2018 October 19
یوم عاشورکا ملک بھرمیں عقیدت واحترام سے انعقاد ، تمام جلوس ہائے عزاکا پرامن طور پر اختتام
مندرجات: ١٧٥٠ تاریخ اشاعت: ٢٣ September ٢٠١٨ - ١٩:٠٤ مشاہدات: 20
خبریں » پبلک
یوم عاشورکا ملک بھرمیں عقیدت واحترام سے انعقاد ، تمام جلوس ہائے عزاکا پرامن طور پر اختتام

شیعت نیوز: حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے رفقا کی عظیم قربانیوں کی یاد میں پاکستان بھرمیں یوم عاشور عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، اس موقع پر مختلف شہروں میں چھوٹے بڑے جلوس برآمد ہوئے، جن کی سیکیورٹی کے لیے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے، کراچی، لاہور، اسلام آباد، کوئٹہ اورپشاور سمیت دیگر شہروں میں موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی ہے جبکہ موبائل فون سروس بھی معطل کی گئی۔

کراچی میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس نشتر پارک سے برآمد ہوا جو اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا امام بارگاہ حسینہ ایرانیاں کھارادر پر ختم ہوا۔ جلوس کی گزرگاہوں پر منتظمین کی جانب سے پانی اور دودھ کی سبیلیں لگائی گئیں جبکہ جلوس کی  سیکیورٹی کے لیے رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی۔ جلوس کی نگرانی کے لیے پولیس کی جانب سے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم بھی قائم کیا گیا جس میں سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے جلوس کی نگرانی کی گئی، اس کے علاوہ جلوس کی فضائی نگرانی بھی ہوئی۔

لاہور میں یوم عاشور مرکزی جلوس نثار حویلی سے برآمد ہوا جو مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا کربلا گامے شاہ میں اختتام پذیر ہو گیا۔ اس موقع پر شاہ حسین قزلباش نے شبیہہ ذوالجناح کے جلوس کے اختتام پر خصوصی دعا کروائی۔ جلوس کے راستے میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ عزاداروں نے ماتم کیا اور نوحہ خوانی کرتے رہے۔ جلوس نثار حویلی سے برآمد ہو کر اندرون شہر کے مختلف امام بارگاہوں سے ہوتا ہوا رنگ محل چوک پہنچا جہاں سے ٹبی، بازار حکیماں اور بھاٹی گیٹ سے ہوتا ہوا کربلا گامے شاہ پہنچا۔ جلوس کے روٹ پر تمام ملحقہ راستوں کو خار دار تاریں لگا کر بند کیا گیا تھا جبکہ عزاداروں کو بھی چار درجاتی سکیورٹی حصار سے گزارنے کے بعد جلوس میں شریک ہونے کی اجازت دی گئی۔ جلوس کے روٹ پر بلند عمارتوں پر سنائپر تعینات تھے جبکہ لیڈی پولیس کی اہلکاروں کو بھی خواتین کی تلاشی کیلئے تعینات کیا گیا تھا۔ اس موقع پر پاک فوج اور رینجرز کا گشت بھی جاری رہا جبکہ جلوس کے روٹ پر موبائل فون سروس بھی جزوی طور پر معطل رہی۔

کوئٹہ میں یومِ عاشور کا مرکزی ماتمی جلوس امام بارگاہ حسینی سید آباد سے برآمد ہوا۔ اس موقع پر کوئٹہ کی تیس سے زائد امام بارگاہوں کے ماتمی جلوسوں نے شرکت کی۔ جلوس کے روٹ پر مختلف مقامات پر سبیل علی اصغر (ع) سمیت دیگر نذر و نیاز کا اہتمام کیا گیا تھا۔ دس محرم کا مرکزی جلوس صبح آٹھ بجے عملدار روڈ سے برآمد ہوا، جو اپنے روایتی راستوں سے ہوتا ہوا طوغی روڈ، مشن چوک سے باچا خان چوک پر پہنچا، جہاں نماز ظہرین ادا کی گئی۔ عاشورہ جلوس کی قیادت بلوچستان شیعہ کانفرنس نے کی۔ مرکزی جلوس سے خطاب کے موقع پر صدر بلوچستان شیعہ کانفرنس سید داؤد آغا نے حضرت امام حسین (ع) کی شہادت کے واقعہ پر تفصیلی روشنی ڈالی، جنہوں نے یزدیت کے سامنے سر جھکانے کی بجائے اسلام کی بقاء کے لئے شہادت کو ترجیح دی۔ دریں اثناء سکیورٹی خدشات کے مدنظر چھے ہزار پولیس، لیویز، بلوچستان کانسٹیبلری، اے ٹی ایف اور ایف سی کے اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔ کوئٹہ کے علاوہ خضدار، ڈیرہ مراد جمالی سمیت بلوچستان کے دیگر شہروں میں بھی سخت حفاظتی انتظامات کے تحت عاشورہ کے جلوس پرامن طور پر اختتام پذیر ہوئے۔

کرم ایجنسی بھر سمیت پاراچنار میں اسلام کی بقا کیلئے قربانی دینے والے شہدائے کربلا کی یاد میں روز عاشور کے صبح کو برآمد ہونے والا شبیہہ ذوالجناح کے جلوس پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوا۔ جس میں ہزاروں کی تعداد میں عزاداروں نے سینہ کوبی اور زنجیر زنی کرتے ہوئے اپنے مولا و آقا حسینؑ اور انکے دیگر جانثاروں کو خراج عقیدت پیش کی۔ اس موقع پر سکیورٹی کے سخت ترین اقدامات کئے گئے تھے، ہیلی کاپٹروں کے ذریعے فضائی نگرانی بھی کی جاتی رہی۔ تفصیلات کے مطابق آج روز عاشور کے موقع پر کرم ایجنسی کی 2 سو سے زائد امام بارگاہوں سے شہدائے کربلا کی یاد میں شبیہہ ذوالجناح کے جلوس برآمد ہوکر دوپہر کو اختتام پذیر ہوئے۔ تاہم کرم ایجنسی میں مرکزی سطح پر عزاداری کا مرکزی ماتمی جلوس پاراچنار مرکزی امام بارگاہ سے صبح کو برآمد ہوا۔ جو حسب روایت شبیہہ ذوالجناح، تعزیوں اور علم کے ہمراہ 10:00 بجے کو کرم ملیشاء پہنچ کر جلوس عزاء نے جلسے کی شکل اختیار کی اور جلسے سے مقررین نے خطاب کیا۔ وہاں سے عزاداروں کے ماتمی دستے برآمد ہوکر روایتی راستوں سے ہوتے ہوئے طوری قبرستان پہنچ گئے۔ جہاں علماء اور ذاکرین نے شہدائے کربلا کے خدمت میں عقیدت کے پھول پیش کئے۔

حیدرآباد، نواب شاہ، میرپور خاص، سکھر سمیت سندھ کے دیگر چھوٹے اور بڑے شہروں سے بھی ماتمی جلوس برآمد ہوئے جو اپنے مقررہ راستوں سے ہوتے ہوئے ختم ہوگئے۔ اس موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات تھے۔ یوم عاشور کے موقع پر لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں سے بھی ماتمی جلوس برآمد ہوئے، لاہور میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا کربلا گامے شاہ پر اختتام پذیر ہوگیا، جلوس کی سکیورٹی کے لیے فول پروف انتظامات کیے گئے جس میں پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری کو جلوس کی گزرگاہوں پر تعینات کیا گیا جبکہ شہر بھر میں موبائل فون سروس بھی معطل رہی۔

 بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بھی یوم عاشور کی مناسبت سے ماتمی جلوس برآمد ہوئے، کوئٹہ میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس علم دار روڈ سے برآمد ہوا، جلوس کی سیکیورٹی کے پیش پولیس اور ایف سی کی بھاری نفری تعینات کی گئی، پشاور میں یوم عاشور کے موقع پر شہر بھر سے چھوٹے بڑے ماتمی جلوس برآمد ہوئے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں یوم عاشور کے موقع پر چھوٹے بڑے جلوس برآمد ہوئے جو اپنے مقررہ راستوں سے ہوتے ہوئے ختم ہوگئے۔ اس موقع پر شہر بھر میں فون سروس بھی معطل کردی گئی۔ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی یوم عاشور کی مناسبت سے ماتمی جلوس برآمد ہوئے۔






Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی