2018 August 19
پہلے سعودی بادشاہ نے برطانیہ سے رشوت وصول کی، قدیم دستاویزات میں‌ انکشاف
مندرجات: ١٦٥٦ تاریخ اشاعت: ١٤ July ٢٠١٨ - ١٧:٤٠ مشاہدات: 35
خبریں » پبلک
پہلے سعودی بادشاہ نے برطانیہ سے رشوت وصول کی، قدیم دستاویزات میں‌ انکشاف

دوحا (مانیٹرنگ ڈیسک) قطر کی نیشنل لائبریری کی جانب سے شائع کردہ دستاویزات نے سابق سعودی بادشاہ کے متعلق نئے تنازعے کو جنم دیا ہے۔ کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ ابن سعود کے نام سے معروف سابق سعودی بادشاہ عبدالعزیز نے برطانیہ سے بحاری رقم رشوت کے طور پر لی تھی۔

منگل کو شائع کی گئی دستاویزات میں سعودی بادشاہ عبدالعزیز کی برطانوی حکام سے ہونے والی خط و کتابت شامل ہے۔ ان دستاویزات میں عراق اور مصر کے ہائی کمشنرز سے ہونے والے رابطوں کی تفصیل بھی شامل ہے۔ دستاویزات جاری کرنے والے العرب ڈیلی کے ایڈیٹر انچیف عبداللہ بن حماد الزبح نے دعوی کیا کہ سابق سعودی بادشاہ نے برطانیہ سے رشوت وصول کی تھی۔

پہلے سعودی بادشاہ کے نام پر قائم کنگ عبدالعزیز فاؤنڈیشن برائے تحقیق اور آرکائیوز نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ وصول کی گئی رقم رشوت نہیں تھی۔ بلکہ برطانوی سیاست کے تحت سعودی بادشات کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش تھی کہ وہ قطر کو اپنا حصہ نہ بنائیں۔ فاؤنڈیشن نے دعوی کیا کہ قطر کا علاقہ سعودی بادشاہت کا حصہ رہا ہے۔

‘نجد افئیرز’ نامی دستاویزات میں بادشاہ عبدالعزیز کو سبسڈی کی مد میں کی گئی ‘آخری ادائیگی’ کا ذکر بھی ہے۔ قطر کی نیشنل لائبریری نے یہ دستاویزات برٹش لائبریری سے حاصل کی ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے قطر سے سفارتی تعلقات منقطع کیے ہوئے ہیں۔ تمام ممالک نے دوحا پر دہشت گردوں کی سرپرستی کا الزام عائد کیا تھا جسے قطر کی جانب سے مسترد کیا جا چکا ہے۔

بائیکاٹ کی وجہ سے قطر کی برآمدات کو خاصا نقصان پہنچا ہے۔ جس کے بعد خلیجی ملک نے غذا اور توانائی کے شعبوں میں خود انحصاری حاصل کرنے کے لئے تیزی سے اصلاحاتی پروگرام پر عمل شروع کر رکھا ہے۔ ان برآمدات میں سے بیشتر سعودی عرب کے ذریعے خلیجی ملک تک پہنچتی تھیں۔




Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی