2017 December 15
کیا قرآن کریم کی آیت « بقيۃ الله خير لكم ان كنتم مؤمنين » امام زمان (عج) کے بارے میں نازل ہوئی ہے ؟
مندرجات: ٩٣١ تاریخ اشاعت: ١٣ August ٢٠١٧ - ١١:٥٠ مشاہدات: 369
سوال و جواب » Mahdism
جدید
کیا قرآن کریم کی آیت « بقيۃ الله خير لكم ان كنتم مؤمنين » امام زمان (عج) کے بارے میں نازل ہوئی ہے ؟

جواب:

قرآن کریم میں بہت سی آیات ایسی ہیں کہ جن کا موضوع و مفہوم گذشتہ انبیاء کے زمانے میں تھا، لیکن ان آیات کا مصداق رسول خدا (ص) کے زمانے میں وجود میں آیا تھا۔ وہ تمام واقعات کہ جو گذشتہ انبیاء کے بارے میں قرآن کریم میں نقل ہوئے ہیں ، وہ اس لیے نقل ہوئے ہیں کہ ان واقعات کا تعلق رسول خدا (ص) کے زمانے سے تھا۔

اس بارے میں واضح ترین آیت ،

رَحمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيكُم أهلَ البَيتِ ،

خداوند کی رحمت اور اسکی برکات آپ پر ہوں اے اہل بیت ،

سورہ ہود  آیت 73

کو مثال کے طور پر ذکر کیا جا سکتا ہے کہ جو حضرت ابراہیم (ع) اور انکے خاندان کے بارے میں نازل ہوئی ہے ، لیکن رسول خدا (ص) نے خداوند سے دعا کی کہ اس چیز کو میری اولاد میں بھی قرار دے۔

عالم اہل سنت شوكانی نے اس بارے میں لکھا ہے کہ:

قوله : كما صليت علي آل إبراهيم هم إسماعيل وإسحاق وأولادهما، وقد جمع الله لهم الرحمة والبركة بقوله: رحمة الله وبركاته عليكم أهل البيت إنه حميد مجيد ولم يجمعا لغيرهم، فسأل النبي صلي الله عليه وآله وسلم إعطاء ما تضمنته الآية.

رسول خدا کا فرمانا کہ: اے خداوندا جس طرح آپ نے ابراہیم پر اور انکی آل پر درود بھیجا ہے، اس سے مراد اسماعیل، اسحاق اور ان دونوں کی اولاد ہے، اور خداوند نے اسکی نسل کے لیے رحمت و برکت کو جمع فرمایا ہے ، کیونکہ قرآن میں خداوند نے فرمایا ہے کہ: خداوند کی رحمت اور اسکی برکات آپ پر ہوں اے اہل بیت، کہ خداوند تعریف شدہ، بخشنے والا ہے۔ یہ دو مطلب (رحمت و برکت) کسی کے لیے بھی ایک جگہ جمع نہیں ہوئے، پس رسول خدا نے خداوند سے دعا کی کہ جو کچھ اس آیت میں ذکر ہوا ہے، مجھے بھی عطا فرمائیں۔

نيل الأوطار - الشوكاني - ج 2 - ص 325

شربينی نے بھی لکھا ہے کہ:

قال تعالي: (رحمة الله وبركاته عليكم أهل البيت إنه حميد مجيد) فسأل (ص) إعطاء ما تضمنته هذه الآية مما سبق إعطاؤه لإبراهيم.

خداوند نے فرمایا کہ خداوند کی رحمت اور اسکی برکات آپ پر ہوں اے اہل بیت ، کہ خداوند تعریف شدہ، بخشنے والا ہے۔ پس رسول خدا نے خداوند سے درخواست کی کہ جو کچھ اس آیت میں ابراہیم کے لیے بیان ہوا ہے، وہ مجھے بھی عطا فرمائیں۔

مغني المحتاج - محمد بن أحمد الشربيني - ج 1 - ص 176

اور اسی وجہ سے روایات میں ہم دیکھتے ہیں کہ رسول خدا (ص) اپنے اہل بیت (ع) کو سلام کرتے وقت اور ان پر درود بھیجتے وقت اسی آیت کی تلاوت فرمایا کرتے تھے:

ثم نهض اليماني وهو يقول رحمة الله وبركاته عليكم أهل البيت.

یمنی شخص کھڑا ہوا اور کہا: خداوند کی رحمت اور اسکی برکات آپ پر ہوں اے اہل بیت۔

الكافي - الشيخ الكليني - ج 1 - ص 347

موضوع بحث آیت بھی ایسے ہی ہے۔

بقية الله کا معنی کوئی بندہ یا کوئی ایسی مفید و باعث سعادت چیز ہے کہ جسکو خداوند نے لوگوں کے لیے باقی بچا کر رکھا ہے۔

تفسير نمونه، ج 9، ص 204

قرطبی اہل سنت کے مفسر نے لکھا ہے کہ:

( بقية الله خير لكم ) أي ما يبقيه الله لكم بعد إيفاء الحقوق.

بقية الله تمہارے بہتر ہے، یعنی وہ چیز کہ جو خداوند نے دوسروں کا حق دینے کے بعد تمہارے لیے باقی بچا کر رکھی ہے۔

تفسير القرطبي - القرطبي - ج 9 - ص 86

پس معنی «بقيۃ  الله» عام ہے اور ہر اس چیز پر بولا جاتا ہے جو خداوند نے انسانوں کے لیے باقی محفوظ کر رکھی ہے۔ ان چیزوں میں سب سے مہم وہ ہے کہ جو ضرور آئے گا اور معاشرے کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔

اسی وجہ سے اہل سنت کی بعض کتب میں ذکر ہوا ہے کہ حضرت مہدی (ع) کو «بقيۃ              الله» کا نام دیا گیا ہے اور دوسروں نے بھی حضرت مہدی (ع) کو «بقيۃ  الله» کہا ہے۔

وعن أبي جعفر أيضا قال : المهدي منا منصور بالرعب ...وصاح صايح من السماء بأن الحق معه ومع أتباعه فعند ذلك خروج قائمنا ، فإذا خرج أسند ظهره إلي الكعبة واجتمع إليه ثلاث مائة وثلاثة عشر رجلا من أتباعه ، فأول ما ينطق هذه الآية : ( بقية الله خير لكم إن كنتم مؤمنين ) ثم يقول : أنا بقية الله وخليفته وحجته عليكم ، فلا يسلم مسلم عليه إلا قال : السلام عليك يا بقية الله في الأرض...

ابو جعفر (امام باقر) سے نقل ہوا ہے کہ انھوں نے کہا کہ مہدی ہم ( اہل بیت ) میں سے ہے اور خداوند دشمنوں کے دلوں میں اسکا رعب ڈال کر اسکی مدد کرے گا۔۔۔۔۔ آسمان سے منادی ندا دے گا کہ حق اسکے اور پیروکاروں کے ساتھ ہے، اس وقت ہمارا قائم قیام کرے گا، پس جب وہ ظاہر ہو گا تو خانہ کعبہ کا سہارا لے کر کھڑا ہو گا اور اسکے پیروکاروں میں سے 313 بندے اسکے پاس جمع ہو جائیں گے۔ پس وہ سب سے پہلے اسی آیت کی تلاوت کریں گے: ( بقية الله خير لكم إن كنتم مؤمنين ) پھر کہیں گے کہ اے لوگو میں اس زمین پر «بقية الله» ہوں، خداوند کا خلیفہ اور تم پر اسکی حجت ہوں، پس جو بھی ان پر سلام کرے گا، کہے گا، سلام ہو آپ اے «بقية الله» ۔۔۔۔۔۔

الفصول المهمة في معرفة الأئمة - ابن الصباغ مالكي - ج 2 ص 1133- 1135چاپ دار الحديث

مرحوم آيت الله مرعشی نجفی نے کتاب شرح احقاق الحق میں اسی مطلب کے بارے میں اہل سنت کی کتب سے دوسرے دلائل بھی نقل کیے ہیں :

منهم العلامة الشيخ عبد الهادي الأبياري في «العرائس الواضحة» (ص 209 ط القاهرة) قال: وعن أبي جعفر من خبر طويل: أنه إذا خرج أسند ظهره إلي الكعبة واجتمع إليه ثلاثمائة وثلاثة عشر رجلا من أتباعه، فأول ما ينطق بهذه الآية : (بقية الله خير لكم إن كنتم مؤمنين) ثم يقول: أنا بقية الله وخليفته وحجته عليكم فلا يسلم عليه أحد إلا قال : السلام عليك يا بقية الله في الأرض ...

ومنهم العلامة المذكور في جالية الكدر (ص 209 ط مصر). روي الحديث عن أبي جعفر بعين ما تقدم عن «العرائس الواضحة ».

ان سے ( کہ جہنوں نے اہل سنت کے علماء سے اس روایت کو اپنی کتب میں نقل کیا ہے ) ایک علامہ شيخ عبد الہادی آبياری ہے کہ اس نے اپنی کتاب العرائس الواضحۃ ص 209 طبع مصر میں کہا ہے اور ابو جعفر (امام باقر) سے ایک طولانی روایت نقل ہوئی ہے کہ: جب حضرت مہدی ظہور کریں گے ، تو خانہ کعبہ کا سہارا لے کر کھڑا ہو گا اور اسکے پیروکاروں میں سے 313 بندے اسکے پاس جمع ہو جائیں گے۔ پس وہ سب سے پہلے اسی آیت کی تلاوت کریں گے: ( بقية الله خير لكم إن كنتم مؤمنين ) پھر کہیں گے کہ اے لوگو میں اس زمین پر «بقية الله» ہوں، خداوند کا خلیفہ اور تم پر اسکی حجت ہوں، پس جو بھی ان پر سلام کرے گا، کہے گا، سلام ہو آپ اے «بقية الله» ۔۔۔۔۔۔

اور ان سے اسی عالم نے كتاب «جالية الكدر» میں اسی روایت کو کہ جو کتاب العرائس الواضحة میں تھی، کو نقل کیا ہے۔

شرح إحقاق الحق - السيد المرعشي - ج 13 - ص 332

ملا محسن فيض کاشاني، تفسير صافي، ج 2، ص 468

قرآن میں یہ عبارت سورہ ہود میں مذکور ہے، جہاں حضرت شعیب علیہ السلام اپنی قوم کو خداوند متعال کی بندگی اور پرستش کی تلقین کرتے ہیں اور فساد اور برائی سے منع کرتے ہیں، بعد ازاں فرماتے ہیں:

بَقِيَّةُ اللّهِ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ،

جو کچھ ذخیرہ خدا کی طرف باقی ہے وہ تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم با ایمان ہو تو،

سورہ ہود آیت 86

لہذا اگرچہ اس آیت کا معنی و مفہوم حضرت شیعب (ع) کا اپنی قوم سے خطاب کرنا ہے، لیکن اس کا اعلی ترین مصداق حضرت مہدی (ع) کا وجود مبارک ہے۔

مفسرین نے بَقِيَّةُ اللّهِ کو پیمانہ بھرا رکھنے یا ناپ تول کے آلے اور میزان یا ترازو کے عدالت کے مطابق رکھنے سے جوڑ دیا ہے اور کہا ہے کہ بقیۃ اللہ یعنی وہ جو صحیح طور پر پیمانہ کرنے، تولنے اور ناپنے کے بعد تمہارے لئے باقی رہے یا جو کچھ خداوند متعال اس کے بعد تمہارے لئے باقی رکھے وہ اس سے کہیں بہتر ہے کہ تم کم فروشی سے کام لو۔

 اہل سنت کے بزرگ مفسر زمخشری نے بَقِيَّةُ اللّهِ کو اس حلال مال سے تفسیر کیا ہے جو مال حرام سے اجتناب کے بعد باقی رہتا ہے تاہم وہ یہ احتمال بھی دیتا ہے کہ ممکن ہے بَقِيَّةُ اللّهِ سے مراد وہ طاعات اور عبادات ہوں جو اللہ کے پاس باقی باقی رہتی ہیں۔

زمخشری، کشاف، ج2، ص418

لغویوں نے بھی بَقِيَّةُ اللّهِ اور "بقیة" کے لیے تقریبا یہی معانی ذکر کیے ہیں اور یہ معانی بظاہر آیت کے سیاق اور اس آیت میں اس عبارت کے موضوع کے پیش نظر اخذ کیے گئے ہیں۔

شیعہ احادیث میں، اس آیت میں بَقِيَّةُ اللّهِ کو آئمہ سے تاویل کیا گیا ہے۔ علامہ مجلسی ، ابن شہر آشوب کی کتاب مناقب آل ابی طالب سے نقل کرتے ہیں کہ "بَقِيَّةُ اللّهِ خیرلکم نَزَلَت فیهم؛ يعنی آیت بَقِيَّةُ اللّهِ ... آئمہ کی شان میں نازل ہوئی ہے"۔

مجلسی، بحار الانوار، ج24، ص211۔

 علامہ مجلسی اس حدیث پر کہ " آئمہ بَقِيَّةُ اللّهِ ہیں " بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "مراد انبیاء اور اوصیاء میں سے وہ افراد ہیں جنہیں اللہ تعالی لوگوں کی ہدایت کے لئے زمین پر باقی رکھتا ہے؛ یا وہ اوصیاء اور آئمہ جو امتوں کے درمیان انبیاء (ع) کے وارث ہیں۔ وہ "بقیة" کو "من ابقاہ" سمجھتے ہیں یعنی وہ جس کو خداوند متعال نے زندہ اور باقی رکھا ہے۔

مجلسی، بحار الانوار، ج24، ص211۔

بحار الانوار میں ایک روایت منقول ہے کہ جب ایک کچھ لوگوں نے امام محمد باقر علیہ السلام پر شہر کا دروازہ بند کیا تو آپ(ع) نے اپنا تعارف بَقِيَّةُ اللّهِ کے عنوان سے کرایا۔ اس عبارت کی دوسری تفسیر کا تعلق شیعہ اثنا عشریہ کے بارہویں امام(عج) کی طرف پلٹتی ہے: یعنی امام مہدی عجل اللہ تعالی فَرَجَہُ الشریف۔

مجلسی، بحارالانوار ج24، ص212

متعدد روایات منقول ہیں جن کی بنیاد پر بَقِيَّةُ اللّهِ سے مراد امام زمان (عج) ہیں، منجملہ، طبرسی حضرت علی علیہ السلام کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ بَقِيَّةُ اللّهِ سے مراد امام مہدی عجل الله تعالی فَرَجَهُ الشریف ہیں جو غیبت کی مہلت کے اختتام پر ظہور کر کے آئیں گے اور زمین کو جو ظلم و ستم سے بھری ہوئی ہو گی، کو عدل و انصاف سے مالا مال کریں گے۔

طبرسی، احتجاج، ج1، ص252

علامہ مجلسی، کتاب الکافی کے حوالے سے لکھتے ہیں: امام جعفر صادق علیہ السلام سے عرض کیا گیا کہ بعض لوگ امام مہدی علیہ السلام کو امیر المؤمنین کہہکر پکارتے ہیں تو آپ(ع) نے فرمایا: یہ لقب علی بن ابی طالب علیہ السلام کے لئے مختص ہے اور امام مہدی علیہ السلام کو بَقِيَّةُ اللّهِ کہہ کر پکارا کرو اور یوں سلام کرو: "السلام علیک بَقِيَّةُ اللّهِ۔

مجلسی، بحار الانوار، ج24، ص211 ـ 212

بعض علمائے امامیہ نے امیرالمؤمنین علیہ السلام کے اس جملے کو نقل کیا ہے کہ:

بقیةٌ من بقایا حجته ،

وہ اللہ کی حجتوں میں سے باقی ماندہ حجت ہیں۔

نهج البلاغه، خطبه، 181

اور اس کو بارہویں امام (عج) سے تفسیر کیا ہے،

قطب راوندی، منهاج البراعة فی شرح نهج البلاغة، ج2، ص722

لیکن نہج البلاغہ کے بعض شارحین نے لفظ "بقیة" کا اطلاق ان علماء اور عرفاء پر کرتے ہیں جو تمام زمانوں میں اللہ کے بندوں کے اوپر اس کی حجت ہیں۔

ابن میثم، شرح نهج البلاغه، ج3، ص393

ابن ابی الحدید، شرح نهج البلاغه، ج10، ص96

دعائے ندبہ میں بھی امام مہدی عجّل اللہ تعالی فَرَجَهُ الشریف کا تذکرہ بَقِيَّةُ اللّهِ کے عنوان سے کیا گیا ہے۔

شیعہ روایات میں منقول ہے کہ حضرت مہدی عجّل اللہُ تعالی فَرَجَهُ الشریف ظہور کے وقت آیت بقیة اللّهِ خَیرٌلَکُم ... کی تلاوت کریں گے اور کہیں گے: "انا بَقِيَّةُ اللّهِ وحُجّتُهَ" (میں اللہ کا محفوظ کیا ہوا ذخیرہ اور حجت ہوں)۔ علامہ مجلسی سے بھی نقل ہوا ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام نے خود فرمایا ہے کہ "انا بَقِيَّةُ اللّهِ فی ارضه" (میں ہی زمین میں اللہ کا ذخیرہ ہوں)۔

مجلسی، بحار الانوار، ج24، ص212

مجلسی، بحار الانوار ، ج24، ص212

سابقہ موضوعات کو مد نظر رکھتے ہوئے، عبارت "بَقِيَّةُ اللّهِ" کی آئمہ (ع) سے تفسیر کا سبب بخوبی واضح ہو جاتا ہے اور جہاں بَقِيَّةُ اللّهِ سے مراد حضرت مہدی عجل اللہ تعالی فَرَجَہُ الشریف ہیں، وہاں بَقِيَّةُ اللّهِ کے بجائے آسانی سے عبارت "فضل اللہ" متبادل کے طور پر استعمال کی جا سکتی ہے، یعنی یہ معنی کہ امام مہدی (عج) انسانوں پر اللہ کا فضل اور اس کی نعمت ہیں۔ یہ تفسیر زیادہ واضح اور زيادہ بہتر ہے علامہ مجلسی کی تفسیر سے جہاں آئمہ کو انبیاء اور اوصیاء کے وارثین اور ان کی طرف سے باقی ماندہ سمجھے جاتے ہیں اور کہا گیا ہے کہ خداوند نے آئمہ کو بعد کی نسلوں کے لیے ودیعت اور ذخیرہ قرار دیا ہے۔

لہذا جو کچھ کہا گیا، آیت کریمہ: "بَقِيَّةُ اللّهِ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ۔ کی تفسیر حدیث شریف "بَقِيَّةُ اللّهِ خَيْرٌ لَّكُمْ نَزَلَت فِيهِمْ"۔

آیت "بَقِيَّةُ اللّهِ" خَيْرٌ لَّكُمْ" اہل بیت کی شان میں نازل ہوئی ہے۔

کی تفسیر کچھ یوں ہو گی کہ آئمہ جو خداوند کی برگزیدہ ہستیاں ہیں، تمہارے لیے بہتر ہيں۔ بَقِيَّةُ اللّهِ کا جائزہ امام مہدی عجل اللہ تعالی فَرَجَهُ الشریف کے لقب کے خاص کے عنوان سے، بھی ایسا ہی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ لفظ "بقیہ" مذکورہ دو آیات کے علاوہ ایک بار سورہ بقرہ کی آیت 248 میں بھی آیا ہے۔ لہذا بآسانی کہا جا سکتا ہے کہ "بقیہ" سے مراد فضل و خیر (سرمایہ اور مال) ہے۔

عمران بن واہر نے روایت نقل کی ہے کہ : ایک شخص امام جعفر صادق (ع) کے پاس آیا اور عرض کی، اے میرے مولا : کیا حضرت  قائم   کو  امیر المؤمنین کہہ کر سلام کر سکتے ہیں ؟ امام صادق (ع) نے فرمایا: نہیں ، اللہ تبارک و تعالی نے یہ نام صرف حضرت علی (ع) کے ساتھ خاص کیا ہے۔ ان کے بعد یہ نہیں کسی کے لیے بھی جائز نہیں ہے یہ نام کوئی بھی نہیں رکھے گا مگر کافر۔ پس اس شخص  نے عرض کی کس طرح اپنے آخری مولا پر سلام کریں ؟ تو امام نے فرمایا : کہو: السلام علیک یا بقیۃ اللہ . اور اس کے بعد فرمایا: بقیۃاللہ خیرلکم ان کنتم مومنین.

بقیۃ الانبیاء:

امام زمان (ع) کے القاب میں سے ایک لقب بقیۃ الانبیاء، بھی ہے۔ حافظ برسی حکیمہ خاتون سے اس  طرح روایت نقل کرتے ہیں کہ جب 15 شعبان المعظم کو امام زمان (ع) نے ظہور پر نور فرمایا تو آپ مولود کو لے کر امام حسن عسکری (ع) کے پاس آئیں تو امام نے اپنے اس مولود کو بہت سے ناموں سے پکارا۔ ان میں سے ایک نام بقیہ انبیاء بھی تھا۔

امام مہدی (عجل ﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کو بقیۃ اللہ کا نام دینے کی وجہ:

یہ مبارک لقب "بقیۃ اللہ" قرآن میں آیا ہے۔  اس قرآنی نام کے لیے بہت ساری وجوہات ذکر ہوئی ہیں۔ قرآن کریم کے مطابق خود خدا کے سوا کوئی چیز باقی رہنے والی نہیں ہے اور صرف وہ چیز باقی رہے گی جس کا اللہ تعالیٰ سے نہایت قریبی اور نہ ٹوٹنے والا تعلق ہو گا:

کُلُّ شَئٍ ھالِکٌ إِلاَّ وَجھہ

ہر چیز فنا ہونے والی ہے سوائے اس کے وجہ (چہرے) کے

(وَجہَہُ) ہر چیز کے لیے دو جہت یا وجہ ہیں:

1- اس کا ذاتی اور خصوصی وجہ کہ جو فقر، فقد، زوال و تغییر کے سوا کچھ نہیں ہے۔

2- اس کا الٰہی وجہ، یعنی رب کے ساتھ تعلق اور ایک بے نیاز اور قادر سرچشمہ کے ساتھ رابطہ کہ اس لحاظ سے یہ چیز خدا کی آیت شمار ہوتی ہے اور اس میں کسی قسم کی تغییر و تبدیلی کا تصور نہیں ہے۔ ہر چیز کا وجہ الٰہی جس طرح بھی ظاہر ہو ہمیشہ اس بے نشان کا نشان ہے اور فانی ہونے والا نہیں ہے۔ ہر جہت سے ملاحظہ کریں تو واضح ہو گا کہ وجہ اللہ یعنی وہ چہرہ جو خداوند نے کسی مخصوص شے یا کسی خاص فرد کو عطا کیا ہے، اور یہ چہرہ علم و عدل کی بنیاد پر باقی رہنے والا ہے، یعنی ہر وہ شخص جو ایک طرف سے موحّد اور وظیفہ شناس ہو تو دوسری طرف ان پہچانے ہوئے وظیفوں پر عمل کرے، تو وہ ایسا عالم عادل ہے کہ (وجہ اللہ) میں حصہ رکھتا ہے اور اسی حصہ کی مقدار میں بقاء سے بہرہ مند رہے گا اور قرآن کی تعبیر میں { اولَو بَقِیَّۃ } سے ہے یعنی صاحبان بقا میں سےہے۔

سورہ ہود آیت 116

اس بنیاد پر، چونکہ امام عصر (عجل ﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) تمام انسانی معاشروں کی اصلاح کے لیے، اللہ تعالیٰ کا ذخیرہ ہیں، لہٰذا انہیں بقیۃ اللہ کہتے ہیں، سارے معصومین علیھم السلام رسول اکرم (ص) سے لے کر خاتم اوصیاء امام زمان (عجل ﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) تک بقیۃ اللہ ہیں اور عالم حقیقت میں ہمیشہ باقی اور انسانوں کی تربیت کے لیے موجود ہیں، اسی لیے الٰہی عالموں کے واضح اور مکمل مصداق اور جلوے صرف وہ ہیں جو امیر المؤمنین علی (ع) کی تعبیر میں، جب تک نظام کائنات برقرار ہے وہ بھی باقی ہیں:

العلماء باقون ما بقی الدھر،

جب تک زمانہ باقی ہے علماء بھی باقی رہیں گے،

 نہج البلاغہ، حکمت147

بقیۃ اللہ کون ہے ؟

متعدد روایات میں بقیۃ اللہ کا کامل ترین اور مکمل مصداق حضرت مہدی (عج) کو بیان کیا گیا ہے اور یہ لفظ ان حضرت کے لیے تاویل ہوا ہے۔

بَقِیَّتُ اللَّهِ خَیْرٌ لَکُمْ إِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِینَ ،

سورہ ھود آیت 86

آیت میں بقیۃ اللہ کے سلسلے سے بہت ساری تفاسیر کی رُو سے حضرت مہدی علیہ السلام کے وجود مبارک کی نشاندہی کی گئی ہے، جیسا کہ کتاب اکمال الدین میں حضرت امام باقر علیہ السلام سے روایت موجود ہے آپ فرماتے ہیں کہ:

سب سے پہلی بات جو حضرت مہدی علیہ السلام اپنے قیام سے پہلے فرمائیں گے وہ یہ آیت ہو گی:

بقیۃ اللہ خیر لکم ان کنتم مومنین، اسکے بعد فرمائیں گے: میں ہوں بقیۃ اللہ اور تمہارے درمیان اسکا خلیفہ اسکے بعد انہیں ہر کوئی السلام علیک یا بقیۃ اللہ فی ارضہ  کہتے ہوئے سلام کرے گا۔

یہ صحیح ہے کہ مورد بحث آیت کے مخاطبین قوم شعیب ہیں اور بقیۃ اللہ سے مراد حلال سرمایہ اور الٰہی انعام ہے ، لیکن قرآن کی آیات چاہے جتنی ہی خاص جگہوں کے لیے ہی کیوں نہ نازل ہوئی ہوں، پھر بھی انکے مفاہیم عام ہوتے ہیں جس سے اسکے آثار کو دوسری جگہوں اور کلی و وسیع تر مصادیق پر بھی تطبیق دیا جا سکتا ہے اسی لیے ہر وہ موجود جو نفع بخش ہو اور خدا کی طرف سے اسے باقی رکھا گیا ہو اور وہ خیر و سعادت کا باعث ہو وہ بقیۃ اللہ کے ہی زمرے میں آئے گا۔

پیغمبر اکرم (ص) کے بعد حضرت مہدی موعود علیہ السلام چونکہ انقلاب اسلامی کے سب سے بڑے رہبر کے طور پر اپنی شناخت رکھتے ہیں، اس لیے بقیۃ اللہ کے روشن ترین مصادیق میں سے کہلائیں گے اور وہی اس لقب کے سب  سے زیادہ شائستہ حقدار ہیں۔ خاص طور پر اس وقت کہ جب وہی انبیاء و آئمہ علیہم السلام کے بعد فقط وہی عظیم ترین شخصیت ہیں۔

اس کلمے کے بارے میں دو احتمال دئیے جاتے ہیں:

1- یہ کہ «بقیة الله» سے مراد ایک مفہوم کلی و عام ہے اور یہ زمین پر خداوند کی حجت و خلیفہ پر دلالت کرتا ہے، ایسی حجت کہ زمین اسکے وجود سے نہ خالی تھی اور نہ ہی خالی ہو گی۔ اس لفظ امام زمان (ع) پر منطبق کرنا، ایک کلی کو اسکے ایک فرد و مصداق پر منطبق کرنے کے باب سے ہے۔

2- یہ کہ «بقیة الله» سے مراد امام زمان (ع) کا لقب ہے، اس لحاظ سے کہ وہ روئے زمین پر وجود ہیں اور دنیا کے آخر تک باقی رہیں گے۔

ابن سکیت نے کہا ہے کہ: اس جملے کو اس جگہ بولا جاتا ہے کہ انسان کسی کے خیال میں اور اسکے انتظار میں بیٹھا ہو۔ اس معنی کو نظر میں رکھتے ہوئے حضرت مہدی کو «بقیة الله» اس لیے کہتے ہیں کہ وہ خداوند کی حمایت کے زیر سایہ ہیں اور خداوند نے انکو ایسا مقام و مرتبہ دیا ہے کہ لوگ انکے انتظار میں بیٹھے ہیں۔

معجم مقاییس اللغه، ص 128.

اس وجہ سے کہ مہدی موعود موجود رسول خدا کے قیام کے بعد بزرگترین انقلابی ہوں گے، اسی وجہ سے ان کا مبارک وجود «بقیة الله» کا واضح ترین مصداق ہے، اسکے علاوہ انبیاء اور آئمہ کے بعد فقط باقی رہنے اور باقی بچ جانے والی وہی نورانی اور معصوم ہستی ہے۔

اس آیت میں «بقیة الله» کا معنی ایک حلال سرمائے سے کما‏‏ئی ہوئی درآمد ہے کہ جو کمائی خدا پسند و صد در صد حلال ہے۔

لیکن روایات میں ہر وہ مبارک وجود کہ جو خداوند کے ارادے سے انسانیت و بشریت کے باقی ذخیرہ ہوا ہو، اسے «بقیة الله» کہا جاتا ہے۔

اسی طرح ان جانبازوں کو کہ جو میدان جنگ سے فتح کے ساتھ زندہ و سلامت واپس آتے ہیں، انکو بھی «بَقِيَّتُ اللَّهِ» کہتے ہیں ، کیونکہ وہ خداوند کے ارادے کے ساتھ جنگ میں زندہ و باقی بچے ہیں۔

تفسير نمونه، ج 9، ص 203

روایات میں ہے کہ حضرت مہدی کے مبارک اسماء میں سے ایک اسم «بَقِيَّتُ اللَّهِ» ہے اور ہم بھی اسی نام کے ساتھ انکی زیارت کرتے ہوئے، سلام کرتے ہیں:

«السلام عليك يا بقية اللَّه فى ارضه».

البتہ امام زمان (عج) کے علاوہ دوسرے آئمہ معصومین (ع) کو بھی «بقية اللَّه» کا لقب دیا گیا ہے۔

تفسير نور، ج‏ 5، ص 369.

التماس دعا.....





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی