی تحلیل کے ذریعے یہ مسئلہ حل ہوجاتا ہے ۔۔۔۔۔
دیکھیں : إن العلماء ورثة الأنبياء وذاك أن الأنبياء لم يورثوا درهما۔۔۔۔ آپ نے اس کا ترجمہ کیا ہے :۔۔۔ وارث انبیاء ہیں ، اور یہ اس لئے کہ انبیاء کسی کو وارث نہیں بناتے درہم یا دینار کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس ترجمہ میں (کسی کو وارث نہیں بناتے) غلط ترجمہ ہے ۔۔۔۔ صحیح ترجمہ ۔۔۔ انبیاء علماء کو درھم و دینار ارث میں چھوڑ کر نہیں جاتے بلکہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
 
لہذا آپ نے اپنے مقصد کے لئے ( لم يورثوا) کا دوسرا مفعول کسی کو کیا ہے جبکہ اس کا دوسرا مفعول العلماء  کی طرف پلٹنے والی ضمیر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 ہم نے اس سلسلے میں تفصیل جواب  اسی مقالے میں دیا ہے ۔۔۔ اگر مطالعہ کرتے تو تکراری بات نہ کرتے ۔۔۔۔
 
چھوتھی بات :
 
یہ حدیث علم اور عالم کی فضیلت سے متعلق ہے اس کا مالی وراثت سے کوئی تعلق نہیں ۔۔۔ یہی حدیث آپ کی کتابوں میں بھی ہے لیکن آپ کے کسی محدث اور صحاح ستہ کے مصنف نے اس کو ارث کے باب میں ذکر نہیں کیا ہے بلکہ سب نے اصول کافی کے مصنف کی طرح اس کو علم و عالم کی فضیلت کے ابواب میں ذکر کیا ہے ۔۔۔ اگر آپ اپنے بزرگوں کے فھم و درک کے خلاف استدلال کرنا چاہئے تو ہم آپ کو نہیں روکتے ۔۔
 
 
 
پانچویں بات :
 
قرب الاسناد کی روایت : ن رسول الله صلى الله عليه وآله لم يورث دينارا ولا درهما، ولا عبدا ولا وليدة، ولا شاة ولا بعيرا، ولقد قبض رسول الله صلى الله عليه وآله وإن درعه مرهونة عند يهودي من يهود المدينة بعشرين صاعا من شعير، استسلفها نفقة لأهله ۔۔
 
 
پہلا نکتہ : تو یہ ہے کہ اس کی سند میں حسین بن علوان ہے یہ سنی راوی ہے اور ہمارے علما نے اس کی توثیق نہیں کی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر کسی نے توثیق کی ہے تو یہ روایت قرآن کے خلاف ہے ۔۔۔۔
 
دوسرا نکتہ : اس روایت میں انبیاء کی مالی وراثت کی نفی نہیں ہوئی ہے بلکہ مندرجہ چیزوں کو وراثت میں چھوڑ کر جاننے کی نفی کی ہے ۔۔۔۔ ۔
 
 
  چھٹی بات :
 کلینی نے الکافی میں ایک مستقل باب اس عنوان سے لکھا ہے ۔ باب (ان النساء لا يرثن ۔
  عورتوں کو زمین اور غیر منقولہ مالِ وراثت میں سے کچھ بھی نہیں ملے گا ۔
 
۔۔۔۔ اس سلسلے میں موجود شبھہ کا بھی ہم نے تفصیلی جواب دیا ہے ۔۔۔۔۔
یہ بیوی سے متعلق موضوع ہے ،ہمارا آپ لوگوں سے  نزاع بیٹی کی وراثت کے بارے میں ہے ۔۔
 
تفصیل دیکھیں ْْْwww.valiasr-aj.com/urdu/shownews.php
 

5
مندرجات کا کوڈ: 638 - عنوان: اہل سنت کی معتبر کتب میں حضرت زہرا (س) کے فضائل کے بارے میں 40 احادیث
مکمل نام : Syed Haseeb Ali Shah - تاریخ اشاعت: 16:50 - 31 December 2021
ماشاء اللّٰه! آپ نے بہت محنت سے یہ احادیث اکٹھی کی ہیں۔ پڑھ کر بہت خوشی ہوئی۔ حوالہ جات کا اندراج منکروں کے لیے حجت ثابت ہو گا۔ آپ کا بہت بہت شکریہ۔
ملکۂِ عالمینؐ، سیدۃ نساءؐ، سیدۂِ کونینؐ، خاتونِ جنتؐ، محرومۂِ فدکؐ، بتولؐ، حجابُ اللّٰهؐ، مالکہِ چادرِ تطہیرؐ بی بی پاک سیدہ بنتِ رسول (ص) کی وراثت چھیننے والوں پہ لعنت۔۔۔ بے شمار
جواب:
سلام علیکم ۔
 
 اللہ آپ کو سلامت رکھے ۔
 
 
 
۔۔ ہم ضمیر اور نام کا تعین نہیں کرتے بلکہ جس نے بھی آل محمد (ص) پر ظلم کیا ہے اس سے اظہار برائت کرتے ہیں اور اصولی طور پر یہی یہی اہل سنت کا بھی موقف  اور نعرہ ہونا چاہئے ۔۔
اب فرشتے خود بہتر جانتے ہیں لعن کس کے کھاتے میں جانا چاہئے ۔۔۔

6
مندرجات کا کوڈ: 619 - عنوان: ایام فاطمیہ اور شہادت مظلومانہ صدیقۃ الکبری حضرت فاطمہ زہرا (س)
مکمل نام : سید اذکار حیدر نقوی - تاریخ اشاعت: 14:17 - 24 December 2021
سلام علیکم!
ماشاءاللہ بہت ہی عمدہ تحریر ہے اور بہترین نکات سے بھی استفادہ کیا،
سلامت رہیں
جواب:
سلام علیکم  ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۔۔
 
اللہ آپ کو بھی سلامت رکھے اور ہمیں جناب سیدہ سلام اللہ علیہا کے حق سے دفاع کرنے اور ان کی سیرت کے مطابق چلنے کی توفیق دئے ۔ اللہ ہمیں قیامت کو ان کی شفاعت نصیب فرمائے ۔
 
                 الہی آمین ْ

7
مندرجات کا کوڈ: 1855 - عنوان: کس نے ابوبکر کو «صديق» اور عمر کو «فاروق» کا لقب دیا ہے ؟
مکمل نام : اختر علی مغل - تاریخ اشاعت: 09:31 - 10 December 2021
برادر عزیز سلام:
میرا سوال یہ ہے ک کیا امام باقر علیہ السلام نے یہ فرمایا ہے کہ ابوبکر اور عمر عادل و منصف تھے۔ ۔۔؟ کیا اس قسم کی روایت شیعہ کتب میں موجود ہے۔۔۔؟
براہ کرم اس روایت کا جواب عنایت فرمائیں
والسلام
جواب:
سلام علیکم ۔۔
 
ایسی روایت ہم نے نہیں دیکھی ہے ، آگر آپ کتاب کاحوالہ یا اس روایت کی عربی الفاظ  دیکھا سکے تو بہتر ہے ۔۔
جیساکہ اس قسم کی دوسری بعض روایات شیعہ کتابوں میں اہل سنت کی کتابوں سے نقل ہوئی ہیں لیکن سند کے اعتبار سے ضعیف ہیں ۔۔۔۔لہذا صرف نقل ہونا کافی نہیں ہے بلکہ اس کی سند بھی قابل قبول ہونی چاہئے ۔۔۔
 
اسی قسم کی ضعیف سند دو روایات ملاحظہ فرمائیں ۔۔
 
کیا امام باقر عليه السلام کی طرف منسوب « قد حلي أبوبكر الصديق سيفه » والی روایت صحیح ہے ؟
 
 
کیا " لست بمنکر فضل ابی بکر" امام باقر علیہ سلام کا قول ہے ؟
 

8
مندرجات کا کوڈ: 1644 - عنوان: معاویہ ابن ابی سفیان کی زندگی اور اسکے کردار پر ایک نظر
مکمل نام : حسنین معاویہ - تاریخ اشاعت: 14:16 - 25 November 2021
شیعوں کے نزدیک تو حضرت علی بھی مسلمان نہیں ہیں تو یہ منحوس قوم حضرت امیر معاویہ کو کیسے مسلمان سمجھے گی ہمارا تو ایک ہی نعرہ ہے کافر کافر شیعہ کافر جو نہ مانے وہ بھی اور ہر صحابی نبی جنتی جنتی
جواب:
... یا للعجب ۔۔۔۔ الزام تراشی کی بھی ایک حد ہوتی ہے ۔شیعہ گلی کوچے کی بلیاں بھی ایسے الزامات دیکھ کر ہنستی ہیں ۔۔۔۔
 
شیعہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو بعد از رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد اللہ کی سب سے برتر مخلوق مانتے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا حقیقی جانشین مانتے ہیں ،یہی شیعیت کی بنیاد او دوسروں سے شیعوں کی جدائی کی بنیاد ہے ۔۔۔
شیعہ کسی روایت کو اٹھا کر اس کی خودساختہ تفسیر کرنا اور پھر اس کو شیعوں کا نظریہ کہہ کر پیش کرنا جہالت کے سوا کچھ نہیں ۔۔۔؎
یہی کام شیعہ کرئے تو شیعہ دشمنوں کی نیندیں اڑھ جائے گیں۔۔
 
 
 
معاویہ کو باغی سمجھا اور اس کو دین اسلام سے خارج سمجھا شیعوں کی باتیں نہیں ،یہ اہل سنت کی معتبر روایت اور اہل سنت کے علما کی راے ہے۔۔
 
دیکھیں ۔
معاویہ کا انجام : صادق و آمین کی خبر کیا معاویہ غیر مسلمان دنیا سے چلا گیا ہے؟
 
 
معاویہ کو باغی کہنا اہل سنت کے سلف کا متفقہ نظریہ ہے؛
کیونکہ حقیقت کو چھپانے کے لئے سب چیز شیعوں کی گردن پر ڈالتے ہو؟
 
 
شیعوں کو کافر کہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔۔ابن تیمیہ نے اہل سنت کے سارے فرقوں کو کافر کہا ہے ۔۔۔
 
شیعوں کے شانہ بشانہ حج کرنے والے اہل سنت کے مفتیوں اور مولویوں سے پوچھنا کہ آپ لوگ شیعوں کو کافر کیوں نہیں سمجھتے ؟ کیا آپ لوگوں معلوم نہیں ہے کافر اللہ کے گھر کی زیارت نہیں کرسکتا ۔۔۔سورہ توبہ میں یہ حکم موجود ہے ۔۔
 
لہذا شیعہ کافر تو سب کافر ۔۔۔۔۔۔

9
مندرجات کا کوڈ: 1644 - عنوان: معاویہ ابن ابی سفیان کی زندگی اور اسکے کردار پر ایک نظر
مکمل نام : جلیل الحسینی - تاریخ اشاعت: 15:59 - 02 September 2021
آپ لوگوں نے بس شیعوں کو کافر کھنا ہی سیکھا ہے صد افسوس کہ آپ کے مدرسوں میں یہ بھی سکھایا جاتا کہ نعروں کے علاوہ علمی میدان بھی ہوتا ہے، مگر کیا کریں یہ پوسٹ جس شخص کی سرزنش میں ہے وہ بے چارہ بھی اسی طرح کھوکھلے نعرے مارتا تہا پر تھا باغی اور قرآن نے باغی گروہ کو جھنمی کھا ہےـ
جواب:
سلام علیکم ۔۔
محترم آپ کی باتیں واضح نہیں ہیں ۔
 
معاویہ اور اس کی جماعت کو باغی گروہ کہنا شیعوں سے مخصوص نظریہ نہیں ہے بلکہ یہ اصحاب ، تابعین اور اہل سنت کے مایہ ناز علما کا نظریہ ہے۔
اب بعض لوگ اپنے ہی سلف سے بغاوت کرتے ہیں لیکن حقیقت کو چھپانے کے لئے سب کچھ شیعوں کی گردن پر ڈالتے ہیں ۔۔
لہذا یہ کہنا غلط بیانی ہے کہ معاویہ اور اس کے گروہ کو باغی کہنا شیعوں کا ہی نظریہ ہے ۔یہ تو اہل سنت کے بزرگوں کا نظریہ ہے ۔
 
تفصیل کے لئے نیچے کی ایڈرس پر رجوع کریں ۔۔
 
https://www.valiasr-aj.com/urdu/shownews.php?idnews=2028

10
مندرجات کا کوڈ: 416 - عنوان: قیام عاشورا اور ہدف امام حسین(ع)
مکمل نام : صائمہ جعفری - تاریخ اشاعت: 11:55 - 29 August 2021
جزاک اللہ
بہت اعلی۔
اللہ تعالی عز وجل جز آئے خیر عطا کرے۔ آمین
جواب:
 سلام علیکم۔۔۔
بہت شکریہ ۔
 
اللہ ہم سب کو امام حسین علیہ السلام کے قیام کے اہداف کو سمجھنے اور عزاداری کو امام علیہ السلام کے اہداف کے مطابق منانے کی توفیق عنایت فرمائیں ۔۔
 آمین یا رب العالمین ۔۔

11
مندرجات کا کوڈ: 1915 - عنوان: ابن تیمیہ اور اس کے ہمفکروں کے عجیب اور مزاحیہ ڈرامہ بازی ؛
مکمل نام : عطاء اللّه علی حیدری - تاریخ اشاعت: 22:15 - 26 August 2021
ماشاءالله قبلہ مولا سلامت رکھے آپکی کاوشیں مولا اپنی بارگاہ میں قبول فرماۓ
جواب:
 سلام علیکم۔۔
 
شکریہ محترم
 
ابن تیمیہ کو بہت سے لوگ شیخ السلام اور علیہ الرحمہ کہتے ہیں ۔۔۔ جبکہ اصحاب کی شان اور فضیلت بیان کرنے والوں اور اپنے آپ کو اصحاب کے جیالے کہنے والوں کے ادعا پر ایک سوالہ نشان ہے ۔
اگر اصحاب کے ساتھ مخلص ہیں اور سارے اصحاب سے دفاع کا نعرہ لگاتے ہیں تو انہیں ابن تیمیہ جیسے گستاخوں سے اظہار برائت کرنی چاہئے ۔
 
 اس کو اہل سنت کے بعض علما نے خاص کر امیر المومنین علیہ السلام پر تنقید اور زبان درازی کی وجہ سے ناصبی تک کہا ہے۔
 
جیساکہ ہم نے اسی مقالے میں ابن تیمیہ کی طرف سے امیر المومنین علیہ السلام اور جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کی شان میں گستاخی کے چند نمونے ذکر کیے ہیں ۔
 
اب شیعوں  پر اصحاب کی شان میں  گستاخی کرنے کا الزام اور اس پر فتوے لگانے والوں کو سوچنا ہوگا کہ وہ اصحاب کے ساتھ کس حد تک مخلص ہیں۔

12
مندرجات کا کوڈ: 633 - عنوان: شہادت حضرت فاطمہ زہرا (س) ایک انكار ناپذیر حقیقت
مکمل نام : wahid ali khan - تاریخ اشاعت: 20:02 - 26 August 2021
mashallah mola salamt rakay apko
aik request hy k ye ap email krdy mojay
wahid5ali1214@gmail.com
13
مندرجات کا کوڈ: 2033 - عنوان: خلفاء کے بارے میں امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا موقف. +اسکن کے ساتھ۔۔
مکمل نام : Aftab Raza - تاریخ اشاعت: 14:41 - 23 August 2021
Slam. Mazeed behtry ke zaroorat hay, Masha Allah,asal kutub ka sun e print wa jaga b mention karain, keep it up , JazakAllah
جواب:
سلام علیکم :
 
بہت شکریہ ۔
جی انشا اللہ ۔۔
 
ہم نے اہل سنت کے مقدسات کی توہین کی نیت سے اس تحریر کو تیار نہیں کیا ہے ۔
 
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے۔ اہل سنت والے ہم سے کہتے ہیں کہ شیعہ اہل بیت علیہم السلام کی پیروی نہیں کرتے ،حضرت علی علیہ السلام نے خلفا کی پیروی اور بیعت کی ہے ۔لیکن شیعہ نعوذ با اللہ امیر المومنین علیہ السلام کی مخالفت کرتے ہیں اور خلفا کو نہیں ماننتے ۔
اسی طرح بعض کہتے ہیں کہ شیعہ خلفا کی شان میں توہین کرتے ہیں اور انہیں غاصب اور ۔۔۔۔۔۔  سمجھتے ہیں ۔۔۔
 
ہم ان سارے اعتراضات کے جواب میں کہتے ہیں کہ شیعہ وہی کہتے ہیں کہ جو آپ کی کتابوں میں ہیں اور ہم خاص کر حق حضرت زہرا سلام اللہ علیہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جانشینی کے مسئلے میں اہل بیت علیہم السلام کے ساتھ ہم عقیدہ ہیں۔۔
 
جیساکہ اہل سنت کی سب سے معتبر کتابوں میں موجود صحیح سند روایات اس بات پر شاہد ہیں کہ امیر المومنین علیہ السلام ان کی طرف سے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جانشین کہنے اور ہونے کے نظریے کو  سخت ترین الفاظ میں جھٹلاتے تھے ۔۔۔
 
 
 

14
مندرجات کا کوڈ: 1037 - عنوان: قتل امام حسین (ع) کے بارے میں تاریخی اسناد و دلائل:
مکمل نام : ڈاکٹرغلام مصطفے اظہر - تاریخ اشاعت: 12:49 - 21 August 2021
تاریخ حقائق کو تو نہی جھٹلا سکتی بہت خوبصورت تحریر
جواب:
سلام علیکم
 
۔۔   آج کل بعض لوگ شیعہ دشمنی اور بنی امیہ کے ظالموں حاکموں کی وکالت میں یہ ناکام کوشش کرتے ہیں ، تعصب کا شکار لوگ اپنے سلف اور بزرگوں کے علمی آثار کو نظر انداز کرتے ہیں اور یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ فرزند رسول اللہ ص کو قتل کرنے والے شیعہ ہی ہیں ۔۔
 
عجیب بات ہے ۔ ابن زیاد اور عمر سعد کے بنیادی کردار پر پردہ ڈالتے ہیں اور شیعوں کو ہی قاتل کہنے  کو اپنا شعار بنایا ہوا ہے ۔
 
جبکہ شیعوں کو قاتل کہنے کی جرات نہ یزید کا خصوصی گورنر ابن زیاد کرسکا اور نہ یزید ۔۔۔ 
اگر شیعوں کا اس قتل میں ہاتھ ہوتا تو یہی سب سے زیادہ اس وقت کے حالات سے آگاہ تھے اور ان کے لئے سب سے آسان کام یہی تھا کہ سب کچھ شیعوں کی گردن پر ڈال کر اس نگ و عار اور بدنامی سے اپنے کو برئ الذمہ قرار دیتے ۔۔  یہ دونوں ایسا نہیں کرسکے کیونکہ یہ ان کے لئے مزید رسوائی کا باعث بنتا کیونکہ سب کے سامنے اور واقعے کے عینی شاہدوں کے آگے جھوٹ بولنا آسان کام نہیں تھا ۔
اسی لئے یہ دونوں اس  قتل کو ایک دوسرے کی گردن پر ڈالتے رہے۔
 
لیکن ان کے وکیل اور یزیدی فکر رکھنے والے اس جرم کو شیعوں کی گردن پر ڈالتے ہیں  اور اپنے سلف ابن زیاد اور یزید سے بھی چند قدم آگے نکلتے ہیں ۔۔  سچ کہا ْْْْ۔۔۔۔ شرم مگر تم کو نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

15
مندرجات کا کوڈ: 795 - عنوان: فضائلِ امیر المؤمنین امام المتقین علی ابن ابی طالب علیہ السلام علماء و کتب اہل سنت کی نظر میں
مکمل نام : سید سعید رضا - تاریخ اشاعت: 14:19 - 07 August 2021
ماشاءاللہ تمام زبردست مولا سلامت رکھے آپکو آپکی توفیقات میں اِضافہ فرمائے
جواب:
 سلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۔
                     
بہت شکریہ محترم ۔۔۔
 
اللہ ہم سب کو مولا علی علیہ السلام کے فضائل بیان کرنے اور ان کی سیرت اور تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق دئے ۔  
                                                 
                                                       آمین یا رب العالمین 
 
 

16
مندرجات کا کوڈ: 1975 - عنوان: متعہ کی شرعی حیثیت {اھل سنت کی کتابوں سے }
مکمل نام : ایس ایم شاہ - تاریخ اشاعت: 19:44 - 30 July 2021
بہترین اور مدلل مضمون اپلوڈ کرنے کا شکریہ
اس طرح کے اختلافی موضوعات مستند مواد سائٹوں پر اپلوڈ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ جزاکم اللہ خیرا
جواب:
 سلام علیکم ۔۔ بہت شکریہ 
 ہماری کوشش یہی ہے کہ مکتب اہل بیت پر ہونے والے اعتراضات کا ٹھوس اور علمی جواب دیا جائے ۔ جتنے بھی شیعہ اور اہل سنت کے درمیان اختلافی مسائل ہیں اور جن کو بنیاد بنا کر شیعوں پر اعتراض کرتے ہیں ، الحمد للہ شیعہ ان سب باتوں کا جواب خود مخالفین کی کتابوں سے دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں جیساکہ مذکورہ تحریر میں آپ نے ملاحظہ فرمایا ہوگا ۔ ہم نے متعہ کی حقیقت کو خود اہل سنت کی کتابوں سے ثابت کیا ہے ۔۔ 
 
عجیب بات ہے کہ جس متعہ کو بہانہ بنا کر شیعوں کے خلاف غیر اخلاقی باتوں کی نسبت دیتے ہیں ، خود مخالفین کی کتابوں میں ہے کہ اصحاب خلیفہ دوم کے دور تک متعہ کرتے تھے اور روکنے والے نہیں تھے لیکن خلیفہ نے طاقت کا استعمال کیا اور انہیں اس کام سے روکا ۔۔۔۔ اب اگر یہ خیبر کے دن حرام ہوا تھا تو خلیفہ دوم کے دور تک تقریبا ۷ سال تک کیسے اصحاب اس کو انجام دیتے رہے ؟؟

17
مندرجات کا کوڈ: 1371 - عنوان: جمع بین دو نماز ، شیعہ اور اہل سنت کی نگاہ میں
مکمل نام : محمد عرفان - تاریخ اشاعت: 09:42 - 27 May 2021
دو نمازوں کو ملا کر پڑھنے سے مراد ایک نماز کاآخری وقت اور دوسری نماذ کا ابتدائ وقت
نیز سہولت دینے سے مساجد نہیں بھرتیں.محبت سے دین پر عمل کروانا سیکھیں.
جواب:
سلام علیکم ۔۔۔
 
نہیں جمع کر کے پڑھنے کا یہ مطلب نہیں ہے ۔۔۔ مثلا ظہر کے آذان کے بعد شیعہ {پہلے جماعت کے ساتھ یا جماعت کے بغیر } ظہر پڑھ لیتا ہے اور پھر عصر ۔۔۔۔۔ اب ممکن کوئی ظہر کے فورا بعد کسی وحہ سے نماز نہ پڑھے اور عصر کے وقت نماز پڑھے تو یہاں بھی پہلے ظہر پڑھے گا پھر عصر ۔۔۔۔۔۔۔ اور آخری وقت ہو اور آذان مغرب سے پہلے صرف چار رکعت پڑھنے کا وقت ہو تو یہاں پہلے عصر پڑھے گا پھر بعد میں ظہر کی قضاء پڑھے گا ۔۔۔
یہی ترتیب مغرب اور عشاء میں بھی ۔۔۔۔۔۔۔
 
 محترم بات اس کے بھی جائز ہونے یا نہ ہونے کی ہے ۔۔۔۔ بات اس میں نہیں ہے اس تائم پر پڑھنا افضل ہے ۔۔۔۔ شیعہ فقہ میں بھی افضل وہی دو ٹائم پڑھنا اور ہر نماز کو اس کی فضیلت کے وقت پر پڑھںا ہے ۔۔۔۔۔ لہذا بات جائز ہونے اور اس سہولت کے ہونے کی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ اب شیعوں کی عادت  ایک ساتھ پڑھنا ہے اور اھل سنت کے ہاں عادت الگ الگ پڑھنا ہے ۔۔۔۔۔ 

18
مندرجات کا کوڈ: 1792 - عنوان: معاویہ (لع) اور امیر المؤمنین علی (ع) پر سبّ و لعن:
مکمل نام : سیدہ - تاریخ اشاعت: 01:04 - 27 May 2021
احسنت۔ آپ سے گزارش ہے مزید اس سلسلے میں پوسٹ مارٹم کیجیے۔ تحقیقی مقالہ جات پبلیش کیجیے ہم منتظر ہیں۔یہ نام پاکستان نصاب کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔
جواب:
 سلام علیکم ۔۔
جی اھل سنت کے بعض لوگ اموی فکر سے متاثر ہو کر معاویہ کی فضیلت بیان  کرتے ہیں اس کے نام پر ریلیاں نکالتے ہیں ۔۔۔۔ اس کی سیاست زندہ باد کے نعرے لگاتے ہیں 
 
لیکن یہ حقیقت میں یہ ان لوگوں کا خود  اھل سنت کی تاریخ اور اہل سنت کے بزرگوں سے بغاوت کا اعلان ہے ۔۔۔۔  
 

19
مندرجات کا کوڈ: 1696 - عنوان: وہابیت کا تعارف اور اس کا اصلی چہرہ
مکمل نام : Monarchy kasbati - تاریخ اشاعت: 08:24 - 12 May 2021
اس میں ا٘دہ سچ اور ا٘دھ جھوٹ ہے تو جھوٹ کا گناہ ا٘پکو ہو گا
جواب:
 سلام علیکم۔۔۔
چلو جی ادھا سچ ہونے کو تو آپ مان گئے ۔۔۔۔ 
اب کیا اپ سچی باتوں میں سے بعض کی نشاندھی اور جھوٹی باتوں میں سے بعد کی نشاندھی فرمائیں گے ۔۔۔

20
مندرجات کا کوڈ: 598 - عنوان: کیا کتاب صحیح بخاری میں،حضرت زہرا (س)کو اذیت و تکلیف دینے کے بارے میں کوئی حدیث موجود ہے؟
مکمل نام : طاہر زمانی - تاریخ اشاعت: 02:10 - 10 May 2021
کیا یقیناً ابوبکر اور عمر نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لخت جگر کو غضبناک کیا ہے
جواب:
 
 سلام علیکم

 جی بلکل جس طرح سے مندرجہ بالا مقالے میں جو حوالے اور سند پیش ہوئی ہے یہ اھل سنت کی سب سے معتبر کتاب میں موجود حدیث کی سند ہے ۔۔۔

جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا نے فدک وغیرہ کے بارے میں اپنے حقوق کا مطالبہ کیا اور جب مطالبہ منظور نہیں ہوا تو آپ ان سے غضبناک ہوئیں اور مکمل بائیکاٹ کا حالت میں دنیا سے چلی گئیں ۔۔۔۔

 

فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ عَلَی أَبِی بَكْر فِی ذَلِكَ - قَالَ - فَهَجَرَتْهُ فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّی تُوُفِّيَتْ .

پس فاطمہ ابوبکر پر غضبناک ہوئیں اور اس سے بات کرنا ختم کر دیا، یہاں تک کہ آپ وفات فرما گئیں، یعنی مرتے دم تک پھر رسول خدا کی بیٹی نے ابوبکر سے بات نہیں کی تھی۔

صحيح البخاری:ج5 ص 82، ( ح 4240) كتاب المغازی، ب 38 ـ باب غَزْوَةُ خَيْبَرَ.